55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 55:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سے نعمت کو جھٹلائو گے 55 یہ وہی آیت ترجیع ہے اور اس کا موقع و محل اس جگہ بالکل واضح ہے کیونکہ اب انعامات الٰہی کا ذکر ہے جو انعامات اہل جنت کو جنت میں دیئے جائیں گے اگرچہ یہ بات ہم کو معلوم ہے کہ جو کچھ ان آیات کریمات میں اہل جنت کے لیے دینے کا اعلان کیا جارہا ہے یہ محض اس لیے ہے کہ آج اس دنیوی زندگی میں یہی وہ چیزیں ہیں جن کا نام سن کر ہم خوش ہو سکتے ہیں کیونکہ ان ساری چیزوں سے اس وقت اس دنیا میں ہم واقف ہیں اور ان کو حاصل کر کے جن کا تعلق اس دنیا کے ساتھ ہے ہم یقیناً خوش ہوتے ہیں اور ان کو طلب ہم میں سے ہر کہ دمہ کو ہے اس وقت کی بات جب ہم جنت کی طرف رواں دواں ہوں گے۔ اس وقت ہماری خواہش کیا ہوگی اور جن چیزوں کا اس وقت نام لیا جارہا ہے ان کو سوائے نام کے کیا مشابہت ہوگی تو ہم اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمارے مشاہدہ کی یہ چیز نہیں ہے اور یہ بات ہمارے مشاہدہ کی ہے کہ انسان کی خواہشیں بدلتی رہتی ہیں اور خوشی ہر حال میں وقتی طلب کے پورا ہونے ہی پر ہوتی ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ اس کو ہر صاحب عقل و فکر جانتا اور سمجھتا ہے اور یہ بات ہمارے ایمان کا جزو اور حصہ ہے کہ جو اس وقت خواہشیں ہوں گی لاریب وہ پوری کی جائیں گی اور اسی چیز کا نام ” قرۃ اعین “ ہے جو مقصود اصل ہے۔ استبرق اور دیباج کا نام سن کر اس بحث میں مبتلا ہونا کہ کیا جنت میں اللہ تعالیٰ نے کیڑے پال رکھے ہیں جو شہتوت کے پتے کھاتے اور ریشم بناتے ہیں اور وہاں جو لائے بھی ہیں جو ان کپڑوں کو بن رہے ہیں اور تیار کر کے اس استبرق اور دیباج کی گانٹھیں لگا رہے ہیں اور اسی طرح کے دوسرے بیسیوں سوالات کا اٹھانا اور ان کی کہنہ معلوم کرنا سوائے مذاق اور شرارت کے اور کچھ نہیں کہلواتا کیونکہ مدعا یہ نہیں ہے کہ ان بحثوں کو اٹھایا جائے بلکہ مدعا بیان فقط یہ ہے کہ ہر انسان کی ہر خواہش کے پورا ہونے کا مقام دنیا نہیں ہے بلکہ آخرت ہے خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کیا ہے ؟ لہٰذا آرزو اور خواہش جس چیز کا نام ہے وہ ممکن ہی نہیں کہ اس دنیا میں پوری ہو سکے کیونکہ ایک خواہش پوری ہوگی تو اس کے ساتھ دس پیدا ہوجائیں گی پھر آدمی دسوں کو پورا کرنے کے پیچھے لگ جائے گا اور اس نے ہمت کر کے ان دس خواہشوں کو پورا کر بھی لیا تو ایک سو خواہشیں مزید پیدا ہوجائیں گی اور نتیجہ اس کا ہمیشہ یہی رہے گا کہ جوں جوں خواہشیں پوری ہوتی جائیں گی توں توں ساتھ ساتھ مزید پیدا ہوتی جائیں گی اور آخرکار انسان اس معاملہ میں ہار جائے گا اور اس کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے لہٰذا سو باتوں کی ایک بات ہی یاد رکھ لو کہ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کی خواہشات اس دنیا میں پوری ہو سکیں۔ جو کہے گا وہ غلط کہے گا کیونکہ دنیا ایسا مقام ہی نہیں ہے کہ ہر انسان کی ہر خواہش اس جگہ پوری ہو سکے لہٰذا اس کے لیے آخرت ہی کا تصور ایک ایسا تصور ہے جہاں پہنچ کر یقیناً اس کی خواہشیں پوری ہوں گی۔ اس کو بیان کرنے کے لیے مختلف پیرایہ بیان ہیں جو قرآن کریم میں اختیار کئے گئے ہیں جو بیان نہ ہوا ہے اور جو ہوگا اس کا ماحصل یہی ہے۔ اگر سمجھ میں آجائے تو زہے قسمت کے کتنے بکھیڑوں سے بچ جائو۔
Ayah 55:56

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

ان میں نیچی نگاہ رکھنے والی عورتیں ہوں گی کہ ان کو ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا تک نہیں ہو گا

