56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsانوار البیان

Ayah 56:1

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

(56:1) اذا وقعت : اذا ظرفیہ ہے جس میں شرط کے معنی شامل ہیں۔ جب۔ وقعت ماضی واحد مؤنث غائب۔ وقوع (باب فتح) مصدر۔ ماضی بمعنی مستقبل ہے (جب) قائم ہوجائے گی۔ جب واقع ہوگی۔ جب بپا ہوجائے گی۔ الواقعۃ : اسمفاعل کا صیغہ واحد مؤنث وقع وقوع (باب فتح) مصدر لازمی ہونے والی۔ لازمی وقوع پذیر ہونے والی۔ بعض کے نزدیک یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے الطامۃ (79:34) آفت۔ الصاخۃ (80:33) وہ چیخ جو کانوں کو پھوڑ دے۔ یعنی اپنی سختی کے باعث بہرا کر دے۔ الازفۃ (40:18) نزدیک آلگنے والی۔ جس کے آنے کا وقت بہت تنگ ہوگیا ہو۔ القارعۃ (101:1) کھڑکھڑانے والی۔ اذا وقعت الواقعۃ جملہ شرطیہ ہے۔ جب واقع ہونے والی وقوع پذیر ہو جائیگی۔
Ayah 56:2

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں

(56:2) لیس فعل ناقص، نہیں ہے۔ لوقعتھا لام حرف جار وقعۃ مصدر مجرور۔ مضاف، ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (کا مرجع القاعۃ ہے) مضاف الیہ ۔ اس کے واقع ہونے میں۔ کاذبۃ : اسم فاعل واحد مؤنث نکرہ بمعنی حاصل مصدر۔ جھوٹ۔ اس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔ اس معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وان الساعۃ لاتیۃ لاریب فیہا (40:59) بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔
Ayah 56:3

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

کسی کو پست کرے کسی کو بلند

(56:3) خافضۃ رافعۃ خبر مبتدا محذوف کی : ای ہی۔ خافضۃ اقواما کانوا مرتفعین فی الدنیا ورافعۃ اقواما کانوا منخفضین فی الدنیا (اضواء البیان) ۔ پست اور ذلیل کرنے والی۔ جو دنیا میں مغرور تھے۔ ان لوگوں کو بلند کرنے والی جو کہ دنیا میں منکر المزاج تھے۔ مطلب یہ کہ قیامت کی گھڑی پست کرنے والی ہوگی بہت سے دنیا کے سربلندوں کو جو خدا تعالیٰ سے غافل اور اس کے منکر اور اس کے احکام کی پابندی نہ کرنے والے تھے لیکن پست و ذلیل سمجھے جاتے تھے۔ خافضۃ رافعۃ صفت ہے الواقعۃ کی۔ خافضۃ اسم فاعل واحد مؤنث غائب خفض باب ضرب مصدر بمعنی پست کرنا۔ پست ہونا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین (26:215) اور مومنوں میں سے جو تمہارے پیروکار ہوگئے ہیں ان پر اپنے (تواضع اور شفقت کے) پر نیچے کردے (پھیلادے) رافعۃ اسم فاعل واحد مؤنث رفع (باب فتح) مصدر۔ بمعنی بلند کرنا۔ اوپر اٹھانا۔
Ayah 56:4

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے

(56:4) اذا رجب الارض رجا : یہ جملہ بدل ہے اذا وقعت الواقعۃ سے رجت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ رج (باب نصر) مصدر۔ وہ بلائی گئی۔ وہ جنبش دی گئی۔ رجا مفعول مطلق۔ جب وہ (زمین) خوب ہلائی جائے گی۔ (ماضی بمعنی مستقبل)
Ayah 56:5

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں

(56:5) وبست الجبال بسا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ بست ماضٰ مجہول واحد مؤنث غائب۔ بس (باب نصر) مصدر بمعنی خلط ملط کرنا۔ اجزاء کا باہم دگر ملا دینا ریزہ ریزہ کرنا۔ عربی قاعدہ ہے کہ جب فاعل اسم ظاہر ہوتا ہے تو فعل کو واحد لاتے ہیں۔ اور جمع مکسر کا حکم (یعنی جس میں واحد کا وزن سلامت نہ رہے) مؤنث غیر حقیقی کا حکم ہے اس کے لئے مذکر کا صیغہ بھی لایا جاسکتا ہے اور مؤنث کا بھی۔ چناچہ بست الجبال بسا میں چونکہ جبال جمع مکسر ہے۔ اس لئے اس کے لئے واحد مؤنث کا صیغہ لایا گیا۔ لہٰذا یہاں بست کے ترجمہ میں صیغہ جمع کے معنی لینا چاہئیں۔ یعنی جب پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے : بسا مفعول مطلق ہے تاکید کے لئے لایا گیا ہے
Ayah 56:6

