Explained with ayahs 1–12
یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…
Read the full tafseer →سورة الْوَاقِعَة 5
اصل میں لفظ اَصْحَابُ لْمَیْمَنَہ استعمال ہوا ہے۔ میمنہ عربی قاعدے کے مطابق یمین سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی سیدھے ہاتھ کے ہیں، اور یمن سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی ہیں چال نیک۔ اگر اس کو یمین سے ماخوذ مانا جائے تو اصحاب المیمنہ کے معنی ہوں گے " سیدھے ہاتھ والے " لیکن اس سے لغوی معنی مراد نہیں ہیں بلکہ اس کا مطلب ہے عالی مرتبہ لوگ، اہل عرب سیدھے ہاتھ کو قوت اور رفعت اور عزت کا نشان سمجھتے تھے۔ جس کا احترام مقصود ہوتا تھا اسے مجلس میں سیدھے ہاتھ پر بٹھاتے تھے۔ کسی کے متعلق یہ کہنا ہوتا کہ میرے دل میں اس کی بڑی عزت ہے تو کہتے فلانٌ مِنِّی بالیمین، " وہ تو میرے سیدھے ہاتھ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
میدان حشر میں حاضرین کی تین قسمیں
وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ، ابن کثیر نے فرمایا کہ قیامت کے روز تمام لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجاویں گے، ایک قوم عرش کے داہنی جانب ہوگی، یہ وہ ہوں گے جو آدم ؑ کی داہنی جانب سے پیدا ہوئے اور ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کو عرش کی داہنی جانب میں جمع کردیا جائے گا، یہ سب لوگ جنتی ہیں۔
دوسری قوم عرش کے بائیں جانب میں جمع ہوگی جو آدم ؑ کے بائیں جانب سے پیدا ہوئی اور جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دیئے گئے، ان سب کو بائیں جانب میں جمع کردیا جائے گا اور یہ سب لوگ جہنمی ہیں (نعوذ باللہ من صنیعھم)
اور تیسری قسم طائفہ…
Read the full tafseer →(ما اصحب المیمنۃ) میں جو استفہام ہے یہ اظہار شان و عظمت کے لیے بھی آتا ہے اور اظہارنفرت و کراہت کے لیے بھی، یہاں یہ بھی اظہار شان و عظمت کے لیے ہے یعنی دہنے والوں کی شان و عظمت ان کے عیش جاوداں، ان کی رفاہیت و خوش حالی اور ان کی عالی مقامی کا کیا پوچھنا ہے ! بھلا اس کی تفصیل کس طرح بتائی جاسکتی ہے اور اس کا صحیح اندازہ کون کرسکتا ہے ! یہ اسلوب کلام اس صورت میں اختیار کیا جاتا ہے جب صورت واقعہ الفاظ کے احاطہ اور قیاس و گمان کی رسائی سے مافوق ہو۔ قرآن میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔ ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔
Read the full tafseer →8۔ 1 اس سے عام مومنین مراد ہیں جن کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھوں میں دیئے جائیں گے جو ان کی خوش بختی کی نشانی ہوگی۔
Read the full tafseer →2: دائیں ہاتھ والوں سے مراد وہ خوش نصیب مومن ہیں جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، جو اس بات کی علامت ہوگی کہ یہ صاحب ایمان ہیں اور ان کو جنت نصیب ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فاصاحب ............ المیمنة (6 5: 8) ” دائیں بازو والے ، کیا عظیم ہیں وہ دائیں بازو والے ! “ اسی انداز میں دوسرے گروہ بائیں بازو والوں کا ذکر ہے اور اس کے بعد تیسرے فریق السابقون کا ذکر ہے اور ان السابقون کو ان کی صفات سے ذکر کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →6 یعنی جو لوگ عرش عظیم کی داہنی طرف ہوں گے جن کو اخذ میثاق کے وقت آدم کے داہنے پہلو سے نکا لا گیا تھا اور ان کا اعمال نامہ بھی داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور فرشتے بھی ان کو داہنی طرف سے لیں گے۔ اس روز ان کی خوبی و برکت کا کیا کہنا، شب معراج میں حضور ﷺ نے ان ہی کی نسبت دیکھا تھا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی داہنی طرف نظر کر کے ہنستے ہیں اور بائیں طرف دیکھ کر روتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 8{ فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ لا مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ۔ } ”تو جو داہنے والے ہوں گے ‘ کیا خوب ہوں گے وہ داہنے والے !“
