Ayah 56:1آیت 1 { اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ۔ } ”جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہوجائے گا۔“
اس آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ ”جب وہ وقوع پذیرہونے والی وقوع پذیر ہوجائے گی“۔ یعنی جس قیامت کی خبر تم لوگوں کو دی جا رہی ہے جب وہ آجائے گی۔
Ayah 56:2آیت 2 { لَیْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ۔ } ”اور جان لو اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔“
یعنی وہ ہر صورت وقوع پذیر ہو کر رہے گی۔
Ayah 56:3آیت 3{ خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ۔ } ”وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔“
بہت سے ایسے لوگ جو دنیا میں بہت بلند مقام و مناصب کے مالک تھے ‘ قیامت انہیں ذلیل و رسوا کر دے گی۔ اس کے برعکس کئی فقراء و مساکین جن کا دنیا میں کوئی ُ پرسانِ حال نہیں تھا ‘ اس دن بہت بلند مقامات پر فائز نظر آئیں گے۔ اس دن حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت ابودردائ ‘ حضرت ابوذر غفاری اور دوسرے فقراء صحابہ کو ایسے اعلیٰ مراتب عطا ہوں گے جن کے بارے میں آج ہم لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے۔
Ayah 56:4آیت 4 { اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا۔ } ”جب زمین ہلا ڈالی جائے گی جیسے کہ زلزلہ آتا ہے۔“
Ayah 56:5آیت 5{ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۔ } ”اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے۔“
Ayah 56:6آیت 6{ فَکَانَتْ ہَبَآئً مُّنْبَثًّا۔ } ”پس وہ ہوجائیں گے اڑتا ہوا غبار۔“
Ayah 56:7آیت 7{ وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً۔ } ”اور تم تین گروہوں میں منقسم ہو جائو گے۔“
ان تین گروہوں کا ذکر بالواسطہ طور پر سورة الرحمن میں دو جنتوں کے حوالے سے ہوا ہے۔ یعنی اہل جہنم ‘ نچلے درجے کی جنت کے مستحق اور اونچے درجے کی جنت کے باسی۔
Ayah 56:8آیت 8{ فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ لا مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ۔ } ”تو جو داہنے والے ہوں گے ‘ کیا خوب ہوں گے وہ داہنے والے !“
داہنے والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہناہو گا۔۔۔ یا تم لوگوں کو کیا معلوم کہ وہ داہنے والے لوگ کون ہوں گے ‘ ان کی کیا شان ہوگی اور وہ کس کیفیت میں ہوں گے۔ مَیْمَنَۃ ”یمین“ سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی سیدھے ہاتھ کے ہیں ‘ اور ”یُمن“ سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی برکت اور خوش نصیبی کے ہیں۔ اس اعتبار سے اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃ کا ترجمہ مبارک لوگ یا خوش نصیب اور نیک بخت لوگ بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 56:9آیت 9{ وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ لا مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ۔ } ”اور جو بائیں والے ہوں گے ‘ تو کیا حال ہوگا بائیں والوں کا !“
مَشْئَمَۃ ”شئوم“ سے ہے ‘ جس کے معنی بدنصیبی اور نحوست کے ہیں۔ عربوں کے ہاں جس طرح داہنی جانب خوش قسمتی اور برکت کی علامت سمجھی جاتی تھی اسی طرح بائیں جانب کو منحوس خیال کیا جاتا تھا۔ اس وجہ سے ان دونوں مادوں میں مستقل طور پر برکت اور نحوست کے معنی بھی شامل ہوگئے ہیں۔ چناچہ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃ کا دوسرا ترجمہ بدقسمت ‘ بدبخت اور برے لوگ بھی کیا گیا ہے۔ اردو لفظ ”شوم“ شومئی قسمت وغیرہ بھی اسی سے مشتق ہے۔ بہرحال دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہوگا جو دربارِ الٰہی میں بائیں جانب کھڑے کردیے جائیں گے اور بہت برے انجام سے دوچار ہوں گے۔
Ayah 56:10آیت 10{ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ۔ } ”اور آگے نکل جانے والے تو ہیں ہی آگے نکل جانے والے۔“
Ayah 56:11آیت 1 1{ اُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ } ”وہی تو بہت مقرب ہوں گے۔“
