Al-Waaqia 56:9

Al-Waaqia · from ayah 9

56:9

وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ ۙ۬— مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ ۟ؕوَاَصۡحٰبُ الۡمَشۡئَـمَةِ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡئَـمَةِؕ

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the companions of the left - what are the companions of the left?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:9

اور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بد نصیبی کا) کا کیا ٹھکانا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بائیں ہاتھ والے کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو بائیں ہاتھ والے ہیں، کیا بتائیں وہ بائیں ہاتھ والے کیا ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بائیں طرف والے کیسے بائیں طرف والے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (دوسرے) بائیں جانب والے، کیا (ہی برے حال میں ہوں گے) بائیں جانب والے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بائیں ہاتھ والے، کیا (برے) ہیں بائیں ہاتھ والے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (دوسرے) بائیں ہاتھ والے ہوں گے، بائیں ہاتھ والوں کا کیا کہنا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دوسرا گروہ بائیں والوں کا ہوگا، تو کیا حال ہوگا بائیں والوں کا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بائیں بازو والے کیسے بدنصیب (اور بدحال) ہوں گے وہ بائیں بازو والے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو بائیں والے ہوں گے تو کیا حال ہوگا بائیں والوں کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بائیں ہاتھ والے ؟ کیا برے لوگ ہیں بائیں والے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And the People on the Left: and how miserable will be the People on the Left!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the People of the Left ? How (wretched) are the People of the Left!

— Muhammad Taqi Usmani

And the People of the Left ? How (wretched) are the People of the Left!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those on the left -- how (unfortunate) will be those on the left!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (then) those on the left hand; what of those on the left hand?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the companions of the left - what are the companions of the left?

— Saheeh International

The people of the left hand - those whose books of records will be placed in their left hands. How miserable they will be!

— Muhammad Sarwar

And (as to) the companions of the left hand; how wretched are the companions of the left hand!

— Muhammad Habib Shakir

And those on the left hand; how miserable shall those on the left hand be!

— Abdul Majid Daryabadi

And the Companions of the Left Hand,- what will be the Companions of the Left Hand?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْوَاقِعَة 6 اصل میں لفظ اصحاب المشئمہ استعمال ہوا ہے۔ مَشْئَمَہْ ، شُؤْم سے ہے جس کے معنی بد بختی، نحوست اور بدفالی کے ہیں۔ اور عربی زبان میں بائیں ہاتھ کو بھی شُوْمیٰ کہا جاتا ہے۔ اردو میں شومئ قسمت اسی لفظ سے ماخوذ ہے۔ اہل عرب شمال (بائیں ہاتھ) اور شؤْم (فال بد) کو ہم معنی سمجھتے تھے۔ ان کے ہاں بایاں ہاتھ کمزوری اور ذلت کا نشان تھا۔ سفر کو جاتے ہوئے اگر پرندہ اڑ کر بائیں ہاتھ کی طرف جاتا تو وہ اس کو بری فال سمجھتے تھے۔ کسی کو اپنے بائیں ہاتھ بٹھاتے تو اس کے معنی یہ تھے کہ وہ اسے کمتر درجے کا آدمی سمجھتے ہیں کسی کے متعلق یہ کہنا ہو کہ میرے ہاں اس کی کوئی عزت نہیں تو کہا جاتا کہ فلان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

میدان حشر میں حاضرین کی تین قسمیں وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ، ابن کثیر نے فرمایا کہ قیامت کے روز تمام لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجاویں گے، ایک قوم عرش کے داہنی جانب ہوگی، یہ وہ ہوں گے جو آدم ؑ کی داہنی جانب سے پیدا ہوئے اور ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کو عرش کی داہنی جانب میں جمع کردیا جائے گا، یہ سب لوگ جنتی ہیں۔ دوسری قوم عرش کے بائیں جانب میں جمع ہوگی جو آدم ؑ کے بائیں جانب سے پیدا ہوئی اور جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دیئے گئے، ان سب کو بائیں جانب میں جمع کردیا جائے گا اور یہ سب لوگ جہنمی ہیں (نعوذ باللہ من صنیعھم) اور تیسری قسم طائفہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 9–10

