Al-Waaqia 56:95

Al-Waaqia · from ayah 95

56:95

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ ۟ۚاِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الۡيَـقِيۡنِۚ‏

یہ (داخل کیا جانا یقیناً صحیح یعنی) حق الیقین ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, this is the true certainty,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:95

یہ (داخل کیا جانا یقیناً صحیح یعنی) حق الیقین ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ خبر سراسر حق اور قطعاً یقینی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس میں کوئی شک نہیں کہ بالکل صحیح معنی میں یہی یقینی بات ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک یہی قطعی طور پر حق الیقین ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلا شبہ یقینا یہی ہے وہ سچ جو یقینی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

۔ بیشک یہ ساری باتیں سچی اور یقینی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک یہ سب کچھ (جو کہ ذکر وبیان ہوا) قطعی طور پر حق ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک یہ تحقیقی یقینی بات ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا یہ سب کچھ قطعی حق ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ داخل کیا جانا یقینا صحیح یعنی سچ اور حق ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

That indeed is the absolute truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed this is certainty in its true sense.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed this is certainty in its true sense.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, this! This is an absolute truth with certainty.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, this is the true certainty,

— Saheeh International

This is the absolute Truth and certainty.

— Muhammad Sarwar

Most surely this is a certain truth.

— Muhammad Habib Shakir

Verily this! this is the very truth.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily, this is the Very Truth and Certainly.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:95

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–96

احوال موت یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت سکرات کے وقت دنیا کی آخری ساعت میں انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مرقب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے براء کی حدیث گذری کہ رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح پاک جسم والی روح چل راحت و آرام کی طرف چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ روح سے مرد راحت ہے اور ریحان سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 83–96

سورة الْوَاقِعَة 42 حضرت عقبہ بن عامر جہنی کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھ دو ، یعنی رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہا کرو۔ اور جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو، یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہا کرو (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا ہے اس کے چھوٹے سے چھوٹے اجزاء تک قرآن پاک کے اشاروں سے ماخوذ ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخر میں فرمایا اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِ ، یعنی یہ جزا و سزا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے حق اور بالکل یقینی امر ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 95–96

(ان ھذا لھوحق الیقین فسبح باسم ربک العظیم) (95، 96) یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تلقین صبر و استقامت اور پیام تسلی ہے کہ جو باتیں اوپر بیان ہوئیں سب یقینی حقائق ہیں۔ ان میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اگر تمہاری قوم کے لوگ نہیں مان رہے ہیں تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑو اور اپنے رب عظیم کی تسبیح کرو۔ اس تسبیح کے موقع و محل اور اس کے مفہوم پر آیت 74 کے تحت ہم بحث کرچکے ہیں۔ ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی احسانہ۔ رحمان آباد۔ 24۔ اکتوبر 1977 ء۔ 11 ذوالقعدہ 1397 ھ

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 92–95

92-1یہ تیسری قسم ہے جنہیں آغاز سورت میں کہا گیا تھا، بائیں ہاتھ والے یا حاملین نحوست۔ یہ اپنے کفر و نفاق کی سزا یاس اس کی نحوست عذاب جہنم کی صورت میں بھگتیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 87–96

24: کافر لوگ قرآن کریم پر ایمان لانے سے جو انکار کرتے تھے، اس کا ایک بڑا حصہ ان کا یہ دعوی تھا کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت نمبر 45 میں گزرا ہے، اللہ تعالیٰ اب اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ اتنی بات تو تم بھی مانتے ہو کہ اس دنیا میں جو کوئی آتا ہے ایک نہ ایک دن اسے موت ضرور آتی ہے، اور ایسی حالت میں آتی ہے کہ اس کے عزیز رشتہ دار، دوست احباب اور اس کے معالج ہر قسم کے جتن کر گزرتے ہیں کہ کسی طرح وہ موت سے بچ جائے، لیکن موت اس طرح آجاتی ہے کہ وہ سب دیکھتے رہ جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر مرنے کے بعد دوسری زندگی میں حساب و کتاب ہونا نہیں ہے تو آخر ہر انسان کسی نہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 95–96

