Ar-Rahmaan 55:78

Ar-Rahmaan · from ayah 78

55:78

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ۟۠تَبٰـرَكَ اسۡمُ رَبِّكَ ذِى الۡجَـلٰلِ وَالۡاِكۡرَامِ

(اے محمدﷺ) تمہارا پروردگار جو صاحب جلال وعظمت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Blessed is the name of your Lord, Owner of Majesty and Honor.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:78

بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) تمہارا پروردگار جو صاحب جلال وعظمت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے جو عزت وجلال واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بڑا بابرکت نام ہے تمہارے پروردگار کا جو عظمت والا بھی ہے، کرم والا بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے، جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ اِنعام و اِکرام ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بہت برکت والا ہے تیرے رب کا نام جو بڑی شان اور عزت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کا پروردگار جو بڑی بزرگی اور عزت والا ہے اس کا نام بھی بڑا برکت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بڑا ہی بابرکت ہے نام تیرے عظمت والے اور سزا وار تکریم رب کا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بڑا ہی برکت والا ہے نام تمہارے رب کا جو بڑی عظمت والا اور احسان والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بڑا بابرکت نام ہے آپ کے پروردگار عظمت والے احسان والے کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بہت بابرکت نام ہے تیرے رب کا جو بہت عظمت والا بہت اکرام والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے محمد ﷺ تمہارا رب جو جلال و عظمت والا ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Blessed be the name of your Lord, the Lord of Majesty and Glory.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Glorious is the name of your Lord, the Lord of Majesty, the Lord of Honour.

— Muhammad Taqi Usmani

Glorious is the name of your Lord, the Lord of Majesty, the Lord of Honour.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Blessed be the Name of your Lord, Dhil-Jalali wal-Ikram.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Blessed be the name of thy Lord, Mighty and glorious!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Blessed is the name of your Lord, Owner of Majesty and Honor.

— Saheeh International

Blessed is the Name of your Lord, the Lord of Glory and Grace.

— Muhammad Sarwar

Blessed be the name of your Lord, the Lord of Glory and Honor!

— Muhammad Habib Shakir

Blest be the name of thine Lord, Owner Of Majesty and Beneficence!

— Abdul Majid Daryabadi

Blessed be the name of thy Lord, full of Majesty, Bounty and Honour.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:78

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–78

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 76–78

سورة الرَّحْمٰن 52 اصل میں لفظ عَبْقَرِی استعمال ہوا ہے۔ عرب جاہلیت کے افسانوں میں جنوں کے دارالسلطنت کا نام عَبْقَر تھا جسے ہم اردو میں پرستان کہتے ہیں۔ اسی کی نسبت سے عرب کے لوگ ہر نفیس و نادر چیز کو عَبْقَری کہتے تھے، گویا وہ پرستان کی چیز ہے جس کا مقابلہ اس دنیا کی عام چیزیں نہیں کرسکتیں۔ حتیٰ کہ ان کے محاورے میں ایسے آدمی کو بھی عبقری کہا جاتا تھا جو غیر معمولی قابلیتوں کا مالک ہو، جس سے عجیب و غریب کارنامے صادر ہوں۔ انگریزی میں لفظ (Genius) بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے، اور وہ بھی Genii سے ماخوذ ہے جو جن کا ہم معنی ہے۔ اسی لیے یہاں اہل عرب کو جنت کے سروسامان کی غیر معمولی نفاست و خوبی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ، سورة رحمن میں بیشتر حق تعالیٰ کی نعمتوں اور انسان پر احسانات کا ذکر ہے، اس کے خاتمہ پر خلاصہ کے طور پر یہ جملہ ارشاد ہوا کہ اس ذات پاک کا تو کہنا کیا ہے اس کا نام بھی بڑا بابرکت ہے، اس کے نام ہی سے یہ ساری نعمتیں قائم ہیں، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم تمت سورة الرحمن بحمد اللہ وعونہ للحادی عشر من الربیع الثانی س 1391 ھ یوم السبت

