Explained with ayahs 18–19
صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب
فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنے اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ رسول پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں، بعض حضرات نے الشہداء کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور روایت میں ہے اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گذار انعام یافتہ لوگوں کے…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 31
صَدَقَہ اردو زبان میں تو بہت ہی برے معنوں میں بولا جاتا ہے، مگر اسلام کی اصطلاح میں یہ اس عطیے کو کہتے ہیں جو سچے دل اور خالص نیت کے ساتھ محض اللہ کی خوشنودی کے لیے دیا جائے، جس میں کوئی ریا کاری نہ ہو، کسی پر احسان نہ جتایا جائے، دینے والا صرف اس لیے دے کہ وہ اپنے رب کے لیے عبودیت کا سچا جذبہ رکھتا ہے۔ یہ لفظ صدق سے ماخوذ ہے اس لیے صداقت عین اس کی حقیقت میں شامل ہے۔ کوئی عطیہ اور کوئی صرف مال اس وقت تک صدقہ نہیں ہوسکتا جب تک اس کی تہہ میں انفاق فی سبیل اللہ کا خالص اور بےکھوٹ جذبہ موجود نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(آیت) اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ، یعنی کیا اب بھی وقت نہیں آیا ایمان والوں کے لئے کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر کے لئے جھک جائیں اور نرم ہوجائیں اور اس قرآن کے لئے جو ان پر نازل کیا گیا۔
خشوع قلب سے مراد دل کا نرم ہونا اور وعظ و نصیحت کو قبول کرنا اور اس کی اطاعت کرنا ہے (ابن کثیر) قرآن کے لئے خشوع یہ ہے کہ اس کے احکام اور امر ونواہی کی مکمل اطاعت کے لئے تیار ہوجائے اور اس پر عمل کرنے میں کسی سستی اور کمزوری کو راہ نہ دے (روح المعانی)
یہ عتاب و تنبیہ مومنین کو ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(ان المصدقین و المصدقت واقرضوا اللہ قرضا حسنا یضعف لھو و لھم اجر کریم) (18)
یہ آیت 11 کے مضمون کو ایک دوسرے پہلے سے لیا ہے اور منافقین کو ابھارا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا خسارے کا سودا نہیں بلکہ نہایت نفع بخش کاروبار ہے۔ جو لوگ برابر صدقہ کرتے رہتے ہیں اور جب کبھی کسی ہنگامی ضرورت کے موقع پر ان سے مدد کی اپیل کی جائے تو اس وقت بھی وہ فراخ دل سے مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کی پائی پائی خدا کے ہاں محفوظ ہے۔ وہ ان کے لیے اس کو بڑھا رہا ہے اور بڑھا کر ایک لازوال خزانے کی شکل میں ان کو واپس کرے گا۔ علاوہ ازیں ان کے ایک بہت بڑا با عزت اجر بھی ہے۔ یعنی ان کا دیا ہوا تو کئی گنا بڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18-1یعنی ایک کے بدلے میں کم ازکم دس گنا اور اس سے زیادہ سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک۔ اور یہ زیادتی اخلاص نیت، حاجت و ضرورت اور مکان کی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔
18-2یعنی جنت اور اس کی نعمتیں، جنکو کبھی زوال اور فنا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
14: یعنی جن مسلمانوں سے اب تک کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، اور وہ اپنے ایمان کے تمام تقاضے پورے نہیں کرسکے، انہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ پڑی ہوئی زمین کو زندگی بخشتا ہے، اسی طرح وہ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما کر انہیں بھی نئی زندگی بخش دیتا ہے۔
