Al-Waaqia 56:1

56. Al-Waaqiaالواقعة

The Inevitable · Meccan · 96 ayahs · 3 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

56:1

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ۟ۙاِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَةُ

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

When the Occurrence occurs,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:1

جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب قیامت قائم ہو جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب ہولے گی وہ ہونے والی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب واقع ہونے والی (قیامت) واقع ہو جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب وہ واقع ہونے والی واقع ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب واقع ہونے والی (قیامت) واقع ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یاد رکھو، جب کہ واقع ہو پڑے گی واقع ہونے والی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب واقع ہوجائے گی وہ ہو پڑنے والی

— مولانا اسحاق مدنی

جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہوجائے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

— محترمہ رفعت اعجاز

When the Event will come to pass

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When the Imminent Event (of Doom) will occur,

— Muhammad Taqi Usmani

When the Imminent Event (of Doom) will occur,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When the Waqi`ah occurs

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When the Occurrence occurs,

— Saheeh International

When the inevitable event comes,

— Muhammad Sarwar

When the great event comes to pass,

— Muhammad Habib Shakir

When there happeneth Event.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 56:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15؀ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47؀) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الْوَاقِعَة 1 اس فقرے سے کلام کا آغاز خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ان باتوں کا جواب ہے جو اس وقت کفار کی مجلسوں میں قیامت کے خلاف بنائی جا رہی تھیں۔ زمانہ وہ تھا جب مکہ کے لوگ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے نئی نئی اسلام کی دعوت سن رہے تھے۔ اس میں جو چیز انہیں سب سے زیادہ عجیب اور بعید از عقل و امکان نظر آتی تھی وہ یہ تھی کہ ایک روز زمین و آسمان کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور پھر ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں سب اگلے پچھلے مرے ہوئے لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ یہ بات سن کر حیرت سے ان کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ایسا ہونا بالکل ناممکن ہے۔ آخر یہ زمین، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر جب قیامت آوے گی جس کے واقع ہونے میں کوئی خلاف نہیں (بلکہ اس کا واقع ہونا بالکل صحیح اور حق ہے) تو وہ (بعض کو) پست کر دے گی (اور بعض کو) بلند کر دے گی (یعنی کفار کی ذلت کا اور مومنین کی رفعت کا اس روز ظہور ہوگا) جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آوے گا اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجاویں گے پھر وہ پراگندہ غبار (کی طرح) ہوجاویں گے اور تم (سب آدمی جو اس وقت موجود ہو یا پہلے گزر چکے ہیں یا آئندہ آنے والے ہیں) تین قسم ہوجاؤ گے (جن کی تفصیل آگے آتی ہے، خواص مومنین اور عوام مومنین اور کفار کہ سورة رحمن میں بھی یہی تین قسمیں مذکور ہیں اور آئندہ آیات میں خواص کو مقربین اور سابقین کہا ہے اور عوام مومنین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (اذا وقعت الواقعۃ لیس لوقعتھا گا ذبۃ) (1۔ 2)۔ (قیامت شدنی ہے) واقعۃ سے مراد قیامت ہے۔ اس لفظ سے تعبیر اس کے ایک امر شدنی ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے دلائل، پوری تفصیل کے ساتھ، گروپ کی پچھلی سورتوں میں، بیان ہوچکے ہیں اور ان شبہات و سوالات کا بھی ایک ایک کرکے جواب دیا جا چکا ہے جو منکرین نے اس کے امکان اور اس کے وقوع کے باب میں اٹھائے ہیں۔ اب یہ فرمایا کہ اس وقت کو یاد رکھو جب کہ وہ واقع ہونے والی، تمہارے ان تمام لا یعنی شبہات و اعتراضات کے علی الرغم، واقع ہو کے رہے گی اور تم کسی طرح بھی اس سے بھاگ نہ سکو گے۔ (لیس لوقعتھاگاذبۃ) یہاں گا ذبۃ میرے نزدیک عاقبۃ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

1۔ 1 واقعہ بھی قیامت کے ناموں سے ہے، کیونکہ یہ لامحالہ واقع ہونے والی ہے، اس لئے اس کا نام بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–7

1: اس آیت میں قیامت کو واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ کافر لوگ اس کا انکار کررہے ہیں، لیکن جب وہ واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اسے جھٹلا نہیں سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

