Al-Waaqia 56:7

Al-Waaqia · from ayah 7

56:7

وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ۟ؕوَّكُنۡـتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰـثَـةً

اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you become [of] three kinds:

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:7

تم لوگ اُس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تم تین جماعتوں میں ہو جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (لوگو) تم تین قسموں میں بٹ جاؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تین قسم کے ہوجاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم لوگ تین قِسموں میں بٹ جاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تم تین قسم (کے لوگ) ہوجاؤ گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس وقت تم تین گروہ بن جاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جائو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم لوگ اس وقت تقسیم ہوجاؤ گے تین مختلف گروہوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم تین قسم کے ہوجاؤ گے۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم تین گروہوں میں منقسم ہو جائو گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم تین قسم کے ہوجاؤ

— محترمہ رفعت اعجاز

You shall then become three groups.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and you will be (divided into) three categories.

— Muhammad Taqi Usmani

and you will be (divided into) three categories.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And you (all) will be in three groups.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And you become [of] three kinds:

— Saheeh International

On that day, you (mankind) will be divided into three groups:

— Muhammad Sarwar

And you shall be three sorts.

— Muhammad Habib Shakir

And ye are classes three.

— Abdul Majid Daryabadi

And ye shall be sorted out into three classes.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–7

سورة الْوَاقِعَة 4 خطاب اگرچہ بظاہر ان لوگوں سے ہے جنہیں یہ کلام سنایا جا رہا تھا، یا جو اب اسے پڑھیں یا سنیں، لیکن دراصل پوری نوع انسانی اس کی مخاطب ہے تمام انسان جو اول روز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہیں وہ سب آخر کار تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

میدان حشر میں حاضرین کی تین قسمیں وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ، ابن کثیر نے فرمایا کہ قیامت کے روز تمام لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجاویں گے، ایک قوم عرش کے داہنی جانب ہوگی، یہ وہ ہوں گے جو آدم ؑ کی داہنی جانب سے پیدا ہوئے اور ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کو عرش کی داہنی جانب میں جمع کردیا جائے گا، یہ سب لوگ جنتی ہیں۔ دوسری قوم عرش کے بائیں جانب میں جمع ہوگی جو آدم ؑ کے بائیں جانب سے پیدا ہوئی اور جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دیئے گئے، ان سب کو بائیں جانب میں جمع کردیا جائے گا اور یہ سب لوگ جہنمی ہیں (نعوذ باللہ من صنیعھم) اور تیسری قسم طائفہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں)۔ یہ اس خفض و رفع کی تفصیل ہے جس کا ذکر اوپر آیت 3 میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس دن تم تین گروہوں میں تقسیم کیے جائو گے۔ ایک گروہ اصحاب المیمنہ کا ہوگا، دوسرا گروہ اصحاب المشمئہ کا ہوگا اور تیسرا سابقون پر مشتمل ہوگا۔ (اصحب المیمنۃ) سے مراد خود قرآن کی تصریح کے مطابق، وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ چناچہ سورة حاقہ میں فرمایا ہے (۔۔ الحاقۃ : 69 : 19۔ 20) (تو اس دن جس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں پکڑایاجائے گا وہ لوگوں سے خوش ہو کر کہے گا کہ یہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو، میں دنیا میں برابر اندیشہ ناک رہا کہ بالآخر مجھے اپنے اعمال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–7

5۔ 1 رَجًا کے معنی حرکت و اضطراب (زلزلہ) اور بس کے معنی ریزہ ریزہ ہوجانے کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–7

1: اس آیت میں قیامت کو واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ کافر لوگ اس کا انکار کررہے ہیں، لیکن جب وہ واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اسے جھٹلا نہیں سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وکنتم ............ السبقون (01) (6 5: 7 تا 01) ” تم لوگ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے ، دائیں بازو والے ، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا اور بائیں بازو والے ، تو بائیں بازو والوں (کی بدنصیبی) کا کیا ٹھکانا اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ “ قیامت میں لوگوں کے تین گروہ ہوں گے۔ قرآن مجید کے دوسرے مشاہد میں لوگوں کے دو ہی اقسام اور گروہ بتائے گئے ہیں لیکن یہاں تین درجے بتائے گئے ہیں۔ پہلے دائیں بازو والے ان کا اصحاب المیمنہ کہا گیا ہے اور ان کے بارے میں محض سوال کردیا گیا۔ یہ محض ان کی گرانقدری کے لئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی وقوع قیامت کے بعد کل آدمیوں کی تین قسمیں کردی جائیں گی۔ دوزخی، عام جنتی، اور خواص مقربین جو جنت کے نہایت اعلیٰ درجات پر فائز ہوں گے۔ آگے تینوں کا مجملاً ذکر کرتے ہیں۔ پھر ان کے احوال کی تفصیل بیان ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً۔ } ”اور تم تین گروہوں میں منقسم ہو جائو گے۔“ ان تین گروہوں کا ذکر بالواسطہ طور پر سورة الرحمن میں دو جنتوں کے حوالے سے ہوا ہے۔ یعنی اہل جہنم ‘ نچلے درجے کی جنت کے مستحق اور اونچے درجے کی جنت کے باسی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