یعنی تیسرا گروہ مقربین بارگاہ پر مشتمل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے قرب سے نوازنا چاہتا ہے اور اس کے لیے قرآن میں جابجا ترغیبی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ سورة المائدۃ میں تو امر کے صیغے میں فرمایا گیا : { وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ } آیت 35 کہ تم اس کا قرب تلاش کرو اور اس کے لیے اس کی راہ میں جہاد کرو۔ ظاہر ہے جو کوئی اللہ کی راہ میں جان و مال کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور اپنے مقربین میں شامل فرمائیں گے۔
Ayah 56:12آیت 12{ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ۔ } ”یہ نعمتوں والے باغات میں ہوں گے۔“
Ayah 56:13آیت 13{ ثُـلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ۔ } ”یہ بڑی تعداد میں ہوں گے پہلوں میں سے۔“
Ayah 56:14آیت 14{ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ } ”اور تھوڑے ہوں گے پچھلوں میں سے۔“
بعض مفسرین کے نزدیک یہاں اَوَّلِیْنسے پہلی امتیں اور آخَرِین سے یہ امت مراد ہے۔ لیکن اگر اس مفہوم کو درست سمجھا جائے تو اس سے الٹا یہ ثابت ہوگا کہ پہلی امتیں اس امت کے مقابلے میں بہتر اور افضل تھیں۔ اس لیے زیادہ صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس فقرے کو ہر امت کے اولین اور آخرین سے متعلق سمجھا جائے۔ یعنی ہر امت کے اَوَّلِیْن ہر نبی کے ابتدائی پیروکاروں میں سے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی ‘ جبکہ ہر امت کے آخِرِیْنَ میں سے بہت کم لوگ اس درجے تک پہنچ پائیں گے۔ اور یہی معاملہ اس امت کا بھی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ خَیْرَکُمْ قَرْنِیْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ 1 1 صحیح البخاری ‘ کتاب المناقب ‘ باب فضائل اصحاب النبی ﷺ۔ و متعدد مقامات ‘ ح : 6428 ‘ 6695۔ و صحیح مسلم ‘ کتاب فضائل الصحابۃ ‘ باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ‘ ح : 2535۔ واللفظ لہ۔
یعنی اس امت کا بہترین زمانہ حضور ﷺ کا زمانہ تھا۔ اس دور کے لوگ کثیر تعداد میں مقربین بارگاہ کے درجے تک پہنچے ‘ کیونکہ جس قدر قربانیاں ان لوگوں نے دیں پچھلے زمانہ کے لوگوں نے نہیں دیں۔ تاہم یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ یعنی ہر دور میں لوگ صدیقین کے مقام تک بھی پہنچیں گے اور شہادتِ عظمیٰ کا درجہ بھی حاصل کریں گے ‘ لیکن ان کی تعداد بہت کم ہوگی ‘ جبکہ زیادہ تر مومنین ”صالحین“ کے درجے تک پہنچ پائیں گے۔ جیسا کہ سورة التوبہ کی اس آیت سے واضح ہے : { وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ…} آیت 100 ”اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی احسان کے ساتھ…“ یعنی ”سابقون الاولون“ تو آگے نکل جانے والے ہوں گے جبکہ کچھ لوگ اسی راستے پر ان کے پیچھے آنے والے بھی ہوں گے۔ یہ عام مومنین صالحین ہوں گے جنہیں آیات زیر مطالعہ میں اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ اور اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِکے القاب سے نوازا گیا ہے۔ چناچہ ہر امت کے پہلے دور کے اہل ایمان میں سے نسبتاً زیادہ لوگ ”مقربین“ ہونے کی سعادت حاصل کریں گے جبکہ بعد کے ادوار میں بہت کم لوگ اس درجہ تک پہنچ پائیں گے۔ جیسے آج حضور ﷺ کی امت کی تعداد ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ ہے لیکن ان میں مقربین آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوں گے۔
Ayahs 56:15–16آیت 15 ‘ 16{ عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ - مُّتَّکِئِیْنَ عَلَیْہَا مُتَقٰبِلِیْنَ۔ } ”جڑائو تختوں پر ‘ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔“
Ayah 56:17آیت 17{ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ۔ } ”ان پر گردش کر رہے ہوں گے وہ لڑکے جو سدا اسی طرح رہیں گے۔“
عام طور پر گھروں میں چھوٹی عمر کے لڑکوں کو ملازم رکھا جاتا ہے اور وہ آپ کے مزاج اور ذوق سے واقف ہوجاتے ہیں ‘ لیکن بڑے ہونے پر انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی گھر سے نکالنا پڑتا ہے۔ جبکہ جنت میں چھوٹے لڑکے غلمان جو اہل جنت کی خدمت پر مامور ہوں گے وہ ”بڑے“ نہیں ہوں گے بلکہ ہمیشہ لڑکپن کی عمر میں ہی رہیں گے۔
Ayah 56:18آیت 18{ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ۔ } ”آب خورے ‘ صراحیاں اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے۔“
اہل جنت کی محفلوں میں خوبصورت غلمان نہایت شفاف قسم کی شراب کے مینا و جام لیے ہر وقت محو گردش رہیں گے۔
