Ayah 55:15اور (الجان) کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا گیا ہے
51۔ (الجان) کا لفظ قبل ازیں سورة الحجر کی آیت 72 میں بھی گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی وضاحت کر آئے ہیں ملا خطہ ہو جلد پنجم ص 85۔ زیر نظر آیت (الانسان) اور (الجان) دو متقابل شخصیتوں کے طور پر بیان ہوئے ہیں اور اوس کی وضاحت آپ پڑھ چکے ہیں کہ ہماری فہیم کے مطابق جب یہ دونوں الفاظ دو متقابل شخصیتوں کے لیے بولے جائیں تو انسان یعنی (الانسان) اور اسی انسان جنس کی ایک دوسری قسم کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ فرشتہ کے مقابلہ کی مخالف قوتوں کے لیے اس لیے اس جگہ ہم انسان ہی کی جنس کی دوسری قسم کے متعلق اس کو سمجھتے ہیں کو رن کہ اس جگہ جس شخصیت کا بیان ہے وہ انسان کے مقابلہ میں برابر کی مکلف ہے اور اس کو الگ اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس میں آگ کا عنصر زیادہ اور اسی جبلت کے باعث اس کو الگ قسم کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ جس طرح اس کی جبلت میں فرق ہے اس کی معاشرتی زندگی میں بھی وہ جبلی فرق نمایاں ہے ایک مدنی زندگی کو پسند کرتا ہے اور دوسرا بدوی زندگی کو اور اسی طرح دوسرے فرق بھی نمایاں ہیں۔ زیر نظر آیت میں (الانسان) کے لیے ایک لفظ (کالفخار) آیا ہے لیکن (الجان) کے لیے (مارجٍ منٍ نارٍ ) کے الفاظ بھی بولے گئے ہیں اور (مارج) آگ کی لپٹ ‘ بھڑکتا ہوا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ (قاموس) (مرج) چراگاہ اور چراگاہ میں جانوروں کو چھوڑ دینا (مرج) چراگاہ میں چھوڑے ہوئے اونٹ ‘ تباہی ‘ بےچینی ‘ تباہ ہونا۔ ڈانواں ڈول ہونا اور ہاتھ میں انگوٹھی کا فٹ (Fit) نہ ہونا وغیرہ سب پر بولا جاتا ہے ۔ (حوط مریج) آپس میں گھتی ہوئی ، لپیٹی ہوئی ٹہنیاں۔ (امر مریج) مشتبہ اور گٹر بڑ کام۔ امام راغب (رح) نے (مارج) کا ترجمہ لھیب مختلط کیا ہے اور اس کو قرآن کریم نے دوسری جگہ (من نار السموم) (الحجر : 72) ” تیز قسم کی حرارت “ کے الفاظ سے ادا کیا ہے۔ آگ کا شعلہ نظر آتا لیکن چونکہ مفسرین کی اکثریت نے (الجان) سے ابو الجن مراد لیا ہے اور ان جنوں کو انسانوں کی طرح مکلف قرار دیا ہے اور انبیاء و رسول کو جو بنی نوع انسان کے لیے آئے ہیں ان ہی کو بنی نو عِ جن کے لیے بھی نبی و رسول مانا ہے حالانکہ یہ نظریہ کتاب و سنت کے بالکل خلاف ہے کیونکہ قرآن کریم نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے بار بار نبی و رسول نوع بشر سے ہونالازم و ضروری قرار دیا ہے لیکن نوع جن سے کسی نبی و رسول کا بیان نہیں کیا اگر کوئی شخص نوع جن سے کسی نبی و رسول کا ہونا تسلیم کرتا ہے یہ نطریہ بھی اسلام کا نظریہ نہیں اور اگر نبی نوع انسان کے لیے ہونے والے 7 انبیاء و رسل کو بنی نوع جن کے لیے بھی نبی و رسول مانا جائے تو یہ نظریہ بھی اسلام کا نظریہ نہیں کہلا سکتا لیکن اگر نبی نوع انسان کے دواقسام تسلیم کی جائیں جو فی الواقع موجود بھی ہیں ، پہلے بھی تھیں اور آج بھی ہیں اور دونوں کی رہائش ، بودوباش اور رہن سہن کے طریقوں اور دوسرے کاموں میں بھی واضح فرق موجود ہے اور دونوں کا تعلق بھی ایک نوع انسان ہی سے ہے لیکن اس کے باوجود مازج کا فرق واضح ہے تو اس کے پیش نظر اس نظریہ 9 کو قبول کرنا ہی زیادہ قرین قیاس اور مازج اسلام کے قریب ہے اگرچہ اس کے ماننے والے آٹے میں نمک ہی کے برابر ہوں یا اس سے بھی کم اور ان پر طرح طرح کے الزام بھی لگائے گئے ہوں جیسے ان کو معتزلہ ‘ مرجیہ ہی کے ناموں سے کیوں نہ یاد کیا گیا ہو کیونکہ کسی کی گالیوں سے حقیقت تو نہیں بدل جایا کرتی۔ ہمٰن تعجب ہے کہ ہم روزمرہ زندگی میں خود اپنی زبان اس طرح کے فقرات بولتے ہیں کہ ” فلاں آدمی تو نہیں وہ تو کوئی جنے “ ” اس کی کیا بات کرتے ہو وہ تو جن کی طرح کام کو چمٹ جاتا ہے۔ “ دفعہ ہو جائو تم تو جن کی طرح میرے پیچھے ہی پڑگئے ہو۔ “