ان کو ایسی عورتیں ملیں گی جو نظریں نیچی رکھنے والی ہوں گی اور وہ مستعمل بھی نہیں ہوں گی 65 (قصرت) کی اصل ق ص ر ہے۔ اسم فاعل جمع مؤنث قاصرۃ واحد۔ نظر کو روکنے والیاں پاک دامن عورتیں ‘ وہ عورتیں جن کی نظر اپنے شوہروں سے ہٹ کر دوسروں پر نہ جمے) راغب ، معجم السان العرب ، محلی ، خازن) اور نظر سے مراد خواہش نفسی کی نظر ہے۔ (قصر البصر) کے معنی ہیں نظر کو روکا اور نظر کو سمیٹا جو ایک عورت کے لیے نہایت ہی خوبی کی بات ہے۔ قرآن کریم نے اس کو (غض بصر) سے بھی تعبیر کیا ہے اور (قصربصر) سے بھی۔ (غض بصر) جس طرح عورتوں کے لیے ضروری ہے مردوں کے لیے بھی ہے۔ زیرنظر آیت میں چونکہ عورت کی خوبیاں بیان کرنا پیش نظر ہے اس لیے (قاصرات) کا لفظ آیا ہے۔ (قصر الطرف یقصرہ و غضہ اوجلسہ عن النظر فھو قاصر الطرف وھی قاصرۃ الطرف وھن قاصرات الطرف) (یطمثھن) کی اصل ط م ث ہے۔ واحد مذکرغائب مضارع منفی طمث مصدر من غیر مفعول۔ (لم یطمثھن) ان سے جماع نہیں کیا گیا ہوگا یعنی عورتوں کے لیے ان کی دوشیزگی کو ظاہر کرنے کیلیے اس کا استعمال ہوا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ کبھی حائضہ نہیں ہوں گی۔ کسی ہم جنس نے ان کو چھوا تک نہیں ہوگا۔ ماحصل آیت کا کیا ہوا ؟ یہی کہ جو محل اہل جنت کے لیے تیار کیے جائیں گے ان میں اہل جنت کے لیے ایسی عورتیں ان کے نکاح میں دی جائیں گی جو شرم و حیا کی پیکر ہوں گی اور ان کی نگاہیں ان کے مردوں کے لیے ہی بچھی ہوں گی اور وہ اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔ اس قدر شرم و حیا والی ہوں گی اور پاک دامن اور عفت مآب ہوں گی اور آج تک ان کو کسی نے چھوا تک بھی نہ ہوگا۔ یا خاوند جن اوصاف کی عورت کو پسند کرتا ہے اور خصوصاً وہ خاوند جو خود بھی پاکباز اور عفت مآب ہے اس کے لیے انہی صفات کی متحمل عورتیں بھی وہاں ہوں گی۔ عورت اور مرد کے جوڑ سے دونوں کی کمیوں کا ازالہ ہوتا ہے اور اس سے انسان کامل انسان ہوتا ہے۔ مرد کے لیے نیک سیرت و کردار ‘ عورت لایب جنت نہیں تو جنت کا ایک منظر ضرور ہے اور یہی حالت عورت کے لیے ہے اگر اس کو نیک سیرت و نیک کردار مرد مل جائے تو اس سے طرفین کو سکون حاصل ہوتا ہے اور چونکہ جنت سے زیادہ بڑھ کر کوئی اور جگہ سکون اور آرام کی نہیں ہے اس لیے اس نعمت کے مہیا ہونے کا ذکر بھی ضروری تھا جو اکثر جگہ کردیا گیا جس کے لیے محض تصور خواہش نہیں بلکہ اعمال درکار ہیں جن کو اعمال الصالحات سے موسوم کیا جاتا ہے۔ انس و جان کے مس نہ کرنے سے وہ بات مزید واضح ہوگئی جو شروع میں ہم نے بیان کی تھی کہ انسان اور جن دونوں ایک ہی جنس کی دو اقسام ہیں۔ مس ہم جنس ہی سے ہوتا ہے غیر جنس سے نہیں۔
Ayah 55:57

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے 75 یہ وہی ترجیع ہے جو ہر آیت کے حسن و خوبی کو دوبالا کرنے کے لیے ساتھ ساتھ بیان ہوتی چلی آرہی ہے جس کا انداز بیان گزشتہ آیت کے مضمون میں سوچ و بچار کو لازم کرنے کے لیے ہے کہ جونہی کسی نشانی ، کسی کی کرشمہ سازی ، کسی خوبی اور نعمت کا ذکر آئے تو اس کے ذکر کرنے کے بعد تنبیہاً بیان کی گئی کہ تم دونوں آخر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی کس کس نشانی ‘ خوبی اور نعمت کو جھٹلائو گے اور کب تک غوروفکر سے کام نہیں لو گے ؟
Ayah 55:58

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

یہ تو گویا یاقوت و مرجان ہیں

عورتیں کیا ہیں ؟ یہ تو گویا یاقوت و مرجان ہیں 85 (الیاقوت) کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ لفظ فارسی الاصل ہے۔ عربی میں اسم جنس کے طور پر استعمال ہوا ہے اور اس کا واحد الیاقوتۃ اور جمع الیواقیت ہے۔ ایک قیمتی مدنی جوہر جو اکثر سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس پر آگ اثر نہیں کرتی یہی اس کی اصل پہچان ہے۔ (خطیب فی السراج) (المرجان) بھی اسم جمع ہے المرجانۃ مفرد اور چھوٹے چھوٹے موتیوں کی شکل میں دیکھا گیا ہے اور طب میں ان کو سچے موتی کہا جاتا ہے۔ (راغب معجم) دونوں الفظ نایاب چیزوں پر بولے جاتے ہیں اور ان کی مہنگائی اور نایابی کے باعث بہت سنبھال کر ان کو رکھا جاتا ہے اور اس مفہموم میں ان کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اور یہ ان خوب صورت اور خوب سیرت عورتوں کی صفت کے طور پر بیان ہوا ہے جو اہل جنت کے لیے مخصوص کی گئی ہے اور انسان کے لیے مرغویات میں سے ہیں جن کی تلاش اکثر و بیشتر کی جاتی ہے اور ان کا دستیاب ہوجانا بھی ایک نہایت ہی خوشی اور مراد کے پورا ہوجانے کے مرادف ہے اور ان کے ساتھ موہوم قسم کی روایات بھی بیان کی جاتی ہیں کہ یہ محض ان لوگوں کے لیے دستیاب ہوتی ہیں جو نہایت خوش قسمت ہوتے ہیں اس لیے اہل جنت کی عورتوں کے لیے بھی ان کو مخصوص صفات میں بیان کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ان کی عظمت کو جانتا ہے۔
Ayah 55:59

