55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 55:1

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

وہ رحمن ہے

رحمٰن کیا ہے ؟ اللہ رب ذوالجلال والا کرام ہی تو ہے 1۔ (رحمن) اللہ تعالیٰ کے ان صفاتی ناموں میں سے جو کسی دوسرے شخص وفرد کے لیے نہیں بولے جاتے بلکہ جس طرح اللہ کا ذاتی نام صرف اور صرف رب کریم کیلئے مخصوص ہے اسی طرح (الرحمن) بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ ہم سورة الفرقان کی آیت 60 میں اس بات کی بحث کر آئے ہیں کہ مشرکین مکہ (الرحمن) کے نام سے الرجک (Allergic) تھے اور جب ان کو کہا گیا کہ (الرحمن) کے لیے سجدہ کرو تو وہ نفرت سے بول اٹھے کہ تعجب ہے تجھ پر کہ اب یہ (الرحمن) تو نے کہاں سے نکال لیا ہے جس کو ہم سجدہ کریں ؟ کیا جس کا نام لے کر تو ہم کو سجدہ کا حکم دے ہم اسی کو سجدہ شروع کردیں ؟ ان کو بتایا گیا کہ تم ” اللہ “ کہویا (الرحمن) کہہ کر پکا رویہ اللہ تعالیٰ ہی کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے اور اللہ تعالیٰ کے سارے نام ہی اچھے ہیں اس لیے تم کسی نام سے بھی اس کو پکار سکتے ہو اس کی وضاحت غزوۃ الوثقٰی جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 110 میں ملے گی۔ چونکہ (الرحمن) کے نام سے مکہ والوں نے تعجب کا اظہار کیا تھا اور یہ اظہار کرنے والے مشرکین مکہ ہی تھے جیسا کہ جلد ششم سورة الفرقان میں ہم نے بیان کردیا ہے۔ اور پھر ان کے اس اظہار تعجب کے بعد مکی سورتوں میں خاص کر (الرحمن) کے نام ہی سے اللہ تعالیٰ کا ذکر زیادہ تر کیا جانے لگا اگرچہ مدنی سورتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہ نام آیا ہے لیکن بہت کم۔ زیادہ تر مکی سورتوں میں اور خصوصاً ان سورتوں میں جو ان کے اظہار تعجب کے بعد نازل ہوئیں۔ جس سے ہم کو یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جو کام یا جو بات صحیح اور درست ہو اور دین اسلام کے متعلق ہو وہ کسی کی چڑ کے باعث چھوڑ نہیں دینی چاہئے بلکہ اس صحیح اور درست کام یا بات کو ضرور کرنا چاہئے کیونکہ وہ دین اسلام کے متعلق ہے تاکہ ناجائز چڑ کرنے والوں کی چڑ ختم ہوجائے بشرطیکہ وہ بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی ہو نہ کہ رسم و رواج کی۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نے رسم و رواج کو وہ اہمیت دی جو دین اسلام کے کاموں اور باتوں کو دینی چاہئے تھی اور دین اسلام کے متعلق باتوں یا کاموں کو وہ اہمیت بھی نہ دی جو رسم و رواج کو دے رہے ہیں۔ اس طرح گویا ہمارا ہر کام دین اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں سے الگ ہو کر رہ گیا اور پھر صرف الگ ہی نہیں بلکہ مخالف ، کہ جو کرنے کا حکم ہے اس کو ہم کرنے کے لیے بخوشی تیار نہیں اور جس کے نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کو ہم چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آج کل یہی ایک ہمارے پکا مسلمان ہونے کی نشانی ہے اور خصوصاً اہلسنت والجماعت ہونے کی۔ اللہ تعالیٰ ہم کو حقیقت کے سمجھنے کی توفیق دے اور سیدھی راہ اختیار کرنے اور اسی طرح پر چلتے رہنے کی توفیق بخشے۔ (الرحمن) بہت ہی مہربان ، بہت ہی بخشش کرنے والا چونکہ اس لفظ کے معنی بجزذات باری کے اور کسی پر صادق نہیں آتے کیونکہ اس کی رحمت سب پر عام ہے۔ اس لیے سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کے لیے اس لفظ کا استعمال نہیں ہوتا۔ علماء عربیت کا اس میں اختلاف ہے کہ (الرحمن) عربی زبان کا لفظ ہے یا نہیں اور عربی ہونے کی صورت میں یہ مشتق ہے یا غیر مشتق ؟ مبرد اور ثعلب جو لغت عربیت کے امام ہیں اسی طرف گئے ہیں کہ یہ عبرانی لفظ ہے اور اس کی اصل حاء معجمہ سے ہے۔ (الاتقان ج اول ص 139 امام خطابی (رح) لکھتے ہیں : رحمن کی تفسیر اور اس کے معنی میں کہ وہ رحمتہ سے مشتق ہے یا نہیں ؟ لوگوں کا اختلاف ہے بعض اس طرف گئے ہیں کہ یہ غیر مشتق ہے کیونکہ اگر یہ رحمتہ سے مشتق ہوتا تو مرحوم کے ذکر کے ساتھ آتا اور جس طرح کہ رحیم لعبادہ کہا جاتا ہے رحمن لعبادہ کہنا جائز ہوتا۔ نیز اس لیے کہ اگر رحمتہ سے مشتق ہوتا تو عرب سنتے ہی اس کا انکار نہ کرتے کیونکہ وہ رحمت پروردگار کے منکرنہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :..................” جب ان کو کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمن کیا ہے ؟ کیا تو جس کو کہے گا ہم سجدہ اس کو کریں گے۔ اس طرح ان کی نفرت میں اور زیادتی ہوجاتی ہے۔ “ اور بعض نے یہ خیال کیا ہے کہ یہ عبرانی نام ہے اور جمہور اس طرح گئے ہیں کہ یہ رحمتہ سے مشتق ہے اور مبالغہ پر مبنی ہے۔ اس کے معنی رحمت والے کے ہیں لیکن اس سلسلہ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ جس طرح رحیم کا تثنیہ اور جمع آتا ہے اس کا تثنیہ اور جمع نہیں آتا۔ (فعلان) کا وزن کلام عرب میں مبالغہ کا وزن ہے۔ چناچہ شدید الامتلاء کو ملان اور خوب پیٹ بھرے کو شبعان کہتے ہیں۔ (کتاب الاسماء والصفات ، امام بیہقی ص 27 طبع انوار احمد ، الہ آباد) جو لوگ رحمن کو رحمتہ سے مشتق بتاتے ہیں و رحمن اور رحیم میں نہایت دقیق اور نازک فرق بیان کرتے ہیں۔ چناچہ ابن حجر عسقلانی (رح) لکھتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے کہ آیا رحمن اور رحیم ایک ہی معنی رکھتے ہیں جس طرح کہہ ندمان اور ندیم کے ہیں۔ اور ان دونوں کو جو ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے تو وہ تاکید کے لیے ہے یا باعتبار تعلق دونوں میں باہم مغائرت ہے۔ پس رحمن ہے دنیا کے لیے اور رحیم ہے آخرت کے لے کیونکہ دنیا میں اس کی رحمت مومن و کافر سب کے لیے عام ہے اور آخرت میں مومن کے ساتھ مخصوص ہے یا مغائرت کسی اور جہت سے ہے کہ رحمن تو اس حیثیت سے زیادہ بلیغ ہے۔ کہ وہ بڑی بڑی نعمتوں اور ان کے اصول پر مشتمل ہے جیسے کوئی غضب میں بھرا ہو تو اسے غضبان کہتے ہیں اور رحیم کو اس کے بعد ہی اس لیے لایا گیا کہ بطور تتمہ ہو کر چھوٹی نعمتوں کو شامل ہوجائے اور بعض کا قول ہے کہ رحیم زیادہ بلیغ ہے کیونکہ فعل کا صیغہ مبالغہ کا مقتضی ہے اور تحقیق یہ ہے کہ مبالغہ کی جہت دونوں میں مختلف ہے۔ (فتح الباری ج 8 ص 118 طبع میریہ مصر) بہرحال یہ واقعہ ہے کہ خدا کے لیے رحمن کا لفظ اسلام سے پہلے عام طور پر عربوں میں مستعمل نہ تھا اور صرف یہود ونصاریٰ اور بعض دیگر ارباب مذاہب اس کو بولتے تھے چناچہ نجد کے آخری کتبات میں رحمن ہی کا نام ملتا ہے۔ سدوم کے عیسائی کتبہ کا آغاز بنعمۃ الرحمن الرحیم سے ہوتا ہے۔ اس لیے اسلام نے جب ابتداء رحمن کا نام لیا تو قریش کو اچنبھا ہوا کہ یہ کون سا نیا نام ہے ؟ صلح حدیبیہ میں جب علی ؓ نے عہد نامہ کی پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا تو قریش نے ماننے سے انکار کردیا کہ ہم رحمن کو نہیں مانتے۔ (ارض القرآن جلد دوم میں 239 طبع معارف پریس اعظم گڑھ) ” رحمن کو رحیم پر اس لیے مقدم کیا گیا ہے کہ رحمن اللہ تعالیٰ کا اسم خاص ہے اور رحیم اسم مشترک ہے کیونکہ رجل رحیم بولتے ہیں مگر رجل رحمن نہیں بولتے اس لیے خاص کو عام پر مقدم کیا گیا ہے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رحمن اور رحیم دو ایسے اسم ہیں جن میں رقت کے معنی ہیں اور ایک میں بنسبت دوسرے کے رقت کا مفہوم زیادہ ہے اور دوسروں کا بیان ہے کہ رحمن میں مدح زیادہ ہے اور رحیم میں رقت زیادہ ہے۔ پس رحیم لطیف کی طرح ہے اور ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ رحیم و رحمن دونوں نعمتیں ہیں پس رحیم رحمتہ سے ہے یعنی برزون فعیل اور رحمن بروزن فعلان ہے۔ اور یہ اسی بنا پر ہے کہ اہل عرب کے نزدیک زبان میں وسعت ہے۔ جیسے ندیم اور ندمان کے ایک ہی معنی ہیں جیسا کہ کہا گیا ہے۔ اگرچہ یہ دونوں اسم رحمت سے ہیں لیکن رحمت کے دو مختلف پہلوئوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ عربی میں فعلان کا باب عموماً ایسی صفات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو محض صفات عارضہ ہوتے ہیں فعلی ظہور ان کے لیے ضروری نہیں ہوتا جیسے پیاسے کے لیے عطشان۔ غضب ناک کے لیے غضبان اور سراسیمہ وحیران و پریشان کے لیے حیران۔ مست کے لیے سکران ، لیکن فیعل کے وزن میں صفات قائمہ وفاصلہ کا خاصہ ہے یعنی عموماً ایسی صفات کے لیے بولا جاتا ہے جو جذبات و عوارض ہونے کی جگہ صفات قائمہ ہوتے ہیں اور اپنا فعل ظہور بھی رکھتے ہیں مثلاً کریم کرم کرنے والا عظیم بڑائی رکھنے والا پس (الرحمن) کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ذات جس میں رحمت اور (الرحیم) کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ذات جس میں نہ صرف رحمت ہے بلکہ جس کی رحمت اپنا فعلی ظہور بھی رکھتی ہے اور تمام کائنات اس سے فیض یاب ہو رہی ہیں۔ “ (ترجمان القرآن ج اول صف 39) شاہ عبدالعزیز صاحب (رح) رقمطراز ہیں کہ ” باید دانست کہ ازلوازم پرورش دو قسم رحمت است۔ قسم اول رحمتے کہ درعین پرورش می باشدو آن رحمت اگر نباشد پرورش متصور نشود حقیقت آن رحمت توجہ نام بدفع حاجات پروردہ خود و تعہد ضروریات اوزر ہر وقت وتفقد بایست ونابایست اودرہر آن ستاوازیں رحمت باسم رحمان تعمیر فرمودہ اندوقسم دوم از رحمت آنست کہ بعد ازپرورش بحصول کمال ثمرات آن کمال رامترتب فرمایندواں کمال را رائیگاں سازند وازیں رحمت تعبیر فرمودہ اندبرحیم۔ “ (تفسیرفتح العزیز ص 2 طبع محمدیہ 1264 ھ) مختصریہ کہ یہ سب نکتہ سنجیاں اس بنیاد پر ہیں کہ رحمن کا اشتقاق رحمت سے ہے اور وہ عربی زبان کا لفظ ہے ورنہ اگر اس کو عبرانی لفظ مان لیا جائے تو پھر کسی دقیقہ سنجی کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس صورت میں یہ لفظ اللہ کی لوح ذات باری کا حکم ہوگا۔ قرآن کریم میں سوائے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے یہ لفظ تریپن جگہ مذکور ہے اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا استعمال بطور صفت نہیں بلکہ بطور علم ہوا ہے۔
Ayah 55:2