4 سابقہ آیات میں قیامت کے برپا ہونے یا نفخہ صور اول کا منظر پیش کیا گیا ہے اور اس آیت میں نفحہ صور ثانی یا مردوں کے قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے اور میدان محشر میں اکٹھا ہوجانے کے مابعد کا۔ اس وقت تمام لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک اہل دوزخ، دوسرے اہل جنت۔ اہل جنت کی پھر دو قسمیں ہوں گی۔ ایک مقربین کا گروہ، دوسرا عام صالحین کا۔ اس طرح کل تین قسم کے گروہ بن جائیں گے۔ جیسا کہ آگے ان کی تفصیل آرہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–7

2۔ (اے انسانو ! بلحاظ اپنے انجام وثمرات عمل کے) آخرت میں نسل انسانی تین طبقوں میں منقسم نظر آئے گی، ایک خواص مومنین یا مقربین، دوسرے عوام مومنین، تیسرے منکرین یا کفار، پچھلی صورت میں بھی ذکر انہیں تین طبقات کا تھا۔ (آیت) ” کنتم “۔ خطاب یہاں موجودہ امت اور سابق امتوں سے مجموعی طور پر ہے۔ خطاب للامۃ الحاضرۃ والامم السالفۃ تغلیبا کما ذھب الیہ الکثیر (روح) (آیت) ” ازواجا “۔ زوج۔ یہاں صنف یا قسم کے معنی میں ہے۔ ازواجا اے اصنافا (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وکنتم ازواجاً ثلثۃ، کنتم کا خطاب اگرچہ بظاہر ان لوگوں سے ہے جن کو یہ کلام سنایا جا رہا ہے یا اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو اس کو پڑھ اور سن رہے ہیں، مگر مراد اس سے تمام مکلفین ہیں خواہ جن ہوں یا انس، جو روز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہیں، یہ سب کے سب تین گروہوں میں تقسیم کردیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و کنتم ازواجا ثلثۃ اور تم تین قسم کے ہوجاؤ گے اَزْوَاجًا : اے امت محمدیہ تمہاری تین صنفیں ہوں گی ‘ وہ صنف جو دوسری صنف کے ساتھ ہو یا دوسری صنف کے ساتھ اس کا ذکر کیا جائے ‘ اس کو زوج کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) اور تم قیامت کے دن تین قسم کے ہوجاؤ گے سو ان میں جو داہنے والے ہیں وہ دائیں والے کیسے اچھے ہیں یعنی جن کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا تو بطور تعجب کے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ محمد آپ کو کیا معلوم کہ ان کے لیے کیا کیا نعمتیں اور خوشیاں ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّ کُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰـثَۃً : یہ تمام لوگوں کو خطاب ہے ، کیونکہ قیامت کے دن سب لوگ ان تین قسموں میں تقسیم ہوں گے، سابقون ، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔ سورت کے آخر میں موت کے وقت بھی لوگوں کی یہی قسمیں بیان فرمائی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–9

(وکنتم ازواجا ثلثۃ۔۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ موطا امام مالک، کتاب الجامع، ما جاء ل سکنی المدینۃ والطروج، منھا، صفحہ 696 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 447 4 ؎۔ ایضاً 5 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 239 6 ؎۔ ایضاً وکنتم ازواجا ثلثۃ۔ یعنی تین قسمیں۔ ہر قسم اس کے ہم مثل ہوگی جو اس میں سے ہے جس طرح زوج زوجہ کے ہم مثل ہوتا ہے پھر وضاحت کی کہ وہ کون ہیں تو فرمایا فا صحاب الیمین، اصحاب الشئمۃ، سابقون۔ اصحاب میمنہ وہ ہیں جن کو دائیں جانب سے پکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جائے گا، اصحاب مثئمہ وہ ہیں جن کو بائیں جانب سے پکڑ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، یہ سدی کا قول ہے (1) مثامہ کا معنی بایاں اسی طرح شامہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وکنتم ازواجا ثلٰثہ سے مراد ہے کہ تم لوگ تین قسموں میں تقسیم کردئیے جاؤگے۔ 2۔ ابن المنذور ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وکنتم ازواجا ثلثہ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہی ہے جس کا ذکر سورة الملائکہ (یعنی سورة فاطر) میں ہے (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) آیت ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا فمنہم ظالم لنفسہ، ومنہم مقتصد، ومنہم سابق بالخیرات، (فاطر : آیت 32) (پھر ہم نے اپنی کتاب کا ان کو وارث بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا پس بعض ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں سے میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ007﴾ (اور اے لوگو ! قیامت کے دن تم تین قسموں پر ہو گے۔ ) ان تینوں قسموں کا تفصیلی بیان آئندہ آیات میں آرہا ہے۔ ﴿اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ﴾ کی دو قسمیں بیان فرمائیں اول سابقین جنہیں مقربین فرمایا، دو عام مومنین جنہیں اصحاب الیمین سے تعبیر فرمایا سوم تمام کفار جو اصحاب الشمال ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–9

