56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 56:1–6

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

کسی کو پست کرے کسی کو بلند

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں

(1۔ 6) جب قیامت قائم ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی اختلاف اور شبہ و تردد نہیں ہے وہ بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے پست کر کے دوزخ میں داخل کردے گا اور بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے بلند کر کے جنت میں داخل کردے گا۔ اور قیامت کو واقع سخت آواز کی وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت ایسی سخت ترین آواز ہوگی کہ نزدیک اور دور والے سب سن لیں گے جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا کہ اونچی اونچی عمارتیں اور پہاڑ پارہ پارہ ہوجائیں گے۔ اور روئے زمین پر پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے یا یہ کہ اکھڑ پڑیں گے یا یہ کہ ستو اور اونٹوں کے چارہ کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے جیسا کہ سواریوں کے پیروں سے غبار اڑتا ہے یا سورج کی کرن ہوتی ہے جو کہ دروازہ کے سوراخ یا روشن دان سے کمرہ میں داخل ہوتی ہے۔
Ayahs 56:7–8

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین) میں ہیں

(7۔ 8) اور تم قیامت کے دن تین قسم کے ہوجاؤ گے سو ان میں جو داہنے والے ہیں وہ دائیں والے کیسے اچھے ہیں یعنی جن کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا تو بطور تعجب کے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ محمد آپ کو کیا معلوم کہ ان کے لیے کیا کیا نعمتیں اور خوشیاں ہوں گی۔
Ayah 56:9

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں

اور ان میں جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں یعنی جن کے نامہ اعمال اللہ تعالیٰ ان کے بائیں ہاتھ میں دے گا اور ان کو دوزخ میں داخل کرے گا تو آپ کو کیا معلوم ہے کہ دوزخیوں کو دوزخ میں کس قدر ذلت اور عذاب کی سختی ہوگی۔
Ayahs 56:10–12

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (انکا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی (خدا کے) مقرب ہیں

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمت کی بہشتوں میں

(10۔ 12) اور تیسری قسم جو اعلی درجے کے ہیں وہ تو اعلی درجے کے ہی ہیں یعنی جو دنیا میں ایمان جہاد ہجرت تکبیر اولی اور تمام نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں وہ جنت میں بھی پیش پیش ہیں۔
Ayahs 56:13–14

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے

(13۔ 14) اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص قرب رکھنے والے ہیں۔ ان مقربین کا ایک بڑا گروہ تو اگلی امتوں میں سے ہوگا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے یعنی رسول اکرم کی امت میں سے اور کہا گیا ہے کہ یہ دونوں گروہ رسول اللہ کی امت میں سے ہوں گے۔ جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو رسول اکرم اور صحابہ کرام اس آیت کے نزول کی وجہ سے غمگین ہوئے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۔ شان نزول : ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ (الخ) امام احمد بن منذر اور ابن ابی حاتم نے سند غیر معروف کے ساتھ ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ تو یہ چیز صحابہ کرام پر گراں گزری اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۔ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ایسی سند کے ساتھ جس میں نظر ہے بطریق عروہ بن رویم جابر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت سورة واقعہ نازل ہوئی اور اس میں ـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۔ یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر فاروق نے عرض کیا یا رسول اللہ ایک بڑا گروہ اگلوں میں سے اور تھوڑا سا ہم میں سے تو اس پر سورت کا آخری حصہ ایک سال تک رکا رہا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ ُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۔ تب رسول اکرم نے فرمایا عمر آؤ اور جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اسے سنو یعنی ـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۔ اور ابن ابی حاتم نے عروہ بن رویم سے مرسلا اور سعید بن منصور نے اپنی سنن میں اور بیہقی نے بعث میں عطاء و مجاہد سے روایت نقل کی ہے۔ کہ جب اہل طائف نے اس وادی کی درخواست کی جو کہ ان کے لیے تیار کی جائے اور اس میں شہد ہو، چناچہ ایسا ہی ہوا اور وہ بہت اچھی وادی تھی تو لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایسی ایسی چیزیں ہیں اس پر اور لوگوں نے کہا کاش جنت میں ہمارے لیے اس وادی کی طرح وادی ہو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اور جو دائیں والے ہیں وہ دائیں والے کچھ اچھے ہیں۔ اور امام بیہقی نے دوسرے طریق سے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ لوگ وادی بوج اور اس کے سایہ اور اس کے کیلوں اور بیروں پر تعجب کیا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور جو داہنے والے ہیں۔ (الخ)
Ayahs 56:15–16

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے

(15۔ 16) او وہ مقرب لوگ سونے اور چاندی کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر جن پر موتی اور یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے تکیہ لگائے آمنے سامنے خوشی کے ساتھ بیٹھے ہوں گے۔
Ayah 56:17

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ رہیں گے نہ ان کو موت آئے گی اور نہ وہ نکالے جائیں گے یا یہ کہ کفار کی اولاد یہ چیزیں لے کر جنت میں ان کے پاس آمد و رفت کیا کریں گے۔
Ayahs 56:18–21

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے کر

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ انکی عقلیں زائل ہوں گی

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے

آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی پاکیزہ شراب سے بھر جائے گا اور دنیا کی شرابوں کی طرح نہ تو اس شراب سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ ان کی عقل میں کسی قسم کا فتور آئے گا اور ان کے لیے قسم قسم کے میوے ہوں گے جن کو وہ پسند کریں گے اور مختلف قسم کے پرندوں کا گوشت جو ان کو پسند ہوگا۔
Ayahs 56:22–23

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے (حفاظت سے) تہ کئے ہوئے (آبدار) موتی

(22۔ 23) اور ان کے لیے گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت عورتیں ہوں گی جیسے حفاظت سے چھپا کر رکھا ہوا موتی۔
Ayahs 56:24–27

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں نہ بےہودہ باتیں سنیں گے اور نہ گالی گلوچ

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہو گا)

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں

(24۔ 27) یہ ثواب جنتیوں کو ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا اور جنت میں بک بک اور نہ جھوٹی بات سنیں گے اور نہ کوئی گالی گلوچ۔ بس ہر طرف سے سلام کی آواز آئے گی کہ خود ایک دوسرے کو سلام کرتے رہیں گے اور فرشتوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام نازل ہوتا رہے گا اور محمد آپ کو کیا معلوم کہ جنت والوں کے لیے کیا کیا نعمتیں اور خوشیاں ہیں۔