55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsسراج البیان

Ayahs 55:1–4

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

رحمن نے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

قرآن سکھلالیا

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

آدمی کو پیدا کیا

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اے بولنا (ف 1) سکھایا

سورة الرحمن 1: جیسا کہ سورة کے نام ظے ظاہر ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے فیوض رحمت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ اور انسانی ذہن وفکر کو متوجہ کیا ہے ۔ کہ اللہ کے بوقلمون انعامات پر نظر رکھے ۔ اور اس کی شان رحمانیت کو سارے عالم میں جلوہ دیکھے ۔ فرمایا : کہ اس فیوض میں سے سب سے بڑا فیض قرآن ہے ۔ جس کی روشنی اور برکات سے کائنات عقل وخرد میں توازن قائم ہے ۔ اس نے جب انسان کو پیدا کیا ۔ اور اس کو قوت گویائی سے بہرہ مند کیا ۔ تو مقصد یہی تھا ۔ کہ یہ اللہ کے پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچائے ۔ اس اعلیٰ فیض سے سارے عالم کو مشرف کرلے ۔ اور بیان اظہار کی قوتوں کو اس کی تفصیلات کی اشاعت کے لئے وقف کردیئے ۔ حل لغات :۔ بحسبان ۔ یعنی سورج اور چان کی حرکت کے انداز مقرر ہیں یسجدان ۔ سجدہ کے بمعنے نذقل اور اظہار عجز کے ہوتے ہیں ۔ یہاں یہ مقصود ہے کہ بوٹیاں اور بڑے بڑے تناور درخت بھی اللہ کے حکام کے تابع ہیں ۔ جس طرح انسانوں کے لئے ایک شریعت ہے ۔ اسی طرح ان کے لئے بھی ایک قانون طبعی مقدار اور معین ہے جس کی اطاعت ان پر فرض ہے ۔
Ayahs 55:5–16

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند کو ایک حساب ہے

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بوٹیاں اور درخت سجدہ میں مشغول ہیں

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور آسمان کو بلند کیا اور ترازو نیچی رکھی

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

تاکہ تم ترازو میں زیادتی نہ کرو

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ سیدھی تول تولو اور ترازو میں کم نہ تولو

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور زمین کو خلقت کے لئے نیچے رکھا

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت جن پر خلاف ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور دانہ ہے بھس والا اور خوشبودار پھول

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

پھر تم دونوں (یعنی جن اور آدمی) اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

آدمی کو ٹھیکری جیسی کھنکھارتی (یعنی بجنے والی خشک) مٹی سے پیدا کیا

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنوں کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

پھر (ف 1) تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ (ف 2) گے

جنوں کا وجود 1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل ہوجائے وہ جب بھی یہی کہے جائیں گے ۔ کہ یہ ندوی خرافات ہیں ۔ تکرار کا مقصد 2: اس آیت کو اس سورة میں بار بار بیان کیا گیا ہے ۔ تاکہ یہ حقیقت ذہن انسانی مرتسم ہوجائے ۔ کہ دو صدہا فطرت کے مظاہر جن کو ہم دیکھتے ہیں ۔ اور آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ توجہ طلب ہیں ۔ اور اس قابل ہیں ۔ کہ ان پر نگاہ عبرت اور فکر کے ساتھ غور کیا جائے ۔ عربوں کے ہاں قاعدہ ہے ۔ کہ وہ تثنیہ بول کر عام طور پر جمع مراد لیتے ہیں ۔ جیسے قغاسک من ذکوی حبیب ومنزل میں اس لئے تکذبان سے مراد سب لوگ ہیں ۔
Ayah 55:17

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

دو مشرقوں کا رب ہے اور دو مغربوں (ف 3) کا رب ہے

ف 3: اس تثنیہ سے مراد بھی جمع ہے ۔ یعنی مشارق ومغارب غرض یہ ہے ۔ کہ آفتا کے طلوع اور غروب کے مقامات جو مختلف ہیں ۔ تو اس لئے کہ حرکت میں اختلاف ہے اور وہ یلن مصالح دنیوی کے مطابق ہیں ۔
Ayahs 55:18–19

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

دو (ف 4) دریا چلائے جو ایک دوسرے سے لگ کر چلتے ہیں

ف 4: یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائب میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ دودریاؤں کے مقام اتصال پر یعنی جہاں پانی کے دودھارے ملتے ہیں تو درمیان میں ایک برزخ ساحائل رہتا ہے ۔ اور صاف معلوم ہوتا ہے ۔ کہ صورۃ یہ دو الگ الگ پانی میں ۔ حل لغات :۔ الاء ۔ انی ن جمع ہے ۔ بمعنی نعمتیں ھرج ۔ ملایا ۔ مختلط کیا ۔
Ayahs 55:20–24

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

ان کے درمیان ایک پردہ ہے اور دونوں زیادتی نہیں کرتے (اپنی اپنی حد سے)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے ؟

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

ان دونوں میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے ؟

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور اسی کے اونچے جہاز ہیں جو گہرے دریا میں اس طرح کھڑے ہیں جیسے (ف 1) پہاڑ

ف 1: کشتیوں اور جہازوں کو سطح سمندر پر رواں کرنا یہ بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ وہی ان پہاڑوں کو پانی کے اس اتھاہ ذخیرہ میں ڈال دیتا ہے ۔ اور وہی ان پہاڑوں کی طرح بلند جہازوں کو سطح آب پر چلنے دیتا ہے ۔
Ayahs 55:25–27

