55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 55:1–3

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

(خدا جو) نہایت مہربان

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اسی نے انسان کو پیدا کیا

(1۔ 3) کہ رحمن نے بذریعہ جبریل امین رسول اکرم اور بذریعہ حضور آپ کی امت کو قرآن کریم کی تعلیم دی، یعنی جبریل امین کے ذریعے سے رسول اکرم پر قرآن کریم نازل کیا اور آپ کو قرآن حکیم دے کر آپ کی امت کی طرف مبعوث فرمایا اور اسی نے انسان یعنی آدم کو پیدا کیا اور پھر ان کو گویائی دی اور تمام ان چیزوں کے جو کہ روئے زمین پر ہیں نام سکھائے۔
Ayahs 55:4–5

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اسی نے اس کو بولنا سکھایا

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں

(4۔ 5) اور پھر اس کے حکم سے اپنی منزلوں پر چاند و سورج حساب کے ساتھ چلتے ہیں یا یہ کہ آسمان و زمین کے درمیان معلق ہیں یا یہ کہ ان پر حساب ہے اور انسانوں کی مدتوں کی طرح ان کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔
Ayah 55:6

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں

اور بےتنا کے درخت اور تنا دار درخت اللہ کے فرمانبردار ہیں، نجم ہر اس درخت کو کہتے ہیں جو کھڑا نہ ہوسکے بلکہ زمین پر پھیلے اور شجر تنا دار درخت کو کہتے ہیں
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی

اور اسی نے آسمان کو سب سے اونچا کیا ہے کہ اس تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی اور اسی نے زمین میں عدل و انصاف کے قائم رکھنے کے لیے ترازو رکھ دی تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔
Ayah 55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو

اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک روکھو یا یہ کہ اپنی زبانوں کو سچائی کے ساتھ ٹھیک رکھو اور تول میں کمی مت کرو کہ اس سے لوگوں کے حق مارنا شروع کردو۔
Ayahs 55:9–10

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کم مت کرو

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی

اور اسی نے تمام مخلوق کے لیے خواہ زندہ ہوں یا مردہ زمین کو پانی پر بچھا دیا۔
Ayahs 55:11–13

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

تو (اے گروہ جن وانس !) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

(11۔ 13) کہ اس زمین میں مختلف اقسام کے میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل پر غلاب چڑھا ہوتا ہے اور اس میں مختلف قسم کے بھوسا اور پتے والے غلے ہیں اور اس میں غذا کی چیز اور پھل بھی ہیں۔ سو رسول اکرم کی ذات اقدس کے علاوہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Ayahs 55:14–16

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(14۔ 16) اسی نے آدم کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکری کی طرح بجتی ہے پیدا کیا، اور جنات و شیاطین کی اصل کو ایسی آگ سے جس میں دھواں نہ تھا پیدا کیا سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:17–18

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

(17۔ 18) وہ گرمی اور سردی کے دونوں شمرق اور ایسے ہی دونوں مغرب کا مالک ہے۔ دونوں مشرق کی ایک سو اسی منزلیں ہیں اسی طرح دونوں مغرب کی اور اتنی ہی چاند کی منزلیں ہیں اور کہا گیا ہے کہ دونوں مشرق اور دونوں مغرب کی ایک سو ستتر منزلیں ہیں پورے سال میں سورج دو دن تک ایک منزل سے طلوع ہوتا ہے اور اسی طرح ایک منزل میں غروب ہوتا ہے، سو اے جن انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:19–21

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(19۔ 21) اسی نے دو دریاؤں شیریں اور تلخ کو ملا دیا کہ آپس میں ایک دوسرے کا پانی نہیں ملتا اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب ہے کہ جس سے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل نہیں سکتے اور نہ ایک دوسرے کا پانی تبدیل کرسکتے ہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:22–25

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(22۔ 25) ان دونوں سے بالخصوص کھاری دریا سے موتی اور مونگا پیدا ہوتا ہے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔ اور اسی کے اختیار اور ملکیت میں جہاز ہیں جو سمندر میں پہاڑو کی طرح اونچے کھڑے نظر آتے ہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:26–28

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو مخلوق زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکت) جو صاحب جلال و عظمت ہے باقی رہے گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(26۔ 28) جتنے جن و انس روئے زمین پر موجود ہیں سب فنا ہوجائیں گے یا یہ کہ جو بھی کام غیر اللہ کے لیے کیا جائے گا اس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا اور آپ کے رب کی ذات جو کہ عظمت وقدرت والی اور احسان اور درگزر کرنے والی ہے باقی رہ جائے گی۔ یا یہ کہ جو نیکی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا جوئی کے لیے کی جائے گی وہ باقی رہ جائے گی سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:29–30

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(29۔ 30) اسی سے تمام فرشتے اور مومنین مانگتے ہیں، چناچہ زمین والے اس سے مغفرت کی توفیق عصمت و کرامت اور رزق مانگتے ہیں۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں رہتا ہے تمام امور اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جو کہ احاطہ اور شمار سے باہر ہیں چناچہ وہ ہی جلاتا اور مارتا ہے اور وہ ہی عزت و ذلت دیتا ہے وہی لوگوں کو اولاد عطا کرتا ہے اور وہی غلاموں کو رہا کراتا ہے، سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:31–32

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے دونوں جماعتو ! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(31۔ 32) سو اے جن و انس ہم تمہارے دنیاوی کاموں کو محفوظ کرا لیتے ہیں اور عنقریب قیامت میں تم سے ان اعمال پر حساب و کتاب لیں گے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:33–34

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جن و انس ! اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(33۔ 34) اے گروہ جن و انس کے اگر تمہیں یہ قدرت ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حدود اور فرشتوں کی صفوں سے کہیں باہر نکل جاؤ تو نکلو بھاگو مگر بغیر طاقت اور زور کے نہیں نکل سکتے اور طاقت و زور ہے نہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:35–36

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(35۔ 36) اے جن و انس جس وقت تم قبروں سے اٹھو گے تو تم دونوں پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا جو تمہیں محشر کی طرف ہانک کرلے جائے گا اور تم اسے ہٹا نہ سکو گے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:37–38

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(37۔ 38) جس روز فرشتوں کے کثرت نزول کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جلال سے آسمان پھٹ جائے گا اور ایسا سرخ ہوجائے گا جیسا کہ تیل ہوتا ہے یا یہ کہ جیسا کہ گلاب کا پھول ہوتا ہے یا ایسا سرخ ہوجائے گا جیسا کہ سرخ نری یعنی سیاہی مائل چمڑا۔ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:39–40

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(39۔ 40) اور قیامت کے دن حساب کے بعد کسی انسان اور جن سے اس کے عمل کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا کیونکہ مومن خودبخود اپنے سفید چمکدار چہرے سے پہچانا جائے گا یا یہ کہ کسی انسان اور جن سے اس کے جرم کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