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

(جس نے) قرآن کی تعلیم دی

جس نے قرآن کریم کی تعلیم دی 2۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اگر شمار کرنا چاہیں تو شمار نہیں کرسکتے لیکن مسلمانوں کے لیے اس کی ساری نعمتوں سے ارفع و اعلیٰ نعمت قرآن کریم کی ہے اور لاریب جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی تعلیم سے نوازا اس پر بہت بڑا احسان کیا گیا کیونکہ یہی وہ آفتاب ہے کہ جب مطلع حیات پر طلوع ہوتا ہے تو زندگی کی شب ویجور صبح سعادت سے آشنا ہوتی ہے۔ انسان جب اس کی ہدایت کو خضر راہ بناتا ہے تو شرف انسانی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے اس سے انسان کی دنیوی زندگی سنورتی ہے اور اس سے آخرت کی زندگی درست ہوتی ہے۔ یہی وہ کتاب ہے کہ جو تھیوری (Theory) نظام کائنات کی ہے اس میں وہ اشارات واستعارات بیان کیے گئے ہیں جن کی وضاحت سائنسی علوم کر رہے ہیں اور ابھی قیامت تک کرتے رہیں گے۔ آپ غور کریں گے تو ایک سائنس دان کی مثال آپ ایک ٹھیٹ زبان بولنے والے سے دے سکتے ہیں۔ کہ وہ جو زبان بھی بولتا ہے بولنے میں وہ بالکل صحیح اور درست ہوتا ہے لیکن اس کو قطعاً یہ معلوم نہیں کہ از روئے گرائمر وہ کیا وہ بول رہا ہے اور جو اس نے بولا گرائمر کے لحاظ سے کتنے قواعد و ضوابط ہیں جن کی اس نے پوری پوری ترجمانی کردی ہے۔ یہی حال ایک سائنسدان کا ہے کہ اس نے جو دریافت کیا اور جس کی تلاش اس نے کی ہے اس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ قرآن کریم کے کس اشارہ واستعارہ کی وضاحت ہے۔ اگر ایک سائنسدان اسلامی اصولوں سے پوری پرح آشنا ہوتا وہ سائنسی علوم میں جو ترقی بھی کرتا اس کو معلوم ہوتا کہ وہ قرآن کریم کے کونسے اشارات و استعارات کی وضاحت کر رہا ہے تو لاریب وہ ایمان میں پختہ اور کامل ہوجاتا اور وہ دین و دنیا کی بھلائیاں اکٹھی کرلیتا۔ لیکن افسوس کہ ایک سائنس دان اور علوم قرآنی سے واقفیت رکھنے والے کے درمیان اتنا بعد ہوگیا کہ اب ان دونوں کے اکٹھا ہونے کی بظاہر کوئی صورت ہی نظر نہیں آتی اور دونوں ایک دوسرے کو جاہل اور بیوقوف جانتے اور سمجھتے ہیں اور جب تک ان دونوں کی ایک ایک آنکھ نکال نہیں دی جائیگی۔ جس آنکھ سے وہ دونوں ایک دوسرے کو جاہل اور بیوقوف جانتے ہیں اس وقت تک ان دونوں کی جنگ جاری رہیگی لیکن ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر ان دونوں کی جنگ جاری رہی تو بھی ایک نہ ایک روز کوئی تیسرا طبقہ پیدا ہوجائے گا جو ان دونوں کی مثبت آنکھ کو لے لے گا اور منفی کو چھوڑ دے گا اور آہستہ آہستہ حالات اس طرف جا رہے ہیں کہ اب وہ طبقہ پیدا ہورہا ہے تاکہ یہ خلا پُر ہوسکے اور فطرت یقیناً اس کو ُ پر کریگی۔ (علم) دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے یعنی کیا سکھایا اور اس کو سکھایا ؟ ان میں سے ایک مفعول تو ذکر کردیا کہ قرآن کریم سکھایا لیکن دوسرا مفعول کہ کس کو سکھایا ، کس کو تعلیم دی ، ذکر نہیں کیا ، کیوں ؟ اس لیے کہ دوسرا مفعول اتنا عیاں ہے کہ عدم ذکر کے باوجود کسی کو اس کے متعلق یہ تردد نہیں کہ وہ کون ہے ؟ سب کو معلوم ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں گویا دونوں آیات کے ان تینوں الفاظ کو جب ملا کر پڑھا جائیگا تو واضح ہوجائیگا کہ سکھانے والا الرحمن یعنی اللہ تعالیٰ ہے اور جو سکھایا گیا وہ قرآن کریم ہے اور جس کو سکھایا گیا وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہے اور اس طرح اس کی وضاحت خود بخود ہوگئی کہ یہ قرآن کریم محمد رسول اللہ ﷺ کا اپنا بنایا ہوا اور گھڑا ہو کلام نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے جو اس نے محض اس لیے نازل فرمایا ہے کہ وہ مخلوق کی صحیح صحیح راہنمائی کرے اور ظاہر ہے کہ صحیح راہنمائی اس سے زیادہ کوئی نہیں کرسکتا جو خود خالق ہو اور خالق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کے سوا اور کوئی خالق نہیں ہے۔ ایک بار پھر غور کرو کہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے تو پھر یہ کائنات بھی اللہ تعالیٰ ہی کا فعل نہیں ہے ؟ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اور کائنات اللہ کا فعل یعنی کام ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے کلام اور کام میں کیسے تضاد مانایا تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار یہ عرض کرتے چلے آرہے ہیں کہ سائنس اور قرآن کریم کبھی آپس میں متضاد چیزیں نہیں ہوست کے بلکہ دونوں میں ہم آہنگی موجود ہے جہاں کہیں ان دونوں میں تضاد نظرآئے گا۔ تو وہ بیان کرنے والے کی غلطی سے ہوگا خواہ وہ قرآن کریم کے بیان کرنے والے کی غلطی سے ہوا یا سائنس کے بیان کرنے والے کی غلطی سے بہرحال دونوں میں سے کسی ایک کی غلطی ہوسکتی ہے۔ فی نفسہ دونوں میں تضاد ممکن نہیں۔ اگر آپ کو اس بات کا پختہ یقین ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ پیدا ہوا ہے سب اللہ رب ذوالجلال والا کرام ہی کی پیدائش ہے تو پھر سائنس کیا ہے ؟ انہی اشیاء کائنات کا آپس میں جوڑ اور میل پھر جن اشیاء میں اللہ تعالیٰ نے جوڑ اور میل کی صلاحیت رکھی ہے جب ان ہی میں جوڑ اور میل ہوسکتا ہے باقی میں ممکن ہی نہیں اور پھر تخلیق انسان کا آپس میں جوڑ اور میل جو فطرت اور دین فطرت کے عین مطابق ہے اس کا فاعل حقیقی کون ہوا ؟ اللہ رب ذوالجلال والا کرام۔ جس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کی راہنمائی کے لیے قرآن کریم جیسی کتاب کو نازل کیا جو آج تک راہنمائی کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا جب تک کہ یہ تخلیق خداوندی اس کائنات میں موجود ہے۔
Ayah 55:3