Ayah 55:16پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نشانی کو جھٹلائو گے
61۔ (الانسان) کی دونوں اقسام جن کا گزشتہ دو آیتوں میں الگ الگ ذکر کیا گیا ہے ان کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اپنے وجود کے اندر ذرا غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے جسم کے اندر کتنی نشانیاں رکھ دی ہی کہ تم میں سے ہر ایک فرد عالم صغیر کہلاتا ہے جو عالم کبیر کیا یک ایک چیز اپنے اندر رکھتا ہے اسی عالم کبیر میں جو جو کچھ ایجاد ہوا وہ اس کے اندرونی نفسہ موجود ہے اور جو ابھی ایجاد ہوگا وہ بھی اس کے اندر پوشیدہ ہے جو اگرچہ ظاہر نہیں ہوا لیکن یقینا ظاہر ہوگا اور پھر تم ان نشانیوں پر غور و فکر کر کے اپنی آخرت کو بھی سنوار سکتے تھے لیکن افسوس تم پر کہ تم نے اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش ہی نہ کی بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو بھلا کر اپنی تکذیب خود کرنا شروع کردی کیونکہ اللہ کی پہچان جب اپنی ہی پہنچان ہے تو پھر اللہ اور اس کے رسول کی پہچان نہ کرنا بھی تو اپنی ہی پہچان بیان نہ کرنا ہے۔
Ayah 55:17وہی دونوں مشرکوں اور دونوں مغربوں کا رب بھی ہے
71۔ کی دو مشرقوں اور دو مغربوں کا جب ذکر آتا ہے تو اس سے دو سورج یا دو چاند الگ الگ تصور کرلیے جائیں گے ؟ ہرگز نہیں ‘ بلکہ اس سے ایک ہی سال کے دو موسم مراد لیے جائیں گے چونکہ دونوں موسموں کے حالات و عوارضات ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ ایک میں سخت گرمی ہے اور دوسرے میں سخت سردی۔ ایک کو صیف کہتے ہیں اور دوسرے کو شتا ایک میں ربیع ہے اور دوسرے میں خریف ہے۔ ایک میں گرمی ہے دوسرے میں جاڑا۔ من حیث الجنس ایک ہی طرح سے طلوع و غروب ہے لیکن ایک ٹھڑنا ہے اور دوسرے میں جلنا اور یہی بات گزشتہ آیت میں تخلیق انسانی میں پیش کی گئی ہے اور وہی بات اس جگہ دہرائی جا رہی ہے اور جس طرح دونوں نام ایک ہی مخلوق کے ہیں اسی طرح اس جگہ دونوں نام ایک ہی سورج اور چاند کے لیے مقرر کئے گئے ہیں لیکن موسم کے تغیر و تبدیل نے ان کو دو میں تقسیم کردیا ہے ‘ نہ سورج دو ہیں اور نہ ہیں چاند دو ہیں اس جگہ تمام مفسرین نے بھی یہ بات اسی طرح تسلیم کی ہے۔
Ayah 55:18پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
81۔ موسموں کا تغیر و تبدیل عین حکمت خداوند ہے توم خوان کون ہو ‘ کہاں ہو اور کیسے ہو جو موسم اللہ نے بنایا ہے اس کو تم ہٹا نہیں سکتے ہاں ! اس کی دی ہوئی عقل و فکر اور سمجھ سوچ سے تم اپنی اپنی ضرورت کے مطابق اپنی ضرورت کا ازالہ کرسکتے ہو اس کے زیر پروگرام ہی تم کرو گے جو کچھ کرسکو گے۔ اس کے پروگرام کو منسوخ کرنا اور ہٹانا تمہا اختیار اور بس کی بات نہیں ہے۔ اگر غور کرو گے تو اس میں تمہاری زندگی کے لیے کتنی نشانیاں موجود ہیں پھر تم اللہ تعالیٰ کی کس کس نشانی کی تکذیب کرو گے ؟
Ayah 55:19اس نے دو دریا رواں کیے ہیں جو باہم ملے ہوئے ہیں
91۔ (مرج) واحد مذکرغائب ماضی معروف مرج مصدر باب نصر ایک دوسرے سے ملا ہوا آزاد چھوڑ دیا (یلتقین) وہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔ دو دریا جو ہم باہم ایک دوسرے ملے ہوئے ہیں ان دو دریائوں سے مراد کوئی مخصوص دریا نہیں ہیں بلکہ وہ دو طرح کے پانیوں کا ذکر کرنا مقصود ہے کہ قدرت الٰیئ کے نشانات میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ جہاں کڑوا پانی پایا جاتا ہے وہا میٹھا پانی بھی موجود ہوتا ہے اور جہاں میٹھا ہوتا ہے وہاں کڑوا بھی۔ پانی وہ چیز ہے جو اپنی سطح ہموار رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی سطح بھی فی الوقاع ہموارہی رہتی ہے اور دونوں پانی برابر برابر چل رہے ہوتے ہیں لیکن دونوں آپس میں ملنے کے باوجود نہیں ملتے ہیں یہی حال گرم اور ٹھنڈے پانی کا بھی ہے اور اس حالت کو دیکھ کر انسان پھر قدرت الٰہی کو نہ پہچانے تو اس سے زیادہ ظلم کی اور کیا بات ہو سکتی ہے اور قدرت کے یہ نمونے آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں اگر اس کی مزید وضاحت چاہتے ہیں تو جلد ششم میں سورة الفرقان کی آیت 35 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 55:20ان دونوں دریائوں کے درمیان ایسا پردہ ہے کہ وہ دونوں تجاوز نہیں کر سکتے