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں

(56:6) فکانت :سببیہ ہے پس بسبب اس کے۔ فکانت ای فکانت الجبال۔ پس پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ ھبائ۔ اسم مفرد (ھ ب و۔ مادہ) باریک خاکم باریک ذرات، جو سورج کے رخ پر کواڑ کے سوراخوں سے نظر آتے ہیں۔ کانت کی خبر ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے :۔ فجعلنہ ھباء منشورا۔ (25:23) اور ہم ان کو اڑتی ہوئی خاک کردیں گے۔ منبتا اسم فاعل واحد مذکر، پراگندہ ۔ اصل میں منبثث تھا۔ یا یہ اسم مفعول ہے۔ اس صورت میں یہ منبثث ہے ث کو ث میں ادغام کردیا گیا ہے۔ انبثاث (انفعال) مصدر۔ بکھر جانا۔ پھیل جانا۔ متشر ہونا۔ پراگندہ ہونا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے یوم یکون الناس کالفراش المبثوث (101:4) جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوں گے۔
Ayah 56:7

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ

(56:7) وکنتم ازواجا ثلثۃ۔ واؤ عاطفہ۔ ازواجا زوج کی جمع۔ جوڑا ۔ یہاں اس کے معنی گروہ۔ صنف، جماعت کے ہیں۔ اور تم تین اقسام میں یا گروہ میں ہوجاؤ گے۔ یہاں کان بمعنی صار مستعمل ہے۔ ایسے ہی آیت ولا تقربا ھذا الشجرۃ فتکونا من الظلمین (2:35) اور اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے میں کان بمعنی صار استعمال ہوا ہے۔ ارواجا ثلثۃ موصوف و صفت مل کر کنتم کی خبر۔
Ayah 56:8

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین) میں ہیں

(56:8) فاصحب المیمنۃ یہ جملہ شرطیہ اذا وقعت الواقعۃ کا جملہ جزائیہ ہے جواب اذا ھو قولہ : فاصحب المیمنۃ فالمعنی اذا قامت القیامۃ و حصلت ھذہ الاحوال العظیمۃ ظھرت منزلۃ اصحب المیمنۃ واصحاب المشئمۃ (اضواء البیان) اذا کا جواب شرط خداوند تعالیٰ کا قول فاصحب المیمنۃ ہے۔ مطلب یہ کہ جب قیامت وقوع پذیر ہوگی اور یہ احوال عظیمہ (زمین کا یکبارگی ہلا دیا جانا۔ پہاڑوں کا ریزہ ریزہ کردیا جانا۔ اور ان کا پراگندہ غبار بن کر رہ جانا اور لوگوں کا تین گروہوں میں تقسیم ہوجانا) واقع ہوں گے۔ تو اصحاب المیمنہ اور اصحاب المشئمہ کی قدرو منزلت عیاں ہوگی۔ فاصحب المیمنۃ :عاطفہ ہے۔ اصحب المیمنۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء ما استفہامیہ ہے (کون ہوں گے وہ ؟ ان کی کیا حالت ہوگی ؟ اور ان کی کیا صفت ہوگی ؟ ) یا استفہامیہ برائے تعجب ہے (کیا ہی ان کی شان ہوگی) ما مبتدا ثانی ہے اور اصحب المیمنۃ اس کی خبر، یہ مبتداء اپنی خبر سے مل کر مبتداء اول (اصحب المیمنۃ) کی خبر ہوا۔
Ayah 56:9

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں

(56:9) واصحب المشئمۃ ما اصحب المشئمۃ۔ اور ایک گروہ بائیں ہاتھ والوں کا کیا ہی ان کی خستہ حالی ہوگی ؟ اور اس کی ترکیب وہی ہوگی جو 52:8 میں ہے۔
Ayah 56:10

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (انکا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں

