Al-Waaqia 56:5

Al-Waaqia · from ayah 5

56:5

وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ۟ۙوَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the mountains are broken down, crumbling

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:5

اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور پہاڑ بالکل ریزه ریزه کر دیے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور پہاڑوں کو پیس کر چورا کردیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے چُورا ہوکر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے، خوب ریزہ ریزہ کیا جانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے یہ (دیو ہیکل) پہاڑ ٹوٹ کر

— مولانا اسحاق مدنی

اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and the mountains will crumble

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the mountains will be crumbled a thorough crumbling,

— Muhammad Taqi Usmani

and the mountains will be crumbled a thorough crumbling,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the mountains will be powdered to dust,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the mountains are broken down, crumbling

— Saheeh International

and the mountains crumbled,

— Muhammad Sarwar

And the mountains shall be made to crumble with (an awful) crumbling,

— Muhammad Habib Shakir

And the mountains are crumbled, crumbled.

— Abdul Majid Daryabadi

And the mountains shall be crumbled to atoms,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–7

سورة الْوَاقِعَة 4 خطاب اگرچہ بظاہر ان لوگوں سے ہے جنہیں یہ کلام سنایا جا رہا تھا، یا جو اب اسے پڑھیں یا سنیں، لیکن دراصل پوری نوع انسانی اس کی مخاطب ہے تمام انسان جو اول روز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہیں وہ سب آخر کار تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–6

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ، یعنی واقعہ قیامت بہت سی بلند رتبہ قوموں اور افراد کو پست و ذلیل کر دے گا اور بہت سی پست و حقیر قوموں اور افراد کو سر بلند کر دے گا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی یہی تفسیر منقول ہے اور مقصد اس کا ہولناک ہونا اور اس میں عجیب قسم کے انقلابات پیش آنے کا بیان ہے، جیسا کہ سلطنتوں اور حکومتوں کے انقلاب کے وقت مشاہدہ ہوا کرتا ہے کہ اوپر والے نیچے اور نیچے والے اوپر ہوجاتے ہیں، فقیر مالدار ہوجاتے ہیں مالدار فقیر ہوجاتے ہیں (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–6

(اذا رجت الارض رجا و بست الجبال بسا فکانت ھبا منبثا) (4۔ 6) (قیامت کے دن کی ہلچل)۔ یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں۔ غبار کی طرح پراگندہ ہوجائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کردی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورة حاتہ میں یوں بیان ہوا ہے (۔۔۔ الحاقۃ 69۔ 14۔ 15) (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–7

5۔ 1 رَجًا کے معنی حرکت و اضطراب (زلزلہ) اور بس کے معنی ریزہ ریزہ ہوجانے کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–7

1: اس آیت میں قیامت کو واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ کافر لوگ اس کا انکار کررہے ہیں، لیکن جب وہ واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اسے جھٹلا نہیں سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

وبست ............ بثا (6) (54:5 تا 6) ” اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ “ اس خوف کا کیا عالم ہوگا کہ زمین مسلسل ہل رہی ہوگی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور غبار کے ذرات کی طرح فضائے آسمان میں بکھر جائیں گے۔ کتنے ہی جاہل ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو اس خطرے سے دو چار کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ زمین اور پہاڑوں کا یہ حشر ہوگا تو انسان کیا کرسکیں گے۔ سورة کا آغاز اس خوفناک فضا میں ہوتا ہے۔ انسانی احساس و شعور پر ڈر چھا جاتا ہے۔ یہ ہوگا وہ عظیم واقعہ جس کا کافر انکار کرتے ہیں۔ مشرکین اسے جھٹلاتے ہیں۔ یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–6

4 یعنی زمین میں سخت زلزلہ آئے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح اڑتے پھریں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۔ } ”اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

3 یعنی زمین پر زلزلہ کسی مقامی سطح پر نہیں آئے گا۔ بلکہ ساری کی ساری زمین ہی لرزنے کپکپانے اور ہچکولے کھانے لگے گی۔ پہاڑوں کی گرفت زمین پر سے ڈھیلی پڑجائے گی۔ اور ایک پتھر دوسرے پر گر کر ریت کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔ پھر تیز ہوا ان پہاڑوں کے ذرات کو پراگندہ کرکے اڑاتی پھرے گی۔ سوچ لو کیا اس وقت تمہارا زمین پر زندہ رہنا ممکن رہ جائے گا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–7

2۔ (اے انسانو ! بلحاظ اپنے انجام وثمرات عمل کے) آخرت میں نسل انسانی تین طبقوں میں منقسم نظر آئے گی، ایک خواص مومنین یا مقربین، دوسرے عوام مومنین، تیسرے منکرین یا کفار، پچھلی صورت میں بھی ذکر انہیں تین طبقات کا تھا۔ (آیت) ” کنتم “۔ خطاب یہاں موجودہ امت اور سابق امتوں سے مجموعی طور پر ہے۔ خطاب للامۃ الحاضرۃ والامم السالفۃ تغلیبا کما ذھب الیہ الکثیر (روح) (آیت) ” ازواجا “۔ زوج۔ یہاں صنف یا قسم کے معنی میں ہے۔ ازواجا اے اصنافا (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–6

خافضۃ رافعۃ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ سب کو لاٹ پلٹ اور تہ وبالا کر کے رکھ دے گی اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اٹھانے والی اور گران والی ہوگی، مطلب یہ کہ دنیا میں جو بلند مرتبہ اور عالی مقام سمجھے جاتے ہیں وہ قیامت کے روز ذلیل و خوار ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ حقیر اور بےحیثیت سمجھے جاتے ہیں وہ عالی مقام اور سرخ رو ہوں گے یعنی قیامت کے روز عزت و ذلت کا فیصلہ ایک دوسری بنیاد پر ہوگا جو دنیا میں بڑی عزت والے بنے پھرتے ہیں وہ ذلیل ہوجائیں گے اور جو ذلیل سمجھے جاتے ہیں وہ عزت پائیں گے۔ میدان حشر میں حاضرین کی تین قسمیں ہوں گی ایک جماعت تو وہ ہوگی جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وبست الجبال بسا اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے بُسَّتِ الْجِبَالُ : پہاڑ چلائے جائیں گے ‘ ہنکائے جائیں گے۔ یہ بَسَّ الْغَنَمُ (بکریوں کو ہنکایا) سے ماخوذ ہے۔ (کذا قال الکلبی و حسن و ابن کیسان) لیکن عطاء اور مقاتل نے ترجمہ کیا : پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے (فَتَتٌّ ریزہ ریزہ کردینا ‘ جیسے د ددھ وغیرہ میں ستو گھول دیئے جاتے ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–6

(1۔ 6) جب قیامت قائم ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی اختلاف اور شبہ و تردد نہیں ہے وہ بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے پست کر کے دوزخ میں داخل کردے گا اور بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے بلند کر کے جنت میں داخل کردے گا۔ اور قیامت کو واقع سخت آواز کی وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت ایسی سخت ترین آواز ہوگی کہ نزدیک اور دور والے سب سن لیں گے جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا کہ اونچی اونچی عمارتیں اور پہاڑ پارہ پارہ ہوجائیں گے۔ اور روئے زمین پر پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے یا یہ کہ اکھڑ پڑیں گے یا یہ کہ ستو اور اونٹوں کے چارہ کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا :”بس یبس بسا“ (ن) ریزہ ریزہ کرنا۔”بسا“ مصدر کے ساتھ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنے میں مبالغے کا اظہار مقصود ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَ یَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَـنْسِفُھَا رَبِّی نَسْفًا فَـیَـذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرٰی فِیْھَا عِوَجاً وَّلَآ اَمْتًا) (طہٰ : 105 تا 107) ”اور تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھیں گے تو تو کہہ دے میرا رب انہیں اڑا کر بکھیر دے گا۔ پھر انہیں ایک چٹیل میدان بنا کر چھوڑے گا۔ جس میں تو نہ کوئی کچی دکھے گا اور نہ کوئی ابھری جگہ“۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–5

خافضۃ رافعۃ۔ عکرمہ، مقاتل اور سدی نے کہا : مفہوم یہ بنتا ہے خفت الصت فاسمعت من ونا و رفعت فاسمعت من نای۔ یعنی اس نے قریب اور بعید کو آواز سنائی (1) ۔ سدی نے کہا : اس نے متکبرین کو پست کیا اور کمزوروں کو بلند کیا۔ قتادہ نے کہا : اس نے کچھ قوموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں پست کیا اور کچھ قوموں کو اللہ تعالیٰ کی طاعت کی طرف بلند کیا۔ حضرت عمربن خطاب ؓ نے کہا : اس نے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو جہنم میں پست کیا اور اولیاء اللہ کو جنت میں بلند کیا (2) ۔ محمد بن کعب نے کہا : اس نے ان لوگوں کو پست کیا جو دنیا میں بلند تھے اور اس نے ایسی قوموں کو بلند کیا جو دنیا میں پست تھے۔ ابن عطاء نے کہا : اس نے کچھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–5