Read the full tafseer →صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیاں صدقہ لینے والوں پر اپنی برتری نہیں جتلاتے اور اس سودے میں یہ لوگ فریق ہی نہیں ہوتے۔ ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس سے بلند اور برتر شعور اور کیا ہوسکتی ہے کہ صدقہ دینے والا یہ سمجھے کہ وہ غنی اور حمید ذات کو قرض دے رہا ہے۔ اور وہ اس کائنات کے مالک کے ساتھ سودا کررہا ہے۔ اور یہ کہ وہ جو کچھ خرچ کررہا ہے وہ دوگنا تگنا ہوکر ملے گا۔ اور کئی گنا لوٹانے کے بعد اجر کریم بھی دیا جائے گا۔
صدیقین کا مقام بہت ہی بلند مقام ہے احادیث نبوی میں اس کی خوب تشریح کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ مقام بہت بلند ہے لیکن اس کے حصول کے مواقع ہر کسی کے لئے کھلے ہیں ، یہ چند افراد یا کسی…
Read the full tafseer →6 یعنی جو اللہ کے راستہ میں خالص نیت سے اس کی خوشنودی کی خاطر خرچ کریں اور غیر اللہ سے کسی بدلہ یا شکریہ کے طلبگار نہ ہوں گویا وہ اللہ کو قرض دیتے ہیں۔ سو اطمینان رکھیں کہ ان کا دیا ہوا ضائع نہ ہوگا۔ بلکہ کئی گنا کر کے لوٹایا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 18{ اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ۔ } ”یقینا صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو قرض دیں اللہ کو قرض حسنہ ‘ ان کو کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا اور ان کے لیے بڑا باعزت اجر ہے۔“
سورة البقرۃ کے رکوع 35 اور 36 کے مطالعہ کے دوران بھی یہ نکتہ واضح کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے مال خرچ کرنے کی دو مدیں ہیں۔۔۔۔ یعنی ایک صدقہ اور دوسری انفاق فی سبیل اللہ یا اللہ کے لیے قرض حسنہ۔ چناچہ وہ مال جو اللہ کی رضا کے لیے غربائ ‘ مساکین ‘ بیوائوں ‘ یتیموں ‘ بیماروں ‘ مسافروں ‘ مقروضوں ‘…
Read the full tafseer →31 اس آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب میں تاکید مزید کے طور پر اسی سورة کی آیت نمبر 11 کے مضمون کو دہرایا گیا ہے۔ تشریح آیت مذکورہ کے تحت دیکھ لی جائے۔
Read the full tafseer →25۔ اس آیت کے لیے ملاحظہ ہوسورۂ ہذا کا حاشیہ نمبر 15۔ قرض حسنہ۔ اصطلاح شریعت میں ایسے مال کو کہتے ہیں جو حلال کمائی سے خوشدلی اور اخلاص نیت کے ساتھ صاحب احتیاج کو دیا جائے۔ والقرض الحسن ان یتصدق من الطیب عن طیبۃ النفس وصحۃ النبیۃ علی المستحق للصدقۃ (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نبوت کے نزول کو بارش کی برکات سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ انسانیت پر اس کے وہی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو زمین پر بارش کے ہوتے ہیں جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین باران رحمت کا ایک چھینٹا پڑتے ہی لہلا اٹھتی ہے، اسی طرح جس ملک میں اللہ کی رحمت سے ایک نبی مبعوث ہوتا ہے اور وحی کتاب کا نزول شروع ہوتا ہے وہاں مری ہوئی انسانیت یکایک جی اٹھتی ہے۔
Read the full tafseer →” بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ (صدقہ دینے والے) اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں ‘ وہ صدقہ ان کے لیے بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لیے پسندیدہ اجر ہوگا اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے (خاص) اجر اور (پل صراط پر) ان کا (خاص) نور ہوگا اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ‘ یہی لوگ دوزخی ہیں۔ “
ِ اَّن الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ : مصدر تَصَدُّق (باب تفعل) حسب قراءت ِ جمہور یعنی صدقہ دینے والے مرد اور عورتیں۔ باب تفعل کی تَ کو فَ کلمہ میں ادغام کردیا گیا ہے لیکن عاصم کی…
