56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 56:1

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

اذا وقعت الواقعہ ’ جب قیامت واقع ہوگی اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ : یعنی جب قیامت واقع ہوگی ‘ چونکہ قیامت کا وقوع یقینی ہے اس لیے اس کو واقعہ فرمایا۔
Ayah 56:2

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں

لیس لوقعتھا کاذبۃ جس کے واقع ہونے میں کوئی خلاف نہیں ہے لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا : لوقعتھا ‘ میں لام توقیت کے لیے ہے ‘ یعنی قیامت کے وقوع کے وقت کوئی (نفس) اس کو جھٹلانے والا نہیں ہوگا ‘ یعنی اللہ پر کوئی کذب تراشی کرنے والا نہیں ہوگا یا جھوٹ بولنے والا نہ ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لام بمعنی وجہ ہو (یعنی لام اجلیہ ہو) مطلب یہ کہ قیامت واقع ہوجانے کی وجہ سے کوئی شخص جھوٹ بولنے والا نہیں ہوگا ‘ جو شخص وقوع قیامت کی خبر دے گا ‘ وہ صحیح خبر دے گا یا کاذبہ کا معنی ہے جرأت دینے والا ‘ جری بنانے والا ‘ یعنی قیامت کے وقوع کی شدت کو برداشت کرنے کی جرأت دلانے والا اور جری بنانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ عربی محاورہ ہے : کذبت فلانًا نفسہ فی الخطب العظیم : فلاں شخص کو بڑے حادثہ میں اس کے نفس نے جری بنا دیا ‘ دلیر بنا دیا اور برداشت کرنے پر آمادہ کردیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عافیۃ ‘ نازلۃ ‘ لاغیۃ کی طرح واقعۃ مصدر ہو ‘ یعنی قیامت کا واقع ہونا حق ہے۔ اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔
Ayah 56:3

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

کسی کو پست کرے کسی کو بلند

خافضۃ رافعۃ تو وہ (بعض کو) پست کر دے گی (اور عض کو) بلند کر دے گی۔ خَافِضَۃٌ : دنیا میں اللہ کے دشمن جو مغرور تھے ‘ ان کو پست اور ذلیل کرنے والی۔ رَافِعَۃٌ : اللہ کے وہ بندے جو تواضع کرتے تھے اور غرور نہیں کرتے تھے ‘ ان کو اونچا کرنے والی ‘ اوپر اٹھانے والی۔
Ayah 56:4

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے

اذا رجت الارض رجا جب زمین میں سخت زلزلہ آئے گا رُجَّت : زور کے ساتھ ہلائی جائے گی ‘ ایسی جھنجھوڑی جائے گی کہ اس کے اوپر کی ساری عمارتیں اور پہاڑ گرپڑیں گے۔
Ayah 56:5

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں

وبست الجبال بسا اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے بُسَّتِ الْجِبَالُ : پہاڑ چلائے جائیں گے ‘ ہنکائے جائیں گے۔ یہ بَسَّ الْغَنَمُ (بکریوں کو ہنکایا) سے ماخوذ ہے۔ (کذا قال الکلبی و حسن و ابن کیسان) لیکن عطاء اور مقاتل نے ترجمہ کیا : پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے (فَتَتٌّ ریزہ ریزہ کردینا ‘ جیسے د ددھ وغیرہ میں ستو گھول دیئے جاتے ہیں) ۔
Ayah 56:6

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیں

فکانت ھباءً منبثا . پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے ھَبَآءً : روشن دان کے شگافوں میں جو اڑتے ہوئے خاکی ذرات سورج کی پڑتی ہوئی شعاعوں کی وجہ سے نظر آتے ہیں ‘ ان کو ہباء کہتے ہیں۔ مُّنْبَثًا : منتشر۔
Ayah 56:7

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ

و کنتم ازواجا ثلثۃ اور تم تین قسم کے ہوجاؤ گے اَزْوَاجًا : اے امت محمدیہ تمہاری تین صنفیں ہوں گی ‘ وہ صنف جو دوسری صنف کے ساتھ ہو یا دوسری صنف کے ساتھ اس کا ذکر کیا جائے ‘ اس کو زوج کہتے ہیں۔
Ayah 56:8

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

تو داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین میں) ہیں

فاصحت المیمنۃ ما اصحب المیمنۃ (کچھ) دائیں طرف والے کیسے اچھے ہوں گے ‘ دائیں طرف والے فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ : یعنی وہ لوگ جن کو دائیں سمت کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جس روز حضرت آدم کی پشت سے ان کی ساری نسل برآمد کی گئی تھی ‘ ان کے دو گروہ بنا دیئے گئے تھے۔ ایک گروہ دائیں طرف والا جن کے متعلق اللہ نے فرما دیا تھا : ھو الا للخبۃ ‘ اصحاب المیمنۃ سے وہی لوگ مراد ہیں اور دوسرا گروہ بائیں طرف والا دوزخیوں کا تھا جن کو اصحاب المشئمۃ کہا گیا ہے۔ انہی کے متعلق اللہ نے فرمایا تھا : ھو الاء للنار۔ (مترجم) ضحاک نے کہا : اصحاب المیمنۃ وہ لوگ ہیں جنکے دائیں ہاتھوں میں اعمالنامے دیئے جائینگے۔ ان تینوں اقوال پر میمنہ کا لفظ یمین سے مشتق ہوگا جسکا معنی ہے : دایاں (ہاتھ یا دایاں جانب) اسکے مقابل یسار کا لفظ آتا ہے۔ (بائیں طرف یا بایاں رخ) ۔ ربیع اور حسن نے کہا : اصحاب المیمنۃ سے مراد ہیں۔ برکت والے جن کی عمریں اللہ کی اطاعت میں گزری ہوں ‘ اس مطلب پر میمنہ کا لفظ یمن سے ماخوذ ہوگا۔ یُمن کے مقابل شوم (نحوست) آتا ہے (جس سے لفظ مشئمہ ماخوذ ہے) ۔ مَا اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃَ : استفہام تعجبی ہے ‘ یعنی یہ لوگ کیسے عظیم الشان اور کتنے بابرکت ہیں۔
Ayah 56:9

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں

واصحب المشئمۃ ما اصحب المشئمۃ اور (کچھ) بائیں طرف والے اور کیسے برے ہوں گے بائیں طرف والے وَاَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ : اور بائیں جانب والے ‘ بائیں ہاتھ کو عرب شومی کہتے ہیں ‘ شام کو شام اور یمن کو یمن اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ملک شام کعبہ سے بائیں جانب اور یمن کعبہ سے دائیں جانب واقع ہے۔ بائیں سمت والوں کو دوزخ کی جانب لے جایا جائے گا۔ یہ ہی خروج ذریت کے وقت حضرت آدم کے بائیں جانب تھے یا یوں کہا جائے کہ ان لوگوں کے بائیں ہاتھوں میں اعمالنامے دیئے جائیں گے یا یوں کہا جائے کہ یہ لوگ خود اپنے لیے منحوس ہوئے ‘ ان کی عمریں گناہوں میں بسر ہوئیں۔
Ayah 56:10

