لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ۟ۘلَيۡسَ لِـوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ
اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
There is, at its occurrence, no denial.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ۟ۘلَيۡسَ لِـوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ
اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
There is, at its occurrence, no denial.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا
اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں
جس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں
تو اس کے پیش آنے کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا۔
اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی،
اُس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے،
اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔
تو اس کے وقوع کو کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا
اس کے واقعہ ہونے میں کسی جھوٹ کا شائبہ نہیں۔
تو اس وقت اس کے پیش آنے کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا
جس کے واقع ہونے میں کوئی خلاف نہیں
اور جان لو) اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔
اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں
– and then there will be no one to deny its occurrence –
there will be no one to deny its occurrence.
there will be no one to deny its occurrence.
There is not, for its occurrence, Kadhibah.
There is no denying that it will befall -
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
There is, at its occurrence, no denial.
no soul will deny its coming.
There is no belying its coming to pass--
There is about its happening no lie.
Then will no (soul) entertain falsehood concerning its coming.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–12
یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الْوَاقِعَة 1 اس فقرے سے کلام کا آغاز خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ان باتوں کا جواب ہے جو اس وقت کفار کی مجلسوں میں قیامت کے خلاف بنائی جا رہی تھیں۔ زمانہ وہ تھا جب مکہ کے لوگ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے نئی نئی اسلام کی دعوت سن رہے تھے۔ اس میں جو چیز انہیں سب سے زیادہ عجیب اور بعید از عقل و امکان نظر آتی تھی وہ یہ تھی کہ ایک روز زمین و آسمان کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور پھر ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں سب اگلے پچھلے مرے ہوئے لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ یہ بات سن کر حیرت سے ان کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ایسا ہونا بالکل ناممکن ہے۔ آخر یہ زمین، یہ…
Read the full tafseer →لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ، کاذبہ مصدر ہے جیسے عافیۃ اور عاقبۃ اور معنی یہ ہیں کہ اس کے وقوع میں کوئی کذب نہیں ہوسکتا، بعض حضرات نے کاذبہ کو بمعنی تکذیب قرار دیا ہے، معنی ظاہر ہیں کہ اس کی تکذیب نہیں ہو سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (اذا وقعت الواقعۃ لیس لوقعتھا گا ذبۃ) (1۔ 2)۔ (قیامت شدنی ہے) واقعۃ سے مراد قیامت ہے۔ اس لفظ سے تعبیر اس کے ایک امر شدنی ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے دلائل، پوری تفصیل کے ساتھ، گروپ کی پچھلی سورتوں میں، بیان ہوچکے ہیں اور ان شبہات و سوالات کا بھی ایک ایک کرکے جواب دیا جا چکا ہے جو منکرین نے اس کے امکان اور اس کے وقوع کے باب میں اٹھائے ہیں۔ اب یہ فرمایا کہ اس وقت کو یاد رکھو جب کہ وہ واقع ہونے والی، تمہارے ان تمام لا یعنی شبہات و اعتراضات کے علی الرغم، واقع ہو کے رہے گی اور تم کسی طرح بھی اس سے بھاگ نہ سکو گے۔ (لیس لوقعتھاگاذبۃ) یہاں گا ذبۃ میرے نزدیک عاقبۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ 1 واقعہ بھی قیامت کے ناموں سے ہے، کیونکہ یہ لامحالہ واقع ہونے والی ہے، اس لئے اس کا نام بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: اس آیت میں قیامت کو واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ کافر لوگ اس کا انکار کررہے ہیں، لیکن جب وہ واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اسے جھٹلا نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اس پیراگراف میں ایک نہایت ہی اہم بات ایک خوفناک انداز میں بیان کی گئی ہے اور یہ اسلوب ارادة اختیار کیا گیا ہے۔ عبارت کے الفاظ اور مفہوم کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔ دو بار بات کا آغاز اذا شرطیہ سے ہوتا ہے دونوں بار شرط ہے اور جواب شرط نہیں ہے۔ مثلاً ۔ اذوقعت ............ رافعة (3) (6 5: 1 تا 3) ” جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا ، وہ تہہ وبالا کردینے والی آفت ہوگی۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ واقعہ ہوگا جو سچا ہوگا اور تہہ وبالا کردینے والا ہوگا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ پھر اس وقت کیا ہوگا۔ ایک دوسری بات شروع کردی جاتی ہے کہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2 یعنی قیامت جب ہو پڑے گی اس وقت کھل جائے گا کہ یہ کوئی جھوٹی بات نہیں۔ نہ اسے کوئی ٹال سکے گا۔ نہ واپس کرسکے گا۔ اور (لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ ) 16 ۔ النحل :38) وغیرہ کے جھوٹے دعوے سب ختم ہوجائیں۔ کوئی شخص جھوٹی تسلیوں سے اس دن کی ہولناک سختیوں کو گھٹانا چاہے یہ بھی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 2 { لَیْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ۔ } ”اور جان لو اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔“ یعنی وہ ہر صورت وقوع پذیر ہو کر رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا یہ کہ کوئی قیامت کے واقع ہونے کو روک نہیں سکتا۔ اور اس کے واقع ہونے کو غیر واقع نہیں بنا سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ کسی کو پست کرے گی اور کسی کو بلند، یعنی کافروں کی ذلت اور مومنین کی رفعت کا پورا ظہور اسی دن ہوگا۔
Read the full tafseer →لیس لوقعتھا کاذبۃ اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں (1) اول یہ ہے کہ دنیا میں تو وقوع قیامت کی تکذیب کرنے والے بیشمار لوگ ویں مگر جب قیامت برپا ہوگی اور روز روشن کی طرح سامنے آکھڑی ہوگی تو کوئی متنفس یہ کہنے والا نہ ہوگا کہ یہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے، مفسر علام نے بھی اسی مطلب کو اختیار کیا ہے (2) دوسرا یہ کہ اس کے وقوع کا ٹل جانا ممکن نہ ہوگا اور خدا کے سوا اس کو کوئی ٹال بھی نہیں سکتا مگر وہ ٹالے گا نہیں۔
Read the full tafseer →لیس لوقعتھا کاذبۃ جس کے واقع ہونے میں کوئی خلاف نہیں ہے لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا : لوقعتھا ‘ میں لام توقیت کے لیے ہے ‘ یعنی قیامت کے وقوع کے وقت کوئی (نفس) اس کو جھٹلانے والا نہیں ہوگا ‘ یعنی اللہ پر کوئی کذب تراشی کرنے والا نہیں ہوگا یا جھوٹ بولنے والا نہ ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لام بمعنی وجہ ہو (یعنی لام اجلیہ ہو) مطلب یہ کہ قیامت واقع ہوجانے کی وجہ سے کوئی شخص جھوٹ بولنے والا نہیں ہوگا ‘ جو شخص وقوع قیامت کی خبر دے گا ‘ وہ صحیح خبر دے گا یا کاذبہ کا معنی ہے جرأت دینے والا ‘ جری بنانے والا ‘ یعنی قیامت کے وقوع کی شدت کو برداشت کرنے کی جرأت دلانے والا اور جری بنانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ عربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) جب قیامت قائم ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی اختلاف اور شبہ و تردد نہیں ہے وہ بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے پست کر کے دوزخ میں داخل کردے گا اور بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے بلند کر کے جنت میں داخل کردے گا۔ اور قیامت کو واقع سخت آواز کی وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت ایسی سخت ترین آواز ہوگی کہ نزدیک اور دور والے سب سن لیں گے جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا کہ اونچی اونچی عمارتیں اور پہاڑ پارہ پارہ ہوجائیں گے۔ اور روئے زمین پر پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے یا یہ کہ اکھڑ پڑیں گے یا یہ کہ ستو اور اونٹوں کے چارہ کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے جیسا کہ…
