اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا ۟ۙاِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا
جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے
— Fateh Muhammad Jalandhari
When the earth is shaken with convulsion
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا ۟ۙاِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا
جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے
— Fateh Muhammad Jalandhari
When the earth is shaken with convulsion
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی
جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے
جبکہ زمین زلزلہ کے ساتھ ہلا دی جائے گی
جب زمین ایک بھونچال سے جھنجوڑ دی جائے گی۔
جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر
جب زمین کپکپا کر شدید لرزنے لگے گی،
جب زمین ہلائی جائے گی، سخت ہلایا جانا۔
جب زمین یکبارگی ہلائی جائے گی
جب کہ زمین بالکل جھنجھوڑ دی جائے گی
جب کہ لرز اٹھے گی یہ (ٹھوس) زمین تھر تھرا کر
جب کہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا
جب زمین ہلا ڈالی جائے گی جیسے کہ زلزلہ آتا ہے۔
جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے
when the earth will suddenly shake with a terrible shaking,
when the earth will be jolted with a terrible jolt,
when the earth will be jolted with a terrible jolt,
When the earth will be shaken with a terrible shake.
When the earth is shaken with a shock
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
When the earth is shaken with convulsion
When the earth is violently shaken
When the earth shall be shaken with a (severe) shaking,
This will happen when the earth is shaken, shaken
When the earth shall be shaken to its depths,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–12
یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…
Read the full tafseer →سورة الْوَاقِعَة 3 یعنی وہ کوئی مقامی زلزلہ نہ ہوگا جو کسی محدود علاقے میں آئے، بلکہ پوری کی پوری زمین بیک وقت ہلا ماری جائے گی۔ اس کو یک لخت ایک زبردست جھٹکا لگے گا جس سے وہ لرز کر رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ، یعنی واقعہ قیامت بہت سی بلند رتبہ قوموں اور افراد کو پست و ذلیل کر دے گا اور بہت سی پست و حقیر قوموں اور افراد کو سر بلند کر دے گا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی یہی تفسیر منقول ہے اور مقصد اس کا ہولناک ہونا اور اس میں عجیب قسم کے انقلابات پیش آنے کا بیان ہے، جیسا کہ سلطنتوں اور حکومتوں کے انقلاب کے وقت مشاہدہ ہوا کرتا ہے کہ اوپر والے نیچے اور نیچے والے اوپر ہوجاتے ہیں، فقیر مالدار ہوجاتے ہیں مالدار فقیر ہوجاتے ہیں (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(اذا رجت الارض رجا و بست الجبال بسا فکانت ھبا منبثا) (4۔ 6) (قیامت کے دن کی ہلچل)۔ یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں۔ غبار کی طرح پراگندہ ہوجائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کردی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورة حاتہ میں یوں بیان ہوا ہے (۔۔۔ الحاقۃ 69۔ 14۔ 15) (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 پستی اور بلندی سے مطلب ذلت اور عزت ہے۔ یعنی اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو یہ بلند اور نافرمانوں کو پست کرے گی، چاہے دنیا میں معاملہ اس سے برعکس ہو،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: اس آیت میں قیامت کو واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ کافر لوگ اس کا انکار کررہے ہیں، لیکن جب وہ واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اسے جھٹلا نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →اذا رجت .................... منبثا (6 5: 6) (6 5:4 تا 6) ” اور جب زمین یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ “ اور دوبارہ یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ ہولناک واقعہ پیش ہوگا تو پھر کیا ہوگا۔ یہ خوفناک صورتحال ایک مقدمہ ہے۔ آغاز ہے اور انجام کا ذکر ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ نتائج اس قدر ہولناک ہوں گے کہ الفاظ میں اس کا بیان ممکن نہیں ہے۔ پھر اس وقوعہ اور اس بوجھ کا پریشر ہوگا تو انسانی احساس کے اندر ارتعاش اور تزلزل پیدا ہونا متوقع ہوگا اور سباق کلام میں اس توقع کو عملی شکل عطا کرتا ہے۔ خافضة رافعة (6 5: 3) ” یہ واقعہ تہہ وبالا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4 یعنی زمین میں سخت زلزلہ آئے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح اڑتے پھریں گے۔
Read the full tafseer →آیت 4 { اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا۔ } ”جب زمین ہلا ڈالی جائے گی جیسے کہ زلزلہ آتا ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3 یعنی زمین پر زلزلہ کسی مقامی سطح پر نہیں آئے گا۔ بلکہ ساری کی ساری زمین ہی لرزنے کپکپانے اور ہچکولے کھانے لگے گی۔ پہاڑوں کی گرفت زمین پر سے ڈھیلی پڑجائے گی۔ اور ایک پتھر دوسرے پر گر کر ریت کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔ پھر تیز ہوا ان پہاڑوں کے ذرات کو پراگندہ کرکے اڑاتی پھرے گی۔ سوچ لو کیا اس وقت تمہارا زمین پر زندہ رہنا ممکن رہ جائے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
2۔ (اے انسانو ! بلحاظ اپنے انجام وثمرات عمل کے) آخرت میں نسل انسانی تین طبقوں میں منقسم نظر آئے گی، ایک خواص مومنین یا مقربین، دوسرے عوام مومنین، تیسرے منکرین یا کفار، پچھلی صورت میں بھی ذکر انہیں تین طبقات کا تھا۔ (آیت) ” کنتم “۔ خطاب یہاں موجودہ امت اور سابق امتوں سے مجموعی طور پر ہے۔ خطاب للامۃ الحاضرۃ والامم السالفۃ تغلیبا کما ذھب الیہ الکثیر (روح) (آیت) ” ازواجا “۔ زوج۔ یہاں صنف یا قسم کے معنی میں ہے۔ ازواجا اے اصنافا (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
خافضۃ رافعۃ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ سب کو لاٹ پلٹ اور تہ وبالا کر کے رکھ دے گی اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اٹھانے والی اور گران والی ہوگی، مطلب یہ کہ دنیا میں جو بلند مرتبہ اور عالی مقام سمجھے جاتے ہیں وہ قیامت کے روز ذلیل و خوار ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ حقیر اور بےحیثیت سمجھے جاتے ہیں وہ عالی مقام اور سرخ رو ہوں گے یعنی قیامت کے روز عزت و ذلت کا فیصلہ ایک دوسری بنیاد پر ہوگا جو دنیا میں بڑی عزت والے بنے پھرتے ہیں وہ ذلیل ہوجائیں گے اور جو ذلیل سمجھے جاتے ہیں وہ عزت پائیں گے۔ میدان حشر میں حاضرین کی تین قسمیں ہوں گی ایک جماعت تو وہ ہوگی جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں…
Read the full tafseer →اذا رجت الارض رجا جب زمین میں سخت زلزلہ آئے گا رُجَّت : زور کے ساتھ ہلائی جائے گی ‘ ایسی جھنجھوڑی جائے گی کہ اس کے اوپر کی ساری عمارتیں اور پہاڑ گرپڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) جب قیامت قائم ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی اختلاف اور شبہ و تردد نہیں ہے وہ بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے پست کر کے دوزخ میں داخل کردے گا اور بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے بلند کر کے جنت میں داخل کردے گا۔ اور قیامت کو واقع سخت آواز کی وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت ایسی سخت ترین آواز ہوگی کہ نزدیک اور دور والے سب سن لیں گے جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا کہ اونچی اونچی عمارتیں اور پہاڑ پارہ پارہ ہوجائیں گے۔ اور روئے زمین پر پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے یا یہ کہ اکھڑ پڑیں گے یا یہ کہ ستو اور اونٹوں کے چارہ کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے جیسا کہ…
