56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 56:1–12

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جبکہ واقع ہوجانے والی واقع ہوجائے (قیامت)

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

جس کے واقع ہونے میں کچھ بھی جھوٹ نہیں

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

(وہ) کسی کو پست کر دے گی اور کسی کو بلند

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جبکہ زمین بڑے زور سے لرزے گی

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر چورا ہوجائیں گے

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

سو وہ غبار ہو کر اڑتے پھریں گے

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور (اس وقت) تمہاری تین جماعت ہوجائیں گی

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

ایک تو دائیں طرف والے دائیں طرف والوں کا کیا ہی کہنا ہے

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور (دوسرے) بائیں طرف والے، بائیں طرف والوں کا کیا ہی برا حال ہے

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور (تیسرے) آگے والے تو آگے والے ہی ہیں

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

(اور) وہی مقرب بھی ہیں

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

وہ عیش کے باغوں میں ہوں گے۔

ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی النعیم من اضافۃ المکان الی مافیہ کدارالضیافۃ۔ تفسیر : یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے ابن عباس و ابن الزبیر ؓ و حسن و عکرمہ و جابر و عطا کا یہی قول ہے۔ قتادہ کہتے ہیں صرف یہ آیۃ وتجعلون رزقکم الآیہ مدینے میں نازل ہوئی۔ کلبی کہتے ہیں اس میں سے چار آیات افبہذا الحدیث الخ سفر مکہ میں نازل ہوئیں، باقی مدینے میں۔ پہلا قول قوی ہے۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں اور حارث بن اسامہ اور ابویعلی اور ابن مرودیہ (رح) نے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی ہر ہر شب سورة واقعہ پڑھے گا اس کو کبھی فاقہ کشی کی نوبت نہ آئے گی۔ ابن عساکر (رح) نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے سورة واقعہ غنی کی سورة ہے اس کو پڑھو اور اپنی اولاد کو سکھائو۔ یہ اور اس قسم کی احادیث جو بیشتر فضائل میں مذکور ہیں محققین کے نزدیک صحت و قوت کے درجہ کو نہیں پہنچیں مگر ان کے مطالب میں ذرا بھی شک نہیں۔ کس لیے کہ ہر کلام و ہر کام کا دنیا میں بھی ایک اثر خاص ہے۔ کلام کے اس اثر کے سوا جو اصل مقصود ہے یعنی سامع یا مخاطب کے دل پر بیٹھ جانا ایک اور بھی اثر خصوصاً کلام اللہ کا بارہا تجربے میں آیا ہے۔ آج کل کے لوگ جو سائنس (علوم) کی ترقی کا دم بھرتے ہیں ان باتوں کے منکر ہیں مگر ابھی ان کے سائنس نے کامل ترقی نہیں کی جب کرے گا بہت سی باتوں کو جن کا وہ اب انکار کرتے ہیں اقرار کریں گے اور کرتے جا رہے ہیں۔ سورة الرحمن کے اخیر میں فرمایا تھا تبارک اسم ربک ذوالجلال والاکرام۔ اب اس سورة میں اس کے کامل جلال و اکرام کے ظاہر ہونے کا وقت بیان کرتا ہے کہ وہ کس دن ظاہر ہوگا ؟ فرماتا ہے اذاواقعت الواقعۃ الخ کہ جب ہونے والی گھڑی جو کسی طرح ٹلنے ہی کی نہیں آئے گی یا یوں کہو جنت کی نعمتیں اور وہاں کے اسباب عیش و آرام کا ذکر ہونے سے نفوس سامعین مشتاق ہو کر پوچھتے تھے کہ یہ کب ہوگا ؟ فرما دیا کہ جب قیامت آئے گی یعنی دوسرے جہان میں۔ اس جہان میں نہیں جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ جہان عیش و کامرانی کی جگہ نہیں۔ یہ جہان کوشش ‘ عمل اور تکالیف کی جگہ ہے جو بہت ہی تھوڑا زمانہ ہے۔ اس سورة میں زیادہ تر تیسرے مسئلہ قیامت کا ذکر ہے۔ واقعۃ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ یہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اسی طرح اس کا نام ازفۃ وغیرہا ہے لیس لوقعتہا کاذبۃ کہ اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔ یہ کلمہ واقعۃ کی تاکید ہے۔ زجاج کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کو کوئی رد نہیں کرسکتا اور یہی حسن و قتادہ کا قول ہے اور یہ بھی کہ اس دن اس کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا۔ پھر اس کی تصریح اور اس کے خواص بیان فرماتا ہے۔ خافضۃ کہ وہ گھڑی پست کرنے والی ہے بہت سے دنیا کے سربلندوں کو جو خدا تعالیٰ سے غافل اور اس کے منکر اور اس کے احکام کی پابندی نہیں کرتے، نیچا دکھائے گی۔ رافعۃ بلند کرنے والی بھی ہے۔ بہت سے لوگوں کو جو نیک ہیں اس روز سربلندی نصیب ہوگی گو وہ دنیا میں پست اور ذلیل تھے یہ کب ہوگا ؟ اذا رجت الارض رجا کہ جس دن زمین ہلے گی۔ رجۃ اضطراب و حرکت۔ و بست الجبال بسا اور پہاڑ ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے، بس ٹکڑے ٹکڑے ہونا، ٹوٹنا۔ فکانت ہبائُ مُنْبَثًّا پھر وہ غبار اڑتا ہوا ہوجائیں گے۔ ہباء کے معنی غبار اور منبثا کے معنی منتشر ‘ اڑنے والا۔ حال کی فلاسفی کے بموجب بھی ایسا ہونا کچھ بعید از قیاس نہیں۔ حال کے منجموں نے دم دار ستاروں کی بابت تحقیق کر کے ان کے اجسام کا اندازہ ہزارہا حصے زمین سے بڑا ثابت کر کے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی حرکت ایسی تیز ہے کہ ایک دو منٹ میں ہزاروں کوس کا رستہ 1 ؎ طے کرتے ہیں اور ایک بار قریب تھا کہ یہ ستارہ زمین سے ٹکرا جائے مگر خیر گزری ورنہ زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی۔ پس اس روز اگر ایسا صدمہ آنے سے یہ ہوجائے تو کیا بعید ہے اس لیے خدائے قہار سے ہر وقت ڈرنا چاہیے کہ ایسے اجرام عظیمہ ٹکرا کر ہر ایک کو چورا چورا کردیں۔ ہر گھڑی یہ احتمال اور یہ دغذغہ لگا ہوا ہے۔ مگر یہ باتیں ظاہر بینوں کی ہیں جو عالم اجسام اور ان کے اسباب پر نظر رکھتے ہیں اور اس قادر مطلق کی بےانتہا قدرت اور طاقت کے آگے سب کچھ ممکن ہے۔ وکنتم ازواجاثلٰثۃ۔ اس روز دنیا فنا ہونے کے بعد جب دوسرا عالم یپدا ہوگا اور لوگ باردگر زندہ ہوں گے تو اے بنی آدم ! تمہاری تین قسم یعنی تین گروہ ہوجائیں گے۔ پھر آگے تین گروہوں اور ان کے حالات و درجات کا بیان کرتا ہے۔ فقال فاصحاب المیمنۃ ما اصحاب المیمنۃ ایک وہ جو تخت رب العالمین کے دائیں طرف کھڑے ہوں گے یا یہ معنی کہ ان کو نامہ اعمال دائیں طرف سے دیے جائیں گے یعنی دائیں والے یا یمن و برکت والے۔ یمن سے مشتق ہے یا یہ معنی کہ بلند مرتبے والے۔ عرب میں جو دائیں طرف سے چیز آتی تھی اس کو بہتر سمجھتے تھے اور بائیں طرف سے جو چیز آتی تھی اس کو نحوست پر محمول کرتے تھے اس لیے عمدہ اور بہتر یمین والی اور بری چیز شمال والی بطور استعارہ کے مراد ہونے لگی یعنی یمین والے کیا ہی عمدہ ہیں۔ واصحاب المشئمۃ ما اصحاب المشئمۃ اور بائیں 2 ؎ والے یا برے مرتبے والے شوم منحوس کیا ہی برے ہیں۔ یہ دوسرا فریق تھا۔ والسابقون الخ یہ تیسرا فریق ہے یعنی سب سے پہلے ایمان و نیکی اختیار کرنے والے یا سعادت و حسنات میں سبقت کرنے والے یا اگلے لوگ حضرات انبیاء (علیہم السلام) یا تخت رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونے والے وہی درجات میں سبقت کرنے والے ہیں وہی مقرب ہیں جو جنات النعیم میں رہیں گے۔ اب کلام اس میں ہے کہ ان تینوں گروہ میں کون کون داخل ہیں ؟ صحیح تر یہ ہے کہ اصحاب الیمین مومنین و صالحین ہیں خواہ امت محمدیہ کے ہوں علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام یا پہلی امتوں کے اور اصحاب الشمال کافرو منافق و گنہگار۔ 1 ؎ ایسی تیزحرکت کا کیا ٹھکانا ہے پھر اتنے بڑے جسم کا جو زمین سے بہت ہی بڑا ہو زمین کے کرہ سے ٹکرانا اگر قیامت برپا ہونا نہیں تو اور کیا ہے۔ 12 منہ 2 ؎ بائیں طرف کھڑے ہونے والے یا بائیں طرف سے نامہ اعمال پانے والے۔ 12 منہ
Ayahs 56:13–14