Read the full tafseer →بلاشبہ سچے ایمان دار مرد اور سچی ایمان دار عورتیں یا یہ کہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں یہ اللہ تعالیٰ کو خلوص اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے قرض دے رہے ہیں وہ صدقہ اللہ تعالیٰ ان سے قبول فرمائے گا اور ان کی نیکیوں کو سات سے لے کر ستر تک اور سات سو تک غرض کہ جہاں تک اللہ کو منظور ہوگا بڑھا دیا جائے گا اور پھر اس کے ساتھ ان کے لیے جنت میں پسندیدہ اجر ہے۔
Read the full tafseer →1۔ اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ :”المصدقین“ اصل میں باب تفعل سے ”المتصدقین“ ہے ، تاء کو صاد سے بدل کر صاد میں ادغام ک دیا۔ صاد کی تشدید سے صدقے میں مبالغے اور کثرت کا اظہار مقصود ہے ، یعنی بہت صدقہ کرنے والے مرد اور بہت صدقہ کرنے والی عورتیں۔”المزمل“ اور ”المدثر“ میں بھی ایسے ہی ہے۔
2۔ وَاَقْرَضُوا اللہ قَرْضًا حَسَنًا۔۔۔۔۔: یہاں ایک سوال ہے کہ ”اقرضو اللہ“ فعل کا ”المصدقین“ اسم فاعل پر عطف کس طرح ڈالا گیا ہے ؟ اس کے جوابات میں سے ایک جواب یہ ہے کہ ”المضدقین“ دراصل ”الذین تصدقوا“ کے معنی میں ہے ، اس لیے ”اقرضوا“ کا عطف ”تصدقوا“ پر جو ”متصدقین“ کے ضمن میں موجود ہے۔ ”متصدقین“ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ان المصدقین و المصدقت ابن کثیر اور ابوبکر نے عاصم سے دونوں میں صاد کی تخفیف کے ساتھ کے ساتھ پڑھا ہے یہ تصدیق سے مشتق ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نازل کیا اس کی وہ تصدیق کرتے ہیں باقی نے اسے تشدید کیساتھ پڑھا ہے۔ اصل میں یہ المتصدقین اور المتصدقات تھا تاء کو صاد میں مدغم کیا گیا ہے اسی وجہ سے فرمایا : واقرضوا اللہ قرضا حسناً صدقہ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا، قرآن حکیم میں جہاں بھی قرض حسن کا ذکر ہے اس سے مراد نفل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عمل صالح ہے وہ صدقہ ہو یا کوئی اور صورت ہو جب کہ وہ ثواب کی نیت رکھتا ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
1۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت۔ الم یان للذین اٰمنوا۔
2۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے مرفوع حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے قرآن کے نازل ہونے کے سترہ سال بعد مہاجرین کے دلوں میں جھکنے میں تاخیر اور آہستگی کو پایا۔ تو یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی آیت الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ۔ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور اس دین حق کے سامنے جھک جائیں یاد الٰہی کے لیے۔
6۔ ابن المبارک نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اعلموا ان اللہ یحییٰ الارض بعد موتہا۔ تم جان لو کہ…
Read the full tafseer →[اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ : بیشک صدقہ کرنے والے اور صدقہ کرنے والیاں ] [ وَاَقْرَضُوا اللّٰهَ : اور (جو بھی) قرض دے اللہ کو ] [ قَرْضًا حَسَنًا : کوئی (بھی) خوبصورت قرضہ ] [ يُّضٰعَفُ لَهُمْ : تو اس کو کئی گنا کیا جائے گا ان کے لیے ] [ وَلَهُمْ اَجْرٌ كَرِيْمٌ: اور ان کے لیے ایک عزت والا اجر ہے ]
(آیت ۔ 18) المصدقین اصل میں باب تفعل کا اسم الفاعل المتصدفین ہے۔ قاعدے کے مطابق تا کو ص میں تبدیل کرکے ادغام کردیا گیا ہے ۔ اقرضوا سے پہلے من محذوف ہے ، یضعف کا نائب فاعل اس میں شامل ضمیر ھو جو قرضا حسنا کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →صدقہ کرنے والے مردوں اور عورتوں کے لیے اجر کریم کا وعدہ اور شہداء کی فضیلت