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں

و السابقون اور جو اعلیٰ درجہ کے ہوں گے وہ تو اعلیٰ درجے کے ہی ہیں وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ : اسلام ‘ طاعت اور قرب خداوندی کی طرف سبقت کرنے والے۔ گروہ انبیاء ‘ ایمان اور اطاعت خداوندی میں سب کے پیشوا اور سب سے آگے ہیں ‘ ان کی امتیں ان کی تابع ہیں ‘ انبیاء کا کامل اتباع کرنے والے اور بوراثت کمالات نبوت حاصل کرنے والے اور خاص انوار ذاتیہ سے مشرف ہونے والے صحابہ کرام اور ان کے بعض متبعین ہیں ‘ اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جو ہجرت میں سبقت کرنے والے تھے ‘ وہی آخرت میں بھی پیش رو ہوں گے۔ عکرمہ نے کہا : سابقین اوّلین سے مراد ہیں وہ لوگ جو اسلام میں سبقت کرنے والے تھے یعنی صحابہ ؓ ۔ ابن سیرین نے کہا : وہ مہاجر اور انصار مراد ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ ربیع بن انس نے کہا : دنیا میں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق میں سبقت کی وہی جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہوں گے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : پانچوں نمازوں کی طرف پیش قدمی کرنے والے مراد ہیں۔ ان تمام اقوال کا حاصل یہ ہے کہ السابقون السابقون سے صحابہ کرام ؓ مراد ہیں۔ حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا : سبقتکم الی الاسلام طوًا غلاما ما بلغت اوان حکمی میں نے تم سب سے پہلے اسلام کی طرف پیش قدمی کی جب کہ میں لڑکا تھا ‘ زمانۂ جوانی کو نہیں پہنچا تھا۔ مجدد الف ثانی (رح) نے فرمایا : صحابی سب کے سب کمالات نبوت میں ڈوبے ہوئے تھے اور تابعین (رح) میں سے اکثر حضرات اور تبع تابعین (رح) میں سے بعض اشخاص بھی کمالات نبوت میں مستغرق تھے لیکن اس کے بعد 1000 ھ تک) انوار نبوت مدہم اور ہلکے ہوتے رہے اور کمالات ولایت کا ظہور ہونے لگا اور وہ انوار ولایت جو صفاتی اور ظلی تجلیات سے مستفاد تھے (سُکر ‘ شطح اور خوارق و کرامات کی صورت میں نمودار ہونے لگے پھر 1000 ھ کے بعد بعض افراد امت کو نبی کی سرشت پر پیدا کیا گیا اور اللہ نے کمالات نبوت سے ان کو سرفراز فرمایا (یہ لوگ کمالات نبوت میں دور اوّل کے مشابہ ہوگئے) اسی وجہ سے امت کا آخری دور ‘ اوّل کی طرح اور اس کے مشابہ ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت کی مثال ایسی ہے جیسے بارش۔ معلوم نہیں ہوتا کہ بارش کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر (مفید) ہے یا آخری حصہ ؟ (رواہ الترمذی عن انس) امام جعفر صادق نے اپنے والد امام باقر کی روایت سے اپنے دادا کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بشارت ہو ‘ بشارت ہو ‘ میری امت بارش کی طرح ہے کہ معلوم نہیں اسکا اوّل حصہ زیادہ بہتر ہوتا ہے یا آخری حصہ یا میری امت ایک باغ کی طرح ہے۔ حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کا بہترین حصہ ابتدائی اور آخری ہے ‘ درمیانی حصہ میں گدلا پن ہے۔ (رواہ الحکیم الترمذی) اوّل ‘ السابقون میں الف لام جنسی ہے اور دوسرے السابقون میں الف لام عہدی ہے یعنی سابقین وہی سابقین ہیں جن کے حال ‘ کمال اور مآل سے تم واقف ہو یا یہ مطلب ہے کہ سابقین وہی لوگ ہیں جو جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔
Ayah 56:11

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی (خدا کے) مقرب ہیں

اولئک المقربون وہ تو (اللہ کے) مقرب ہوں گے۔ اُوْلٰٓءِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ : وہی اللہ کے مقرب ہیں۔
Ayah 56:12

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمت کے بہشتوں میں

فی جنت النعیم . آرام کے باغ میں ہوں گے۔ “
Ayah 56:13

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے

ثلۃ من الاولین ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا ثُلَّۃٌ : یعنی کثیر۔ اَلْاَوَّلِیْنَ : سے مراد ہیں صدر اوّل کے مسلمان ‘ یعنی تینوں قرون ‘ صحابہ ‘ تابعین اور تبع تابعین۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت کا بہترین قرن میرا قرن ہے (یعنی دور صحابہ ؓ پھر وہ لوگ جو میرے قرآن والوں کے متصل ہیں (یعنی تابعین) پھر وہ لوگ ہیں جو قرن دوئم کے متصل ہیں (یعنی تبع تابعین) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو بغیر طلب شہادت کے گواہیاں دیں گے ‘ خیانت کریں گے ‘ امانتدار نہیں ہوں گے ‘ نذریں مانیں گے مگر نذر کو پورا نہیں کریں گے ‘ الخ۔ (متفق علیہ) مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور نسائی نے حضرت عمر کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت عمران ؓ کی روایت سے خیر القرون قرنی کے بجائے خیر الناس قرنی الی آخر الحدیث بیان کی ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے بھی خیر القرون کی جگہ خیر الناس کا لفظ آیا ہے۔ مسلم نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بھی یہی لفظ نقل کیا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے بھی خیر القرون کی جگہ خیر الناس کا لفظ آیا ہے۔ مسلم نے حضرت عائشہ کی روایت سے بھی یہی لفظ نقل کیا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوسعید ؓ خدری کی مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابیوں کو برا نہ کہو ‘ اگر تم میں سے کوئی کوہ احد کے برابر سونا راہ خدا میں خرچ کریگا تو میرے کسی ایک صحابی کے ایک سیر بلکہ آدھے سیر (چھوارے ‘ غلّہ وغیرہ) کے برابر بھی نہ ہوگا۔ الْاٰخِرِیْنَ : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو 1000 ھ کے بعد ہوئے اور اللہ نے ان کو کمالات نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ سے مراد ہیں وہ تمام امتیں جو حضرت آدم ( علیہ السلام) سے رسول اللہ ﷺ کے عہد نبوت تک گزریں اور قلیل من الآخرین سے امت محمدیہ مراد ہے۔ زجاج نے کہا : جن لوگوں نے حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر (رسول اللہ ﷺ تک) تمام انبیاء کو دیکھا اور سب کی تصدیق کی ‘ ان کی تعداد ان صحابہ ؓ سے زائد تھی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ میں کہتا ہوں یہ تفسیر بعید از فہم ہے اور خلاف عقل ہے۔ اس تفسیر پر تو لازم آتا ہے کہ سابقہ امتوں کو قرب الٰہی امت محمدیہ سے بڑھ کر حاصل ہوگا اوراقوام ماضیہ کا مرتبہ عند اللہ اس امت سے اعلیٰ ہے کیونکہ ارباب فضل کی کثرت امت کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے لیکن یہ قول آیات قرآنیہ کے بھی خلاف ہے اور فصیح احادیث کے بھی۔ اللہ نے صراحۃً فرمایا ہے : کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ..... اور فرمایا : لَتِکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا۔ حدیث گرامی میں آیا ہے : انتم تنمون سبعین امۃ انتم خیرھا واکرمھا علی اللہ۔ بہز بن حکیم نے اپنے دادا کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ والترمذی) ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے۔ امام احمد ‘ بزار اور طبرانی نے صحیح حدیث سے بیان کیا کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ ﷺ فرما رہے تھے ‘ مجھے امید ہے کہ میری اتباع کرنے والے اہل جنت میں ایک چوتھائی ہوں گے۔ ہم نے یہ سن کر تکبیر کہی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں امید رکھتا ہوں کہ (کُل جنتی) لوگوں میں میری امت ایک تہائی ہوگی۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں امید رکھتا ہوں کہ (کُل جنتیوں میں) میری امت نصف ہوگی۔ امام بخاری (رح) نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا تم پسند کرو گے کہ (کل) اہل جنت میں تم ایک چوتھائی ہو ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں ! فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ میں امید کرتا ہوں کہ (کل) جنتیوں میں تم آدھے ہو گے۔ ترمذی ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت بریدہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ‘ اسّی تمہاری اور چالیس باقی امتوں میں سے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ طبرانی نے حضرت ابو موسیٰ ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت معاویہ بن حبیدہ اور حضرت ابن مسعود کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔
Ayah 56:14