(56:10) والسبقون السبقون : (اور تیسرا گروہ) آگے والے تو آگے والے ہی ہیں َ واؤ عاطفہ السبقون مبتدائ۔ السبقون (ثانی) اس کی خبر، اور سابقون آگے نکل جانے والے ہیں۔ یا دوسرا السبقون پہلے کی نعمت ہے۔ سابقون : آگے بڑھنے والے۔ آگے پہنچنے والے ، آگے نکل جانے والے، سبقت لیجانے والے۔ صیغہ جمع مذکر سابق کی جمع سبق (باب ضرب ونصر) مصدر۔ علماہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں : اول السابقون میں الف لام جنسی ہے اور دوسرے السابقون میں الف لام عہد کا ہے ۔ یعنی سابقین وہی سابقین ہیں جن کے حال و کمال و مآل سے تم واقف ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ سابقین وہی لوگ ہیں جو جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ السبقون کے متعلق متعدد اقوال ہیں :۔ (1) اسلام ، اطاعت، قرب خداوندی کی طرف سبقت کرنے والے۔ (2) گروہ انبیائ۔ ایمان اور اطاعت خداوندی میں سب کے پیشوا۔ (3) جو ہجرت میں سبقت کرنے والے تھے۔ وہی آخرت میں بھی پیش روہوں گے۔ (ابن عباس) (4) وہ انصار اور مہاجر مراد ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی (ابن سیرین (رح)) (5) دنیا میں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق میں سبقت کی ۔ وہی جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہوں گے۔ (ربیع بن انس) ۔ (6) پانچویں نمازوں کی طرف پیش قدمی کرنے والے مراد ہیں۔ (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) ان تمام اقوال کا حاصل یہ ہے کہ السابقون سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔
Ayah 56:11

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی (خدا کے) مقرب ہیں

(56:11) اولئک المقربون ـ اولئک ای السابقون۔ مبتداء المقربون اسم مفعول جمع مذکر۔ تقریب (تفعیل) مصدر ۔ قریب کئے ہوئے۔ زیادہ عزت والے۔ مبتدا کی خبر۔ وہی تو مقرب لوگ ہیں۔ فائدہ : ان مذکورہ بالا تینوں اصناف میں سب سے بلند درجہ السبقون کا ہے۔ لیکن سب سے اخیر ان کا ذکر اس لئے آیا ہے کہ انہیں کے فضائل و درجات سب سے اول بیان کرنا مقصود تھا اس صورت میں اتصال ہوگیا۔ پہلے صرف اختصارا ہر سہ اصناف کا ذکر ہوا۔ اب تفصیلاً ان کے فضائل مذکورہ ہونگے السبقون آیت 11 سے 26 تک اصحب الیمین آیت 27 اے 41 تک ، اور اصحب الشمال آیت 41 سے آیت 56 تک۔
Ayah 56:12

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمت کی بہشتوں میں

(56:12) فی جنت النعیم جملہ خبر ثانی ہے اولئک کی یا یہ ضمیر المقربون سے حال ہے ۔ جنت کی اضافت النعیم کی طرف مکان کی اضافت ما فیہ کی طرف ہے وہ نعمت بھری جنتوں میں ہوں گے۔ نعیم بمعنی نعمت۔ راحت، عیش۔
Ayahs 56:13–14

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے

(56:13) ثلۃ : ابنوہ کثیر۔ بڑی جماعت۔ اصل میں ثلۃ لغت میں اون کے گھ بےکو کہتے ہیں کثرت اجتماع کی مناسبت سے انبوہ کثیر کے لئے بھی ثلثۃ کا استعمال ہوتا ہے ۔ اولین : اول کی جمع ہے۔ اگلے ۔ پہلے، اس سے کون مراد ہیں ؟ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ : ثلۃ من الاولین سے مراد وہ تمام امتیں ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ کے عہد نبوت تک گزریں۔ اور قلیل من الاخرین سے مراد امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام ہے۔ بعض کے نزدیک اولین سے مراد صدر اول کے مسلمان یعنی تینوں قرون ، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین، ؓ تفسیر حقانی میں ہے :۔ ابن سیر کا قول ہے کہ ثلۃ من الاولین (آیت 13) وقلیل من الاخرین (آیت 14) میں اسی امت خیر الامم کے اولین و آخرین مراد ہیں۔ کہ اس کے اولین یعنی خیر القرون کے لوگوں میں سابقین بہت ہیں اور پچھلوں میں جو خیر القرون کے بعد کا زمانہ ہے ان میں کم۔ (رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے میری امت کا بہترین قرن میرا قرن ہے پھر وہ لوگ ہیں جو میرے قرن والوں کے متصل ہیں۔ پھر وہ لوگ جو قرن دوم کے متصل ہیں۔۔ الخ۔ ثلۃ مبتداء قلیل معطوف (جس کا عطف ثلۃ پر ہے) علی سور اس کی خبر ہے۔
Ayah 56:15