ان ھذا ............ العظیم (69) (6 5:5 9 تا 69) ” یہ سب کچھ قطعی حق ہے ، پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “ یہ آخری پر سوز تلقین ہے۔ سچائی کے پلڑے میں وزن ڈالا جاتا ہے۔ قلب مومن نے حق الیقین کرلیا ہے کہ واقعہ سچ ہے اور ہونے والا ہے۔ سورة ختم ہوتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے۔” رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو “ اور اسی سے نماز میں سبحان ربی العظیم جاری ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی تمہاری تکذیب سے کچھ نہیں ہوتا۔ جو کچھ اس صورت میں مومنین اور مجرمین کی خبر دی گئی ہے بالکل یقینی ہے، اسی طرح ہو کر رہے گا۔ خواہ مخواہ شبہ پیدا کر کے اپنے نفس کو دھوکا نہ دو ۔ بلکہ آنے والے وقت کی تیاری کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 95{ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ۔ } ”یقینا یہ سب کچھ قطعی حق ہے۔“ بیشک یہ ساری باتیں سچی اور یقینی ہیں۔ یہ سب تفصیلات جو اس سورت میں بیان ہوئی ہیں ان کے بارے میں تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ ہو کر رہنا ہے۔ قیامت کے دن تمام نوع انسانی کو مذکورہ بالا تین گروہوں میں تقسیم کر کے ہر گروہ کے افراد کو ان کے اعمال و اعتقادات کے مطابق بدلہ دیا جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 92–95

43 یعنی جس طرح موت ایک اٹل حقیقت ہے اور تم اس حقیقت کو غیر حقیقت بنانے پر قادر نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح مُقَّرَبِیْنَ ، أصْحَابُ الْیَمِیْنِ اور أصْحَاب الشِّمَالِ ۔ کا بتایا ہوا انجام بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اگر تم اسے جھٹلاتے بھی ہو تو اس طرح نہ وہ ٹل سکتی ہے نہ بدل سکتی ہے۔ لہذا خواہ مخواہ شبہات پیدا کرکے اپنے آپ کو دھوکا نہ دو ۔ بلکہ آنے والے وقت کی تیاری کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 95–96

38۔ (جس کی قدرت و حکمت کے یہ سارے تصرفات ہیں) (آیت) ” ھذا اشارہ مرنے والوں کے ان سہ گانہ درجات کی طرف ہے۔ یعنی ماذکر من قصۃ المحتضرین (معالم) (آیت) ” حق الیقین “۔ اس دہری تاکید سے مراد یہ ہے کہ یہ امر اس درجہ یقینی اور قطعی ہے کہ اس سے زیادہ تحقیق کی کوئی اور گنجائش ہی نہیں۔ ذلک نو تاکید قال ھذا من حق الحق وصواب الصواب اے غایتہ ونھایتہ التی لاوصول فوقہ (کبیر۔ عن ابن عطیۃ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 92–96

واما ان کان من المکذبین الضالین یہ تیسری قسم ہے جن کو آغاز سورت میں اصحاب المشئمۃ کہا گیا تھا، بائیں ہاتھ والے یا حاملین نحوست یہ اپنے کفر کی سزا عذاب جہنم کی صورت میں بھگتیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بیشک یہ (جو کچھ مذکور ہوا) تحقیق یقینی بات ہے۔ ان ھٰذا : یہ یعنی قریب الموت لوگوں کی یہ مذکورہ حالت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 95–96

(95۔ 96) بیشک جو کچھ ذکر ہوا یہ یقینی بات ہے سو اپنے اس عظیم الشان پروردگار کے نام کی نماز پڑھیے جو کہ ہر ایک دیز سے بڑا ہے یا یہ کہ اس کی توحید بیان کیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 95–96

اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ۔۔۔۔۔:”حق“ موصوف ہے جو اپنی صفت ”الیقین“ کی طرف مضاف ہے۔ یعنی یہ ایسی ثابت شدہ بات اور ایسا سچ ہے جو یقینی ہے۔ ان دونوں آیات کے لیے دیکھئے سورة ٔ حاقہ کی آخری دو آیات کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان ھذا لھو حق الیقین۔ جو ہم نے تم پر بیان کیا ہے یہ محض یقین اور حق ہے۔ حق کی یقین کی طرف اضافت درست ہے جب کہ دونوں اجیک ہی چیز ہیں کیونکہ ان دونوں کے الفاظ مختلف ہیں۔ مبرد نے کہا : یہ تیرے اس قول کی طرح ہے عین القین، محض الیقین کو فیوں کے نزدیک یہ شی کو اپنی ذات کی طرف مضاف کرنے کی طرح ہے۔ بصریوں کے نزدیک مراد ہے : حق الامرالیقین او الخبر الیقین۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ تاکید ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یقین کی اصل یہ ہے کہ یہ حق کی نعت ہو تو معبوث کو مجازا نعمت کی طرف مضاف کیا گیا ہے جس طرح وللدار الاخرۃ ( الانعام : 32) قتادہ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے کسی کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

اللہ تعالیٰ کی ملاقات مومن بندہ سے 35۔ بخاری ومسلم و ترمذی اور نسائی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کی ہے بخاری ومسلم و ترمذی اور نسائی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند فرماتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند فرماتے ہیں۔ عائشہ ؓ نے فرمایا ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ایسا نہیں ہے۔ لیکن مومن بندہ پر جب موت حاضر ہوتی ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور اس کے اکرام کے خوشخبری دی جاتی ہے۔ تو اس کی طرف کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی۔ ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 92–95

مکذبین اور ضالین کا عذاب : پھر کافروں و مشرکوں کا عذاب بیان فرمایا ﴿وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِيْنَ۠ الضَّآلِّيْنَۙ0092 فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيْمٍۙ0093 وَّ تَصْلِيَةُ جَحِيْمٍ 0094﴾ اور جو شخص جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوگا (یہ اصحاب الشمال میں سے ہوگا) اس کے لیے سخت کھولتا ہوا گرم پانی ہوگا، جس کا دوسرے رکوع میں ذکر ہوا اور دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔ ﴿ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِۚ0095﴾ (بےشک یہ تحقیقی بات ہے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–96

حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 92–95

32:۔ ” واما ان کان من الخ “ یہ دوسری جماعت کے حال کا اعادہ ہے۔ اگر وہ جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے ہوگا تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی تواضع کی جائیگی اور اسے جہنم میں داخلہ ملے جس میں وہ ہمیشہ کیلئے رہے گا اور اس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ ” ان ھذا لھو حق الیقین “ یہ سب کچھ برحق اور یقینی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 83–96

ربط آیات : ساتویں منزل کے آغاز یعنی سورة قٓ سے لے کر سورة الواقعہ تک زیادہ تر جزائے عمل ہی کا بیان ہورہا ہے۔ تاہم ان سورتوں میں دین کے چاروں بنیادی اصول آگئے ہیں۔ کسی سورة میں ایک اصول نمایاں ہے تو دوسری میں دوسرا نمایاں ہے مثلاً کسی سورت میں توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو کسی میں رسالت کا تذکرہ وضاحت کے ساتھ آگیا ہے۔ کہیں قرآن کی حقانیت و عظمت کا بیان زیادہ ہے تو کہیں وقوع قیامت اور جزائے عمل کا مضمون وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ گزشتہ درس میں قرآن کی صداقت وحقانیت کے متعلق فرمایا کہ یہ قرآن کریم ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے اور اس کو صرف ظاہری اور باطنی طور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ ھٰذَا لَہُوَحَقُّ الْيَقِيْنِ۝ 95 ۚ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 88–96