Read the full tafseer →اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا : یہ ”اذا وقعت الواقعۃ“ سے بدل ہے۔ ”رج یرج رجا“ (ن) شدید حرکت دینا۔ ”رجاً“ مصدر کے ساتھ تاکید میں مبالغہ مقصود ہے۔ یہ وہی بات ہے جو ”اذا زلزلت الارض زلزالھا ‘ ‘ اور ”ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم“ میں بیان فرمائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
خافضۃ رافعۃ۔ عکرمہ، مقاتل اور سدی نے کہا : مفہوم یہ بنتا ہے خفت الصت فاسمعت من ونا و رفعت فاسمعت من نای۔ یعنی اس نے قریب اور بعید کو آواز سنائی (1) ۔ سدی نے کہا : اس نے متکبرین کو پست کیا اور کمزوروں کو بلند کیا۔ قتادہ نے کہا : اس نے کچھ قوموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں پست کیا اور کچھ قوموں کو اللہ تعالیٰ کی طاعت کی طرف بلند کیا۔ حضرت عمربن خطاب ؓ نے کہا : اس نے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو جہنم میں پست کیا اور اولیاء اللہ کو جنت میں بلند کیا (2) ۔ محمد بن کعب نے کہا : اس نے ان لوگوں کو پست کیا جو دنیا میں بلند تھے اور اس نے ایسی قوموں کو بلند کیا جو دنیا میں پست تھے۔ ابن عطاء نے کہا : اس نے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
خافضہ کی تفسیر 11۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت خافضہ رافعہ سے مراد ہے کہ وہ اپنی آواز قری والوں کو اور دور والوں کو سنادے گی۔ 12۔ ابن جریر وابن ابی حاتم عن عثمان بن سراقہ عن خالد عمر بن خطاب ؓ سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف پستی میں لے جائے گی اور اللہ کے دوستوں کو جنت کی طرف بلند کردے گی۔ 13۔ سعید بن منصور وابن المنذور وابوا الشیخ نے العظمہ میں محمد بن کعب (رح) سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ ان لوگوں کو نیچا کردے گی جو دنیا میں اونچے تھے۔ اور ان لوگوں کو اونچا کردے گی۔ جو دنیا میں نیچے تھے۔ 14۔ ابو الشیخ…
Read the full tafseer →[اِذَا : جب ] [ رُجَّتِ الْاَرْضُ : زمین بھونچال سے ] [ رَجًّا : لرزنے لگے ] ر ج ج : (ن) رجا حرکت دینا ۔ ہلانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 4 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اس کے بعد قیامت کے زلزلہ کا تذکرہ فرمایا ﴿ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ004﴾ (جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا) ﴿ وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ005﴾ (اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے) ۔ ﴿ فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ006﴾ (پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) ۔ قولہ اذا رجت قال المفسرون اذا ثانیة بدل من الاولیٰ وقیل ظرف لخافضة رافعة علی التنازع ذکرہ صاحب الکمالین بل اقرب ان یقال اذا الثانیة کا لشرط وقولہ تعالیٰ ورجت عطف علیہ وکنت وجزاہٴ محذوف ای تنقسمون وتثابون حسب ایمانکم واعمالکم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4:۔ ” رج “ نہایتہی شدت سے ہلانا قیامت کے دن زمین کو اس شدت سے ہلایا جائیگا کہ زمین پر کوئی چیز کھڑی نہ رہے گی، تمام عمارتیں گر جائیں گی یہاں تک کہ پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر ہموار ہوجائیں گے۔ ” بس “ باریک کرنا، پہاڑوں کو اس طرح باریک کردیا جائے گا کہ وہ غبار کی طرف متفرق ہوجائیں گے۔ ای حرکت تحریکا شدیدا بحیث ینھدم مافوقھا من بناء وجبل (وبست) فتت تاحتی صارت کالسویق المبسوس وھو الملتوت (مظہری ج 9 ص 165) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…
