Ayahs 56:1–3اس پیراگراف میں ایک نہایت ہی اہم بات ایک خوفناک انداز میں بیان کی گئی ہے اور یہ اسلوب ارادة اختیار کیا گیا ہے۔ عبارت کے الفاظ اور مفہوم کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔ دو بار بات کا آغاز اذا شرطیہ سے ہوتا ہے دونوں بار شرط ہے اور جواب شرط نہیں ہے۔ مثلاً ۔
اذوقعت ............ رافعة (3) (6 5: 1 تا 3) ” جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا ، وہ تہہ وبالا کردینے والی آفت ہوگی۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ واقعہ ہوگا جو سچا ہوگا اور تہہ وبالا کردینے والا ہوگا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ پھر اس وقت کیا ہوگا۔ ایک دوسری بات شروع کردی جاتی ہے کہ۔
Ayah 56:4اذا رجت .................... منبثا (6 5: 6) (6 5:4 تا 6) ” اور جب زمین یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ “ اور دوبارہ یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ ہولناک واقعہ پیش ہوگا تو پھر کیا ہوگا۔ یہ خوفناک صورتحال ایک مقدمہ ہے۔ آغاز ہے اور انجام کا ذکر ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ نتائج اس قدر ہولناک ہوں گے کہ الفاظ میں اس کا بیان ممکن نہیں ہے۔
پھر اس وقوعہ اور اس بوجھ کا پریشر ہوگا تو انسانی احساس کے اندر ارتعاش اور تزلزل پیدا ہونا متوقع ہوگا اور سباق کلام میں اس توقع کو عملی شکل عطا کرتا ہے۔
خافضة رافعة (6 5: 3) ” یہ واقعہ تہہ وبالا کرنے والا ہوگا “ یہ بعض ان قدروں کو بلند کردے گا جو دنیا میں گری ہوئی سمجھی جاتی تھیں اور ان کو نیست کردے گا جو یہاں بلند تھیں کیونکہ یہ زمین تو دارالفناء تھی۔ جہاں اقدار اور پیمانوں کا اصل حقیقی نظام ومقام کو خلل پذیر ہوجانا ہے اور پھر اللہ کے پیمانوں کے مطابق وہاں درست ہوگا۔
اس کے بعد اس زمین کے اندر ایک خوفناک بھونچال ہوگا۔ زمین کو اہل زمین ساکن اور رکی ہوئی سمجھتے ہیں یہ زمین پوری کی پوری ہلا دی جائے گی۔ اس عظیم واقعہ کو ایسے انداز میں بیان کیا گیا کہ احساسات میں اس کی جو شکل ہے تعبیر بھی ویسی ہے۔ زمین کی اس بھر پور حرکت کے بعد اب مضبوط اور اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر اڑ رہے ہیں اور یہ ریزے اور ذرے فضائے کائنات میں بکھر رہے ہیں۔
Ayahs 56:5–6وبست ............ بثا (6) (54:5 تا 6) ” اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ “
اس خوف کا کیا عالم ہوگا کہ زمین مسلسل ہل رہی ہوگی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور غبار کے ذرات کی طرح فضائے آسمان میں بکھر جائیں گے۔ کتنے ہی جاہل ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو اس خطرے سے دو چار کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ زمین اور پہاڑوں کا یہ حشر ہوگا تو انسان کیا کرسکیں گے۔
سورة کا آغاز اس خوفناک فضا میں ہوتا ہے۔ انسانی احساس و شعور پر ڈر چھا جاتا ہے۔ یہ ہوگا وہ عظیم واقعہ جس کا کافر انکار کرتے ہیں۔ مشرکین اسے جھٹلاتے ہیں۔ یہ ہے اس سورة کا پہلا منظر جس میں زمین متزلزل ، پہاڑ ریزہ ریزہ اور تمام چیزوں کو زیروزبر کردیا جائے گا۔
Ayah 56:7وکنتم ............ السبقون (01) (6 5: 7 تا 01) ” تم لوگ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے ، دائیں بازو والے ، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا اور بائیں بازو والے ، تو بائیں بازو والوں (کی بدنصیبی) کا کیا ٹھکانا اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ “
قیامت میں لوگوں کے تین گروہ ہوں گے۔ قرآن مجید کے دوسرے مشاہد میں لوگوں کے دو ہی اقسام اور گروہ بتائے گئے ہیں لیکن یہاں تین درجے بتائے گئے ہیں۔ پہلے دائیں بازو والے ان کا اصحاب المیمنہ کہا گیا ہے اور ان کے بارے میں محض سوال کردیا گیا۔ یہ محض ان کی گرانقدری کے لئے۔
Ayahs 56:8–9فاصاحب ............ المیمنة (6 5: 8) ” دائیں بازو والے ، کیا عظیم ہیں وہ دائیں بازو والے ! “ اسی انداز میں دوسرے گروہ بائیں بازو والوں کا ذکر ہے اور اس کے بعد تیسرے فریق السابقون کا ذکر ہے اور ان السابقون کو ان کی صفات سے ذکر کیا جاتا ہے۔
Ayah 56:10والسبقون السبقون (6 5: 01) ” آگے والے تو پھر آگے ہی والے ہیں۔ “ جس طرح کہا جاتا کہ وہ تو وہ ، فلاں تو فلاں ہیں ، بس ان کا نام لینا ہی ان کے مرتبہ ومقام کا اظہار کردیتا ہے۔
اس کے بعد پھر ان کی جی بھر کر تعریف کی جاتی ہے کہ ان کے لئے عالم بالا میں کیا کیا تیاریاں کی گئی ہیں۔ اگرچہ جنت کی تیاریوں کا تصور بھی نہیں ہوسکتا لیکن اہل زمین کے تجربے کے مطابق کچھ یوں ہیں۔
Ayahs 56:11–12ان پر جو انعامات الٰہیہ ہوں گی ان میں سے بڑی نعمت کے ذکر سے آغاز ہوتا ہے جو سب سے زیادہ نمایاں اور بلند ہے۔ رب تعالیٰ کے قرب کی نعمت۔
اولئک ............ النعیم (6 5: 21) ” وہی تو مقرب لوگ ، نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ “ اور اللہ کا قرب تو وہ اعزاز ہے جس کے مقابلے میں تمام جنتیں ہیچ ہیں۔ یہ تو بہت ہی قیمتی نصیبہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں کون۔
Ayahs 56:13–14ثلة ............ الاخرین (6 5:4 1) ” اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم “ یہ محدود تعداد کے لوگ ہوں گے۔ نہایت پاک لوگ ، اگلوں میں سے یہ زیادہ ہوں گے۔ روایات میں اختلاف ہے کہ یہ لوگ کون ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ وہ ایمان کی طرف لپکنے والے عالی مقام لوگ ہیں جو اسلام سے پہلے کی امتوں میں سے کسی نبی کی دعوت پر پہلے آئے اور آخرین وہ ہوں جو اسلام کی طرف پہلے لپکے اور جنہوں نے اسلام کی راہ میں آزمائش برداشت کیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اولین اور آخرین امت محمدیہ میں سے ہیں۔ پس اولین صدر اول کے لوگ ہیں اور آخرین بعد کے ادوار میں آنے والے لوگ ہیں۔ اس قول کو علامہ ابن کثیر نے ترجیح دی ہے۔ حسن اور ابن سیرین سے بھی اس کی ترجیح کے سلسلے میں روایات نقل کی ہیں۔ ابو حاتم نے روایت کی ہے ، حسن ابن محمد ابن صباح سے انہوں نے عفان سے انہوں نے عبداللہ ابن بکر الزنی سے کہ میں نے سنا کہ حسن جب اس آیت ۔
والسبقون السبقون (01) اولئک المقربون (6 5: 11) ” اور اگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں وہی تو مقرب لوگ ہیں تلاوت کی تو انہوں نے کہا کہ سابقون تو اس جہاں سے چلے گئے ، اے اللہ میں اصحاب الیمین سے بنا دے۔ اس کے بعد انہوں نے روایت کی ، اپنے والد سے ، انہوں نے ابو الولید سے ، انہوں نے السری ابن یحییٰ سے ، کہ حسن نے پڑھا۔
والسبقون ................ الاولین (6 5: 31) تو انہوں نے فرمایا زیادہ تر وہ لوگ جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں اور روایت کی میرے سامنے میرے والد نے ، عبدالعزیز سے ، انہوں نے ابن مغیرہالمنقری سے ، انہوں نے ابوہلال سے ، انہوں نے محمد ابن سیرین سے کہ انہوں نے آیت۔
ثلة من ............ الاخرین (6 5:4 1) ” اگلوں سے بہت اور پچھلوں سے قلیل “ وہ کہتے تھے (یا یہ امید رکھتے تھے) کہ وہ سب اس امت سے ہوں گے۔
یہ تفصیلات دینے کے بعد کہ یہ لوگ کون ہوں گے ، اب ان نعمتوں کی تفصیلات دی جارہی ہیں جو جنتوں میں ان کے لئے تیار ہیں اور اللہ نے ان کو اس شکل میں دیا ہے جس میں یہ سوچ بھی سکیں اور سمجھ بھی سکیں اور لطف اندوز بھی ہوسکیں اور ان نعمتوں کے علاوہ وہاں اور نعمتیں بھی ہوں گی جن کے ادراک اور استعمال کے لئے اس وقت وہ تیار ہوں گے اور وہ ایسی نعمتیں ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں ، کسی کان نے نہیں سنیں اور کسی انسان کے دل میں ان کا تصور ہی نہیں آیا۔