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر

(56:15) سرر جمع ہے۔ سریر کی ، بمعنی تخت ، چارپائی۔ پلنگ وغیرہ موصوف۔ مرضونۃ صفت، اسم مفعول کا صیغہ مؤنث، وضن (باب ضرب) مصدر سے سونے کے پتروں اور تاروں سے بنے ہوئے ۔ جڑاؤ۔ (محلی) زرہ کی کڑیوں کی طرح بنے ہوئے (بغوی) قطار در قطار رکھے ہوئے (ضحاک) ۔ سونے کے تاروں سے گھنی بناوٹ والے۔ جواہرات سے جڑے ہوئے (عام اہل تفسیر)
Ayah 56:16

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے

(56:16) متکئین : اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ تکیہ لگانے والے۔ علیہا ای علی سرر (پلنگوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے) ۔ متقبلین : اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ تقابل (تفاعل) مصدر آمنے سامنے (بیٹھے ہوں گے) ۔ متکئین ، متقبلین دونوں حال ہیں ضمیر فی الجز علی سرر سے۔
Ayah 56:17

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

(56:17) یطوف علیہم ولدان مخلدون۔ جملہ مستانفہ ہے۔ یطوف مضارع واحد مذکر غائب طوف طواف (باب نصر) مصدر۔ چکر لگائیں گے۔ چکر لگاتے رہیں گے۔ یعنی خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے۔ علیہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان جنتیوں کے لئے ہے جو سابقون میں سے ہوں گے۔ ولدان۔ جنت کے غلمان۔ مخلدون اسم مفعول جمع مذکر۔ اس کا واحد مخلد۔ تخلید (تفعیل) مصدر۔ خلد ایک قسم کی بالیاں ہیں مخلد وہ جس کو بالیاں پہنائی ہوئی ہوں۔ یعنی ایسے غلمان جن کو بالیاں پہنا رکھی ہوں گی۔ یا یہ الخلود سے ہے جس کے معنی فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں اور جب کسی چیز میں عرصہ دراز تک فساد و تغیر پیدا نہ ہو اہل عرب اسے خلود کے ساتھ متصف کرتے ہیں اس لحاظ سے مخلد اسے کہیں گے جس میں عرصہ دراز تک تغیر و فساد نہ ہو۔ اسی بناء پر جس شخص میں باوجود بڑی عمر کے بڑھاپا نہ آئے اسے مخلد کہا جاتا ہے یہاں آیت ہذا میں ایسے لڑکے مراد ہیں جو کہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت میں ٹھہری رہے گی۔
Ayah 56:18

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے کر

(56:18) باکواب : ای یطوف علیہم باکواب ۔۔ الخ ۔ (ہاتھوں میں) آنجوائے ۔۔ لئے (جنتیوں میں خدمت کی خاطر) گردش کرتے رہیں گے۔ اکواب۔ کو ب کی جمع بمعنی کوزہ، پیالہ۔ ایسا برتن جس کا دستہ (ہینڈل) اور ٹوٹی نہ ہو ۔ اباریق : ابریق کی جمع بمعنی آفتابہ۔ ایسا برتن کہ جس کا دستہ اور ٹوٹی ہو۔ غیر منصرف اس لئے کہ باوجود یہ کہ اکواب کا معطوف ہے اس کے آخر میں تنوین نہیں آئی۔ وک اس من معین : واؤ عاطفہ۔ کاس معطوف اس کا عطف بھی اکواب پر ہے یا اباریق پر۔ بمعنی شراب سے برا ہوا جام، (شراب پینے کا برتن) ۔ معین معن (باب نصر) مصدر سے۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی جاری ۔ معن : پانی کا بہنا۔ پانی کا جاری ہونا۔ پانی کو جاری کرنا۔ امعان باب افعال سے پانی کا جاری ہونا۔ زمین کا سیراب ہونا۔ یہاں مراد شراب جو جنت کی نہروں میں جاری ہوگی۔
Ayah 56:19