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے

و قلیل من الاخرین . اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے۔ “
Ayah 56:15

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر

وہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر مَّوْصُوْنَۃٍ : وضن ‘ زرہ کی بناوٹ۔ بطور استعارہ ہر مضبوط بناوٹ کو وضن کہا جاتا ہے۔ سعید بن منصور ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بوساطت مجاہد اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ موضونۃ کا معنی ہے سونے (کے تاروں) سے بنے ہوئے کچھ مفسروں نے کہا : ملے ہوئے سونے اور جواہر بنے ہوئے۔ ضحاک نے کہا : قطار میں لگے ہوئے۔
Ayah 56:16

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے

تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے مُتَقَابِلِیْنَ : ہناد نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ (کسی کی پشت کسی کی طرف نہیں ہوگی) کوئی دوسرے کی پشت نہیں دیکھے گا۔ بغوی نے متقابلین کا یہی مطلب بیان کیا۔ اللہ نے اہل جنت کے حسن معاشرت ‘ تہذیب اخلاق اور خلوص دوستی کو متقابلین کے لفظ سے ظاہر کردیا۔
Ayah 56:17

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

ان کے آس پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ‘ آتے جاتے رہیں گے۔ یَطُوْفُ : یعنی خدمت کے لیے ان کے پاس آمدورفت رکھیں گے۔ وِلْدَانٌ : بعض اہل علم نے ترجمہ کیا وہ لڑکے جو خدمت اہل جنت کے لیے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔ مُخَلَّدُوْنَ : یعنی وہ نہ مریں گے ‘ نہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ان میں اور کوئی تغیر آئے گا بلکہ ہمیشہ لڑکوں ہی کی شکل پر رہیں گے۔ فراء نے کہا جو شخص زیادہ عمر کا ہوجائے اسکے بال دو رنگے (کچھ سیاہ ‘ کچھ سفید) ہوجائیں تو عربی میں اسکو مخلد کہتے ہیں۔ ابن کیسان نے کہا : وہ لڑکے ہی رہیں گے ‘ ان کی حالت میں کوئی تغیر نہیں آئے گا۔ سعید بن جبیر نے مخلدون کا ترجمہ کیا : کانوں میں بالے پہنائے ہوئے۔ اگر کسی باندی یا لڑکی کو کوئی شخص بالی پہنا دے تو کہا جاتا ہے : خَلَّدَ جاریۃً ۔ حسن نے کہا وہ دنیا والوں کی ہی اولاد ہوگی ‘ جنہوں نے نہ نیکیاں کی ہوں گی کہ ثواب پائیں ‘ نہ گناہ کیے ہوں گے کہ عذاب میں ماخوذ ہوں بلکہ ان کو اہل جنت کا خادم بنا دیا جائے گا۔ ابن مبارک ‘ ہناد اور بیہقی نے حضرت ابن عمر کا قول بیان کیا ہے کہ سب سے کم درجہ کا جنتی وہ ہوگا ‘ جسکے ایک ایک کام کیلئے ہزار خادم اس کے آس پاس دوڑیں گے اور (دوسرے کام کے لیے دوسرے خادم ہوں گے) اس کے کام پر دوسرے مقرر نہیں ہوں گے۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت انس کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ تمام جنتیوں میں سب سے نچلے جنتی کے سرہانے (یعنی پشت کی طرف) دس ہزار خادم کھڑے ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ اہل جنت میں سب سے کم درجہ والے کے پاس صبح و شام پانچ ہزار خادم آمدورفت کریں گے اور ان میں سے ہر ایک کے پاس (طرح طرح کے پھلوں اور کھانوں کا) ایک برتن ہوگا جو اس کے ساتھی کے پاس نہ ہوگا اور اہل جنت میں کوئی بھی ادنیٰ درجہ والا نہیں ہوگا (یعنی اہل جنت میں مرتبہ کی بلندی اور پستی اضافی ہوگی۔ واقع میں کسی کا درجہ پست نہیں ہوگا) ۔
Ayah 56:18

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے لے کر

آبخورے اور آفتابے اور جاری رہنے والی شراب سے بھرے ہوئے جام لئے ہوئے بِاَکْوَابٍ : اکواب ‘ کُوب کی جمع ہے۔ کو ب وہ آبخورہ جس کا منہ گول ہو اور اس کا قبضہ نہ ہو ‘ ہناد نے مجاہد کا یہی قول نقل کیا ہے لیکن ابن جریر نے بروایت عوفی بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اکواب چاندی کی گھڑیاں۔ وَّاَبَارِیْقَ : آفتابے یعنی لوٹے جن کے قبضے ہوتے ہیں ‘ رنگ کی صفائی اور چمک کی وجہ سے ان کو اباریق کہا گیا ‘ بروق کا معنی ہے چمک۔ وَکَاْسٍ : شراب سے بھرے ہوئے جام کو کاس کہا جاتا ہے۔ اگر جام میں شراب نہ ہو تو اس کو کاس نہیں کہا جاتا۔ مَّعِیْنٍ : ہمیشہ چشمہ سے جاری رہنے والی شراب جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔
Ayah 56:19

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی

نہ اس (شراب) سے ان کو درد سر ہوگا نہ عقل میں فتور آئے گا لَّا یُصَدَّعُوْنَ : شراب پینے سے درد سر ہوجاتا ہے لیکن جنت کی شراب سے درد سر پیدا نہ ہوگا۔ وَلاَ یُنْزِفُوْنَ : کو فیوں نے ینزفون بکسر زاء (انزاف مصدر باب افعال) پڑھا ہے اور باقی قراء نے بفتح زاء ینزفون پڑھا ہے۔ قاموس میں ہے نزف بروزن عنی اس کی عقل جاتی رہی یا اس کو نشہ ہوگیا اور اسی سے ہے : لا ینزفون۔ صاحب صحاح نے لکھا ہے : انزف القوم ماء بئر ہم لوگوں نے اپنے کنویں کا سارا پانی کھینچ لیا۔ (نزفہ ‘ ثلاثی مجرد کا بھی یہی معنی ہے لیکن) انزف زیادہ بلیغ ہے کو فیوں کی قراءت پر یہ معنی ہوگا کہ ان کی شراب کبھی ختم نہیں ہوگی اور دوسرے قاریوں کی قراءت کے یہ معنی ہوں گے کہ ان کی عقلوں میں فتور نہیں آئے گا۔
Ayah 56:20