(ما اصحب المشئمۃ) میں وہی اسلوب اس کے برعکس یعنی اظہار نفرت و کراہت کے مفہوم میں ہے یعنی جس طرح (اصحب المیمنۃ) کی خوش حالی و بلند اقبالی کا اندازہ نہیں کرسکتا اسی طرح (اصحب المشمۃ) کی بد بختی ان کی ذلت و مصیبت اور ان کی بد انجامی کا حال بھی کچھ نہ پوچھو ! اس کی تصویر بھی الفاظ میں نہیں کھینچی جاسکتی۔ اس کا اندازہ انہی کو ہوگا جن کو اس سے سابقہ پیش آئے گا۔ (واسبقون اسبقون) میں دوسرا (سابقون) خبر کے محل میں ہے اور اس ایجاز میں غایت درجہ بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (سابقون) کی عالی مقام کا کیا پوچھنا ہے۔ وہ تو (سابقون) ہی ہوئے ! جب وہ سابقون ہیں تو ان کے درجہ و مرتبہ کو کون پہنچ سکتا ہے ! وہ لازماً…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 اس سے مراد کافر ہیں جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جو ان کے کفر کی علامت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

فاصاحب ............ المیمنة (6 5: 8) ” دائیں بازو والے ، کیا عظیم ہیں وہ دائیں بازو والے ! “ اسی انداز میں دوسرے گروہ بائیں بازو والوں کا ذکر ہے اور اس کے بعد تیسرے فریق السابقون کا ذکر ہے اور ان السابقون کو ان کی صفات سے ذکر کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یہ لوگ آدم کے بائیں پہلو سے نکالے گئے، عرش کے بائیں جانب کھڑے کیے جائیں گے۔ اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور فرشتے بائیں طرف سے ان کو پکڑیں گے، ان کی نحوست اور بدبختی کا کیا ٹھکانہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9{ وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ لا مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ۔ } ”اور جو بائیں والے ہوں گے ‘ تو کیا حال ہوگا بائیں والوں کا !“ مَشْئَمَۃ ”شئوم“ سے ہے ‘ جس کے معنی بدنصیبی اور نحوست کے ہیں۔ عربوں کے ہاں جس طرح داہنی جانب خوش قسمتی اور برکت کی علامت سمجھی جاتی تھی اسی طرح بائیں جانب کو منحوس خیال کیا جاتا تھا۔ اس وجہ سے ان دونوں مادوں میں مستقل طور پر برکت اور نحوست کے معنی بھی شامل ہوگئے ہیں۔ چناچہ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃ کا دوسرا ترجمہ بدقسمت ‘ بدبخت اور برے لوگ بھی کیا گیا ہے۔ اردو لفظ ”شوم“ شومئی قسمت وغیرہ بھی اسی سے مشتق ہے۔ بہرحال دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہوگا جو دربارِ الٰہی میں بائیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 شمال بمعنی بایاں ہاتھ بھی، بائیں جانب بھی اور بدبخت بھی۔ یعنی وہ لوگ جنہیں ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا انہیں اللہ کی بائیں جانب کھڑا کیا جائے گا۔ اور یہ بدبخت اہل دوزخ ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث مذکورہ بالا سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ مراد منکرین و کفار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

واصحب المشئمۃ اس آیت میں لفظ المشئمۃ استعمال ہوا ہے مشئمۃ، شوم سے ہے جس کے معنی بدبختی نحوست اور بدفالی کے ہیں اور عربی زبان میں بائیں ہاتھ کو شومی بولا جاتا ہے، شومی قسمت اسی سے ماخوذ ہے پس اصحاب المشتمہ سے مراد بدبخت لوگ ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ذلت سے دوچار ہوں گے اور دربار الٰہی میں بائیں طرف کھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واصحب المشئمۃ ما اصحب المشئمۃ اور (کچھ) بائیں طرف والے اور کیسے برے ہوں گے بائیں طرف والے وَاَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ : اور بائیں جانب والے ‘ بائیں ہاتھ کو عرب شومی کہتے ہیں ‘ شام کو شام اور یمن کو یمن اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ملک شام کعبہ سے بائیں جانب اور یمن کعبہ سے دائیں جانب واقع ہے۔ بائیں سمت والوں کو دوزخ کی جانب لے جایا جائے گا۔ یہ ہی خروج ذریت کے وقت حضرت آدم کے بائیں جانب تھے یا یوں کہا جائے کہ ان لوگوں کے بائیں ہاتھوں میں اعمالنامے دیئے جائیں گے یا یوں کہا جائے کہ یہ لوگ خود اپنے لیے منحوس ہوئے ‘ ان کی عمریں گناہوں میں بسر ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان میں جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں یعنی جن کے نامہ اعمال اللہ تعالیٰ ان کے بائیں ہاتھ میں دے گا اور ان کو دوزخ میں داخل کرے گا تو آپ کو کیا معلوم ہے کہ دوزخیوں کو دوزخ میں کس قدر ذلت اور عذاب کی سختی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ۔۔۔۔۔:”اصحاب المیمنۃ ‘ ‘ مبتداء ہے اور ”ماَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ“ جملہ ہو کر خبر ہے۔ دائیں ہاتھ والے جنہیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جائیں گے۔ (دیکھئے حاقہ : 19) استفہام سے مراد ان کی عظمت شان کا اظہار ہے ، یعنی وہ اتنی شان والے ہیں کہ ان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے کہ ”اصحاب المیمنۃ“ کیا ہیں ؟ یہاں ان کی شان اجمالاً بیان ہوئی ہے، تفصیل آگے ”واصحب الیمین ما اصحب الیمین“ میں آرہی ہے۔ اسی طرح ”وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ“ میں بائیں ہاتھ والوں کی بری حالت کا اظہار مقصود ہے کہ وہ کیا ہی بری ہے ، تفصیل اس کی ”واصحب الشمال…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–9