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ انکی عقلیں زائل ہوں گی

(56:19) لا یصدعون مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب تصدیع (تفعیل) مصدر بمعنی سردرد ہونا۔ سرکا چکرانا ۔ نہ ان کو درد سر ہوگا۔ ان کے سر نہیں چکرائیں گے، صدع (باب فتح) مصدر سے بمعنی پھاڑنا۔ دو ٹکڑے کردینا۔ الگ الگ کردینا ۔ (باب تفعل) تصدع سے بمعنی منتشر ہونا۔ عنھا ای بسببھا۔ اس کی وجہ سے ، اس کے سبب سے۔ ولا ینزفون : واؤ عاطفہ، لا تنزفون مضارع منفی جمع مذکر غائب ، انزاف (افعال) مصدر ۔۔ وہ بےہوش اور خبطی نہ ہوں گے۔ انزاف (افعال) ونزف (باب ضرب) بمعنی مست و بیہوش ہوجانا۔
Ayah 56:20

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں

(56:20) وفاکہۃ : واؤ عاطفہ۔ فاکھۃ اس کا عطف اکواب پر ہے اور وہ غلمان جنتیوں کی پسند کے میوے لئے ان کی خدمت میں گردش کر رہے ہوں گے۔ مما : مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ سے۔ یتخیرون : مضارع جمع مذکر غائب، تخیر (تفعل) مصدر سے پسند کرنا ۔ انتخاب کرلینا۔ خار یخیر (باب ضرب) سے مصدر خیرۃ وخیر اختیار کرنا۔ اگر دوسرے مفعول پر علی ہو تو فضیلت دینے کے معنی ہوں گے۔ مثلاً خار الرجل علی غیرہ۔ اس نے اس آدمی کو دوسروں پر فضیلت دی۔
Ayah 56:21

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے

(56:21) ولحم طیر واؤ عاطفہ۔ لحم طیر مضاف مضاف الیہ۔ لحم کا عطف اکواب پر ہے یعنی غلمان بہشت بہشتیوں کے لئے مرغوب خاطر پرندوں کا گوشت بھی لئے ہوئے ہوں گے۔ مما۔ حسب بیان آیت 20 متذکرہ بالا۔ یشتھون : مضارع جمع مذکر غائب۔ اشتھاء (افتعال) مصدر۔ وہ خواہش رکھتے ہوں گے۔ وہ چاہیں گے۔
Ayah 56:22

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

(56:22) وحور عین : واؤ عاطفہ، حور حوراء کی جمع نہایت گوری عورتیں ۔ موصوف۔ عین عیناء کی جمع بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والیاں۔ زنان فراخ چشم۔ صفت۔ حور کا عطف ولدان پر ہے۔ (آیت نمبر 17) یعنی وہاں جنتیوں کے لئے گوری اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں (خدمت کے لئے) ہوں گی۔
Ayah 56:23

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے (حفاظت سے) تہ کئے ہوئے (آبدار) موتی

(56:23) کا مثال اللؤلؤ المکنون : ک تشبیہ کے مبالغہ کے لئے آتا ہے ۔ اللؤلؤ (ل ء ل ء مادہ) موتی، موصوف۔ المکنون اسم مفعول واحد مذکر۔ کن (باب فتح) بمعنی (لڑکی کو) نظروں سے چھپانا۔ صفت۔ جو مثل (آبدار، غیر مس شدہ) چھپائے ہوئے موتی کے (ہوں گی) ۔
Ayah 56:24

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

(56:24) جزاء بما کانوا یعملون : جزاء مفعول لہ فعل محذوف۔ ای یفعل بھم ذلک کلہ جزاء باعمالہم جزاء مفعول لہ فعل محذوف کا۔ یعنی یہ سب کچھ ان کے لئے اس لئے کیا گیا کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے۔ بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ کانوا یعملون ماضی استمراری جمع مذکر غائب بہ سبب اس عمل کے جو وہ کیا کرتے تھے یا (دنیا میں کرتے رہے تھے) ۔
Ayah 56:25

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں نہ بےہودہ باتیں سنیں گے اور نہ گالی گلوچ

