Al-Waaqia 56:3

Al-Waaqia · from ayah 3

56:3

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ۟ۙخَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ

کسی کو پست کرے کسی کو بلند

— Fateh Muhammad Jalandhari

It will bring down [some] and raise up [others].

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:3

وہ تہ و بالا کر دینے والی آفت ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کسی کو پست کرے کسی کو بلند

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ایک تہہ وبالا کرنے والی چیز ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلندی دینے والی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ قیامت کسی کو) نیچا کر دینے والی (کسی کو) اونچا کر دینے والی (ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پست کرنے والی، بلند کرنے والی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پست کرنے والی، بلند کرنے والی ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ پست و بلند کردینے والی ہوگی

— مولانا اسحاق مدنی

تو وہ پست کردے گی (اور) بلند کردے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کسی کو پست کرے کسی کو بلند۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(a calamitous Event) that shall turn things upside down:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It will be abasing (some), exalting (others)

— Muhammad Taqi Usmani

It will be abasing (some), exalting (others)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Bringing low (some), exalting (others).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It will bring down [some] and raise up [others].

— Saheeh International

It will abase some and exalt others.

— Muhammad Sarwar

Abasing (one party), exalting (the other),

— Muhammad Habib Shakir

Abasing exalting.

— Abdul Majid Daryabadi

(Many) will it bring low; (many) will it exalt;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْوَاقِعَة 2 اصل الفاظ ہیں خافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ، " گرانے والی اور اٹھانے والی "۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ سب کچھ الٹ پلٹ کر کے رکھ دے گی۔ نیچے کی چیزیں اوپر اور اوپر کی چیزیں نیچے ہوجائیں گی۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ گرے ہوئے لوگوں کو اٹھانے والی اور اٹھے ہوئے لوگوں کو گرانے والی ہوگی، یعنی اس کے آنے پر انسانوں کے درمیان عزت و ذلت کا فیصلہ ایک دوسری ہی بنیاد پر ہوگا۔ جو دنیا میں عزت والے بنے پھرتے تھے وہ ذلیل ہوجائیں گے اور جو ذلیل سمجھے جاتے تھے وہ عزت پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–6

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ، یعنی واقعہ قیامت بہت سی بلند رتبہ قوموں اور افراد کو پست و ذلیل کر دے گا اور بہت سی پست و حقیر قوموں اور افراد کو سر بلند کر دے گا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی یہی تفسیر منقول ہے اور مقصد اس کا ہولناک ہونا اور اس میں عجیب قسم کے انقلابات پیش آنے کا بیان ہے، جیسا کہ سلطنتوں اور حکومتوں کے انقلاب کے وقت مشاہدہ ہوا کرتا ہے کہ اوپر والے نیچے اور نیچے والے اوپر ہوجاتے ہیں، فقیر مالدار ہوجاتے ہیں مالدار فقیر ہوجاتے ہیں (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(خافضۃ رافعۃ) (3)۔ (قیامت میں عزت کا معیار ایمان ہوگا)۔ یعنی اس وہم میں نہ رہو کہ تم کو جو سر بلندی آج حاصل ہے وہ ہمیشہ حاصل رہے گی اور جن کو حقیر و مبتذل گمان کر رہے ہو وہ اسی طرح حقیر و پست حال رہیں گے بلکہ جب وہ واقع ہونے والی واقع ہوگی تو یہ آسمان و زمین نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ نمودار ہوں گے۔ آج عزت و شرف کے جو معیارات ہیں وہ یک قلم تبدیل ہوجائیں گے۔ اس دن تمام عزت و سرفرازی ایمان و عمل صالح کو حاصل ہوگی۔ وہ لوگ سربلند و سرفراز ہوں گے جن کے پاس ایمان و عمل صالح کا سرمایہ ہوگا اور وہ پست و ذلیل ہوں گے جو اس دولت سے محروم اٹھیں گے۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی ہے۔ آگے آیت 7 سے اس خفض و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 3–4

3۔ 1 پستی اور بلندی سے مطلب ذلت اور عزت ہے۔ یعنی اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو یہ بلند اور نافرمانوں کو پست کرے گی، چاہے دنیا میں معاملہ اس سے برعکس ہو،۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–7

1: اس آیت میں قیامت کو واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ کافر لوگ اس کا انکار کررہے ہیں، لیکن جب وہ واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اسے جھٹلا نہیں سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