02۔ بعض علاقوں میں دیکھا گیا ہے کہ دریا سمندر میں داخل ہو رہے ہیں ‘ دونوں کے پانیوں کو دیکھا گیا تو وہ دونوں پانی آپس میں نہیں ملتے ایسے بھی ہیں جن میں سے ایک کا پانی میٹھا ہے اور دوسرے کا کھاری اور ایسا بھی ہے کہ ایک دریا گرم ہے اور دوسرا سرد اور دونوں قوسم کے پانی سندر میں گر رہے ہیں اور سمندر کے اندر دور دور تک میٹھا پانی اپنے بہائو پر بہہ رہا ہے اور اس کا پانی میٹھا ہی ہے اور کھاری پانی اپنے بہائو پر جا رہا ہے اور کھاری ہی ہے اور یہی حال اس گرم ور سرد پانی کے دریا کا بھی ہے کہ باوجود آپس میں مل نہیں رہے۔ یہ جو ہم نے کہا ہے کہ کوئی پردہ ھائل نہیں ہے محض اس لیے کہا کہ دونوں کے درمیان کوئی پردہ نظر نہیں آتا لیکن قدرت نے ان دونوں کی خاصیت کے اندر ایک ایسا پردہ حائل کردیا ہے کہ نظر نہ آنے کے باوجود اس سے انکار ممکن نہیں کیونکہ جب وہ دونوں پانی آپس میں مل نہیں رہے تو آخر ان دونوں کے درمیاں کوئی پردہ تو بہر حال موجود ہے اور اس طرح کے ایک دو نہیں سینکڑوں ہزاروں پردے موجود ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے لیکن اس کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آخر کوئی پردہ یا روک تو بہر حال وہاں موجود ہے۔ غور کرو گے تو تم کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجائے گی مثلاً آپ دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی نہایت خلوص کے ساتھ وعظ و درس دیتا ہے لیکن اس کو سن کر بعض کے دل پانی پانی ہوجاتے ہیں یا موم کی طرح نرم ہو کر بات کو تسلیمم کرنے پر مجنبور ہوجاتے ہیں اور بعض بےدھڑک ہو کر ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں اور ان پر ذرا بھر بھی اثر نہیں ہوتا آخر ان دونوں کے درمیان کو فرق تو موجود ہے جس نے دونوں پر یکساں اثر نہیں کیا اسی طرح آپ غور کرتے جائیں گے تو بہت سی باتیں سمجھ جائیں گے کہ جس طرح یہ دو دریا آپس میں بغاوت کر کے مل نہیں رہے اسی طرح بہت سی باتیں ہیں جو اپنے الگ الگ اثرات رکھتی ہیں اگرچہ بظاہر ان کے اثرات نظر نہ آئیں۔
Ayah 55:21پھر اپنے رب کی کون کون سی نشانیوں کا تم دونوں انکار کرتے جائو گے
12۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان حکمتوں کو دیکھنے کے باوجود اگر تم دونوں اپنی روش سے باز نہیں آئو گے اور ان چیزوں کو توحید الٰہی کے نشانت نہیں سمجھو گے تو آخر وہ کیا چیز ہوگی جو تم کو باور کرائے گی اور تم اللہ تعالیٰ کی ان حکمتوں کو جھٹلانے سے باز آئو گے۔
Ayah 55:22دونوں قسم کے دریائوں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں
22۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں پانیوں کی خاصیت تو الگ الگ ہے لیکن قدرت الٰہی کی نیر نگلیاں آپ دیکھیں کہ موتی و مرجان دونوں پانیوں سے ایک جیسے حاصل ہوتے ہیں جو ایک جیسی قیمت پاتے ہیں۔ الولوا ‘ اللولو ‘ اللولو تینوں میں اعراب کا فرق ہے ‘ تینوں مفرد ہیں اور تینوں کی جمع الالی ہے یعنی بہت سے موتی۔ (المرجان) اسم جمع ہے جس کا مفرد المرجانۃ ہے اور معنی اس کے بھی موتی ہی ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ (المرجان) چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں اور (اللولو) بڑے موتی کو۔ عین ممکن ہے کہ اس کھاری اور میٹھے پانی کا کہیں ایسا جوڑ لگتا ہو جس سے ان کی پیدائش ہوتی ہے کیونکہ قرآن کریم نے ہر ایک چیز میں جوڑا جوڑا ہونے کی تصدیق کی ہے اور جوڑا میں ایک جنس کی رو اصناف کا ملنا ضروری ہے۔ اور اسی سے پیدائش کا سلسلہ آگے چل نکتا ہے اور شاید اسی مقصد کے لیے دونوں پانیوں کا ذکر ضروری سمجھا گیا ہے کیونکہ ہر ایک چیز کی پیدائش میں بنیادی چیز کو پانی ہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ چھوٹے اور بڑے موتی انسان کی معیشت کا کام بھی دیتے ہیں کہ ان میں سے محض بہت قیمتی سمجھے جاتے ہیں اور جن کو حاصل کرنے کے لیے لوگ بڑی بڑی رقمیں خرچ کرتے ہیں اور ان کے اوصاف واثرات بھی لوگوں میں زیر بحث آتے ہیں اور عورتیں بطور زیور بھی ان کو پہنتی ہیں اور بھی بہت سی زیباش کی چیزیں ان سے بنائی جائیں ہیں اور بہت قیمتی مالا اور ہار (Chain) بھی ان کے بنائے جاتے ہیں۔ لوگوں نے اس آیت میں اور بھی طرح طرح کی موشگافیاں کی ہیں اور بعض نے صرف کھاری پانی سے ان موتیوں اور مونگوں کے حاصل ہونے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے میٹھے پانی کی پیدائش ان کو قرار دیا ہے لیکن ان ساری باتوں اور چیزوں کا تعلق تجربہ اور مشاہدہ سے ہے وہ ہم کو حاصل نہیں اور محض ان باتوں کا بھیڑ ہم بھڑنا نہیں جانتے اس لیے ہم نے اپنی تفہیم کے متعلق یہ سمجھا ہے کہ جب ان دونوں پانیوں کی طرف اشارہ یعنی (منھما) کی ضمیر ان دونوں قسم کے دریائوں ، سمندروں اور پانیوں ہی کی طرف ہے اس لیے عین ممکن ہے کہ ان دونوں پانیوں کے ملنے ہی سے ان کی پیدائش ہوتی ہو یا ان دونوں قسم کے پانیوں سے ان جانوروں اور کیڑوں کے جرثوموں پر کوئی اثر ظاہر ہوتا ہو جن سے وہ سیپ تشکیل پاتے ہوں۔ اس معاملہ میں کیا کیا مشاہدات ہوئے ہیں اور کیا کیا تجربے کیے گئے ہیں ہم ان سے بالکل کورے ہیں اگر ان کی تاریخ روشنی میں نہیں آئی تو یقیناً آئیگی۔
Ayah 55:23پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کا تم دونوں انکار کرتے جائو گے
32۔ یہ وہی ترجیح ہے جو بار بار دہرائی جارہی ہے اور یہ محض تفنن طبع کے لیے نہیں بلکہ اس کا بار بار آنا اور دہرایا جانا تو جہ مبذول کرانے کے لیے ہے کہ شاید تم کسی وقت ہی متوجہ ہو کر اپنی اصلاح کرلو اور انسانی اصل کی یہ دونوں اقسام اپنی اصلاح کرکے دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کرلیں۔ جس طرح بعض اوقات انسان ایک بات کو کرتا ہے اور کرنے کے بعد توجہ کے لیے کوئی فقرہ بولتا ہے اسی طرح اس فقرہ کو بار بار دہرایا جارہا ہے لیکن ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینے والے بہت ہی کم ان فقرات پر توجہ دیتے ہیں۔
Ayah 55:24اور یہ جہاز جو پانیوں میں چلتے ہیں جیسے بلند پہاڑہوں اسی کی کرشمہ سازی ہے
42۔ (اَلَجوار) الجاریۃ کی جمع کشتیاں یا پانی کے جہاز (اَلمنثت) اسم مفعول جمع مئونث المنشاۃ واحد انشاء مصدر سطح سمندر سے اونچی کی ہوئی کشتیاں یا جہاز یا جن کشتیوں اور جہازوں کے بادبان اونچے ہوں اور دور سے دیکھنے والوں کو اونچے اونچے نشانات کی طرح نظر آئیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان پانیوں ، سمندروں اور دریائوں میں یہ جو کشتیاں اور جہاز چلتے تم لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں ان پر تم خود سوار ہوتے ہو اور اپنے سامان وغیرہ کو لاد کرلے جاتے ہو اور لے آتے ہوں ان سب کا پیدا کرنا اور بنانا ، چلنا اور چلانا کس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کی نشانی ہے کیونکہ وہی ہے جو ان کا میٹریل (Material) تیار کرنے والا اور پیدا کرنے والا ہے اور اسی نے ان چیزوں میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ مدت تک پانی کے اندر رہ کر یہ چیزیں گل اور سٹر نہیں جاتیں اور ان میں یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اتنی اتنی وزنی چیزیں ہو کہ اس میں ڈوب نہیں جاتیں اور صرف یہی نہیں کہ خود نہیں ڈوبتیں بلکہ تم کو اور تمہارے سامان کو بھی نہیں ڈوبنے دیتیں۔ وہ سامان اللہ تعالیٰ ہی کے پیدا کردہ ہیں جن سے یہ تیار کی جاتی ہیں اور وہ انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جنہوں نے ان کو بنایا اور تیار کیا اور ان کی عقل وفکر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ پھر تعجب ہے تم پر کہ تم ان کشتیوں اور جہازوں کو دیکھ کر تو متعجب ہوتے ہو لیکن اس اللہ کی قدرتوں اور نشانیوں پر کبھی غور نہیں کرتے جس نے ان کے سامانوں کو پیدا کیا اور ان میں اس طرح کی صلاحیت ودیعت کی ، انسان جو خود مخلوق ہے اس نے کیا کیا ؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ کی ان تخلیق کردہ چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل وفکر سے جوڑ دیا لیکن ان ساری چیزوں میں کسی ایک چیز کو بھی اس نے پیدا نہیں کیا اور نہ ہی وہ کرسکتا ہے۔
Ayah 55:25پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
52۔ پھر دونوں گروہوں کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ تم نے توجہ نہ کرنے کی قسم کھائی ہے تو کھائے رکھو لیکن ہم بھی تمہارے کانوں تک یہ بات پہنچا کے رہیں گے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور حکمتوں کو آخر کب تک جھٹلاتے رہو گے اس لیے کہ یہ عمر کی ناپائیداری تم کو کب تک مہلت دیتی رہے گی ؟ آج نہیں تو کل تم یقیناً دھر لیے جائو گے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو جھٹلانے کا سارا نشہ فوراً ہرن ہوجائے گا۔
Ayah 55:26جو کچھ بھی زمین پر ہے سب فنا ہوجانے والا ہے
62۔ تم کہاں ہو اور تمہارے یہ جہاز اور کشتیاں کہاں ہیں ؟ غور کرو گے تو یقیناً یہی کہو گے کہ یہ سب کچھ تو اس زمین اور دھرتی ہی پر ہے جس پر ہم آباد ہیں۔ بالکل صحیح کہ تم اور تمہارے یہ سارے سازو سامان اس دھرتی پر ہیں پھر کبھی تم نے غور کیا کہ یہ دھرتی کیا ہے ؟ ہاں ! غور سے سن لو اور خوب یاد رکھو کہ یہ زمین فانی ہے اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اس سب کو فنا ہے۔ نہ تم کو ہمیشہ رہنا ہے اور نہ تمہارے اس سروسامان کو کیونکر تم بھی ، تمہارا یہ سروسامان بھی اور تمہاری یہ زمین بھی جس پر تم آباد ہو سب مخلوق ہیں اور ساری مخلوق کے لیے فنا ہے اور یہ جو مہلت اور ڈھیل دی گئی ہے یہ سب اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی کرشمہ سازی ہے۔
Ayah 55:27صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو نہایت بزرگی اور عظمت والی ہے
72۔ اس دھرتی پر جو پیدا ہوا وہ کیوں پیدا ہوا ؟ مرنے کے لیے آج تک اس دنیا میں اس زمین پر کون کون سی ہستیاں اور شخصیتیں آئیں اور ان سب کو حباب آب کی طرح مٹا دیا گیا اور جو کچھ تم کو اس وقت نظر آرہا ہے یہ سب کا سب بھی مٹنے والا ہے ، مٹ رہا ہے اور مٹ جائے گا۔ کسی کے لیے نہ بقاء تھی ، نہ ہے اور نہ ہی ہوگی۔ تم کس غلط فہمی میں مبتلا ہو ؟ ذرا غور کرو کہ یہ غلط فہمی دور کرتے اس کو کتنی دیر لگتی ہے جس طرح یہ معرض وجود میں لانے کے لیے وہ (کن) کہتا ہے تو (فیکون) ہوجاتا ہے اسی طرح وہ اسکے معدوم کرنے کے لیے (کن) کہے گا تو (فیکون) ہوجائے گا۔ اور یہ (کن) اور فیکون) بھی محض تمہاری تفہیم کے لیے ہے ورنہ وہ ان الفاظ کا محتاج نہیں ہے۔ اس دنیا میں جس نے اپنے آپ کو صاحب جلال وعزت اور شان سمجھا اس نے سخت غلطی کی۔ بڑی بڑی شخصیتیں آئیں آج وہ کہاں ہیں ؟ ان کا نام ونشان بھی باقی نہیں ہے۔ اگر کسی کو عزت وجاہ حاصل ہو ، اگر کسی کے پاس دولت و ثروت کی فراوانی ہوں اگر اسے کسی محدود علاقے کا اقتدار واختیار مل جائے تو اسے اکڑنا نہیں چاہئے ، اپنے رب کریم کو بھلا کر شیطان سے دوستانہ نہیں گانٹھ لینا چاہئے۔ اسے یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ وہ خود اور اس کے جاہ وحشم بلکہ اس زمین پر جو کچھ ہے سب کا سب فانی ہے ، سب ناپائیدار ہے۔ بقا اور دوام فقط رب ذوالجلال والا کرام کا حصہ ہے۔ خیال رہے کہ (یاذواحلال والاکرام) کا وردو وظیفہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے بتایا ہے۔ (حصن حصین)