داہنے والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہناہو گا۔۔۔ یا تم لوگوں کو کیا معلوم کہ وہ داہنے والے لوگ کون ہوں گے ‘ ان کی کیا شان ہوگی اور وہ کس کیفیت میں ہوں گے۔ مَیْمَنَۃ ”یمین“ سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی سیدھے ہاتھ کے ہیں ‘ اور ”یُمن“ سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی برکت اور خوش نصیبی کے ہیں۔ اس اعتبار سے اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃ کا ترجمہ مبارک لوگ یا خوش نصیب اور نیک بخت لوگ بھی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →5 یمین بمعنی دایاں ہاتھ بھی اور دائیں جانب بھی۔ اس لحاظ سے اس کے معنی یہ ہوئے کہ جن لوگوں کو ان کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور قیامت کے دن انہیں اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب جگہ ملے گی۔ جب رسول اللہ کو شب معراج میں آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپ نے پہلے آسمان پر سیدنا آدم (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ جب اپنی دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنس دیتے ہیں اور بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رو دیتے ہیں۔ سیدنا جبریل نے آپ کو بتایا کہ سیدنا آدم کی دائیں جانب وہ لوگ تھے جو جنت میں داخل ہونے والے ہیں اور بائیں طرف وہ لوگ تھے جو جہنم میں داخل ہوں گے، اس سے بھی اصحاب الیمین سے مراد اہل جنت ہوئے۔ اور…
Read the full tafseer →3۔ مراد عام مومنین ہیں یا وہ لوگ جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →فاصحب المیمنۃ الخ اس جگہ میمنۃ کا لفظ اسعتمال ہوا ہے، میمنۃ یمین سے بھی ہوسکتا ہے جس کے عمنی داہنے ہاتھ کے ہیں اور یمن سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی نیک فال کے اور نیک شگون کے ہیں، اگر اس کو یمین سے مشتق مانا جائے تو اصحاب المیمنتہ کے معنی ہوں گے، داہنے ہاتھ والے اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ظاہر ہے کہ اصحاب الیمین سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا اعمالنامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، یا خوش نصیب اور سعید لوگ مراد ہوں گے اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصحاب الیمین سے مراد عالی مرتبہ لوگ ہوں، اہل عرب سیدھے ہاتھ کو قوت اور عزت کا نشان سمجھتے تھے، جس کا احترام مقصود ہوتا تھا اس کو مجلس میں داہنے ہاتھ کی…
Read the full tafseer →فاصحت المیمنۃ ما اصحب المیمنۃ
(کچھ) دائیں طرف والے کیسے اچھے ہوں گے ‘ دائیں طرف والے
فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ : یعنی وہ لوگ جن کو دائیں سمت کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جس روز حضرت آدم کی پشت سے ان کی ساری نسل برآمد کی گئی تھی ‘ ان کے دو گروہ بنا دیئے گئے تھے۔ ایک گروہ دائیں طرف والا جن کے متعلق اللہ نے فرما دیا تھا : ھو الا للخبۃ ‘ اصحاب المیمنۃ سے وہی لوگ مراد ہیں اور دوسرا گروہ بائیں طرف والا دوزخیوں کا تھا جن کو اصحاب المشئمۃ کہا گیا ہے۔ انہی کے متعلق اللہ نے فرمایا تھا : ھو الاء للنار۔ (مترجم)
ضحاک نے کہا : اصحاب المیمنۃ وہ لوگ ہیں جنکے دائیں ہاتھوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(7۔ 8) اور تم قیامت کے دن تین قسم کے ہوجاؤ گے سو ان میں جو داہنے والے ہیں وہ دائیں والے کیسے اچھے ہیں یعنی جن کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا تو بطور تعجب کے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ محمد آپ کو کیا معلوم کہ ان کے لیے کیا کیا نعمتیں اور خوشیاں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ۔۔۔۔۔:”اصحاب المیمنۃ ‘ ‘ مبتداء ہے اور ”ماَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ“ جملہ ہو کر خبر ہے۔ دائیں ہاتھ والے جنہیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جائیں گے۔ (دیکھئے حاقہ : 19) استفہام سے مراد ان کی عظمت شان کا اظہار ہے ، یعنی وہ اتنی شان والے ہیں کہ ان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے کہ ”اصحاب المیمنۃ“ کیا ہیں ؟ یہاں ان کی شان اجمالاً بیان ہوئی ہے، تفصیل آگے ”واصحب الیمین ما اصحب الیمین“ میں آرہی ہے۔ اسی طرح ”وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ“ میں بائیں ہاتھ والوں کی بری حالت کا اظہار مقصود ہے کہ وہ کیا ہی بری ہے ، تفصیل اس کی ”واصحب الشمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(وکنتم ازواجا ثلثۃ۔۔۔۔۔۔ )