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے پچھلوں میں سے بھی

ترکیب : ثلۃ مبتدائ۔ وھی القطعۃ والفرقۃ من ثللت الشیء اذاقطعۃ وقلیل معطوف علی المبتداء علی سررا لخ خبروقیل ھم ثلۃ سرر بضم السین والراء الاولیٰ وقریٔ بفتح الراء وھی لغۃ جمع سر 1 ؎ یر موضونۃ منسوجۃ والضن النسج المضاعف یقال وضن الشیء یضنہ فھوموضون ووضین متکئین و متقابلین حالان من الضمیر فی الخبر وقیل متقابلین حال من الضمیر فی متکئین یطوف مستانقہ ویجوزان یکون حالا باکواب متعلق بیطوف اکواب جمع کو ب (کوزہ بےدستہ) صراح۔ واباریق جمع ابریق کو زہ بادستہ معطوف علی اکواب وحوربالرفع علیٰ انہ معطوف علیٰ ولدان اولھم حورویقرء بالنصب علی تقدیر یعطون وبالجر عطفاً علی اکواب والحورجمع حوراء والعین جمع عیناء خبراومفعول لہ اومفعول مطلق ای یخبرون خبراء ً الا قیلا استثناء منقطع سلاما بدل منہ او صفۃ اومفعولہ بمعنی الاان یقولو سلاماً اومصدر ای یسلمون سلاما والتکریر للتکثیر ای یفشون السلام بینھم۔ تفسیر : اور سابقین انبیاء (علیہم السلام) و اولیائِ کرام ہیں۔ ان تینوں فرقوں میں اعلیٰ درجہ کے سابقون ہیں لیکن سب کے اخیران کا ذکر اس لیے آیا کہ انہیں کے فضائل و درجات کا سب سے اول بیان کرنا مقصود تھا اس صورت میں اتصال ہوگیا۔ فرقہ سابقین کا ذکر : سب سے اول سابقون کے درجات بیان فرماتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلاتا ہے کہ سابقون پہلے لوگوں میں سے کتنے ہیں اور پچھلوں میں سے کتنے ؟ اس لیے فرمایا ثلۃ من الاولین وقلیل من الاخرین کہ یہ سابقین پہلے زمانے والوں میں سے ایک گروہ ہے اور پچھلے زمانے والوں میں سے تھوڑے سے۔ پہلا زمانہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر ہمارے نبی ﷺ تک۔ بیشک ان میں سابقین زیادہ ہیں کس لیے کہ ان میں تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مخلصین شامل ہیں اور ان کی تعداد بہت ہے اور پچھلا زمانہ ہمارے حضرت ﷺ سے لے کر قیامت تک۔ ان میں سابقین بہ نسبت پہلے زمانے والوں کے کم ہیں گو فی نفسہٖ بہت ہیں ان میں ہمارے حضرت ﷺ ہیں اور آل و اصحاب ؓ و اولیائے کرام جو سعادت کے درجہ قصویٰ تک پہنچ گئے تھے۔ یہ مجاہد و حسن بصری ; کا قول ہے جیسا کہ ابن ابی حاتم نے ان سے نقل کیا ہے اور ابن جریر (رح) نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور تائید کرتی ہے اس قول کی وہ حدیث کہ جس کو امام احمد (رح) نے ابی ہریرہ ؓ اور حافظ ابن عساکر نے جابر بن عبداللہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ ؓ پر یہ بات شاق گزری کہ سابقین پہلے لوگوں میں سے بہت ہوں اور ہم میں سے کم۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کے چوتھائی یا تہائی بلکہ نصف ہو گے یعنی گو تم میں سے سابقین کم ہیں مگر جنت میں داخل ہونا سابقین میں سے ہونے پر موقوف نہیں۔ اصحاب الیمین بھی جنت میں داخل ہوں گے۔ اصحاب الیمین تم میں سے ایک بڑا فریق ہے جیسا کہ سورة کے اخیر میں ہے۔ ثلۃ من الاولین وثلۃ من الآخرین۔ ابن سیرین وغیرہ کا قول ہے کہ ثلۃ من الاولین وقلیل من الاخرین میں اسی امت خیرالامم کے اولین و آخرین مراد ہیں کہ اس کے اولین یعنی خیرالقرون کے لوگوں میں سابقین بہت ہیں اور پچھلوں میں جو خیرالقرون کے بعد کا زمانہ ہے ان میں سے کم۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اب سابقین کے لیے جو وہاں عیش و آرام ہیں ان کا بیان فرماتا ہے۔ ان کے درجات اجمالاً ایک جملے میں پہلے بیان فرمائے تھے کہ اولئک المقربون کہ وہ مقرب الٰہی ہیں۔ یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے۔ وہ اس کی تجلی جمال و مشاہدہ انوار میں شاداں وفرحاں رہیں گے۔ فی جنات النعیم یہ مشاہدہ بری جگہ میں نہ ہوگا بلکہ نعمت کے بھرے ہوئے باغوں میں۔ اب ان نعمتوں کا ذکر کسی قدر تفصیل کے ساتھ کرتا ہے۔ فقال علیٰ سررموضونۃ کہ طلائی تاروں سے بنے ہوئے تختوں اور چھپرکھٹوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے تکیہ لگائے ہوئے اور ان کے پاس ولدان مخلدون لڑکے کہ جن کا لڑکپن ہمیشہ رہے گا (فراء کہتے ہیں عرب اس شخص کو کہ جو بڑی عمر کا ہو اور اس کی صورت میں فرق نہ آئے مخلد کہتے ہیں یعنی وہ لڑکے ہمیشہ اسی حسن و جمال کے ساتھ رہیں گے یہ اس لیے کہ لڑکپن کا زمانہ اور حسن کی بہار بہت ہی تھوڑی ہوا کرتی ہے۔ سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں مخلدون کے معنی ہیں کہ خلدہ یعنی بالا پہنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے کانوں میں بالے پڑے ہوں گے۔ وہ لڑکے کفارومشرکین کی وہ صغیر اولاد ہوگی جو نابالغی میں مرگئے اور ممکن ہے کہ حوروں کی طرح وہ بھی ایک نئی مخلوق ہو، دنیا کے لڑکے نہ ہوں۔ لڑکوں کا خدمت کے لیے چیزیں لانا لے جانا صرف ان کے حسن کی وجہ سے بلکہ ان کی پھرتی اور بالے پنے کے ساتھ ہنسنے بولنے میں عجب لطف دیتا ہے) ۔ ان کے پاس پیالے اور آبخورے اور رکابیاں اور طشتریاں (اکواب) اور لوٹے اور آفتابے یعنی چمکتے ہوئے دستہ دار برتن (اباریق) اور جام جن میں طلائی کام کئے ہوں گے (کاس) لائیں لے جائیں گے۔ پھر ان برتنوں میں کیا ہوگا ؟ سب سے پہلے جام کی چیز بتلاتا ہے جس کے پینے سے سرور ہو وہ کیا ہے معین صاف شفاف پانی یا کوئی جنتی عرق یا کوئی خاص وہاں کی ساخت کی شراب جو کسی برتن میں سے نہ انڈیلی جائے گی بلکہ اس کا وہاں چشمہ جاری ہوگا جس سے نہ سر میں درد اور خمار ہوگا نہ بیہوشی ہوگی۔ لایصدعون عنہا اور جب ہوش ہی بجا نہ رہے تو کوئی لطف باقی نہ رہا۔ ایک شخص مردے کی طرح پڑا ہے خواہ منہ میں مکھیاں گھسیں یا کتے موتیں اور اس کی محبوب چیزوں کو کوئی کام میں لائے وہاں ایسا نہ ہوگا اور اسی لیے دنیا کی شراب حرام کی گئی۔ اور ان برتنوں میں کیا ہوگا ؟ وفاکہۃ مما یتخیرون وہ عمدہ میوے کہ جن کو وہ پسند کریں گے۔ ولحم طیر مما یشتہوں اور ان پرندوں کا گوشت کہ جن کو چاہیں گے۔ پرند کا گوشت ہی مزے دار ہوتا ہے پھر ان میں سے بھی وہ کہ جو مرغوب ہو۔ یہ تو کھانے پینے کا سامان تھا مگر اس کی زینت اور جان حسین عورتوں سے ہوتی ہے اس لیے فرمایا وحورعین کا مثال اللولوء المکنون۔ حوریں یعنی گوری رنگت والیاں۔ عین بڑی بڑی آنکھوں والیاں جیسے سیپ کے اندر کے موتی۔ نہ کوئی عیب ہوگا نہ کسی کی صرف میں آئی ہوئی ہوں گی جیسا موتی سیپ کا کسی کے استعمال میں آیا ہوا نہیں ہوتا نہ اس پر کوئی بیرونی عیب و نقصان پہنچا ہوتا ہے۔ وہ چھیدا ہوا ہوتا ہے۔ ان سب باتوں میں اور نیز خوبصورتی میں سیپ کے موتی کے ساتھ تشبیہ کیا عمدہ تشبیہ ہے۔ یہ بدلہ ہوگا ان کے دنیاوی نیک کاموں کا۔ ان سب خوبیوں کے ساتھ کوئی ضرر و تکلیف نہ ہونا بھی بڑی خوبی ہے اس لیے فرماتا ہے لایسمعون فیہا الخ کہ وہاں کوئی بیہودہ اور تاثیم یعنی قابل الزام رنج دہ بات سننے میں بھی نہ آئے گی۔ صرف باہم سلام کہنا اور اس کے متعلق جو دل خوش کرنے والی بات ہو۔
Ayahs 56:15–26