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے 95 جیسا کہ پیچھے عرض کیا جا چکا ہے کہ آیت ترجیع ہے جو بار بار پیش کی جارہی ہے۔ گزشتہ آیت میں جنتی عورتوں کے جمال اور ان کی سچی دلربائی اور ان کی پاکدامنی اور ان کی آنکھوں کے شرمیلے پن کا ذکر تھا۔ گویا بتایا گیا تھا کہ گہر میں آب گہر کے سوا کچھ اور نہیں اس طرح ان کی پاکدامنی اور عفت ما آبی کی مثال بیان کرنے کے بعد تنبیہاً دونوں گروہوں کو مخاطب کر کے پھر پوچھا جارہا ہے کہ کیا تم ایسی نعمتوں کا بیان سننے کے بعد بھی اللہ رب کریم کی نعمتوں کا انکار ہی کرو گے ؟
Ayah 55:60

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

اور احسان کا بدلہ بھی احسان کے سوا کیا ہے ؟

احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے ؟ 06 ظاہر کہ جس بندہ نے بندہ ہو کر بندگی کے حقوق کو بحسن و خوبی پورا کیا ، کیا اللہ رب ذوالجلال والاکرام ‘ پروردگار عالم ہو کر اپنی شان بندہ نوازی میں کوئی کمی رہنے دے گا ؟ اللہ تعالیٰ تو ہر ایک انسان کو اس کے احسان کا اچھابدلہ دینے والا ہے وہ تو کسی کی نیکی کو رائیگاں ہرگز نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کا اجر دینے میں کبھی بخل سے کام لے گا۔ روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور سامعین سے دریافت کیا کہ : (ھل تدرون ماقال ربکم) ” تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ “ صحابہ ؓ نے عرض کی اللہ و رسولہ اعلم ” اور اللہ اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں “ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : (ھل جزاء من انعمت علیہ بالتوحید الا الجنۃ) جس کو میں نے نعمت توحید سے سرفراز فرمایا۔ اس کی جزا جنت کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے ؟ “ اور یہی بات زیرنظر آیت میں فرمائی گئی ہے کہ ” احسان کا بدلہ آخر انسان کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ؟ “ پھر اللہ تعالیٰ سے یقیناً مزید احسان کی امید ہے اور دنیا کا پورا نظام امید ہی پر قائم ہے۔
Ayah 55:61

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی قدرتوں کا انکار کرو گے۔ 16 آیت ترجیع پر غور کرو کہ وہ کس طرح پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ احسان کے بدلہ میں احسان سے قدرت خداوندی کا اظہار ہوتا ہے اور پھر تم لوگ قدرت خداوندی کے نشانات میں سے آخر کس کس کا انکار کرو گے اور کیوں انکار کرو گے ؟ تمہارے پاس اس سے انکار کی دلیل کیا ہوگی ؟ تم اس کی کون کون سی قدرت کا انکار کرو گے ؟
Ayah 55:62

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

اور ان دو باغوں کے علاوہ اور بھی دو باغ ہوں گے

اور ان دو کے علاوہ دو باغ اور بھی ہیں 26 پہلی دو جنتوں کے علاوہ دو جنتیں اور بھی ہیں جو مقربین اور (اصحاب الیمین) کے لیے ہوں گی۔ پہلی دونوں جنتیں جیسا کہ پیچھے آیت 64 کی تفسیر میں عرض کیا جا چکا ہے کہ وہ (السابقون والاولون) کے لیے ہیں جن کا تعلق نبی اعظم و آخر ﷺ کے دور اقدس سے ہے اور ان دونوں جنتوں میں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو دوسرے مسلمان ہیں اور وہ جن کو (اصحاب الیمین) کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور آئندہ سورة میں جس کا نام الواقعہ ہے ، اسی میں ان کی مزید تفصیل بھی آئے گی اور گزشتہ (سابقون الاولون) والی دونوں جنتوں میں سے ان دونوں جنتوں کو الگ کر کے بیان کرنے کے لیے جو (من دونھا) کے الفاظ بیان کیے گئے ہیں ‘ یہ دلالت کرتے ہیں کہ یہ دونوں جنتیں پہلی دونوں جنتوں سے درجہ میں شاید کم ہوں گی کیونکہ ان میں داخل ہونے والے لوگ بھی پہلے لوگوں کی نسبت کم درجہ رکھتے ہیں جیسا کہ ان کے بیان سے واضح ہورہا ہے اور مزید وضاحت آنے والی سورت میں کی جائے گی۔ احادیث میں پہلی دونوں جنتوں کا اختیار کیا گیا ہے یعنی یہ کہا گیا ہے کہ پہلی دونوں جنتین سونے کی ہوں گی اور دوسری دونوں چاندی کی اور یہ استعارہ محض ان دونوں کے درجہ کو بلند اور کم کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے ورنہ باغات کا سونے اور چاندی کے ہونے کا مطلب کیا ؟ ہاں ! یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے دونوں باغوں میں بسائے جانے والوں کے لیے پہننے کے لیے اور کھانے کے لیے جو برتن دیئے گئے ہوں وہ سونے کے ہوں اور دوسرے دونوں باغوں میں بسائے جانے والوں کے لیے پہننے کے لیے جو زیورات اور کھانے کے لے جو برتن ہوں وہ سب بجائے سونے کے چاندی کے ہوں اور سونے سے بہرحال چاندی کم درجہ رکھتی ہے تو یہ بھی ممکن ہے بہرحال ان روایات سے جو ہم مفہوم سمجھتے ہیں وہ ہم نے عرض کردیا ہے اور حقیقت حال آپ لوگوں سے اور ہم سب سے اللہ تعالیٰ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے۔ باغات کے ان استعارات سے جو ہم سمجھے ہیں وہ بیان کردیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مفسرین نے علاوہ ازیں بھی ان دونوں جنتوں اور گزشتہ دونوں جنتوں کے متعلق مزید تفصیلات بھی دی ہیں لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں ‘ زیادہ بحث کرنا نہیں چاہتے کہ یہ معاملہ مشاہدہ کا نہیں بلکہ ایمان بالغیب کا ہے جو کچھ الفاظ کا ظاہر بیان کر رہا ہے وہی ہمارے لیے کفایت کرتا ہے۔
Ayah 55:63