Read the full tafseer →اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا 4 ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ رج الرَّجُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا۔ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۔ فَـکَانَتْ ھَبَـآئً مُّنْبَثًّا۔ (الواقعۃ : 4 تا 6) (جبکہ زمین یکبارگی ہلا دی جائے گی۔ اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ پس وہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ ) قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر یہ قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر ہے کہ اس وقت ساری زمین یکبارگی ہلا دی جائے گی۔ یہ کوئی مقامی زلزلہ نہیں ہوگا جو کسی محدود علاقے میں آتا ہے بلکہ قیامت کا وقوع پوری زمین پر ہوگا۔ اور اس کو اس طرح ہلایا جائے گا کہ اونچے اونچے پہاڑ جنھیں لوگ غیرفانی اور غیرمتزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورة الرّحمن کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ آپ کا رب بڑی برکت والا اور ذوالجلال والاکرام ہے۔ الواقعہ کی ابتدارب ذوالجلال کی جلالت کے اظہار سے ہورہی ہے کہ قیامت کے دن اس کی جلالت کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ پہاڑ بھی اس کے حکم کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے جوں ہی اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو اہل مکہ کی کوئی مجلس ایسی نہ تھی جس میں تین موضوعات میں سے کسی ایک موضوع پر بحث نہ ہوتی ہو۔ لوگ یہاں بیٹھتے اللہ کی توحید، نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے عنوانات میں سے کسی ایک عنوان پر ضرور گفتگو کرتے۔ اس میں بالخصوص نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے قائم ہونے کو…
Read the full tafseer →4 : اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا (جب زمین سخت ہلائی جائے گی) یہاں تک کہ ہر چیز جو اس پر واقع ہے پہاڑ، تعمیرات یہ سب گر کر منہدم ہوجائیں گے۔ نحو : یہ اذاؔ وقعت سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ خافضۃ رافعۃ کی وجہ سے اس کو منصوب قرار دینا بھی درست ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے تخفض و ترفع وقت رج الارض و بس الجبال۔
Read the full tafseer →3 ۔” خافضۃ رافعۃ “ کچھ قوموں کو جہنم کی طرف پست کرے گی اور دوسری قوموں کو جنت کی طرف بلند کرے گی ۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ان قوموں کو پست کرے گی جو دنیا میں بلند ہوتی تھیں اور ان قوموں کو بلند کرے گی جو دنیا میں کمزور ضعیف سمجھی جاتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…
Read the full tafseer →(اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا) یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
[ 4] زلزلہ قیامت کی تصویر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب لرز اٹھے گی یہ زمین تھر تھرا کر، اور یہ تمام فلک بوس عمارتیں، بلڈنگیں اور پختہ و مضبوط قلعے وغیرہ جن کو اہل دنیا ترقی کی معراج سمجھتے رہے تھے سب تہس نہس ہو کر رہ جائیں گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { اذا زلزلت الارض زلزالہا۔} نیز فرمایا گیا۔ { ان زلزلۃ الساعۃ شیئٌ عظیم } سو یہ قیامت کے اس ہولناک منظر اور انتہائی خوفناک زلزلے کی تصویر ہے کہ جب وہ واقع ہوگا تو ہلا مارا جائے گا اس زمی کو، یقینی زلزلہ قیامت کا وہ حادثہ کبریٰ کسی ایک ملک یا شہر یا کسی خاص خطہ زمین میں محدود نہیں ہوگا، بلکہ وہ پوری روئے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قیامت کی تباہیاں تشریح : ان آیات میں بڑے واضح الفاظ میں اس غیب کی خبر دی گئی ہے جو قیامت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ اطلاع حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ وحی کی صورت میں آنحضرت ﷺ تک پہنچی ہے اور ہم اس کو کتاب مقدس قرآن پاک میں پڑھ رہے ہیں اس لیے ہمارے لیے اس میں ہرگز شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں البتہ انسان جو آئے دن تجربات و تحقیقات میں لگا رہتا ہے اس نے بھی اس کی تصدیق اس طرح کی ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب یوں لکھتے ہیں۔ ' شدید زلزلوں کا سلسلہ، تھرتھراہٹ اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہوجانا، زمین کے اندرونی مغز سے دھماکہ خیز مادہ کا باہر آنا۔ پہاڑوں کا فضا میں اڑنا، ان سب واقعات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 9 یعنی ان کی خوش حالی اور عیش و آرام کا کیا پوچھنا ! مراد عام جنتی لوگ ہیں جو عشر کی دائیں جانب ہونگے یا جنہیں حضرت آدم کے دائیں پہلو سے پیدا کیا گیا یا جنہیں ان کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یا جنہیں دائیں طرف سے لے جایا جائے گا۔