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(تبرک اسم ربک ذی الجلل والاکرام) (78)۔ (خاتمہ سورة) جس طرح اوپر جزاء و سزا کے دلائل بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ (کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلل والاکرام) اسی طرح جزاء و سزا کی تفصیلات سنانے کے بعد اسی آیت کا اعادہ فرمایا ہے اور مقصود اس اعادہ سے ہے یہ ظاہر کرنا ہے کہ چونکہ تیرے رب ذدوالجلال والاکرام کی ذات بڑی ہی خیر و برکت والی ہے اس وجہ سے اس کی یہ تمام برکتیں لازماً ظاہر ہوں گی۔ نادان ہیں وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا پیدا تو کردی لیکن پیدا کردینے کے بعد اس کے خیر و شر سے اسے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ جس طرح اوپر والی آیت میں لفظ وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو تعبیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 77–78

78۔ 1 تَبَارَکَ ، برکت سے ہے جس کے معنی دوام و ثبات کے ہیں۔ مطلب یہ ہے اس کا نام ہمیشہ رہنے والا ہے، یا اس کے پاس ہمیشہ خیر کے خزانے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی بلندی اور علوشان کے کئے ہیں اور جب اس کا نام اتنا بابرکت یعنی خیر اور بلندی کا حامل ہے تو اس کی ذات کتنی برکت اور عظمت و رفعت والی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 76–78

13: رفرف نقش ونگار والے قالین کو کہتے ہیں، یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ جنت کی نعمتوں میں سے جن جن چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، اگرچہ دنیا میں بھی ان کے وہی نام ہیں جو ان آیات میں مذکور ہیں ؛ لیکن ان کی حقیقت ان کا حسن اور ان کی لذت دنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی ؛ کیونکہ صحیح حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار فرمائی ہیں جو آج تک نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں، اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزرا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان سے بہرہ اور فرمائیں، آمین۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

تبرک ................ والاکرام (55: 87) ” بڑا برکت والا ہے تیرے رب جلیل وکریم کا نام۔ “ سورة رحمن کا یہ بہترین خاتمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 73–78

1 یعنی جس نے اپنے وفاداروں پر ایسے احسان و انعام فرمائے اور غور کرو تو تمام نعمتوں میں اصلی خوبی اسی کے نام پاک کی برکت سے ہے۔ اسی کا نام لینے سے یہ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں پھر سمجھ لو جس کے اسم میں اس قدر برکت ہے مسمی میں کیا کچھ ہوگی۔ " وَنَسْئَال الہُ الْکَرِیْمَ الْوَہَابَ ذَالْجَلَالِ وَاْلِاکْرَامِ اَنْ یَّجْعَلَنَا مِنْ اَہْلِ الْجَنَّتَیْنِ الْاَوْلَیَیْنِ ۔ " اٰمین۔ تم سورة الرحمن وللّٰہ الحمد والمنۃ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 78{ تَبٰرَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ۔ } ”بہت بابرکت نام ہے تیرے رب کا جو بہت عظمت والا ‘ بہت اکرام والا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 77–78

47 پروردگار کا ذاتی نام اللہ ہے اور رحمن ذاتی بھ بھی ہے اور صفاتی بھی۔ باقی اللہ کے سب نام صفاتی ہیں۔ ان میں سے ذوالجلال والاکرام بڑا بابرکت صفاتی نام ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ خود بھی بڑی بزرگی اور عزت والا ہے اور دوسروں کو عزت عطا کرنے والا اور ان پر لطف و احسان کرنے والا ہے۔ جیسا کہ اہل جنت پر اس کے لطف و احسان کا ذکر ان آیات میں آیا ہے، پھر جب اس کا نام ہی بڑا بابرکت ہے تو اس کی ذات مقدس کس قدر بابرکت ہوگی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ہر نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پہلے اللہ اکبر پھر تین بار استغفر اللہ کہتے۔ پھر اس کے بعد یہ ذکر فرماتے : (اللّٰھُمَّ أنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 75–78

37۔ (اور جس کے اسم میں یہ برکت و عظمت ہے، تو ظاہر ہے کہ اس اسم کا مسمی کیسا مبارک اور کیسا کامل اکمل ہوگا ! اسم پر حاشیہ سورة البقرۃ (پ 1) (آیت) ” علم ادم الاسمآء کلھا “۔ کے تحت میں گزر چکا اسم سے یہاں مراد صفات ہیں جو ذات باری سے غیر نہیں۔ قیل الاسم یعنی الصفۃ لانھا علامۃ علی موصوفھا (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–78

ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تبرک اسم ربک ذی الجلال والاکرام . بڑا بابرکت نام ہے آپ ﷺ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا ہے۔ “ تَبَارَکَ اسْمُ.... یعنی اللہ کا نام جو اس کی ذات پر دلالت کرتا ہے۔ بڑا بابرکت ہے تو اس کی ذات کا کیا ٹھکانا۔ بعض کے نزدیک اسم سے مراد صفت ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ لفظ اسم زائد ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ جب نماز کا سلام پھیر چکتے تو (اس کے بعد) صرف اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے کہ : اللّٰھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذوالجلال والاکرام پڑھ لیتے تھے (پھر اٹھ جاتے تھے) ۔ مسلم کی روایت بھی یہی ہے۔ الحمد اللہ سورة الرحمن کی تفسیر کا ترجمہ ختم ہوا

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

بڑا ہی برکت اور رحمت والا نام ہے آپ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا اور قیامت قائم ہونے پر بھی درگزر کرنے والا ہے یا یہ کہ آپ کے رب کی ذات اولاد اور شریک سے پاک اور ماورا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تَبٰـرَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ :”تبرک“ باب تفاعل ہے ، جب اس میں تشارک مقصود نہ ہو تو مبالغہ مراد ہوتا ہے ، یعنی بہت برکت والا ہے تیرے رب کا نام۔ پھر جب اس کا نام بہت برکت والا ہے تو اس کی ذات پاک کس قدر با برکت ہوگی۔ ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور یوں کہتے :(اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام) (مسلم المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ۔۔۔۔ 591) ”اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ہے اے جلال اور اکرام والے !“ اس دعا میں کئی لوگ ان الفاظ کا اضافہ کرتے ہیں :”والیک یرجع السلام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تبرک اسم ربک ذی الجلل والاکرام۔ تبرک یہ برکۃ تے تفاعل کا وزن ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ذی الجلل عظمت والا۔ یہ بحث بھی پہلے گزر چکی ہے۔ عامر نے ذوالجلال پڑھا ہے اور اسے اسم کی صفت بنایا ہے یہ اس امر کو قوت بہم پہنچاتا ہے کہ اسم میں مسمی ہے باقی قراء نے ذی الجلال پڑھا ہے انہوں نے ذمی کو ربک کی صفت بنایا ہے گویا اس کے ساتھ اس اسم کا ارادہ کیا ہے جس کے ساتھ سورت کا آغاز کیا فرمایا : الرحمن اس اسم کے ساتھ آغاز کیا اور انسان اور جنوں کی تخلیق کا ذکر کیا، آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر کیا، ان میں اپنی تدبیر کا ذکر کیا اور فرمایا : کل یوم ھو فی شان۔ پھر قیامت، اس کی ہولناکیوں اور جہنم کی صفت کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' تبرک اسم ربک ذی الجلال والاکرام ''' 44:۔ البخاری فی الادب والترمذی وابن مردویہ (رح) اور البیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنایا (آیت ) '' یاذی الجلال والاکرام ''' (اے عظمت اور احسان والے آپ نے فرمایا تیری دعا قبول کی جائے گی تو سوال کر (جو چاہے) 45:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد و ابوداؤد والنسائی والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ میں رسو اللہ ﷺ کے ساتھ ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا جب اس نے رکوع کیا سجدہ کیا تشھد اور دعا کے ساتھ نماز پوری…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَبٰرَكَ [ بابرکت ہوا ] اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ [آپ کے بلند مرتبہ اور بزرگی والے رب کا نام ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–78

فوائد ضروریہ متعلقہ سورة الرحمٰن ” فائدہ اولیٰ “ : سورة الرحمٰن میں اکتیس (31) جگہ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے اس کے بار بار پڑھنے سے ایک کیف اور سرور محسوس ہوتا ہے ایمانی غذا بھی ملتی ہے اور تلاوت کرنیوالا اور تلاوت سننے والے پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کو عروس القرآن یعنی قرآن کی دلہن فرمایا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 189) ” فائدہ ثانیہ “:﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ میں جنات اور انسان دونوں جماعتوں کو خطاب فرمایا ہے اور بار بار یاددہانی کرائی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں سے نوازا ہے سو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–78

اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:۔ ” تبرک اسم ربک۔ الایۃ “ آخر میں سورت کا دعوی مذکور ہے یعنی برکت دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کے نام میں برکت ہے۔ اور یہ دعوی سورت میں مذکورہ تمام دلائل اور انواع نعمت کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا مالک اور سارے عالم میں متصرف و مختار ہے اور یہ تمام نعمتیں بھی اسی ہی نے عطاء کی ہیں اس لیے وہی ساری کائنات میں کارساز ہے اور وہی برکات دہندہ ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین۔ سورة الرحمن میں آیات توحید اور خصوصیات 1 ۔ ” الرحمن، علم القران۔ تا۔ کل یوم ھو فی شان “ نفی شرک اعتقادی پر دلائل عقلیہ۔ 2 ۔ ” تبرک اسم ربک ذی الجلال والاکرام “ برکات دہندہ صرف اللہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 62–78

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا ، پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پھر قیامت کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلے میں مجرموں اور نافرمانوں کا انجام بھی بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں کے اہل ایمان کا دو حصوں میں ذکر فرمایا۔ پہلے حصے میں فرمایا ولمن خاف… الآیۃ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے دنیا میں ڈر گیا اور ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر چل نکلا ، فرمایا اس کے لیے دو بہشت ہیں۔ میں نے کل عرض کیا تھا کہ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ایک بہشت انسان کے لیے ہے اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ۝ 78 ۧ برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–78

ترکیب : جنتان مبتداء ومن دونہما خبر مدھا متان صفۃ لجنتان اوخبر مبتداء محذوف عینان موصوف نضاختان صفۃ الموصوف والصفۃ مبتداء فیہما خبرہ وقس علیہ مابعدہ۔ حور بدل من خیرات وقیل الخبر مخذوف ای فیھن حور۔ حال وذوالحال محذوف دل علیہ الضمیر فی قبلھم۔ رفرف فی معنی الجمع وقیل رفرفۃ خضر صفۃ والاکرام بالجر عطفا علی الجلال وقرأ ابن عامر بالرفع صفۃ للاسم۔ تفسیر : یہ اہل سعادت کے مقامات کی اور زیادہ تشریح ہے کہ ان خدا ترسوں کے لیے دو اور باغ ملیں گے جن کے اوصاف بعد میں بیان فرماتا ہے۔ کیا یہ چاروں جنت ایک کے لیے ہوں گی ؟ جمہور کے نزدیک وہ دو جنت ایک گروہ اہل سعادت کے لیے ہوں گی اور یہ دونوں دوسرے گروہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تَبٰـرَکَ اسْمُ رَبِّـکَ ذِی الْجَلٰـلِ وَالْاِکْرَامِ ۔ (الجن : 78) (بڑا ہی بابرکت ہے نام تیرے عظمت والے اور سزاوارِ تکریم رب کا۔ ) خاتمہ سورة آخری آیت میں فرمایا کہ تیرے رب کا نام بڑی برکت والا ہے اور وہ اپنی ذات میں جلیل و کریم بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اہل جنت کے لیے جتنے انعامات اور جس قدر نعمتوں کا ذکر کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی برکت کا اظہار ہے۔ اور جہاں اس نے دین کے دشمنوں اور مخالفین کے لیے سزائوں کا ذکر کیا ہے وہ اس کی عظمت کا اظہار ہے۔ اور آیات ترجیع میں بار بار جو اس نے کفار اور مشرکین کو توجہ دلانے کا قصد فرمایا ہے یہ اس کی کرامت، اس کے شرف اور اس کی عزت کا اظہار ہے۔ ورنہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد اس سورت کا اختتام اپنے مبارک نام اور جلال واکرام کے ذکر پر کیا ہے تاکہ لوگ اپنے رب کی قدرتوں، نعمتوں اور اس کے جلال کو یاد رکھیں۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو صحیح فکر اور راستے کی نشان دہی کرتا ہے۔ (وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا) (الاعراف : 180) ” اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے، ہیں سو اسے انہی ناموں کے ساتھ پکاراکرو۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً قَالَ لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ماءَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا یَحْفَظُہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