خافضہ کی تفسیر 11۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت خافضہ رافعہ سے مراد ہے کہ وہ اپنی آواز قری والوں کو اور دور والوں کو سنادے گی۔ 12۔ ابن جریر وابن ابی حاتم عن عثمان بن سراقہ عن خالد عمر بن خطاب ؓ سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف پستی میں لے جائے گی اور اللہ کے دوستوں کو جنت کی طرف بلند کردے گی۔ 13۔ سعید بن منصور وابن المنذور وابوا الشیخ نے العظمہ میں محمد بن کعب (رح) سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ ان لوگوں کو نیچا کردے گی جو دنیا میں اونچے تھے۔ اور ان لوگوں کو اونچا کردے گی۔ جو دنیا میں نیچے تھے۔ 14۔ ابو الشیخ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ : اور پہاڑ ٹوٹ کر ] [ بَسًّا : ریزہ ریزہ ہوجائیں ] ب س س :ـ (ن) بسا ۔ کسی چیز کو پھیلادینا ۔ ریزہ ریزہ کردینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 5 ۔ (آیت ۔ 4 ۔ 5) رج اور بس متعدی اور لازم دونوں معانی میں آتے ہیں ۔ یہاں رجت اور بست فعل مجہول کے واحد مؤنث غائب کے صیغے آئے ہیں ۔ اس لیے یہ افعال متعدی کے معانی میں آئے ہیں۔ الارض اور الجبال فاعل ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ نائب فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہیں ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–6

اس کے بعد قیامت کے زلزلہ کا تذکرہ فرمایا ﴿ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ004﴾ (جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا) ﴿ وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ005﴾ (اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے) ۔ ﴿ فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ006﴾ (پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) ۔ قولہ اذا رجت قال المفسرون اذا ثانیة بدل من الاولیٰ وقیل ظرف لخافضة رافعة علی التنازع ذکرہ صاحب الکمالین بل اقرب ان یقال اذا الثانیة کا لشرط وقولہ تعالیٰ ورجت عطف علیہ وکنت وجزاہٴ محذوف ای تنقسمون وتثابون حسب ایمانکم واعمالکم۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–6

4:۔ ” رج “ نہایتہی شدت سے ہلانا قیامت کے دن زمین کو اس شدت سے ہلایا جائیگا کہ زمین پر کوئی چیز کھڑی نہ رہے گی، تمام عمارتیں گر جائیں گی یہاں تک کہ پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر ہموار ہوجائیں گے۔ ” بس “ باریک کرنا، پہاڑوں کو اس طرح باریک کردیا جائے گا کہ وہ غبار کی طرف متفرق ہوجائیں گے۔ ای حرکت تحریکا شدیدا بحیث ینھدم مافوقھا من بناء وجبل (وبست) فتت تاحتی صارت کالسویق المبسوس وھو الملتوت (مظہری ج 9 ص 165) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۝ 5 ۙ بسَ قال اللہ تعالی: وَبُسَّتِ الْجِبالُ بَسًّا[ الواقعة/ 5] ، أي : فتّتت، من قولهم : بَسَسْتُ الحنطة والسویق بالماء : فتتّه به، وهي بَسِيسَةٌ ، وقیل : معناه : سقت سوقا سریعا، من قولهم : انْبَسَّتِ الحيّات : انسابت انسیابا سریعا، فيكون کقوله عزّ وجلّ : وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبالَ [ الكهف/ 47] ، وکقوله : وَتَرَى الْجِبالَ تَحْسَبُها جامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحابِ [ النمل/ 88] . وبَسَسْتُ الإبلَ : زجرتها عند السوق، وأَبْسَسْتُ بها عند الحلب، أي : رقّقت لها کلاما تسکن إليه، وناقة بَسُوس : لا تدرّ إلا علی الإِبْسَاس، وفي الحدیث : «جاء أهل الیمن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–12

ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–6

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا۔ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۔ فَـکَانَتْ ھَبَـآئً مُّنْبَثًّا۔ (الواقعۃ : 4 تا 6) (جبکہ زمین یکبارگی ہلا دی جائے گی۔ اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ پس وہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ ) قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر یہ قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر ہے کہ اس وقت ساری زمین یکبارگی ہلا دی جائے گی۔ یہ کوئی مقامی زلزلہ نہیں ہوگا جو کسی محدود علاقے میں آتا ہے بلکہ قیامت کا وقوع پوری زمین پر ہوگا۔ اور اس کو اس طرح ہلایا جائے گا کہ اونچے اونچے پہاڑ جنھیں لوگ غیرفانی اور غیرمتزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورة الرّحمن کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ آپ کا رب بڑی برکت والا اور ذوالجلال والاکرام ہے۔ الواقعہ کی ابتدارب ذوالجلال کی جلالت کے اظہار سے ہورہی ہے کہ قیامت کے دن اس کی جلالت کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ پہاڑ بھی اس کے حکم کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے جوں ہی اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو اہل مکہ کی کوئی مجلس ایسی نہ تھی جس میں تین موضوعات میں سے کسی ایک موضوع پر بحث نہ ہوتی ہو۔ لوگ یہاں بیٹھتے اللہ کی توحید، نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے عنوانات میں سے کسی ایک عنوان پر ضرور گفتگو کرتے۔ اس میں بالخصوص نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے قائم ہونے کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا (اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے) اور ریزہ ریزہ ہو کر ستو کی طرح ہوجائیں گے۔ یا چلائے جائیں گے اس وقت یہ بَسَّ الغنم۔ (اس نے بکریوں کو چلایا) جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : و سیرت الجبال ] النباء : 20[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” اذارجت الارض رجا “ حرکت دی جائے گی اور جھٹکے دی جائے گی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ جب اس کی طرف وحی کریں گے تو وہ مضطرب ہوکر کئی ٹکڑے ہوجائے گی۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں حرکت دی جائے گی جیسا کہ بچہ کو جھولے میں حرکت دی جاتی ہے حتیٰ کہ اس پر موجود ہر تعمیر گرجائے گی اور اس پر موجود پہاڑ وغیرہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور الرج کی اصل حرکت دینا کہا جاتا ہے ” رججتہ فارتج “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–6

[ 4] زلزلہ قیامت کی تصویر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب لرز اٹھے گی یہ زمین تھر تھرا کر، اور یہ تمام فلک بوس عمارتیں، بلڈنگیں اور پختہ و مضبوط قلعے وغیرہ جن کو اہل دنیا ترقی کی معراج سمجھتے رہے تھے سب تہس نہس ہو کر رہ جائیں گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { اذا زلزلت الارض زلزالہا۔} نیز فرمایا گیا۔ { ان زلزلۃ الساعۃ شیئٌ عظیم } سو یہ قیامت کے اس ہولناک منظر اور انتہائی خوفناک زلزلے کی تصویر ہے کہ جب وہ واقع ہوگا تو ہلا مارا جائے گا اس زمی کو، یقینی زلزلہ قیامت کا وہ حادثہ کبریٰ کسی ایک ملک یا شہر یا کسی خاص خطہ زمین میں محدود نہیں ہوگا، بلکہ وہ پوری روئے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قیامت کی تباہیاں تشریح : ان آیات میں بڑے واضح الفاظ میں اس غیب کی خبر دی گئی ہے جو قیامت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ اطلاع حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ وحی کی صورت میں آنحضرت ﷺ تک پہنچی ہے اور ہم اس کو کتاب مقدس قرآن پاک میں پڑھ رہے ہیں اس لیے ہمارے لیے اس میں ہرگز شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں البتہ انسان جو آئے دن تجربات و تحقیقات میں لگا رہتا ہے اس نے بھی اس کی تصدیق اس طرح کی ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب یوں لکھتے ہیں۔ ' شدید زلزلوں کا سلسلہ، تھرتھراہٹ اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہوجانا، زمین کے اندرونی مغز سے دھماکہ خیز مادہ کا باہر آنا۔ پہاڑوں کا فضا میں اڑنا، ان سب واقعات کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–8