1 ؎۔ موطا امام مالک، کتاب الجامع، ما جاء ل سکنی المدینۃ والطروج، منھا، صفحہ 696 2 ؎۔ ایضاً
3 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 447 4 ؎۔ ایضاً
5 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 239 6 ؎۔ ایضاً
وکنتم ازواجا ثلثۃ۔ یعنی تین قسمیں۔ ہر قسم اس کے ہم مثل ہوگی جو اس میں سے ہے جس طرح زوج زوجہ کے ہم مثل ہوتا ہے پھر وضاحت کی کہ وہ کون ہیں تو فرمایا فا صحاب الیمین، اصحاب الشئمۃ، سابقون۔ اصحاب میمنہ وہ ہیں جن کو دائیں جانب سے پکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جائے گا، اصحاب مثئمہ وہ ہیں جن کو بائیں جانب سے پکڑ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، یہ سدی کا قول ہے (1) مثامہ کا معنی بایاں اسی طرح شامہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکنتم ازواجا ثلثہ سے مراد ہے قیامت کے دن لوگوں کی منزلیں تین قسم کی ہوں گی۔ آیت فاصحاب المیمۃ ما اصحاب المیمنۃ (اور دائیں طرف والے کیسے اچھے ہوں گے دائیں طرف والے) یعنی کیا ہی شان ہوگی۔ دائیں ہاتھ والوں کی اور جو کچھ ان کے لیے تیار کیا گیا۔ آیت واصحاب المشئمۃ ما اصحاب المشئمۃ (اور بائیں طرف والے کیا ہی برے ہوں گے بائیں طرف والے) یعنی کیا ہی برا حال ہوگا بائیں ہاتھ والوں کا اور جو کچھ تیار کیا گیا ان کے لیے آیت والسبقون السابقون (اور جو اعلیٰ درجہ کے ہاں گے وہ تو اعلیٰ درجہ کے ہوں گے) یعنی ہر امت میں سے سبقت لے جانے والے…
Read the full tafseer →[فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ : تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ)] [مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ : داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین) میں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
قیامت کے دن حاضر ہونے والوں کی تین قسمیں
ان آیات میں اصحاب المیمنہ کی دونوں قسموں یعنی مقربین اور عام مومنین کا تذکرہ فرمایا ہے اور ان کے انعامات بتائے ہیں۔ اولاً اجمالاً یوں فرمایا ﴿ فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِؕ008﴾ (سو داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے) وَ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ 1ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِؕ009 (اور بائیں ہاتھ والے کیا ہی برے ہیں بائیں ہاتھ والے) پہلی قسم کے افراد کو ﴿اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ﴾ (داہنے ہاتھ والے) كس اعتبار سے فرمایا ؟ اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے دو قول لکھے ہیں، اول یہ کہ ان حضرات کے صحائف اعمال (یعنی اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔
(ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
5:۔ ” وکنتم ازواجا ثلاثۃ “ اس وقت تم لوگ تین قسموں بٹ جاؤ گے۔ ” فاصحب المیمنۃ۔ تا۔ السابقون “ یہ تینوں قسموں کا اجمالی ذکر ہے۔ ” فاصحب المیمنۃ “ مرکب اضافی مبتدا ہے ما اصحب المیمنۃ “ جملہ خبر ہے اور استفہام تعجب کے لیے ہے، علی ہذا القیاس۔ ” واصحب المشئمۃ۔ الایۃ “ یہ اور ” والسابقون السابقون “ دونوں ” اصحب المیمنۃ “ پر معطوف ہیں اور معطوف علیہ مع معطوفین اذا وقعت کی جزاء ہے (روح) ۔ شرط اور جزا کا حاصل مفہوم یہ ہوگا جب قیامت قائم ہوجائیگی جس کے قیام میں کوئی شک و شبہ نہیں جو بعض کو اونچا کرنے والی اور بعض کو نیچا کرنے والی ہوگی۔ جب زمین کو نہایت شدت سے ہلا دیا جائیگا اور پہاڑوں ریزہ ریزہ کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…
Read the full tafseer →فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ 0ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ 8 ۭ
صحب
الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة،
ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40]
( ص ح ب ) الصاحب
۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰـثَۃً ۔ فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 7 تا 10)
(اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے۔ دائیں بازو والے، تو کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ اور بائیں بازو والے، تو کیا حال ہوگا بائیں بازو والوں کا۔ اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ )
لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں
آیت میں خطاب اگرچہ ان لوگوں سے ہے جو اس وقت قرآن کریم کے مخاطب تھے، لیکن حقیقت میں اس کی مخاطب پوری نوع انسانی ہے۔ کیونکہ یہ تین گروہوں کی تقسیم قیامت کے دن ہونے والی ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بعد محشر کے میدان میں لوگوں کی حالت۔
اس سورت کی پہلی آیت سے لے کر چھٹی آیت تک اسرافیل کے پہلی مرتبہ صورپھونکنے کا منظر بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد جوں ہی دوسرا صورپھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں یوں اکٹھے ہوں جیسے تیر اپنے نشانے پر پہنچ جاتا ہے۔ (المعارج : 43) لوگوں کو حساب و کتاب کے فوراً بعد تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ جس کی ابتدا حساب و کتاب کے وقت ہی کردی جائے گی۔ آغاز میں مجموعی طور پر لوگ دواقسام پر مشتمل ہوں گے نیک اور بد۔ نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے اور برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں…
Read the full tafseer →8 : فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ (سو جو داہنے والے ہیں) یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کا صحیفہ عمل ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ (اور دائیں طرف والے کیسے اچھے ہونگے دائیں طرف والے) یہ مبتدأ و خبر مل کر اصحاب المیمنۃ کی خبر ہے۔ اس میں ان کی سعادت والی حالت اور عظمت شان پر تعجب ظاہر کیا گیا گویا اس طرح فرمایا ماھم ؟ وای شیٔ ھم ؟ وہ کیا ہیں اور کیا چیز ہیں ؟ ( جو اس قدر اعزاز ملا)
Read the full tafseer →7 ۔” وکنتم ازواجا “ اقسام ” ثلاثۃ “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ) اور اے مخلوقات تم تین جماعتیں ہوجاؤ گے۔ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے پھر اللہ تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے چناچہ فرمایا (فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ) پس دائیں ہاتھ والے کیا خوب ہیں دائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔ (وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ ) اور بائیں ہاتھ والے یعنی بائیں جانب کا گروہ۔ کیا حقیر ہیں بائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
[ 6] اصحٰب المیمنۃ سے مقصود و مراد :
یعنی وہ لوگ جن کو ان کے نامہ ہائے اعمال دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، وہ عرش کی دائیں طرف ہوں گے اور یہ خوش نصیب وہی ہوں گے جن کو ازل میں آدم کی دائیں جانب سے نکالا گیا ہوگا، اور یہی خوش نصیب لوگ اصحاب یمن و برکت ہوں گے، جب کہ اصحاب شمال اس کے بالکل برعکس ہوں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سوداہنے ہاتھ والے کامیاب و کامران اور فائز المرام لوگ ہوں گے، اور نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں ملنا کامیابی کی نشانی ہوگی، اللہ نصیب فرمائے، اور ہمیں انہیں خوش نصیبوں میں سے بنائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، بہرکیف " اصحٰب المیمنۃ " سے مراد وہی خوش نصیب لوگ ہیں جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔
اسرار ومعارف۔
جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 9 یعنی ان کی خوش حالی اور عیش و آرام کا کیا پوچھنا ! مراد عام جنتی لوگ ہیں جو عشر کی دائیں جانب ہونگے یا جنہیں حضرت آدم کے دائیں پہلو سے پیدا کیا گیا یا جنہیں ان کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یا جنہیں دائیں طرف سے لے جایا جائے گا۔
Read the full tafseer →(56:8) فاصحب المیمنۃ یہ جملہ شرطیہ اذا وقعت الواقعۃ کا جملہ جزائیہ ہے جواب اذا ھو قولہ : فاصحب المیمنۃ فالمعنی اذا قامت القیامۃ و حصلت ھذہ الاحوال العظیمۃ ظھرت منزلۃ اصحب المیمنۃ واصحاب المشئمۃ (اضواء البیان)
اذا کا جواب شرط خداوند تعالیٰ کا قول فاصحب المیمنۃ ہے۔ مطلب یہ کہ جب قیامت وقوع پذیر ہوگی اور یہ احوال عظیمہ (زمین کا یکبارگی ہلا دیا جانا۔ پہاڑوں کا ریزہ ریزہ کردیا جانا۔ اور ان کا پراگندہ غبار بن کر رہ جانا اور لوگوں کا تین گروہوں میں تقسیم ہوجانا) واقع ہوں گے۔ تو اصحاب المیمنہ اور اصحاب المشئمہ کی قدرو منزلت عیاں ہوگی۔