Ayah 56:15علی ............ موضونة (6 5: 61) ” مرصع تختوں پر “ جن کے اندر نہایت ہی قیمتی موتی اور دھاتیں لگی ہوں گی۔
Ayah 56:16متکئین .................... متقبلین (6 5: 61)
” تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ “ نہایت آرام سے اور بےفکری سے۔ کوئی غم نہیں ، کوئی مشکل نہیں ، نعمتوں میں ڈوبے ہوئے نہایت اطمینان سے۔ ان نعمتوں کے چلے جانے اور ختم ہوجانے کا تو کوئی خوف نہیں اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے محو گفتگو ہوں گے۔
Ayah 56:17یطوف ................ مخلدون (6 5: 71) ” ان کی مجلس میں “ ابدی لڑکے “ دوڑتے پھریں گے۔ “ زمانہ ان کی صحت پر اثر انداز نہ ہوگا ، ان کی جوانی اور نہ ان کی تروتازگی پر اثر انداز ہوگا جبکہ زمین پر مرور زمانے کے ساتھ لڑکپن چلا جاتا تھا۔ اور یہ کیا لئے ہوئے پھریں گے ؟
Ayah 56:18باکواب ................ معین (6 5: 81) ” شراب چشمہ جاری سے لبریز پیالے اور کنٹر اور ساغر لئے “ اور یہ صاف شراب ہوگی۔
Ayah 56:19لا یصدعون ینزفون (6 5: 91) ” جسے نہ ان سے جدا کیا جائے گا اور نہ وہ ختم ہوگی۔ “ یعنی نہ ان کو اس سے جدا کیا جائے گا اور نہ وہ ان کے سامنے ختم ہوگی کیونکہ وہاں تو ہر چیز دوام کے لئے ہے اور کسی چیز کے ختم ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔
Ayahs 56:20–21وفاکھة ............ یشتھون (6 5: 12) ” اور وہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے جس پرندے کا چاہیں۔ “ وہاں تو کوئی چیز نہ ممنوع ہوگی اور نہ کوئی ایسی چیز وہاں ہوگی جسے اہل جنت پسند نہ کریں۔
Ayahs 56:22–23وحورعین ............ المکنون (6 5: 32) ” اور ان کے لئے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی ، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ “ چھپے ہوئے موتی جن کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے بوجہ قیمتی ہونے کے ان کو چھوا جاتا ہے اور نہ ان پر نظر لگتی ہے۔ اس لئے نہ کسی ہاتھ نے ان کو استعمال کیا اور نہ آنکھ نے دیکھا اور ان کھلی آنکھوں والی حوروں کی اس تعری میں حسی اور معنوی اشارات ہیں او یہ سب انعامات کیوں دیئے جارہے ہیں۔
Ayah 56:24جزائ ................ یعملون (6 5:4 2) ” یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو دنیا میں کرتے رہے تھے۔ “ یہ بدلہ ہے اس عمل کا جو انہوں نے دارالعمل میں کیا۔ ایسا بدلہ جو نہایت ہی پورا ہے۔ کمال درجے کا ہے اور اس میں وہ تمام کمیاں پوری کردی گئی ہیں جو دارالفنا میں تھیں اور اس کے بعد وہ نہایت آرام اور سکون سے وہاں رہیں گے۔ نہایت بلندی اور پاکیزگی میں۔ کوئی لغو بات وہاں نہ ہوگی۔ کوئی بدل اور مواخذہ نہ ہوگا۔
Ayahs 56:25–26لا یسمعون ................ تائیما (6 5:5 2) ” وہاں کوئی بےہودہ کلام یا گناہ کی بات وہ نہ سنیں گے جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔ “ ان کی پوری زندگی سلامتی ہوگی۔ ہر طرف سے ان پر سلام کی شبنم آئے گی۔ سلام ہی سلام ہوگا۔ اس خوبصورت ماحول میں ملائکہ کی طرف سے سلامت مبارک ہوگی اور پھر رحمان کی طرف سے سلام ہوگا۔ لہٰذا پوری فضا اسلام ہی اسلام ہوگی۔
اس برگزیدہ فریق کی بات یہاں ختم ہوتی ہے۔ اس کے بعد اصحاب الیمین۔
Ayahs 56:27–28اور دائیں بازو والے وہ ہیں جن کی طرف سورة کے آغاز میں اشارہ ہوا تھا۔ میمنہ والے۔ ان کی تواضعات کی تفصیلات ذرا موخر کردی گئیں کیونکہ پہلے سابقین اولین کی مراعات کا ذکر مطلوب تھا۔ ان کے بارے میں وہی مبالغہ اور اظہار عظمت بذریعہ اجمال ما اصحاب الیمین (کیا ہی لوگ ہیں وہ)