78 : تَبٰرَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ (بڑا بابرکت نام ہے آپ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا ہے) ذی الجلالؔ عظمت والا ہے۔ قراءت : شامی نے ذوالجلال پڑھا اور اسم کی صفت قرار دیا۔ الاکرامؔ احسان کرنے والا اپنے دوستوں پر انعامات کے ذریعہ۔ : جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سورة رحمان پڑھی۔ پھر فرمایا میں تمہیں خاموش کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ جنات نے تم سے زیادہ خوبصورت جواب دیا۔ جب میں فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ پر پہنچا تو وہ پکار اٹھے۔ ہم اپنے رب کی کسی نعمت کو بھی نہیں جھٹلاتے اے اللہ آپ کا شکر اور تمام تعریفیں آپ کے لائق ہیں۔ رواہ حاکم فی المستدرک 2/473۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

78۔ ترمذی 3 ؎ اور مستدرک حاکم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان کو لازم ہے کہ یا ذالجلال والا کرام کا وظیفہ کبھی نہ چھوڑے۔ صحیح 4 ؎ مسلم میں ثوبان سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال و الاکرم۔ معنی ان دونوں ناموں کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب عظمت ہے اس کی عظمت کے آگے کسی طرح بزرگی کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس واسطے اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا اور جو باتیں اللہ کی ذات کے لائق نہیں ہیں ان سے اللہ کی پاکی اور اکرام بندوں کو لازم ہے۔ (3 ؎ جامع ترمذی آخر ابواب الدعوات ص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی ہے اور بہت زیادہ ہے وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیا کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–78

کھجور اور انار پھلوں میں شامل نہیں قول باری ہے (فیھما فاکھۃ ونخل ورمان اور ان دونوں میں میوے ہوں گے اور خرمے اور انار) آیت سے امام ابوحنیفہ کے قول کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے کہ کھجور اور انار میوئوں میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ایک چیز کو اس کی ذات پر عطف نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے غیر پر عطف کیا جاتا ہے۔ ظاہر کلام اور اس کا مفہوم تو یہی ہے۔ البتہ اگر کوئی دلالت قائم ہوجائے جو اس بات کی نشاندہی کردے کہ معطوف اگرچہ معطوف علیہ کے جنس میں سے تھا لیکن اسے کسی خصوصیت یا عظمت وغیرہ کی بنا پر عطف کی صورت میں الگ سے بیان کیا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (من کان عدوا اللہ وملئکۃ ورسلہ وجبرئیل و میکالی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 61] اللہ تعالیٰ کا نام بڑا ہی برکت والا ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑا ہی برکت والا ہے نام تمہارے رب کا، سو جب اس کا نام اس قدر برکت والا ہے تو پھر خود وہ ذات اقدس و اعلیٰ کس قدر برکت والی ہوگی، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کا اندازہ کرنا بھی کسی بشر کے لئے ممکن نہیں، اور بشر جیسی محدود الادارک مخلوق کے لئے یہ ممکن ہو بھی کس طرح سکتا ہے، پس سچ کہا کہنے والے نے " ماعرف اللّٰہ الا اللّٰہ " یعنی اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی عظمت شان اور جلالت قدر کو اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں جان سکتا، سو برکت دینے والی ذات اسی وحدہ لاشریک کی ذات ہے، پس یہیں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جو لوگ برکت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–78

نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–78

آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 77–78

ف 5 حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نماز سے لام پھیرن کے بعد صرف اتنی دیر (قبلہ رخ ہو کر) بیٹھتے تھے جتنی دیر میں آپ زبان سے یہ الفاظ ادا فرماتے : الھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام اے اللہ ! تو ہے سلامتی والا اور سلامتی دینے والا اے بزرگی و برتری کے مالک ! تو بابرکت ہے۔ ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:78) تبارک۔ وہ بہت بڑا برکت والا ہے۔ تبارک سے جس کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس فعل کی گردان نہیں آتی۔ صرف ماضی کا ایک صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہے۔ اسم ربک۔ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ اسم مضاف کا ۔ تیرے رب کا نام۔ ذی الجلا مضاف مضاف الیہ ۔ ذوا بمعنی والا۔ صاحب، اسم ہے اس کے ذریعہ اسمائے اجناس و انواع سے موسوم کیا جاتا ہے اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے۔ یعنی ان چھ اسموں میں سے ہے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو رفع کی حالت میں واؤ زبر کی حالت میں الف اور زیر کی حالت میں ی آتی ہے جیسے ذا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–78

