Ayah 56:1[ 1] قیامت قطعی طور پر ایک شدنی اور اٹل حقیقت :
سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ قیامت ایک شدنی اور ہوپڑنے والی اٹل حقیقت ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب واقع ہوجائے وہ واقع ہر کر رہنے والی۔ یعنی قیامت، وقع اور وقوع کے معنی گر پڑنے اور چوٹ لگانے کے آتے ہیں، قیامت کا وہ حادثہ جسے دوسرے مقام پر " الصاحتہ " اور " الطامۃ الکبری " بھی فرمایا گیا ہے، چونکہ انتہائی سخت اور نہایت شدید حادثہ ہوگا، اس لئے اس کو یہاں پر واقعہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، نیز وہ عظیم حادثہ جب وقوع پذیر ہوجائے گا تو وہ ایک ایسی واقع چیز ہوگی جس میں تعجب و انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی، اسی طرح جس طرح کہ آج ہم سورج چاند اور زمین کے ان عظیم الشان کروں کو اپنی آنکھوں سے موجود دیکھ رہے ہیں، اور ان سے متعلق کسی بھی طرح کا کوئی تعجب یا شک ہمیں لاحق نہیں ہوتا، کیونکہ یہ سب امور محسوس و مشاہد اور واقع ہیں، سو اسی طرح قیامت بھی اس وقت ایک حقیقت واقعہ کی صورت میں سب کے سامنے موجود ہوگی، اور سب ہی اس کو مان رہے ہوں گے کوئی اس کا انکار نہیں کرسکے گا، مگر اس وقت کے اس ماننے کا منکروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بہرکیف وہ ایک قطعی حقیقت اور ہو کر رہنے والی چیز ہے، جس نے منکرین کے انکار اور ان کے شبہات کے علی الرغم اپنے وقت پر بہرحال ہو کر رہنا ہے اور اس موقع پر ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
Ayah 56:2[ 2] قیامت کو کوئی جھٹلا نہیں سکے گا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز اس کے وقوع کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا۔ کہ کٹے سے کٹا کافر، اور پکے سے پکا منکر، بھی اس وقت اس کو ماننے پر مجبور ہوگا، کیونکہ وہ ایک محسوس و مبصر واقعہ ہوگا جو آنکھوں کے سامنے موجود ہوگا اس وقت کا ماننا کسی کافر و منکر کچھ کام نہ دے گا کیونکہ اس وقت کا وہ ماننا ایمان بالمشاہدہ ہوگا جب کہ اصل مطلوب ایمان بالغیب ہے جو کہ اس دنیا میں ماننے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے، سو کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ ایک خواہ مخواہ کا ہوا ہے جس سے یونہی ڈرایا جا رہا ہے نہیں بلکہ یہ ایک امر واقعہ ہے جس سے تم لوگوں کو بہرحال دو چار ہو کر رہنا ہے، سو اگر تم لوگ اپنی عاقبت اور اس کی بہبود چاہتے ہو تو اس کے لئے تیاری کرلو، ورنہ ہمیشہ کا پچھتاوا ہوگا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، کا ذبہ کے لفظ میں یہاں پر دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ یہ اسم فاعل ہو جیسا کہ ظاہر و متبادر ہے، یعنی اس وقت اس کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا، بلکہ سب ہی اس پر ایمان لے آئیں گی، اور اس کو مانیں گے کہ وہ ایک حقیقت واقعہ ہوگی جو سب کی آنکھوں کے سامنے اپنے تمام احوال و اہوال کے ساتھ موجود ہوگی جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ یہ لفظ عاقبہ اور عافیۃ وغیرہ کی طرف مصدر ہو [ محاسن التاویل وغیرہ ] اس کے وقوع میں کسی جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں وہو گی کہ وہ بہرحال ایک قطعی حقیقت ہے اور اس کا وجود وقوع و نقل دونوں کا بدبہی تقاضا ہے۔ والحمدللہ۔
Ayah 56:3[ 3] قیامت پست و بلند کرنے والی ہوگی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پست و بلند کردینے والی ہوگی۔ کہ ایمان و یقین اور عمل صالح کی دولت رکھنے والوں کو وہ بلند درجات اور اعلیٰ مراتب سے سرفراز کر دے گی، اگرچہ دنیا میں ان کو ابناء دنیا حقیر و ذلیل سمجھتے رہے ہوں، اور اس کے برعکس وہ لوگ جو کفر و شرک اور حجودو انکار وغیرہ کی گندگیوں میں ملوث و آلودہ رہے ہوں گے، ان کو وہ درکات جہنم کے حوالے کردی گی۔ خواہ دنیاوی زندگی میں وہ اپنے طور پر کتنے ہی بڑے کیوں نہ بنے رہے ہوں، سو یہی جھوٹی بڑائی جس کی بناء پر وہنور حق و ہدایت سے مھروم ہوئے تھے، اس دن ان کو وہاں لے ڈوبے گی، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو آج اگر کسی کو سربلندی حاصل ہے تو وہ اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ وہ اسے ہمیشہ حاصل رہے گی۔ وہاں کا معاملہ الگ اور مختلف ہوگا کہ وہاں فیصلہ انسان کے ایمان و عقیدے اور اس کے عمل و کردار پر ہوگا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayahs 56:4–6[ 4] زلزلہ قیامت کی تصویر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب لرز اٹھے گی یہ زمین تھر تھرا کر، اور یہ تمام فلک بوس عمارتیں، بلڈنگیں اور پختہ و مضبوط قلعے وغیرہ جن کو اہل دنیا ترقی کی معراج سمجھتے رہے تھے سب تہس نہس ہو کر رہ جائیں گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { اذا زلزلت الارض زلزالہا۔} نیز فرمایا گیا۔ { ان زلزلۃ الساعۃ شیئٌ عظیم } سو یہ قیامت کے اس ہولناک منظر اور انتہائی خوفناک زلزلے کی تصویر ہے کہ جب وہ واقع ہوگا تو ہلا مارا جائے گا اس زمی کو، یقینی زلزلہ قیامت کا وہ حادثہ کبریٰ کسی ایک ملک یا شہر یا کسی خاص خطہ زمین میں محدود نہیں ہوگا، بلکہ وہ پوری روئے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا جس سے زمین کے سب اونچ نچ کو برابر کردیا جائے گا اور یہ دیوہیکل اور فلک بوس پہاڑ جن کو ایسے منکر لوگ لافانی اور غیر متزلزل سمجھے بیٹھے ہیں۔ یہ سب اس روز غبار پریشان کی طرح اڑتے پھریں گے، اور یہ سب کچھ ایک چٹیل میدان بن کر رہ جائے گا اور ایسا کہ اس میں نہ کسی طرح کا کوئی اونچ ہوگا نہ نچ۔ جیسا کہ دسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { فیذرھا قاعاً صفصًا۔ لاترٰی فیہا عوجا ولا امنًا۔} [ طہٰ : 106-107 پ 16] کہ وہ اس کو ایک ایسا چٹیل میدان بنا کر رکھ دے گا جس میں نہ کوئی اونچ ہوگا نہ نیچ، سو اس روز سارے جہان رنگ وبو کو مٹا کر ایک ایسے نئے جہاں کی بنیاد ڈالی جائیگی جس کے قوانین ابدی اور سرمدی ہوں گے، جہاں انسان کو ابدی اور سرمدی ٹھکانہ ملے گا۔
