فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا ۟ۙفَكَانَتۡ هَبَآءً مُّنۡۢبَـثًّا
پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And become dust dispersing.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا ۟ۙفَكَانَتۡ هَبَآءً مُّنۡۢبَـثًّا
پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And become dust dispersing.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے
پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیں
پھر وه مثل پراگنده غبار کے ہو جائیں گے
یہاں تک کہ وہ بکھرا ہوا غبار بن کر رہ جائیں گے۔
تو ہوجائیں گے جیسے روزن کی دھوپ میں غبار کے باریک ذرے پھیلے ہوئے
پھر وہ غبار بن کر منتشر ہو جائیں گے،
پس وہ پھیلا ہوا غبار بن جائیں گے۔
جیسے وہ پراگندہ غبار ہیں
ہوکر منتشر غبار بن جائیں گے۔
پھر یہ ہوجائیں گے ایک غبار پراگندہ
پھر وہ پراگندہ غبار بن جائیں گے
پس وہ ہوجائیں گے اڑتا ہوا غبار۔
پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں۔
and will scatter abroad into fine dust.
until they will become dust, scattered in the air,
until they will become dust, scattered in the air,
So that they will become floating dust particles.
So that they become a scattered dust,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And become dust dispersing.
they will become like dust scattered around.
So that they shall be as scattered dust.
So that they become dust seattered.
Becoming dust scattered abroad,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–12
یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
سورة الْوَاقِعَة 4 خطاب اگرچہ بظاہر ان لوگوں سے ہے جنہیں یہ کلام سنایا جا رہا تھا، یا جو اب اسے پڑھیں یا سنیں، لیکن دراصل پوری نوع انسانی اس کی مخاطب ہے تمام انسان جو اول روز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہیں وہ سب آخر کار تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ، یعنی واقعہ قیامت بہت سی بلند رتبہ قوموں اور افراد کو پست و ذلیل کر دے گا اور بہت سی پست و حقیر قوموں اور افراد کو سر بلند کر دے گا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی یہی تفسیر منقول ہے اور مقصد اس کا ہولناک ہونا اور اس میں عجیب قسم کے انقلابات پیش آنے کا بیان ہے، جیسا کہ سلطنتوں اور حکومتوں کے انقلاب کے وقت مشاہدہ ہوا کرتا ہے کہ اوپر والے نیچے اور نیچے والے اوپر ہوجاتے ہیں، فقیر مالدار ہوجاتے ہیں مالدار فقیر ہوجاتے ہیں (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(اذا رجت الارض رجا و بست الجبال بسا فکانت ھبا منبثا) (4۔ 6) (قیامت کے دن کی ہلچل)۔ یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں۔ غبار کی طرح پراگندہ ہوجائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کردی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورة حاتہ میں یوں بیان ہوا ہے (۔۔۔ الحاقۃ 69۔ 14۔ 15) (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
5۔ 1 رَجًا کے معنی حرکت و اضطراب (زلزلہ) اور بس کے معنی ریزہ ریزہ ہوجانے کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: اس آیت میں قیامت کو واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ کافر لوگ اس کا انکار کررہے ہیں، لیکن جب وہ واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اسے جھٹلا نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
وبست ............ بثا (6) (54:5 تا 6) ” اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ “ اس خوف کا کیا عالم ہوگا کہ زمین مسلسل ہل رہی ہوگی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور غبار کے ذرات کی طرح فضائے آسمان میں بکھر جائیں گے۔ کتنے ہی جاہل ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو اس خطرے سے دو چار کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ زمین اور پہاڑوں کا یہ حشر ہوگا تو انسان کیا کرسکیں گے۔ سورة کا آغاز اس خوفناک فضا میں ہوتا ہے۔ انسانی احساس و شعور پر ڈر چھا جاتا ہے۔ یہ ہوگا وہ عظیم واقعہ جس کا کافر انکار کرتے ہیں۔ مشرکین اسے جھٹلاتے ہیں۔ یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4 یعنی زمین میں سخت زلزلہ آئے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح اڑتے پھریں گے۔