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں صدقہ کرنے والے مردوں اور عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے لیے مال خرچ کرتے ہیں یہ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا (ثواب کی امید رکھتے ہوئے اخلاص کے ساتھ اللہ کے رضا کے لیے مال خرچ کیا) ان کا بدلہ ان کو بڑھا چڑھا کردیا جائے گا اور ان کو اجر کریم یعنی بہت پسندیدہ اجر دیا جائے گا یہ مضمون اسی سورت کے پہلے رکوع کے ختم پر گزر چکا ہے۔
قال صاحب الروح : وقرء ابن کثیر و ابوبکر بتخفیف الصاد من التصدیق لامن الصدقة وعطف ” اقرضوا “ علی معنی الفعل من المصدقین علی ما اختارہ ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
تمثیل بےثباتی دنیا و عظمت خداوند خالق کائنات وتعلیم صبر و قناعت وتاکید فکر آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسان کا دنیوی نعمتوں اور راحتوں میں لگ کریاد خدا اور فکر آخرت سے غلفت و لاپرواہی برتنے پر تنبیہ فرمائی گئی تھی اور یہ کہ یہ طریقہ اہل کتاب کا تھا اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی اب ان آیات میں دنیا اور دنیا کی لذتوں کی ناپائیداری بیان فرمائی جارہی ہے اور اسکی بےثباتی کا ایک نقشہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کی حقیقت سمجھی جاسکے، فرمایا ،
جان لو اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل اور تماشا…
Read the full tafseer →19:۔ ” ان المصدقین “ یہ ترغیب فی الانفاق ہے۔ المصدقین اور المصدقات میں الف لام اسم موصول ہے۔ بالترتیب بمعنی ” الذین “ اور ” اللاتی “ اور دونوں اسم فاعل بمعنی ماضی ہیں یعنی تصدقوا اور تصدوق بقرینہ معطوف ” اقرضوا “ اسم موصول ہمیشہ جملہ پر داخل ہوتا ہے اور یہاں اسم فاعل پر اس کا داخل ہونا بظاہر خلاف قاعدہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قاعدہ ان اسماء موصولہ کے لیے ہے جو صورۃ و معنیً بمعنی فعل ماضی ہے بقرینہ معطوف ” اقرضوا “ اب اصل عبارت یوں ہوگی۔ ان الذین اصدقوا واقرضوا اللہ الخ۔ (کشاف، روح، مدارک) ۔ جو مرد اور عورتیں اللہ کی راہ میں خرچ کر رہی ہیں وہ گویا خدا کو قرض دے رہی ہیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت اور اہمیت کا ذکر کیا اور اس کو قرض حسن کے ساتھ تعبیر کیا ، اور پھر ان نتائج کا بھی بیان ہوا جو ایمانداروں کو حاصل ہوں گے ، اللہ نے نور اور روشنی کا تذکرہ فرمایا جو آخرت کے اندھیروں میں پل صراط پر سے گزرتے وقت کام آئے گی۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ روشنی کن ذرائع سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے برخلاف کافروں کو مایوسی اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ اب آج کے درس میں پہلے اللہ نے اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی کے لئے عاجزی کرنے لگیں۔ اس ضمن میں اللہ نے اہل کتاب کی مثال بھی بیان فرمائی…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا يُّضٰعَفُ لَہُمْ وَلَہُمْ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 18
صدقه
والصَّدَقَةُ : ما يخرجه الإنسان من ماله علی وجه القربة کالزّكاة، لکن الصدّقة في الأصل تقال للمتطوّع به، والزّكاة للواجب، وقد يسمّى الواجب صدقة إذا تحرّى صاحبها الصّدق في فعله . قال : خُذْ مِنْ أَمْوالِهِمْ صَدَقَةً [ التوبة/ 103] ، وقال :إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ [ التوبة/ 60
( ص دق) الصدقۃ ( خیرات )
ہر وہ چیز جو انسان اپنے مال سے قرب الہی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے اور یہی معنی زکوۃ کے ہیں مگر صدقۃ اسے کہتے ہیں جو واجب نہ ہو ۔ اور کبھی واجب کو بھی صدقۃ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ترکیب : الم یان من انی الامر یانی اذاجاء اناہ ای وقتہ۔ وقریٔ الم یین من آن یئین بمعنی اتی یاتی۔ ان تخشع الجملۃ فاعل یان واللام للتبین ومابمعنی الذی وھوعطف علی الذکر عطف احدالو صفین علی الاخر وفی نزل ضمیر یعود الیہ۔ ولایکون الخ عطف علی تخشع والمراد النھی عن مماثلۃ اھل الکتاب فیما حکی عنھم بقولہ فطال الخ واقرضواللّٰہ فیہ وجھان احدھما ھو معترض بین اسم ان وخبرھا وھو یضاعف والثانی انہ معطوف علیہ لان الالف واللام بمعنی الذی ای ان الذین تصدقوا۔