فاصحب المیمنۃ :عاطفہ ہے۔ اصحب المیمنۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38
وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔
یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔
(ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
[2] سابقون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے دین کی خدمت کی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لئے حوصلہ کرنا اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ف 1: فرمایا : اعمال کے لحاظ سے آخرت میں انسانوں کے تین درجے ہونگے ایک تو وہ جو صاحب لین وسعادت ہوں گے ۔ ان کی داہنی طرف رکھا جائے گا ۔ دوسرے وہ جن کے حصہ میں نحوست وبدبختی آئے گی ۔ ان کو بائیں طرف جگہ دی جائے گی ۔ تیسرے گروہ والے سابقین میں سے ہوں گے ۔ یعنی ہر خیر و برکت کی بات میں آگے ۔ ہر نیکی کی طرف سبقت کرنے والے ۔ اور ہر اصلاح وتقویٰ کے معاملہ میں پیش رو ۔ یہ لوگ اللہ کے مقرب ہوں گے ، ان کے درجے بلند ہونگے ۔
Read the full tafseer →(8) ایک داہنے والے سو کیسے اچھے ہیں داہنے والے۔ یعنی وہ اہل سعادت جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھوں میں ہوں گے یا ابتداء میں جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذریت کو ان کی پشت سے نکالا تو یہ حضرت آدم کی دائیں جانب تھے یا قیامت کے دن جب لوگ عزت کے ساتھ بٹھائے جائیں گے تو یہ داہنی طرف ہوں گے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ مراد اس سے وہ ہیں جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے، اور گو یہ مفہوم مقربین میں بھی مشترک ہے لیکن اس صفت پر اکتفا کرنا مشیر اس طرف ہے کہ ان میں اصحاب الیمین سے زائد کوئی اور صفت قرب خاص کی نہیں پائی جاتی، اس طرح مراد اس سے عوام مومنین ہوگئے۔
Read the full tafseer →پس داہنے ہاتھ والے ‘ کیا کہنا ان داہنے ہاتھ والوں کا
8 ؎ (المیمنۃ) کا اصل مادہ ی م ن ہے اور میمنۃ یا تو ایمن سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے دایاں ہاتھ کیونکہ نیک لوگوں کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا یا یہ کہ نیک لوگوں کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر فرشتے جنت میں داخل کریں گے۔ بہرحال یہ گروہ ایک پسندیدہ لوگوں کا گروہ ہوگا جس کے اعمال کے آگے ذکر آئی گا اور جو لوگ دائیں کے مستحق ہوں گے ان کا تفصیلی ذکر آگے آنے والا ہے لہٰذا ایسے اعمال کر کے آدمی اپنے آپ کو دائیں میں شامل کرا سکتا ہے کیونکہ تقدیر میں جہاں ان کا دائیں بائیں میں ہونا موجود ہے وہاں ان کے اعمال بھی موجود ہیں اور جو کوشش کرتا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
Three Categories of People on the Day of Resurrection
وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً (and you will be [ divided into ] three categories...56:7). Ibn Kathir says that people will be divided into three different categories on the Day of Resurrection. One group will be on the right side of Allah's Throne, and they are those who were brought forth from the right side of the loin of 'Adam (علیہ السلام) . These people will be given their Ledgers of Deeds in their right hands and will be taken to the right side of the Divine Throne. They are the inmates of Paradise.
The second category comprises…
Read the full tafseer →5 The word maintanah in ashab al-maimanah, in the original, stay have been derived from Yamin, which means the right hand, and also from yumn, which means good omen. If it is taken to be derived from yamin, ashab almaimanah would mean: `those of the right hand." This, however, dces not imply its lexical meaning, but it signifies the people of exalted rank and position. The Arabs regarded the right hand as a symbol of strength and eminence and honour, and therefore would seat a person whom they wished to do honour, on the right hand, in the assemblies. And if it is taken as derived from yumn,…
Read the full tafseer →