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

(اس نے) انسان کو پیدا کیا

اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کو پیدا کیا 3۔ لاریب اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا اصل شاہکار انسان ہی ہے ایک تو اس لیے کہ وہ اشرف المخلوق ہے اور صاحب ارادہ اور اختیار بھی ہے۔ قرآن کریم نے انسانی پیدائش کے مختلف احوال و مراتب پر بار بار توجہ دلائی ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور بعثت یعنی بعث بعدالموت کے وقوع پر استشہاد کیا ہے اور ان کو چھ مراتب میں تقسیم کرکے بھی بتایا ہے کہ پہلا مرحلہ نطفہ ہے ، دوسرا علقہ کا ، تیسرا مضفہ کا ، چوتھا المضغتہ عظاماً کا ، پانچواں ہڈیوں کو گوشت پہنانے کا اور چھٹا خلقاً اخر کا جس میں ایسا انقلاب طارق ہوجاتا ہے۔ کہ وہ بالکل ایک دوسری ہی طرح کی خلقت ظہور میں آجاتی ہے گویا پہلے مرتبہ سے مرتبہ پانچ تک جنین کی جو حالتیں رہیں اور جس نوعیت کی مخلوق بنتی رہی وہ کوئی دوسری ہی طرح کی مخلوق تھی جس کی کوئی تعبیر نہیں بیان کی گئی کیونکہ یہ جو کچھ ہوا وہ ایک طرح سے پردہ راز ہی میں تھا اور اب اس چھٹے مرتبہ میں آکر بالکل ایک دوسری نوعیت کی چیز نمایاں ہوگئی اس کی وضاحت چونکہ ہم پیچھے سورة الحج آیت 5 ، سورة المومنون کی آیت 11 تا 15 میں بیان کرچکے ہیں ملاحظہ ہو غزوۃ الوثقٰی جلد ششم میں دونوں سورتوں کی محولہ آیات کریمات اور اس الانسان سے مراد جنس انسان ہی ہے جس میں سارے انسان داخل ہیں۔
Ayah 55:4

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اس (اللہ) نے اس (انسان) کو بولنا سکھایا

اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کو بولنا اور بیان کرنا سکھایا ہے 4۔ انسان کے جسم کے اندر جو قویٰ اللہ تعالیٰ نے دریعت کیے ہیں ان ہی قویٰ میں سے ایک قوت گویائی بھی ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنا مافی الضمیر بیان کرتا ہے ، خیروشر ، بھلائی اور برائی کو سمجھتا اور سمجھاتا ہے۔ ایک تو اس کی مادری زبان کہلاتی ہے جو ماں باپ اور ماحول سے وہ خود بخود ہی سیکھ لیتا ہے اور دوسری زبانیں بھی جتنی اس دنیا کے اندر بولی جاتی ہیں اگر وہ ذرا اس معاملہ میں محنت کرے تو ان کو سیکھ لیتا ہے جتنے علوم اس دنیا میں ایجاد ہوئے ہیں یہ سب کے سب اسی قوت بیانہ ہی کی کرشمہ سازی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کے اندر دوسری صلاحیتیوں کی طرح کم وبیش ودیعت کی ہے اور اس قوت گویائی کی ممدو معاون جو قوتیں ہیں اگر ان کو شمار کرنا شروع کردیں تو ان کا شمار کرنا بھی اتنا آسان نہیں ہے مثلاً عقل و شعور ، فہم وادراک ، تمیزوارادہ ، شعورولاشعور کی بےپناہ صلاحیتیں اس کی معاون پیدا کی گئی ہیں اور ان سب سے کام لے کر انسان کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے اور ابھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچے گا لیکن اس کے اندر جو ہاتھ کام کر رہا ہے وہ ہاتھ قدرت الٰہی ہی کا ہاتھ ہے کہ وہ سارے انسانوں کا خود خالق ہے اور اس نے اس کے اندریہ صلاحیتیں ودیعت کی ہیں اور ان صلاحیتیوں ہی کے لیے وہ اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کے سیکھنے اور سکھانے کا طریقہ بھی دوسرے جانداروں سے بالکل الگ تھلگت ہے۔ فطری تعلیم تو سارے حیوانات میں اگرچہ وہ الگ الگ نوعیت کی ہو بہرحال موجود ہے لیکن قوت گویائی کسی دوسرے حیوان کو اتنی وافرمقدار میں نہیں عطا کی گئی جتنی انسان کو عطا کی گئی ہے اور اشیاء کی جو کہنہ وہ بیان کرتا یا کرسکتا ہے۔ کوئی دوسرا حیوان نہیں کرسکتا اور جو شخص جتنا زیادہ سے زیادہ اس میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کریگا اتنا زیادہ سے زیادہ اس میں ترقی کرتا جائے گا اور اس سلسلہ میں جتنی اس کو آہ اور واہ واہ کی داد دی جائیگی اتنی اس کی صلاحیتیں بڑھتی چلی جائیں گی اور اس سے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار سکتا ہے اگر وہ سنوارنے کی کوشش کرے۔ اس وقت تک دنیا میں ان گنت ایجادات (lnventions) ہوچکی ہیں اور ابھی مزید ہوتی چلی جارہی ہیں ان ایجادات کے نام کس نے رکھے ہیں ؟ اس فطرت انسان ہی نے رکھے ہیں اور انہی کے ذریعہ سے وہ مزید قدم قدم آگے بڑھ رہا ہے۔ اور اسی شعبہ کے باعث وہ استاد ، کتاب ‘ مدرسہ ، تبلیغ وتلقین ، تحریروتقریر اور بحث و استدلال اور وعظ ومناظرہ میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتا رہتا ہے اور یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہے ؟ یہ سب کچھ اس وقت گویائی کی نعمت ہے جس نے انسان کو مالا مال کردیا ہے ، پھر بیان کے یہ اختراعی طریقے اپنی جگہ پر اور قرآن کریم کا بیان جو ایک فطری طریقہ بیان ہے اس کا مقام اپنا ہے بشرطیکہ وہ تاویل سے پاک ہو اور عین بیان کرنے والے کے بیان کے مطابق اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اس کے محاورات ، اشارات ، استعارات اور ضرب الامثال اور دوسرے سارے آداب بیان کو محلوظ خاطر رکھا جائے نہ یہ کہ ان کے لفظی معنی کی مدد سے اس کے مفہوم کو کچھ سے کچھ بنا کر رکھ دیا جائے جیسا کہ عام طور پر قرآن کریم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ (علمہُ ) میں ، ضمیر کا مرجع الانسان ہے اور الانسان میں الف لام جنس کا ہے نہ کہ معرفہ ہے جیسا کہ عام طور پر مفسرین نے سمجھا ہے اور اس سے مراد آدم (علیہ السلام) کی ذات اقدس کو وہ لیتے ہیں اور بعض مفسرین نے نبی اعظم و آخر ﷺ بھی اس سے مراد لیے ہیں لیکن ہمارے نزدیک صحیح مفہوم یہی ہے کہ الانسان سے مراد ساری دنیا کے انسان ہیں ، ساری دنیا کے علوم اور ہر قسم کے علوم مراد ہیں جو انسان کے لیے دین دنیا میں نافع ہیں اگرچہ کلام اللہ کا اطلاق قرآن کریم ہی کے لیے خاص ہے اور قرآن کریم ہی اللہ کا کلام ہے اور یہی کلام اس کا مستحق ہے کہ اس کو اللہ کا کلام کہا جائے۔
Ayah 55:5