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے 36 یہ وہی ترجیع پھر بیان کردی گئی ہے جس کا ذکر آیت 31 سے مسلسل چلتا نظر آرہا ہے اور اس کی وضاحت ہم آیت 31 کے بعد علاوہ ازیں بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں اس لیے آپ پیچھے ہی سے اس مضمون کو دیکھ لیں۔
Ayah 55:64

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

دونوں ہی گہرے سبز رنگ کے ہوں گے

یہ دونوں باغ بھی نہایت سرسبز و شاداب ہوں گے 46 زیرنظر آیت میں فقط ایک ہی لفظ بولا گیا ہے یعنی (مدھامتان) یہ دونوں باغوں کی صفت کے طور پر بولا گیا ہے جو اسم فاعل و اسم مفعول دونوں ہی ہو سکتے ہیں۔ تثنیہ مؤنث اور مدھامۃ واحد ہے۔ (مدھامتان) بھی دونوں باغ ہی بہت سرسبز ہیں۔ اتنے سرسبز کہ ان کا رنگ سیاہی مائل ہوگیا ہے۔ ادھیمام مصدر ہے سیاہ ہونا یعنی اتنا گہرا سبز ہونا کہ سیاہی مائل نظر آئے۔ دھمۃ سیاہی کو کہتے ہیں۔ حدثۃ وھماء انتہائی سرسبزباغ دھم ہر مہینہ کی آخری تین راتوں کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ تقریباً مکمل راتیں چاند نہ ہونے کے باعث سیاہ رنگ کی ہوتی ہیں ہ۔ دھیم اور دھیمۃ کالی مصیبت یعنی سخت مصیبت کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں باغات بھی بہت ہی سرسبز و شاداب ہوں گے اور ان میں بھی چشمیں بہہ رہے ہوں گے گویا پانی کی وہاں بھی فراوانی ہوگی جس پر سرسبز ہونے کا سارا انحصار ہے جیسا کہ آنے والی آیت میں جو ترجیع کے بعد ہے اس کی مزید وضاحت خود قرآن کریم نے کردی ہے۔
Ayah 55:65

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے 56 قدرت الٰہی کی کرشمہ سازیاں ہی تو بیان کی جارہی ہیں۔ باغات کا ملنا اور پھر باغات بھی ایسے جو نہایت سرسبز و شاداب ہوں جن میں نہریں بہہ رہی ہوں ‘ چشمے ابل رہے ہوں ‘ بستر بچھے ہوئے ہوں اور آنے جانے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہو اور ایک باغ میں رہائش گاہ ہو اور دوسرے میں مہمان خانہ تاکہ آنے جانے والے بھی اس باغ سے محظوظ ہوں اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی کے نشانات میں سے ہیں لیکن انسانیت کے یہ دونوں گروہ یعنی جن و انس کتنے بدبخت ہیں کہ اللہ رب کریم کے ان انعامات وقدرت کی نیرنگیوں کو خواہ مخواہ جھٹلا رہے ہیں اور پھر جھٹلاتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ان کو تنبیہاً کہا جارہا ہے کہ آخرتم لوگ کب تک اللہ کی ان قدرتوں اور کرشمہ سازیوں کا انکار کرتے ہی چلے جائو گے۔
Ayah 55:66

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

ان میں دو چشمے ابلتے ہوں گے

ان دونوں باغوں میں دو چشمے اپنے پورے زور سے چل رہے ہوں گے 66 (عینان) تثنیہ ہے مراد ہے دو چشمے۔ (عین) واحد ہے آنکھ کو اور چشمے کو کہتے ہیں کیونکہ آنکھ میں بھی بعض اوقات خودبخود پانی جاری ہوجاتا ہے اور چشمہ بھی اسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے خودبخود ہی پانی اترنا یا پانی نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ (نضاختان) تثنیہ ہے اور مبالغہ کے لیے بولا جاتا ہے واحد اس کا نضاخۃ ہے۔ دو ابلتے ہوئے چشمے جن کا پانی نہایت زوردار طریقہ سے نکلے جیسے فوارے (Fountains) جو کبھی بندنہ ہوں۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اہل جنت پر خیروبرکت برسانے والے ابن مسعود ؓ نے کہا مشک اور کافور کا اہل جنت پر چھڑکائو کرنے والے اور یہی انس ؓ کا بیان ہے کہ مشک اور عنبر کا ابلتا ہوا چھڑکائو کرنے والے ایسا جیسے بارش کا چھینٹا ہوتا ہے۔ (نضخ) مصدر ‘ پانی چھڑکنا ‘ بہت جوش زن ہونا ‘ بکھیرنا ‘ نیم سیراب کرنا۔ (نضاخۃ) اور (نضاخ) آپس میں پانی کے چھینٹے اڑانا اور (نضخ) (اسم) خوشبو کا وہ نشان جو کپڑے پر رہ جاتا ہے۔ یہ گویا ان دونوں باغات کا منظر پیش کیا جارہا ہے کہ باغات تو اپنی جگہ باغات ہی ہیں اور ان کی سرسبز و شاداب آب و ہوا کا منظر تو ہوگا جو ہوگا ان دونوں باغوں کے اندر فواروں کی طرح چلنے والے دو چشمے جو بہہ رہے ہوں گے وہ کتنا خوب صورت منظر پیش کر رہے ہوں گے کہ ان کو دیکھنے والوں کا کبھی جی نہیں بھرے گا اور نہ ہی وہ چشمے کبھی خشک ہوں گے۔
Ayah 55:67

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کن کن نشانیوں کو جھٹلائو گے 76 یہ وہی ترجیع ہے جو ہر آیت کے بعد آرہی ہے اور انسان کو تنبیہہ کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بےشمارنشانیاں ہیں جن میں سے ایک ایک کی نشاندہی کرائی جارہی ہے اور ساتھ ہر بار تم کو جھنجوڑا بھی جارہا ہے کہ تم سمجھ جائو اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو اور اچھی طرح سمجھ جائو کہ یہ دنیا کی زندگی اور اس کی ہو ہوا سب فانی ہے۔ تم آخرت کی فکر کرو اور اس کی طرف متوجہ ہو جائو آخر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی کن کن نشانیوں کو جھٹلائو گے۔
Ayah 55:68

