Ayah 56:1اللہ تبارک وتعالی اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے اس واقعہ سے مراد قیامت ہے۔
Ayah 56:2(لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ) اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی وسمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔
Ayah 56:3(خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ) وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی، یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہوگی کہ قریب لوگوں ہی کو سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہوگی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔
Ayah 56:4(اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا) یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے گی۔
Ayah 56:5(وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا) اور پہارٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔
Ayah 56:6(فَكَانَتْ هَبَاۗءً مُّنْۢبَثًّا) پھ رہو مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے زمین کی حالت یہ ہوگی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ بس ہموار اور چٹیل میدان ہوگا اور اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔
Ayahs 56:7–9وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ) اور اے مخلوقات تم تین جماعتیں ہوجاؤ گے۔ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے پھر اللہ تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے چناچہ فرمایا (فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ) پس دائیں ہاتھ والے کیا خوب ہیں دائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔ (وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ ) اور بائیں ہاتھ والے یعنی بائیں جانب کا گروہ۔ کیا حقیر ہیں بائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔
Ayahs 56:10–12(وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ 10ڌاُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ 11ۚ ) اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں یہی لوگ مقرب ہیں یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر اعلی علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے اس سے بلند کوئی منزل نہیں۔
Ayah 56:13یہ مذکورہ لوگ (ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ) اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت لوگوں کی جماعت ہوگی۔
Ayah 56:14یہ آیت کریمہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔
Ayah 56:15اور مقربین اللہ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو (عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ) سونے کے تاروں سے بنی ہوئی چارپائیوں پر ہوں گے جو سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گی ان چیزوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 56:16(مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْهَا) یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے (مُتَقٰبِلِيْنَ ) آمنے سامنے۔ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہوگا۔
Ayah 56:17(يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ) یعنی اہل جنت کی خدمت اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔ (کانھم لولوا مکنون۔ الطور 24) ۔ گویا کہ وہ چھپا کر رکھے گئے موتی ہیں۔ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں ُ پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کردے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھو میں پھریں گے۔
Ayah 56:18(بِاَكْوَابٍ ) یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ( وَّاَبَارِيْقَ ڏ) اور ایسی صراحتوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں (وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ ) اور شراب کے چھلکتے جام لیے جو پینے میں نہایت لذیذ ہوگی مگر اس میں نشے کی آفت نہیں ہوگی۔
Ayah 56:19(لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا) یہ شراب ان کو سردد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے سردرد میں مبتلا کرتی ہے۔ (وَلَا يُنْزِفُوْنَ ) یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہوگی نہ ہوش حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہوگی جیسا کہ اللہ نے فرمایا (فیھا انھر من ما۔۔۔ تا۔۔۔ مصفی۔ محمد۔ 15) اسمیں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں جس کا ذائقہ کبھی تبدیل نہ ہوا ہوگا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہدی کی نہریں ہیں اللہ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کردی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔
Ayah 56:20یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے وہ کامل ترین اور بہتر صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔
Ayah 56:21یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت وہ جو چاہیں گے اور جس قس کا گوشت وہ چاہیں گے انہیں مہیا ہوگا اگر وہ بھنا ہوگوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا اور اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہوگا۔
Ayah 56:22یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی۔ الحورا اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور ان میں ملاحت اور حسن و جمال ہو۔ العین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتاعورت کی آنکھوں کا حسن اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
Ayahs 56:23–24(كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ ) گویا کہ وہ تازہ صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا، سورج سے چھپا ہوا ہو جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اس طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کس بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہوگا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں (جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا ان کو فوزعظیم اور بیشمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔
Ayah 56:25یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فاہدہ نہ ہوا ہو کوئی ایسی بات سنین جس کو کہنے والے گناہ گار ہوں۔
Ayah 56:26یعین سوائے اچھی بات کے کوئی بات نہیں سنیں گے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہوگا اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہوگا۔ ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہوگا ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کردے۔
Ayah 56:27پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمیین کے لیے کچھ تیار کررکھا ہے چناچہ فرمایا (وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ) اور داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے۔ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔
Ayah 56:28یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے گہراسایہ اور راحت، جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔
Ayahs 56:29–30(وَّطَلْحٍ ) معروف درخت ہے یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤں میں اگتا ہے اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدار پھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔
Ayah 56:31یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔
Ayahs 56:32–33یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہوجاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہوجاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے ان کو بہت قریب سے چنا جاسکے گا۔ بندہ مومن ہرحال میں ان کو حاصل کرسکے گا۔
Ayah 56:34یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہوگا یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 56:35یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔
Ayahs 56:36–37ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کی دو شیزائیں بنادیں گے اس کا عموم خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف، یعنی دوشیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا (عُرُبًا اَتْرَابًا) محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔ ہرحال میں وصف لازم ہے۔ العروب اس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیبت، اپنی ناز وادا اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنالیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہوجائیں خاص طور پر جب کہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب اس کی ہیبت اور اس کے ناز وادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہوجاتا ہے جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہوجاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبودار اور نور سے لبریز ہوجاتی ہے اس میں جماع کے وقت ناز وادا بھی داخل ہے ی۔ اور الاتراب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تمنا کی جاتی ہے اور یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔
Ayah 56:38یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لی تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی۔
Ayahs 56:39–40لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بھی بہت سی تعداد پر مشتمل ہوگی۔