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک مقرر حساب کے پابند ہیں

سورج اور چاند ایک مقرر حساب کے پابند ہیں 5۔ (حسبان) حساب ، شمار حسب یحسب کا مصدر ہے۔ دونوں حساب کے کام آتے ہیں ، دونوں اپنے اپنے مدار میں گردش کناں ہیں اور اس طرح نظم وضبط کے پابند ہیں کہ کروڑوں سال گزرنے کے باوجود ان کی آمدورفت میں کبھی ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آیا اور نہ ہی ممکن ہوا ہے جو طریقہ ان کے لیے مقرر ہے اس کے پابند ہیں۔ اتنے بڑے اجرام فلکی ہونے کے باوجود کبھی ایک دقیقہ وشائبہ کا فرق بھی ان میں نہیں آیا۔ دنیا میں جتنے حساب جاری ہوئے ہیں اور تاریخیں چل رہی ہیں سب انہیں کی مرہون منت ہیں اس کی مزید وضاحت دیکھنا درکار ہو تو غزوۃ الوثقٰی جلد ہفتم سورة یٰس کی آیت 40 کی تفسیر دیکھیں اور اپنے طور پر غوروفکر کریں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ نشانیاں انسان کے سامنے کیا درس پیش کرتی ہیں اور انسانوں کو کیا سبق دے رہی ہیں اور پھر یہ بھی کہ کس خاموشی کے ساتھ ان کا درس جاری وساری ہے جو چاہتا ہے ان سے سبق حاصل کرکے اپنی دنیاوی اور اخروی زندگی کو سنوار لیتا ہے اور جو چاہتا ہے جانوروں کی طرح وہ ان کی ذات سے استفادہ کرنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے ان کو کسی سے کوئی سروکار نہیں کہ کون سبق حاصل کر رہا ہے اور کون ان پر تھوک کر اپنے منہ پر ڈال رہا ہے اور کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدود وقیود کو توڑ کر دنیا میں اودھم مچانے کی جسارت کر رہا ہے اور اس طرح اس نے اپنی دنیا بھی برباد کی ہے اور اپنی آخرت کا جنازہ بھی نکالا ہے حالانکہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے ہر گوشے میں نافذ کر رکھے ہیں ان کی پابندی کا حق تو سب سے زیادہ انسان ہی کو پہنچتا تھا لیکن وہ حدود وقیود کو توڑنے میں بہت تیز نکلا۔
Ayah 55:6

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور نباتات و درخت بھی (اس کے) حکم کے مطیع ہیں

اور نباتات و درخت بھی اس کے حکم کے مطیع وفرمانبردار ہیں 6۔ سورج اور چاند دونوں کی فرمانبرداری اور اطاعت کے ذکر کے بعد اب دنیا میں اس زمین کے اندر جو کچھ پیدا ہوتا ہے خواہ نباتات وانگوری ہے اور خواہ فلک بوس درخت جو بعض اونچائی اور لمبائی میں بےمثل ہیں اور بعض موٹائی میں اور بعض اپنے پھیلائو میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے اور بعض ایسے بھی ہیں جو لمبائی ، چوڑائی ، موٹائی اور پھیلائو سب سے بےمثل اور لاثانی ہیں لیکن ساری چیزوں کے باوجود وہ فرمانبرداری میں اپنے اپنے فطری کاموں کو بغیر کسی حیل وحجت کے سرانجام دیئے چلے جا رہے ہیں جن کی فطرت میں قدرت نے پت جھڑ رکھا ہے وہ عین وقت پر آکر پتوں کو چھوڑدیتے ہیں اور جو موسم ان کے پھولنے اور پھوٹنے کے لیے مقرر ہے اس پر پھول اور پھوٹ رہے وہ سورج کی نہایت سخت گرمی کو برداشت کرکے سایہ دینے کے پابند ہیں تو کبھی کسی درخت کو اگر وہ کسی عارضہ کا شکار نہیں ہوگیا تو کبھی نہیں دیکھا گیا کہ اس نے سایہ دینے سے انکار کیا ہو کہ میں اتنی گرمی کو برداشت کرکے سایہ نہیں دے سکتا۔ اس زمین کی نباتات میں سے کسی بوٹی ، کسی جنس ، کسی خود روپودا پر انسان نے ہاتھ ڈالا ہو اور اس نے انسان کے ہاتھ کو روک دیا ہو کہ میری طرف ہاتھ مت بڑھائو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جو کام جس چیز سے انسان لینا چاہتا ہے اس چیز نے انکار کیا ہے ؟ یہی وہ الہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا مطلب ہے۔ انسان نے طلب کا سارا کاروبار انہی بوٹیوں پر رکھا اور وہ جس سے جو کام لینا چاہتا ہے وہ دینے کے لیے ہر وقت اور ہر آن تیار ہیں۔ (اَلنّجُم) کے لفظ سے بعض مفسرین نے ستارے مراد لیے ہیں (اَلنّجُم) کو اسم جنس قرار دیا ہے اور بلاشبہ (اَلنّجُم) کے معنی ستارہ کے ہید لیکن بیل دار گھاس اور زمین کی ساری روئیدگی پر بھی (اَلنّجُم) کا لفظ بولا جاتا ہے اور خاص ستاروں کا ایک جھنڈ جس کو ثریا بھی کہا جاتا ہے اسے بھی (اَلنّجُم) کے نام سے یاد کرتے ہیں اور وقت کے ایک حصہ اور ایک ٹکڑا کو بھی (اَلنّجُم) کہتے ہیں اور اصل وبنیاد کو بھی یہ نام دیا گیا ہے۔ ہم نے اس جگہ محض درختوں کے مقابلہ کے لیے اس کو نباتات کے لیے ہونا بیان کیا ہے اگر اس کا مقابلہ چاند اور سورج سے ہوتا تو یقیناً اس کے معنی ستارہ ہی ضروری تھے لیکن جب یہ لفظ اس جگہ شجر کے مقابلہ میں آیا ہے تو اس لیے اس کے معنی نباتات ہم نے کردیئے ہیں تاہم اگر کوئی درختوں کو مقابلہ میں اس سے مراد ستارے ہی لینا چاہیے تو وہ مفسرین نے لیے ہیں اس لیے کسی کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے اور یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ہر ایک چیز اللہ کے لیے فرمانبردار ہے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے وہ ستارے ہوں یا نباتات الارض ہوں وہی سب کا خالق ومالک ہے اور اسی کے حکم سے سب ظاہر ہوتے اور معدوم ہوتے ہیں اور اسی کے حکم کے پابند ہیں اس لیے دونوں معنی ومفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح اور درست کہے جاسکتے ہیں اگر کوئی اس جگہ بھی نبات الارض کی بجائے ستارے ہی معنی کرتا ہے تو بلاشبہ وہ ایسا کہنے ہیں آزاد ہے اور اس پر کوئی گرفت نہیں ہے اور ہم نے سورة الحج کی آیت 18 میں اور بعض دوسرے مقامات پر (اَلنّجُم) سے مراد ستارے ہی لیے ہیں لیکن شجر کے معنی تناور درخت کے ہیں اور (اَلنّجُم) کے معنی بیل بوٹی کے بھی کیے گئے ہیں۔
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اس نے آسمان کو بلند کیا اور اس نے میزان قائم کی

اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے میزان قائم کی 7۔ آسمان کیا ہے ؟ (سَمَاؔئَ ) عربی زبان میں آسمان ، ابر ، بارش وغیرہ پر بولا جاتا ہے۔ چناچہ امام راغب لکھتے ہیں کہ ” ہر شے کا جو بالا ہے وہ (سَمَاؔئَ ) ہے۔ “ بعض نے کہا ہے کہ ہر (سَمَاؔئَ ) کے نیچے کی نسبت سے (سَمَاؔئَ ) اور اوپر کی نسبت سے ارض ہے۔ بجز (سماعلیھا) کے کہ وہ (سَمَاؔئَ ) ہی ہے (ارض) نہیں ہے نیز (مطر) (بارش) کو (سَمَاؔئَ ) سے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ وہ اسی سے نکلتی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ جب تک زمین پر نہ گرے (سَمَاؔئَ ) سے موسوم ہے یہ اس اعتبار سے ہے جو سابق میں مذکور ہوا اور (نبات) پر اگنے والی چیز کا نام (سَمَاؔئَ ) دیا تو اس لیے ہے کہ وہ مطر سے اگتی ہے جو کہ (سَمَاؔئَ ) ہے اور یا اس لیے کہ وہ زمین سے مرتفع ہے (سَمَاؔئَ ) جمع واحد مئونث مذکر دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ گویا ان اسماء اجناس کی طرح ہے کہ وہ مذکر بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور مئونث بھی اور واحد وجمع بھی۔ (مفردات راغب) جو (سَمَاؔئَ ) کہ بمعنی مطر یعنی بارش ہے وہ مذکرہی استعمال ہوتا ہے۔ اور اس کی جمع اسمیۃ آتی ہے۔ “ (ایضاً ) اور ابن خالویہ لغوی لکھتے ہیں کہ ” ہر وہ شے جو تجھ پر بلند ہو (سَمَاؔئَ ) ہے۔ اس لیے گھر کی چھت (سَمَاؔئَ ) سے موسوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ....................................(الحج 22 : 15) ” جو آدمی مایوس ہو کر ایسا خیال کرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد کرنے والا نہیں ہے تو اس کے لیے گویا زندگی کی کوئی راہ باقی نہ رہی اسے چاہئے کہ ایک اس چھت تک لے جاکر باندھ دے اور اس میں گردن لٹکا کر زمین سے رشتہ اٹ لے پھر دیکھے کہ اس تدبیر نے اس کا غم وغصہ دور کردیا ہے یا نہیں ؟ “۔ (اعراب ثلاثین سورة من القرآٓن العظیم ص 37 ، 38 طبع دارالکتب المصری 1320؁ھ) امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ (سَمَاؔئَ ) یہی سقف معروف (آسمان) ہے سمر سے مشتق ہے جس کے معنی بلندی کے ہیں اس میں دونوں لغتیں ہیں تذکیر کی بھی اور تانیث کی بھی۔ ابوالفتح ہمدانی نے کہا ہے کہ تذکیر تین وجودہ میں سے کسی ایک وجہ کی بناء پر ہوتی ہے اول یہ کہ چھت کے معنی ہوں ، دوسرے باعتبار لفظ کے ، تیسرے اس بناء پر کہ وہ جمع مذکر ہے خواہ جمع واقع ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ اس صورت میں سماء کی جمع ہوگی جیسے عطا عطاء کی جمع ہے۔ ابوالفتح نے اس کو جمع سے ہی موسوم کیا ہے جو اہل لغت کی اصطلاح ہے لیکن اہل نحود صرف اس کو اسم جمع یا اسم جنس سے موسوم کرتے ہیں اور اس کو جمع نہیں کہتے۔ ابوالفتح کا بیان ہے کہ تانیث دو وجھوں سے ہوتی ہے ایک یہ کہ وہ ان اسماء کے باب سے ہے جو تانیث کے لیے موضوع ہیں جیسے انان اور عناق ہیں دوسرے یہ کہ وہ اہل حجاز کی لغت پر (سَمَاؔئَ ) کی جمع ہے کیونکہ وہ اس قسم کو مئونث استعمال کرتے ہیں۔ (تہذیب الاسماء واللغات ج اول ص 152 طبع منیریہ مصر) (المیزان) اسم مصدر اور اسم الہ۔ تول ، ترازو مجازی معنی عدل ، انصاف ، قانون ، عدل ، قواعد عدل یا تولنا۔ انسان کو توجہ دلائی گئی ہے کہ ذرا غور کرو اس نیلگوں چیز کو دیکھو جس کو تم فقط حد نظر کہتے ہو اس کو کس طرح بلند کیا ہے اور اس کے اندر کیا کچھ سمایا گیا ہے کہ تمہارے سمندروں سے بھی زیادہ پانی اس کے اندر ہے اور اس پانی کو اس طرح بھاپ بنا کر اڑا دیا گیا ہے کہ وہ ایک حد کر اس (Cross) کرنے کے بعد نظروں ہی سے اوجھل ہوجاتا ہے اور بیسیوں نہیں سکڑکوں سے بھی متجاوز قسم کی گیسیں ہیں جو انسانی زندگی کے لیے ہی نہیں بلکہ حیوانی زندگی کے لیے بھی مہلک ہیں اور ان کو اس طرح اس خلا کی حدود میں قید کردیا ہے کہ وہ کبھی اپنی حدود کو کر اس کرکے نیچے نہیں آتیں اور اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات ہے کہ یہ گیسیں آپس میں اگر ملا دی جائیں تو ان کے ملانے سے کچھ اور ہی بن جائے لیکن وہ اس فضا میں گھومتی پھرتی ہیں لیکن کبھی آپس میں مل نہیں جاتیں۔ ان کے لیے ایک تول مقرر کردیا ہے کہ اس توازن کو قائم رکھا گیا ہے اگر اس کے اندر زلزلہ آجائے تو پھر کیا سے کیا ہوجائے اس کی وضاحت ہم نے سورة الدخان آیت 10 میں اور سورة فصلت کی آیت 11 میں کردی ہے اور دونوں سورتیں غزوۃ الوثقیٰ کی اسی جلد میں موجود ہیں۔ جلد ہفتم سورة لقمان کی آیت 10 میں بھی اس کی وضاحت ملے گی ، وہاں سے ملاحظہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے جذب وکشش کے لیے ایسے اصولوں پر اس کو قائم کردیا ہے جن میں کبھی تغیروتبدل واقع نہیں ہوا۔
Ayah 55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

تاکہ تم تولنے میں بےاعتدالی نہ کرو

تاکہ تولنے میں بےاعتدالی نہ کرو 8۔ یہ آسمان کی میزان تم انسانوں کو کیا درس دے رہی ہے اور کس انداز میں درس دے رہی ہے کہ اگر اس میزان کو قائم کردیا جائے تو اتنا بڑا نظام درست رہ سکتا ہے۔ تو تم بھی میزان کو سیدھا رکھو اور پھر دیکھو کہ تمہاری دنیوی زندگی اور اخروی زندگی دونوں میں کسی طرح توازن پیدا ہوتا ہے اور تم کیسے مطمئن ہوتے اور تمہاری زندگی کی ساری پریشانیاں کیونکر ختم ہوجاتی ہیں لیکن تم اپنی زندگی پر غور کرو کہ کبھی تم نے اس زندگی میں اس میزان پر غوروفکر بھی کی ہے تاکہ تمہاری زندگی میں سکون اور ٹھہرائو آسکے ؟ تم بڑے بڑے انسانوں کو دیکھتے ہو جن کے پاس دولت کے انبار ہیں اور وہ ملکوں پر حکومتیں کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود زندگی میں آرام و سکون نام کی کوئی چیز نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ انہوں نے توازن کو برقرار رکھنے کی کبھی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کبھی غور کیا ہے کہ یہ سارا معاملہ توازن قائم نہ رکھنے کے باعث ہے۔ اگر انسان کچھ بھی غوروفکر کرے تو اس کو یہ بات اچھی معلوم ہوسکتی ہے کہ ساری گڑ بڑ توازن قائم نہ رکھنے کے باعث ہوتی ہے۔ فرد واحد ہو یا خاندان برداری اور عام معاشرہ زندگی ہو یا اجتماعی ماحول میں خرابی بہرحال میزان کے درست نہ رہنے سے ہوتی ہے اگر میزان درست ہو تو کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی۔ صحت کا سارا انحصار اسی میزان پر قائم ہے اس میں خرابی واقع ہونے سے جسم خراب ہوتا ہے اور جوں میزان میں کمی آتی جاتی ہے صحت خراب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔ اس سے بات کو سمجھ لو کہ ہر ایک چیز کے لیے ایک میزان عدل ہے اگر وہ قائم ہے تو معاملہ صحیح ہے ورنہ خرابی ہے۔ زیر نظر آیت کے الفاظ پر ذرا غور کرو۔ فرمایا جارہا ہے کہ ” تولنے میں بےاعتدالی نہ کرو “ اگر معاملہ انفرادی ہے تو انفرادی تول کو قائم رکھنا ہے اگر معاملہ اجتماعی عدل کو برابر رکھنا ہے۔ قول میں کمی بیشی سے معاملہ بہرحال خراب رہے گا اس لیے سمجھ لینا چاہئے کہ ترازو میں کہاں کہاں کمی بیشی کی جارہی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے عدل کا قانون بنایا ہے اور اسی پر نظام کائنات قائم ہے اور پھر کس خوبی اور حسن سے قائم ہے ، کیوں قائم ہے ؟ محض اس لیے کہ اس کو چلانے والا اپنے ارادہ اور اختیار سے چلا رہا ہے۔ اگر وہ صاحب ارادہ اور صاحب اختیار نہ ہوتا تو کبھی اس نظام کو قائم نہ رکھ سکتا وہ خود تو لاریب نظروں سے اوجھل ہے لیکن اس کا چلایا ہوا نظام اس بات کی گواہی اور شہادت دے رہا ہے کہ وہ ہے اور لاریب ہے اور یہ بھی کہ وہ وحدہ لاشریک لہ ہے۔ ہمارے رسول محمد ﷺ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ : (بالعدل قامت السموت والارض) کہ آسمانوں اور زمین کا نظام عدل ہی پر قائم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تم بھی عدل و انصاف کو قائم رکھو ، ترازو میں سرکشی اور زیادتی سے کام نہ لو۔ اگر تم نے طغیان سے کام لیتے ہوئے میزان درہم برہم کردی تو اس کی سزا اس دنیا میں بھی بھگتو گے اور آخرت میں بھی اس کا وبال تم پر آئے گا۔ اس کی شہادت یہ آسمان و زمین تمہارے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم صرف میزان اور ترازو کی تصویریں بنا بنا کر لوگوں کو دکھاتے ہیں اور پھر کبھی دایاں بازو اوپر اور کبھی بایاں اور کبھی کسی رنگ میں کبھی کسی رنگ میں اور ہمارا سارا انحصار انہی تصویروں پر ہے۔ جب یہ ترازو کسی کے ہاتھ میں آتا ہے تو وہ بندر بانٹ سے کام لیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ترازو خالی ہوجاتی ہے اور اس کے دونوں پلڑوں میں کوئی چیز بھی موجود نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود اس کے دونوں پلڑوں میں کبھی برابری نہیں آتی اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آخراب اس ترازو کو کیا ہوا ہے کہ اس کے دونوں پلڑے خالی ہیں لیکن توازن پھر بھی برابر نہیں ہے ؟
Ayah 55:9