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان باغوں میں میوے ہوں گے اور کھجور اور انار

دونوں باغوں میں میوے ہوں گے اور کھجور اور انار بھی ؎ 86 زیرنظر آیت مفسرین کے درمیان ایک معرکۃ الآرا آیت ہے اور اس پر بہت بحث و تمحیص کی گئی ہے۔ بحث کیا ہے ؟ یہی کہ آیا کھجور اور انار بھی (فواکہ) یعنی میووں میں آتے ہیں یا نہیں ؟ پھر اکثر اس طرف گئے ہیں کہ کھجوریں ‘ چھوارے اور انار (فاکھۃ) نہیں ہیں حرف عطف ، معطوف علیہ اور معطوف کی مغابرت پر دلات کر رہا ہے اور یہی بات اصل اور صحیح ہے کہ معطوف معطوف علیہ سے غیر ہوتا ہے اس لیے نخل اور مان (فاکھۃ) سے دو الگ چیزیں ہیں (فاکھۃ) کے ذیل میں داخل نہیں ہیں۔ درخت خرما کا پھل تازہ یا خشک محض غذا ہے اور انار دوا ہے اور (فاکھۃ) وہ چیز ہوتی ہے جس کا مقصد صرف لذت ذوق ہوتا ہے پھر یہ بحث چلتے چلتے یہاں تک پہنچی کہ آیا کسی نے قسم کھالی کہ میں (فاکھۃ) نہیں کھائوں گا اور پھر اس نے کھجور خشک یا تر یا انار کھالیا تو قسم ٹوٹی یا نہیں ٹوٹی ، کفارہ ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ پھر اس پر چاروں اماموں کے فتاویٰ اکٹھے کیے گئے ‘ ان کے دلائل بیان کیے گئے اور کسی نے قسم ٹوٹنے اور کسی نے نہ ٹوٹنے کا فتویٰ دیا اور اسی طرح کسی نے کفارہ ادا کرنے اور کسی نے کفارہ ادا نہ کرنے کی وضاحت کی۔ پھر بعض کے بیانات درج کیے گئے ہیں کہ کھجور اور انار (فاکھۃ) میں داخل ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ (فاکھۃ) کا لفظ عام ہے اور کھجور اور انار اس کی خاص قسمیں ہیں اور عام پر خاص کا عطف معطوف کی فضیلت اور اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کردیا جاتا ہے جیسے جبریل اور میکائیل کا عطف ملائکہ پر کردیا جاتا ہے۔ پھر یہ بیانات جمع کیے گئے ہیں کہ جنت کے یہ پھل کتنے کتنے بڑے ہوں گے ؟ اور کسی نے کہا کہ عام ہی پھلوں کی طرح ہوں گے جیسے دنیا میں ہوتے ہیں اور کسی نے کہا کہ نہیں وہ تو ڈول اور مشکوں کے برابر ہوں گے اور وہ درخت جن پر یہ پھل لگیں گے وہ سونے ‘ چاندی اور زمرد کے ہوں گے۔ ان کے پتے ایسے ایسے ہوں گے اور پھل اتنے اور اتنے بڑے ہوں گے۔ یہاں تک کہ ایک انار کو ایک پالان کسے ہوئے اونٹ کے برابر بیان کیا گیا ہے اور اس سے دوسرے پھلوں کا اندازہ بھی لگا لیں لیکن ہم ان ساری بحثوں میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے فقط اشارہ کیا ہے کہ زائد بحثوں میں الجھ کر بعض اوقات کتنی فضول بحث شروع ہوجاتی ہے کہ فرضی طور پر بات سے بات نکالتے ہوئے آدمی کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے اور اسی طرح کے بےلذت بحثوں میں قیمتی وقت کو ضائع کرنے تفسیر نہیں شغل کہلاتا ہے اور ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر ہمارے مفسرین نے اس شعل میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو بھی شامل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور ایسی روایات تفسیر کی کتابوں میں بھر دی ہیں جن کا تفسیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Ayah 55:69

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کن کن قدرتوں کا آخر انکار کرو گے 96 یہ آیت وہی ترجیع ہے جو آیت 31 سے شروع ہو کر برابر ہر آیت کے بعد بطور تنبیہہ کی گئی ہے اور اس کا موقعہ و محل اس جگہ بھی بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان قدرتوں ، کرشمہ سازیوں ‘ نشانیوں اور نعمتوں کی تکذیب ‘ آخر کیوں ؟
Ayahs 55:70–71

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان باغوں میں بھی خوبصورت اور خوب سیرت عورتیں ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

ان دونوں باغوں میں اچھی صورت و سیرت کی عورتیں ہوں گی 07 پیچھے آپ عطف اور معطوف کی بات پڑھ چکے ہیں اور ہم بار بار اسی تفسیر میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کراتے چلے آرہے ہیں کہ اہل زبان لغت کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ لغت اہل زبان کی محتاج ہوتی ہے۔ اس بات کو نہ سمجھنے کے باعث اس طرح کی بحثیں پیدا ہوتی رہی ہیں ‘ ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی کیونکہ اہل زبان نہ ہونے کے باعث جو سیکھا اور پڑھا گیا ہے اس کے مطابق کرنے کی کو شس ایک فطری امر ہے لیکن اہل زبان کا لغت کا پابند نہ ہونا بھی اپنی جگہ فطری بات ہے۔ اس جگہ اس لیے آپ کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ دو باغوں کا سلسلہ چلا ہے اور مسلسل چلتا ہی آرہا ہے۔ (فیھما منھما مدھا متن) اور (نضاختن) کے الفاظ پڑھ چکے ہیں جو تثنیہ پر لالت کرتے چلے آرہے ہیں لیکن زیرنظر آیت میں (فیھن) جمع کا صیغہ آرہا ہے حالانکہ جمع عربی زبان میں تین یا تین سے زیادہ تمام چیزوں پر بولتے ہیں اور ایک کو واحد اور دو کو تثنیہ کہتے ہیں۔ دو باغوں کا تصور تثنیہ چاہتا تھا اور تثنیہ ہی بیان ہوتا چلا آرہا تھا کہ اچانک دونوں باغوں کے لیے (فیھن) جمع کا صیغہ آگیا ہے حالانکہ مراد اس جگہ وہ دونوں باغات ہی ہیں جن کا ذکر پیچھے سے چلا آرہا ہے۔ (خیرات) نیکیاں ‘ بھلائیاں ‘ خوبیاں ‘ نیک عورتیں ‘ اچھی عورتیں۔ خیرۃ کی جمع ہے۔
Ayah 55:72