ف 9 یعنی ان کی خوش حالی اور عیش و آرام کا کیا پوچھنا ! مراد عام جنتی لوگ ہیں جو عشر کی دائیں جانب ہونگے یا جنہیں حضرت آدم کے دائیں پہلو سے پیدا کیا گیا یا جنہیں ان کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یا جنہیں دائیں طرف سے لے جایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:5) وبست الجبال بسا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ بست ماضٰ مجہول واحد مؤنث غائب۔ بس (باب نصر) مصدر بمعنی خلط ملط کرنا۔ اجزاء کا باہم دگر ملا دینا ریزہ ریزہ کرنا۔ عربی قاعدہ ہے کہ جب فاعل اسم ظاہر ہوتا ہے تو فعل کو واحد لاتے ہیں۔ اور جمع مکسر کا حکم (یعنی جس میں واحد کا وزن سلامت نہ رہے) مؤنث غیر حقیقی کا حکم ہے اس کے لئے مذکر کا صیغہ بھی لایا جاسکتا ہے اور مؤنث کا بھی۔ چناچہ بست الجبال بسا میں چونکہ جبال جمع مکسر ہے۔ اس لئے اس کے لئے واحد مؤنث کا صیغہ لایا گیا۔ لہٰذا یہاں بست کے ترجمہ میں صیغہ جمع کے معنی لینا چاہئیں۔ یعنی جب پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے : بسا مفعول مطلق ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38 وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔ یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–12

میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–10

[2] سابقون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے دین کی خدمت کی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لئے حوصلہ کرنا اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة الواقعۃ قرآن حکیم میں قیامت کے مختلف نام آئے ہیں ۔ کہیں اس کو اقاعۃ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ کہیں القارعۃ کہا گیا ہے ۔ کبھی الحاقۃ سے موسوم ہے ۔ اور کبھی الواقعہ کی صفت سے متصف ۔ کیونکہ اصل غرض یہ ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو روشن کیا جائے ۔ اس لحاظ سے کہ اس کے آنے کا ایک وقت مقرر ہے ۔ وہ افسانہ ہے ۔ یعنی متعین گھڑی ۔ اور اس لحاظ سے کہ وہ عالم وجود میں تہلکہ مچانے والی ہے ۔ القارعۃ ہے ۔ اسی نسبت سے کہ اس کا تحقق مقدرات میں سے ہے ۔ الحاقۃ کہا جاتا ہے ۔ الواقعہ کے معنے یہ ہونگے ۔ کہ تحقق خارج میں ضرور واقعہ ہوگا ۔ اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔ فرمایا ۔ جب یہ گھڑی آموجود ہوگی ۔ تو اس وقت کئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–6

ف 1۔ یعنی کفار کی ذلت کا اور مومنین کی رفعت کا اس روز ظہور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے 5 ؎ یہ حرکت اتنی شدید ہوگی کہ اس سے زمین اس طرح کپکپا جائے گی کہ پہاڑ جن کا مقصد زمین کو ہلنے سے بچانا ہے وہ خود اکھڑ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ (بست) کی اصل ب س س ہے ‘ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ آہستہ آہستہ چلائی گئی بس سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مونث غائب۔ عربی کا قاعدہ ہے کہ جب فاعل اسم ظاہر ہوتا ہے تو فعل کو واحد لاتے ہیں اور جمع مکسر کا ہکم یعنی جس میں واحد کا وزن سلامت نہ رہے مونث غیر حقیقی کا حکم ہے کہ اس کے لئے مذکر کا صیغہ بھی لایا جاتا ہے اور مونث کا بھی جیسا کہ اس جگہ ہوا ہے کہ (بست الجبال بسا) میں چونکہ (جبال) جمع مکسر ہے اس کے لئے واحد مونث کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–6

خَافِضَةٌ رَّ‌افِعَةٌ (It will be abasing [ some ], exalting [ others ]...56:3). The verse means that the 'Inevitable Event' referred to in the previous verse will bring about a great revolution in the lives of men, as is witnessed at the time of revolution of governments. The high and the mighty will be laid low and the despised and down-trodden will be exalted; the poor become rich and the rich become poor. This is how Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ interprets this statement. The purpose is to depict the horrors of the Day of Resurrection.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–7

4 Although the address apparently is directed to the people to whom this discourse was being recited, or who may read it or hear it read now, in fact the entire mankind is its addressee. AII human beings who have been born since the tirst day of creation and will be born till the Day of Resurrection, will ultimately he divided into three classes.

Read the full tafseer →