56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 56:81

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بےاعتنائی برتتے ہو

افبھذا ................ صدقین (87) (6 5: 18 تا 78) ” پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بےاعتنائی برتتے ہو اور تم نے تکذیب کو اپنا رزق بنا لیا ہے۔ اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اس خیال میں سچے ہو تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہا ہے اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے ؟ اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے۔ “ کیا تم اس کتاب کی باتوں میں شک کرتے ہو اور اس لئے کہ یہ تمہیں یہ کہتی ہے کہ تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ تم قرآن اور اس کے بیان کردہ قصص آخرت کی تکذیب کرتے ہو اور قرآنی عقائد و تصورات کی تکذیب کرتے ہو۔
Ayah 56:82

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور تم نے تکذیب کو اپنا رزق بنا لیا ہے۔

وتجعلون ................ تکذبون (6 5: 28) ” کہ تم تکذیب کو اپنا رزق بنا رہے ہو۔ “ اور اس کو توشہ آخرت بنا رہے ہو اور زندگی بھی تم اس تکذیب پر بسر کرتے ہو یا یہ تمہاری خوراک بن گئی ہے۔ کس قدر گندی خوراک ہے یہ۔ جب تمہاری روح حلقوم تک آجاتی ہے اور تم دنیا اور آخرت کے کنارے اور دورا ہے پر کھڑے ہوئے ہو تو تم کیا کرنے والے ہوتے ہو ، تم کر ہی کیا کرسکتے ہو .... پھر قرآن کا انداز تصویر کشی آتا ہے اور اس موقع کی بہترین تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کئی جھلکیوں کے انداز میں ہے اور مختصر جھلکیوں میں سب کچھ دکھا دیا جاتا ہے۔
Ayah 56:83

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اس خیال میں سچے ہو تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے

فلو لا ................ تبصرون (5 8) (6 5: 38 تا 5 8) ” تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہا ہے۔ اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے “ یہ ایسی تصویر کشی ہے کہ ان الفاظ۔ بلغت الحلقوم (6 5: 38) ” کے اندر سے سکرات الموت کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ہمیں نظر آتا ہے چہرے کے فیچر کھیچے جارہے ہیں ، سختی اور شدت نظر آرہی ہے۔ پھر۔
Ayah 56:84

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہا ہے

وانتم ............ تنظرون (6 5:4 8) سے نظر آتا ہے کہ اس کے ارد گرد بھی اقرباء عاجز والا چار کھڑے ہیں۔ اب روح اس دنیا سے پرواز کرگئی ہے اور میت نے سب کچھ پیچھے دنیا میں چھوڑ دیا ہے۔ یہ جدید اور نئی دنیا میں قدم رکھ رہا ہے۔ اب اس کے پاس صرف وہی کچھ ہے جو کمکایا ہے۔ باقی خیروشر پر اب اسے کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہاں اس جدید دنیا میں یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے لیکن پیچھے مڑ کر کسی کو کچھ بتا نہیں سکتا۔ وہ اپنے ماحول سے جدا ہوچکا ہے۔ ایک جسم پڑا ہے جسے ناظرین دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں بھی نہیں پتہ کہ اس پر کیا گزر رہی ہے۔ یہاں آکر انسان کی قدرت اور انسان کے علم کے حدود ختم ہوجاتے ہیں۔ اس مقام پر آکر انسان اعتراف کرتے ہیں کہ وہ عاجز و لاچار ہیں۔ وہ بہت ہی محدود قوت کے مالک ہیں اب کوئی جدال نہیں رہتا .... یہاں آکر اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے ، کچھ نظر نہیں آتا ، کچھ معلوم نہیں اور منظر پر کوئی حرکت نظر نہیں آتی۔ اب صرف قدرت الٰیہہ ہی ہوتی ہے۔ علم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور اس امر میں اب کوئی شبہ نہیں رہتا بلکہ شبہ کاشائبہ تک نہیں رہتا نہ جدل ہے اور نہ حیلہ۔
Ayah 56:85

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے۔

ونحن ............ تبصرون (6 5:5 8) ” اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔ “ یہاں اب منظر پر شان باری ہے۔ اللہ کا خوف چھا جاتا ہے۔ اللہ تو ہر وقت حاضروناظر ہے لیکن قرآن کا یہ کمال ہے کہ وہ انسان کے خوابیدہ شعور کو جگا دیتا ہے چناچہ مجلس موت پر اللہ کے شعوری حضور سے فضا زیادہ ہولناک ہوجاتی ہے جبکہ تمام لوگ ڈرے ہوئے سہمے ہوئے اور عاجز ہیں اور الوداع الوداع کا ماحول ہے۔ ایسی فضا میں ایک چیلنج آتا ہے نہایت ہی کپکپانے والی ، پر تاسف ، پر فغاں محفل میں اور سخت حسر تناک ماحول میں اللہ کی طرف سے ایک چیلنج آتا ہے۔
Ayahs 56:86–87

