56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 56:1–3

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب قیامت واقع ہوگی ،

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

جس کے واقع ہونے میں کوئی خلاف نہیں،

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

تو وہ پست کردے گی (اور) بلند کردے گی،1۔

1۔ کسی کو پست کرے گی اور کسی کو بلند، یعنی کافروں کی ذلت اور مومنین کی رفعت کا پورا ظہور اسی دن ہوگا۔
Ayahs 56:4–7

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب کہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے،

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر وہ پراگندہ غبار بن جائیں گے ،

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم تین قسم کے ہوجاؤ گے ۔2۔

2۔ (اے انسانو ! بلحاظ اپنے انجام وثمرات عمل کے) آخرت میں نسل انسانی تین طبقوں میں منقسم نظر آئے گی، ایک خواص مومنین یا مقربین، دوسرے عوام مومنین، تیسرے منکرین یا کفار، پچھلی صورت میں بھی ذکر انہیں تین طبقات کا تھا۔ (آیت) ” کنتم “۔ خطاب یہاں موجودہ امت اور سابق امتوں سے مجموعی طور پر ہے۔ خطاب للامۃ الحاضرۃ والامم السالفۃ تغلیبا کما ذھب الیہ الکثیر (روح) (آیت) ” ازواجا “۔ زوج۔ یہاں صنف یا قسم کے معنی میں ہے۔ ازواجا اے اصنافا (کشاف)
Ayah 56:8

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

سو جو داہنے والے ہیں، وہ داہنے والے کیسے اچھے ہیں،3۔

3۔ مراد عام مومنین ہیں یا وہ لوگ جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Ayah 56:9

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں،4۔

4۔ مراد منکرین و کفار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Ayahs 56:10–11

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو اعلی درجہ کے ہیں وہ اعلی ہی درجہ کے ہیں،

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہ خاص قرب والے ہیں،5۔

5۔ مراد حضرت انبیاء کرام اور پھر انکے بعد اولیاء امت اور متقین کاملین ہیں۔ (آیت) ” والسبقون “۔ یعنی اپنی طاعت وعبدیت کے لحاظ سے درجہ اول والے۔ اے السابقون ای الجنۃ (روح) السابقون الی رحمۃ سبحانہ (روح)
Ayahs 56:12–13

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

یہ لوگ عیش (و آرام) کے باغوں میں ہوں گے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

) ان میں) ایک بہت بڑا گروہ اگلوں کا ہوگا،6۔

6۔ اگلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر خاتم النبیین ﷺ تک ساری اگلی امتوں کے لوگ ہیں۔ اے من الامم الماضیۃ من لدن ادم (علیہ السلام) الی زمان نبینا ﷺ (معالم) المراد بالاولین الامم الماضیۃ ھذا روایۃ من مجاھد والحسن البصری وھو اختیار ابن جریر (ابن کثیر) وھم الامم من لدن ادم الی محمد ﷺ (کشاف) اس آخری امت کا زمانہ چونکہ قرب قیامت کا زمانہ پایا ہے اور اسی لیے ان میں مقربین کی تعداد بھی اسی نسبت سے بہت زائد ہوگی۔ (آیت) ’ ثلۃ “۔ اتنے بڑے اژدہام کو کہتے ہیں جو گننے میں نہ آئے۔ الجماعۃ غیر محصورۃ العدد (معالم) الامۃ من الناس الکثیر ۃ (کشاف)
Ayah 56:14

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے سے پچھلوں میں،7۔

7۔ یعنی امت محمدیہ میں۔ والمراد بالاخرین ھذہ الامۃ (ابن کثیر) ملاحظہ ہو حاشیہ ماقبل۔
Ayahs 56:15–19

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

یہ (مقربین) سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر ،

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ،

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

ان کے پاس لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ،

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

یہ چیزیں لے کر آمد ورفت رکھیں گے آبخورے اور آفتابے اور بہتی شراب سے لیریز جام ،

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

جس سے نہ ان کو درد سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا،8۔

8۔ یعنی اس شراب میں سرور ہی سرور ہوگا۔ باقی جتنے نقصانات اس دنیا کی شراب میں ہوتے ہیں، وہ کوئی بھی اس میں موجود نہ ہوں گے، یہ قرآن مجید کا کمال بلاغت ہے کہ دو مختصر فقروں میں اس نے شراب کی ساری ہی خرابیوں کی نفی کردی۔ ھما لفظتان جمعتا جمیع عیوب الخمر (ابن قتیبہ) (آیت) ’ عنھا “۔ عن سببیہ ہے۔ اے بسببھا (مدارک)
Ayahs 56:20–24

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جن کو وہ پسند کریں ،

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جو انہیں مرغوب ہو،

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور گوری بڑی آنکھوں والیاں ،

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے پوشیدہ رکھا ہوا موتی ،

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان کے عمل کے صلہ میں ملے گا،9۔