5:۔ ” وکنتم ازواجا ثلاثۃ “ اس وقت تم لوگ تین قسموں بٹ جاؤ گے۔ ” فاصحب المیمنۃ۔ تا۔ السابقون “ یہ تینوں قسموں کا اجمالی ذکر ہے۔ ” فاصحب المیمنۃ “ مرکب اضافی مبتدا ہے ما اصحب المیمنۃ “ جملہ خبر ہے اور استفہام تعجب کے لیے ہے، علی ہذا القیاس۔ ” واصحب المشئمۃ۔ الایۃ “ یہ اور ” والسابقون السابقون “ دونوں ” اصحب المیمنۃ “ پر معطوف ہیں اور معطوف علیہ مع معطوفین اذا وقعت کی جزاء ہے (روح) ۔ شرط اور جزا کا حاصل مفہوم یہ ہوگا جب قیامت قائم ہوجائیگی جس کے قیام میں کوئی شک و شبہ نہیں جو بعض کو اونچا کرنے والی اور بعض کو نیچا کرنے والی ہوگی۔ جب زمین کو نہایت شدت سے ہلا دیا جائیگا اور پہاڑوں ریزہ ریزہ کر کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً۝ 7 ۭ زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، أي : أقرانهم المقتدین بهم في أفعالهم، وَلا تَمُدَّنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–12

ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–10

وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰـثَۃً ۔ فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 7 تا 10) (اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے۔ دائیں بازو والے، تو کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ اور بائیں بازو والے، تو کیا حال ہوگا بائیں بازو والوں کا۔ اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ ) لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں آیت میں خطاب اگرچہ ان لوگوں سے ہے جو اس وقت قرآن کریم کے مخاطب تھے، لیکن حقیقت میں اس کی مخاطب پوری نوع انسانی ہے۔ کیونکہ یہ تین گروہوں کی تقسیم قیامت کے دن ہونے والی ہے جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–14

فہم القرآن ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بعد محشر کے میدان میں لوگوں کی حالت۔ اس سورت کی پہلی آیت سے لے کر چھٹی آیت تک اسرافیل کے پہلی مرتبہ صورپھونکنے کا منظر بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد جوں ہی دوسرا صورپھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں یوں اکٹھے ہوں جیسے تیر اپنے نشانے پر پہنچ جاتا ہے۔ (المعارج : 43) لوگوں کو حساب و کتاب کے فوراً بعد تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ جس کی ابتدا حساب و کتاب کے وقت ہی کردی جائے گی۔ آغاز میں مجموعی طور پر لوگ دواقسام پر مشتمل ہوں گے نیک اور بد۔ نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے اور برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تین اقسام : 7 : وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا (اور تم ہوجائو گے) ازواجًا اصناف کے معنی میں ہے یہ ان اصناف کیلئے آتا ہے جو ایک دوسرے سے ہوں یا جن کے بعض کا ذکر بعض کے ساتھ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ کیا جائے۔ ثَلٰثَۃً (تین قسم) دو قسمیں جنت اور ایک قسم جہنمی۔ پھر ان اقسام کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” فکانت ھباء منبثا “ غبار متفرق اس کی طرح جب سوراخ سے سورج کی روشنی اندر داخل ہو تو اس روشنی میں دیکھا جاتا ہے وہ ھباء ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–9

وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ) اور اے مخلوقات تم تین جماعتیں ہوجاؤ گے۔ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے پھر اللہ تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے چناچہ فرمایا (فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ) پس دائیں ہاتھ والے کیا خوب ہیں دائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔ (وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَةِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ ) اور بائیں ہاتھ والے یعنی بائیں جانب کا گروہ۔ کیا حقیر ہیں بائیں ہاتھ والے۔ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 5] قیامت کے روز لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز تم سب لوگ بٹ کر تین گروہ ہوجاؤ گے۔ یعنی مقربین، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال، آگے ان تینوں کی تفصیل مذکو رہے۔ سو یہ اس خفض و رفع کی تفصیل ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے، کہ اس روز کتنے ہی خوش نصیبوں کو ان کے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی بناء پر بلند درضوں سے نوازا جائے گا اور کتنے ہی بدبختوں کو ان کے کفر و انکار اور اعراض و استکبار کی بناء پر ہولناک ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس روز کی وہ تقسیم اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–8