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں

اور ان کے پسندیدہ میوے یَتَخَیَّرُوْنَ : جو کچھ وہ پسند کریں گے۔
Ayah 56:21

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے

اور مرغوب خاطر پرندوں کا گوشت (بھی لیے ہوئے گھومیں گے) ۔ “ وَلَحْمِ طَیْرٍ : بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جونہی جنتی کے دل میں کسی پرندے کے گوشت کا خیال گزرے گا ‘ فوراً وہ پرندہ جنتی کی خواہش کے موافق مجسم اس کے سامنے آپڑے گا۔ بزار ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر تم جس پرندہ کو دیکھ کر اس کی خواہش کرو گے وہ فوراً بھنا ہوا تمہارے آگے آجائے گا۔ ابن ابی الدنیا نے ابو امامہ کا بیان نقل کیا ہے کہ جنت کے اندر جنتی آدمی جس پرندے (کے گوشت) کی خواہش کرے گا فوراً وہ پرندہ جو بختی اونٹ کی طرح ہوگا (بھنا ہوا) جنتی کے دستر خوان پر آکر گرے گا ‘ نہ دھواں اس کو لگا ہوگا ‘ نہ اس کو آگ نے چھوا ہوگا ‘ جنتی اس میں سے سیر ہو کر کھاچکے گا تو وہ اڑ جائے گا۔ بیہقی نے حضرت حذیفہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر (کچھ) پرندے بختی اونٹوں کی طرح (یعنی جسامت میں) ہوں گے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا : پھر وہ تو عیش میں ہوں گے۔ فرمایا : ان سے زیادہ عیش میں وہ لوگ ہوں گے جو ان کو کھائیں گے اور ابوبکر ؓ تم انہی کھانے والوں میں سے ہو گے۔ احمد اور ترمذی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ ہناد نے بروایت حسن بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر (کچھ) پرندے بختی اونٹوں کی مثل ہوں گے ‘ وہ پرندہ جنتی کے پاس (خود) چلا آئے گا۔ جنتی اس میں سے (حسب خواہش) کھالے گا پھر وہ اڑ جائے گا ‘ ایسا معلوم ہوگا کہ اس کے کسی حصہ میں کمی آئی ہی نہیں۔ ہناد اور ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر ایسا پرندہ ہوگا کہ اس کے ستّر ہزار پَر ہوں گے وہ خود آکر جنتی کی رکابی میں گرپڑے گا پھر بازو پھڑپھڑائے گا تو اس کے ہر پر سے ایک رنگ نکلے گا جو برف سے زیادہ سفید ‘ مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا اور اس کے مشابہ کسی دوسرے پر کا رنگ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد وہ اڑ کر چلا جائے گا۔ ہناد کا بیان ہے کہ مغیث بن سمحی نے کہا : طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے ‘ جنت کے اندر کوئی مکان ایسا نہیں ہے کہ اس درخت کی کسی نہ کسی شاخ کا اس پر سایہ نہ ہو ‘ اس درخت میں رنگا رنگ کے پھل ہیں۔ بختی اونٹ جیسے پرندے اس پر اترتے ہیں (جنتی) آدمی جب دل میں اس کی خواہش کرے گا اور اس کو بلائے گا تو وہ فوراً اس کے دستر خوان پر آکر گرجائے گا ‘ جنتی اس کے ایک طرف سے بھنا ہوا گوشت کھائے گا اور اس کے دوسرے پہلو سے پھر وہ اونٹ لوٹ کر ویسا ہی ہوجائے گا جیسا تھا اور اڑ کر چلا جائے گا۔
Ayah 56:22

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

اور ان کے لیے گوری گوری بڑی آنکھوں والی عورتیں (یعنی حوریں) ہوں گی مجاہد نے کہا : حور کی پنڈلیوں کا مغز کپڑوں کے باہر سے نمایاں ہوگا۔ حورعین کا ترجمہ سیاہ پتلیوں ‘ بڑی آنکھوں والیاں بھی کہا گیا ہے۔ بیہقی کا بیان ہے کہ حضرت امّ سلمہ ؓ نے فرمایا : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے حورعین کا معنی بتائیے۔ فرمایا : گورے رنگ کی دراز پلک والیاں جیسے گدہ کے پر ‘ مَیں نے عرض کیا کا مثال اللؤلو کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا : جیسے سیپ کے اندر موتی چھپا ہوا صاف اور ہاتھوں کے چھونے سے آزاد ہوتا ہے ‘ وہ حوریں صفائی میں ایسے ہی موتی کی طرح شفاف ہوں گی۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ روایت میں آیا ہے کہ جنت میں ایک نور چمکے گا تو لوگ کہیں گے کوئی حور اپنے شوہر کے سامنے ہنسی ‘ یہ اس کے دانتوں کی چمک ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حور جب چلے گی تو اس کی پنڈلیوں کی پازیبیں اللہ کی تقدیس کریں گی اور اس کی کلائیوں کے کنگن اللہ کی پاکی بیان کریں گے اور اس کے سینہ کا یاقوتی ہار ہنسے گا ‘ اس کے دونوں پاؤں میں سونے کی جوتیاں ہوگی ‘ جن کے تسمے موتی کے ہوں گے اور وہ اللہ کی پاکی بیان کریں گے اور تقدیس و تمجید و تسبیح کی یہ آوازیں سنی جائیں گی۔
Ayah 56:23

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے (حفاظت سے) تہہ کئے ہوئے (آب دار) موتی

جیسے (حفاظت سے) پوشیدہ رکھا ہوا موتی
Ayah 56:24

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

یہ ان کے اعمال کے صلہ میں ہوگا۔
Ayah 56:25

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ

اور وہاں وہ نہ بک بک سنیں گے اور نہ کوئی بیہودہ بات لَغْوًا : باطل (بیہقی از ابن عباس ؓ یا بیہودہ بات (ہناد از ضحاک) تَاْثِیْمًا : یعنی گناہ کی طرف ان کو کوئی منسوب نہیں کرے گا ‘ ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم نے گناہ کیا یا برا کام کیا۔ بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ اور ہناد کا قول بیان کیا کہ تاثیما سے مراد ہے جھوٹ۔
Ayah 56:26

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہوگا)

(ہر طرف سے) سلام ہی سلام کی آواز آئے گی۔ “ قِیْلًا : قیل بمعنی قول۔ سَلاَ ما : یعنی سلامتی والا۔ امام احمد ‘ بزار اور ابن حبان نے حضرت ابن عمر کی روایت سے سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مخلوق خدا میں سب سے پہلے جنت کے اندر وہ فقراء مہاجرین داخل ہوں گے جن کے ذریعے سے (اسلامی) سرحدوں کی حفاظت ہوتی ہے اور مکروہات دفع کیے جاتے ہیں اور (اس کے باوجود) وہ اپنی حاجت اپنے سینوں میں لیے مرجاتے ہیں ‘ پوری نہیں کر پاتے۔ اللہ اپنے فرشتوں سے جس کو چاہے گا ‘ حکم دے گا کہ ان مہاجرین کے پاس جاؤ اور ان کو سلام کرو۔ فرشتے عرض کریں گے : ہم آسمان کے باشندے اور تیری مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔ اس پر بھی تو ہم کو ان کے پاس جانے اور سلام کرنے کا حکم دے رہا ہے (یہ لوگ کتنے اعلیٰ مرتبے والے ہیں) اللہ فرمائے گا : وہ (میرے) بندے تھے ‘ میری ہی عبادت کرتے تھے ‘ میری عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتے تھے ‘ ان سب سے سرحدوں کی حفاظت ہوتی تھی اور مکروہات کو دفع کیا جاتا تھا اور وہ اپنی حاجت اپنے سینوں میں لیے مرجاتے تھے ‘ حاجت پوری نہیں کر پاتے تھے۔ حسب الحکم فرشتے ان کے پاس جائیں گے اور ہر دروازہ سے داخل ہو کر کہیں گے تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا ‘ تمہارا آخری مکان کیسا اچھا ہے۔ سعید بن منصور نے سنن میں اور بیہقی نے البعث میں بروایت عطاء بیان کیا کہ مجاہد نے فرمایا : جب طائف والوں کی درخواست کے موافق ان کے وادی کا شہد انکے لیے محفوظ کردیا گیا (اور ان کے وادی کا شہد کسی باہر والے کو حاصل کرنے کی ممانعت کردی گئی) تو کچھ لوگ کہنے لگے : جنت میں ایسا ایسا ہوگا ‘ کاش ! جنت میں ہمارے لیے اس وادی کی طرح کوئی وادی ہو۔ اس پر آیت نازل ہوئی :
Ayah 56:27