9۔ اس قسم کے مضمون سے مقصود حسن عمل کے لیے ترغیب اور ہمت افزائی ہے اور قرآن مجید ایسی آیتوں سے بھراپڑا ہے۔ جنت کی مادی لذتیں کیا یہاں اور کیا قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں جو بیان ہوئی ہیں، ان میں قدرۃ سب سے مقدم اہل عرب کے مذاق کو رکھا گیا ہے کہ وہی مخاطب اول تھے۔ اگر ایسی نعمتوں کی تصریح کی جاتی جو مذاق عرب سے بالکل مختلف چین یا جاپان یا جرمنی یا فرانس والوں کے ذوق کی ہوتیں تو ظاہر ہے کہ اہل عرب انہیں میں الجھنے لگتے اور مخاطبین اول کو خواہ مخواہ جھگڑے بکھیڑے کے لیے ایک اور موقع نکل آتا۔ قرآن مجید نے غایت ژرف نگاہی اور کامل نکتہ سنجی سے کام لے کر عام اور عالمگیر مذاق کی نعمتوں اور لذتوں کا ذکر صرف اجمالی اشارات کرکے چھوڑ دیا ہے۔ اور تفصیل جو بیان کی ہے، وہ صرف مخاطبین اول کے مذاق کی رعایت ہے۔ (آیت) ” کا مثال اللؤلؤا المکنون “۔ تشبیہ سے مقصود غایت حسن وغایت عصمت دونوں کا اظہار ہے۔
Ayahs 56:25–26

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہ وہاں نہ بک بک سنیں گے نہ اور کوئی بیہودہ بات بس،

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

(ہرطرف) سلام ہی سلام کی آواز آئے گی10،

10۔ (فرشتوں کی طرف سے بھی اور باہم اہل جنت کی زبان سے بھی) خلاصہ یہ کہ لذت ومسرت ہی ہر طرح حاصل رہے گی، جسمانی بھی، روحانی بھی۔ (آیت) ” لا ..... تاثیما “۔ یعنی کوئی آواز ان کے عیش کو مکدر کرنے والی ان کے کان میں نہ پڑنے پائے گی۔
Ayahs 56:27–33

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور جو داہنے والے ہیں وہ داہنے والے کیسے اچھے ہیں،

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

وہ وہاں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی ،

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے ،

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبا سایہ ہوگا ،

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور چلتا ہوا پانی ہوگا ،

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور کثرت سے میوے ہوں گے ،

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ ختم ہوں گے اور نہ ان کی روک ٹوک ہوگی،11۔

11۔ بخلاف دنیا کے میووں اور پھلوں کے کہ فصل کے ختم پر یہ بھی ختم ہوجاتے ہیں اور ان کے لیے روک ٹوک بھی ان کے مالکوں کی طرف سے جاری رہتی ہے۔ اب بیان المقربون السابقون “۔ (حضرت انبیاء وغیرھم) کے بعد (آیت) ” اصحب الیمین “۔ (عامہ مومن ین) کی خوش عیشیوں کا ہورہا ہے۔
Ayahs 56:34–38

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے فرش ہوں گے ،

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے وہاں کی عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے،

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

یعنی ہم نے انہیں ایسا بنادیا ہے کہ وہ کنواری رہیں گی ،

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

اور محبوبہ اور ہم عمر ،

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

(انہیں) داہنے والوں کے لئے،12۔

12۔ اہل جنت کی خوش عیشی کی تکمیل کے لیے دوسری لذتوں کے ساتھ لذت مواصلت کا ذکر بھی ضروری تھا، یہاں یہ بتایا کہ جنت کی عورتوں کی (اور اس میں حوریں بھی داخل ہوگئیں اور اس دنیا کی جنتی بیویاں بھی) بناوٹ ایک خاص قسم کی ہوگی، ان کا شباب، ان کا حسن و جمال، دلکشی اور اہل جنت کے ساتھ ان کی ہم عمری یہ سب چیزیں مستقل، پائدار اور دائمی ہوں گی، اس دنیا کی نعمتوں کی طرح فناء پذیر نہ ہوں گی۔
Ayahs 56:39–40

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

ان کا ایک بڑا گروہ اگلوں میں سے بھی ہوگا ،

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور ایک بڑا گروہ پچھلوں میں سے بھی،13۔

13۔ یعنی عام مومنین اسی امت کے بھی بڑی کثرت سے ہوں گے۔” مقربین کی جزاء میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو اہل شہر کو زیادہ مرعوب ہے۔ اور اصحب الیمین “ کی جزا میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو اہل قریہ کو زیادہ مرغوب ہے۔ پس اشارہ اس طرف ہوگیا کہ ان میں ایسا تفاوت ہوگا جیسا اہل شہر واہل قریہ میں “۔ (تھانوی (رح)) ” اور بعض روایات میں جو آیا ہے، ھما جمیعان ھذہ الایۃ۔ یہ اس طور پر ماول ہے کہ مقصود تفسیر آیت کی نہ ہو بلکہ مطلب یہ ہو کہ جس طرح قرآن میں مذکور ہے کہ اولین میں مقربین زیادہ ہیں اور آخرین میں کم، اسی طرح خود اس آیت میں بھی یہی نسبت ہوگی کہ قرون اولی میں مقربین زیادہ ہوں گے۔ اور متاخرین میں کم۔ گویہ قرآن کا مدلول نہ ہو۔ “ (تھانوی (رح)) (آیت) ’ ثلۃ۔ من الاولین۔ من الاخرین “۔ ان سب پر حاشیے ابھی قریب ہی میں گزر چکے۔