Ayah 56:7[ 5] قیامت کے روز لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز تم سب لوگ بٹ کر تین گروہ ہوجاؤ گے۔ یعنی مقربین، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال، آگے ان تینوں کی تفصیل مذکو رہے۔ سو یہ اس خفض و رفع کی تفصیل ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے، کہ اس روز کتنے ہی خوش نصیبوں کو ان کے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی بناء پر بلند درضوں سے نوازا جائے گا اور کتنے ہی بدبختوں کو ان کے کفر و انکار اور اعراض و استکبار کی بناء پر ہولناک ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس روز کی وہ تقسیم اس دنیا کی طرف قوموں، قبیلوں اور دنیاوی جاہ و جلال اور امل و منال وغیرہ کے ان غیر اختیاری اور خود ساختہ فوارق و امتیازات کی بنا پر نہیں ہوگی جن کو اہل دنیا نے شعار بنا رکھا ہے بلکہ وہاں کی وہ تقسیم و تفصیل دراصل مبنی ہوگی انسان کے ایمان و یقین، اور اس کے عمل و کردار پر جتنا کسی کا ایمان و یقین مضبوط اور اس کا صدق و اخلاص زیادہ ہوگا اور اسکا عمل و کردار سچا ہوگا، اتنا ہی اس کا درجہ و مرتبہ بلند ہوگا اور جتنا کوئی اس دولت سے محروم اور بےبہرہ ہوگا، وہ اتنا ہی پست اور ذلیل ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین
Ayahs 56:8–9[ 6] اصحٰب المیمنۃ سے مقصود و مراد :
یعنی وہ لوگ جن کو ان کے نامہ ہائے اعمال دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، وہ عرش کی دائیں طرف ہوں گے اور یہ خوش نصیب وہی ہوں گے جن کو ازل میں آدم کی دائیں جانب سے نکالا گیا ہوگا، اور یہی خوش نصیب لوگ اصحاب یمن و برکت ہوں گے، جب کہ اصحاب شمال اس کے بالکل برعکس ہوں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سوداہنے ہاتھ والے کامیاب و کامران اور فائز المرام لوگ ہوں گے، اور نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں ملنا کامیابی کی نشانی ہوگی، اللہ نصیب فرمائے، اور ہمیں انہیں خوش نصیبوں میں سے بنائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، بہرکیف " اصحٰب المیمنۃ " سے مراد وہی خوش نصیب لوگ ہیں جن کو قیامت کے روز ان کے نامہ ہائے اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے جس کی تصریح خود قرآن حکیم میں دوسرے کئی مقامات پر فرمائی گئی ہے مثلاً سورة الحاقہ کی آیت نمبر 19 اور 20 میں ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے وہ خوش ہو ہو کر دوسروں سے کہیں گے کہ ذرا میرا نامہ اعمال پڑھئے گا میں دنیا میں ہمیشہ یہ اندیشہ رکھتا تھا کہ مجھے یقینا اپنے اعمال کے حساب سے دو چار ہونا ہے۔ سو یہ لوگ کامیاب اور فائز المرام ہوں گے۔ جعلنا اللّٰہ منھم بمحض منہ وکرمہٖ وھو ارحم الراحمین۔ واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
[ 7] اصحاب یمین کی عظمت شان کا ذکر وبیان :
سو اصحاب یمین کی عظمت شان کے اظہار کے لیے بطور قفحیم و استفہام ارشاد فرمایا گیا اور کیا کہنے ان داہنے بازو والوں کے۔ یعنی استفہام یہاں پر تفحیم و تعظیم کے لئے ہے، کہ وہ ایسی نعمتوں اور برکتوں میں ہوں گے جو بیان سے باہر ہیں، اور اس کے بالمقابل دوسرا استفہام بالکل اس کے برعکس تہویل و تفیح کے لئے ہے، یعنی بائیں بازو والے ایسے برے حال میں ہوں گے کہ اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، اور الفاظ و کلمات اس کا احاطہ نہیں کرسکتے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف ابہام استفہام و کا یہ اسلوب بیاں اس صورت میں اختیار کیا جاتا ہے جبکہ صورتحال اور حقیقت واقعہ الفاظ کے احاطے اور قیاس و گمان کی رسائی سے باہر اور مافوق ہو، سو داہنے بازو والوں کی شان و عظمت ان کے عیش جادواں، ان کی رفاہیت و خوشحالی، اور ان کی عالی مقامی، کے کیا کہنے، بھلا اس کی تفصیل کوئی کسی طرح بیان کرے اور ان کا صحیح اندازہ کوئی کس طرح کرسکتا ہے ؟ اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین، جبکہ اس کے برعکس اصحاب شمال کا معاملہ اس قدر ہولناک اور اتنا بھیانک ہوگا کہ الفاظ و کلمات اس کے احاطہء ذکر وبیان سے عاجز و قاصر ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 56:10[ 8] سابقین کی عظمت مرتبہ و مقام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور سبقت لے جانے والے سبقت لے گئے۔ یعنی جو دنیا میں ایمان و اطاعت اور نیکی و خیر کی طرف سبقت لے گئے ہوں گے، وہ وہاں پر جنت النعیم اور درالکرامۃ کی طرف سبقت لے جائیں گے، مسند امام احمد (رح) وغیرہ میں ام المؤمنین میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہء کرام ؓ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ جو قیامت کے روز اللہ کے سائے کی طرف سبقت لے جائیں گے ؟ تو حضرات صحابہء کرام ؓ نے حسب عادت ادب سے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں [ اللہ و رسولہ اعلم ] تو اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی صفت و شان [ دنیا میں ] یہ رہی ہوگی کہ جب ان کو حق دیا [ اور بتایا ] جائے، تو وہ اسے قبول کرتے ہیں، اور جب ان سے مانگا جائے تو دے دیتے ہیں، اور وہ لوگوں کیلئے ایسے ہی فیصلہ اور حکم کرتے ہیں، جیسا کہ وہ خود اپنے لئے کرتے ہیں یعنی وہ پورے عدل و انصاف سے کام لیتے ہیں [ ابن کثیر، قرطبی، اور مراغی وغیرہ ] سو انسان کی کامیابی اور ناکامی کا اصل دارومدار اس کے اپنے ایمان و اخلاق اور اس کے قلب و باطن پر ہے، نہ کہ محض ظواہر اور شکلیات پر، بہرکیف یہاں پر سابقون کی خبر سابقون ہی ذکر فرمائی گئی یعنی سابقون کے کیا کہنے اور انکے مرتبہ و مقام کا پوچھنا ہی کیا وہ تو سابقون ہی سابقون ہوئے۔ یعنی ان کے مرتبے کو کون جان یا پہچان سکتا ہے۔ وہ خوش نصیب تو وہاں پہنچیں گے جو انسانی شرف و مرتبہ کا آخری نقطہ ہوگا اور اس نقطہء کمال کا اندازہ بھلا اس عالم ناسوت میں کوئی کس طرح کرسکتا ہے ؟ اللہم فشرفنا بہ بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayahs 56:11–12[ 9] سابقین کی جزا اور ان کے صلے و بدلے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے، ان کے سبق الی الخیرات کے اس وصف کی بنا پر جس کو انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی کے اندر اپنائے رکھا ہوگا، سو اس سے معلوم ہوا کہ سبق الی الخیر [ نیکی کی طرف پہل کرنا ] سب سے اہم اور بنیادی وصف ہے جو مومن صادق کے اندر ہونا چاہئے اور جو ذریعہ و وسیلہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا، اللہ نصیب فرمائے، آمین، بہرکیف گل سرسبد اور سرخیل قافلہ کی حیثیت چونکہ انہی سابقون کی حاصل ہوگی اسلئے سب سے پہلے انہی کا مرتبہ و مقام اور صلہ و بدلہ بیان فرمایا گیا، سو ارشاد فرمایا گیا کہ مقربین کا درجہ انہی مقربین کو حاصل ہوگا اور ان کا ٹھکانہ جنت النعیم یعنی نعمتوں بھری جنتوں میں ہوگا اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 56:13[ 10] زمرہ مقربین میں شامل خوش نصیبوں کی نشاندہی :
سو زمرہ مقربین میں شامل ان خوش نصیبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ایک بڑا گروہ ہوگا اگلوں میں سے ہوگا [ ثلۃ ] کے معنی مطلق جماعت کے بھی آتے ہیں، اور بڑی جماعت کے بھی، مگر یہاں سیاق وسباق کے اعتبار سے اس سے مراد بڑی جماعت ہی ہے، پھر آگے اس کے مصداق کی تعیین حضرات اہل علم کے دو قول ہیں ایک یہ کہ یہاں پر اولین سے مراد پہلی امتوں کے لوگ ہیں، اور آخرین سے مراد اس امت کے لوگ، جب کہ دوسرا قول ہے کہ اس سے مراد اسی امت کے اولین و آخرین ہیں، جس کی مزید تفصیل اگلے حاشیے میں آرہی ہے، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مقربین کے اس مبارک و مسعور گروہ میں شامل ہونے کی سعادت کن لوگوں کو نصیب ہوگی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں ایک بڑی تعداد اگلوں کی ہوگی اور قلیل تعداد پچھلوں کی بھی۔ یہاں پر ثلۃ کے مقابلے میں چونکہ قلیل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسلئے اس قرینے کی بنا پر اس لفظ کو یہاں پر گروہ کثیر اور بڑی جماعت کے معنی میں لیا جائے گا جیسا کہ ابھی کچھ ہی اوپر اسی حاشیے کے شروع میں بھی گزرا۔ یعنی ان کی ایک بڑی جماعت پہلوں میں سے ہوگی کہ وہی حضرات سبق الی الخیرات کے مشرف رہے ہوں گے۔ وباللّٰہ التوفیق،
Ayah 56:14[ 11] زمرہ مقربین میں شامل پچھلوں کا ذکر وبیان :
سو زمرہ مقربین میں شامل دوسرے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تھوڑے سے پچھلوں میں سے ہوں گے۔ یہاں کثرت سے مراد پہلی امتوں کی کثرت ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد تو انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بھی ہوگی، اور ان کے خواص کی بھی، اور قلت سے مراد اس امت مسلمہ کی قلت ہے، پس امتوں کے خواص اس امت کے خواص سے زیادہ ہوں گے، اس قول کو بہت سے ثقہ علمائِ کرام نے اختیار کیا اور ترجیح دی ہے، جیسے ابن حریر الطبری، قرطبی، بیضاوی اور آلوسی وغیرہ، جب کہ دوسرا قول بعض دوسرے حضرات اہل علم کا اس بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد اسی امت کے اولین و آخرین ہیں، اور ابن کثیر وغیرہ حضرات نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ واللّٰہ اعلم بمراد کلام، سبحانہٗ و تعالیٰ ۔ البتہ دوسرے قول و احتمال کی تائید سورة حدید کی آیت نمبر 10 سے بھی ہوتی ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے اس کے بعد خرچ اور جہاد کیا باہم برابر نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور جہاد کیا ان کا درجہ ان لوگوں سے بہت بڑا ہے جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور جہاد کیا، اور یوں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں سے ہر گروہ کے ساتھ اچھائی اور بھلائی کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ { وکلا وعد اللّٰہُ الحسنی واللّٰہُ بما تعملون خبیرٌ} اور اللہ پوری طرح باخبر ہے تمہارے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ پس وہ ہر کسی کو اس عمل کے بدلے اور اس کی جزا سے نوازے گا کسی کی کوئی حق تلفی نہیں ہونے پائے گی۔ سو اس آیت سے دوسرے قول کی تائید ہوتی ہے۔ والعلم عند اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ۔
Ayah 56:15[ 12] مقربین کے کیف و سرور کی ایک جھلک کا ذکر وبیان :
سو اس سے مقربین کے جنت میں کیف و سرور کی ایک جھلک پیش فرمائی گئی ہے۔ چناچہ پہلے ان کی وہاں پر نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ براجمان ہوں گے وہاں پر سونے کی تاروں سے بنے ہوئے عظیم الشان تختوں پر " سررٌ " جمع ہے سریر کی، جیسے کتب جمع ہے کتاب کی اور تنوین تعظیم و تفحیم ہے، یعنی وہ تخت نہایت ہی عظیم الشان ہوں گے، اور ان کی عظمت شان کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ سونے کی تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، اور ان میں ہیروں اور موتیوں کا جڑاؤ کیا گیا ہوگا، جیسا کہ تمام ثقہ مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے، ای منسوجۃ من الذھب [ خازن، مدارک، محاسن، روح، ابن کثیر وغیرہ ] جبکہ دنیا میں ایسی نشست گاہیں بڑے سے بڑے بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ہونگی مگر شاذ و نادر سو جنت کی وہ بادشاہی حقیقی بادشاہی ہوگی، اور اس کی نعمتیں ابدی و سرمدی اور عدیم النظیر و بےمثال ہونگی۔ جعلنا اللہ من اہلہا بمحض منہ وکرمہ، وھو ارحم الراحمین، واکرم الاکرمین۔