ان لوگوں کے لئے بھی مادی اور محسوس انعامات ، یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی بدوی معاشرے میں اہم ہوتی ہیں اور ان کے لئے قابل فہم ہوتی ہیں۔ جن کو وہ سمجھتے اور برتتے ہیں۔
یہ لوگ فی سدرمخضود (بےخار بیریوں میں ہوں گے) السدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ کانٹے ہوں گے لیکن وہاں اس کو کانٹوں سے صاف کردیا گیا ہوگا یعنی مخضود ہوں گے وہ درخت۔
Ayah 56:29وطلح منضود (6 5: 92) ” تہ بر تہ چڑھے ہوئے کیلوں “ طلح حجاز کے درختوں میں سے ایک درخت۔ (طلح کے معنی ببول ، کیکر اور کیلا تینوں آتے ہیں۔ مولانا مودودی کا ترجمہ منضود کے ساتھ زیادہ مناسب ہے جس کے معنی تہ بر تہ اور ترتیب کئے ہوئے ہیں یا ڈھیر کے ہوتے ہیں۔
کانٹے دار اور بڑا لیکن یہ درخت یہاں منضود ہے یعنی مرتب ہے یا کھانے کے لئے تیار ہے بغیر مشقت کے کھایا جاسکتا ہے۔
Ayahs 56:30–31وظل ................ مسکوب (6 5: 13) ” اور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں اور ہر دم رواں پانی۔ “ بدوں لوگوں کے لئے یہ اہم سہولیات ہیں۔ ایک دیہاتی کے خواہشات کی دوڑ یہی تھی۔
Ayahs 56:32–33وفاکھة ............ ممنوعة (6 5: 33) ” اور کبھی ختم نہ ہونے والے اور بےروک ٹوک پھل۔ “ ان کو مجمل چھوڑ دیا گیا اور سابقہ انواع کی طرح متعین نہیں کیا گیا۔ جو اہل بادیہ کے ہاں مرغوب تھیں۔
Ayah 56:34وفروش مرفوعة (6 5:4 3) ” اونچی نشست گاہیں “ یہاں ان کی نرمی اور ان کی ترتیب کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ یہاں صرف یہ ہے کہ اونچی نشست گاہیں۔
اونچے کے دو معنی ہوتے ہیں ، مادی اور معنوی ، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ اونچا مکان ہو تو وہ پاک بھی ہوگا اور وہاں گندگی نہ جمع ہوگی اور معنوی رفعت بھی ناپاکی سے دوری ہے۔ اونچی نشست گاہوں میں پھر بیٹھا ہوا کون ہے ؟ اس لئے یہاں بیویوں کا ذکر ہوتا ہے۔
Ayah 56:35انا ............ انشاء (6 5:5 3) ” ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر پیدا کریں گے۔ “ اگر ابتداء انہیں پیدا کیا گیا تو وہ حوریں ہیں اور اگر انہیں نئے سرے سے پیدا کیا گیا ہے تو یہ دو بیویاں ہیں جو دنیا میں تھیں اور اب جوان بنا کر اٹھالی گئی ہیں۔
Ayahs 56:36–38فجعلنھن ابکارا (6 5: 63) ” اور ان کو باکرہ بنادیں گے۔ “ یعنی ان کو کسی انشان نے چھوا تک نہ ہوگا۔ عربا (شوہروں پر عاشق) شوہروں کے ساتھ محبت کرنے والیاں۔ اترابا (عمر میں ہم سن) برابر درجے کی۔ بحساب مادہ سال اور بحساب شباب اور قوت ، لا صحاب الیمین (یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لئے ہے) یعنی یہ تمام چیزیں ان کے لئے مخصوص ہیں تاکہ وہ ان کے اونچے فرشوں کے ساتھ مناسب ہوں اور یہ اصحاب الیمین کون ہیں۔
Ayah 56:39ثلة ................ الاخرین (6 5: 0 4) ” وہ اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔ “ ان کی تعداد السابقین الاولین سے زیادہ ہوگی جو مقربین ہوں گے اور یہ اس اعتبار سے جو ہم نے اولین اور آخرین کا بیان کیا ہے۔
اب یہاں بات اصحاب الشمال تک آجاتی ہے۔ اس سے پہلے سورة کے آغاز میں ان کو اصحاب المشئمہ کہا گیا ہے۔
Ayah 56:40ثلة ................ الاخرین (6 5: 0 4) ” وہ اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔ “ ان کی تعداد السابقین الاولین سے زیادہ ہوگی جو مقربین ہوں گے اور یہ اس اعتبار سے جو ہم نے اولین اور آخرین کا بیان کیا ہے۔
اب یہاں بات اصحاب الشمال تک آجاتی ہے۔ اس سے پہلے سورة کے آغاز میں ان کو اصحاب المشئمہ کہا گیا ہے۔