(وکنتم ازواجا ثلثۃ۔۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ موطا امام مالک، کتاب الجامع، ما جاء ل سکنی المدینۃ والطروج، منھا، صفحہ 696 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 447 4 ؎۔ ایضاً 5 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 239 6 ؎۔ ایضاً وکنتم ازواجا ثلثۃ۔ یعنی تین قسمیں۔ ہر قسم اس کے ہم مثل ہوگی جو اس میں سے ہے جس طرح زوج زوجہ کے ہم مثل ہوتا ہے پھر وضاحت کی کہ وہ کون ہیں تو فرمایا فا صحاب الیمین، اصحاب الشئمۃ، سابقون۔ اصحاب میمنہ وہ ہیں جن کو دائیں جانب سے پکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جائے گا، اصحاب مثئمہ وہ ہیں جن کو بائیں جانب سے پکڑ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، یہ سدی کا قول ہے (1) مثامہ کا معنی بایاں اسی طرح شامہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکنتم ازواجا ثلثہ سے مراد ہے قیامت کے دن لوگوں کی منزلیں تین قسم کی ہوں گی۔ آیت فاصحاب المیمۃ ما اصحاب المیمنۃ (اور دائیں طرف والے کیسے اچھے ہوں گے دائیں طرف والے) یعنی کیا ہی شان ہوگی۔ دائیں ہاتھ والوں کی اور جو کچھ ان کے لیے تیار کیا گیا۔ آیت واصحاب المشئمۃ ما اصحاب المشئمۃ (اور بائیں طرف والے کیا ہی برے ہوں گے بائیں طرف والے) یعنی کیا ہی برا حال ہوگا بائیں ہاتھ والوں کا اور جو کچھ تیار کیا گیا ان کے لیے آیت والسبقون السابقون (اور جو اعلیٰ درجہ کے ہاں گے وہ تو اعلیٰ درجہ کے ہوں گے) یعنی ہر امت میں سے سبقت لے جانے والے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَةِ ڏ : اور بائیں ہاتھ والے ] [مَآ : کیا (ہوں گے) ] [اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ : بائیں طرف والے ] شء م : (و) شاما ۔ نحوست ڈالنا ۔ (ک) شامۃ منحوس ہونا ۔ مشمۃ نحوست کی جگہ یا وقت ۔ بایاں پہلو ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔ وض ن : (ن) وضنا زرہ ۔ بننا ۔ کسی چیز کو بنتے ہوئے قیمتی بنانا ۔ جیسے زرہ بنتے وقت ہیرے جواہرات ٹانک دینا ۔ کپڑا بنتے ہوئے سونے چاندی کے تار ڈال دینا ۔ موضونۃ اسم المفعول ہے ہر قیمتی بنی ہوئی چیز ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–9

قیامت کے دن حاضر ہونے والوں کی تین قسمیں ان آیات میں اصحاب المیمنہ کی دونوں قسموں یعنی مقربین اور عام مومنین کا تذکرہ فرمایا ہے اور ان کے انعامات بتائے ہیں۔ اولاً اجمالاً یوں فرمایا ﴿ فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِؕ008﴾ (سو داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے) وَ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِؕ009 (اور بائیں ہاتھ والے کیا ہی برے ہیں بائیں ہاتھ والے) پہلی قسم کے افراد کو ﴿اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ﴾ (داہنے ہاتھ والے) كس اعتبار سے فرمایا ؟ اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے دو قول لکھے ہیں، اول یہ کہ ان حضرات کے صحائف اعمال (یعنی اعمال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–9