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں

اور دائیں طرف والے وہ کیسے اچھے ہوں گے۔ دائیں طرف والے بیہقی کی ایک روایت میں مجاہد کا قول آیا ہے کہ ان لوگوں کے لیے اور بیری کے سائے عجیب معلوم ہوتے تھے ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ : وہ پاک باطن ‘ نفوس مطمئنہ والے متقی ہوں گے ‘ جن کے دل روشن ہیں ‘ پھر آخرت میں انہیں کے ساتھ گناہ گار اہل ایمان کو بھی شامل کردیا جائے گا اور انبیاء اور صلحاء کی سفارش سے ان کے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا یا اللہ بغیر شفاعت کے ان کی خطاؤں کو بخش دے گا یا عذاب دینے کے بعد پاک صاف کر کے صلحاء اور اہل تقویٰ کے ساتھ ملا دے گا ‘ کیونکہ جہنم سے مؤمن کے گناہوں کا میل ایسا صاف ہوجائے گا جیسے لوہار کی بھٹی سے لوہے کا میل صاف ہوجاتا ہے۔
Ayah 56:28

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

(یعنی) بےخار کی بیریوں

وہ (ایسے باغوں میں) ہوں گے ‘ جہاں بےخار بیریاں فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ : مخضود کا معنی ہے بےخار یعنی جس کے کانٹے کاٹ دیئے گئے ہوں یا وہ شاخ جو پھلوں کی کثرت کی وجہ سے بوجھ کے مارے دوہری ہو رہی ہو۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : خضد الشجر : درخت کے کانٹے کاٹ دیئے اور خضد الغصن : تر اور نرم ہونے کی وجہ سے شاخ کو دوہرا کردیا۔ بیہقی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی نے دریافت کیا ‘ یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ نے قرآن میں ایسے درخت کا ذکر کیا جس (کے چھونے اور چبھنے) سے آدمی کو تکلیف ہوتی ہے ‘ فرمایا : وہ کونسا درخت ہے ؟ اعرابی نے عرض کیا : بیری کا درخت ‘ جس میں کانٹے ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے فی ” سدر مخضود “ فرمایا ہے (یعنی) اللہ اس کے کانٹے توڑ دے گا اور ہر کانٹے کی جگہ ایک پھل پیدا کر دے گا پھر ہر پھل پھٹ کر اس سے بہتّر رنگ کے کھانے برآمد ہوں گے اور کوئی رنگ دوسرے رنگ کے مشابہ نہیں ہوگا۔ طبرانی نے بھی عتبہ بن عبد کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ بیہقی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے ‘ مخضود کا معنی ہے (پھلوں کے) بوجھ سے لدا ہوا اور ” طلح منضود “ سے مراد ہے تہ بر تہ کیلا۔
Ayah 56:29

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہہ بہ تہہ کیلوں

اور تہ بر تہ کیلے و طلح : فراء اور ابو عبیدہ نے کہا : طلح عربی میں ایک بڑے درخت کو کہتے ہیں جس میں کانٹے ہوتے ہیں۔ قاموس میں ہے طلح ایک بڑا درخت اور کیلا۔ صحاح میں سے اطلح ایک درخت۔ یہ جمع ہے طلحہ کی۔ بیضاوی میں لکھا ہے : طلح ‘ کیلا یا کیکر کا درخت۔ مَنْضُوْدٍ : تہ بر تہ پھل۔ ایک دوسرے پر چنے ہوئے۔ ابن مبارک ہناد اور بیہقی نے لکھا ہے کہ مسروق نے کہا : جنت کے درخت خرما جڑ سے چوٹی تک تہ بر تہ پھلوں سے لدے ہوں گے اور وہ پھل مٹکوں جیسے ہوں گے اگر ایک پھل توڑ لیا جائے تو فوراً دوسرا پھل اس کی جگہ پیدا ہوجائے گا اور ایک گچھا بارہ ہاتھ کا ہوگا۔ بغوی کی روایت میں مسروق کے یہ الفاظ آئے ہیں : جنت کے درخت جڑ کے سونتوں سے لے کر ٹہنیوں تک سارے پھل ہی پھل ہوں گے۔ قاموس میں ہے اگر سامان ایک کے اوپر ایک چنا ہوا ہو تو کہتے : نضیدٌ متاعہٗ ۔ صحاح میں ہے نضید ‘ وہ تخت جس پر سامان چنا ہوا ہو ‘ اسی طرح بطور مجاز طلح نضید کہا گیا۔
Ayah 56:30

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے لمبے سایوں

اور وسیع سایہ وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ : ممدود پھیلا ہوا جیسا طلوع آفتاب سے پہلے ہوتا ہے یا ممدود سے مراد ہے دوامی سایہ جو سورج کی وجہ سے مفقود نہ ہو ‘ عرب ہر غیر منقطع چیز کو ممدود کہتے ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے ‘ جس کے سایہ میں گھوڑے کا سوار سو برس چلنے کے بعد بھی اس کو طے نہیں کرسکے گا ‘ اگر تم (اس کا ثبوت) چاہتے ہو تو پڑھو : وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ امام احمد کی روایت بھی اسی طرح ہے لیکن اس کے آخر میں اتنا زائد ہے کہ اس کے پتے جنت کو ڈھانک لیں گے۔ ہناد بن سری نے الزہد میں یہ بھی کہا ہے کہ اس حدیث کی اطلاع کعب کو پہنچی تو انہوں نے کہا : قسم ہے اس خدا کی جس نے موسیٰ پر توریت اور محمد ﷺ پر قرآن نازل کیا۔ اگر کوئی شخص پنج سالہ یا چار سالہ اونٹ پر سوار ہو کر اس درخت کے چکر لگائے گا تو بوڑھا ہونے تک اس کا چکر پورا نہ کرسکے گا اور گرجائے گا۔ اللہ نے اپنے ہاتھ سے اس کو بویا ہے اور اس کی ٹہنیاں جنت کے احاطہ کے باہر تک چھائی ہوئی ہیں۔ جنت کے اندر جو دریا ہے وہ اسی درخت کی جڑ سے نکلا ہے۔ بغوی نے بروایت عکرمہ ” و ظل ممدود “ کی تشریح کے ذیل میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جنت کے اندر ساق عرش پر ایک درخت ہے۔ اہل جنت اس کی جڑ کے پاس بیٹھ کر باتیں کریں گے اور بعض لوگ دنیوی کھیل کے خواہش مند ہوں گے ‘ اس وقت اللہ جنت کی ایک ہوا بھیج دے گا جس سے وہ درخت حرکت میں آجائے گا اور اس سے دنیا کے ہر کھیل کی آوازیں نکلیں گے۔
Ayah 56:31