اس پیراگراف میں ایک نہایت ہی اہم بات ایک خوفناک انداز میں بیان کی گئی ہے اور یہ اسلوب ارادة اختیار کیا گیا ہے۔ عبارت کے الفاظ اور مفہوم کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔ دو بار بات کا آغاز اذا شرطیہ سے ہوتا ہے دونوں بار شرط ہے اور جواب شرط نہیں ہے۔ مثلاً ۔ اذوقعت ............ رافعة (3) (6 5: 1 تا 3) ” جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا ، وہ تہہ وبالا کردینے والی آفت ہوگی۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ واقعہ ہوگا جو سچا ہوگا اور تہہ وبالا کردینے والا ہوگا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ پھر اس وقت کیا ہوگا۔ ایک دوسری بات شروع کردی جاتی ہے کہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

2 یعنی قیامت جب ہو پڑے گی اس وقت کھل جائے گا کہ یہ کوئی جھوٹی بات نہیں۔ نہ اسے کوئی ٹال سکے گا۔ نہ واپس کرسکے گا۔ اور (لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ ) 16 ۔ النحل :38) وغیرہ کے جھوٹے دعوے سب ختم ہوجائیں۔ کوئی شخص جھوٹی تسلیوں سے اس دن کی ہولناک سختیوں کو گھٹانا چاہے یہ بھی نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 { اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ۔ } ”جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہوجائے گا۔“ اس آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ ”جب وہ وقوع پذیرہونے والی وقوع پذیر ہوجائے گی“۔ یعنی جس قیامت کی خبر تم لوگوں کو دی جا رہی ہے جب وہ آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا یہ کہ کوئی قیامت کے واقع ہونے کو روک نہیں سکتا۔ اور اس کے واقع ہونے کو غیر واقع نہیں بنا سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ کسی کو پست کرے گی اور کسی کو بلند، یعنی کافروں کی ذلت اور مومنین کی رفعت کا پورا ظہور اسی دن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے جب واقع ہونے والی واقع ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی اس کے وقوع کی کوئی نفس تکذیب کرنے والا نہیں ہوگا کہ اس کا انکار کر دے جیسا کہ دنیا میں اس کا انکار کیا تھا وہ بلند اور پست کرنے والی ہوگی وہ قوموں کی پستی کو ظاہر کرنے والی ہوگی، ان کے جہنم میں داخل ہونے کی وجہ سے اور دوسری قوموں کو بلند کرنے والی ہوگی ان کے جنت میں داخل ہونے کی وجہ سے جبکہ زمین پوری طرح ہلا دی جائے گی، یعنی شدید حرکت دیدی جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے تو وہ منتشر غبار کے مانند ہوجائیں گے ثانی اذا پہلے اذا سے بدل ہے تم قیامت میں تین قسم کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذا وقعت الواقعہ ’ جب قیامت واقع ہوگی اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ : یعنی جب قیامت واقع ہوگی ‘ چونکہ قیامت کا وقوع یقینی ہے اس لیے اس کو واقعہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–6