5:۔ ” وکنتم ازواجا ثلاثۃ “ اس وقت تم لوگ تین قسموں بٹ جاؤ گے۔ ” فاصحب المیمنۃ۔ تا۔ السابقون “ یہ تینوں قسموں کا اجمالی ذکر ہے۔ ” فاصحب المیمنۃ “ مرکب اضافی مبتدا ہے ما اصحب المیمنۃ “ جملہ خبر ہے اور استفہام تعجب کے لیے ہے، علی ہذا القیاس۔ ” واصحب المشئمۃ۔ الایۃ “ یہ اور ” والسابقون السابقون “ دونوں ” اصحب المیمنۃ “ پر معطوف ہیں اور معطوف علیہ مع معطوفین اذا وقعت کی جزاء ہے (روح) ۔ شرط اور جزا کا حاصل مفہوم یہ ہوگا جب قیامت قائم ہوجائیگی جس کے قیام میں کوئی شک و شبہ نہیں جو بعض کو اونچا کرنے والی اور بعض کو نیچا کرنے والی ہوگی۔ جب زمین کو نہایت شدت سے ہلا دیا جائیگا اور پہاڑوں ریزہ ریزہ کر کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 9–10

وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَۃِ۝ 0ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَۃِ۝ 9 ۭ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ۝ 10 ۚ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–12

ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–10

وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰـثَۃً ۔ فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 7 تا 10) (اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے۔ دائیں بازو والے، تو کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ اور بائیں بازو والے، تو کیا حال ہوگا بائیں بازو والوں کا۔ اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ ) لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں آیت میں خطاب اگرچہ ان لوگوں سے ہے جو اس وقت قرآن کریم کے مخاطب تھے، لیکن حقیقت میں اس کی مخاطب پوری نوع انسانی ہے۔ کیونکہ یہ تین گروہوں کی تقسیم قیامت کے دن ہونے والی ہے جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–14

فہم القرآن ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بعد محشر کے میدان میں لوگوں کی حالت۔ اس سورت کی پہلی آیت سے لے کر چھٹی آیت تک اسرافیل کے پہلی مرتبہ صورپھونکنے کا منظر بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد جوں ہی دوسرا صورپھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں یوں اکٹھے ہوں جیسے تیر اپنے نشانے پر پہنچ جاتا ہے۔ (المعارج : 43) لوگوں کو حساب و کتاب کے فوراً بعد تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ جس کی ابتدا حساب و کتاب کے وقت ہی کردی جائے گی۔ آغاز میں مجموعی طور پر لوگ دواقسام پر مشتمل ہوں گے نیک اور بد۔ نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے اور برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ (اور بائیں طرف والے) یعنی وہ لوگ جن کو ان کے صحائف اعمال بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ نمبر 2۔ بلندمرتبہ والے اور خسیس ترین مرتبہ والے۔ جیسا کہتے ہیں فلان منی بالیمین و فلان منی بالشمال۔ جبکہ تم ان دونوں کی تعریف بلندی اور حقارت کے ساتھ کرو۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب یمین کے ساتھ برکت اور بائیں طرف سے نحوست مراد لیتے تھے۔ ایک اور قول یہ ہے اہل جنت کو دائیں جانب سے لیا جائے گا۔ اور اہل نار کو بائیں جانب سے۔ ماَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ (کیسے برے ہونگے بائیں طرف والے) وہ کیا چیز ہیں ؟ بدبختی میں ان کی اس حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ ( کہ یہ لوگ کتنے ہی بدبخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

اصحاب الیمین کون لوگ ہوں گے 8 ۔ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ” فاصحاب المیمنۃ “ وہ لوگ ہیں جن کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جنت کے لئے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو آدم (علیہ السلام) کی دائیں جانب تھے جب ان کے اولاد ان کی پشت سے نکالی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا یہ لوگ جنت میں ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ حسن اور ربیع رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ صاحب برکت تھے اور ان کی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزریں اور تابعین باحسان ہیں پھر اپنے نبی کریم ﷺ پر تعجب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–9

وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ) اور اے مخلوقات تم تین جماعتیں ہوجاؤ گے۔ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے پھر اللہ تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے چناچہ فرمایا (فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ) پس دائیں ہاتھ والے کیا خوب ہیں دائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔ (وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ ) اور بائیں ہاتھ والے یعنی بائیں جانب کا گروہ۔ کیا حقیر ہیں بائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–9