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کو کم مت کرو

انصاف کے ساتھ تولو اور تول کو کم مت کرو 9۔ غور کرو کہ سارے طاقتوروں سے زیادہ طاقت ور اور سارے اختیار رکھنے والوں سے زیادہ بااختیار کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب ایک اور صرف ایک ہے کہ اللہ تعالیٰ ۔ پھر جب سارے طاقتوروں سے زیادہ طاقت رکھنے والے نے بھی میزان عدل کو قائم رکھا ہے اور اس کے سارے نظام کائنات کا انحصار اسی پر ہے تو تم کو کیا کرنا چاہئے تھا اور کیا کر رہے ہو ؟ اس لیے زیر نظر آیت میں حکم دیا جارہا ہے کہ اگر تم کو صرف دیکھ لینے سے سبق حاصل نہیں ہوسکتا اور اشارہ و کنایہ سے تم کچھ نہیں سمجھ سکتے تو تم کو ہماری طرف سے حکم دیا جارہا ہے کہ ترازو سیدھی رکھو اور تول میں کمی مت کرو۔ ماپ اور تول میں کمی کسی فرد میں پائی جائے یا قوم میں بہرحال وہ کبھی ایک ہی چیز میں کمی نہیں ہوتی بلکہ وہ اس فرد یا قوم کے برا ہونے کی علامت ہے کہ وہ فرد یا قوم کسی معاملہ میں بھی صحیح اور درست نہیں ہوسکتی جس کا ماپ اور تول صححا اور درست نہیں ہے اور پھر قرآن کریم کی اس آیت پر مزید غور کرو کہ ایک ہی بات کو دو بار دہرایا گیا ہے اور اس کو مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں سے بیان کیا گیا ہے جس سے اس کی اہمیت اور ضرورت پر مزید روشنی پڑتی ہے کہ ترازو کا سیدھا رکھنا کتنا ضروری اور اہم ہے کہ پہلے حکماً ارشاد فرمایا کہ وزن کو سیدھا رکھو اور تاکید اس طرح فرمائی کہ اس میں کمی نہ کرو۔ پھر شعیب (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا قرآن کریم میں کتنی بار ذکر کا گیا اور ہر بار شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی اس لغزش کو واضح طور پر بیان کیا گیا کہ اس قوم کی تباہی اور بربادی کا باعث ہی یہ بات ہوگئی کہ وہ تول میں کمی کرتے تھے۔ جب دیتے تھے کم دیتے تھے اور جب لیتے تھے تو زیادہ لیتے تھے اور یہی ان کا سب سے بڑا فن تھا جو بدقسمتی سے آج ہماری قوم اور خصوصاً اس ملک عزیز کے رہنے والوں میں بھی اس وقت موجود ہے کہ شاید ہی کوئی شخص ایسا ہوگا جو اس معاملہ میں احتیاط سے کام لیتا ہوگا۔ جس قوم میں یہ ایک بیماری پائی جائے اس میں بہت سی مزید بیماریاں پائی جاتی ہیں اور لاریب اس وقت وہ تمام بیماریاں ہماری قوم میں بھی موجود ہیں اور ان کی اصلاح کی بظاہر کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی۔
Ayah 55:10

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اس نے زمین کو مخلوق کے لیے پھیلایا

اور اس نے زمین کو مخلوق کے لیے پھیلا دیا 10۔ رفع کے مقابلہ میں وضع زبان کے ادب کے عین مطابق ہے اور انام میں یہ ہر جاندار چیز آجاتی ہے خواہ وہ انسان ہے یا حیوان اور اسی طرح چرند ، پرند اور موروملخ سب اس میں شامل ہیں اور اسی طرح سارے حشرات الارض اس میں داخل ہیں جو زمین کے اندر رہنے کے محتاج ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے خواہ وہ نباتات و جمادات ہوں اور ہوائیں اور گیسیں بھی اس میں داخل ہیں۔ لیکن اس جگہ ان کا بیان ہے جن کا تعلق اس زمین یعنی دھرتی سے پایا جاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ زمین اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ کے تحت بچھا دی ہے اور ہر ایک جاندار چیز اس سے اپنی اپنی فطرت کے مطابق آرام و سکون حاصل کر رہی ہے اور اس کی ضرورت کی ساری چیزیں اس زمین سے اس کو میسر آرہی ہیں۔ زمین کی مخلوق کو دیکھو اور پھر ان کی مختلف قسموں ، مختلف شکلوں ، مختلف رنگوں ، مختلف زبانوں اور مختلف عادات واطوار پر نظر ڈالو اور قدرت خداوندی کا اندازہ کرو اور ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو اور اناج کی قسموں پر ایک نظر ڈالو اور جوں جوں خیال کرتے جائو اپنی بیاض میں ان قسموں کو تحریر کرکے دیکھو کہ ان کے اقسام سینکڑوں سے بھی متجاوز ہوجائیں گی اور پھر ان کے کھانے کے طریقوں پر غور کرو کہ ایک ایک چیز کے کھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیسیوں سے زیادہ طریقے انسان کو سمجھا دیئے ہیں اب نئے سے نئے طریقے ایجاد ہوتے چلے جا رہے ہیں ایک ہی چیز پر مختلف طریقوں اور مختلف عملوں سے اس کے مزوں (Taste) میں کیا فرق پڑتا ہے ان ساری چیزوں پر غور کرتے جائو تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات کھلتے ہی چلے جائیں گے اور جوں جوں یہ نشانات کھلتے جائیں گے اس کی وضاحت خود بخود ہوتی چلی جائیگی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لیے کیا کیا انعامات کن کن صورتوں میں اور کہاں کہاں چھپا رکھے ہیں۔
Ayah 55:11

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس نے میوے اور کھجور کے درخت جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں

اس میں کھجور کے درخت پیدا کیے جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں 11۔ ان سب پر بحث تو ممکن ہی نہیں صرف ایک درخت پر غور کرو جس کو تم لوگ کجھور کے نام سے یاد کرتے ہو جو انسان کے لیے نہایت ہی نفع بخش درخت ہے کہ پھل لگنے سے شروع ہو کر پکنے اور خشک کرکے محفوظ رکھنے کے بعد تک کام آتا رہتا ہے ، تر اور خشک کھایا جاتا ہے ، بطور خوراک استعمال ہوتا ہے اور نہایت ہی کارآمد پھل ہے۔ اس پر خوشے ہوتے ہیں جن کو چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہوتا ہے ، پھر تروتازہ ہوجاتا ہے اور پھر اپنے وقت پر پک کر تیار ہوجاتا ہے اور انسان کی طرح پانچ چھ اطوار سے گزر کر تیار ہوجاتا ہے جو انسان کے لیے بہت ہی نفع بخش ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیرالمئومنین عمر بن خطاب ؓ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی خود خصلت کسی اور درخت میں نہیں پائی جاتی وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہوجاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہوتا ہے اور اس کے بعد سرخ ہو کر یا قوت جیسا بن جاتا ہے پھر پکتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہوجاتا ہے پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچائو کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو آپ مجھے اطلاع دیں کہ وہ درخت کیا درخت ہے ؟ عمر فاروق ؓ نے اس کا جواب دیا کہ بحمد اللہ یہ درخت اس ملک عزیز میں اکثر پائے جاتے ہیں اور یہ وہی درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم کو کھانے کا حکم دیا تھا جب کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مریم رضی کے بطن سے تولد ہوئے تھے اسی تولد ہونے کے باعث ہی آپ سے کہہ رہا ہوں کہ آپ اللہ سے ڈریں اور عیٰسی (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ، اللہ اور اللہ کا جزء قرار نہ دیں بلکہ وہ ایک انسان تھے جس طرح سارے انسان پیدا ہوتے ہیں اسی طرح وہ بھی پیدا ہوئے آپ اپنے اسی شرک سے باز آجائیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے جو میں نے آپ کو پہنچا دی ہے۔ “ زیر نظر آیت میں دوسرے میروں اور پھلوں کے ساتھ جس درخت کا ذکر کیا گیا ہے یہ درخت وہی کھجور کا درخت ہے جس کے (ذات الاکمام) ہونے کا ذکر ہے (الاکمام) کم کی جمع ہے اور کم کے معنی اس غلاف کے ہیں جو پھل کے اوپر لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
Ayah 55:12

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار بوٹیاں بھی

اور اناج بھی جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار بوٹیاں بھی 12۔ (الحب) دانہ ، غلہ ، اناج ، گندم اور جو وغیرہ اناج کے دانہ کو حب اور حبۃ کہتے ہیں اور حبوب اس کی جمع ہے۔ غلہ جات جو استعمال ہوتے ہیں ان کی اصناف بھی بیشمار ہیں مثلاً گندم ہے اور پھر گندم میں کئی ایک اقسام ہیں جو ایک سے ایک بڑھ کر ہیں اور ان میں سے جو ، جوار ، مکئی ، باجرا ، جوار ، چاول ، سواتک ، کنگنی موٹھ ، ماش ، مسور ، ارہر ، لوبیا ، باقلا ، مونگ اور مٹرسب کے دانے ہوتے ہیں اور سب کی الگ الگ اقسام بھی ہوتی ہیں اور ان میں سے بہت زیادہ وہی ہیں جن کے اوپر بھوسی ہوتی ہے اور اس بھوس والے غلوں کو قرآن کریم میں (ذوالعصف) کہا گیا ہے یعنی بھوسی والے عصف بھوسی ، بھس اور چھلکوں کو کہتے ہیں۔ 1۔ بھوسا جو ہم مویشیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 2۔ اس پودے کے پتے جس میں ڈثل ہوں اور ان ڈثلوں کے اطراف و جوانب میں پتے ہوں جیسے خوشے ہوتے ہیں اور اسی طرح 3۔ کھائے ہوئے پھل کے چھلکوں پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ (عصف) جمع ہیں اور اس کا واحد عصفۃ ہے اور عصیفۃ بھی۔ (تفسیر کبیر سورة الرحمن ج 8 ص 13) بھوس والے غلہ جات جن کے اندر دانے ہوتے ہیں اور (ریحان) ہر اگنے والی خوشبو دار شے ہے لیکن عام لوگوں میں جب یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو مخصوص نبات کی طرف پلٹتا ہے نیز اس کے متعلق اختلاف ہے بہت لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ وادی ہے اور اس کی اصل ریوحان ہے یاء ساکنہ اور پھر وائو مفتوح لیکن اس میں ادغام کرکے تخفیف کرلی گئی ہے بدیں دلیل کہ اس کی تصغیر رویحین ہے اور ایک جماعت کا یہ بیان ہے کہ یہ یائی ہے بروزن شیطان اور اس میں تغیر نہیں ہوا۔ بایں دلیل کہ اس کی جمع ریاحین ہے جیسے شیطان کی شیاطین۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عصف بھس کو کہتے ہیں اور بھس کے اندر سے جو مغز نکلتا ہے اس کو ریحان کہا جاتا ہے اور عام طور پر ” نازبو “ کو ریحان اور ریحان کو نازبو کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بھی اس میں کلام کیا گیا ہے۔ ایک خوشبودار پودا ہے جو چٹنی وغیرہ کے کام آتا ہے اور ادویات (Medicines) میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