Read the full tafseer →لَیْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ”گا ذبۃ“ مصدر ہے بمعنی ”کذب“ جیسے ”العافیۃ“ بمعنی ”معافدۃ“ اور ”الغافیۃ“ بمعنی ”عقبیٰ“ مصادر ہیں ، یعنی اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔
Read the full tafseer →لیس لو قعتھا گا ذبۃ۔ گا ذبۃ مصدر ہے یہ کذب کے معنی میں ہے عرب بعض اوقات اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغے کو مصدر کی جگہ رکھتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لا تسمع فیھا لا غیۃ۔ ( الغاشیہ) لاغیۃ، لغو کے معنی میں ہے۔ یعنی اس میں کوئی جھوٹ سنائی نہیں دے گا : یہ کسائی کا قول ہے اس معنی میں عام لوگوں کا قول ہے عائذ باللہ۔ یہ معاذ اللہ کے معنی میں ہے۔ قم قائما، قم قیاما کے معنی میں ہے ایک عربی عورت بچے سے دل لگی کرتی ہے۔ قم قائما قم قائما اٹھ کھڑے ہوا اٹھ کھڑے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : گا ذبۃ صفت ہے اس کا موصوف محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہوگی لیس لوقعتھا حال کا ذبۃ او نفس کا ذبۃ یعنی جو بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة واقعہ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابو عبید نے اپنے فضائل میں وابو یعلی وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کہ جس نے ہر رات کو ” سورة واقعہ “ پڑھی اسے کبھی فاقہ نہیں پہنچے گا۔ سورۃ واقعہ کی فضیلت 4۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہر رات کو سورة واقعہ پڑھی اسے کبھی فاقہ نہیں پہنچے گا۔ 5۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة واقعہ سورة الغنیٰ ہے۔ اس کو پڑھو اور اس کو اپنی اولاد…
Read the full tafseer →[لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا : اس کے واقع ہونے میں ] [ كَاذِبَةٌ: کچھ جھوٹ نہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قیامت پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہے اس سورت میں وقوع قیامت اور قیامت واقع ہونے کے بعد جو فیصلے ہوں گے اور ان کے بعد جو اہل ایمان کو انعامات ملیں گے اور اہل کفر جو عذاب میں مبتلا ہوں گے اس کی کچھ تفصیلات بیان کی گئی ہیں، درمیان میں اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آیات بالا میں ارشاد فرمایا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو اس کا کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا آج تو دنیا میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اس کے وقوع کے منکر ہیں جب وہ آہی جائے گی جس کی خبر اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور رسولوں نے دی ہے اسے نظر سے دیکھ لیں گے اور جھٹلانے والے پریشان حال مبتلائے عذاب ہوں گے، اس دن مان لیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ٖف 2:۔ ” اذا وقعت۔ تا۔ ھباء منبثا “ یہ تینوں جماعتوں کے احوال کی تمہید ہے یعنی جب لوگ تین جماعتوں میں منقسم ہوں گے اس وقت کیا سماں ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی اور حشر بپا ہوگا اس وقت سب لوگ تین جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ” الواقعۃ “ سے قیامت مراد ہے۔ ” کاذبۃ “ فاعل بمعنی مصدر ہے یہ جملہ معترضہ ہے برائے تاکید جملہ اولی یعنی اس کا وقوع جھوٹ نہیں بلکہ حق ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں۔ ویجوز جعل الکاذبۃ بمعنی الکذب علی معنی لیس للوقعۃ کذب بلھی وقعۃ صادقۃ او علی معنی لیسھی فی وقوت وقوعہا کذب لانہ حق لا شبۃ فیہ (روح ج 27 ص 130) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…