تفسیر : منافقوں اور کافروں کی دردناک مصیبت آنے والے دن کی بیان فرما کر ایمان والوں کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنی حالت پر قائم رہیں اور آیندہ سعادت کے میدان میں…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ۔ (الحدید : 18)
(بےشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، ان کا دیا ہوا ان کے لیے بڑھایا جائے گا، اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔ )
انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے اجرِعظیم کے مستحق ہیں
پیشِ نظر آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو نفاق کے مرض سے بھی محفوظ ہیں اور جن کا ایمان ہر طرح کے شک و ارتیاب کی کمزوری سے بھی پاک ہے۔ وہ صرف راہ حق میں جان لڑانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے مال کو بھی اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عقل مندی کا تقاضا ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا جائے۔
سورۃ الحدید کی آیت 7 سے لے کر 18 تک سات مرتبہ انفاق اور قرض کے نام پر صدقہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں وہ مرد ہوں یا عورتیں جو بھی ایمان اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دیتے ہیں انہیں دوگنا واپس کرنے کے ساتھ اجر کریم سے نوازا جائے گا۔ قرض حسنہ سے مرادایسا قرض ہے جس میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے۔
1 ۔ صدقہ صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ 2 ۔ رزق حلال سے صدقہ کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام مال سے کیے ہوئے صدقہ کو قبول نہیں کرتا۔ 3 ۔ صدقہ…
Read the full tafseer →18 : اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ (بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں۔ )
قراءت : مصدّقات دال کی صرف تشدید سے مکی اور ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ یہ مصدقین اسم فاعل کا صیغہ ہے باب صدق اس سے مراد وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے اللہ اور رسول کی تصدیق کی یعنی مؤمن۔ باقی قراء نے مُصّدّقین دونوں کی تشدید سے پڑھا ہے۔ اور یہ اسم فاعل تصدق سے ہے۔ پھر تاء کو صادؔ میں ادغام کردیا اور اس کو اصل پر بھی پڑھا گیا ہے۔ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا (اور وہ خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو قرض دیتے رہے ہیں) اس کا عطف مصدقین میں معنی فعل پر ہے۔ کیونکہ المصدقین کی لام الذین کے معنی میں ہے۔ اور…
Read the full tafseer →17 ۔” اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قدبینالکم الایات لعلکم تعقلون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
16۔ 19۔ اگرچہ تفسیر سدی وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ اور معنی یہ ہیں کہ جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل کفر اور نفاق کے سبب سے سخت ہو رہے ہیں باوجود قرآن کے ہر روز نازل ہونے کے ابھی وہ نوبت نہیں پہنچی کہ ان لوگوں کے دل نرم ہوں اور ان لوگوں کے دل میں خوف الٰہی سمائے لیکن صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیح مسلم نسانی ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہاجرین لوگ آپس میں کچھ ہنسی اور دل لگی کی باتیں کرنے لگے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور ہنسی دل لگی اور دنیا میں زیادہ…