Ayah 56:16[ 13] ان کے انداز نشست کا ذکر وبیان :
سو ان کے انداز نشست کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے جو کہ علامت ہے صحت جسم، اطمینان قلب اور فارغ البالی کی، جو کہ اللہ پاک کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ہیں، اور یہ چیز وہاں پر اہل جنت کو بدرجہء کمال نصیب ہوں گی، اللہ پاک نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے آمین ثم آمین، سو یہ خوش نصیب وہاں پر نہایت آرام و سکون اور امن و اطمینان کے ساتھ ان عظیم الشان تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، اور پھر ان کا یہ سرور و کیف عارضی اور وقتی نہیں ہوگا بلکہ ابدی و دائمی ہوگا جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر " خالدین فیہا " اور " خالدین فیہا ابدا " وغیرہ کلمات سے تصریح فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنی فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین
[ 14] وہ آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے :
سو اس سے ان کے باطن کی صفائی اور پاکیزگی کی ایک علامت کا ذکر فرما دیا گیا، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان عظیم الشان تختوں پر ٹیک لگائے کمال اطمینان کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے جو کہ علامت ہے دلوں کی صفائی اور کمال انس و محبت کی، کہ ان کے دلوں میں کس طرح کی رنجش اور کداوت نہیں ہوگی، کیونکہ دلوں میں اس طرح کے بوجھوں کا پایا جانا ایک تکلیف و آزار ہے، جس سے اہل جنت کو پاک صاف کردیا جائے گا، بلکہ دنیاوی زندگی میں جو اس طرح کی رنجشیں اور کدورتیں انکے اندر ہی ہوں گی وہاں ان کی بھی صفائی کردی جائے گی، اور ان کو ان کے دلوں سے نکال دیا جائے گا، جیسا کہ سورة حجر میں اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ { ونزعنا ما فی صدورھم من غل اخوانا علی سرر متقبلین } [ الحجر : 7 پ 14] یعنی کھینچ نکالا ہوگا ہم نے ان کے سینوں سے جو بھی کچھ کھوٹ کھپٹ ان کے اندر رہا ہوگا جس سے وہ بھائیوں کی طرح عظیم الشان تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم و ثابت رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 56:17[ 15] اہل جنت کے خودموں کی صفت کا ذکر وبیان :
سو ان مقربین اہل جنت کے خادموں کی صفت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے پس نہ وہ بوڑھے ہوں گے، اور نہ بگڑیں بدلیں گے، اور صحیح قول کے مطابق یہ جنت ہی کی ایک خاص مخلوق ہوگی، جن کو اہل جنت کی خدمت کے لئے بطور خاص پیدا فرمایا جائے گا، جیسا کہ حوریں کہ وہ بھی وہیں کی ایک خاص مخلوق ہوں گی، جسے اہل جنت کیلئے بطور خاص پیدا فرمایا جائے گا، [ خازن، ابن کثیر، مدارک وغیرہ ] بہرکیف اہل جنت کے خادم ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے، ان کی حیثیت دائمی خدام کی ہوگی اور مجلسی خدام کیلئے ایک خاص سن کے لڑکے ہی زیادہ موزوں، خوش آداب، اور مستعد و سرگرم خیال کیے جاتے ہیں، اسلئے ان کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایک سن کا رکھے گا، اور چونکہ مزاج شناس خادم اپنے آقا کی سب سے زیادہ بہتر طریقے سے خدمت کرسکتا ہے، اس لیے جو لڑکے انکے ساتھ لگا دئیے جائیں گے وہ برابر انہی کی خدمت میں رہیں گے۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 56:18[ 16] مقربین کی بےمثل شراب کا ذکر وبیان :
سو اس ان جنتیوں کی شرب کی صفت بیان فرمائی گئی ہے۔ سو وہاں کی وہ شراب بھی خاص قسم کی ہوگی جس سے نہ ان کو کسی طرح کا کوئی درد لاحق ہوگا، اور نہ ان کی عقلوں میں کسی طرح کا کوئی قصور و فتور آئے گا۔ یعنی وہاں کی شراب جو کہ شراط طہور ہوگی، دنیاوی شراب کی طرح انگوروں وغیرہ کا نچوڑ کر، اور ان کو گلا سڑا کر نہیں بنائی جائے گی، بلکہ وہاں اس کے ایسے عمدہ و صاف اور خاص قسم کے چشمے ہوں گے جن سے وہ اہل رہی ہوگی، اور ان چشموں سے وہ پاکیزہ جاموں کے اندر بھر بھر کر لائی جائے گی، اور بڑے ادب و احترام اور خاص اہتمام کے ساتھ ان کی خدمت میں پیش کی جائیگی اللہ نصیب فرمائے، " اکواب " جمع ہے " کو ب " کی، اور کپ [ Cup ] ایک ہی چیز ہے۔ " اباریق " جمع ہے " ابریق " کی جو کہ اصل میں فارسی کے لفظ آبریزے کا معرب ہے، اور آبریزہ کے معنی ہیں، وہ برتن جس سے پانی ڈالا جائے اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ جگ سے کیا ہے، اور اس لفظ کا استعمال اس ظرف و مظروف دونوں کے لئے آتا ہے، یعنی شراب اور جام شراب دونوں کے لئے، اور معین بھی خاص پانی اور خالص پانی کے چشمہ دونوں کے لئے آتا ہے، اور قرآن پاک میں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے اور شراب خالص کے ایک چشمے کے لئے بھی جو جنت میں ہے یہاں پر اسی مفہوم میں ہے، سو اہل جنت کی وہ شراب ایک ایسے خاص چشمے سے لائی جائے گی جو خاص شان کا مالک ہوگا اور وہ شراب بھی بڑی عمدہ اور خاص صفت و شان کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayahs 56:19–20[ 17] جنت کی شراب ہر عیب سے پاک :
