56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اس سورة میں قیامت، آخرت، توحید، قرآن کریم کی عظمت اور اس کے متعلق کفار و مشرکین کے شبہات کو دور کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کا آنا یقینی ہے وہ دن کسی کو بلند اور سکی کو ذلیل و رسوا کر دے گا اور کوئی اس کو جھٹلانہ سکے گا۔ زلزلوں سے زمین ہلا دی جائے گی۔ یہ بڑے بڑے پہاڑے، ریزہ ریزہ اور غبار بن کر فضاؤں میں بکھر جائیں گے۔ فرمایا کہ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جائو گے۔ ١۔ داہنے ہاتھ والے جن کی خوش نصیبی کا کیا کہنا۔ ٢۔ بائیں ہاتھ والے جن کی بدنصیبی کا کیا ٹھکانا۔ ٣- اور آگے والے تو آگے ہی رہیں گے۔ وہ اللہ کے مقرب بندے نعمتیں بھری جنت میں ہوں گے۔ اگلوں میں سے بہت اور پچھلے والوں میں سے کم ہوں گے۔ وہ حسین ترین جڑائو تخت پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کو خدمت کے لئے ہمیشہ جوان رہنے والے لڑکے شراب کے چشموں سے لبریز گلاس، برتن اور ساغر لیے دوڑتے ہوں گے۔ یہ وہ شراب ہوگی جسے پینے کے بعد نہ تو سرد درد ہوگا اور نہ وہ بہکیں گے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے پھل اور مزیدار چیزیں ہوں گی وہ جس چیز کو چاہیں گے ان کو دی جائے گی۔ پرندوں کا گوشت ہوگا اور جس پرندے کے کھانے میں جیسے چاہیں گے استعمال کریں گے۔ ان کے لئے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی وہ ایسی خوبصورت ہوں گی جیسے چھپا کر رکھے گئے قیمتی موتی۔ یہ سب کچھ ان کے اعمال کے اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ یہ قرآن جسے حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کر رہے ہیں یہ اللہ رب العالمین کا نازل کیا ہوا قرآن ہے۔ اس کی عظمت یہ ہے کہ اللہ نے اس کو ایک لوح میں محفوظ کردیا ہے جسے صرف پاکزیہ فرشتے ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں فرمایا ہے کہ یہ قرآن جسے حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کر رہے ہیں یہ اللہ رب العالمین کا نازل کیا ہوا قرآن ہے۔ اس کی عظمت یہ ہے کہ اللہ نے اس کو ایک لوح میں محفوظ کردیا ہے جسے صرف پاکیزہ فرشتے ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ فرمایا کہ قرآن کریم اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت و ہے لیکن کیا نعمت کے حق ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ تم اس سے نعمت منہ پھیر رہے ہو۔ فرمایا کہ ہر شخص کو ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے لیکن اگر اس دنیا سے جانے والا اللہ کا مقرب بندہ ہے تو اس کے لئے راحت بھری جنتیں اور بہترین رزق ہے اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے تو اس کے لئے اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہی سلامتی ہے لیکن اگر وہ بائیں ہاتھ والوں میں سے ہے تو سچائیوں کو جھٹلانے والے کا بدترین انجام یہ ہے کہ اس کو کھولتا ہوا پانی پینے کیلئے دیا جائے گا اور اس کو جہنم میں جھوک دیا جائے گا۔ لہٰذا اس دنیا سے رخصت ہونے کے لئے بہتر انجام کی جدوجہد کی جائے ورنہ برے انجام سے اس کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ بدلے میں دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کرتے تھے۔ اس جنت میں کوئی فضول، بےہودہ اور گناہ کی بات نہ سنائی دے گی۔ جو بات بھی ہوگی وہ ایک دوسرے کی سلامتی کی بات ہوگی۔ اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کو بھی بیشمار نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ بغیر کاٹنے کی مزیدار بیریاں، تہہ در تہہ چڑھے ہوئے کیلے، گھنی چھاؤں، ہر وقت پینے کیلئے صاف شفاف پانی، کبھی نہ ختم ہونے والے اور بغیر کسی روک ٹوک کے کثرت سے ملنے والے پھل، اونچی اونچی نشستیں، ان کی بیویوں کو دوبارہ جوان اور کنواری بنا دیا جائے گا جو اپنے شوہروں سے محبت کرنے والی ہم عمر بیویاں ہوں گی۔ ان داہنے ہاتھ والوں کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں ہوگا اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا۔ فرمایا بائیں ہاتھ والے جو اپنے بدترین انجام سے دوچار ہوں گے۔ جھلسا دینے والی گرم ہوائیں، کھولتا ہوا پانی، دھوئیں کے کالے بادل، کھانے کے لئے زقوم اور طرح طرح کے عذاب ہوں گے۔ ان پر کالے دھوئیں کے ایسے سائے ہوں گے جن میں نہ ٹھنڈک ہوگی اور نہ آرام و سکون۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں بڑے عیش و آرام سے رہا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گی اور ہماری ہڈیاں بھی چورہ چورہ ہوجائیں گی کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے وہ باپ دادا (جو ہزاروں سال پہلے گزرے ہیں) بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان شکی مزاج لوگوں سے کہہ دیجیے کہ ہاں سب اگلے پچھلے لوگ زندہ کر کے اس متعین و مقرر دن جمع کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے گمراہو ! اور جھٹلانے والو ! تم زقوم کا درخت ضرور کھائو گے۔ تمہیں اس سے پیٹ بھرنا ہوگا۔ اس پر اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا اور اس دن تم پیاس کی شدت سے اس قدر بےحال ہو گے کہ اس طرح پانی پیو گے جیسے پیاسا اونٹ پانی پیتا ہے۔ یہ ہے ان ظالموں کی مہمان داری جو اس دن کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا۔ (جاننے کے باوجود) پھر بھی تم اس سچائی کو تسلیم نہیں کرتے۔ اچھا یہ بتائو نطفہ جسے تم ڈالتے ہو اس سے جیتا جاگتا آدمی ہم بناتے ہیں کہ تم بناتے ہو ؟ تم ایک بیج بوتے ہو اور ہم اس سے کھیت اگاتے ہیں، زراعت تم کرتے ہو یا ہم کرتے ہیں ؟ تم جس پانی کو استعمال کرتے ہو اس کا بادل ہم اٹھا کر تم پر برساتے ہیں جو میٹھا پانی ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس کو کھارا اور کڑوا بنا ڈالیں۔ تم جس آگ کو سلگاتے ہو اس کا درخت ہم نے پیدا کیا ہے یا تم نے پیدا کیا ہے۔ فرمایا کہ یقینا تمہاری پیدائش، کھیتوں کا اگنا، بارش کا برسنا اور آگ کا جلنا یہ سب اللہ کی قدرت کے نشانات ہیں اگر وہ چاہے تو ان میں سے ہر چیز کی تاثیر کو بدل کر رکھ دے مگر اس کا کرم ہے کہ اس نے ہر چیز کو اپنے بندوں کیلئے بنایا ہے پھر بھی وہ شکر ادا نہیں کرتے۔ آخر میں اللہ نے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ یہ قرآن کریم جسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش فرما رہے ہیں یہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑا ہے نہ کسی شیطان نے اس کو نازل کیا ہے بلکہ یہ تو وہ قرآن کریم ہے جسے اللہ نے ایک محفوظ مقام (لوح محفوظ) میں رکھا ہوا ہے اس کو پاکیزہ فرشتوں کے سوا کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا اور اس کو رب العالمین نے نازل فرمایا ہے لیکن تم پھر بھی اس سے منہ پھیر رہے ہو کیا نعمت کے حق ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے ؟ کہ تم اس کو جھٹلا رہے ہو۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت سے ہے۔ فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب کوئی شخص مر رہا ہے اور اس کی جان حلق تک پہنچ گئی ہے تم اس اپنے عزیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ وہ رخصت ہو رہا ہے۔ اپنی سی پوری کوشش کرتے ہو کہ اس کی جان بچا لو مگر تم اس وقت بالکل بےبس نظر آتے ہو۔ وہ تم سے دور جا رہا ہوتا ہے لیکن ہم اس کے بہت قریب ہوتے ہیں مگر تمہاری نظریں ہمیں دیکھ نہیں سکتیں۔ اگر وہ مرنے والا مقربین میں سے ہے تو اس کے لئے راحت بھیر جنتیں اور بہترین رزق ہوتا ہے اور اگر وہ داہنے والوں میں سے ہے تو اس پر سلامتی بھیجی جاتی ہے اگر وہ بائیں اہتھ والوں میں سے ہے، سچائیوں کو جھٹلان والا اور گمراہ ہے تو اس کو کھولتا ہوا پانی دے کر جہنم میں داخل کردیا جائے گا اور یہ سب کچھ روز روشن کی طرح کھلی حقیقت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ ہر شخص کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی جزا یا سزا دے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے مقصد کیلئے جدوجہد کرتے رہیے اور اپنے عظیم پروردگار کی حمد و ثنا کرتے رہیے۔ یہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔

Ayahs 56:1–8

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہوجانے والی واقع ہوجائے گی۔ (یعنی قیامت)

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے واقع ہونے کو کوئی جھٹلا نہ سکے گا

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

وہ کسی کو پست اور کسی کو بلند کر دے گی

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین زور زور سے ہلا دی جائے گی

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر وہ پہاڑ بکھرے غبار کی طرح ہوجائیں گے

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اس دن تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جائو گے

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

پھر داہنے ہاتھ والے کیا اچھی حالت میں ہوں گے دہنے ہاتھ والے

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38 وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔ یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے (پھیلے ہوئے) ماء مسکوب بہتا صاف پانی۔ لامقطوعۃ نہ توڑاگ یا۔ لاممنوعۃ نہ روکا گیا۔ انشانھن ہم نے ان (عورتوں کو) اچھی طرح پیدا کیا۔ ابکار کنواری۔ عرب پسندیدہ۔ اتراب ہم عمر۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 38 نبی کریم ﷺ جب کفار مکہ کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور اس میں قیامت آنے اور آخرت میں دوبارہ اٹھائے جانے کی باتیں ارشاد فرماتے تو وہ حیرت سے کہتے کہ ہماری عقل تسلیم نہیں کرتی کہ کائنات کا اتنا زبردست چلتا ہوا نظام زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے، پہاڑ اور دریا سب کے سب ایک دم ختم کردیئے جائیں گے اور جب ہماری اور ہمارے باپ دادا کی ہڈیاں بھی چورہ چورہ ہو کر بکھر جائیں گی تو ان میں زندگی کے آثار کیسے پیدا ہوجائیں گے۔ ہمیں ان باتوں پر یقین نہیں آتا یہ سب خواب و خیال کی باتیں ہیں۔ ایسے لوگوں کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا زبردست حاثدہ اور واقعہ اچانک آجائے گا تو وہ آنکھوں سے نظر آنے والی ایسی سچائی ہوگی جس کا کوئی شخص انکار نہ کرسکے گا۔ یہ قیامت اس قدر اچانک اور بھیانک ہوگی جو ہر چیز کو الٹ پلٹ رکھ دے گی۔ زمین زلزلوں کے جھٹکوں سے ہلا ماری جائے گی۔ یہ بلند وبالا اور مضبوط پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بکھرے غبار کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اس دن تمام لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو کر بار گاہ الٰہی میں پہنچیں گے۔ جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ اصحاب الیمین ہوں گے اور جن کے نامہ اعمال بائیں اتھ میں دیئے جائیں گے وہ اصحاب الشمال کہلائیں گے جو نہایت بری حالت میں ہوں گے۔ ان ہی میں تیسرا گروہ ہوگا جس کی شان ہی نرلای ہوگی یہ ان لوگوں کا گروہ ہوگا جو تقویٰ ، پرہیز گاری، نیکی، حق پرستی اور بھلائی کے ہر کام میں مصلحتوں سے بالاتر ہو کر سب سے حق و صداقت کی کوئی بات پیش کی جاتی تھی تو وہ فوراً ہی اس کو قبول کرلیتے تھے۔ جب ان سے حق مانگا جاتا تھا تو وہ حق فوراً ہی ادا کردیا کرتے تھے۔ جو دوسروں کے لئے فیصلے کرتے وہی فیصلے اپنے بارے میں بھی کیا کرتے تھے۔ (مسند احمد) اللہ نے ان کو السبقون السابقون (آگے رہنے والے آگے ہی رہنے والے ہیں) کہا ہے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو عرش الٰہی کے سائے میں اللہ کے بہت قریب ہوں گے۔ یہی وہ لوگ ہوں گے جو راحت بھری جنتوں کی نعمتوں سے پوری طرح لطف اندوز ہوں گے۔ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے جڑائو تخت پر آمنے سامنے تکیہ لگائے شاہانہ انداز سے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ ان کی خدمت کیلئے ہمیشہ جوان رہنے والے نوجوان لڑکے موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے جو صاف ستھری اور پاکیزہ شراب سے لبریز یالے، کو زے اور جام بھر بھر کر ان کو پلا رہے ہوں گے۔ ان کے سامنے ان کے پسندیدہ پھل، حسبخ واہش پرندوں کا مزیدار گوشت ہوگا۔ ان کی دل بستگی کے لئے خبوصورت رنگت اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی جو ایسی حسین و خوبصورت اور صاف ستھری ہوں گی جیسے سیپ میں حفاظت سے رکھے ہوئے موتی۔ وہ لوگ ان جنتوں میں سوائے سلام سلام کی آوازوں کے کوئی فضول، بےہودہ اور گناہ کا کلام نہ سنیں گے۔ یہ اللہ کے وہ مقرب بندے ہوں گے جن میں سے ایک بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے لوگ بعد والے ہوں گے۔ یہ پہلے اور بعد والے گروہ کون سے ہوں گے ؟ ان سے عملاء مفسرین نے بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ٭حضرت آدم سے لے کر نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری تک جتنی بھی امتیں گذری ہیں وہ اولین ہیں اور نبی کریم ﷺ کے بعد قیامت تک آنے والے نیک بندے آخرین ہیں۔ ٭ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اولین اور آخرین سے مراد نبی کریم ﷺ کی امت کے اولین و آخرین ہیں جن میں سے مقربین و سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی اور بعد میں آنے روالے آخرین ہیں جن کی تعداد کم ہوگی۔ بہرحال اللہ کے نزدیک مقربین وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ آگے بڑھ کر اللہ کے نبیوں کے ہر حکم پر سبقت کی یعنی آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ دوسرا گروہ اصحاب الیمین کا ہوگا یعنی وہ خوش نصیب صاحبان ایمان جن کے داہنے ہاتھ میں ان کے نامہ اعمال دیئے جائیں گے۔ ان کو بھی جنت کی راحتیں عطا کی جائیں گی لیکن سبقت کرنے والے گروہ سے ذرا کم۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ داہنے ہاتھ والے بھی کیا خوب ہوں گے۔ ان خوش نصیبوں کو ان جنتوں میں بےکانٹوں الے بیر دیئے جائیں گے یعنی دنیا کے کھٹے میٹھے بیروں کی طرح نہیں بلکہ وہ بیر اتنے لذیذ، خوشبو دار اور میٹھے ہوں گے جن کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ بہترین کیلے ہوں گے جو تہہ در تہہ ہوں گ۔ صاف شفاف بہتے چشموں کا پانی اور بڑی تعداد میں طرح طرح کے لذیذ ترین پھل اور میوے ہوں گے۔ یہ موسمی پھل نہ ہوں گے کہ موسم کے جاتے ہی پھل ختم ہوجاتے ہیں بلکہ سدا بہار پھل ہوں گے جن کے استعمال پر کوئی روک ٹوک نہ ہوگی۔ ان اہل جنت کے لئے اونچے اونچے بچھونے ہوں گ۔ اور ایسی پاکیزہ کنواری اور حسین ہم عمر محبوب حوریں ہوں گی جو خاص طور پر ان ہی کے لئے بنائی گئی ہوں گی۔ یہ اور اسی قسم کی ہزاروں نعمتیں ان اصحاب الیمین جنتیوں کے لئے مخصوص ہوں گی۔ ہر نیکی میں سبقت لے جانے والے اور جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جائیں گے ان دونوں گروہوں کا ذکر فرمانے کے بعد اس کے بعد کی آیات میں ان لوگوں کے متعلق بیان کیا گیا ہے جو اصحاب الشمال (بائیں ہاتھ والے) ہیں۔