Read the full tafseer →(56:4) اذا رجب الارض رجا : یہ جملہ بدل ہے اذا وقعت الواقعۃ سے رجت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ رج (باب نصر) مصدر۔ وہ بلائی گئی۔ وہ جنبش دی گئی۔ رجا مفعول مطلق۔ جب وہ (زمین) خوب ہلائی جائے گی۔ (ماضی بمعنی مستقبل)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38 وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔ یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
[2] سابقون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے دین کی خدمت کی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لئے حوصلہ کرنا اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة الواقعۃ قرآن حکیم میں قیامت کے مختلف نام آئے ہیں ۔ کہیں اس کو اقاعۃ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ کہیں القارعۃ کہا گیا ہے ۔ کبھی الحاقۃ سے موسوم ہے ۔ اور کبھی الواقعہ کی صفت سے متصف ۔ کیونکہ اصل غرض یہ ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو روشن کیا جائے ۔ اس لحاظ سے کہ اس کے آنے کا ایک وقت مقرر ہے ۔ وہ افسانہ ہے ۔ یعنی متعین گھڑی ۔ اور اس لحاظ سے کہ وہ عالم وجود میں تہلکہ مچانے والی ہے ۔ القارعۃ ہے ۔ اسی نسبت سے کہ اس کا تحقق مقدرات میں سے ہے ۔ الحاقۃ کہا جاتا ہے ۔ الواقعہ کے معنے یہ ہونگے ۔ کہ تحقق خارج میں ضرور واقعہ ہوگا ۔ اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔ فرمایا ۔ جب یہ گھڑی آموجود ہوگی ۔ تو اس وقت کئی…
Read the full tafseer →(4) یہ قیامت کا وقوع اس وقت ہوگا جب کہ زمین بہت زور سے ہلا دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 1۔ یعنی کفار کی ذلت کا اور مومنین کی رفعت کا اس روز ظہور ہوگا۔
Read the full tafseer →جب زمین کپکپا کر لرزنے لگے گی 4 ؎ یہ اس قیامت کی علامت بیان کی جا رہی ہے کہ جب وہ واقعہ ہونے والی واقع ہوگی جس کے واقع ہونے میں کسی طرح کا کوئی سک و شبہ نہیں ہے ‘ جو پست کر دینی والی اور بلند کردینے والی ہے ‘ جب وہ آئے گی تو زمین ایک ہی بار کانپ کر رہ جائے گی اور اس کی تھرتھراہٹ ہی زمنہ کو اور اہل زمین کو ختم کر کے رکھ دے گی اور اس کو واقع ہونے میں کوئی زیادہ دیر تو نہیں لگے گی۔ وہ لوگ جنہوں نے زلزلہ کے کسی جھتکا کو دیکھا ہے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ زلزلہ کتنی دیر لگاتا ہے اور اس سے کیا ہوتا ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں انسان روزانہ ایک خوراک کھاتا ہے اور اسی خوراک پر اس کی زندگی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ (It will be abasing [ some ], exalting [ others ]...56:3). The verse means that the 'Inevitable Event' referred to in the previous verse will bring about a great revolution in the lives of men, as is witnessed at the time of revolution of governments. The high and the mighty will be laid low and the despised and down-trodden will be exalted; the poor become rich and the rich become poor. This is how Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ interprets this statement. The purpose is to depict the horrors of the Day of Resurrection.
Read the full tafseer →3 That is, it will not be a local earthquake that may occur in a restricted area, but it will shake the whole earth to its depths aII of a sudden, and it will experience a tremendous jolt and tremors alI through.
Read the full tafseer →