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

(یہ) حوریں خیموں میں مقیم ہوں گی

یہ حوریں خیموں میں مقیم ہوں گی 27 (حور) جمع ہے حوراء کی اور حورآء نہایت وری صورت کو کہتے ہیں جس کی رنگت سفیدی میں نکھری ہوتی ہو۔ یعنی اس کے گورے پن کے باعث ایک طرح کی چمک سی پیدا ہوگئی ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن کی آنکھوں کی سفیدی بہت سفید اور سیاہی بہت گہری سیاہ ہو اور آنکھوں میں سرخی ڈورے موجود نہ ہوں۔ مردوں کی آنکھوں میں سرخ ڈورے خوبصورتی کی نشانی ہے اور عورتوں کی آنکھوں کی سفیدی نہایت سفید ہو تو وہ خوبصورتی کی علامت تصور ہوتی ہے۔ اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ (حور) کا لفظ اس دنیا کی عورتوں کے لیے بولا گیا ہے یہ جو تصور پیش کیا جاتا ہے کہ حوریں کوئی نوری مخلوق ہیں صحیح نہیں ہے جس طرح مرد و عورت اس دنیا میں ایک جنس کی دو اصناف ہیں اسی طرح وہاں بھی ایک ہی جنس کی دو اصناف بیان کی گئی ہیں غیرجنس سے موانست کا کوئی تصور قرآن کریم میں موجود نہیں ہے۔ یہ تصور محض غلط العام ہے۔ (مقصورات) اسم مفعول جمع مؤنث مقصورۃ پردہ نشین ، مسہریوں کے پروں کے اندر چھپی ہوئی۔ (معالم) اور وہ عورتیں جنہوں نے اپیپ نگاہوں کو اپنے شوہروں کے لیے روک رکھا ہو اور وہ کسی دوسری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتی ہوں گویا مقصورات اور قاصرات تقریباً ہم معنی ہیں۔ (فی الخیام) جو خیموں کے اندر محفوظ ہیں اور باہر ادھر ادھر آوارہ گرد نہیں رہتیں۔ غور کرو کہ یہ خیمہ کا تصور نسل انسانی کی دوسری قسم کے لیے ہے جس کو اس سورت میں بار بار (جن) اور (الجان) سے تعبیر کیا گیا ہے کس طرح صادق آرہا ہے اور یہ ان لوگوں کے لیے خاص ہے جو معاشرتی زندگی میں مدنی زندگی کے مقابلہ میں بدوی زندگی کو زیادہ پسند کرتے ہیں ، پہاڑوں کی کہوں میں اور بستیوں سے دورخیمے گاڑتے ہیں اور ان خیموں میں رہائش پذیر ہوتے ہیں جس طرح معاشرتی زندگی میں مدنی زندگی اختیار کرنے والوں کے لیے خیموں میں کوئی دلچسپی کی بات نہیں ہوتی اسی طرح بدوی لوگوں کے لیے خیموں کے اندر ساری دلچسپی مخفی رکھی گئی ہے اور مدنی زندگی میں ان کے لیے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ قرآن کریم کے ایک ہی لفظ (الخیام) نے ساری حقیقت کھول کر رکھ دی ہے اگر کوئی عقل وفکر سے کام لینا چاہتا ہے تو اس پر کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں رہتی۔
Ayah 55:73

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی قدرتوں کا انکار کرو گے 37۔ یہ وہی آیت ترجیع ہے جو ہر آیت کے بعد تنبیہاً بیان کی گئی ہے اور اس جگہ بھی اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayah 55:74