سو ارشاد فرمایا گیا کہنہ تو اس سے ان کے سرچکرآئیں گے اور نہ ہی ان کی عقلوں میں کوئی فتور آئے گا، جیسا کہ دنیاوی شراب کا خاصہ و لازمہ ہے، کہ یہ خانہ خراب جو ہر عقل کی دشمن اور اس کو زائل کردینے والی ہے، اور انسان اس کے پینے سے ایسا دیوانہ اور مجنون بن جاتا ہے کہ بچے بھی اس پر ہنسنے لگتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ سو جنت کی وہ شراب طہور اس طرح کے تمام لوازم و اثرات سے پاک و صاف ہوگی، اللہ نصیب فرمائے آمین، سو جنت کی اس شراب سے شراب نوشی کا اصل فائدہ تو حاصل ہوگا یعنی سرور و نشاط، لیکن ان مضر اثرات سے وہ پاک اور صاف ہوگی جو کہ دنیاوی شراب کیلئے لوازم کی حیثیت رکھتے ہیں، اور وہ اس میں بہرحال پائے جاتے ہیں، دنیاوی شراب کی بدبو پہلے تو پیتے وقت پینے والے کے منہ کی شکل بگاڑ کر رکھ دیتی ہے اور پھر پینے کے بعد اس میں اعضاء شکنی، خمار، اور درد سر پیدا کرتی ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس سے انسانی عقل چلی جاتی ہے جو کہ انسان کا اصل جوہر اور مابہ الامتیاز ہے، اور جو ہر عقل کے ایک منٹ کا فتور نہ جانے انسان کو کیسی کیسی ہلاکتوں میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات اس سے خاندانوں کے خاندان اور قبیلوں کے قبیلے طرح طرح کی آفتوں اور مصیبتوں میں گھر جاتے ہیں، مگر جنت کی وہ شراب طہور ایسی ہر خرابی سے پاک ہوگی کہ وہ حضرت واہب مطلق جل جلالہ کی طرف سے ایک خاص انعام و اکرام کے طور پر اہل جنت کو پیش کی جائے گی۔ والحمدللہ جل و علا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 56:21[ 18] جنتیوں کے پھلوں اور پسندیدہ گوشت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے خادم ان کے سامنے ایسے پھل لے کر پیش ہوں گے جن کو وہ پسند کریں گے، اور پرندوں کا وہ گوشت بھی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ چناچہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ایک شخص ہوا میں اڑتے ہوئے ایک پرندے کو دیکھ کر اس کی خواہش کرے گا، تو وہ فوراً تیار اور بھنا بھنایا اس کے سامنے آموجود ہوگا، [ روح، ابن کثیر وغیرہ ] اور یہی تقاضا ہے۔ { الکم فیہا ما تشتھی انفسکم ولکم فیہا ما تدعون }، جیسی نصوص کریمہ کے عموم و شمول کا، اور یہی شایان شان ہے اس اکرم الاکرمین جل جلالہ کے کرم اور اس کی اس مہمانی کا، جو اس نے اپنے بندوں کیلئے تیار فرما رکھی ہے۔ اور جس کو اس نے اپنے کلام حکیم قرآن مجید میں [ نزل ] سے تعبیر فرمایا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرما دے۔ آمین ثم آمین، سو پھل اور وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق اور گوشت اور وہ بھی اپنی پسند کے مطابق، کھانے کی چیزوں میں سرفہرست ہیں ان کا ذکر آگیا تو گویا سب ہی نعمتوں کا ذکر آگیا۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔ آمین اور ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین
Ayah 56:22[ 19] اہل جنت کی حوروں کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لئے آہو چشم حوریں بھی ہونگی، اور حور کا یہ لفظ ماخوذ ہے حور سے جس کے معنی انتہائی سفیدی کے آتے ہیں، اور حوران جنت کی خاص صفت ہے، خواتین بنی آدم کے لئے اگر اس لفظ کا اطلاق ہوگا بھی تو اضافت کے ساتھ ہوگا۔ جیسے حور العیون وغیرہ، اور عین جمع ہے " عینایٔ " کی، جس کے معنی آتے ہیں بڑی گول اور سیاہ آنکھ والی، جو کہ انتہائی خوبصورت ہوتی ہے، اس لئے ہم نے ترجمہ کے اندر اسی حاصل معنی کو اختیار کیا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق وھو الی التوفیق ونعم المولیٰ ونعم النصیر سو کھانے پینے کی ساری نعمتیں ادھوری ہیں اگر ان میں بیوی شریک نہ ہو، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے مرد کے لئے سرمائی رحمت و سکون بنایا ہے۔ اسی لیے اہل جنت کو ایسی عظیم الشان حوریں بھی ملیں گی اور اسی لیے یہاں پر اکل و شرب سے تعلق رکھنے والی نعمتوں کے ذکر کے بعد ان کے لئے حوران جنت کی اس عظیم الشان نعمت کا ذکر فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو وہاں پر آہو چشم اور درمکنون کی طرح اچھوتی حوروں سے بھی نوازے گا اور یہ دو وصف ایسے عظیم الشان وصف ہیں جس کے اندر حوران جنت کے حسن ظاہر اور حسن باطن دونوں کے تمام پہلو جمع ہوگئے۔ جعلنا اللّٰہ من اہلہا بمحض منہ وکرمہ، وھو ارحم الراحمین، واکرم الاکرمین۔ جل جلالہ، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayah 56:23[ 20] حوران جنت کے ایک امتیازی وصف کا ذکر وبیان :
سو جنتیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے وہاں پر ایسی عظیم الشان حوریں ہونگی جو چھپا کر رکھے گئے موتیوں جیسی ہوں گے۔ یعنی صفائی اور عمدگی میں ایسی ہوں گی جیسے چھپا کر رکھے گئے موتی ہوتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ ان کی صفائی چھپا کر رکھے گئے اس موتی کی سی ہوگی جس کو کسی نے ہاتھ بھی نہ لگایا ہو، جیسا کہ حضرت ام سلمہ ؓ کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، [ صفوۃ وغیرہ ] سو جس طرح انسان دنیا میں اس شریک رنج و راحت کا محتاج ہے جس کے بغیر اس کی بزم سونی رہتی ہے، اسی طرح جنت میں بھی اس کی لذت ادھوری رہ جاتی اگر وہاں اس کو یہ شریک حیات میسر نہ آتی۔ اس لئے حضرت واہب مطلق جل جلالہٗ نے اس کو وہاں ایسی ایسی آہو چشم درمکتوں کی طرح اچھوتی اور پاک حوریں عطا فرمائے گا ان دو صفتوں کے اندر ان حوروں کے حسن ظاہر اور حسن باطن کے سارے پہلو جمع ہوگئے۔ جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرا، بہرکیف حوران جنت کو [ لؤلؤ مکنون ] سے تشبیہ دے کر ان کی امتیازی اور انفرادی شان کو واضح فرما دیا گیا کہ وہ ایسے چھپے موتیوں کی طرح ہونگی جن کو کسی نے ہاتھ نہ لگایا ہو، اور سورة صافات میں ان کو چھپا کر رکھے گئے انڈوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چناچہ وہاں پر ارشاد فرمایا گیا۔ { کانھن بیض مکنون } [ الصّٰفّٰت : 49 پ 23] اور سورة رحمان میں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ { فیہن قصرت الطرف لم یطمثھن انس قبلہم ولا جآن } [ الرحمن : 65 پ 27] کہا ہل جنت سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا اور نہ کسی جن نے۔ سو وہ بالکل اچھوتی اور نرالی شان کی ہوں گی جن سے اہل جنت کو نوازا اور سرفراز فرمایا جائے گا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 56:24[ 21] اہل جنت کیلئے ایک خوش کن اعلان کا ذکر وبیان :