Read the full tafseer →(اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ ) یعنی وہ مرد اور عورتیں جو نہایت کثرت سے صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ (وَاَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) اور اللہ کو اچھا قرض دیتے ہیں۔ یعنی وہ بھلائی کے راستوں میں اپنا مال پیش کرتے ہیں جو ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ بن جاتا ہے۔ (يُّضٰعَفُ لَهُمْ ) ان کو دو چند اجر دیا جائے گا۔ ایک نیکی کا اجرو ثواب دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ (وَلَهُمْ اَجْرٌ كَرِيْمٌ) اور ان کے لیے اجر کریم ہے۔ یہ وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے جسے نفس نہیں جانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
جو لوگ ابتدائی مشکلات میں کام آئیں وہ بعد میں آنے والوں سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں
قول باری ہے (لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ تم میں سے جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑ چکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح مکہ لڑے اور خرچ کیا) ) تاآخر آیت
شعبی سے مروی ہے کہ دونوں ہجرتوں کے درمیان فتح حدیبیہ کا فاصلہ تھا اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ نے عرض کیا تھا کہ آیا صلح حدیبیہ بھی کوئی فتح تھی، آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا : ” بیشک یہ فتح عظیم تھی۔ “ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے کے انفاق کی، بعد…
Read the full tafseer →[ 66] انفاق فی سبیل اللہ سراسر نفع کا سودا :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انفاق فی سبیل اللہ خسارے کا نہیں سراسر نفعے کا سودا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے مرد اور عورتیں اور وہ لوگ جو قرض دیں اللہ کو اچھا قرض۔ کہ مال بھی صحیح ہو، اور نیت بھی خالص ہو کہ مقصد صرف اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی ہو، دوسری کسی غرض کا اس میں کوئی شائبہ نہ ہو، اور نہ ہی وہ اس کے بعد اس کا کسی پر احسان جتلائے سو ایسا انفاق قرض حسن کہلائے گا، اس آیت کریمہ میں انفاق فی سبیل اللہ کے اس مضمون کو ایک دوسرے سے پہلو سے اجاگر فرمایا گیا ہے، جس کا ذکر اوپر آیت نمبر 11 میں آچکا ہے، اور منافقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
نیک لوگوں کے فرائض اور ان کے درجات
تشریح : الحمد اللہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور ہمارا پکا یقین ہے اللہ کے خالق مطلق ہونے پر یعنی توحید پر یقین ہے۔ آخرت پر یقین ہے سزاء و جزاء پر پورا یقین ہے اسی لیے اللہ وحدہ لاشریک کی ہی عبادت کرتے ہیں اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے ڈرتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور اسی لیے اللہ کے مقبول بندوں میں شامل کیے جائیں گے انشاء اللہ ورنہ تو صرف دنیا کے عیش و آرام میں گم ہو کر زندگی گزارنے والے لوگ آخرت کے عیش و آرام سے بالکل دور رہیں گے اور ان کا ٹھکانا بہت برا ہوگا آخرت میں۔ اللہ کی کتاب اور رسول بندوں کے لیے فضل اور رحمت کی نشانی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرار ومعارف۔