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے ؟

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

اور جو کوئی زمین پر ہے فانی ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور تیرے رب کی ذات باقی رہ جائیگی ۔ یہی بزرگی اور عظمت (ف 2) والی ہے

ف 2: اس حقیقت کا بیان ہے ۔ کہ روئے زمین پر جو کچھ ہے ۔ وہ سب مٹنے کو ہے ۔ سب روبزدال ہے ۔ سب فنا کے گھاٹ اترنے والا ہے ۔ سب کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہے ۔ سب کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور سب کو اس دارالقرار سے دارالبقاء کی جانب جانا ہے ۔ بجز جلال و تکریم کے مالک کے ۔ کہ وہ باقی ہے ۔ حی وقیوم ہے ۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ۔
Ayahs 55:28–29

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے ؟

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے ۔ اسی سے مانگتے ہیں ۔ ہر روز وہ ایک نئی (ف 3) شان میں ہے

ف 3: کل یوم ھوفی شان سے غرض یہ ہے کہ خدا کائنات کے نظم ونسق ، تخلیق وترتیب احیاء واماتت میں برابر لگارہتا ہے ۔ اور باوجود اس کے جو کچھ ہوتا ہے ۔ وہ مرتبہ علمی میں سب کچھ متعین ہے ۔ پھر بھی جہاں تک فعل کا تعلق ہے ۔ وہ براہ راست ہر چیز پر قادر ہے ۔ اور بقول حکماء کے فارغ نہیں ہے ۔ حل لغات :۔ برزخ ۔ آڑ ۔ پردہ اللوء لو ۔ موتی المرجان ۔ مونگا الجوار ۔ کشتیاں شان ۔ کیفیت ۔ حال ۔ کام ۔
Ayahs 55:30–31

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے آدمیوں اور جنوں ہم تمہارے لئے جلد (ف 1) فارغ ہونگے

ف 1: یعنی اس عالم فنا کے کاروبار ختم ہونے والے ہیں ۔ اور اس کے بعد ہم تمہاری جانب متوجہ ہوں گے اور تم سے پوچھیں گے ۔ کہ تم نے اس زندگی میں کیا کیا ہے ؟ تم باوجود اپنی طاقت وقوت کے ہمارے قبضہ اقتدار میں ہو ۔ اور اگر تم چاہو بھی ۔ کہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ۔ تو کیا یہ ممکن ہے ؟ پھر کیوں نہیں سوچتے ؟
Ayahs 55:32–37

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے جنوں اور آدمیوں کی قوم اگر تم سے ہوسکے تو آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل بھاگو ۔ تو نکل کر بھاگ دیکھو ، تم بن غلبہ کے بھاگ نہیں سکتے ۔ اور وہ غلبہ تم میں ہے نہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم دونوں پر آگ کے صاف شعلے اور دھواں بھیجا جائے گا اور تم دونوں کچھ بدلہ نہیں لے سکو گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب آسمان پھٹ جائے گا ۔ تو گلابی رنگ کا ہوجائیگا جیسے سرخ نری

سرخ تلچھٹ کی طرح 1: فرمایا : کہ یہ زرنگار سقف ، ازرق زواہ ایک وقت آئے گا ۔ کہ آگ کے شعلے اس کو زیتون کی سرخ تلچھٹ کی طرح تپادیں گے ۔ یہ دنیا نجوم وکواکب تیرگی فنا میں گم ہوجائے گی ۔ اور یہ سارا عالم رنگ وبو مٹ جائے گا ۔ پھر ایک وقت آئے گا ۔ جب دوبارہ بساط کون بچھادی جائے گی ۔ اور جن وانس کو کشاں کشاں حی وقیوم خدا کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ اور ان سب لوگوں کو سزا دی جائیگی ۔ جو اس کو نہیں مانتے تھے ۔ جو خواہشات نفس کی تکمیل میں سرگرداں رہتے تھے ۔ جن کی زندگی نصب العین محض یہ تھا ۔ کہ دولت اکٹھی کریں ۔ دنیا کی آسائشوں اور آسودگیوں کو سمیٹ لیں ۔ اور ہر نوع کی لذت سے کلام دوہن کی تواضع کریں ۔ جو مادیت میں قرق تھے ۔ اور جنہوں نے بھول کر بھی کبھی اندر کی طرف جھانکا ۔ اور نہیں دیکھا کہ ان کی روتی ضروریات کیا ہیں ۔ حل لغات :۔ شواظ ۔ شعلہ ، آتش ۔
Ayahs 55:38–39

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

پھر اس (ف 1) دن آدمی اور جن سے اس کے گناہ کی بابت سوال نہ ہوگا

ف 1: لائیسئل سے مراد یہ ہے ۔ کہ بنظر عفو وکرم ان سے سوال نہیں کیا جائیگا ۔ بلکہ زعبود توبیخ کے انداز میں ڈانٹ ڈپٹ کر پوچھا جائیگا کہ دنیا میں تم نے کیوں ہماری نافرمانی کی ۔ اور کیوں ہماری ناراض کو خریدا ۔ کیا تمہیں ڈر نہیں معلوم ہوتا تھا ۔ اور گناہوں کے ارتکاب کے وقت کانپ نہیں جاتے تھے ۔