56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 56:1

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

اللہ تبارک وتعالی اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے اس واقعہ سے مراد قیامت ہے۔
Ayah 56:2

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں

(لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ) اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی وسمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔
Ayah 56:3

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

کسی کو پست کرے کسی کو بلند

(خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ) وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی، یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہوگی کہ قریب لوگوں ہی کو سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہوگی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔
Ayah 56:4

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے

(اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا) یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے گی۔
Ayah 56:5

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں

(وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا) اور پہارٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔
Ayah 56:6

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں

(فَكَانَتْ هَبَاۗءً مُّنْۢبَثًّا) پھ رہو مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے زمین کی حالت یہ ہوگی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ بس ہموار اور چٹیل میدان ہوگا اور اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔
Ayahs 56:7–9

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین) میں ہیں

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں

وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ) اور اے مخلوقات تم تین جماعتیں ہوجاؤ گے۔ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے پھر اللہ تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے چناچہ فرمایا (فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ) پس دائیں ہاتھ والے کیا خوب ہیں دائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔ (وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ ) اور بائیں ہاتھ والے یعنی بائیں جانب کا گروہ۔ کیا حقیر ہیں بائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔
Ayahs 56:10–12

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (انکا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی (خدا کے) مقرب ہیں

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمت کی بہشتوں میں

(وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ 10۝ڌاُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ 11۝ۚ ) اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں یہی لوگ مقرب ہیں یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر اعلی علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے اس سے بلند کوئی منزل نہیں۔
Ayah 56:13

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے

یہ مذکورہ لوگ (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ) اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت لوگوں کی جماعت ہوگی۔
Ayah 56:14

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے

یہ آیت کریمہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔
Ayah 56:15

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر

اور مقربین اللہ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو (عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ) سونے کے تاروں سے بنی ہوئی چارپائیوں پر ہوں گے جو سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گی ان چیزوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 56:16

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے

(مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْهَا) یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے (مُتَقٰبِلِيْنَ ) آمنے سامنے۔ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہوگا۔
Ayah 56:17

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

(يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ) یعنی اہل جنت کی خدمت اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔ (کانھم لولوا مکنون۔ الطور 24) ۔ گویا کہ وہ چھپا کر رکھے گئے موتی ہیں۔ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں ُ پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کردے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھو میں پھریں گے۔
Ayah 56:18

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے کر

(بِاَكْوَابٍ ) یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ( وَّاَبَارِيْقَ ڏ) اور ایسی صراحتوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں (وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ ) اور شراب کے چھلکتے جام لیے جو پینے میں نہایت لذیذ ہوگی مگر اس میں نشے کی آفت نہیں ہوگی۔
Ayah 56:19

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ انکی عقلیں زائل ہوں گی

(لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا) یہ شراب ان کو سردد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے سردرد میں مبتلا کرتی ہے۔ (وَلَا يُنْزِفُوْنَ ) یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہوگی نہ ہوش حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہوگی جیسا کہ اللہ نے فرمایا (فیھا انھر من ما۔۔۔ تا۔۔۔ مصفی۔ محمد۔ 15) اسمیں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں جس کا ذائقہ کبھی تبدیل نہ ہوا ہوگا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہدی کی نہریں ہیں اللہ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کردی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔
Ayah 56:20

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں

یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے وہ کامل ترین اور بہتر صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔
Ayah 56:21

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے

یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت وہ جو چاہیں گے اور جس قس کا گوشت وہ چاہیں گے انہیں مہیا ہوگا اگر وہ بھنا ہوگوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا اور اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہوگا۔
Ayah 56:22

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی۔ الحورا اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور ان میں ملاحت اور حسن و جمال ہو۔ العین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتاعورت کی آنکھوں کا حسن اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
Ayahs 56:23–24

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے (حفاظت سے) تہ کئے ہوئے (آبدار) موتی

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

(كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ ) گویا کہ وہ تازہ صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا، سورج سے چھپا ہوا ہو جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اس طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کس بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہوگا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں (جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا ان کو فوزعظیم اور بیشمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔
Ayah 56:25

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں نہ بےہودہ باتیں سنیں گے اور نہ گالی گلوچ

یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فاہدہ نہ ہوا ہو کوئی ایسی بات سنین جس کو کہنے والے گناہ گار ہوں۔
Ayah 56:26

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہو گا)

یعین سوائے اچھی بات کے کوئی بات نہیں سنیں گے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہوگا اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہوگا۔ ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہوگا ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کردے۔
Ayah 56:27

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں

پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمیین کے لیے کچھ تیار کررکھا ہے چناچہ فرمایا (وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ) اور داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے۔ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔
Ayah 56:28

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

(یعنی) بےخار کی بیریوں میں

یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے گہراسایہ اور راحت، جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔
Ayahs 56:29–30

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بہ تہ کیلوں

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے لمبے سایوں

(وَّطَلْحٍ ) معروف درخت ہے یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤں میں اگتا ہے اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدار پھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔
Ayah 56:31

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور پانی کے جھرنوں

یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔
Ayahs 56:32–33

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے

یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہوجاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہوجاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے ان کو بہت قریب سے چنا جاسکے گا۔ بندہ مومن ہرحال میں ان کو حاصل کرسکے گا۔
Ayah 56:34

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے اونچے فرشوں میں

یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہوگا یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 56:35

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا

یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔
Ayahs 56:36–37

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

تو ان کو کنواریاں بنایا

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر

ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کی دو شیزائیں بنادیں گے اس کا عموم خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف، یعنی دوشیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا (عُرُبًا اَتْرَابًا) محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔ ہرحال میں وصف لازم ہے۔ العروب اس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیبت، اپنی ناز وادا اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنالیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہوجائیں خاص طور پر جب کہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب اس کی ہیبت اور اس کے ناز وادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہوجاتا ہے جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہوجاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبودار اور نور سے لبریز ہوجاتی ہے اس میں جماع کے وقت ناز وادا بھی داخل ہے ی۔ اور الاتراب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تمنا کی جاتی ہے اور یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔
Ayah 56:38

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

داہنے ہاتھ والوں کے لئے

یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لی تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی۔
Ayahs 56:39–40

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(یہ) بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور بہت سے پچھلوں میں سے

لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بھی بہت سی تعداد پر مشتمل ہوگی۔