(56:25) لغوا۔ لغا یلغوا (باب نصر) کا مصدر ہے۔ اول فول بکنا۔ بغیر سمجھے بوجھے بولنا۔ بےہودہ واہیات بکواس کرنا۔ یہاں بطور مفعول استعمال ہے۔ تاثیما : بروزن تفعیل مصدر ہے گناہ کی باتیں کرنا۔ گناہ میں ڈالنا۔ یہاں بطور مفعول استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ (وہاں بہشت میں) ان کو بےہودہ کلام اور گناہ کی باتیں سننے میں نہ آئیں گی۔ وہاں کلام نہیں سنیں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ لا یسمعون فیہا لغوا ولا کذابا (78:35) وہاں نہ تو بےہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ (خرافات) ۔
Ayah 56:26

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہو گا)

(56:26) الا قلیلا سلما : الا حرف استثناء ۔ قیلا سے۔ سلم بمعنی سلامتی ۔ سلام۔ یہ سلم بسلم (باب سمع) کا مصدر ہے۔ اس کے معنی عیوب و آفات سے سلامت رہنے ان سے چھٹکارا پانے اور بری ہونے کے ہیں۔ ترجمہ : نہیں سنیں گے وہاں کوئی بکواس اور نہ کوئی گناہ کی بات مگر صرف ایک بول سلام ، سلام۔
Ayah 56:27

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں

(56:27) واصحب الیمین ما اصحب الیمین : ملاحظہ ہو آیت 8 متذکرہ بالا۔ اصحب الیمین۔ دائیں ہاتھ والے۔ ان کو اصحب الیمین یا اصحب المیمنہ کہنے کے متعلق مندرجہ ذیل اقوال ہیں :۔ (1) یہ لوگ رب العزت کے تخت کے دائیں جانب کھڑے ہوں گے۔ (2) ان کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ (3) ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر بہشت میں لے جایا جائے گا۔ (4) ان کی روحیں حضرت آدم کی دائیں جانب تھیں۔ (جب حضرت آدم کی پشت سے ان کی ساری نسل برآمد کی گئی تھی۔ ان کے دو گروہ بنا دئیے گئے تھے ایک گروہ دائیں طرف جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ یہ جنتی ہے۔ مندرجہ بالا صورتوں میں یہ یمین سے مشتق ہے جس کا معنی دایاں (ہاتھ یا جانب ہے) ۔ (5) اگر یہ یمین سے ماخوذ لیا جائے۔ جس کا معنی برکت والا ہے تو مراد ہوگا وہ لوگ جن کی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزری ہو۔
Ayah 56:28

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

(یعنی) بےخار کی بیریوں میں

(56:28) فی سدر مخضود اس سے پہلے ھم (مبتدائ) محذوف ہے فی سدر اس کی خبر۔ سدر موصوف مخضود اس کی صفت ۔ سدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں ۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ سدر ایسا درخت ہے کو کھانے میں ناکافی ہوتا ہے اسی لئے ارشاد ہوتا ہے واتل وشیء من سدر قلیل (34:16) (اور جھاؤ اور کچھ بیر تھوڑے سے) اور چونکہ اس کے کانٹے جھاڑ کر اس کے ذریعے سایہ حاصل کیا جاتا ہے اس لئے یہ ارشاد الٰہی فی سدر مخضود میں یہ جنت کے سایہ اور اس کی مثال قرار دیا گیا ہے کہ سایہ حاصل کرنے کے لئے بہت کافی ہوتا ہے۔ مخصود : اسم مفعول واحد مذکر خضد (باب ضرب) مصدر سے، جس سے کانٹا دور کیا گیا ہو۔ بےخار۔ یہ صفت ہے اپنے موصوف سدر کی بہ معنی بیری کا درخت جس کا کانٹا دور کیا گیا ہو۔ مراد یہ ہے کہ اصحب الیمین جنت کے ایسے باغات میں ہوں گے جہاں نے خار بیریاں ہوں گی۔
Ayah 56:29

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بہ تہ کیلوں

(56:29) وطلح منضود : واؤ عاطفہ۔ طلح کا عطف سدر پر ہے طلح ایک بڑا درخت ۔ کیلا۔ منضود اسم مفعول واحد مذکر۔ تہ بر تہ، نضد (باب ضرب) مصدر۔ تہ بر تہ کیا ہوا۔ اور وہاں ایسا کیلا ہوگا جس پر پھلیوں کے گنجان گچھے لٹک رہے ہوں گے۔ طلح منضود موصوف صفت۔
Ayah 56:30