اس پیراگراف میں ایک نہایت ہی اہم بات ایک خوفناک انداز میں بیان کی گئی ہے اور یہ اسلوب ارادة اختیار کیا گیا ہے۔ عبارت کے الفاظ اور مفہوم کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔ دو بار بات کا آغاز اذا شرطیہ سے ہوتا ہے دونوں بار شرط ہے اور جواب شرط نہیں ہے۔ مثلاً ۔ اذوقعت ............ رافعة (3) (6 5: 1 تا 3) ” جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا ، وہ تہہ وبالا کردینے والی آفت ہوگی۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ واقعہ ہوگا جو سچا ہوگا اور تہہ وبالا کردینے والا ہوگا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ پھر اس وقت کیا ہوگا۔ ایک دوسری بات شروع کردی جاتی ہے کہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی ایک گروہ کو نیچے لے جاتی ہے اور ایک گروہ کو اوپر اٹھاتی ہے۔ بڑے بڑے متکبروں کو جو دنیا میں بہت معزز اور سربلند سمجھے جاتے تھے اسفل السافلین کی طرف دھکیل کر دوزخ میں پہنچا دے گی اور کتنے ہی متواضعین کو جو دنیا میں پست اور حقیر نظر آتے تھے، ایمان و عمل صالح کی بدولت جنت کے اعلیٰ مقامات پر فائز کرے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ۔ } ”وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔“ بہت سے ایسے لوگ جو دنیا میں بہت بلند مقام و مناصب کے مالک تھے ‘ قیامت انہیں ذلیل و رسوا کر دے گی۔ اس کے برعکس کئی فقراء و مساکین جن کا دنیا میں کوئی ُ پرسانِ حال نہیں تھا ‘ اس دن بہت بلند مقامات پر فائز نظر آئیں گے۔ اس دن حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت ابودردائ ‘ حضرت ابوذر غفاری اور دوسرے فقراء صحابہ کو ایسے اعلیٰ مراتب عطا ہوں گے جن کے بارے میں آج ہم لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ ستارے جھڑ جائیں گے۔ پہاڑ اڑنے لگیں گے اور اس عالم کی تمام اشیاء زیر و زبر ہوجائیں گی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ متکبر، سرکش اور ظالم لوگوں کے سرنگوں کردے گی اور وہ ذلیل اور رسوا ہوجائیں گے۔ جس بلند مقام پر اپنے آپ کو وہ سمجھے بیٹھے تھے وہاں سے نیچے پٹخ دیئے جائیں گے اور جو لوگ متواضع، منکسرالمزاج اور پاکیزہ سیرت کے مالک ہوں گے جنہیں متکبرین دنیا میں حقیر اور رذیل مخلوق سمجھتے تھے انہیں ہی سربلندی عطا ہوگی اور وہ بلند درجات کے مالک اور اونچے مقام پر فائز ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ کسی کو پست کرے گی اور کسی کو بلند، یعنی کافروں کی ذلت اور مومنین کی رفعت کا پورا ظہور اسی دن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–6

خافضۃ رافعۃ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ سب کو لاٹ پلٹ اور تہ وبالا کر کے رکھ دے گی اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اٹھانے والی اور گران والی ہوگی، مطلب یہ کہ دنیا میں جو بلند مرتبہ اور عالی مقام سمجھے جاتے ہیں وہ قیامت کے روز ذلیل و خوار ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ حقیر اور بےحیثیت سمجھے جاتے ہیں وہ عالی مقام اور سرخ رو ہوں گے یعنی قیامت کے روز عزت و ذلت کا فیصلہ ایک دوسری بنیاد پر ہوگا جو دنیا میں بڑی عزت والے بنے پھرتے ہیں وہ ذلیل ہوجائیں گے اور جو ذلیل سمجھے جاتے ہیں وہ عزت پائیں گے۔ میدان حشر میں حاضرین کی تین قسمیں ہوں گی ایک جماعت تو وہ ہوگی جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خافضۃ رافعۃ تو وہ (بعض کو) پست کر دے گی (اور عض کو) بلند کر دے گی۔ خَافِضَۃٌ : دنیا میں اللہ کے دشمن جو مغرور تھے ‘ ان کو پست اور ذلیل کرنے والی۔ رَافِعَۃٌ : اللہ کے وہ بندے جو تواضع کرتے تھے اور غرور نہیں کرتے تھے ‘ ان کو اونچا کرنے والی ‘ اوپر اٹھانے والی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–6