ترکیب : فروح جواب فاما جواب ان مستغنی عنہ بجواب اما وا التقدیر فلہ روح قراء الجمہور بفتح الراء وقریٔ بالضم فالفتح مصدر والضم اسم لہ وقیل بالفتح معناہ الراحۃ بالضم معناہ الرحمۃ مجازاً العلاقۃ السببیۃ لانھا کالسبب لحیوۃ المرحوم ریحاناصلہ ریوحان علیٰ فیعلان قلبت الواویاء وادغم ثم خفف مثل سیدو سیدوقیل ھو فعلان قلبت الواویاء دان سکنت والفتح ماقبلھا۔ (ابن الصائغ) تصلیۃ بالرفع عطفا علی نزل وبالجر عطفا علی صمیم حق الیقین ای حق خبرالیقین فالموصوف محذوف الصفۃ قائمۃ مقامہ۔ تفسیر : تینوں گروہوں کا بعد موت کے جو حال ہوتا ہے اس کو بیان فرماتا ہے یعنی جب کہ روح جسم کو چھوڑ کر دوسرے عالم میں جاتی ہے نیست و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 95–96

اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ ۔ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّـکَ الْعَظِیْمِ ۔ (الواقعۃ : 95، 96) (بےشک یہ سب کچھ قطعی حق ہے۔ تو اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ ) کفار کے لیے اتمامِ حجت کفار کے لیے اتمامِ حجت ہے اور آنحضرت ﷺ کے لیے صبر و استقامت کی تلقین ہے کہ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اس کا ایک ایک حرف یقینی حقائق پر مشتمل ہے۔ اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اور اگر مخالفین اس کا مذاق یا تمسخر اڑاتے ہیں اور ہر بات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیجیے۔ اور اس سے پہلے اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ حضرت عقبیٰ بن عامر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 88–96

فہم القرآن ربط کلام : قیامت پر ایمان لانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے والے مقربین میں شامل ہوں گے۔ مرنے والا قیامت پر یقین رکھنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے والا ہوگا تو وہ اپنے رب کے مقرب بندوں میں شامل ہوگا، اس کے لیے ہر قسم کی راحت، ذائقہ دار خوراک اور نعمتوں والی جنت ہوگی اور یہ اصحاب الیمین میں ہوگا اور اس پر اس کے رب کی طرف سے ہمیشہ ہمیش کے لیے سلامتی ہوگی۔ اگر وہ قیامت کو جھٹلانے والوں اور گمراہ لوگوں میں ہوا تو اس کی کھولتے ہوئے پانی سے مہمان نوازی کی جائے گی اور اسے جہنم میں جھونکا جائے گا۔ ” اَصْحَابَ الْیَمِیْنِ “ کا انعامات پانا اور ” اَصَحَاب الشِّمَالِ “ کا جہنم میں جھونکا جانا برحق…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

95 : اِنَّ ھٰذَا (بیشک یہ جو کچھ اس سورت میں مذکور ہوا) لَھُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ (تحقیق یقینی بات ہے) یعنی ایسا حق ہے جو قطعی طور پر ثابت ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–96

83۔ 96۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس انکار کے سبب سے عقبیٰ کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے ‘ یہ ان لوگوں کی کمی عقل اور ان کی سمجھ کا فتور ہے کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ کے پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا۔ اور سزا اور جزا ہوگی۔ اس انتظام میں جو بات ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 95–96

(اِنَّ ھٰذَا) یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے مثلا بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا وسزا، اور اس کی تفاصیل ( لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِ ) بلاشبہ یہی مذکور حق الیقین ہے۔ یعنی اس میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اسکی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی مشاہدہ کررہے ہوں پس انہوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 77–96

قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔ حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 81] یہ سب کچھ قطعی طور پر حق ہے : جس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ سراسر حق اور یقین ہے اور یہ اضافت موصوف الی الصفۃ کے قبیل سے ہے، " ای الیقین الحق " جیسے " دار الآخرۃ " اور " الدار الآخرۃ " میں پایا جاتا ہے [ محاسن التاویل وغیرہ ] بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو باتیں اوپر بیان ہوئے ہیں یہ سب قطعی اور یقینی حقائق ہیں، ان میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں، جو ہٹ دھرم ان کو نہیں مان رہے وہ اپنی ہی ہلاکت و بربادی اور دائمی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔ ، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو قیامت کے اس یوم فصل وتمیز میں لوگوں کے درمیان ان کے عقائد و اعمال کے اعتبار سے اس طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–96

زندگی کا فائدہ اٹھاؤ اور آخرت کماؤ تشریح : پورا قرآن پاک ہی حکمت و دانائی سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح یہ آیات بھی معرفت الہٰی کو واضح کرنے اور توحید کے مطلب کو واضح کرنے کے لیے دلیل دے رہی ہیں۔ اللہ کی حاکمیت، وحدانیت، عظمت و طاقت اس وقت ہر جاہل و عالم پر پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست احباب کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس وقت بالکل بےبس ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ صرف اس بندے اور اس کے خالق کا ہوتا ہے۔ پھر اس کے مرجانے کے بعد کا تمام معاملہ بھی خالق اور اس کے درمیان ہوتا ہے جیسا کہ آیات 88 سے 96 تک بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–96

آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 92–96

ف 7 حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر آیت فسبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا :” اسے اپنے رکوع میں پڑھا کرو۔ “ اور جب ’ دسبح اسم ربک الاعلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا ” اسے اپنے سجدہ میں پڑھا کرو۔ “ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:95) ان ۔ ھذا۔ بیشک یہ۔ (1) یعنی جو کچھ اس سورت میں جو کچھ ذکر ہوا ہے (روح المعانی) (2) قریب المرگ لوگوں کی یہ مذکور حالت (تفسیر مظہری) حق الیقین : الحق ھو الیقین۔ (1) حق اور یقین مترادف (ہم معنی) الفاظ ہیں ایسے مترادف الفاظ کی اضافت کو اضافۃ المترادفین کہتے ہیں ۔ (دو ہم معنی الفاظ کی اضافت) اور یہ مبالغہ کے لئے آتی ہے۔ جیسے کہتے ہیں کہ ھذا یقین الیقین وصواب الصواب بمعنی نہایت ہی یقینی۔ نہایت ہی نیک کام نہایت ہی درست اور درست بات۔ (روح المعانی) (2) کسی شے کی اضافت اپنی ہی طرف (دونوں الفاظ کے اختلاف کے باوجود) عربی کا اسلوب ہے قرآن مجید اور عربی کلام میں اکثر مستعمل ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–96

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–96

روح نکلنے کا ذکر۔ (ف 1) اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار کے سبب سے عقبی کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے یہ ان لوگوں کی کم عقلی اور ان کی سمجھ کا فتور ہے۔ کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ پیدا کرنے کے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد ، اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتلایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا اور سزا اور جزا ہوگی، اس انتظام میں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–96

[20] کہ یہی آخرت کی بڑی تیاری ہے اور اس نیک مشغلے میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودگیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 95–96