Read the full tafseer →آیت 6{ فَکَانَتْ ہَبَآئً مُّنْبَثًّا۔ } ”پس وہ ہوجائیں گے اڑتا ہوا غبار۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4 سابقہ آیات میں قیامت کے برپا ہونے یا نفخہ صور اول کا منظر پیش کیا گیا ہے اور اس آیت میں نفحہ صور ثانی یا مردوں کے قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے اور میدان محشر میں اکٹھا ہوجانے کے مابعد کا۔ اس وقت تمام لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک اہل دوزخ، دوسرے اہل جنت۔ اہل جنت کی پھر دو قسمیں ہوں گی۔ ایک مقربین کا گروہ، دوسرا عام صالحین کا۔ اس طرح کل تین قسم کے گروہ بن جائیں گے۔ جیسا کہ آگے ان کی تفصیل آرہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
2۔ (اے انسانو ! بلحاظ اپنے انجام وثمرات عمل کے) آخرت میں نسل انسانی تین طبقوں میں منقسم نظر آئے گی، ایک خواص مومنین یا مقربین، دوسرے عوام مومنین، تیسرے منکرین یا کفار، پچھلی صورت میں بھی ذکر انہیں تین طبقات کا تھا۔ (آیت) ” کنتم “۔ خطاب یہاں موجودہ امت اور سابق امتوں سے مجموعی طور پر ہے۔ خطاب للامۃ الحاضرۃ والامم السالفۃ تغلیبا کما ذھب الیہ الکثیر (روح) (آیت) ” ازواجا “۔ زوج۔ یہاں صنف یا قسم کے معنی میں ہے۔ ازواجا اے اصنافا (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
خافضۃ رافعۃ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ سب کو لاٹ پلٹ اور تہ وبالا کر کے رکھ دے گی اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اٹھانے والی اور گران والی ہوگی، مطلب یہ کہ دنیا میں جو بلند مرتبہ اور عالی مقام سمجھے جاتے ہیں وہ قیامت کے روز ذلیل و خوار ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ حقیر اور بےحیثیت سمجھے جاتے ہیں وہ عالی مقام اور سرخ رو ہوں گے یعنی قیامت کے روز عزت و ذلت کا فیصلہ ایک دوسری بنیاد پر ہوگا جو دنیا میں بڑی عزت والے بنے پھرتے ہیں وہ ذلیل ہوجائیں گے اور جو ذلیل سمجھے جاتے ہیں وہ عزت پائیں گے۔ میدان حشر میں حاضرین کی تین قسمیں ہوں گی ایک جماعت تو وہ ہوگی جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں…
Read the full tafseer →فکانت ھباءً منبثا . پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے ھَبَآءً : روشن دان کے شگافوں میں جو اڑتے ہوئے خاکی ذرات سورج کی پڑتی ہوئی شعاعوں کی وجہ سے نظر آتے ہیں ‘ ان کو ہباء کہتے ہیں۔ مُّنْبَثًا : منتشر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) جب قیامت قائم ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی اختلاف اور شبہ و تردد نہیں ہے وہ بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے پست کر کے دوزخ میں داخل کردے گا اور بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے بلند کر کے جنت میں داخل کردے گا۔ اور قیامت کو واقع سخت آواز کی وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت ایسی سخت ترین آواز ہوگی کہ نزدیک اور دور والے سب سن لیں گے جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا کہ اونچی اونچی عمارتیں اور پہاڑ پارہ پارہ ہوجائیں گے۔ اور روئے زمین پر پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے یا یہ کہ اکھڑ پڑیں گے یا یہ کہ ستو اور اونٹوں کے چارہ کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے جیسا کہ…
Read the full tafseer →1۔ فَکَانَتْ ہَبَآئً مُّنْبَثًّا :”ھباء ً“ غبار کے ان ذرات کو کہتے ہیں جو روشن دان سے کمرے میں آنے والی دھوپ میں چمک رہے ہوتے ہیں ، پکڑنا چاہیں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ”بث یبث بشا“ (ن) پھیلانا۔ ’ ’ انبت انبثاتا“ (انفعال) پھیلنا۔ ”مثبثاً ‘ ‘ اسم فاعل ہے ، پھیلنے والا۔ قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے احوال کے لیے دیکھئے سورة ٔ نبا کی آیت (20) کی تفسیر۔ 2۔ ان آیات میں ”اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ“ سے لے کر ”وَّ کُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰـثَۃً“ تک بعض واقعات صور میں پہلے نفخہ کے وقت کے بیان فرمائے ہیں ، جیسے ”اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا“ اور ”َّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا“ ہے اور بعض دوسرے نفخہ کے…
