Ayahs 56:1–3قیامت پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہے
اس سورت میں وقوع قیامت اور قیامت واقع ہونے کے بعد جو فیصلے ہوں گے اور ان کے بعد جو اہل ایمان کو انعامات ملیں گے اور اہل کفر جو عذاب میں مبتلا ہوں گے اس کی کچھ تفصیلات بیان کی گئی ہیں، درمیان میں اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
آیات بالا میں ارشاد فرمایا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو اس کا کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا آج تو دنیا میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اس کے وقوع کے منکر ہیں جب وہ آہی جائے گی جس کی خبر اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور رسولوں نے دی ہے اسے نظر سے دیکھ لیں گے اور جھٹلانے والے پریشان حال مبتلائے عذاب ہوں گے، اس دن مان لیں گے اور ﴿رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا ﴾ کہیں گے، قیامت کی یہ خاص صفت ہوگی کہ وہ خٓافضة بھی ہوگی اور رافعۃ بھی، یعنی پست کرنے والی بھی اور بلند کرنے والی ہوگی، بہت سے لوگ جو دنیا میں اونچے تھے بادشاہ تھے امیر تھے وزیر تھے قوموں کے سردار تھے مال کی ریل پیل کی وجہ سے اہل دنیا انہیں بڑا سمجھتے تھے لیکن کافر مشرک منافق یا کم از کم فاسق تھے یہ لوگ قیامت کے دن برے حال میں ہوں گے، اس دن کی گرفت دنیا والی ساری بڑائی کو ملیامیٹ کرکے رکھ دے گی، اور بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر اور کمزور سمجھے جاتے تھے اصحاب دنیا کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہ تھی لیکن ایمان والے تھے متقی اور پرہیزگار تھے اعمال صالحہ سے مزین اور متصف تھے قیامت انہیں بلند کر دے گی بہت بڑی تعداد میں تو یہ لوگ بلاحساب جنت میں چلے جائیں گے اور بہت سوں سے آسان حساب ہوگا اور بہت سوں سے تھوڑا بہت حساب ہو کر چھٹکارہ ہوجائے گا۔ حضرات انبیائے عظام اور شہداء کرام اور علماء اصحاب احترام کی سفارشیں کام دے جائیں گی۔
Ayahs 56:4–6اس کے بعد قیامت کے زلزلہ کا تذکرہ فرمایا ﴿ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ004﴾ (جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا) ﴿ وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ005﴾ (اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے) ۔ ﴿ فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ006﴾ (پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) ۔
قولہ اذا رجت قال المفسرون اذا ثانیة بدل من الاولیٰ وقیل ظرف لخافضة رافعة علی التنازع ذکرہ صاحب الکمالین بل اقرب ان یقال اذا الثانیة کا لشرط وقولہ تعالیٰ ورجت عطف علیہ وکنت وجزاہٴ محذوف ای تنقسمون وتثابون حسب ایمانکم واعمالکم۔
Ayah 56:7﴿ وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ007﴾ (اور اے لوگو ! قیامت کے دن تم تین قسموں پر ہو گے۔ ) ان تینوں قسموں کا تفصیلی بیان آئندہ آیات میں آرہا ہے۔
﴿اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ﴾ کی دو قسمیں بیان فرمائیں اول سابقین جنہیں مقربین فرمایا، دو عام مومنین جنہیں اصحاب الیمین سے تعبیر فرمایا سوم تمام کفار جو اصحاب الشمال ہوں گے۔
Ayahs 56:8–9قیامت کے دن حاضر ہونے والوں کی تین قسمیں
ان آیات میں اصحاب المیمنہ کی دونوں قسموں یعنی مقربین اور عام مومنین کا تذکرہ فرمایا ہے اور ان کے انعامات بتائے ہیں۔ اولاً اجمالاً یوں فرمایا ﴿ فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِؕ008﴾ (سو داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے) وَ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِؕ009 (اور بائیں ہاتھ والے کیا ہی برے ہیں بائیں ہاتھ والے) پہلی قسم کے افراد کو ﴿اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ﴾ (داہنے ہاتھ والے) كس اعتبار سے فرمایا ؟ اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے دو قول لکھے ہیں، اول یہ کہ ان حضرات کے صحائف اعمال (یعنی اعمال نامے) داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے، دوم یہ کہ جب یہ حضرات جنت میں جانے لگیں گے تو میدان حشر سے ہٹ کر داہنے ہاتھ کو چل دیں گے۔ صاحب معالم التنزیل نے تیسرا قول یہ لکھا ہے کہ جب صلب آدم سے نکالے گئے تو یہ لوگ ان کے داہنے طرف سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ لفظ یمن (بمعنی مبارک) سے ماخوذ ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ حضرات مبارک ہیں۔ ان کی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں گزری ہوں گی، ان کے مقابل اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ کو سمجھ لیا جائے۔ مذکورہ اقوال میں سے ہر بات کا مقابل ذہن میں لے آنا چاہئے یعنی اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور جب ان کو دوزخ کی طرف لے جائیں تو میدان حشر سے بائیں طرف لے جایا جائے گا جدھر دوزخ ہوگا اور جب انہیں آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا تھا تو یہ ان کے بائیں طرف سے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں نے انہیں دوزخ کے لیے پیدا کیا اور یہ لوگ نامبارک (یعنی بدبختی کے کام کرتے تھے اپنی عمریں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں نہیں لگاتے تھے) اس کے بعد سابقین (یعنی آگے بڑھنے والوں) کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا : ﴿اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ﴾ کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے جو صفات بیان کی گئیں ان کے اعتبار سے یہ حضرات مقربین بھی اصحاب المیمنہ ہی ہیں لیکن اعمال میں سبقت لے جانے کی وجہ سے ان کو سابقین کا لقب دیا گیا ان کے انعامات بھی خوب بڑے بڑے بتائے، اس اعتبار سے میدان حشر میں حاضر ہونے والوں کی مذکورہ دو قسموں (اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ اور اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ کے علاوہ تیسری قسم یہی مقربین کی جماعت ہوگی) ۔
Ayah 56:10سابقین اولین کون سے حضرات ہیں ؟
سابقین کے بارے میں فرمایا ﴿ وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ0010 اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۚ0011﴾ (اور آگے بڑھنے والے وہ آگے بڑھنے والے ہیں وہ خاص قرب رکھنے والے ہیں) ۔
جن حضرات کو سابقین کا لقب دیا اس سبقت سے کون سی سبقت مراد ہیں ؟ اس بارے میں متعدد اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے ہجرت کی طرف سبقت کی اور حضرت عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ اس سے اسلام قبول کرنے کی طرف سبقت کرنے والے مراد ہیں حضرت ابن سیرین (رح) نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے قبلتین کی طرف نماز پڑھی۔
حضرت ربیع بن انس ؓ نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پر عمل کرنے میں سبقت کی اور حضرت علی ؓ نے فرمایا جو حضرات پانچوں نمازوں کی طرف سبقت کرتے ہیں۔ السابقون سے وہ حضرات مراد ہیں اور حضرت سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا جو حضرات توبہ کی طرف اور نیک اعمال کی طرف سبقت کرتے ہیں وہ حضرات سابقون ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا ﴿ سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ﴾ اور فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ 0061﴾ مذکورہ بالا اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے سب سے زیادہ جامع قول حضرت سعید بن جبیر ؓ کا ہے جو دیگر اقوال کو بھی شامل ہے۔
Ayahs 56:11–14سابقین اولین کے لیے سب سے بڑا انعام :
حضرات سابقین کے بارے میں ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۚ0011﴾ فرمایا، قرب الٰہی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ساتھ ہی ﴿فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ 0012﴾ بھی فرمایا کہ یہ حضرات نعمت والے باغیچوں میں ہوں گے، پھر ان حضرات کی اجمالی تعداد بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ0013 وَ قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَؕ0014﴾ یعنی یہ جو سابقین مقربین بندے ہوں گے ان کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے سے لوگ بعدوالوں میں سے ہوں گے، معلوم ہوا کہ پہلی امتوں میں سے بشمول حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سابقین اولین زیادہ ہوں گے جنہیں ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ0013﴾ سے تعبیر فرمایا، اور امت محمدیہ میں سے بھی اک جماعت سابقین میں سے ہوگی، لیکن یہ لوگ تعداد میں کم ہوں گے (گویہ کم تعداد بھی بہت ہی بڑی تعداد ہوگی کیونکہ ان کو امم سابقہ کے اعتبار سے قلیل فرمایا ہے) یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ سابقہ امتوں میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ملا کر سابقین اولین کی تعداد اس امت کے سابقین اولین سے زیادہ ہونے سے پوری امت محمدیہ (جس میں عوام و خواص سب ہیں) کا تعداد میں کم ہونا لازم نہیں آتا۔ حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنتیوں کی 120 صفیں ہوں گی جن میں اسّی (80) اس امت کی ہوں گی اور 40 سب امتوں کو ملا کر ہوں گی۔ (مشکوٰۃ شریف)
Ayahs 56:15–24سابقین اولین کی مزید نعمتیں :
سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ0015﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ 0016﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ چیزیں لے کر آمدورفت کیا کریں گے) ﴿ بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ 1ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۙ0018﴾ (آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا) اول تو خدام کے بارے میں فرمایا کہ وہ لڑکے ہوں گے اور ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے اور ہمیشہ خادم بنے رہیں گے نہ انہیں موت آئے گی اور نہ بڑھاپا۔ ﴿ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017﴾ کو سورة الطور میں ﴿ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ ﴾ فرمایا ہے۔ یہ وِلْدَان اہل جنت کے پاس چھوٹے بڑے برتنوں میں پینے کی چیزیں لے کر آئیں گے۔ اکواب کو ب کی جمع ہے گول منہ کا پیالہ جس میں پکڑنے کا کڑا نہ ہو اسے کو ب کہا جاتا ہے اور اباریق ابریق کی جمع ہے ان سے وہ برتن مراد ہیں جن میں ٹونٹیاں لگی ہوئی ہوں، ان پینے کی چیزوں میں شراب بھی ہوگی جس کا سورة محمد کی آیت ﴿ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ﴾ میں تذکرہ فرمایا ہے لفظ خمر سے کسی کو نشہ آنے کا شبہ نہ ہو اس شبہ کو دور کرتے ہوئے ﴿ لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ0019﴾ فرمایا (نہ اس سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ عقل میں فتور آئے گا)
پینے کی چیزوں کے بعد کھانے کی چیزوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَۙ0020﴾ (اور میوے جن کو وہ پسند کریں گے) ﴿ وَ لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَؕ0021﴾ (اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوگا) ۔
کھانے کی چیزوں کے تذکرہ کے بعداہل جنت کی بیویوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ حُوْرٌ عِيْنٌۙ0022 كَاَمْثَال اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ0023﴾ (اور ان کے لیے گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی جیسے پوشیدہ رکھا ہوا موتی ہو) لفظ حور حوراء کی جمع ہے (اگرچہ اردو والے اس کو مفرد ہی سمجھتے ہیں) جس کا معنی ہے گوری سفید رنگت والی عورت اور عین عیناء کی جمع ہے جس کا ترجمہ ہے بڑی آنکھوں والی عورت ان دو لفظوں میں جنتی عورتوں کی خوبصورتی بیان فرمائی ہے پھر ان کے رنگ کی صفائی بیان کرتے ہوئے ﴿ كَاَمْثَال اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ0023﴾ فرمایا یعنی وہ چھپے ہوئے موتیوں کی طرح سے ہوں گی۔
﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 0024﴾ (یہ ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا) ۔
Ayah 56:25ناگوار کلمات نہ سنیں گے :
دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ انسان اچھے حال میں ہے جمال بھی ہے ازواج بھی ہیں اور اولاد بھی لیکن بےتکی تکلیف دینے والی آرام میں خلل ڈالنے والی کانوں کو تکلیف دینے والی آوازیں بھی آتی رہتی ہیں اور بعض مرتبہ انسان ان کو دفع کرنے اور ناگوار آوازیں بند کرنے پر قدرت نہیں رکھتا جنت میں ایسا نہ ہوگا وہاں وئی ناگوار بات اور لغویات نہیں سنیں گے اسی کو فرمایا ﴿لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًاۙ0025﴾ (وہاں نہ بک بک سنیں گے اور نہ اور کوئی بےہودہ بات) ۔