(1۔ 6) جب قیامت قائم ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی اختلاف اور شبہ و تردد نہیں ہے وہ بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے پست کر کے دوزخ میں داخل کردے گا اور بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے بلند کر کے جنت میں داخل کردے گا۔ اور قیامت کو واقع سخت آواز کی وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت ایسی سخت ترین آواز ہوگی کہ نزدیک اور دور والے سب سن لیں گے جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا کہ اونچی اونچی عمارتیں اور پہاڑ پارہ پارہ ہوجائیں گے۔ اور روئے زمین پر پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے یا یہ کہ اکھڑ پڑیں گے یا یہ کہ ستو اور اونٹوں کے چارہ کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ :”الواقعۃ“ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، جیسے ”الطامۃ ، الازفعۃ، ”لضاحۃ“ اور ”القارعۃ“ اس کے نام ہیں۔ ان میں ’ ’ تائ“ مبالغہ کے لیے ہے۔ اس کا نام ”الواقعۃ“ اس کے یقینی ہونے کی وجہ سے رکھا گیا ہے ، کیونکہ وہ ہر حال میں ہو کر رہنے والی ہے۔ یعنی جب قیامت قائم ہوگی، جیسا کہ سورة ٔ حاقہ میں ہے :(فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعۃَُ) (الحاقۃ : 13 تا 15)”پس جب صور میں پھونکا جائے گا ، ایک بار پھونکنا۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا ، پس دونوں ٹکرا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(اذا وقعت الواقعۃ۔۔۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 445 2 ؎۔ کنز العمال، جلد 1، صفحہ 582، حدیث : 2640 اذا وقعت الواقعۃ۔ جب قیامت برپا ہوگی۔ مراد دوسرا نفخہ ہے اسے واقعہ کا نام دیا کیونکہ یہ قریب ہی وقت میں واقع ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا : اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں بہت سی مشکلات واقع ہوں گی۔ اس میں اضمار ہے یعنی یاد کرو اس وقت کو جب واقعہ ہونے والی واقع ہوگی۔ جرجانی نے کہا : اذازائد ہے مراد ہے قیامت برپا ہوگی جس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے : اقتربت الساعۃ (القمر : 1) اتی امر اللہ (النحل :) جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : قد جاء الصوم یعنی روزے قریب آگئے پہلی تعبیر کی صورت میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة واقعہ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابو عبید نے اپنے فضائل میں وابو یعلی وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کہ جس نے ہر رات کو ” سورة واقعہ “ پڑھی اسے کبھی فاقہ نہیں پہنچے گا۔ سورۃ واقعہ کی فضیلت 4۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہر رات کو سورة واقعہ پڑھی اسے کبھی فاقہ نہیں پہنچے گا۔ 5۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة واقعہ سورة الغنیٰ ہے۔ اس کو پڑھو اور اس کو اپنی اولاد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذَا : جب ] [وَقَعَتِ : واقع ہونے والی ] [ الْوَاقِعَةُ : واقع ہوجائے ] ترکیب : (آیات ۔ ایک اور چار) دونوں میں بات اذا سے شروع ہوئی ہے، اس لیے ان کے آگے آنے والے افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں کیا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

قیامت پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہے اس سورت میں وقوع قیامت اور قیامت واقع ہونے کے بعد جو فیصلے ہوں گے اور ان کے بعد جو اہل ایمان کو انعامات ملیں گے اور اہل کفر جو عذاب میں مبتلا ہوں گے اس کی کچھ تفصیلات بیان کی گئی ہیں، درمیان میں اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آیات بالا میں ارشاد فرمایا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو اس کا کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا آج تو دنیا میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اس کے وقوع کے منکر ہیں جب وہ آہی جائے گی جس کی خبر اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور رسولوں نے دی ہے اسے نظر سے دیکھ لیں گے اور جھٹلانے والے پریشان حال مبتلائے عذاب ہوں گے، اس دن مان لیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

ٖف 2:۔ ” اذا وقعت۔ تا۔ ھباء منبثا “ یہ تینوں جماعتوں کے احوال کی تمہید ہے یعنی جب لوگ تین جماعتوں میں منقسم ہوں گے اس وقت کیا سماں ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی اور حشر بپا ہوگا اس وقت سب لوگ تین جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ” الواقعۃ “ سے قیامت مراد ہے۔ ” کاذبۃ “ فاعل بمعنی مصدر ہے یہ جملہ معترضہ ہے برائے تاکید جملہ اولی یعنی اس کا وقوع جھوٹ نہیں بلکہ حق ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں۔ ویجوز جعل الکاذبۃ بمعنی الکذب علی معنی لیس للوقعۃ کذب بلھی وقعۃ صادقۃ او علی معنی لیسھی فی وقوت وقوعہا کذب لانہ حق لا شبۃ فیہ (روح ج 27 ص 130) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ۝ 1 ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ وقع الوُقُوعُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–12

ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا کَاذِبَـۃٌ۔ (الواقعۃ : 1، 2) (یاد رکھو جبکہ واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی۔ تو اس کے واقع ہونے کو کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ ) قیامت کا آنا یقینی ہے سورة قٓ سے لے کر گزشتہ سورة تک مسلسل ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو وقوع قیامت کے بارے میں کیے جارہے تھے۔ اور اس قیامت کے واقع ہونے پر ہر طرح کے دلائل بھی پیش کیے گئے جن میں دلائلِ آفاق بھی اور دلائلِ انفس بھی۔ اخلاقی دلائل بھی ہیں اور عقلی دلائل بھی۔ اب بجائے وقوع پر دلیل دینے کے براہ راست یہ بات فرمائی گئی ہے کہ تم اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے قیامت کے وقوع کو تسلیم کرو یا نہ کرو اور تمہارے شبہات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورة الرّحمن کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ آپ کا رب بڑی برکت والا اور ذوالجلال والاکرام ہے۔ الواقعہ کی ابتدارب ذوالجلال کی جلالت کے اظہار سے ہورہی ہے کہ قیامت کے دن اس کی جلالت کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ پہاڑ بھی اس کے حکم کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے جوں ہی اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو اہل مکہ کی کوئی مجلس ایسی نہ تھی جس میں تین موضوعات میں سے کسی ایک موضوع پر بحث نہ ہوتی ہو۔ لوگ یہاں بیٹھتے اللہ کی توحید، نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے عنوانات میں سے کسی ایک عنوان پر ضرور گفتگو کرتے۔ اس میں بالخصوص نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے قائم ہونے کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ جب قیامت قائم ہوگی ایک قول یہ ہے قیامت کو واقع سے اس لئے تعبیر کیا کیونکہ قیامت بہر حال آئے گی۔ گویا اس طرح فرمایا اذا وقعت لا بد من وقوعہاجب وہ آجائے گا۔ جس کا وقوع یقینی ہے۔ وقوع الامر عرب کے لوگ اس وقت بولتے ہیں جبکہ وہ اتر پڑے چناچہ کہتے ہیں وقع ماکنت اتوقعہ یعنی وہ اتر پڑا جس کے نزول کا میں منتظر تھا۔ نحو : اذا اذکرؔ فعل کی وجہ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے اس واقعہ سے مراد قیامت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 1] قیامت قطعی طور پر ایک شدنی اور اٹل حقیقت : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ قیامت ایک شدنی اور ہوپڑنے والی اٹل حقیقت ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب واقع ہوجائے وہ واقع ہر کر رہنے والی۔ یعنی قیامت، وقع اور وقوع کے معنی گر پڑنے اور چوٹ لگانے کے آتے ہیں، قیامت کا وہ حادثہ جسے دوسرے مقام پر " الصاحتہ " اور " الطامۃ الکبری " بھی فرمایا گیا ہے، چونکہ انتہائی سخت اور نہایت شدید حادثہ ہوگا، اس لئے اس کو یہاں پر واقعہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، نیز وہ عظیم حادثہ جب وقوع پذیر ہوجائے گا تو وہ ایک ایسی واقع چیز ہوگی جس میں تعجب و انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی، اسی طرح جس طرح کہ آج ہم سورج چاند…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قیامت کی تباہیاں تشریح : ان آیات میں بڑے واضح الفاظ میں اس غیب کی خبر دی گئی ہے جو قیامت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ اطلاع حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ وحی کی صورت میں آنحضرت ﷺ تک پہنچی ہے اور ہم اس کو کتاب مقدس قرآن پاک میں پڑھ رہے ہیں اس لیے ہمارے لیے اس میں ہرگز شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں البتہ انسان جو آئے دن تجربات و تحقیقات میں لگا رہتا ہے اس نے بھی اس کی تصدیق اس طرح کی ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب یوں لکھتے ہیں۔ ' شدید زلزلوں کا سلسلہ، تھرتھراہٹ اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہوجانا، زمین کے اندرونی مغز سے دھماکہ خیز مادہ کا باہر آنا۔ پہاڑوں کا فضا میں اڑنا، ان سب واقعات کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 7 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب وہ نازل ہوگی تو اسے ہرگز جھٹلایا نہ جاسکے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:1) اذا وقعت : اذا ظرفیہ ہے جس میں شرط کے معنی شامل ہیں۔ جب۔ وقعت ماضی واحد مؤنث غائب۔ وقوع (باب فتح) مصدر۔ ماضی بمعنی مستقبل ہے (جب) قائم ہوجائے گی۔ جب واقع ہوگی۔ جب بپا ہوجائے گی۔ الواقعۃ : اسمفاعل کا صیغہ واحد مؤنث وقع وقوع (باب فتح) مصدر لازمی ہونے والی۔ لازمی وقوع پذیر ہونے والی۔ بعض کے نزدیک یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے الطامۃ (79:34) آفت۔ الصاخۃ (80:33) وہ چیخ جو کانوں کو پھوڑ دے۔ یعنی اپنی سختی کے باعث بہرا کر دے۔ الازفۃ (40:18) نزدیک آلگنے والی۔ جس کے آنے کا وقت بہت تنگ ہوگیا ہو۔ القارعۃ (101:1) کھڑکھڑانے والی۔ اذا وقعت الواقعۃ جملہ شرطیہ ہے۔ جب واقع ہونے والی وقوع پذیر ہو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38 وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔ یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–12

میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة الواقعۃ قرآن حکیم میں قیامت کے مختلف نام آئے ہیں ۔ کہیں اس کو اقاعۃ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ کہیں القارعۃ کہا گیا ہے ۔ کبھی الحاقۃ سے موسوم ہے ۔ اور کبھی الواقعہ کی صفت سے متصف ۔ کیونکہ اصل غرض یہ ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو روشن کیا جائے ۔ اس لحاظ سے کہ اس کے آنے کا ایک وقت مقرر ہے ۔ وہ افسانہ ہے ۔ یعنی متعین گھڑی ۔ اور اس لحاظ سے کہ وہ عالم وجود میں تہلکہ مچانے والی ہے ۔ القارعۃ ہے ۔ اسی نسبت سے کہ اس کا تحقق مقدرات میں سے ہے ۔ الحاقۃ کہا جاتا ہے ۔ الواقعہ کے معنے یہ ہونگے ۔ کہ تحقق خارج میں ضرور واقعہ ہوگا ۔ اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔ فرمایا ۔ جب یہ گھڑی آموجود ہوگی ۔ تو اس وقت کئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) یاد کرو جب واقع ہوجانے والی واقع ہوجائیگی۔ یعنی جس کا واقع ہونا یقینی ہے وہ واقع ہوجائے مراد اس سے قیامت ہے کہ جب قیامت واقع ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی 1 ؎ کسی چیز کی حقیقت کی اولین گرہ کشائی اس کے نام کی وضاحت سے ہوتی ہے ۔ قرآن کریم میں قیامت کے تقریباً 29 نام ذکر کئے گئے ہیں جن کو ہم پیچھے ذکر کرچکے ہیں اور ان میں سے ہر ایک نام اس کے ایک خاص پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ اس کا پہلا نام جو قرآن کریم کی پہلی ہی سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ وہ (یوم الدین) ہے یعنی جزا و سزا کا دن اور زیر نظر آیت میں (الواقعہ) سے مراد بھی قیامت ہی کا دن ہے۔ قیامت کی احوال و اہوال کے پیش نظر اس کو وقوع پذیر ہونے والی کہا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا واقع ہونا حق ہے۔ اس کا واقع ہونا یقینی امر ہے۔ اس کے وقوع پذیر ہونے سے اس کو کوئی روک نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Special Characteristic of Surah Al-Waqi` ah: Sayyidna ` Abdullh Ibn Masuad's ؓ Didactic Story on his Deathbed Ibn Kathir cites a story on the authority of Ibn ` Asakir from Abu Zabyah that when Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ was lying on his deathbed, Sayyidna ` Uthman ؓ paid him a visit and the following conversation ensued. ` Uthman: ؓ : مَا تَشتَکِی ؟ "What are you suffering from?" Ibn Masud ؓ ! ذُنُوبِی ” from my sins." ` Uthman ؓ : مَا تَشتَھِی ؟ "Do you desire anything?" Ibn Masud ؓ رَحمَۃَ رَبِّی :"Yes, Allah's mercy." ` Uthman : ؓ : اَلَاَ آمُرُلَکَ بِطَیَّبِ ؟ "Shall I call a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 Opening the discourse with this sentece by itself signifies that this is an answer to the objections that were than being raised in the disbelievers conferences against Resurrection. This was the time when the people of Makkah had just begun to hear the invitation to Islam from the Holy Prophet Muhammad (upon be Allah's peace and blessing). In it what seemed most astonishing and remote from reason to them was that the entire system of the earth and heavens would one day be overturned and then another world would be set up in which aII the dead, of the former and the latter generations,…

Read the full tafseer →