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے لمبے سایوں

(56:30) وظلل ممدود : واؤ عاطفہ، ظلل سایہ (موصوف) ممدود اسم مفعول واحد مذکر (باب نصر) مد مصدر سے (صفت) ظل کا عطف بھی سدر پر ہے (اور وہاں) لمبے لمبے سائے ہوں گے۔
Ayah 56:31

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور پانی کے جھرنوں

56:31) وماء مسکوب : موصوف وصفت اس کا عطف بھی سدر پر ہے۔ مسکوب اسم مفعول واحد مذکر، سکب (باب نصر) مصدر۔ پانی کا بہنا۔ بڑی بڑی بوندوں کے ساتھ پیہم بارش کا ہونا۔ (اور وہاں) آب رواں ہوگا۔ یا۔ پانی کی آبشاریں ہوں گی۔
Ayah 56:32

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں

(56:32) وفاکہۃ کثیرۃ : واؤ عاطفہ، فاکھۃ کثیرۃ موصوف وصفت، بکثرت پھل۔ اس کا عطف بھی وسدر پر ہے (اور وہاں) پھل بکچرت ہوں گے ۔ پھلوں کی بہتات ہوگی۔
Ayahs 56:33–34

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے اونچے فرشوں میں

(56:33) لا مقطوعۃ : لا نافیہ مقطوعۃ اسم مفعول واحد مؤنث ۔ نہ ختم ہونے والے۔ یعنی ایسے پھل یا میوے جو موسمی نہیں ہوں گے بلکہ ہر وقت درختوں پر موجود رہیں گے (اور وہاں) نہ ختم ہونے والے پھل ہوں گے۔ ولا ممنوعۃ : اور نہ ان کے توڑنے سے کسی کو منع کیا جائے گا۔ کیونکہ توڑنے سے وہ پھل ختم نہ ہوں گے بلکہ ان کی جگہ فوراً دوسرا پھل اسی طرح پختہ و ہمہ صفت موصوف لگ جائے گا۔ یہ صفت ہے فاکھۃ کی۔
Ayah 56:35

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا

(56:35) انا انشانا ھن انشائ۔ انشانا ماضی جمع متکلم انشاء (افعال) مصدر۔ بمعنی پیدا کرنا۔ پر وش کرنا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب انشاء مفعول مطلق فعل کی تاکید کے لئے۔ ھن کی ضمیر کا مرجع کیا ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) قال بعض العلماء ھو راجع الیٰ قولہ : فرش مرفوعۃ، قال لان المراد بالفرش النسائ۔ والعرب تسمی المراۃ لباسا وازارا وفراشا ونعلا۔ ھن کی ضمیر کلام الٰہی فرش مرفوعۃ میں فرش کی طرف راجع ہے۔ فرش سے مراد عورتیں ہیں، عرب عورت کو لباس، ازار، فراش، نعل بھی نام دیتے ہیں۔ (2) وقال بعض العلمائ : ھو راجع الیٰ غیر مذکور۔ انہ راجع الیٰ نساء لم یذکرن ولکن ذکر الفراش دل علیہن۔ لانھن یتکئن علیہا مع ازواجھن۔ اور بعض کے نزدیک اس کا مرجع غیر مذکور ہے کہتے ہیں اس کا مرجع عورتیں ہیں جس کی طرف فرش کا ذکر دلالت کرتا ہے کیونکہ ان بچھونوں پر وہی اپنے شوہروں کے ساتھ تکیہ لگا کر بیٹھیں گی۔ (اضواء البیان) علامہ پانی پتی بھی کچھ یوں ہی لکھتے ہیں :۔ فرماتے ہیں :۔ اگر فرش سے مراد عورتیں ہوں تو ھن کی ضمیر فرش کی طرف راجع ہوگی، اگر فرش سے مراد عورتیں نہ ہوں تو مرجع مذکور نہ ہوگا۔ کیونکہ سیاق کلام سے سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ اس سے مراد عورتیں ہی ہوسکتی ہیں۔ اقوال مذکورہ بالا کی روشنی میں عورتیں سے مراد ہے جنتیوں کی دنیا کی بیویاں جو بہشت میں ہوں گی۔ اور حوریں۔ مولنا دریا بادی (رح) لکھتے ہیں :۔ یہاں یہ بتایا کہ جنت کی عورتوں کی (اور اس میں حوریں بھی داخل ہوگئیں اور اس دنیا کی جنتی بیویاں بھی داخل ہوگئیں) بناوٹ ایک خاص قسم کی ہوگی ! مولانا فتح محمد جالندہری اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :۔ ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا۔ اس صورت میں ھن کی ضمیر کا مرجع جنت کی حوریں ہے۔ پیر کرم شاہ صاحب اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ یہاں اہل جنت کی نیک بیویوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ یعنی جب وہ جنت میں داخل ہوں گی تو ان کی خلقت بالکل بدلی ہوئی ہوگی۔ اگرچہ دنیا میں وہ خوش شکل نہ تھیں، مرتے وقت وہ بالکل بوڑھی ہوگئی تھی لیکن جب جنت میں داخل ہوں گی تو بھرپور جوانی ہوگی۔ مجسم حسن و رعنائی ہوں گی۔ اور کنواری بنا کر انہیں جنت میں داخل کیا جائیگا۔ حدیث شریف میں اس آیت کی یہی تفسیر مذکور ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ کے عرض کرنے پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ یا ام سلمۃ ھن اللواتی قبضن فی الدنیا ع جائز شمطا، عمشا رمصا جعلہن اللہ یعد الکبرا ترابا علی میلاد واحد فی الاستوائ۔ اے ام سلمہ : ان سے مراد وہی بیویاں ہیں اگرچہ وفات کے وقت وہ بالکل بوڑھی تھیں ان کے بال سفید تھے۔ ان کی بینائی کمزور تھی، آنکھیں میلی کچیلی رہتی تھیں۔ لیکن جب وہ جنت میں داخل ہوں گی تو ساری ہم عمر ہوں گی۔ اس صورت میں ھن کا مرجع وہ دنیاوی بیویاں ہیں جو جنت میں داخل ہوں گی۔ انشاء مصدر کو فعل کے بعد فعل کی خصوصیت کو اجاگر کرنے کے لئے تاکیدا لایا گیا ہے۔ یعنی ہم نے ان کو ایک خاص اٹھان پر اٹھایا۔ (تفسیر حقانی) ۔ ہم نے ان کی بیویوں کو حیرت انگیز طریقے سے پیدا کیا۔ (ضیاء القرآن)
Ayah 56:36