سو اہل جنت کو اس اعلان خوش کن سے نوازا جائے گا کہ ان کو یہ سب کچھ ان کے ان اعمال کے بدلے میں ملے گا جو یہ کرتے رہے تھے یعنی اپنی دنیای زندگی کی فرصت محدود میں۔ سو جنت تو دراصل اللہ پاک کے خاص الخاص کرم اور محض اس کی مہربانی سے عطا ہوگی، مگر اس عطاء و بخشش اور مہربانی کا سبب ان حضرات کے وہ اعمال صالحہ ہوں گے جو انہوں نے اپنی زندگیوں میں انجام دیے ہوں گے، اس لیے اس اکرم الاکرمین کی طرف سے اس کو ان کے ان اعمال کا صلہ و بدلہ قرار دیا جائے گا، تاکہ اس طرح ان کا لفط و سرور دوبالا ہو، فالحمد للّٰہ رب العالمین، انسان کی چونکہ فطرت یہ ہے کہ جو چیز اس کو اپنے حق کے طور پر حاصل ہوتی ہے اس کی قدر و قیمت اس کے یہاں خاص طور پر زیادہ ہوتی ہے، نسبت اس چیز کے جو اس کو اتفاقاً حاصل ہوجائے، یا مفت بطور صدقہ ملی ہو، اس لیے اہل جنت کو وہاں پر اس صدائے دلنواز سے نوازا جائے گا کہ یہ سب کچھ تمہارے اپنے اعمال کا صلہ و بدلہ ہے جو تم لوگ اپنی دنیاوی زندگی میں کرتے رہے تھے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے۔
Ayah 56:25[ 22] لغو اور بےکار باتوں سے حفاظت و پناہ کا ذکر وبیان :
سو اس سے جنتیوں کے عیش بےغل و غش کے ایک اور نمونے اور مظہر کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ کوئی لغو اور بےکار بات نہیں سنیں گے، اور نہ ہی کوئی گناہ میں ڈالنے والی بات، معلوم ہوا کہ بےکار باتیں کرنا معیوب شئی اور برائی ہے، اسی لئے اہل جنت کے اس سے محفوظ ہونے کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا، سو لغو اور و تاثیم دونوں چیزیں انسان کیلئے اذیت اور عذاب کا باعث بنتی ہیں اور پھر اس سے متاع وقت کا جو ضیاع ہوتا ہے وہ اور بھی خسارہ و نقصان ہے، مگر افسوس کہ آج کتنی ہی دنیا ہے جو اس مرض میں مبتلا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اہل جنت دنیا میں دشمنوں کی جو دلآزار باتیں سنا کرتے تھے، وہ انہوں نے ان لیں، اب وہاں کے اس بےغل و غس عبش اور بےمثال پرسکون ماحول میں ان کو کامل امن وامان اور سکون و اطمینان نصیب ہوگا، اللہ نصیب فرمائے آمین، بہرکیف اس سے ان خوش نصیبوں کے عیش بےغل و غش کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ پس وہ وہاں پر نہ کوئی بےہودہ اور دل آزار بات سنیں گے اور نہ کسی بکواسی کی کوئی بکواس، بلکہ وہاں پر دلنواز باتیں اور خوشنوا صدائیں ہی ان کو سننے کو ملیں گے۔ اللہ نصیب فرمائے آمین اور محض اپنے فضل و کرم اور رحمت و عنایت سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، یاذالجلال والاکرام جل وعلا،
[ 23] " تاثیمًا " سے حفاظت کا ذکر وبیان :
اس سے تصریح فرمادی گئی اور وہاں پر کوئی گناہ کی بات بھی نہیں سنیں گے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اور نہ ہی وہ وہاں پر کوئی گناہ میں ملوث کرنے والی بات سنیں گے۔ یعنی کوئی ایسی بات جو گناہ میں ڈالنے والی ہو، جیسے جھوٹ، غیبت اور اتہام وغیرہ، سو نہ وہاں پر کسی بکواس کرنے والے کی کوئی بکواس ان کو سننا پڑے گی، اور نہ ہی کوئی گناہ کی بات انکے کان میں پڑے گی، سو یہ بات جنت کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ جس کو قرآن حکیم کے مختلف مقامات پر ذکر فرمایا گیا ہے مثلاً سورة غاشیہ میں ارشاد ہوتا ہے۔ { فی جنۃٍ عالیۃٍ لا تسمع فیہا لاغیۃً ۔ [ الغاشیۃ : 10-11 پ 30] یعنی وہ خوش نصیب ایسی عظیم الشان جنت میں ہوں گے جس میں ان کو کوئی لغو اور بےہودہ بات انہیں نہیں سننا پڑے گی۔ سو ان کے کان وہاں پر بےہودگی، یا وہ گوئی، جھوٹ، چغلی، گالی گلوچ، طنز و تمسخر، اور طعن وتشنیع وغیرہ کی بات سننے سے محفوظ ہوں گے۔ وہاں کا وہ پاکیزہ معاشرہ ایسی تمام لغویات سے پاک اور محفوظ ہوگا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنت کا وہ معاشرہ ماحول کتنا پاکیزہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین
Ayah 56:26[ 24] اہل جنت کیلئے سلامتی ہی سلامتی کی دعاؤں اور صداؤں کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہاں پر سلامتی ہی کی صدائیں ہونگی جو سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہونگی۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ وہاں تو سلامتی ہی سلامتی کی آواز سنائی دے گی۔ یعنی سلامتی والی بات جو کہ ہر طرح کے نقص و عیب اور آزار و ایذاء سے خالی اور پاک ہوگی۔ نیز سلامتی کی وہ دعائیں اور صدائیں بھی جو کہ وہ خود بھی آپس میں ایک دوسرے کے لئے کریں گے اور فرشتوں کی طرف سے بھی ان کو سننے کے لئے ملیں گی اور حضرت رب رحیم و غفور کی طرف سے بھی ان کو نوازا جائے گا۔ { سلامٌ قولاً من رب رحیمٍ ۔ سو صبح و شام ہر وقت وہاں پر سلامتی ہی سلامتی کی صداہائے دلنواز سننے کو ملیں گی، اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین " سلاما سلاما " کا تکرار تکثیر و تاکید کیلئے ہے یعنی ایسی سلامتی والی آوازیں ان کو بکثرت اور بار بار سننے کو ملیں گی۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے " قرات الفقہ باباً باباً } [ محاسن التاویل، وغیرہ ] اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، جل و علا،