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

جڑاؤ پلنگوں پر

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

(وہ) لڑکے جو سدا لڑکے ہی رہیں گے، لاتے لے جاتے ہوں گے

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے جام

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

کہ جس سے نہ ان کو دردسرِ ہوگا نہ بےہوشی

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور (نیز) جو میوے پسند کریں گے

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور جس پرند کا گوشت جائیں گے (وہ بھی لائیں گے)

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور ایسی حوریں ہوں گی

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسا کہ صدف کا پوشیدہ موتی

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

ان کے ان کاموں کے بدلے میں کہ جو وہ کیا کرتے تھے۔

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہ وہاں کوئی بیہودہ بات سنیں گے نہ خلاف تہذیب

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

مگر باہم سلام سلام کی آواز۔

1 ؎ تخت ‘ چارپائی ‘ پلنگ ‘ چھپر کھٹ وغیرہ۔ 12 منہ
Ayahs 56:27–40

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور دائیں طرف والے کیا کہنا ہے دائیں طرف والوں کا

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

وہ ان باغوں میں ہوں گے (کہ جہاں) بےخار بیریاں

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بر تہ کیلے

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور دراز سائے ہیں

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور پانی کے جھرنے

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور بہت سے میوے ہیں

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

کہ نہ جن کی فصل تمام ہوگی نہ ان کی ممانعت ہوگی

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور بلند فرشوں میں آرام کر رہے ہوں گے

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے وہاں کی عورتوں کو ایک اٹھان پر اٹھایا

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

پھر ان کو کنواریاں

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

اور دل لبھانے والیاں ہم عمر بنا دیا ہے۔

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

(یہ سب) دائیں طرف والوں کے لیے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(اس جماعت میں) اگلے لوگوں کا بھی ایک انبوہ ہے

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور پچھلے لوگوں کا بھی انبوہ ہوگا۔

ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔ تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے جن میں سے یہ چند درخت ہیں۔ سدر بیری مخضود بےخار یا جھکی ہوئی شاخیں جو پھلوں کے بوجھ سے جھک پڑیں۔ حاکم و بیہقی نے ابی امامہ سے روایت کی ہے کہ ایک روز ایک بدوی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا عرض کیا کہ یا حضرت میں سمجھتا ہوں کہ جنت میں کوئی تکلیف دینے والا درخت نہیں اور قرآن میں ایسے درخت کا ذکر ہے آپ نے پوچھا وہ کیا۔ عرض کیا سدر اس کے کانٹے ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے مخضود نہیں فرمایا ان کے کانٹے توڑیں جائیں گے ان کی جگہ پھل ہوں گے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ بیری مراد نہیں بلکہ ایک اور عمدہ درخت جو بیری سے مشابہ ہے طلح اکثر مفسر کہتے ہیں اس سے مراد کیلا ہے۔ مَنْصُّوْدٍ تہ بہ تہ اوپر تلے۔ اور ان کے سوا بڑے بڑے سایہ دار درخت ہوں گے۔ ظل ممدود ماء مسکوب اور جابجا سے پانی اوپر سے نیچے گرتا ہوگا اور فاکہۃ کثیرۃ بہت سے میوے جو لامقطوعۃ قطع نہ ہوں گے یعنی کسی وقت تمام نہ ہوں گے برخلاف دنیا کے میووں کے کہ ان کی فصل تمام ہوجاتی ہے اور شائقین کا دل ترستا رہ جاتا ہے۔ ولاممنوعۃ اور نہ ان کی ممانعت جس کا جہاں سے دل چاہے کھائے۔ وفرش مرفوعۃ اور بلند فرش ہوں گے یعنی بلند تختوں پر بچھے ہوں گے یا یہ معنی کہ خوبی میں بلند ہوں گے بعض مفسرین کہتے ہیں فرشوں سے مراد عورتیں ہیں یہ مرد کے تلے بچھتی ہیں اس لیے بطور استعارہ کے ان کو فرش سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ان کے بلند ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ بلند تختوں پر ہوں گی یا یہ کہ حسن و خوبی میں بلند قدر ہوں گی جیسا کہ سورة یس میں آیا ہے ھم وازواجہم علی الارائک متکئون اس لیے ان کی مدح میں فرماتا ہے اناانشا نہن الخ کہ ان کو ہم نے پیدا کیا اور عجب اٹھان اٹھایا ہے کہ ان کو ابکارا کنواریاں بنا دیا ان سے پہلے کسی نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہوگا اور اس کنوارپن کی وجہ سے ایسی نہ ہوں گی کہ ان کو مرد سے نفرت یا سرکشی ہو بلکہ عرب یعنی دل لبھانے والیاں ‘ محبت کرنے والیاں ‘ نازوکرشمے سے دل کو کھینچنے والیاں ہوں گی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ ہوگا کہ اتراب یعنی ہم سن ہوں گی کس لیے کہ بڑی عمر کی عورت سے یا نہایت چھوٹی سے دل بستگی نہیں ہوتی ہم سنی کا بھی ایک عجیب لطف ہوتا ہے یہ کن کے لئے ؟ اصحاب الیمین کے لیے جو پہلے اور پچھلے لوگوں میں سے ایک ایک گروہ اور انبوہ کثیر ہوگا۔