Read the full tafseer →لَيْسَ لِوَقْعَتِہَا كَاذِبَۃٌ 2 ۘ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا کَاذِبَـۃٌ۔ (الواقعۃ : 1، 2) (یاد رکھو جبکہ واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی۔ تو اس کے واقع ہونے کو کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ ) قیامت کا آنا یقینی ہے سورة قٓ سے لے کر گزشتہ سورة تک مسلسل ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو وقوع قیامت کے بارے میں کیے جارہے تھے۔ اور اس قیامت کے واقع ہونے پر ہر طرح کے دلائل بھی پیش کیے گئے جن میں دلائلِ آفاق بھی اور دلائلِ انفس بھی۔ اخلاقی دلائل بھی ہیں اور عقلی دلائل بھی۔ اب بجائے وقوع پر دلیل دینے کے براہ راست یہ بات فرمائی گئی ہے کہ تم اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے قیامت کے وقوع کو تسلیم کرو یا نہ کرو اور تمہارے شبہات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورة الرّحمن کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ آپ کا رب بڑی برکت والا اور ذوالجلال والاکرام ہے۔ الواقعہ کی ابتدارب ذوالجلال کی جلالت کے اظہار سے ہورہی ہے کہ قیامت کے دن اس کی جلالت کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ پہاڑ بھی اس کے حکم کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے جوں ہی اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو اہل مکہ کی کوئی مجلس ایسی نہ تھی جس میں تین موضوعات میں سے کسی ایک موضوع پر بحث نہ ہوتی ہو۔ لوگ یہاں بیٹھتے اللہ کی توحید، نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے عنوانات میں سے کسی ایک عنوان پر ضرور گفتگو کرتے۔ اس میں بالخصوص نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے قائم ہونے کو…
Read the full tafseer →2 : لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا کَاذِبَۃٌ (اس کا جھٹلانے والا کوئی نہ ہوگا) کاذبہ یہ نفس کی صفت ہے مطلب یہ ہے جب قیامت واقع ہوجائے گی تو کوئی نفس اس وقت ایسا نہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول سکے۔ اور غیب کی تکذیب میں کذب بیانی کرے۔ کیونکہ اس وقت ہر نفس ایمان لانے اور سچ بولنے اور تصدیق کرنے والا ہوگا۔ آج کی دنیا میں اکثرنفوس جھوٹ بولنے والے ‘ تکذیب کرنے والے ہیں۔ نحو : لوقعتھا کی لام اسی طرح ہے جیسا اس ارشاد میں : یٰلیتنی قدمت لحیاتی ] الفجر : 24[
Read the full tafseer →1 ۔” اذاوقعت الواقعۃ “ جب قیامت قائم ہوگی اور کہا گیا ہے جب قیامت کی چیخ نازل ہوگی اور وہ نفخہ اخیرہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…
Read the full tafseer →(لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ) اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی وسمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔
Read the full tafseer →[ 2] قیامت کو کوئی جھٹلا نہیں سکے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز اس کے وقوع کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا۔ کہ کٹے سے کٹا کافر، اور پکے سے پکا منکر، بھی اس وقت اس کو ماننے پر مجبور ہوگا، کیونکہ وہ ایک محسوس و مبصر واقعہ ہوگا جو آنکھوں کے سامنے موجود ہوگا اس وقت کا ماننا کسی کافر و منکر کچھ کام نہ دے گا کیونکہ اس وقت کا وہ ماننا ایمان بالمشاہدہ ہوگا جب کہ اصل مطلوب ایمان بالغیب ہے جو کہ اس دنیا میں ماننے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے، سو کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ ایک خواہ مخواہ کا ہوا ہے جس سے یونہی ڈرایا جا رہا ہے نہیں بلکہ یہ ایک امر واقعہ ہے جس سے تم لوگوں کو بہرحال دو چار ہو کر رہنا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قیامت کی تباہیاں تشریح : ان آیات میں بڑے واضح الفاظ میں اس غیب کی خبر دی گئی ہے جو قیامت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ اطلاع حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ وحی کی صورت میں آنحضرت ﷺ تک پہنچی ہے اور ہم اس کو کتاب مقدس قرآن پاک میں پڑھ رہے ہیں اس لیے ہمارے لیے اس میں ہرگز شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں البتہ انسان جو آئے دن تجربات و تحقیقات میں لگا رہتا ہے اس نے بھی اس کی تصدیق اس طرح کی ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب یوں لکھتے ہیں۔ ' شدید زلزلوں کا سلسلہ، تھرتھراہٹ اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہوجانا، زمین کے اندرونی مغز سے دھماکہ خیز مادہ کا باہر آنا۔ پہاڑوں کا فضا میں اڑنا، ان سب واقعات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 7 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب وہ نازل ہوگی تو اسے ہرگز جھٹلایا نہ جاسکے۔
