56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsسراج البیان

Ayahs 56:1–5

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب ہونے والی ہو پڑے گی

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

وہ پست اور بلند کردینے والی ہے

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین کپکپاکر لرزنے لگے

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں

سورة الواقعۃ قرآن حکیم میں قیامت کے مختلف نام آئے ہیں ۔ کہیں اس کو اقاعۃ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ کہیں القارعۃ کہا گیا ہے ۔ کبھی الحاقۃ سے موسوم ہے ۔ اور کبھی الواقعہ کی صفت سے متصف ۔ کیونکہ اصل غرض یہ ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو روشن کیا جائے ۔ اس لحاظ سے کہ اس کے آنے کا ایک وقت مقرر ہے ۔ وہ افسانہ ہے ۔ یعنی متعین گھڑی ۔ اور اس لحاظ سے کہ وہ عالم وجود میں تہلکہ مچانے والی ہے ۔ القارعۃ ہے ۔ اسی نسبت سے کہ اس کا تحقق مقدرات میں سے ہے ۔ الحاقۃ کہا جاتا ہے ۔ الواقعہ کے معنے یہ ہونگے ۔ کہ تحقق خارج میں ضرور واقعہ ہوگا ۔ اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔ فرمایا ۔ جب یہ گھڑی آموجود ہوگی ۔ تو اس وقت کئی اکڑی ہوئی گردنیں جھک جائیں گی ۔ اور کئی جھکتے ہارے سر بلند ہوجائیں گے ۔ جو لوگ دنیا کے مال ومتال میں مست تھے ۔ جو آنکھ اٹھا کر بھی حق وصداقت کی طرف نہیں دیکھتے تھے ۔ کبروغرور میں ہر چیز کو بھول چکے تھے ۔ چلتے تھے ۔ تو یوں کہ محشر بپا ہو ۔ اور بیٹھتے تو اس طرح کہ مسند عزت وفخران کے قدم لیتی ۔ وہ آج پستی اور ذلت کی حالت میں سرفگندہ اللہ کے حضور میں کھڑے ہونگے ۔ ان کا سارا غرور اور نازخاک میں مل جائے گا ۔ اور ان کو معلوم ہوجائیگا ۔ کہ اللہ کے ہاں سرفرازی ۔ ان لوگوں کیلئے ہے ۔ جو دل کے عاجز ہیں جن کی طبیعت میں سچائی کی قبولیت کی استعداد ہے ۔ اور جن کو دنیا میں نہایت ذلیل سمجھا جاتا تھا ۔ جن کو ہذف مذاق بنایا جاتا تھا ۔ جن کی مخالفت کی جاتی تھی جن کو زندگی کی تمام آسودگیوں سے محروم سمجھا جاتا تھا ۔ جن کے متعلق رائے تھی ۔ کہ ان میں ارتقاء اور ترقی کی اصلاً کوئی صلاحیت موجود نہیں ۔ اور جن کو جنوں اور خلل دماغ کے عارضے سے متہم کیا جاتا تھا ۔ آج ان کا مقام بلند ہوگا ۔ آج یہ کامیاب ہونگے ۔ اور ان کو خدا کی رضا کا مقام میسر ہوگا قبع یہ ان لوگوں میں سے ہونگے ۔ جن میں تنومند اور پاکیزہ ترین روح ہوتی ہے ۔ آج ان کا شمار ان حضرات میں ہے ۔ جن کی نگاہیں دور رس تھیں ۔ جنہوں نے دنیا میں رہ کر عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق صحیح رائے قائم کی ۔ حل لغات :۔ رجا ۔ تزلزل پیدا کرنا لھا ۔ ریزہ ریزہ کرنا ھباء ۔ غبار
Ayahs 56:6–11

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر اڑتا ہوا غبار (ف 1) ہوجائیں