نیزا للہ کی راہ میں جان مال یا کوشش و محنت جو بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہے یعنی ایسی دولت جس کی واپسی یقینی ہے اور وہ بھی اللہ کریم کے پاس توکیاہی خوب قرض ہے کہ اللہ کریم اسے کئی گنا بڑھادیتے ہیں اور زیادہ کرکے لوٹاتے ہیں نیز عنداللہ اس کی عزت و عظمت یہ الگ انعام ہے اور یہی مجاہدہ ایک دن مومن مردوں اور خواتین کے آگے اور دائیں بائیں نور کی صورت چلے گا کہ حساب کتاب کے بعد سخت اندھیرا چھاجائے گا اور کفار کو جہنم میں دھکیل دیاجائے گا جبکہ مومنین میں نورتقسیم ہوگا اور ہر ایک مرد وزن کو بقدر اس کے اعمال اور خلوص ملے گا جس کی روشنی میں وہ جہنم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 3 یعنی انہیں صدیقین اور شہداء کا متربہ نصیب ہوگا۔ حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : میری امت کے اہل ایمان شہید ہیں، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر) حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ہر مومن صدیق اور شہید ہے۔ اسی طرح حضرت عمرو بن مرہ جہنی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ کی خدمت میں حاض رہو کر عرض کیا ’ د اے اللہ کے رسول اگر میں توحید و رسالت کی شہادت دوں پانچوں نمازیں ادا کرتا رہوں۔ زکوۃ دیتا رہوں، رمضان کے روزے رکھوں اور راتوں کو عبادت کروں تو میں کیا ہوں گا ؟ فرمایا : تم صدیقین اور شہداء میں سے ہوں گے۔ (شوکانی)4 یعنی انہیں صدیقین اور شہداء کا ثواب اور نور…
Read the full tafseer →(57:18) ان المصدقین والم صدقات ان حرف مشبہ بالفعل المصدقین اسم ان۔ واؤ عاطفہ المصدقت معطوف جس کا عطف المصدقین پر ہے۔ یضعف خبر ان۔ المصدقین اسم فاعل جمع مذکر منصوب المصدق واحد تصدق (تفعل) مصدر۔ اصل میں المصدقین تھا۔ تاء کو صاد سے بدل کر ص کو ص میں ادغام کیا۔ خیرات دینے والے۔
المصدقت اسم فاعل جمع مؤنث منصوب (اسم ان) المصدقۃ واحد۔ تصدق (تفعل) مصدر۔ یہ بھی اصل میں متصدقت تھا۔ تا کو ص میں بدل کر ص کو ص میں مدغم کیا۔ خیرات دینے والیاں۔
یضعف مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ دوگنا کیا جائے گا۔
لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب۔ المصدقین والمصدقت کی طرف راجع ہے ترجمہ یوں ہوگا :۔ بیشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
لغات القرآن۔ الم یان۔ کیا وہ وقت نہیں آیا۔ ان تخشع۔ یہ کہ ڈریں۔ جھک جائیں۔ الامد۔ مدت
تشریح : جب خشک اور بنجرزمین پر بارش برستی ہے تو اس میں تروتازگی کے آثار اور ایک نئی زندگی کروٹیں لینے لگتی ہے۔ اسی طرح جب شرک کی وجہ سے دلوں کی دنیا ویران، خشک اور تاریک ہوجاتی ہے تو اللہ کے پاکیزہ کلام اور نبوت کی روشنی سے روحانی دنیا روشن ومنور ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور نبوت کو بارش سے تشبیہ دے کر بتا دیا ہے کہ مردہ قوموں میں نئی زندگی اللہ کے پاکیزہ کلام اور نبوت پر مکمل یقین کرلینے اور ماننے کے بعد ہی پیدا ہوا کرتی ہے جس سے ایک نیا عزم و یقین، حوصلہ اور ولولہ بیدار ہوجاتا ہے۔ اللہ کے کلام…
Read the full tafseer →(ف 1) جو مسلمان مرد سچے دل سے خدا کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں اور جو مسلمان عورتیں اللہ کو قرض حسنہ دیتی ہیں یعنی جو اللہ کے رستہ میں خالص نیت سے اس کی خوشنودی کی خاطر خرچ کریں اور دوسرے سے کسی بد یا شکریہ کے طلب گار نہ ہوں گویا وہ اللہ کو قرض دیتے ہیں سو اطمینان رکھیں کہ ان کا دیا ہوا ضائع نہ ہوگا بلکہ کئی گنا کرکے لوٹایاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[28] یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے صدقہ اور قرض کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک خرچ تو وہ ہے جس کا مطالبہ ہر ذی استطاعت مسلمان سے عام حالات میں ہے۔ دوسرا خرچ وہ ہے جس کا مطالبہ کسی ناگہانی ضرورت کے موقع پر ملت کے تحفظ کے لئے کیا جاتا ہے۔ پہلے کو یہاں صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے لئے فاعل اور صفت کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اس لئے کہ وہ دواماً مطلوب ہے، دوسرے کو قرض سے تعبیر فرمایا ہے جو عندالضرورت دیا جاتا ہے اسی لئے اس کے لئے فعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 1: ہجرت کے بعد مسلمانوں کو مدینہ میں آرام ملا ۔ تو وہ گرم جوشی عمل کی باقی نہیں رہی ۔ جو مصائب کے وقت تھی ۔ اس لئے اس اصیمیت میں اللہ تعالیٰ نے عاتب نازل فرمایا ۔ کہ یہی وقت تو اظہار تشکر درخشیت وانفعال کا ہے ۔ کیونکہ آسودگی اور تنعم میں خدا کو یاد رکھنا گویا اس کے دین کو دوبارہ زندہ کرنا ہے ۔ تمہیں اہل کتاب کی طرح نہ ہونا چاہیے ۔ کہ جوں جوں زمانہ گزرتا جائے ان میں قسادت پیدا ہوتی چلی جائے ۔ اور گداز جو اصل دین ہے ۔ رخصت ہوجائے ۔ بلکہ ہوگا یہ چاہیے ۔ کہ مرد زمانہ کے ساتھ ۔ تمہارے دلوں میں تائید کا جذبہ اور زیادہ مضبوط ہوتا چلا جائے ۔ اور زمانے کا یہ بعہ تمہارے ذہن کی تازگی میں کوئی تبدیلی…
Read the full tafseer →(18) بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو خوش دلی اور خلوص کے ساتھ قرض دیا ان کے لئے اس صدقہ کے ثواب کو بڑھا دیا جائے گا اور دو چند کردیا جائیگا اور ان لوگوں کو باعزت اور پسندیدہ ثواب ملے گا۔ آیت کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے صدقہ بڑھادیا جائے گا یعنی صدقہ کا ثواب بڑھادیاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 3۔ یعنی یہ مراتب کمال ایمان کامل ہی کی بدولت نصیب ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →بلا شبہ سچے لوگوں نے اللہ کو قرض دیا ، وہ اس کو دوگنا کر دے گا
18 ؎ اس سے پہلے آیت گیارہ میں یہ مضمون گزر چکا ہے اور اسی کو دوبارہ دہرایا جا رہا ہے تاکہ ان لوگوں کو باور کرایا جائے کہ اگر ان سے اپیل کی جائے کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کریں جس خرچ کرنے سے مال یہی نہیں کہ ایک طرح سے خرچ ہوجاتا ہے بلکہ مال میں اضافہ ہوتا ہے اور یہی دیا ہوا مال تو شہ آخرت بن جائے گا یہ خرچ کرنا گویا محض خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ مال کو نفع پر لگانا ہے جس سے مال کے بڑھنے کی امید ہوتی ہے کم ہونے کی امید پر کوئی خرچ نہیں کرتا اور پھر ظاہر ہے کہ جو لوگ خواہ مرد ہوں یا عورتیں اللہ کی راہ میں اسی نظریہ کے مطابق مال خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (Has the time not yet come for those who believe that their hearts should be humble for the remembrance of Allah and for the truth that has descended [ through revelation ]?...57:16) The phrase khushu'-ul-qalb means 'for the heart to soften; to be receptive to advice; to be obedient; to submit'. [ Ibn Kathir ] In the Qur'anic context, it implies 'a complete willingness to yield to the Divine injunctions, or the Divine imperatives and prohibitions without allowing any laxity in following…
Read the full tafseer →31 Sadagah, as an Islamic term, is the charity given sincerely and with a pure intention only with a view to seek Allah's good pleasure without making any show of it, and without the intention of doing any favour to the recipient. The donor should give it only because he has a true feeling of the service of his Lord. The word is derived from sidq; therefore, sadaqat(sincerity) is of its essence. No charity and no expending of the wealth can be a sadaqah unless it springs from a sincere and pure motive of spending only for the sake of Allah.
Read the full tafseer →