Ayah 56:27[ 25] اصحٰب الیمین کی جنت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور دائیں بازو والے، کیا کہنے دائیں بازو والوں کے ؟ اصحاب یمین یعنی دائیں بازو والوں کی عظمت شان کے بارے میں یعنی وہ وایسی عظیم الشان نعمتوں اور کیفیات سے سرفراز و سرشار ہوں گے جو احاطہ ذکر وبیان سے باہر ہیں بہرکیف مقربین کے ذکر کے بعد اب یہ ابرار کا ذکر فرمایا جا رہا ہے، یہ وہی حضرات ہیں جن کا ذکر اوپر " اصحٰب المیمنہ " کے الفاظ سے کیا گیا ہے، سو " اصحٰب الیمین " اور " اصحٰب المینہ " کا مفہوم ایک ہی ہے، یعنی وہ خوش نصیب حضرات جن کا ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے، اور جو کامیاب اور فائز المرام لوگ ہوں گے اور " ما اصحٰب الیمین " کا مفہوم وہی ہے جو اوپر گزرا۔ یعنی کلمہ ما تعظیم و تفحیم کے لئے ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، جل شانہ وعم نوالہ۔
Ayahs 56:28–33[ 26] جنت کی بیریاں بےخار :
سو ارشاد فرمایا گیا جو بےخاربیریوں میں ہوں گے، یعنی وہاں کی دو بیری دنیاوی بیری کی طرح نہیں ہوگی جس میں کانٹے ہوتے ہیں، اور جس کے حاصل کرنے کیلئے ہاتھوں کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔ سو وہاں کی دو بیری الگ اور ایک امتیازی شان کی ہوگی کہ اس میں کانٹے نہیں ہوں گے، کہ کانٹے تکلیف دہ چیز ہے اور جنت میں تکلیف دہ کوئی چیز نہیں ہوگی، بلکہ صحیح حدیث کے مطابق وہاں کی بیریوں میں ہر کانٹے کی جگہ پھل ہوں گے، اخرجہ الحاکم والبیہقی وحمھما اللہ فی قصۃ سوال الاعرابی، [ روح، ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ ] سو یہ بیری جنت کی بیری ہوگی جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، اور اس کی اصل حقیقت کو یہاں پر جاننے کا کوئی ذریعہ ہو ہی نہیں سکتا، اس کا حقیقت سے صرف وہی لوگ واقف و آشنا ہوں گے جن کو " اصحٰب الیمین " میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوگا اور جن کو جنت کے، اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس شرف سے مشرف فرمائے، آمین۔ ہمارے علاقوں میں چونکہ عام طور پر بیری کی کوئی خاص وقعت نہیں ہوتی اس لیے ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ کیا پھل ہے کہ قرآن حکیم میں اس کا اس طرح ذکر فرمایا گیا ہے ؟ تو اس ضمن میں واقع رہے کہ اول تو اس دنیا میں ہی بعض علاقوں میں یہ پھل اتنا لذیذ خوشبو دار اور اس قدر میٹھا ہوتا ہے کہ ایک دفعہ منہ کو لگنے کے بعد اس کا چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے، اور پھر یہ ذکر جنت کی بیری کا ہے جس کا ذکر اس دنیا میں تمثیل کے طور پر ہی ہوسکتا ہے۔ اس کی اصل حقیقت وہیں کھلے گی۔ بہرکیف محصود کی صفت سے واضح فرما دیا گیا کہ جنت کی وہ بیری بےخار اور بالکل بےآزار ہوگی۔ یعنی نام کے اشتراک کے باوجود ان کی حقیقت اور ہی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 56:34[ 31] اہل جنت کی نشست گاہوں کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بلند مرتبہ بچھونوں پر ہوں گے۔ جو حسی طور پر بھی بلند وبالا ہوں گے، اور قدر ومنزلت کے اعتبار سے بھی اعلیٰ وارفع ہوں گے، چناچہ سننن ترمذی وغیرہ کی روایت کے مطابق ان کی بلندی ایسے ہوگی جیسے آسمان و زمین کے درمیان کی بلندی [ ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] اور اس پر یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اب بستروں سے استفادہ کس طرح کریں گے ؟ کیونکہ وہ ایک جہاں ہوگا جس کے قوانین و ضوابط الگ ہوں گے، اور وہاں کے وہ بستر ہی نہیں، بلکہ وہاں کی ہر چیز اہل جنت کے ارادہ اور ان کی مرضی کے تابع ہوگی۔ [ روح المعانی وغیرہ ] اور بعض حضرات اہل علم نے کہا ہے کہ یہاں فرش سے مراد مجازی طور پر جنت کی عورتیں ہیں، کہ وہ دنیا کی عورتوں کے مقابلے میں درجہ و مرتبہ اور مقام و شان کے اعتبار سے بہت بلند ہوں گی، کیونکہ عربی محا وہ میں عورتوں کو فرش اور لباس کے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، سو جنت کی عورتیں اپنے حسن و جمال اور فضل و کمال کے اعتبار سے بہت بلند مقام پر ہوں گی، [ روح، خازن اور جامع البیان وغیرہ ] بہرکیف اس میں اہل جنت کے بچھونوں اور ان کی بیویوں کی عظمت شان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ،
Ayah 56:35[ 32] اہل جنت کی بیویوں کی عظمت کا ذکر وبیان :
سو اس کی بیویوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ہم نے ایک ایسی نئی اٹھان دی ہوگی۔ کہ اس کے بعد وہ حسن و جمال اور فضل و کمال کے اعتبار سے درجہء کمال کو پہنچ جائیں گی، اور دنیاوی زندگی میں ان کے اندر جو بھی کچھ عیوب و نقائص اور خامیاں اور کمزوریاں پائی جاتی ہونگی وہ بھی وہاں ختم ہوجائیں گی، چناچہ بوڑھیاں جو ان ہوجائیں گی، اور کالیاں گوری ہوجائیں گے، اور بدخلق خوش خلق بن جائیں گی، وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ ما وغیرہ سے اس کی تصریح منقول ہے، اور جیسا کہ مختلف روایات میں وارد ہے، [ روح، ابن کثیر، جامع، صفوۃ، وغیرہ ] اور حوران جنت کی شان تو اور بھی اعلیٰ وبالا ہوگی اور ان کی انہی خصوصیات اور نئی اٹھان کی بناء پر ان کے حسن و جمال میں کوئی فرق نہیں رہے گا، یہاں پر اگرچہ ان کی بیویوں کیلئے لائی جانے والی ضمیر جمع کا مرجع سابق میں مذکور نہیں لیکن " الشی بالشیء یذکر " کی [ بات سے بات نکلتی ہے ] کے معروف ضابطے کے قرینے سے اس ضمیر جمع کا مرجع خود متعین ہوجاتا ہے، کیونکہ جب فرش یعنی بچھونوں کا ذکر آگیا تو اس کی مناسبت سے ان کا ذکر بھی ضمناً ہوگیا۔ اور اگر فرش کا لفظ بیویوں ہی سے کنایہ ہو، جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں گزرا تو پھر بات اور بھی واضح ہوجاتی ہے۔ بہرکیف اس سے ان کی بیویوں کی عظمت شان کو بیان فرمایا گیا ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