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–78

قیامت کے انکار کا جواب۔ (ف 1) نہایت بزرگ بابرکت نام ہے تیرے رب کا جوصاحب بزرگی ومہربانی کا ہے ان بندو پر جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسول کا حکم بخوشی بجالاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 77–78

[16] اگرچہ یہ دو باغ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے پہلے دو باغوں کے ساتھ فی الجملہ اشتراک رکھتے ہیں لیکن ان کا درجے میں فروتر ہونا صاف ظاہر ہے۔ مثلاً پہلے دو باغ کی حوروں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ ایسی خوبصورت ہوں گی جیسے ہیرے اور موتی لیکن ان دو باغوں کی حوروں کے بارے میں صرف خوبصورت کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ اس طرح پہلے دو باغوں کے پھلوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ان میں ہر طرح کے پھلوں کی دو قسمیں ہوں گی۔ لیکن ان دو باغوں کے لئے من کل فاکھۃ کی بجائے صرف فاکھۃ فرمایا گیا ہے۔ وضاحت سورة رحمن کے تیسرے رکوع میں دو دو جنتوں کے جن جوڑوں کا ذکر ہے ان کے بارے میں یہ رائے تو مشہور اور معروف ہے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–78

ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔ حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(78) اے پیغمبر آق کے پروردگار کا نام بڑا بابرکت ہے جو عظمت والا احسان والا ہے - یعنی آپ کا پروردگار جو عظمت و جلال اور اکرام و انعام کا صاحب ہے اس کا نام بڑا بابرکت اور بڑاعظیم الشان ہے چونکہ اس سورت میں بعض جگہ قیامت اور جہنم کے عذاب کا بھی ذکر آیا ہے جو بظاہر نعمت نہیں معلوم ہوتا اگرچہ ہم شروع میں ہی عرض کرچکے ہیں کہ عذاب کا ذکر بھی اس جہت سے کہ وہ موجب ہدایت ہے اور اس رہنمائی حاصل ہوتی ہے اور عذاب کی باتیں سن کر انسان کو کفر سے نفرت اور بےرغبتی ہوتی ہے اس لئے وہ بھی نعمت ہے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر آیت نعمت جتائی کوئی آپ نصیحت ہے اور کسی کی خبر دینی نعمت ہے تا اس سے بچیں۔ تم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–78

ف 4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بڑا ہی بابرکت ہے آپ ﷺ کے رب کا نام جو صاحب جلال و عظمت ہے 87۔ (تبارک) وہ بہت برکت والا ہے۔ وہ بڑی برکت والا ہے (تبارک) سے جس کے معنی بابرکت ہونے سے ہیں ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس فعل کی گردان نہیں آتی اور صرف ماضی کا ایک صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے آتا ہے اس لیے بعض لوگ اس کو اسم فعل بتاتے ہیں۔ (تبارک) کا لفظ قرآن کریم میں 9 بار استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بولا گیا ہے ، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : (1) الا الہ الخلق والا مرتبرک اللہ رب العلمین) (الا عراف 7 : 45) ” یاد رکھو اسی کے لیے پیدا کرنا ہے اور اسی کے لیے حکم دینا سو کیا ہی بابرکت ذات ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

تَبَارَ‌كَ اسْمُ رَ‌بِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَ‌امِ (Glorious is the name of your Lord, the Lord of Majesty, the Lord of Honor....55:78) Surah Ar-Rahman is replete with verses that call attention to Allah's blessings, boons and bounties, and His favors upon man. In conclusion, this verse has been appended as a synopsis: What can one say about the Pure Being? Even His Name is Glorious. All Divine boons and bounties subsist by virtue of His Name. Allah, the Pure and the Most High, knows best!

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–78

52 The word abqari in the original is from abqar. the capital city of the jinn in the legends of the pre-Islamic Arabia. It was on that account that the Arabs called every fine and rare thing abqari as if it belonged to the fairyland and had no match in the material world. So mach so that in their idiom the man who possessed extraordinary abilities and who performed wonderful works was also called abqari The English word genius also is spoken in the same sense and is also derived from genii which is a synonym of jinn. That is why the word abqari; has been used here to give an idea of the…

Read the full tafseer →