Read the full tafseer →(56:2) لیس فعل ناقص، نہیں ہے۔ لوقعتھا لام حرف جار وقعۃ مصدر مجرور۔ مضاف، ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (کا مرجع القاعۃ ہے) مضاف الیہ ۔ اس کے واقع ہونے میں۔ کاذبۃ : اسم فاعل واحد مؤنث نکرہ بمعنی حاصل مصدر۔ جھوٹ۔ اس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔ اس معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وان الساعۃ لاتیۃ لاریب فیہا (40:59) بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38 وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔ یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی رفعت کا پورا ظہور اسی دن ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة الواقعۃ قرآن حکیم میں قیامت کے مختلف نام آئے ہیں ۔ کہیں اس کو اقاعۃ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ کہیں القارعۃ کہا گیا ہے ۔ کبھی الحاقۃ سے موسوم ہے ۔ اور کبھی الواقعہ کی صفت سے متصف ۔ کیونکہ اصل غرض یہ ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو روشن کیا جائے ۔ اس لحاظ سے کہ اس کے آنے کا ایک وقت مقرر ہے ۔ وہ افسانہ ہے ۔ یعنی متعین گھڑی ۔ اور اس لحاظ سے کہ وہ عالم وجود میں تہلکہ مچانے والی ہے ۔ القارعۃ ہے ۔ اسی نسبت سے کہ اس کا تحقق مقدرات میں سے ہے ۔ الحاقۃ کہا جاتا ہے ۔ الواقعہ کے معنے یہ ہونگے ۔ کہ تحقق خارج میں ضرور واقعہ ہوگا ۔ اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔ فرمایا ۔ جب یہ گھڑی آموجود ہوگی ۔ تو اس وقت کئی…
Read the full tafseer →(2) اس کے وقوع اور واقع ہوجانے کے وقت کوئی شخص جھوٹ کہنے والا نہیں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت آجائے گی اس وقت کوئی شخص بھی قیامت کو جھوٹ کہنے والا نہ ہوگا کیونکہ جب وہ چیز نظروں کے سامنے آجائیگی پھر کون اس کو جھٹلا سکتے گا یا یہ مطلب ہے کہ جب قیامت واقع ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی خلاف نہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے۔
Read the full tafseer →اس کے واقع ہونے میں ذرا بھی جھوٹ نہیں ہے 2 ؎ اس کا واقع ہونا اتنا ہی یقینی ہے جتنا ہر انسان کا پیدا ہونا یعنی پہلی بار جو شخص پیدا ہوچکا ہو کیا اس کے پیدا ہونے میں کوئی سبہ ہے۔ اس کو جو پیدا ہوا ہے یا ان کو جو اس کو پیدا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اگر پیدا ہونے والے کا پیدا ہونا جھوٹ ہے تو اس بات کو بھی آپ جھوٹ کہہ سکتے ہیں لیکن اگر انسانوں کا پیدا ہونا ایک یقینی امر ہے اور پیدا ہونے والے سمجھتے ہیں کہ وہ پیدا ہوئے ہیں تو ان کے زندہ ہونے کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا۔ جو لو اس کے واقع ہونے سے انکاری ہیں وہ اس وقت جان لیں گے کہ واقع ہونے والی واقع ہوگئی لیکن اس وقت ان کے جان لینے کا ان کو کچھ فائدہ نہیں…
Read the full tafseer →لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ (...there will be no one to deny its occurrence...56:2). The word kadhibah in this context is the verbal noun, like ` afiyah and ` aqibah. The sense of the verse is that 'the news of the occurrence of this event cannot be a false news'. Some authorities have taken the word kadhibah in the sense of takdhib [ to deny ] and the meaning, in that case, is clear that 'no one can deny the fact that it will come to pass'.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 Opening the discourse with this sentece by itself signifies that this is an answer to the objections that were than being raised in the disbelievers conferences against Resurrection. This was the time when the people of Makkah had just begun to hear the invitation to Islam from the Holy Prophet Muhammad (upon be Allah's peace and blessing). In it what seemed most astonishing and remote from reason to them was that the entire system of the earth and heavens would one day be overturned and then another world would be set up in which aII the dead, of the former and the latter generations,…
Read the full tafseer →