Ayah 56:36[ 33] اہل جنت کی بیویوں کی ایک منفرد صفت کا ذکر وبیان :
کہ وہ ہمیشہ کنواری ہی رہیں گی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم انہیں کنواری بنادیں گے کہ صحبت اور مقاربت کے باوجود وہ کنواری کی کنواری ہی رہیں گی، [ خازن، صفوۃ وغیرہ ] اور یہ شان بھی وہیں کی ان عورتوں کی ایک خصوصی اور امتیازی شان ہوگی جو اس دنیا میں نہیں پائی جاسکتی، سو ان کی اس خاص اٹھان کی بناء پر ان کی شان اور صفت یہ ہوگی کہ وہ کنواری اور جوان کی جوان ہی رہیں گی، ان کا حال دنیا کی عورتوں سے بالکل مختلف ہوگا، ان کے مرد جب بھی ان سے ملاقات کریں گے ان کی ملاقات اس اعتبار سے گویا پہلی ہی ملاقات ہوگی، وہاں پر ان کی اس مختلف نشوونما کے نتیجے میں ان کا معاملہ دنیاوی عورتوں کے برعکس اس طرح کا ہوگا کہ ان کے کنوارپن، ان کے حسن و جوانی، اور ان کی رعنائی و دلربائی، پر کبھی خزاں نہیں آئے گی۔ سو جس طرح اہل جنت کو ملنے والی ہر نعمت بےمثال ہوگی اسی طرح ان کی بیویوں اور حوران جنت کی شان بھی بےمثال ہوگی۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
Ayah 56:37[ 34] وہ حددرجہ دلربا ہونگی :
سوا رشاد فرمایا گیا کہ وہ دل لبھانے والی ہوگی۔ " عُرب " جمع ہے " عروب " کی جیسے " صُبر " جمع ہے " صبور " کی اور " رسل " جمع ہے " رسول " کی، اور " زبر " کی، وغیرہ وغیرہ، اور عروب کے معنی ہیں بہت محبت کرنے والی، اپنے خاوند سے عشق رکھنے والی اور محبوب و دلربا بیویاں، سو وہاں پر ان کے زرجین کے درمیان کامل درجے کی محبت و انسیت ہوگی، جو کہ حیات زوجیت کی اصل اساس و بنیاد ہے، اور ظاہر ہے کہ جب ان کے حسن وجمال، اخلاق و کردار اور ان کی جوانی اور کنوارپن میں کسی بھی اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوگا تو ان کے شوہروں کی نظر سے گرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی، بلکہ وہ گل ترکی طرح ہمیشہ ان کی محبوب و مطلوب ہی بنی رہیں گی۔ سو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے خاص کرم و احسان اور ان کے حسن بےمثال ہی کا ذکر وبیان ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
[ 35] وہ باہم ہم عمر ہونگی :
سو ارشاد فرمایا گیا جو عمر ہونگی۔ اَتْراب جمع ہے ترب کی، جس کے معنی ہم عمر کے آتے ہیں، سو وہ باہم بھی ہم عمر ہوں گی، اور اپنے شوہروں کی بھی ہم عمر ہوں گی، باہم ہم عمر ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان وہ شک و رقابت نہیں پیدا ہوگی جو کہ دنیاوی زندگی میں سو کنوں کے درمیان بالعموم پائی جاتی ہے، اور اپنے شوہروں کی ہم عمر ہونے کی بناء پر ان میں کمال توافق پایا جائے گا، اور اہل جنت کی عمر جیسا کہ صحیح روایات میں وارد مزکور ہے تینتیس [ 33] سال کے لگ بھگ ہوگی، [ قرطبی، مراغی، ابن کثیر، خازن وغیرہ ] سو اہل جنت کو ملنے والی وہ بیویاں ہم جولیاں اور ہم سن ہونگی، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ { وکواعب اترابًا } [ النبائ :33] [ کنواری ہمجولیاں ] سو اس سے ان کے کمال حسن کے ایک اور پہلو کو بیان فرمایا گیا واضح رہے کہ جنت کی نعمتوں اور حوران جنت سے متعلق ان صاف و کلمات سے اصل مقصود تقریب الی الاذھان ہے، اور بس، اصل حقیقت تو بہرحال وہیں کھلے گی،
Ayahs 56:38–39[ 36] اصحاب یمین کی سرفرازیوں کا ذکر وبیان :
لاصحاب الیمن کا تعلق " انا انشاناھن " سے بھی ہوسکتا ہے۔ سو اس صورت میں اس کا معنی و مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان کو کنواری بنادیں گے اصحاب یمین کے لیے۔ یعنی ان عورتوں کو خاص طور پر اصحاب یمین کیلئے پیدا کیا گیا ہوگا یعنی " انا انشاناھن لاصحاب الیمین " [ خازن وغیرہ ] اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو مبتدائے محذوف کی خبر قرار دیا جائے۔ یعنی ان تمام نعمتوں کو ہم نے اصحاب یمین کیلئے پیدا کیا ہوگا، [ خازن وغیرہ ] اور ترجمہ کے اندر ہم نے اسی کا لحاظ کیا ہے، بہرکیف ان دونوں صورتوں میں جو بھی اختیار کی جائے معنی اور مدعا کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، اصحاب یمین کو ان سب ہی نعمتوں سے نوازا جائے گا سو اس ارشاد سے اصحاب یمین کی سرفرازیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین،
Ayah 56:40[ 37] اصحاب یمین کی نشاندہی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے پہلوں میں سے ہوں گے اور بہت سے پچھلوں میں سے۔ یعنی اصحاب الیمین کی ایک بڑی جماعت پہلی امتوں کے مومنوں میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت امت محمدیہ کے مومنوں کی، [ المراغی، الصفوۃ وغیرہ ] جبکہ دوسرا قول بعض اہل علم کا اس بارے میں یہ ہے کہ یہاں پر اگلے پچھلوں سے مراد اسی امت کے اگلے پچھلے ہیں، جس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قیامت تک جتنے بھی مسلمان اس دنیا میں آئیں گے، ان میں سے ایسے لوگ برابر نکلتے رہیں گے جن کا شمار اصحاب الیمین کے طبقہ میں ہوگا، اور قیامت کے دن وہ سب ایک ہی گروہ کی حیثیت حاصل کریں گے، جو اپنے ایمان و یقین، راہ حق پر صبر و استقامت، اور نیک اعمال اور عدمہ اخلاق کی بنا پر حق تعالیٰ کی ان عظیم الشان نعمتوں کے مستحق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین، اللّٰہم زدنا ایمانا بک ویقنا، وحبا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصینا الیٰ ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حال من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یا ذا الجلال والاکرام،