Ayah 56:26﴿ ِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا 0026﴾ (بس سلام ہی سلام کی آواز آئے گی) یہ سلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوگا جیسا کہ سورة یٰسین میں فرمایا ﴿ سَلٰمٌ1۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ 0058﴾ او آپس میں بھی سلام کریں گے سورة یونس میں فرمایا ﴿ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ﴾ اور فرشتے بھی سلام کے ساتھ ملاقات کریں گے ﴿ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ0024﴾ غرض یہ کہ ہمیشہ باسلامت رہیں گے اور سلام پیش کیا جاتا رہے گا۔
Ayahs 56:27–30اصحاب الیمین کی نعمتیں :
اس کے بعد ﴿اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ﴾ کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِؕ0027﴾ (اور داہنے ہاتھ والے کیا خوب ہیں داہنے ہاتھ والے) ﴿ فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ0028﴾ (وہ ان باغوں میں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی) سدر کو لفظ مخضود کے ساتھ متصف فرمایا یعنی ان کے درختوں میں کانٹے نہیں ہوں گے جیسا کہ دنیا والی بیریوں میں کا نٹے ہوتے ہیں۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن ایک اعرابی حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک ایسے درخت کا ذکر فرمایا ہے جو ایذا دینے والا ہے، آپ نے فرمایا ہے وہ کون سا درخت ہے عرض کیا وہ سدر بیری کا درخت ہے اس میں کانٹے ہوتے ہیں۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے : ﴿ وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ0029﴾ فرمایا ہے یعنی وہ بیری کے درخت ایسے ہوں گے جن میں کانٹے کاٹے ہوئے ہوں گے اللہ اس کے ہر کانٹے کو کاٹ دے گا اور ہر کانٹے کی جگہ پھل لگا دے گا اس میں ایسے پھل لگیں گے کہ ایک پھل پھٹے گا تو اس سے بہتر (72) رنگ کے پھل نکل آئیں گے ایک رنگ دوسرے رنگ کے مشابہ نہ ہوگا۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد واقرہ الذہبی صفحہ 474: ج 2)
دوسری نعمت بیان کرتے ہوئے ﴿ وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ0029﴾ فرمایا (یعنی وہاں تہہ بہ تہہ لگے ہوئے کیلے ہوں گے) کیلوں کا مزہ اور مٹھاس اور مخصوص کیف جو یہاں دنیا میں پر لطف ہے دنیا والے اس سے واقف ہیں۔ آخرت کے کیلوں میں جو مزہ ہوگا وہ تو اہل دنیا کے تصور سے باہر ہے، تیسری نعمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ0030﴾ کہ اصحاب الیمین خوب زیادہ وسیع پھیلاؤ والے سایہ میں ہوں گے، جنت کا سایہ سراسر آرام دینے والا ہوگا اور سایہ بھی اصلی ہوگا، جھوٹا سایہ نہ ہوگا جیسا کہ دنیا میں دھویں کا سایہ ہوتا ہے اسی لیے سورة نساء میں فرمایا ہے ﴿ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا 0057﴾ اور ہم انہیں گہرے سایہ میں داخل کریں گے، یہ سایہ چونکہ آرام دہ ہوگا اس لیے اس میں ذرا بھی گرمی اور سردی نہ ہوگی سورة الدھر میں فرمایا : ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَى الْاَرَآىِٕكِ 1ۚ لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِيْرًاۚ0013﴾ (اس حالت میں کہ وہ وہاں مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوں گے نہ وہاں تپش پائیں گے اور نہ سردی) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بلاشبہ جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ سواری پر چلنے والا سو سال تک چلتا رہے گا اس کی مسافت کو قطع نہ کرسکے گا۔ (رواہ البخاری)
Ayah 56:31مزید فرمایا ﴿ وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ0031﴾ کہ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ کو ماء جاری کی بھی نعمت دی جائے گی۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ یہ پانی برابر زمین پر جاری ہوگا اس میں کھدی ہوئی نہریں، ندی نالے بنے ہوئے نہ ہوں گے جہاں چاہیں گے یہ پانی پہنچ جائے گا۔ ڈول اور رسی کی ضرورت نہ ہوگی۔ (صفحہ 140: ج 4)