(1۔ 6) جب قیامت قائم ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی اختلاف اور شبہ و تردد نہیں ہے وہ بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے پست کر کے دوزخ میں داخل کردے گا اور بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے بلند کر کے جنت میں داخل کردے گا۔ اور قیامت کو واقع سخت آواز کی وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت ایسی سخت ترین آواز ہوگی کہ نزدیک اور دور والے سب سن لیں گے جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا کہ اونچی اونچی عمارتیں اور پہاڑ پارہ پارہ ہوجائیں گے۔ اور روئے زمین پر پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے یا یہ کہ اکھڑ پڑیں گے یا یہ کہ ستو اور اونٹوں کے چارہ کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ : یعنی وہ بڑے بڑے متکبروں کو جو دنیا میں معزز اور بلند مرتبہ سمجھے جاتے تھے ، گرا کر جہنم میں پھینک دے گی اور مستضعفین اہل ایمان کو جو دنیا میں حقیر اور کم مرتبہ سمجھے جاتے تھے ، اٹھا کر جنت کے اعلیٰ مراتب تک پہنچا دے گی۔ مزید دیکھئے سورة ٔ مصطففین (29 تا 35)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–5

خافضۃ رافعۃ۔ عکرمہ، مقاتل اور سدی نے کہا : مفہوم یہ بنتا ہے خفت الصت فاسمعت من ونا و رفعت فاسمعت من نای۔ یعنی اس نے قریب اور بعید کو آواز سنائی (1) ۔ سدی نے کہا : اس نے متکبرین کو پست کیا اور کمزوروں کو بلند کیا۔ قتادہ نے کہا : اس نے کچھ قوموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں پست کیا اور کچھ قوموں کو اللہ تعالیٰ کی طاعت کی طرف بلند کیا۔ حضرت عمربن خطاب ؓ نے کہا : اس نے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو جہنم میں پست کیا اور اولیاء اللہ کو جنت میں بلند کیا (2) ۔ محمد بن کعب نے کہا : اس نے ان لوگوں کو پست کیا جو دنیا میں بلند تھے اور اس نے ایسی قوموں کو بلند کیا جو دنیا میں پست تھے۔ ابن عطاء نے کہا : اس نے کچھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–5

خافضہ کی تفسیر 11۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت خافضہ رافعہ سے مراد ہے کہ وہ اپنی آواز قری والوں کو اور دور والوں کو سنادے گی۔ 12۔ ابن جریر وابن ابی حاتم عن عثمان بن سراقہ عن خالد عمر بن خطاب ؓ سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف پستی میں لے جائے گی اور اللہ کے دوستوں کو جنت کی طرف بلند کردے گی۔ 13۔ سعید بن منصور وابن المنذور وابوا الشیخ نے العظمہ میں محمد بن کعب (رح) سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ ان لوگوں کو نیچا کردے گی جو دنیا میں اونچے تھے۔ اور ان لوگوں کو اونچا کردے گی۔ جو دنیا میں نیچے تھے۔ 14۔ ابو الشیخ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

قیامت پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہے اس سورت میں وقوع قیامت اور قیامت واقع ہونے کے بعد جو فیصلے ہوں گے اور ان کے بعد جو اہل ایمان کو انعامات ملیں گے اور اہل کفر جو عذاب میں مبتلا ہوں گے اس کی کچھ تفصیلات بیان کی گئی ہیں، درمیان میں اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آیات بالا میں ارشاد فرمایا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو اس کا کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا آج تو دنیا میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اس کے وقوع کے منکر ہیں جب وہ آہی جائے گی جس کی خبر اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور رسولوں نے دی ہے اسے نظر سے دیکھ لیں گے اور جھٹلانے والے پریشان حال مبتلائے عذاب ہوں گے، اس دن مان لیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” خافضۃ رافعۃ “ یہ مبتدا محذوف کی خبر بعد خبر ہے یعنی قیامت کچھ لوگوں کو پست اور ذلیل و خوار کرنے والی ہے ان سے اصحاب الشمال (کفار و مشرکین) مراد ہیں اور کچھ لوگوں کو بلند کرنے والی ہوگی اس سے السابقون اور اصحاب الیمین مراد ہیں۔ ایھی خافضۃ رافعۃ ترفع اقواما وتضع اخرین۔ (مدارک ج 4 ص 162) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ۝ 3 ۙ خفض الخَفْض : ضدّ الرّفع، والخَفْض الدّعة والسّير اللّيّن وقوله عزّ وجلّ : وَاخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِ [ الإسراء/ 24] ، فهو حثّ علی تليين الجانب والانقیاد، كأنّه ضدّ قوله : أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ [ النمل/ 31] ، وفي صفة القیامة : خافِضَةٌ رافِعَةٌ [ الواقعة/ 3] ، أي : تضع قوما وترفع آخرین، فخافضة إشارة إلى قوله : ثُمَّ رَدَدْناهُ أَسْفَلَ سافِلِينَ [ التین/ 5] . ( خض ) الخفض ۔ یہ رفع کی ضد ہے اور خفض کے معنی نرم رفتاری اور سکون و راحت بھی آتے ہیں اور آیت کریمہ : وَاخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِ [ الإسراء/ 24] اور عجز ونیاز سے ان کے آگے جھکے رہو ۔ میں ماں باپ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–12

ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ۔ (الواقعۃ : 3) (وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔ ) اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ قریش اور بعض دیگر منکرینِ قیامت نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر بالفرض قیامت آہی گئی تو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جو سربلندی ہمیں آج حاصل ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی دین ہے، وہ ہمیشہ حاصل رہے گی۔ ہم دنیا میں بھی سربلند ہیں اور آخرت میں بھی سربلند رہیں گے۔ اور جنھیں دنیا میں نہایت حقیر سمجھا جاتا ہے اور مال و دولت کے اعتبار سے تہی دامن ہیں ان کا آخرت میں بھی یہی حال ہوگا۔ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے آنے کے بعد جو محض دنیا کی وجہ سے سربلند ہیں وہ حقیر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورة الرّحمن کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ آپ کا رب بڑی برکت والا اور ذوالجلال والاکرام ہے۔ الواقعہ کی ابتدارب ذوالجلال کی جلالت کے اظہار سے ہورہی ہے کہ قیامت کے دن اس کی جلالت کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ پہاڑ بھی اس کے حکم کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے جوں ہی اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو اہل مکہ کی کوئی مجلس ایسی نہ تھی جس میں تین موضوعات میں سے کسی ایک موضوع پر بحث نہ ہوتی ہو۔ لوگ یہاں بیٹھتے اللہ کی توحید، نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے عنوانات میں سے کسی ایک عنوان پر ضرور گفتگو کرتے۔ اس میں بالخصوص نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے قائم ہونے کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مناظر قیامت : 3 : خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ (وہ پست کر دے گی ‘ بلند کر دے گی) یعنی وہ پست و بلند کرنے والی ہے۔ بعض لوگوں کو بلند کردے گی اور دوسروں کو ذلیل کر دے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” لیس لوقعتھا “ اس کے آنے کے لئے ” کاذبۃ “ جھوٹ ۔ جیسا کہ اس کا قول ہے ” لا تسمع فیھا لا غیۃ “ یعنی لغو۔ یعنی وہ حق وسچ واقع ہوگی اور ” کاذبۃ “ اسم ہے ” عافیۃ “ اور ” نازلۃ “ کی طرح۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ) وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی، یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہوگی کہ قریب لوگوں ہی کو سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہوگی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 3] قیامت پست و بلند کرنے والی ہوگی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پست و بلند کردینے والی ہوگی۔ کہ ایمان و یقین اور عمل صالح کی دولت رکھنے والوں کو وہ بلند درجات اور اعلیٰ مراتب سے سرفراز کر دے گی، اگرچہ دنیا میں ان کو ابناء دنیا حقیر و ذلیل سمجھتے رہے ہوں، اور اس کے برعکس وہ لوگ جو کفر و شرک اور حجودو انکار وغیرہ کی گندگیوں میں ملوث و آلودہ رہے ہوں گے، ان کو وہ درکات جہنم کے حوالے کردی گی۔ خواہ دنیاوی زندگی میں وہ اپنے طور پر کتنے ہی بڑے کیوں نہ بنے رہے ہوں، سو یہی جھوٹی بڑائی جس کی بناء پر وہنور حق و ہدایت سے مھروم ہوئے تھے، اس دن ان کو وہاں لے ڈوبے گی، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو آج اگر کسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قیامت کی تباہیاں تشریح : ان آیات میں بڑے واضح الفاظ میں اس غیب کی خبر دی گئی ہے جو قیامت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ اطلاع حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ وحی کی صورت میں آنحضرت ﷺ تک پہنچی ہے اور ہم اس کو کتاب مقدس قرآن پاک میں پڑھ رہے ہیں اس لیے ہمارے لیے اس میں ہرگز شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں البتہ انسان جو آئے دن تجربات و تحقیقات میں لگا رہتا ہے اس نے بھی اس کی تصدیق اس طرح کی ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب یوں لکھتے ہیں۔ ' شدید زلزلوں کا سلسلہ، تھرتھراہٹ اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہوجانا، زمین کے اندرونی مغز سے دھماکہ خیز مادہ کا باہر آنا۔ پہاڑوں کا فضا میں اڑنا، ان سب واقعات کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی بڑے بڑے متکبروں کو جو دنیا میں معزز اور بلند مرتبہ سمجھے جاتے تھے دھکیل کر دوزخ میں پھینکے گی اور بہت سے اہل حق کو جو دنیا میں حقیر و کم مرتبہ نظر آئی تھے جنت کے اعلیٰ مراتب تک پہنچائے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:3) خافضۃ رافعۃ خبر مبتدا محذوف کی : ای ہی۔ خافضۃ اقواما کانوا مرتفعین فی الدنیا ورافعۃ اقواما کانوا منخفضین فی الدنیا (اضواء البیان) ۔ پست اور ذلیل کرنے والی۔ جو دنیا میں مغرور تھے۔ ان لوگوں کو بلند کرنے والی جو کہ دنیا میں منکر المزاج تھے۔ مطلب یہ کہ قیامت کی گھڑی پست کرنے والی ہوگی بہت سے دنیا کے سربلندوں کو جو خدا تعالیٰ سے غافل اور اس کے منکر اور اس کے احکام کی پابندی نہ کرنے والے تھے لیکن پست و ذلیل سمجھے جاتے تھے۔ خافضۃ رافعۃ صفت ہے الواقعۃ کی۔ خافضۃ اسم فاعل واحد مؤنث غائب خفض باب ضرب مصدر بمعنی پست کرنا۔ پست ہونا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38 وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔ یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–12

میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة الواقعۃ قرآن حکیم میں قیامت کے مختلف نام آئے ہیں ۔ کہیں اس کو اقاعۃ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ کہیں القارعۃ کہا گیا ہے ۔ کبھی الحاقۃ سے موسوم ہے ۔ اور کبھی الواقعہ کی صفت سے متصف ۔ کیونکہ اصل غرض یہ ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو روشن کیا جائے ۔ اس لحاظ سے کہ اس کے آنے کا ایک وقت مقرر ہے ۔ وہ افسانہ ہے ۔ یعنی متعین گھڑی ۔ اور اس لحاظ سے کہ وہ عالم وجود میں تہلکہ مچانے والی ہے ۔ القارعۃ ہے ۔ اسی نسبت سے کہ اس کا تحقق مقدرات میں سے ہے ۔ الحاقۃ کہا جاتا ہے ۔ الواقعہ کے معنے یہ ہونگے ۔ کہ تحقق خارج میں ضرور واقعہ ہوگا ۔ اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔ فرمایا ۔ جب یہ گھڑی آموجود ہوگی ۔ تو اس وقت کئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہے۔ یعنی ایک جماعت کو پست اور ذلیل کردے گی اور ایک گروہو کو بلند کردیگی منکر پست اور ذلیل ہوں گے ، مومن بلند مرتبہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–6

ف 1۔ یعنی کفار کی ذلت کا اور مومنین کی رفعت کا اس روز ظہور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ پست کرنے والی ‘ بلند کرنے والی ہو گی 3 ؎ (حافضۃ) پست کردینے والی۔ نیچا کردینے والی۔ خفض سے جس کے معنی پست ہونے ‘ پست کرنے اور جھکا دینے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مونث۔ (رافعۃ) بلند کرنی والی ‘ اونچا کرنے والی رفع سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مونث۔ مراد اس سے وہی قیامت کی گھڑی ہے جس سے کتنے ہی لوگ ہوں گے جو دنیا میں بلند بنے بیٹھے تھے لیکن اس روز وہ پست ہو کر رہ جائیں گے اور کتنے ہی ایسے ہوں گے جو بہت پست تھے لیکن وہ اس روز بلند ہوجائیں گے۔ جیسا کہ فاروق اعظم ؓ کا ارشاد ہے کہ : خفضت اعداء اللہ فی النار و رفعت اولیاء اللہ فی الجنۃ یعنی قیامت اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو آتش جہنم میں نگوں سار کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–6

خَافِضَةٌ رَّ‌افِعَةٌ (It will be abasing [ some ], exalting [ others ]...56:3). The verse means that the 'Inevitable Event' referred to in the previous verse will bring about a great revolution in the lives of men, as is witnessed at the time of revolution of governments. The high and the mighty will be laid low and the despised and down-trodden will be exalted; the poor become rich and the rich become poor. This is how Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ interprets this statement. The purpose is to depict the horrors of the Day of Resurrection.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 Literally: "that which causes (something or somebody j to rise and to Fall. " Its one meaning can be that it will upset every order: it will turn things up-side-down. Another meaning also can be that it will exalt the lowly and bring low the high and mighty; that is, on its advent the decision as to who is noble and who is ignoble among the people will be made on quite a different basis. Those who posed as honourable people in the world, would become contemptible and those who were considered contemptible would become honourable.

Read the full tafseer →