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے ؟ اگر تم سچے ہو

فلو لا ............ صدقین (78) (6 5: 68۔ 78) ” اب اگر تم کسی کے محوم نہیں اور اپنے خیال میں سچے ہو تو اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لاتے۔ “ اگر بات اس طرح ہے جس طرح تم کہتے ہو ، کہ کوئی جزا وسزا نہیں ہے اور تم آزاد ہو تو روح جب حلقوم کو آجائے تو وہاں سے لوٹا دو کیونکہ وہ تو حساب و کتاب دینے جارہی ہے اور تمہارے ہوتے ہوئے جارہی ہے تم بےبس کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہو وہ تو ایک بڑی ذمہ داری کا جواب دینے جارہی ہے اور تم خاموش اور بےبس کھڑے ہو۔ اب تمام صحبتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ ہر دلیل رد ہوجاتی ہے۔ ہر حیلہ اور ہر بہانہ ختم ہوتا ہے اور اس حقیقت کا دباؤ انسانی جسم اور عقل پر اور زیادہ ہوجاتا ہے اور وہ دفاع کی قوت نہیں رکھتا۔ اسے تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں رہتا الا یہ کہ وہ ہٹ دھرمی پر اترآئے۔ اب تھوڑا سا تبصرہ اس روح پر ہوتا ہے جو پرواز کرگئی ہے۔ یہ حلقوم تک آئی ، اس نے اس فانی زندگی پر آخری نظر ڈالی اور باقی رہنے والی دنیا پر نظر ٹکا دی اور اس میدان کی طرف سفر کرگئی۔ جس میں ہر شخص سے باز پرس ہوگی جس کی یہ مکذبین تکذیب کررہے ہیں :۔
Ayahs 56:88–89

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

تو اس کے لئے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے

فاما .................... جحیم (4 9) (6 5: 88 تا 4 9) ” پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو تو اس کے لئے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے تو اصحاب الیمین میں سے ہے اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو تو اس کی تواضع کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جانا “ سورة کے آغاز میں مقربین کے انعامات کا ذکر ہوگیا ہے ان کے لئے روح اور راحت ہے۔ راحت ، رزق حسن اور نعمتوں والی جنت۔ ان الفاظ ہی سے ان نعمتوں کی لطافت ظاہر ہے۔ میٹھی راحت ، نرم اور نازک سہولیات اور محبت و اعزاز۔
Ayahs 56:90–91

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے تو اصحاب الیمین میں سے ہے

واما ان ............ الیمین (6 5: 09) ” اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو۔ “ تو ان کی طرف روئے سخن براہ راست ہوتا ہے۔ اصحاب الیمین اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور اس وقت یہ سلام کس قدر خوبصورت ہوگا۔ اس کی روح ابھی نکلی ہی نہیں کہ سلام سنائی دیتا ہے۔ ایسا جانے والا مطمئن ہوکر جاتا ہے اور آنے والے زمانہ کی طرف مشتاق ہوتا ہے۔
Ayahs 56:92–94

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو اس کی تواضع کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور جہنم میں جھونکا جانا ہے۔

واما ان ............ جحیم (6 5:4 9) ” اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں سے ہو تو اس کی تواضح کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جاتا ہے۔ “ کیا ہی بری تواضع ہے۔ گرم پانی اور عذاب جہنم۔ وہ دور سے دیکھ رہا ہے کہ اسے اس جہنم میں جانا ہے۔ روح قبض ہونے کے ساتھ ہی۔ اب بات انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ خاتمہ نہایت ہی نرم دھیمے آواز میں۔ نہایت نیچی سروں میں۔
Ayahs 56:95–96

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

یہ سب کچھ قطعی حق ہے ،

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “

ان ھذا ............ العظیم (69) (6 5:5 9 تا 69) ” یہ سب کچھ قطعی حق ہے ، پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “ یہ آخری پر سوز تلقین ہے۔ سچائی کے پلڑے میں وزن ڈالا جاتا ہے۔ قلب مومن نے حق الیقین کرلیا ہے کہ واقعہ سچ ہے اور ہونے والا ہے۔ سورة ختم ہوتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے۔” رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو “ اور اسی سے نماز میں سبحان ربی العظیم جاری ہوا۔