Read the full tafseer →فکانت ھبا مبثا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : ھباء منبث سے مراد وہ غبار ہے جو چو پائوں کے کھروں سے پھیلتا ہے پھر ختم ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو اس طرح بنایا ہے (3) مجاہد نے کہا : ھباء سے مراد وہ شعاع ہے جو روشن دان میں ہوتی ہے جس طرح غبار کی کیفیت ہوتی ہے (4) اس کی مثل حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ ان سے بھی مروی ہے : جب آگ میں حرکت ہوتی ہے تو اس سے جو شرارے اڑے ہیں جب وہ کسی جگہ واقع ہوتے ہیں تو کچھ بھی نہیں ہوتے (5) یہ عطیہ کا قول ہے۔ سورة فرقان میں ” وقد منا الی ما عملو من عمد فجعلنہ ٗ ھبا منثورا۔ میں گزر چکا ہے۔ عام قرأت منبثا ثاء مثلثہ کے ساتھ ہے۔ مراد ہے متفرق ہے۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →آیت فکانت ہباء منبثا ( پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) جیسے خشک درختوں کے پتوں کو ہوائیں دائیں اور بائیں اڑا کرلے جاتی ہیں۔ 16۔ ابن ابی شیبہ نے زید بن اسلم (رح) سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص اس دن پست ہوگیا وہ کبھی بلند نہ ہوگا اور جو شخص اس دن بلند ہوگیا وہ کبھی پست نہ ہوگا۔ 17۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا رجت الارض رجا یعنی جب (زمین پر) زلزلہ آئے گا۔ آیت وبست الجبال بسا۔ یعنی پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا جائے۔ آیت فکانت ہباء منبثا (پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) سورج کی کرنوں کی طرح غبار بن کر بکھر جائیں گے ْ 18۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →[فَكَانَتْ : پھر ] هَبَاۗءً : غبار ہو کر ] مُّنْۢبَثًّا : اڑنے لگیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اس کے بعد قیامت کے زلزلہ کا تذکرہ فرمایا ﴿ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ004﴾ (جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا) ﴿ وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ005﴾ (اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے) ۔ ﴿ فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ006﴾ (پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) ۔ قولہ اذا رجت قال المفسرون اذا ثانیة بدل من الاولیٰ وقیل ظرف لخافضة رافعة علی التنازع ذکرہ صاحب الکمالین بل اقرب ان یقال اذا الثانیة کا لشرط وقولہ تعالیٰ ورجت عطف علیہ وکنت وجزاہٴ محذوف ای تنقسمون وتثابون حسب ایمانکم واعمالکم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4:۔ ” رج “ نہایتہی شدت سے ہلانا قیامت کے دن زمین کو اس شدت سے ہلایا جائیگا کہ زمین پر کوئی چیز کھڑی نہ رہے گی، تمام عمارتیں گر جائیں گی یہاں تک کہ پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر ہموار ہوجائیں گے۔ ” بس “ باریک کرنا، پہاڑوں کو اس طرح باریک کردیا جائے گا کہ وہ غبار کی طرف متفرق ہوجائیں گے۔ ای حرکت تحریکا شدیدا بحیث ینھدم مافوقھا من بناء وجبل (وبست) فتت تاحتی صارت کالسویق المبسوس وھو الملتوت (مظہری ج 9 ص 165) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…
Read the full tafseer →فَكَانَتْ ہَبَاۗءً مُّنْۢبَثًّا 6 ۙ هبا هَبَا الغبار يَهْبُو : ثار وسطع، والهَبْوَة کا لغبرة، والهَبَاء : دقاق التّراب وما نبت في الهواء فلا يبدو إلّا في أثنا ضوء الشمس في الكوّة . قال تعالی: فَجَعَلْناهُ هَباءً مَنْثُوراً [ الفرقان/ 23] ، فَكانَتْ هَباءً مُنْبَثًّا . [ الواقعة/ 6] . ( ھ ب و ) ھبا ( ن ) الغبار کے معنی غبار کے اڑنے اور فضا میں پھیل جانے کے ہیں اور ھبرۃ ( بر وزن غبرۃ اور ھباء کے معنی غبار یا ان باریک ذرات کے ہیں جو کمرے کے اندر رو شندان سے دھوپ کی کرنیں اندر پڑنے سے اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں قرآن پاک میں ہے ۔ فَجَعَلْناهُ هَباءً مَنْثُوراً [ الفرقان/ 23] اور ان کو ( اس طرح رائگاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا۔ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۔ فَـکَانَتْ ھَبَـآئً مُّنْبَثًّا۔ (الواقعۃ : 4 تا 6) (جبکہ زمین یکبارگی ہلا دی جائے گی۔ اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ پس وہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ ) قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر یہ قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر ہے کہ اس وقت ساری زمین یکبارگی ہلا دی جائے گی۔ یہ کوئی مقامی زلزلہ نہیں ہوگا جو کسی محدود علاقے میں آتا ہے بلکہ قیامت کا وقوع پوری زمین پر ہوگا۔ اور اس کو اس طرح ہلایا جائے گا کہ اونچے اونچے پہاڑ جنھیں لوگ غیرفانی اور غیرمتزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورة الرّحمن کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ آپ کا رب بڑی برکت والا اور ذوالجلال والاکرام ہے۔ الواقعہ کی ابتدارب ذوالجلال کی جلالت کے اظہار سے ہورہی ہے کہ قیامت کے دن اس کی جلالت کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ پہاڑ بھی اس کے حکم کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے جوں ہی اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو اہل مکہ کی کوئی مجلس ایسی نہ تھی جس میں تین موضوعات میں سے کسی ایک موضوع پر بحث نہ ہوتی ہو۔ لوگ یہاں بیٹھتے اللہ کی توحید، نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے عنوانات میں سے کسی ایک عنوان پر ضرور گفتگو کرتے۔ اس میں بالخصوص نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے قائم ہونے کو…
Read the full tafseer →6 : فَکَانَتْ ھَبَآ ئً (پھر وہ غبار ہوجائیں گے) مُّنْچبَثًّا (پراگندہ) متفرق۔
Read the full tafseer →5 ۔” وبست الجبال بسا “ عطائ، مقاتل اور مجاہد رحمہم اللہ فرماتے ہیں ٹکڑے کیے جائیں گے۔ پس وہ ترکیے ہوئے آٹے کی طرح ہوجائیں گے۔ سعید بن مسیب اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں توڑے جائیں گے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں زمین کے اوپر چلائے جائیں گے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اپنی جڑ سے اکھاڑے جائیں گے تو ختم ہوجائیں گے۔ اس کی نظیر ” فقل ینسفھا ربی نسفا “ ہے۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں وہ ریت کے بچھے ہوئے ٹیلے کردیئے گئے، بعد اس کے وہ لمبے بلند تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…
Read the full tafseer →(فَكَانَتْ هَبَاۗءً مُّنْۢبَثًّا) پھ رہو مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے زمین کی حالت یہ ہوگی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ بس ہموار اور چٹیل میدان ہوگا اور اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
[ 4] زلزلہ قیامت کی تصویر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب لرز اٹھے گی یہ زمین تھر تھرا کر، اور یہ تمام فلک بوس عمارتیں، بلڈنگیں اور پختہ و مضبوط قلعے وغیرہ جن کو اہل دنیا ترقی کی معراج سمجھتے رہے تھے سب تہس نہس ہو کر رہ جائیں گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { اذا زلزلت الارض زلزالہا۔} نیز فرمایا گیا۔ { ان زلزلۃ الساعۃ شیئٌ عظیم } سو یہ قیامت کے اس ہولناک منظر اور انتہائی خوفناک زلزلے کی تصویر ہے کہ جب وہ واقع ہوگا تو ہلا مارا جائے گا اس زمی کو، یقینی زلزلہ قیامت کا وہ حادثہ کبریٰ کسی ایک ملک یا شہر یا کسی خاص خطہ زمین میں محدود نہیں ہوگا، بلکہ وہ پوری روئے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قیامت کی تباہیاں تشریح : ان آیات میں بڑے واضح الفاظ میں اس غیب کی خبر دی گئی ہے جو قیامت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ اطلاع حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ وحی کی صورت میں آنحضرت ﷺ تک پہنچی ہے اور ہم اس کو کتاب مقدس قرآن پاک میں پڑھ رہے ہیں اس لیے ہمارے لیے اس میں ہرگز شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں البتہ انسان جو آئے دن تجربات و تحقیقات میں لگا رہتا ہے اس نے بھی اس کی تصدیق اس طرح کی ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب یوں لکھتے ہیں۔ ' شدید زلزلوں کا سلسلہ، تھرتھراہٹ اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہوجانا، زمین کے اندرونی مغز سے دھماکہ خیز مادہ کا باہر آنا۔ پہاڑوں کا فضا میں اڑنا، ان سب واقعات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 9 یعنی ان کی خوش حالی اور عیش و آرام کا کیا پوچھنا ! مراد عام جنتی لوگ ہیں جو عشر کی دائیں جانب ہونگے یا جنہیں حضرت آدم کے دائیں پہلو سے پیدا کیا گیا یا جنہیں ان کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یا جنہیں دائیں طرف سے لے جایا جائے گا۔