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

تو ان کو کنواریاں بنایا

(56:36) فجعلنھن ای فصیرنھن۔ پس ہم نے ان کو بنادیا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ ابکارا : مفعول ثانی۔ کنواریاں۔ بکر کی جمع۔
Ayah 56:37

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر

(56:37) عربا : سہاگ والیاں۔ پیار دلانے والیاں۔ محبوبائیں۔ عروب کی جمع جو کہ بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کے معنی اس عورت کے ہیں جو اپنے ناز و انداز کی وجہ سے اپنے شوہر کی محبوبہ ہو۔ نیز فراست کی بنا پر اس کی مزاج شناس بھی ہو۔ ہنس مکھ عورت۔ اپنے مرد سے محبت رکھنے والی اور اس کا اظہار کرنے والی۔ اپنے خاوند پر عاشق (لسان العرب) اترابا۔ ہم عورتیں ۔ ترب کی جمع۔ عربا، اترابا بھی جعلنا کے مفعول ہیں۔ ہر سہ : ابکارا، عربا، اترابا، ھن سے حال بھی ہوسکتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس ہم نے بنادیا ان کو بایں حالیکہ وہ کنواریاں ، محبت کرنے والیاں اور ہم عمر ہوں۔
Ayah 56:38

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

داہنے ہاتھ والوں کے لئے

(56:38) لاصحب الیمین : اس کا تعلق انشانا سے ہے یا جعلنا سے۔ یا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای ھن لاصحب الیمین۔
Ayah 56:39

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(یہ) بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں

(56:39) ثلۃ من الاولین : ثلۃ کے لئے ملاحظہ ہو آیت نمبر 13 متذکرہ الصدر۔
Ayah 56:40

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور بہت سے پچھلوں میں سے

(56:40) من الاخرین۔ متاخرین میں سے ۔ بعد میں آنے والے لوگوں میں سے۔ من الاولین من الاخرین : دونوں صورتوں میں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے لوگ مراد ہیں ۔ یعنی اسی امت کے متقدمین میں سے بہت سے لوگ اور اسی امت کے متاخرین میں سے بہت سے لوگ ان اصحب الیمین میں شامل ہوں گے۔ علامہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ ابو العالیہ، مجاہد، مطاء بن ابی رباح اور ضحاک نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو آیات 13، 14، متذکرۃ الصدر۔