Ayah 56:19آیت 19{ لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا یُنْزِفُوْنَ۔ } ”اس سے نہ تو ان کے سروں میں کوئی گرانی ہوگی اور نہ ہی وہ بہکیں گے۔“
دنیا کی شراب پینے سے تو سر چکرانے لگتا ہے اور آدمی مدہوش ہوجاتا ہے ‘ بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے ‘ لیکن جنت کی ”شرابِ طہور“ کو اس شراب پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ایسی کسی خرابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 56:20آیت 20{ وَفَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ۔ } ”اور میوے جو وہ پسند کریں گے۔“
Ayah 56:21آیت 21{ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ۔ } ”اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں گے۔“
خوب صورت ابدی لڑکے یہ سب نعمتیں اہل جنت کی خدمت میں پیش کر رہے ہوں گے۔
Ayah 56:22آیت 22{ وَحُوْرٌ عِیْنٌ۔ } ”اور حوریں ہوں گی بڑی بڑی آنکھوں والی۔“
نوٹ کیجیے یہاں اس جنت کی نعمتوں میں حوروں کا ذکر بھی ہوا ہے لیکن اگلی آیات میں اصحاب الیمین کی جنت کے تذکرے میں ”حُوْر“ کا لفظ نہیں آیا۔ یاد رہے کہ سورة الرحمن میں نچلے درجے کی جنت کا ذکر پہلے جبکہ حوروں والی جنت اونچے درجے کی جنت کا ذکر بعد میں آیا ہے۔ دونوں سورتوں کے مضامین کی اسی ترتیب کو میں نے ابتدا میں عکسی ترتیب mirror image کا نام دیا ہے۔
Ayah 56:23آیت 23{ کَاَمْثَالِ اللُّــؤْلُـــؤِ الْمَکْنُوْنِ۔ } ”جیسے موتی ہوں چھپا کر رکھے گئے۔“
Ayah 56:24آیت 24{ جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ } ”یہ بدلہ ہوگا ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے تھے۔“
یہ ان قربانیوں کا صلہ ہوگا جو انہوں نے اپنی دنیوی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے دی ہوں گی۔
Ayah 56:25آیت 25{ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا۔ } ”وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات اور نہ ہی کوئی الزام۔“
Ayah 56:26آیت 26{ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۔ } ”مگر ان کے لیے ‘ ہر طرف سے سلام سلام ہی کی آوازیں ہوں گی۔“
یہ تو تھا مقربین اور ان کی جنت کا بیان ‘ اب آگے اصحاب الیمین اور ان کی جنت کا ذکر ہے۔
Ayah 56:27آیت 27{ وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ۔ } ”اور اصحاب الیمین ! کیا کہنے ہیں اصحاب الیمین کے !“
Ayah 56:28آیت 28{ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۔ } ”وہ ہوں گے بیری کے درختوں میں جن میں کانٹے نہیں ہوں گے۔“
Ayah 56:29آیت 29{ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۔ } ”اور تہ بر تہ کیلے۔“
Ayah 56:30آیت 30{ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۔ } ”اور پھیلے ہوئے سائے۔“
Ayah 56:31آیت 31{ وَّمَآئٍ مَّسْکُوْبٍ۔ } ”اور بہتا ہوا پانی۔“
Ayah 56:32آیت 32{ وَّفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ۔ } ”اور کثرت کے ساتھ میوے۔“
Ayah 56:33آیت 33{ لَّا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ۔ } ”نہ ٹوٹے ہوئے اور نہ ہی پہنچ سے باہر۔“
جنت کے پھل درختوں سے توڑ کر انہیں پیش نہیں کیے جائیں گے بلکہ جب وہ پھل حاصل کرنا چاہیں گے درخت خود ان کے سامنے جھک جائیں گے۔ تمام پھل بکثرت بےروک ٹوک ملیں گے۔ کوئی پھل ایسا نہیں ہوگا جو ان کی پہنچ سے باہر ہو یا اسے کھانا ممنوع قرار دیا گیا ہو۔
Ayah 56:34آیت 34{ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ۔ } ”اور اونچے اونچے بچھونے۔“
Ayah 56:35آیت 35{ اِنَّآ اَنْشَاْنٰہُنَّ اِنْشَآئً۔ } ”ان کی بیویوں کو اٹھایا ہے ہم نے بڑی اچھی اٹھان پر۔“
Ayah 56:36آیت 36{ فَجَعَلْنٰہُنَّ اَبْکَارًا۔ } ”پس ہم نے بنایا ہے انہیں کنواریاں۔“
Ayah 56:37آیت 37{ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ } ”پیار دینے دلانے والیاں ‘ ہم عمر۔“
Ayah 56:38آیت 38{ لّاَِصْحٰبِ الْیَمِیْنِ۔ } ”یہ سب کچھ ہوگا اصحاب الیمین کے لیے۔“
Ayah 56:39آیت 39{ ثُـلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ۔ } ”جو پہلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔“
Ayah 56:40آیت 40{ وَثُـلَّـۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ } ”اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔“
اب اس کے بعد اہل جہنم کا تذکرہ ہے۔