پس (اے جن و انس) تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پس تم دونوں اپنے ربٍّ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے 13۔ یہ وہ فقرہ ہے جو اس سورت میں بار بار دہرایا گیا ہے اور اس سورت کی 78 آیتوں میں سے 31 بار یہی آیت دہرائی گئی ہے اور باقی کل 47 آیات کریمات بچتی ہیں۔ اس میں خطاب جنس انسانی کی دونوں اقسام کو کیا گیا ہے وہ لوگ جو مدنی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور دوسرے انسانوں سے مل جل کر وقت گزارنا چاہتے ہیں اور وہ بھی جو بدوی زندگی کو مدنی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں اور پہاڑوں اور غاروں میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے بھی بہت سے مقامات پر کر آئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ شاید ہم جن مخلوق سے انکاری ہیں۔ ہرگز نہیں لیکن اس جگہ بحث مکلفین کی ہے اور مکلف وہ ہے جس پر انسان کا لفظ اطلاق کرتا ہے اور قرآن کریم میں بار بار اعلان کیا گیا ہے کہ ہر نبی کا تعلق قوم کے ساتھ ہوتا ہے اور ہر قوم ہی سے نبی ورسول بھیجا گیا ہے ، اس کی وضاحت خود قرآن کریم میں موجود ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے قوم تو انسانوں کی ہو اور نبی قوم جن سے تعلق رکھتا ہو یا نبی قوم جن سے آیا ہو لیکن وہ انسانوں کے لیے بھی نبی بنایا گیا ہو اور جنوں کے لیے بھی۔ ہاں ! انسان چونکہ من حیث الجنس سارے انسان ہی ہیں خواہ وہ خواندہ ہیں یا ناخواندہ۔ خواندہ جاہل ہیں یا جاہل خواندہ ہیں اس کی وضاحت کردی گئی ہے۔ من حیث الجنس ان کا تعلق انسانوں ہی کے ساتھ ہے اور جو مکلف ہیں وہ بھی انسان ہی ہیں اس لیے نبی ورسول کا تعلق جنس انسان ہی سے ہے نہ کہ جنس جن سے اگر کسی نبی ورسول کا تعلق جنس انسان کے ساتھ نہ ہو تو قرآن کریم کی ان آیات کریمات کا کیا ہوگا جن میں نبی ورسول کا تعلق قوم سے ہونا لازم و ضروری ہے اور کوئی نبی و رسول بھی غیر قوم سے نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ان کی نبوت و رسالت کبھی غیر قوم کے لیے ہوتی ہے لیکن اگر یہ نظریہ بھی ساتھ ہی تسلیم کرلیا جائے کہ انسان رسول بنائے جانے والا جنوں اور انسانوں دونوں کے لیے رسول ہوتا ہے تو قرآن کریم میں تضاد واضح ہوگیا حالانکہ قرآن کریم میں تضاد ہو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور دوسری جگہ خود قرآن کریم نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ میرے اندر تضاد نہیں ہے اور یہی اس بات کی تصدیق ہے کہ میں غیر اللہ کی طرف سے نہیں ہوں اگر غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو مجھ میں تضاد ہوتا اور اس کی وضاحت ہم غزوۃ الوثقٰی ، جلد سوم سورة النساء کی آیت 82 میں کرچکے ہیں۔ مختصر یہ کہ جن کا لفظ بہت وسیع ہے اور اس کی وسعت کے متعلق ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز آگے بھی کریں گے اور اس جگہ بھی عرض کر رہے ہیں کہ اس کا اطلاق ہر اس مخلوق پر ہوتا ہے جو زمین کے اندر ، پہاڑوں کے اندر اور اسی طرح دوسری جگہوں پر بھی پوشیدہ رہنے کو ترجیح دے اور اس طرح سارے حشرات الارض پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور وہ مخلوق جو ان ظاہری آنکھوں سے نظر ہی نہ آتی ہو اس پر بھی اور اسی طرح ڈنگروں ، ڈھوروں پر بھی بولا جاتا ہے یہاں تک کہ انسان کا اپنا بچہ جب تک پیدا ہو کر سارے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے نہیں آجاتا اس پر بھی ” جنین “ کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں اور وہ خاص مخلوق بھی ” جن “ ہے جس کی پیدائش آگ سے تسلیم کی گئی ہے جو ابلیس کی ذریت ہوگی اور یہ مخلوق دراصل ” ملک “ یعنی فرشتہ کی ضد ہے اور جس طرح فرشتہ کوئی اپنا مرئی جسم نہیں رکھتا وہ بھی نہیں رکھتا۔ فرشتہ نوری ہے تو وہ ناری ہے۔ فرشتہ مجسمہ خیر ہے تو وہ مجسمہ شر ہے۔ جس طرح فرشتہ برائی پر آمادہ نہیں ہوتا اسی طرح ” جن “ خیر پر آمادہ نہیں ہوتا اور دونوں ہی مکلف نہیں ہیں۔ فرشتہ اہل جنت کا ساتھی ہے تو ” جن “ اہل دوزخ کا لیکن جن کا اطلاق بہت سی دوسری مخلوق پر بھی ہے کہ جیسا کہ بیان ہوچکا۔ اس لیے اس سے اکثر لوگوں کو غلطی لگتی ہے لیکن کتنے ہی الفاظ ہیں جو اپنے تلفظ کے لحاظ سے تو ایک ہی ہیں لیکن اپنے اطلاق کے لحاظ سے ان کا مفہوم بہت وسیع ہوتا ہے اور جو مفہوم ان کا ایک جگہ سمجھا جاتا ہے دوسری جگہ وہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس ایک ہی لفظ کے مفہوم میں زمین و آسمان کا فرق موجود ہوتا ہے اور یہ بات سب کو تسلیم ہے۔ مثلاً محبت ایک لفظ ہے۔ انسان محبت کرتا ہے اللہ سے ، اس کے رسول سے ، اپنی اولاد ، اپنے ماں باپ سے ، اپنے عزیزوں رشتہ داروں سے اور اپنی بیوی سے لیکن جو محبت اللہ کے لیے ہے وہ غیر اللہ کے لیے حرام ہے وہ کسی دوسرے سے نہیں کی جاسکتی۔ جس محبت کا مستحق اللہ کا رسول (محمد رسول اللہ ﷺ ہیں وہ محبت محض رسول اللہ ﷺ ہی کے لیے خاص ہے اور جو محبت ماں باپ کے لیے ہے وہ بیوی کے لیے نہیں جو بیوی کے لیے ہے وہ ماں باپ اور اولاد کے لیے نہیں ہے۔ محبت کا ایک ہی لفظ جب کسی کے ساتھ لگایا جائے گا تو اپنا مفہوم خود واضح کردے گا اسی طرح لفظ ” جن “ کا اطلاق ہے۔ زیرنظر آیت میں جس مخلوق کو مخاطب کا گیا ہے وہ مخلوق مکلف ہے اور ظاہر ہے مکلف فقط انسان ہی ہے اور انسان کی دونوں تقسیم میں اپنی نوع اور جنس کے لحاظ سے ایک ہیں لیکن اصناف کے لحاظ سے ان کو تقسیم کیا گیا ہے اور یہی ان آیات میں مخاطب ہیں۔ دوسرالفظ اس آیت میں (الاء) کا قابل وضاحت ہے۔ کہ (الاء) جمع ہے جس کا واحد الی ہے اور الی اور الی تسلیم کیا گیا ہے اور سب مفسرین اور اہل لغت نے یہی واحد تحریر کیا ہے لیکن قرآن کریم میں اسم واحد استعمال نہیں ہوا۔ (الاء) کا لفظ قرآن کریم میں 32 بار آیا ہے دو بار سورة الاعراف کی آیت 29 ، 74 میں اور ایک بار سورة النجم کی آیت 55 میں اور 31 بار سورة الرحمن ہیں۔ اس کا اصل مادہ ا ل و یا ا ل ی تسلیم کیا گیا ہے اور اس مادہ کے دوسرے الفاظ جو قرآن کریم میں بارن ہوئے ہیں۔ وہ (یالونکم) سورة آل عمران کی آیت 118 میں (یاتل) سورة النور کی آیت 22 میں اور (یولون) سورة البقرہ کی آیت 226 میں صرف ایک ایک بار ہی آئے ہیں اور اس مادہ سے (الاء) کو تسلیم کیا گیا ہے اگر یہ صحیح ہے تو مادہ کے اندر نعمت کا کوئی مفہوم موجود نہیں ہے اس لیے اس پر نعمتوں کے لفظ سے جو ترجمہ کیا گیا ہے اس پر لوگوں نے کلام کیا ہے لیکن مفسرین نے بالاتفاق اس کے معنی نعمت ہی کے کیے ہیں اب اس کے معنی عجائب قدرت کریں ، کرشمہ سازی کریں یا محض نشانیاں کہہ دیں یا نعمتیں کہیں یا جو معنی جہاں مناسب ہوں وہ کرلیں بہرحال ہمارے خیال میں یہ آیت اپنی گزشتہ یا آنے والی آیت سے مل کر خود ہی اپنا مفہوم متعین کرلے گی یا جو تعلق دونوں میں قائم ہوگا اس کی نشاندہی ہم کرتے جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ لیکن ہر بار وضاحت کی ضرورت نہیں ہے گویا وضاحت اس جگہ آگئی اسی پر نظر دوبارہ کرلی جائے اور اس کے ساتھ دوسری محولہ آیات جن میں یہ لفظ (الاء) کا آیا ہے اس کو بھی دیکھ لیا جائے تو مزید وضاحت سامنے آجائے گی۔
Ayah 55:14