Ayahs 56:32–33﴿ وَّ فَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍۙ0032 لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ0033﴾ اور اصحاب الیمین خوب زیادہ فوا کہ یعنی میووں میں ہوں گے یہ میوے ہمیشہ رہیں گے کبھی بھی ختم نہ ہوں گے اور کبھی بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ جب چاہیں گے کھائیں گے، جتنا چاہیں گے کھائیں گے حدیث شریف میں ہے کہ جنتی آدمی جب بھی جنت میں کوئی پھل توڑے گا اس کی جگہ دوسرا پھل لگ جائے گا۔ (مجمع الزوائد صفحہ 414: ج 10)
Ayah 56:34﴿ وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ0034﴾ (اور اصحاب الیمین بلند بستروں پر ہوں گے) حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کی بلندی اتنی ہوگی جیسے آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے یعنی پانچ سو سال کی مسافت کے بقدر۔ (رواہ الترمذی وقال غریب کمافی المشکوٰۃ صفحہ 497)
Ayahs 56:35–40بوڑھی مومنات جنت میں جوان بنا دی جائیں گی :
اس کے بعد جتنی عورتوں کا تذکرہ فرمایا، وہاں جو بیویاں ملیں گی ان میں حور عین بھی ہوں گی جو مستقل مخلوق ہے اور دنیا والی عورتیں جو ایمان پر وفات پاگئیں وہ بھی اہل جنت کی بیویاں بنیں گی۔ یہ دنیا والی عورتیں وہ بھی ہوں گی جو دنیا میں بوڑھی ہوچکی تھیں اور وہ بھی ہوں گی جو شادی شدہ یا بےشادی شدہ یا چھوٹی عمر میں وفات پاگئی تھیں یہ سب جنت میں اہل ایمان کی بیویاں ہوں گی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل جنت میں سے جو بھی کوئی چھوٹا یا بڑا وفات پا گیا ہوگا قیامت کے دن سب کو جنت میں تیس سال کی عمر والا بنا دیا جائے گا ان کی عمر کبھی بھی اس سے آگے نہ بڑھے گی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 499)
لہٰذا بوڑھی مومن عورتیں جنہوں نے دنیا میں وفات پائی تھی جنت میں داخل ہوں گی تو جوان ہوں گی تیس سال کی ہوں گی۔ آیت بالا میں اسی کو فرمایا ہے۔
﴿اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ0035 فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ0036 عُرُبًا اَتْرَابًاۙ0037 لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ 2ؕ (رح) 0038﴾ (ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں محبوبہ ہیں ہم عمر ہیں، یہ سب چیزیں داہنے والوں کے لیے ہیں) جتنی عورتیں حسن و جمال والی بھی ہوں گی محبوبات بھی ہوں گی اور ہم عمر بھی ہوں گی۔
ایک بوڑھی صحابیہ عورت کا قصہ :
شمائل ترمذی میں ہے کہ ایک بوڑھی عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ دعا کیجیے اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل فرما دے، آپ نے فرمایا کہ اے فلاں کی ماں جنت میں بڑھیا داخل نہ ہوگی، یہ سن کر وہ بڑی بی روتی ہوئی واپس چلی گئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اس سے کہہ دو کہ جنت میں جب وہ داخل ہوگی تو بڑھیا نہ ہوگی (یعنی جنت میں بڑھاپا باقی نہ رہے گا داخل ہونے سے پہلے ہی جوان بنا دیا جائے گا) اللہ تعالیٰ شانہ کا فرمان ہے ﴿ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ0035 فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ0036﴾ (ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں) ۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے باری تعالیٰ شانہ کے فرمان ﴿ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ0035﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نئے طور سے زندگی دیں گے ان میں وہ عورتیں بھی ہوں گی جو دنیا میں چندھی تھیں اور جن کی آنکھوں میں میل اور چپڑ بھرے رہتے تھے۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة الواقعہ)
چندھی اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں پوری طرح نہ کھلیں عام طور سے آنسو بہتے رہتے ہیں۔
﴿ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ0039 وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَؕ0040﴾ (اصحاب الیمین کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا) ۔