ف 1: ان آیات میں موت کے بعدزندگی کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ اگر مرنے والا اللہ کے مقربین میں سے ہے ۔ تو پھر اس کو بالکل بےخوف وخطر رہنا چاہیے ۔ اس کے لئے وہاں کامل مسرت اور بہترین زندگی ہے ۔ اور جنت ہے ۔ جو بجائے خود ضامن ہے ۔ ہر فلاح وسعادت اور آسودگی ونعمت کی ۔ اور اگر اس سے ذرا کم درجے میں ہے ۔ تو بھی چونکہ فرمانبرداروں اور اطاعت شعاروں میں ہے ۔ اس لئے بھی ہر خوف وہراس سے سل امتی ہے ۔ اور اگر ان لوگوں میں سے ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں حق وصداقت کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ اور اپنے لئے گمراہی اور ضلالت کی راہوں کو تجویز کیا ہے ۔ تو پھر خبر نہیں ہے ۔ ان لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ۔ کھولتے ہوئے پانی اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(95) بلا شبہ یہ حالات جو باین ہوئے یہ سراسر حق اور یقینی ہیں بیشک یہ بات یہی ہے لائق یقین کے۔ یعنی تینوں فرقوں کے جو حالات مذکور ہو ہے یہ بالکل یقینی بات ہے سابقین اصحاب یمین یعنی عامہ مومنین جس میں اہل کبائر بھی داخل ہیں کیونکہ وہ مکذبین نہیں ہیں اگرچہ گنہگار ہوں۔ اور تیسرے گمراہ اور تکذیب کرنے والے سو ان کے لئے گونا گوں عذاب بیان ہوا۔ غرض یہ جو کچھ مذکور ہوا ۔ یہ حق الیقین ہے اور ایسا ہی ہوگا پس جو پروردگار اس قسم کے تصرفات پر قادر ہے اور اس قدر عظیم الشان اس کا اقتدار اور اختیار ہے تو اس کی پاکی بیان کرنی چاہیے جیسا کہ آگے ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 87–96

ف 5۔ مطلب یہ کہ قرآن صادق ہے، اور وہ وقوع بع کا ناطق ہے، پس مقتضی وقوع متحقق ہوا، اور مانع کوئی امر ہے نہیں، پس وقوع ثابت ہوگیا، اور اس پر بھی تمہارا انکار اور نفی کئے چلا جانا بدلالت حال اس کو مستلزم ہے، کہ گویا تم روح کو اپنے بس میں سمجھتے ہو کہ گو قیامت میں خدا دوبارہ روح ڈالنا چاہئے جیسا مقتضا قرآن کا ہے، مگر ہم نہ ڈالنے دیں گے اور بعض نہ ہونے دیں گے جب ہی تو ایسی زور سے نفی کرتے ہو، ورنہ جو اپنے کو عاجز جانے وہ دلائل وقوع کے بعد ایسے زور کی بات کیوں کہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ یہ سب کچھ یقینا حق ہے 59۔ { اِنّس ہذا } یعنی قریب الموت لوگوں کی جس حالت کا ذکریا گیا ہے اور مرنے کے بعد جو کچھ ان کو پیش آنے والا ہے جس کی تفصیل اس جگہ اشارات و استعارات میں بیان کی گئی ہے اس کے حق ہونے میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے وہ حق اور یقینی حق ہے اگر کفار مکہ جھٹلا رہے ہیں تو کافروں کا اور کام ہی کیا ہے اور وہ کافر ہی کیوں ؟ اس لیے کہ وہ حق کی پرواہ نہیں کرتے تو آپ حق پر رہ کر کفر کر کی پرواہ آخر کیوں کریں گے ؟ بس آپ اپنا کام کیے چلے جائیں اور نہ ماننے والوں کے نا ماننے کی کوشش پروانہ کریں وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے کہ آپ اپنا کام کیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

At the end of this subject the Qur'an says: إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ (Indeed this is certainty in its true sense...56:95). None of the reward or punishment mentioned in the preceding verses is refutable because they are a dead certainty that has no room for any doubt or suspicion.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 83–96

42 Hadrat `Uqbah bin `Amir Juhni relates that when this verse was sent down the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) commanded that the people put it in their ruku`, i.e. they should recite Subhana Rabbi -yal-`Azim in ruku ' position in the Prayer. And when the verse Sabbih-ismi-Rabb-i- kal-A'la was Sent down, he enjoined that they put it in their sajdah, i.e. they should recite Subhana Rabb-i -yal-A 7a in sajdah. (Musnad Ahmad, Abu Da'ud, Ibn Majah, Ibn Hibban, Hakim). This show that even the most minor details of the procedure enjoined by the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace)…

Read the full tafseer →