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اس نے انسان کو مٹی سے جو بجنے والی تھی پیدا کیا ہے

اسی نے (الانسان) کو مٹی سے جو بجنے والی تھی ، پیدا کیا ہے 14۔ اس جگہ جنس انسان کی دونوں قسموں کا بیان ہے اور دونوں کا آپس میں موازنہ بھی کیا گیا ہے اصل اگرچہ دونوں کی ایک ہے لیکن ایک ہی مٹی کا عنصر زیادہ ہے اور دوسرے میں بھڑکتے ہوئے شعلے کا اثر فوقیت رکھتا ہے جس نے ان دونوں میں ایک واضح فرق قائم کردیا ہے۔ اس کی مثال اس طرح سمجھیں کہ نر (Male) اور مادہ (Female) دونوں ایک ہی جنس ہیں لیکن ایک جنس کی دو اصناف ہیں اور دونوں میں جو واضح فرق ہے اس سے ہر انسان واقف ہے اس کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں دونوں اصناف مکلف ہیں اگرچہ دونوں کے بعض احکام ایک جیسے ہیں لیکن بعض میں فرق ہے اور اس فرق نے ان کو ایک جنس ہونے کے باعث وہ الگ الگ اصناف میں تقسیم کردیا ہے ان دونوں کو نر اور مادہ یا مذکر و مئونث کی الگ الگ حیثیتوں میں رکھا گیا ہے اگرچہ جنس کے لحاظ سے دونوں ایک ہیں لیکن ایک ہونے کے باوجود دو ہونے سے بھی کسی کو انکار نہیں ہے اور نہ ہی انکار ہوسکتا ہے اور یہی صورت اس جگہ ہے کہ (الانسان) کے مقابلہ میں (الجان) کا لفظ لاکر اس کی دوسری قسم کو واضح کیا گیا ہے اور جان بمعنی الحیۃ بھی بیان کیا گیا ہے اور (جن) کا اطلاق سانپ پر عام ہے کیونکہ وہ بھی تقریباً پوشیدہ رہنا ہی پسند کرتا ہے بلکہ پوشیدہ ہی رہتا ہے اور یہ بات اوپر واضح کی گئی ہے کہ ” جن “ کو کیوں جن کہتے ہیں اور اس کا اطلاق دنیا کی اکثر چیزوں پر ہوتا ہے اور خصوصاً سانپ کے لیے تو اس کا لفظ عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے بلکہ قرآن کریم میں پانچ بارمحض جن کے لفظ پر اس کا اطلاق قرآن کریم میں موجود ہے فرق ہے تو فقط یہ ہے کہ (جان) پر الف لام نہیں لیکن ایک جگہ الف لام بھی موجود ہے جیسے سورة الحجر کی آیت 27 میں اور اس جگہ قابل غور بات صرف یہ ہے کہ (جان) یا (الجان) بطور تشبیہ کہا گیا ہے اس سے مراد وہ غیر مرئی مخلوق نہیں ہے جو ملک (فرشتہ) کے مقابلہ میں ذکر کی گئی ہے جس کے متعلق ہم نے اوپر وضاحت بھی کردی ہے کہ یہ مجسمہ برائی ہے جس میں خیر کا نام ونشان نہیں اور نہ ہی مکمن ہوسکتا ہے۔ جس طرح (الانسان) کو بھی کا لفخار کہا گیا ہے۔ (صلصال) بجتی ہوئی مٹی ، کھنکھناتی ہوئی مٹی ، وہ خشک مٹی کہ جب اس پر انگلی ماری جائے تو وہ بجنے اور کھنکھنانے لگے۔ (صلصال) کہلاتی ہے اور بعض نے اس کے معنی سٹری ہوئی مٹی کے کیے ہیں اور امام راغب (رح) لکھتے ہیں کہ : ” اصل میں (صلصال) خشک چیز کے بجنے کا نام ہے اور اسی سے محاورہ ہے صل المسار کھونٹی بجی اور اسی سے خشک مٹی (صلصال) سے موسوم ہے کیونکہ وہ بجتی ہے۔ ارشاد الٰہی ہے : (من صلصال کا لفخار) کھنکھناتی ہوئی مٹی سے جیسے پک کر تیار ہوجائے اور (من صلصال من حماء مسنون) کھنکھناتے سنے گارے سے اور (صلصلۃ) باقی ماندہ پانی پر بھی بولا جاتا ہے جو مشکیزہ میں ہلنے کی کھڑکھڑاہٹ سے مشابہ ہونے کے باعث اسی نام سے موسوم ہے اور بعض نے کہا ہے کہ (صلصال) سڑی ہوئی مٹی ہے اور یہ عرب کے محاورہ (صل اللحم) گوشت سٹر گیا ہے سے ماخوذ ہے۔ ان کا بیان ہے کہ اس کی اصل صلصال ہے ایک لام کو ” ص “ سے بدل لیا گیا ہے۔ “ (مفردات) ” (صلصال) سے وہ مٹی مراد ہے جس میں ریگ ملی ہوئی ہو اور اس طرح بجنے لگے جس طرح ٹھیکری بجتی ہے۔ “ (فراء “ ” ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ (صلصال) وہ خشک مٹی ہے جس کو آنچ نہ پہنچی ہو اور جب تم اس کو انگلی سے ٹھونکو تو بجنے لگے اور تم اس کی کھنکھناہٹ سن لو اور جب وہ آگ میں پکائی جائے تو (فخار) ہے نیز ہر وہ شے جو کھن کھن بولے (صلصال) ہے اور مجاہد نے سٹری ہوئی مٹی کے معنے روایت کیے ہیں۔ (فتح الباری ج 2 ص 257 ، 258) کسائی نے بھی مجاہد ہی کے قول کو اختیار کیا ہے۔ (معالم التنزیل ج 4 ص 53 طبع مصر 1332 ھ) ۔ اب مزید غور کرو کہ قرآن کریم نے جنس (الانسان) کی اصل کے لیے جو الفاظ پیش کیے ہیں وہ کیا ہیں۔ (1) { فااِنا خلقنکم من تراب } (الحج : 5) ” ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے “ اور اصل { تراب } خود زمین کا نام ہے یعنی ہم نے تم کو زمین سے پیدا کیا۔ (2) { اخلقکم من طین } (الانعام : 2) ” تم کو مٹی سے پیدا کیا “ اور کہا گیا ہے کہ مٹی اور پانی کے آمیزہ کو ” طین “ کہا جاتا ہے یعنی تم کو پیدا کیا مٹی اور پانی کے آمیزہ سے (3) { اِناخلقنھم من طین لازب } (الصافات : 11) ہم نے ان کو پیدا کیا ہے چپکنے والی ‘ چمٹنے والی ‘ لیسدار جم جانے والی ایسی مٹی سے جو مٹی اور پانی کے آمیزہ سے تیار کی گئی ہو۔ (4) { خلقنا الانسان من صلصال من حمائٍ مسرنٍ } (الحجر : 62) ” ہم انسان کو خمیر اٹھے ہوئے گارے سے بنایا جو سوکھ کر بجنے لگتا ہے۔ (5) { خلق الانسا من صلصال کا لفخار } (الرحمن : 31) ” اس نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ “ (6) { انی خالق بشر من طینٍ } (ص : 17) ” بلا شبہ میں بشر کو پیدا کرنے والاں ہو مٹی اور پانی کے آمیزے سے “۔ غور کرو کہ قرآن کریم نے تخلیق انسانی کے لیے جو مختلف پیرایہ بیان اختیار کیے ہیں وہ اس پر کس طرح صادق آرہے ہیں اور پھر سب کے سب بیک وقت صحیح اور درست ہیں۔ انسان اول پر بھی اور اس کے بعد ہر ایک انسان پر بھی کیونکہ جو چیز اصل پر لازم آتی ہے وہ اس کی نسل پر لازم آئے گی اگر اس کی نسل ہے۔ پھر نسل کے بعدجو { مائٍ مھین… کے الفاظ بولے گئے ہیں اس پر بھی غور کرو گے تو یہ سب تعبیرات اس پر بھی صادق آئیں گی۔