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم آدمی تین قسم کے ہوجاؤ

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

پھر دہنی طرف والے ۔ کیا ہیں داہنی طرف والے ؟

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں طرف والے کیا ہیں بائیں طرف والے ؟

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو آگے بڑھنے والے ہیں تو آگے بڑھنے والے ہی ہیں

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی لوگ مقرب ہیں

ف 1: فرمایا : اعمال کے لحاظ سے آخرت میں انسانوں کے تین درجے ہونگے ایک تو وہ جو صاحب لین وسعادت ہوں گے ۔ ان کی داہنی طرف رکھا جائے گا ۔ دوسرے وہ جن کے حصہ میں نحوست وبدبختی آئے گی ۔ ان کو بائیں طرف جگہ دی جائے گی ۔ تیسرے گروہ والے سابقین میں سے ہوں گے ۔ یعنی ہر خیر و برکت کی بات میں آگے ۔ ہر نیکی کی طرف سبقت کرنے والے ۔ اور ہر اصلاح وتقویٰ کے معاملہ میں پیش رو ۔ یہ لوگ اللہ کے مقرب ہوں گے ، ان کے درجے بلند ہونگے ۔
Ayahs 56:12–21

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمت کے باغوں (ف 1) میں

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

پہلوں میں سے ایک انبوہ ہے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے ہیں پچھلوں میں سے

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

جڑاؤ تختوں کے اوپر

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

ان کے آمنے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہیں

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

سدارہنے والے لڑکے ان کے پاس لئے پھرتے ہیں

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

آنجورے اور کو زے اور نتھری شراب کے پیالے

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

اس سے نہ سر دکھے گا اور نہ بکواس لگے گی

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جیسے وہ پسند کریں

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا چاہیں

اہل جنت کی زندگی 1: دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات نفس پر ضبط واقتدار رکھتے ہیں اور اپنے تمام رجحانات ، العذاہ اللہ کے تابع کردیتے ہیں ۔ ان کے لیے وہاں کامل سامان تعیش فراہم ہوگا ، ان کو یہ بتایا جائیگا کہ اگر دنیا میں تم لوگ ان لذات کو چھوڑ دو ۔ اور صرف ان لذتوں کے درپے رہو ۔ جن کا حصول جسم اور روح کی مسرتوں میں اضافہ کردینے کا باعث ہوتا ہے ۔ تو یہ سب چیزیں تمہیں فراوانی اور کمال کے ساتھ یہاں ملیں گی ۔ چنانہچ یہ دیکھو کہ دنیا میں شراب ممنوع اور حرام ہے ۔ کیونکہ یہاں یہ ناقص ہے ۔ تمہارے دل و دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے ۔ نہیں بدحواس بنادیتی ہے ۔ تمہارے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے ۔ اور معاسی پر آمادہ کرتی ہے ۔ اور مضر بھی ہے ۔ اس کے استعمال سے اعضاء میں ڈھیل اور ضعف پیدا ہوجاتا ہے ۔ دل جگر اور امعاء میں قوت حیات باقی نہیں رہتی ۔ اولاد ضعیف اور نکمی پیدا ہوتی ہے ۔ مگر وہاں جو شراب ملے گی ۔ وہ ان تمام نقوص اور تکدرات سے پاک ہوگی ۔ اس کو تم آبخوروں اور آفتابوں میں پیو گے ۔ قدحوں کے قدحے چڑھاجاؤ گے ۔ مگر ذرا تکلیف محسوس نہ ہوگی ۔ نہ یہ ہوگا ۔ کہ عقل درست نہ رہے ۔ شراب کے ساتھ عمدہ گوشت حسب ذوق ملے گا ۔ حل لغات :۔ ازوجا ۔ اقسام ثلتۃ ۔ جماعت ۔ گروہ موضونۃ ۔ بنے ہوئے باکواب ۔ کو ب کی جمع ہے انجورہ اباریق ۔ اس کا واحدابریق آفتاب کاس ۔ شراب سے معمور قدحہ ۔