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

ان کو کسی انسان یا جن نے ان سے پہلے چھوا تک نہیں ہو گا

ان عورتوں کو ان سے پہلے کسی جن یا انسان نے نہیں چھوا ہوگا 47۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ یہ حوریں دنیا ہی کی عورتیں ہوں گی جو مردوں کی ہم جنس ہوں گی اور دوبارہ زندہ ہونے کے بعد جو عورت بھی کسی جنتی کے نکاح میں دی جائے گی وہ اس کے نکاح میں دیئے جانے سے قبل کسی دوسرے کے نکاح میں نہیں رہی ہوگی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دنیا میں بھی کسی کے نکاح میں یا اسی مرد کے نکاح میں نہیں رہی ہوں گی خیال رہے کہ دوبارہ زندگی جب ملے گی تو اس زندگی میں مرد ہوگا یا عورت کوئی بھی ان میں سے بوڑھا نہیں ہوگا بلکہ جوان ہوں گے اور ایسے ہی لگیں گے کہ گویا ہم عمر ہیں اور پھر جنت میں عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ جو عوارضات پیدا ہوتے ہیں اور جو ان آدھی بھی بوڑھے کھوسٹ ہوجاتے ہیں اہل جنت کے لیے اس طرح کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوگی بلکہ وہ ہمیشہ جوانی کی عمر ہی میں رہیں گے۔ حوروں کے متعلق جو مفسرین نے تصور پیش کیا ہے کہ وہ نور سے پیدا کی گئی ہے اور اگر کوئی جنتی حور سمندر میں تھوک دے تو سمندر میٹھا ہوجائے اور اس طرح کی دوسری بہت سی باتیں جن کا ذکر کرنا بھی کوئی مناسب بات معلوم نہیں ہوتی یہ سب تصورات ہی تصورات ہیں جو محض وہی مفروضے گھڑنے والوں نے گھڑ لیے ہیں اور مفسرین نے جو تفسیری روایات درج کی ہیں سب کی سب بےاصل ہیں ، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ قرآن کریم میں اسی سورت میں پیچھے گزر چکا ہے اور یہاں بھی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اہل جنت کو جو جنت میں عورتیں پیش کی جائیں گی وہ دوبارہ زندہ ہونے کے بعد کنواری ہوں گی خواہ وہ اہل جنت کی وہ عورتیں ہوتیں جو دنیا کی زندگی میں بھی ان کے ساتھ رہ چکی تھیں یا وہ ہوں گی جو دنیا میں تو ان کے ساتھ نہیں رہی تھیں لیکن جنت میں ان کو پیش کی جائیں گی جو فریقین کی رضا مندی سے نکاح کرکے دی جائیں گی اور فریقین کا ایک دوسرے کے لیے رضا مند ہونا ہی اصل ضابطہ نکاح ہے۔ یہ جو روایات میں آیا ہے کہ دنیا کی عورتیں حوروں سے بہتر ہوں گی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو جوڑ جوڑے گئے یعنی ازدواجی زندگی میں اکٹھے رہ چکے اگر وہاں پہنچ کر بھی ان کو وہی سنگ اور ساتھ ملے گا تو بہرحال وہ پہلے دنیا میں بھی ساتھ رہنے کے باعث مرتبہ میں زیادہ ہوں گی کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی آزمائش کرچکے ہوں گے اور ایک دوسرے کے لیے باعث سکون رہ چکے ہوں گے اور یہ ساتھ جب ان کو دوبارہ نصیب ہوگا تو وہ ایک دوسرے کے لیے انجان نہیں ہوں گے بلکہ مکمل طور پر ان میں پہلے ہی ہم آہنگی ہوگی اور یہی باعث ہے ان کے بہتر ہونے کا اور یہ بات بالکل صحیح اور درست ہے۔
Ayah 55:75

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:75 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تھر دونوں اپنے پروردگار کی کن کن نشانیوں کو جھٹلائو گے 57۔ یہ آیت وہی آیت ترجیع ہے جو اس سورت میں بار بار بیان ہوتی چلی آرہی ہے تاکہ اس تنبیہ سے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہے تو کرلے اسی لیے سوالیہ انداز میں بار بار پوچھا جارہا ہے کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانی کو جھٹلائو گے ؟۔
Ayah 55:76

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader

یہ (لوگ) نادر اور نفیس سبز مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے

یہ لوگ نادر اور نفیس سبز مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے 27۔ (متکین) اسم فاعل جمع مذکر منصوب (مت کی) واحد اتکاء مصدر تکیہ لگائے ہوئے ، پیچھے کو گائو تکیہ سے سہارا لگائے ہوئے۔ مراد مرد اور عورتیں سب ہیں جو جنت میں رہ رہے ہوں گے اور تکیہ لگا کر بیٹھنے سے مراد دراصل آرام و سکون کے ساتھ بیٹھنا ہے جیسے انسان کو کسی طرح کا کوئی غم وفکر نہ ہو ، گویا بیٹھ گئے تو بس بیٹھ ہی گئے۔ (رفرف) قالین ، چاندنیاں ، تکیے ، چناچہ علامہ زمخشری الفائق میں لکھتے ہیں : الرفرف ماکان میں الدیباج وغیرہ رقیقا حسن الصبغۃ ” زخرف دیباج وغیرہ کا باریک خوش رنگ کپڑا ہے “ علامہ موصوف نے اس کی جامع تعریف کی ہے اور چونکہ اس کپڑے کے گدے ، تکیے ، چاندنیاں ، خیمے اور فرش وفروش تیار ہوتے ہیں اس لیے ان سب معافی میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ امام راغب تحریر کرتے ہیں اس کا واحد رفرف ہے اور جمع الجمع رفارف اور بعض نے گدے اور فرش کو رفرف بتایا ہے۔ حسن بصری مقاتل اور قرطبی کا یہی قول ہے۔ عوفی ابن عباس سے مروی ہے کہ رفرف فرشوں اور گدوں کا زائد حصہ ہے غالباً ھالر یا کپڑے کا کنارہ مراد ہے جو تخت کے چاروں طرف لٹکا رہتا ہے۔ (راغب ، معالم التنزیل ج 7 ص 21) عبقرق قیمتی ، نادر ، عجیب و غریب ، خوبصورت بچھونے۔ امام محمد بن عزیز تجستانی نزہۃ القلوب میں رقم طراز ہیں کہ عبقری موٹے فرش ہیں۔ ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ اہل عرب ہر بچھونے اور فرش کو عبقری کہتے ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ عبقر ایک خطہ ہے کہ جہاں منقش کپڑا تیار ہوتا تھا۔ چناچہ ہر عمدہ چیزوں کو اس کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔ نیز کہا جاتا ہے کہ عبقری ہر اس مرد اور ہر اس بچھونے کو کہتے ہیں جو قابل تعریف ہو اور اس معنی میں ایک حدیث بھی ہے کہ عمر ؓ کے لیے حدیث میں آیا ہے۔ : (فلم ارعبقر یایفری فریہ) ” پھر میں نے ایسا عجیب و غریب کسی کو نہیں دیکھا کہ جو ان کی طرح کام کرنے والا ہو۔ “ امام راغب لکھتے ہیں کہ : عبقر جنوں کی ایک بستی ہے جس کی طرف ہر نادر چیز کو انسان ہو یا حیوان یا کپڑا منسوب کردیا جاتا ہے اور اسی لیے عمر ؓ کے بارے میں بھی فرمایا گیا ہے۔ فلم ارعبقر یا مثلہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بچھونوں کی ایک خاص قسم ہے جو بہت ہی قیمتی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جنت کو بچھونوں پر یہ لفظ بولا ہے۔ “ اس کے مفہوم میں اور بھی بہت کچھ کہا گیا ہے قاموس میں عبقری کے حسب ذیل معافی لکھے گئے ہیں : (1) ہر وہ چیز جس میں کمال ہو۔ (2) سردار لوگ (3) وہ شخص جو سب پر فوقیت رکھتا ہو۔ (4) مضبوط اور قوی۔ (5) خاص قسم کے فرش اور بچھونے۔ (حسان) خوبصورت ، عمدہ ، حسین و نفیس ، مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جنت میں بچھے ہوئے پلنگوں پر جن کے بچھونے اور گدے بہت ہی قیمتی ہوں گے نہایت آرام و سکون کے ساتھ مع اپنی ازدواج کے بیٹھے ہوں گے اس طرح کہ ان کو کوئی غم واندوہ نہیں ہوگا اور جب بھی اور جس وقت بھی کسی پھل کا وہ خیال کریں گے تو وہ پھل ان کے اوپر جھک آئیں گے اور اشارہ کرنے کی دیر ہوگی کہ وہ پھل ان کے ہاتھوں میں ہوں گے اور اس طرح گویا وہ جنت میں نہایت ہی آرام و سکون کے ساتھ رہ رہے ہوں گے جس کا تصور بھی اس جگہ کرنا نہایت مشکل ہے اس لیے جو کچھ بھی کہا جائے گا وہ غیب میں پتھر مارنے کے مترادف ہوگا۔
Ayah 55:77