ف 9 یعنی ان کی خوش حالی اور عیش و آرام کا کیا پوچھنا ! مراد عام جنتی لوگ ہیں جو عشر کی دائیں جانب ہونگے یا جنہیں حضرت آدم کے دائیں پہلو سے پیدا کیا گیا یا جنہیں ان کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یا جنہیں دائیں طرف سے لے جایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:7) وکنتم ازواجا ثلثۃ۔ واؤ عاطفہ۔ ازواجا زوج کی جمع۔ جوڑا ۔ یہاں اس کے معنی گروہ۔ صنف، جماعت کے ہیں۔ اور تم تین اقسام میں یا گروہ میں ہوجاؤ گے۔ یہاں کان بمعنی صار مستعمل ہے۔ ایسے ہی آیت ولا تقربا ھذا الشجرۃ فتکونا من الظلمین (2:35) اور اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے میں کان بمعنی صار استعمال ہوا ہے۔ ارواجا ثلثۃ موصوف و صفت مل کر کنتم کی خبر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38 وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔ یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–12

میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–10

[2] سابقون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے دین کی خدمت کی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لئے حوصلہ کرنا اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–11

ف 1: فرمایا : اعمال کے لحاظ سے آخرت میں انسانوں کے تین درجے ہونگے ایک تو وہ جو صاحب لین وسعادت ہوں گے ۔ ان کی داہنی طرف رکھا جائے گا ۔ دوسرے وہ جن کے حصہ میں نحوست وبدبختی آئے گی ۔ ان کو بائیں طرف جگہ دی جائے گی ۔ تیسرے گروہ والے سابقین میں سے ہوں گے ۔ یعنی ہر خیر و برکت کی بات میں آگے ۔ ہر نیکی کی طرف سبقت کرنے والے ۔ اور ہر اصلاح وتقویٰ کے معاملہ میں پیش رو ۔ یہ لوگ اللہ کے مقرب ہوں گے ، ان کے درجے بلند ہونگے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) کہ تم سب تین قسم ہوجائو گے یعنی اگلے پچھلے سب کے سب قسم پر منقسم ہوگے اور تم سب کے تین قسمیں ہوجائیں گی وہ تین قسمیں خواص مومنین عوام مومنین اور منکرین کی ایک جماعت آگے یہی تفصیل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی خواص مومنین، عوام مومنین اور کفار اور آیات آئندہ میں خواص کو مقربین اور سابقین کہا ہے، اور عوام مومنین کو اصحاب الیمین اور کفار کو اصحاب الشمال۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور تم لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جائو گے 7 ؎ (زوج) کی جمع ہے ازواج جوڑے ‘ ہم مثل چیزیں ‘ اقران ‘ حیوانات کے جوڑے میں سے نر ہو یا مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں اور اسی طرح غیر حیوانات میں ہر اس شے کو جو دوسری شے کے قرین ہو خواہ وہ مماثل ہو یا متضاد زوج کہتے ہیں۔ اسی سے ازواجا ہے یعنی اصناف۔ مطلب یہ ہے کہ حشر و نشر کے روز لوگوں کو تین گروہوں میں بانٹ دیا جائے گا اور تینوں گروہوں کے الگ الگ نام بتائے گئے ہیں یہ وہ موٹی موٹی تقسیم ہوگی ‘ ان کے اندر چھوٹی چھوٹی تقسی میں بھی ہوں گی لیکن ان کی شناخت کے لئے ان کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا اور مقصود اس سے تفہیم ہے تاکہ ان کی شناخت جو آگے بیان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

Three Categories of People on the Day of Resurrection وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً (and you will be [ divided into ] three categories...56:7). Ibn Kathir says that people will be divided into three different categories on the Day of Resurrection. One group will be on the right side of Allah's Throne, and they are those who were brought forth from the right side of the loin of 'Adam (علیہ السلام) . These people will be given their Ledgers of Deeds in their right hands and will be taken to the right side of the Divine Throne. They are the inmates of Paradise. The second category comprises…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–7

4 Although the address apparently is directed to the people to whom this discourse was being recited, or who may read it or hear it read now, in fact the entire mankind is its addressee. AII human beings who have been born since the tirst day of creation and will be born till the Day of Resurrection, will ultimately he divided into three classes.

Read the full tafseer →