[ 6] اصحٰب المیمنۃ سے مقصود و مراد : یعنی وہ لوگ جن کو ان کے نامہ ہائے اعمال دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، وہ عرش کی دائیں طرف ہوں گے اور یہ خوش نصیب وہی ہوں گے جن کو ازل میں آدم کی دائیں جانب سے نکالا گیا ہوگا، اور یہی خوش نصیب لوگ اصحاب یمن و برکت ہوں گے، جب کہ اصحاب شمال اس کے بالکل برعکس ہوں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سوداہنے ہاتھ والے کامیاب و کامران اور فائز المرام لوگ ہوں گے، اور نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں ملنا کامیابی کی نشانی ہوگی، اللہ نصیب فرمائے، اور ہمیں انہیں خوش نصیبوں میں سے بنائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، بہرکیف " اصحٰب المیمنۃ " سے مراد وہی خوش نصیب لوگ ہیں جن کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی ان کی بدبختی نحوست و بدحالی کا کیا ٹھکانا ! مراد دوزخی لوگ ہیں جو عرش کی بائیں طرف ہوں گی یا جنہیں ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ دیئے جائیں گے وغیرہ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:9) واصحب المشئمۃ ما اصحب المشئمۃ۔ اور ایک گروہ بائیں ہاتھ والوں کا کیا ہی ان کی خستہ حالی ہوگی ؟ اور اس کی ترکیب وہی ہوگی جو 52:8 میں ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–12

میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–10

[2] سابقون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے دین کی خدمت کی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لئے حوصلہ کرنا اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–11

ف 1: فرمایا : اعمال کے لحاظ سے آخرت میں انسانوں کے تین درجے ہونگے ایک تو وہ جو صاحب لین وسعادت ہوں گے ۔ ان کی داہنی طرف رکھا جائے گا ۔ دوسرے وہ جن کے حصہ میں نحوست وبدبختی آئے گی ۔ ان کو بائیں طرف جگہ دی جائے گی ۔ تیسرے گروہ والے سابقین میں سے ہوں گے ۔ یعنی ہر خیر و برکت کی بات میں آگے ۔ ہر نیکی کی طرف سبقت کرنے والے ۔ اور ہر اصلاح وتقویٰ کے معاملہ میں پیش رو ۔ یہ لوگ اللہ کے مقرب ہوں گے ، ان کے درجے بلند ہونگے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اور دوسرے بائیں والے سو کیسی بری حالت میں ہیں بائیں والے۔ یعنی وہ اہل شقاوت جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں یا یوم میثاق میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں جانب تھے یا جن کو میدان حشر میں بائیں جانب ملے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–10

ف 4۔ مراد اس سے جن کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یعنی کفار، اور اس میں اجمالا ان کی حالت کا برا ہونا بتلادیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بائیں ہاتھ والے کیا برا حال ہوگا بائیں ہاتھ والوں کا 9 ؎ (المشئمۃ) کی اصل ش ء م ہے اور ” الشوم “ ضد ہے الیمن کی اور السعد کی۔ اسم ہے۔ بائیں جانب والے (جلالین ) شومی بائیں جانب یا طرف شوم ۔ بدشگونی ‘ بدشگونی لینا ‘ دراصل عرب میں الٹے ہاتھ کو شو می یعنی منحسوس قرار دیتے تھے اور سیدھے ہاتھ کو سعد اور مبارک سمجھتے تھے اس لئے جیسا زبان اور بول چال میں ہوتا ہے کہ کسی اصل کی بناء پر ایک بات کہنا شروع کردی جاتی ہے اور اہل زبان میں وہ بولی جانے لگتی ہے اس کی وہ اصل بن جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اہل عرب دائیں سمت والوں سے مراد اہل سعادت لینے لگے اور بائیں سمت والوں سے اہل شقاوت اور بدبخت لوگ۔ پھر دائیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

Three Categories of People on the Day of Resurrection وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً (and you will be [ divided into ] three categories...56:7). Ibn Kathir says that people will be divided into three different categories on the Day of Resurrection. One group will be on the right side of Allah's Throne, and they are those who were brought forth from the right side of the loin of 'Adam (علیہ السلام) . These people will be given their Ledgers of Deeds in their right hands and will be taken to the right side of the Divine Throne. They are the inmates of Paradise. The second category comprises…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 The word mash 'amah in ashab al-mash'amah, in the original, is from shu'm which means misfortune, ill-luck and bad omen; in Arabic the left hand also is called shuma. The Arabs regarded shimal (the left hand) and shu'm (bad omen) as synonyms, the left hand being a symbol of weakness and indignity. If a bird flew left on the commencement of a journey, they would take it as a bad omen; if they made a person sit on their left, it meant they regarded him as a weak man. Therefore, ashab al-mash'amah implies ill-omened people, or those who would suffer disgrace and ignominy, and would be made to…

Read the full tafseer →