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے 77۔ غور کیجئے کہ اگر انسان یہ چند روزہ زندگی اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری اور تابعداری میں گزار دے اور اس کے بدلے میں ان عدیم النظیر اور لازوال روحانی اور جسمانی لذتوں اور مسرتوں سے اسے نوازا جائے تو یہ بہت نفع مند سودا نہیں ہے پھر غور کرو کہ کتنا ہی خوش نصیب اور بخت اور ہے وہ شخص جس نے زندگی کو اس لگن میں ختم کردیا اور کتنا بدبخت اور نامراد ہے وہ شخص جس نے ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں ، قدرتوں اور کرشمہ سازیوں کو جھٹلایا اور پھر وہ جھٹلاتا ہی چلا گیا اس کو بار بار سمجھایا گیا لیکن اس کے کان پر جوں بھی نہ رینگی اور وہ کبھی اپنی زندگی کی ڈگر کو بدلنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہ وہی آیت ترجیع ہے جو بار بار دہرائی جارہی ہے تاکہ کوئی شخص اگر سمجھنا چاہیے تو سمجھ لے کر ابھی اس کے سمجھنے کا وقت باقی ہے۔
Ayah 55:78

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader

بڑا بابرکت ہے آپ کے رب کا نام جو صاحب جلال اور عظمت ہے

بڑا ہی بابرکت ہے آپ ﷺ کے رب کا نام جو صاحب جلال و عظمت ہے 87۔ (تبارک) وہ بہت برکت والا ہے۔ وہ بڑی برکت والا ہے (تبارک) سے جس کے معنی بابرکت ہونے سے ہیں ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس فعل کی گردان نہیں آتی اور صرف ماضی کا ایک صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے آتا ہے اس لیے بعض لوگ اس کو اسم فعل بتاتے ہیں۔ (تبارک) کا لفظ قرآن کریم میں 9 بار استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بولا گیا ہے ، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : (1) الا الہ الخلق والا مرتبرک اللہ رب العلمین) (الا عراف 7 : 45) ” یاد رکھو اسی کے لیے پیدا کرنا ہے اور اسی کے لیے حکم دینا سو کیا ہی بابرکت ذات ہے اللہ کی تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا۔ “ (2) (تم انشانہ خلقا اخر فتبرک اللہ احسن الخالقین) (المومنون 32 : 41) “ پھر دیکھو ، کس طرح اس نے بالکل ایک دوسری ہی طرف کی مخلوق بناکر نمودار کردیا ؟ تو کیا ہی برکتوں والا ہستی ہے اللہ کی پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر پیدا کرنے والا۔ “ (3) (تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرا ) (الفرقان 25 : 1) ” نہایت ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے یہ الفرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لئے وہ نذیر ہو “۔ (4) (تبرک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک) (الفرقان 25 : 10) ” بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بیب زیادہ تم کو دے سکتا ہے “۔ (5) (تبرک الذی جعل فی السماء بروجا و جعل فیھا سراجا و قمرا منیرا ) (الفرقان 25 : 61) ” بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا ہوا چاند روشن کیا۔ “ (6) (ذلکم اللہ ربکم فتبرک اللہ رب العلمین ) (غافر 40 : 64) ” یہ ہے تمہارا رب بہت ہی با برکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے “۔ (7) (وتبرک الذی لہ ملک السموات والارض و ما بینھما) (الزخرف 43 : 85) اور بہت بابرکت ہے وہ ذات کہ اسی کے واسطے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور ہر اس چیز کی بادشاہی جو آسمان و زمین کے درمیان ہے “۔ (8) (تبرک اسم ربک ذی الجلال والاکرام) (الرحمن 55 : 78) ” بڑا ہی بابرکت ہے تیرے رب کا نام جو صاحب جلال اور عظمت ہے “۔ (9) (تبرک الذی بیدہ الملک و ھو علی کل شی قدیر ) (الملک 67 : 1) ” بہت بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ زیرنظر آیت اس سورت کے اختتام کی آیت ہے۔ یہ سورت الرحمن کے نام سے شروع ہوئی گویا اس کا آغاز بھی بہت ہی دلاویز تھا اور اختتام بھی بہت ہی روح پرور ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے رسول ! تیرے رب کا نام بہت ہی بابرکت ہے جو عظمت والا اور احسان فرمانے والا ہے۔ (سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک) ان ہی الفاظ پر ہم سورة الرحمن کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں۔ وآخر دعونا ان الحمد للہ رب العالمین۔ عبدالکریم اثری 23 مارچ 1998 ء