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور پانی کے جھرنوں

اور آب رواں وَمَآءٍ مَّسْکُوْبٍ : اور آب جاری جو بغیر گڑھے کے ہموار زمین پر بہے گا اور اس کی روانی کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ سابق مقربین جس راحت میں ہوں گے اس کی تصویر کشی ان نعمتوں کا ذکر کر کے کردی جو شہری متمدن لوگوں کے خیال میں آسکتی تھیں ‘ اس کے بعد اصحاب یمین کے انعامات کا تذکرہ ان الفاظ میں کردیا ‘ جن کی تمنا صحرائی بدوی کرسکتے تھے۔
Ayah 56:32

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں

اور کثیر خوش مزہ پھل ہوں گے وَفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ : یعنی کثیر اجناس کے پھل۔
Ayah 56:33

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے

جو نہ ختم ہوں گے اور (اہل جنت کے لیے) نہ ان کی روک ٹوک ہوگی لَا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ : بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ پھل درختوں سے توڑے جانے کے بعد بھی منقطع نہیں ہوں گے (فوراً دوسرے پھل پیدا ہوجائیں گے) اور جو بھی ان کو توڑنا چاہے گا ‘ اس کو روکا نہیں جائے گا (یعنی ہر جنتی جو ان کا خواہش مند ہوگا ہر حالت میں توڑے گا) اس مضمون کی تائید وہ حدیث بھی کرتی ہے جس کو حضرت ثوبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جو کوئی جنتی کسی پھل کو درخت سے چن لے گا ‘ فوراً دوبارہ اسکی جگہ اسکی مثل دوسرا پھل پیدا کردیا جائے گا۔ (رواہ البزار والطبرانی) بغوی نے ان الفاظ میں حدیث مذکور بیان کی ہے ‘ جنت کے جو پھل توڑے جائیں گے ‘ اللہ ان کی جگہ ان سے دوگنے پھل پیدا کر دے گا۔ بعض علماء نے ” لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ “ کے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ وہ زمانے کی تبدیلی سے منقطع نہیں ہوں گے اور قیمت نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ملنا ممنوع نہ ہوگا ‘ دنیا کے پھل فصلی ہوتے ہیں اور قیمت سے ملتے ہیں اور فصل گزرنے کے بعد نہیں ملتے اور قیمت نہ ہو تو دستیاب نہیں ہوتے مگر جنت کے پھل ایسے نہیں ہوں گے۔
Ayah 56:34

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے اونچے فرشوں میں

اور اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃِ : بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : اور مسہریوں پر بچھے ہوئے بستر۔ مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ مرفوعہ سے مراد ہیں اونچے اونچے۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ بیہقی اور ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے بیان کیا اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں بستروں کے درمیان اتنا فرق ہوگا جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ ترمذی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : ” اور ان کی اونچائی اتنی ہوگی جتنی آسمان و زمین کے درمیان ہے اور دونوں کے درمیان فاصلہ پانچ سو برس کی راہ (کے برابر) ہے۔ “ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ ترمذی نے لکھا ہے کہ بعض اہل علم نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : درجہ میں دونوں بستروں کا تفاوت اتنا ہوگا جتنا زمین و آسمان کا تفاوت ہے۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ اگر سب سے اونچا فرش سب سے نچلے فرش پر گرجائے تو چالیس برس میں نہ پہنچ سکے۔ طبرانی نے حضرت ابو امامہ ؓ کی مرفوع روایت سے بیان کیا کہ اگر سب سے اونچی بلندی سے فرش کو نیچے پھینک دیا جائے تو نیچے قرار گاہ تک سو برس میں پہنچے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک فرش سے مراد ہیں (بستروں والیاں یعنی) عورتیں عرب عورتوں کو بستر اور لباس کہتے ہیں ‘ اس صورت میں مرفوعۃ کا معنی ہوگا حسن اور فضیلت میں دنیوی عورتوں سے اونچی یا مسہریوں پر ان کا اونچا ہونا۔ اس تفسیر کی تائید اگلی آیت سے ہوتی ہے۔
Ayah 56:35

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا

ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے اگر فرش سے مراد عورتیں ہوں تو ہُن کی ضمیر فرش کی طرف راجع ہوگی اور اگر فرش سے عورتیں مراد نہ ہوں تو مرجع مذکور نہ ہوگا کیونکہ سیاق کلام سے سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ عورتیں ہی مراد ہوسکتی ہیں۔ اِنْشَاءً : یعنی نئی تخلیق کی یا بغیر طریق ولادت کے ابتدائی تخلیق کی یا دوبارہ تخلیق کی۔
Ayah 56:36

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

تو ان کو کنواریاں بنایا

یعنی انکو اس طور پر بنایا کہ وہ کنواری ہیں اگر فرش سے مراد عورتیں ہوں تو ہُن کی ضمیر فرش کی طرف راجع ہوگی اور اگر فرش سے عورتیں مراد نہ ہوں تو مرجع مذکور نہ ہوگا کیونکہ سیاق کلام سے سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ عورتیں ہی مراد ہوسکتی ہیں۔ اِنْشَاءً : یعنی نئی تخلیق کی یا بغیر طریق ولادت کے ابتدائی تخلیق کی یا دوبارہ تخلیق کی۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد وہ بوڑھی عورتیں ہیں جن کے کچھ بال سفید اور کچھ سیاہ ہوں ‘ اللہ ان کی پیری کے بعد از سر نوجوان کر دے گا۔ اَبْکَارًا : کنواریاں ‘ جب ان کے شوہر ان کے پاس جائیں گے ‘ ان کو دوشیزہ پائیں گے اور کوئی دکھ نہ ہوگا۔ سعید بن منصور اور بیہقی نے شعبی کی روایت سے اور ترمذی و بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اِنَّا اِنْشَاْنَا ہُنَّ اِنْشَآءً کی تشریح میں فرمایا : وہ بوڑھی عورتیں جو دنیا میں کھچڑی بالوں والی تھیں اور ان کی آنکھوں سے چیپڑ بہتے تھے (ان کو اللہ از سرِ نو ابکار کر دے گا) ۔ ا بن جریر اور بیہقی کا بیان ہے کہ حضرت مسلمہ بن یزید نے بیان فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : اِنَّا اِنْشَاْنَا ہُنَّ اِنْشَآءً (ان سے مراد ہیں) وہ عورتیں جو دنیا میں بوڑھی اور ابکار تھیں۔ بیہقی اور ابن المنذر نے حسن کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت میں کوئی بوڑھی عورت داخل نہ ہوگی۔ یہ سن کر ایک بڑھیا رونے لگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کو بتادو کہ وہ اس روز بڑھیا نہ ہوگی ‘ جوان ہوگی ان شاء اللہ۔ اللہ فرماتا ہے : اِنَّا اِنْشَاْنَا ہُنَّ اِنْشَآءً ۔ بیہقی نے حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے ‘ اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا بیٹھی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : میری ایک خالہ ہے۔ فرمایا : جان لو کہ کوئی بوڑھیا جنت میں داخل نہ ہوگی۔ بوڑھیا کو یہ سن کر وہ (غم پیدا) ہوگیا ‘ جو اللہ نے چاہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ فرماتا ہے : . اِنَّآ اَنْشَانَا خَلْقًا اٰخَرَ :۔ طبرانی نے الاوسط میں دوسری سند سے حضرت عائشہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک بوڑھی عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ دُعا فرمائیے کہ اللہ مجھے جنت میں داخل فرما دے ‘ فرمایا : جنت میں کوئی بوڑھیا داخل نہیں ہوگی۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے کہا : آپ ﷺ کے کلام سے اس کو دکھ اور تکلیف پہنچی۔ فرمایا : انشاء اللہ یہ بات ایسی ہی ہوگی ‘ جب اللہ ان کو داخل کرنا چاہے گا تو ان کو (یعنی بوڑھی عورتوں کو) دوشیزہ بنا کر داخل فرما دے گا۔ مقاتل وغیرہ نے کہا : ان سے مراد (عورتیں نہیں ہیں بلکہ) حوریں ہیں ‘ ان پر ولادت کا بار نہیں پڑا۔ اللہ نے ان کو کنواریاں ہی پیدا کیا اور کوئی دکھ وہاں نہیں ہے۔
Ayah 56:37

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر

محبوبہ ہیں ‘ ہم عمرہیں عُرُبًا : یہ عروب کی جمع ہے۔ شوہروں کی شیفتہ اور حبیبہ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت جعفر بن محمد کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے غُرْبًا کی تشریح میں فرمایا : ان کا کلام عربی ہوگا۔ اَتْرَابًا : ہم عمر۔ بیہقی کا بیان ہے کہ حضرت امّ سلمہ ؓ نے فرمایا : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! عربًا اترابًا کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا : دنیا میں جو بوڑھی عورتیں کھچڑی بالوں والی اور آنکھوں سے چیپڑ بہنے والی ہوں گی ‘ اللہ ان کو اس بڑھاپے کے بعد (قیامت کے دن جب) پیدا کرے گا تو ان کو کنواری بنا دے گا۔ عُرُبًا : یعنی محبوبہ (شوہر کو پیاری) اترابًا : ہم عمر۔ سب 33 برس کی ہوں گی اور ان کے شوہر بھی اسی عمر کے ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے اس وقت برہنہ بدن ‘ بےریش و بروت ‘ گورے رنگ کے اور گھونگھریالے بالوں والے ہوں گے۔ سب 33 سال کی عمر کے ہوں گے۔ سب آدم ( علیہ السلام) کے قد پر ہوں گے۔ لمبائی ساٹھ ہاتھ ‘ چوڑائی سات ہاتھ۔ (رواہ احمد والطبرانی فی الاوسط و ابن ابی الدنیا والبغوی بسند حسن) حضرت ابو سعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا والوں میں سے جو بھی بچپن میں مرجائیں گے یا بوڑھے ہو کر (بہرحال) ان کو دوبارہ 33 برس کا کر کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس سے زیادہ کبھی بھی نہ ہوں گے اور دوزخی بھی ایسے ہی ہوں گے۔ (رواہ الترمذی و ابو یعلی و ابن ابی الدنیا) حضرت معاذبن جبل ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہوں گے ‘ برہنہ بدن ‘ بےریش و بروت ‘ سرمگیں چشم ‘ 33 سال عمر۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنتی جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا قد آدم کے قد کے برابر ساٹھ ہاتھ (یعنی شاہی گز) اور حسن یوسف جیسا اور عمر عیسیٰ کی پیدائش کے برابر (عیسیٰ کے دنیا میں رہنے کی ابتدائی عمر) یعنی 33 سال کی ہوگی اور ان کی زبان محمد ﷺ کی زبان ہوگی۔ برہنہ بدن ‘ بغیر ڈاڑھی مونچھ کے سرمگیں چشم ہوں گے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط بسند جید) حضرت مقداد ؓ بن اسود کی مرفوع روایت ہے کہ لوگوں کا حشر اس عمر میں ہوگا جو پیٹ سے گرنے والے بچے اور پیر فانی کے درمیان ہوتی ہے یعنی 33 سال کی عمر اور جسمانی بناوٹ (اہل جنت کی) آدم جیسی اور حسن یوسف ( علیہ السلام) کا اور دل ایوب ( علیہ السلام) کا ہوگا۔ (رواہ الطبرانی)
Ayah 56:38

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لئے

دائیں طرف والوں کیلئے لِاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ : اس کا تعلق انشانا سے ہے یا جعلنا سے یا یہ ابکار اً کی صفت یا مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی : ہُنَّ لِاَصْحَابِ الْیَمِیْنِ ۔
Ayah 56:39

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(یہ) بہت سے اگلے لوگوں میں سے ہیں

ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا
Ayah 56:40

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور بہت سے پچھلوں میں سے

اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا۔ یعنی اسی امت کے متقدمین (پہلے لوگوں) میں سے بہت سے اور اسی امت کے متاخرین (پچھلے ‘ بعد کو آنے والے لوگوں) میں سے بہت۔ ابو العالیہ ‘ مجاہد ‘ عطاء بن ابی رباح اور ضحاک نے آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ بغوی نے سعید بن جبیر کے حوالہ سے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں سب کے سب میری امت میں سے ہوں گے۔ مسدد نے مسند میں اور طبرانی و ابن مردویہ نے حضرت ابوبکر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ کی تشریح میں فرمایا : دونوں (یعنی اوّلین و آخرین) سب میری امت میں سے ہونگے۔ دارقطنی نے اس حدیث کو معلل کہا ہے اور صراحت کی ہے کہ ابوبکرہ ؓ کی حدیث کا ثبوت نہیں ہے۔ اس تفسیر پر آیت کے مفہوم کا مقتضا یہ ہوگا کہ یہ امت کبھی بھی اصحاب الیمین سے خالی نہ ہوگی۔ (یعنی قیامت کے جو اصحاب الیمین ہوں گے وہ اس امت میں ہر زمانہ میں کم و بیش موجود رہیں گے) ۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت معاویہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا رہے گا جو اللہ کے حکم پر قائم ہوگا ‘ ان کی مدد نہ کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کو ضرر نہ پہنچا سکیں گے ‘ یہاں تک کہ اسی حالت میں اللہ کا حکم آجائے گا۔ (یعنی قیامت برپا ہوجائے گی) ۔ ایک شبہ بغوی نے عروہ بن رویم کی مرسل حدیث بیان کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر آیت : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ نازل ہوئی ‘ تو حضرت عمر ؓ اس آیت کو سن کر رو دیئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے اور ہم نے اللہ کے رسول کی تصدیق کی لیکن ہم میں سے نجات پانے والے تھوڑے ہوں گے۔ اس پر آیت : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے حضرت عمر کو طلب فرمایا اور ارشاد فرمایا : اللہ نے تمہارے قول کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم اپنے رب سے اور اس کے رسول ﷺ کی تصدیق سے راضی ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : آدم سے لے کر ہمارے دور تک (سب ملا کر) ایک ثلہ ہوگا اور مجھ سے شروع ہو کر قیامت تک ایک ثلہ ہے (یعنی الاوّلین سے مراد وہ امتیں ہیں جو آدم سے شروع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئیں ‘ اصحاب الیمین کا ایک بڑا گروہ تو ان کے مجموعہ میں سے ہوگا اور الآخرین سے مراد ہے ‘ امت محمدیہ ‘ تنہا اس امت میں سے ایک بڑا گروہ اصحاب الیمین کا ہوگا) اور اس کا خاتمہ لا اِلٰہ الاّ اللہ کہنے والے ان (مؤمنین) حبشیوں پر ہوگا جو اونٹوں کے چرواہے ہوں گے۔ ابن ابی حاتم نے بھی عروہ کی یہ مرسل حدیث نقل کی ہے۔ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں لوساطت عروہ بن رویم حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے اور امام احمد اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے بعض مجہول راویوں کی سند سے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب آیت : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ آیت بہت شاق گزری ‘ اس پر آیت : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ نازل ہوئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اوّلین سے مراد ہیں ‘ سابق امتیں حضرت آدم ( علیہ السلام) سے رسول اللہ ﷺ تک ..... میں کہتا ہوں ‘ دونوں حدیثوں میں تعارض قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آدم سے میرے دور تک ایک بڑا گروہ ہے اور مجھ سے لے کر قیامت تک ایک بڑا گروہ ہے۔ یہ فرمان دوسرے قول کے منافی نہیں ہے ‘ جس میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ دونوں میری امت میں سے ہوں گے کیونکہ وہ ثلہ جس کو امت محمدیہ قرار دیا گیا ہے اور صراحت کی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سے شروع ہو کر قیامت تک رہے گا ‘ ہوسکتا ہے کہ اس کے دو حصے ہوں : ایک کثیر گروہ متقدمین امت کا اور ایک کثیر گروہ متاخرین امت کا اور ایک آیت میں مراد یہی دونوں گروہ ہوں ( رسول اللہ ﷺ سے پہلے کی امتیں مراد نہ ہوں نہ الاوّلین سے نہ الآخرین سے) ۔ مزید شبہ اگر الاوّلین اور الآخرین سے مراد اسی امت کے دو حصے ہیں (یعنی متقدمین امت اور متاخرین امت) تو آیت : قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ کو سن کر حضرت عمر ؓ کے رونے کی کیا وجہ تھی اور مسلمانوں پر اس آیت کا مضمون کیوں شاق گزرا۔ ازالہ حضرت عمر ؓ اور دوسرے مسلمانوں کے دلوں میں متاخرین امت کے لیے قلیل کا لفظ سن کر ایک رقت پیدا ہوئی اور انہوں نے سمجھا کہ اس امت کے پچھلے حصہ میں نجات پانے والے کم ہوں گے اسی وجہ سے جب آیت : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ نازل ہوئی تو ان کو تسلی ہوگئی اور وہ سمجھ گئے کہ اہل قرب اگرچہ کم ہوں گے لیکن اصحاب الیمین بہرحال بہت ہوں گے۔ متقدمین امت میں بھی اور متاخرین امت میں بھی۔ ثواب کا وعدہ اللہ نے سب سے کر رکھا ہے۔ آیت : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ سے آیت : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ منسوخ نہیں ہے کیونکہ یہ خبر ہے اور خبر میں نسخ جاری نہیں ہوتا۔ ایک خبر دوسری خبر سے منسوخ نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ منسوخ ہونے کے لیے محل کا ایک ہونا ضروری ہے اور یہاں محل ایک نہیں ہے۔ اوّل آیت : (یعنی قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ) مقربین کے متعلق ہے اور دوسری آیت (یعنی ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ) میں اصحاب الیمین مراد ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ الاوّلین سے مراد ہوں تمام انبیاء کے صحابی اور ان کے تابعی۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور تابعی بھی داخل ہیں کیونکہ یہ لوگ آئندہ اتباع کرنے والوں سے سابق اور اوّل تھے۔ اس کی تائید کر رہی ہے آیت : وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍٍ اور اَ لْاٰخِرِیْنَ سے مراد ہوں قیامت کے قریب آنے والے۔ اس امت کے افراد اس طرح اہل قرب تو تھوڑے سے ہوں گے اور اصحاب الیمین اس امت میں بھی بہت ہوں گے اور دوسری امتوں میں بھی ‘ اس کی تائید ہوتی ہے رسول اللہ کے اس قول سے کہ میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت میں آدھے ہو گے اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ اسّی صفیں تمہاری ہوں گی اور چالیس صفیں باقی امتوں کی۔ بخاری کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ایک روز رسول اللہ ﷺ برآمد ہوئے اور فرمایا : میرے سامنے تمام امتیں لائی گئیں اور ان کے ساتھ ان کے انبیاء گزرتے رہے تو کسی نبی کے ساتھ ایک ہی آدمی (یعنی امتی) تھا ‘ کسی نبی کے ساتھ دو آدمی ‘ کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت اور کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا ‘ پھر میں نے اتنی کثیر جماعت دیکھی کہ اس نے آفاق سماء کو بند کردیا تھا اور مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستّر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں چلے جائیں گے یہ وہ مؤمن ہوں گے جو فال نہیں لیتے ‘ منتر نہیں پڑھتے ‘ داغ نہیں لگاتے اور اپنے رب پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ حضرت عکاشہ ؓ بن محصن یہ سن کر آگے بڑھے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میں ان میں سے ہوں ؟ فرمایا : ہاں ! اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا : کیا میں ان میں سے ہوں ؟ فرمایا : اس میں عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا۔ بغوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رات میرے سامنے انبیاء مع اپنے متبعین کے لائے گئے ‘ یہاں تک کہ موسیٰ بنی اسرائیل کے ہجوم کے ساتھ میرے سامنے آئے ‘ میں نے ان کو دیکھ کر تعجب کیا اور عرض کیا : اے میرے رب ! یہ کون ہیں ؟ کہا گیا : یہ تمہارے بھائی موسیٰ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں ‘ میں نے عرض کیا : اے میرے ربّ ! میری امت کہاں ہے ؟ جواب دیا گیا : اپنی دائیں طرف دیکھو (میں نے دیکھا) تو مکہ کی زمین لوگوں کے چہروں سے (یعنی سروں سے) بھری نظر آئی ‘ کہا گیا : یہ آپ کی امت ہے ‘ کیا تم خوش ہوئے ؟ میں نے عرض کیا : اے میرے ربّ ! میں راضی ہوں ‘ کہا گیا : اپنے بائیں جانب دیکھو ‘ میں نے دیکھا تو لوگوں کے چہروں کی کثرت اتنی تھی کہ افق بند ہوگیا تھا ‘ کہا گیا یہ تمہاری امت ہے ‘ کیا تم راضی ہو ؟ میں نے عرض کیا : اے میرے ربّ ! میں راضی ہوں۔ کہا گیا کہ ان کے ساتھ ستّر ہزار اور ہوں گے جو بلا حساب جنت میں جائیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اگر تم ان ستّر ہزار میں شامل ہوسکتے ہو تو ہوجاؤ اور اگر نہیں ہوسکتے اور (ان میں شامل ہونے سے) قاصر ہو تو دائیں والوں میں سے ہوجاؤ اور اگر ان میں شامل ہونے سے بھی قاصر ہو تو افق (بند کرنے) والوں میں سے ہوجاؤ کیونکہ میں نے وہاں بہت سے لوگوں کو مخلوط (کچھ اچھے ‘ کچھ برے عمل والے) دیکھا تھا۔