Read the full tafseer →(56:6) فکانت :سببیہ ہے پس بسبب اس کے۔ فکانت ای فکانت الجبال۔ پس پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ ھبائ۔ اسم مفرد (ھ ب و۔ مادہ) باریک خاکم باریک ذرات، جو سورج کے رخ پر کواڑ کے سوراخوں سے نظر آتے ہیں۔ کانت کی خبر ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے :۔ فجعلنہ ھباء منشورا۔ (25:23) اور ہم ان کو اڑتی ہوئی خاک کردیں گے۔ منبتا اسم فاعل واحد مذکر، پراگندہ ۔ اصل میں منبثث تھا۔ یا یہ اسم مفعول ہے۔ اس صورت میں یہ منبثث ہے ث کو ث میں ادغام کردیا گیا ہے۔ انبثاث (انفعال) مصدر۔ بکھر جانا۔ پھیل جانا۔ متشر ہونا۔ پراگندہ ہونا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے یوم یکون الناس کالفراش المبثوث (101:4) جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38 وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔ یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
[2] سابقون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے دین کی خدمت کی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لئے حوصلہ کرنا اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ف 1: فرمایا : اعمال کے لحاظ سے آخرت میں انسانوں کے تین درجے ہونگے ایک تو وہ جو صاحب لین وسعادت ہوں گے ۔ ان کی داہنی طرف رکھا جائے گا ۔ دوسرے وہ جن کے حصہ میں نحوست وبدبختی آئے گی ۔ ان کو بائیں طرف جگہ دی جائے گی ۔ تیسرے گروہ والے سابقین میں سے ہوں گے ۔ یعنی ہر خیر و برکت کی بات میں آگے ۔ ہر نیکی کی طرف سبقت کرنے والے ۔ اور ہر اصلاح وتقویٰ کے معاملہ میں پیش رو ۔ یہ لوگ اللہ کے مقرب ہوں گے ، ان کے درجے بلند ہونگے ۔
Read the full tafseer →(6) پھر وہ پہاڑ پراگندہ غبار کی مانند ہوجائیں گے۔ یعنی ایسا سخت زلزلہ ہوگا کہ پہاڑ چورا چورا ہوکر خاک کی طرح اڑتے پھریں گے اور یہ معلوم ہوگا کہ بادل ہوا پر اڑ رہے ہیں۔ بہرحال جب یہ ہولناک چیز واقع ہوگی تو اس دن ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 1۔ یعنی کفار کی ذلت کا اور مومنین کی رفعت کا اس روز ظہور ہوگا۔
Read the full tafseer →پھر وہ غبار ہو کر اڑنے لگیں گے 6 ؎ یہ پہاڑوں کے اڑائے جانے یا زلزلہ کے ساتھ ریزہ ریزہ ہوجانے کی مزید تشریح کی گئی ہے۔ پہاڑوں کی طرف نظر کرو اور پھر زیر نطر آیت پر غور کرو کہ وہ حادثہ کیسا حادثہ ہوگا فرمایا جا رہا ہے کہ پہاڑ اس طرح اڑیں گے جیسے دھول اڑا کرتی ہے کیونکہ (ھبار) کے معنی ہیں باریک خاک اور گرد و غبار۔ باریک ذرات خاک جو روسن دان سے دھوپ اندر داخل ہو رہی ہو تو اس طرح نظر کر کے دیکھو تم پر بات واضح ہوجائے گی اس دھوپ کے اندر جو ذرات آپ کو نظر آئیں گے یہی ذرات ہیں جن کی طرف نسبت دی جا رہی ہے کہ پہاڑ اس طرح ہوں گے جیسے غبار ہوتا ہے۔ (منبا) اسم فاعل واحد مذکر اصل میں منبث تھا یا اسم مفعول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ (It will be abasing [ some ], exalting [ others ]...56:3). The verse means that the 'Inevitable Event' referred to in the previous verse will bring about a great revolution in the lives of men, as is witnessed at the time of revolution of governments. The high and the mighty will be laid low and the despised and down-trodden will be exalted; the poor become rich and the rich become poor. This is how Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ interprets this statement. The purpose is to depict the horrors of the Day of Resurrection.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
4 Although the address apparently is directed to the people to whom this discourse was being recited, or who may read it or hear it read now, in fact the entire mankind is its addressee. AII human beings who have been born since the tirst day of creation and will be born till the Day of Resurrection, will ultimately he divided into three classes.
Read the full tafseer →