Ayah 55:28پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
82۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تو خیال رہے کہ موت بھی اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کوئی بوڑھا کسی مصیبت میں مبتلا ہو کر جب پکارتا ہے کہ ہائے میری مائے تو اس کو یہ خیال بھی کرنا چاہئے کہ اس بڑھاپے میں وہ جس کو یاد کر رہا ہے اگر وہ اس وقت موجود ہوتی تو اس کو جو حال ہوتا وہ تو ہوتا لیکن تیرا حال کیا ہوتا ؟ بس اچھا ہوا کہ وہ اس وقت موجود نہیں ہے ورنہ تیرا حال اس سے بھی برا ہوتا جو اس وقت ہے اس لیے اگر آپ بغور دیکھیں گے آپ کو معلوم ہوگا اور آپ یقین کریں گے کہ موت بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ موت نہ ہوتی تو اس دنیا کی زندگی کا کوئی لطف اور مزہ نہ ہوتا۔ زندگی کا سارا لطف اسی موت سے ہے۔ اگر آپ نے کسی بوڑھے کھوسٹ کی موت اور اس کے مقابلہ میں کسی جوان کی موت کو دیکھا ہوگا تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ موت کتنی خوشی کی بات بھی ہے اور کتنا افسوسناک حادثہ بھی ہے۔ بات بالکل صحیح اور درست ہے کہ لوگ روتے ہیں تو اپنی اغراض کو اور اپنی کمیوں کو ورنہ جان تو بوڑھے اور جوان دونوں ہی میں ایک جیسی تھی۔ ذرا ان بوڑھوں سے پوچھ کر تو دیکھیں جن کی لمبی عمران کے لیے وبال جان بن گئی ہے۔ نہ آنکھیں دیکھتی ہیں ، نہ زبان بولتی ہے ، نہ ہاتھ ہلتے ہیں اور نہ ٹانگیں چلتی ہیں۔ معدہ کمزور ، جگر بےکار ، دل بیمار ، دماغ ہے کہ کام نہیں کرتا یہ بیچارا اپنے اہل و عیال کے لیے بھی وبال جان بن کر رہ گیا ہے اور دوسروں کے لیے ایک ناپسندیدہ اور ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ کیا اس کے لیے موت کی آغوش امید افزا اور راحت بحش نہیں ؟ اگر غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ موت ہی ایک وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان مصائب وآلام کی اس دنیا سے چھٹکارا حاصل کرکے عالم آخرت کی طرف رواں دواں ہوتا ہے اور کہا گیا ہے کہ موت ایک ایسا پل ہے جو بچھڑے یار کو بچھڑے سے ملادیتا ہے۔ پھر تم دونوں اللہ تعالیٰ کی اس نشانی کو بھی جھٹلاتے ہو تو آخر تم اس کی کون کون سی نشانی کو جھٹلاتے رہوں گے۔
Ayah 55:29آسمان و زمین والے سب اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز ایک نئی شان میں ہے
92۔ دنیاو آسمان میں جو کچھ ہے خواہ وہ نبی و رسول ہے ، وہ پیروبزرگ ہے ، وہ جن وفرشتہ ہے ، وہ نوری ہے یا ناری ہے ، وہ خاکی ہے یا آبی ہے ، وہ بڑا ہے یا چھوٹا ہے ، وہ عزیز ہے یا حقیر ہے ، وہ شاہ ہے یاگدا ہے ، وہ راجہ ہے یا پر جا ، وہ حاکم ہے یا محکوم ، وہ آقا ہے یا غلام بلاستشناء سب اسی کے دربار کے بھکاری اور مانگت ہیں۔ سب کا وہی داتا ہے ، اس کے سوا کوئی داتا نہیں۔ سب اسی کے جودوکرم پر آس لگائے ہوئے ہیں اگر کوئی بیمار ہے تو اسی سے صحت مانگتا ہے یہی وہ دروازہ ہے جہاں کھڑے ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) بھی پکار کر کہتا ہے۔ (واذمرضت فھویشفین ، ھوبطعمنی ویسقمن) بھوکا ہے تو اسی سے رزق مانگ رہا ، طالب علم ہے تو اسی سے علم کی بھیک مانگ رہا ہے ، اگر کوئی دولت کا طلبگار ہے تو اسی سے سیم وزرمانگ رہا ہے اور اگر کوئی ارباب صدق وصفا ہے تو اسی سے اس کی رضا مانگ رہا ہے۔ آخر کون ہے جو وہاں سائل نہیں ہوا ؟ اور کون ہے جو اس درکاگدا نہیں ؟ کسی کو اس نے خالی ہاتھ واپس بھیجا ہے ؟ کون ہے جس نے مانگا ہے تو پایا نہیں ہے ؟ کسی ایک کا نام لو۔ زمین میں کوئی ایسا ہے تو بتائو اور آسمان میں کوئی ایسا ہے تو اس کی نشاندہی کرو۔ مخلوق ہونے سے کون انکار کرتا ہے یا انکار کرسکتا ہے پھر مخلوق کا تو یہ حال ہے اور خالق اپنی مخلوق کی التجائوں کو سن رہا ہے اور ان کی دعائوں کو قبول کر رہا ہے۔ تاج سلطانی بخشتا ہے تو وہی بخشتا ہے ، کسی کو مال و دولت کی نعمت عطا کرتا ہے تو وہی کرتا ہے ، کسی کے سینہ میں چراغ معرفت فروزاں کرتا ہے تو وہی کرتا ہے ، کسی کو اپنا درد عطا کرتا ہے تو وہی کرتا ہے ، کوئی غم میں گھل رہا ہے اور کوئی خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ کسی کو زندگی عطا کر رہا ہے اور کسی کو موت سے دوچار کر رہا ہے۔ کہیں طوفان اور باد و باراں ہے اور کہیں لوگ بارش کو تر رہے ہیں۔ کوئی نوازا جارہا ہے اور کوئی محروم کیا جارہا ہے روز اس کی شان کا ظہور ہورہا ہے اور ساری شانوں کا وہ خود ہی مالک ومحافظ ہے۔
Ayah 55:30پھر تھر دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
03۔ رب ذوالجلال والا کرام کی توحید کی یہ نشانی جو اوپر بیان کی ہے کہ ہر ایک خواہ وہ کون ہے ، کہاں اور کیسا ہے ؟ آسمانوں میں ہے یا زمین میں اللہ تعالیٰ ہی کے دروازہ کا سائل ہے لیکن جنس انسان ہی کی دونوں اقسام ایسی ہیں کہ وہ خالق کے دروازہ کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف دوڑتی ہیں۔ اسی مخلوق کو حاجت روا اور مشکل کشا بناتی ہیں ، کسی کو داتا قرار دیتی ہیں ، کسی کو روزی رساں سمجھتی ہیں ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوق میں سے یہی دونوں ارادہ اور اختیار رکھتی ہیں اور یہی دونوں مکف قرار دی گئی ہیں علاوہ ازیں کسی کو اختیار و ارادہ سے نوازا ہی نہیں گیا اس لیے تم دونوں ہی اپنے ارادہ اور اختیار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہو۔
Ayah 55:31اے جن وانس ہم فارغ ہو کر عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوں گے
13۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو اپنے وعدوں کی پابند ہے نہ وہ اپنے وعدہ کا خلاف کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے اس لیے جو ڈھیل اور مہلت اس نے دی ہے اس کو بہرحال تم پورا کرو گے اور اس مہلت کو پورا کرنے کے لیے جو وقت درکار ہے یعنی جو مہلت مقرر ہے اس کے پورا ہونے کو (سنفرغ لکم) سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس وقت اللہ میاں بہت مصروف ہے یا فارغ نہیں ہے اور جوں ہی فارغ ہوگا تو تمہاری خبر لے گا ، نہیں ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ مصروف ہونے سے پاک ہے اور اس کو کوئی مشکل اور کٹھن درپیش نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی بڑی مہم میں مصروف ہے کہ تم سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس وقت نہیں ہے۔ مطلب وہی ہے جو ہم نے اوپر عرض کردیا ہے کہ جب اس نے خود مہلت دی ہے تو آخر وہ اس مہلت کو گزرنے کیوں نہیں دے گا ؟ کیا تمہارے بھاگ جانے کا کوئی امکان ہے ؟ نہ ہی ایسا کوئی امکان ہے اور نہ ہی کوئی اس سے بھاگ سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کو بھاگنے دیتا ہے بلکہ اس تے تم کو سوچنے سمجھنے کے لیے خود وقت دیا ہے تاکہ تم اپنے اختیار و ارادہ کے ساتھ اپنی اصلاح کرنی چاہو تو کرسکو لیکن اگر تم اپنی اصلاح کی بجائے افساد ہی کرنا چاہتے ہو تو بھی وہ تم کو اس سے بزور نہیں روکتا بلکہ تم نافرمانیوں پر نافرمانیاں کرتے رہو تو وہ تم سے درگزر کرتا ہے اور جو نہی اس کی دی ہوئی مہلت پوری ہوجائے گی تو وہ تم کو فوراً پکڑ لے گا اور جہاں بھی اور جس حالت میں بھی ہو پکڑ لیے جائو گے اور پھر جب وہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ سے کوئی بھی کسی کو چھڑا نہیں سکتا۔ قبل ازیں ہم بہت دفعہ یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے لیکن وہ انسانوں ہی کی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ انسان اپنی زبان میں جو کچھ ایک دوسرے سے بولتا ہے اسی زبان میں یہ کلام کیا گیا ہے ہم اپنی زبان میں بولتے ہیں کہ ہم فارغ ہوتے ہیں ، ہمیں فرصت ملتی ہے تو تمہاری خبر لیتے ہیں ، تمہیں چھٹی کا دودھ یاد دلاتے ہیں اور مراد اس سے فقط آگاہ اور متنبہ کرنا ہی ہوتا ہے اور اس طرح زبان میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہہ فرمائی ہے۔ (ثقلن) دو بھاری چزیں۔ دوبوجھل چیزیں۔ دوبوجھل خلقتیں مراد ہیں۔ جنس انسانی کی دونوں قسمیں ہیں جن کو جن وانس کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے اور ان کا نام (ثقلن) اسی لیے ہے کہ یہ دونوں ساری مخلوق خداوندی سے قدرومنزلت میں زیادہ ہیں کیونکہ ان کو عقل وفکر اور سمجھ سوچ عطا کی گئی ہے جس نے ان کو قدر ومنزلت میں بھاری کردیا ہے اور اسی لیے ان کو مکف قرار دیا گیا ہے۔ اور (ثقلن) عرب میں ہر ایک نفیس اور قیمتی چیز پر بھی بولتے ہیں کہ یہ بہت ثقل ہے اسی طرح سردار قوم کو بھی ثقل کہا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سے یہ دونوں قسمیں بہت قیمتی اور بھاری ہیں۔ حدیث شریف میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ : (انی تارک فمک الثقلین کتاب اللہ وعترتی) ” میں تم میں چھوڑ رہا ہوں اور دو بھاری چیزیں ایک کتاب اللہ اور دوسری اپنی عزت “ اور ظاہر ہے کہ ان کو ثقلین ان کی قدرو منزلت ہی کی وجہ سے کہا گیا ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ان دونوں (ثقلن) ان کے گناہوں کے باعث کہا گیا ہے اور مختلف اقوام سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس مضمون میں وسعت بہت ہے۔
Ayah 55:32پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
23۔ اس دنیا میں جتنے دلائل توحید الٰہی کے بیان کیے جاسکتے ہیں ایک ایک کرکے بیان کیے گئے لیکن تمہارے کان پر جوں تک بھی نہ رینگی اور تم نے ان کی طرف توجہ کرنے سے کلی طور پر انکار کردیا ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوئے تو کیا تم جب عدالت الٰہی قائم ہوگی اور تمہارا سارا کیا کرایا تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا تم اس وقت بھی جھٹلائو گے لیکن تم کو قبل ازوقت ہی بتا دینا چاہتے ہیں کہ تم نہیں جھٹلا سکو گے۔ آخر تم کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے۔
Ayah 55:33اے جن وانس کے گروہ اگر تم سے ہو سکے اور تم بھاگ سکو تو ذرا بھاگ کر دکھائو
33۔ (یمعشر) اسم مفرد ہے جس کے معنی ہیں بڑا گروہ۔ اس کی جمع ہے معاشر جنس انسان کے دو ہی بڑے گروہ ہیں جن کا ذکر پیچھے سے چلا آرہا ہے یعنی جن وانس اور ان دونوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ تمہیں سمجھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن تم نے دلائل عقلی ونقلی دونوں کو ٹھکرا دیا اور ایک قدم بھی اپنے ارادہ اور اختیار کے ساتھ سیدھانہ اٹھایا لیکن اس کے باوجود تم جہاں رہ رہے ہوں جہاں بس رہے ہو ، جہاں پر یہ بداعتدالیاں کر رہے ہو یہ زمین بھی اللہ کی بنائی ہوئی ہے اور تمہارے سروں پر جو آسمان نظر آرہا ہے وہ بھی اسی رب ذوالجلال والا کرام کا ہے اور جو کچھ تم کھاتے پیتے ہو اس میں سے بھی ایک چیز ایسی نہیں جو رب کریم کی پیدا کردہ نہ ہو اور تعجب ہے تم پر کہ تم اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اس کی ایک بات بھی اپنے ارادہ اور اختیار سے ماننے اور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو اگر تم اتنے ہی بیزار ہو تو ذرا ان آسمانوں اور زمین سے بھاگ کر تو دکھائو اگر تم بھاگ سکتے ہیں اور کسی ایسی جگہ جا کر رہو اور بسو جہاں اللہ کی بنائی ہوئی کائنات نہ ہو بلکہ تمہارے ان حاجت روائوں اور مشکل کشائوں کا بنایا ہوا نظام اور انہی کے کنٹرول کے تحت وہ چل رہا ہو۔ آئو ہم تم کو تحدی اور چیلنج سے بتائے دیتے ہیں کہ تم اللہ رب کریم کے نظام سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے بلکہ تم جہاں بھی جائو گے اسی کی بنائی ہوئی کائنات ہوگی اور اسی کا چلایا ہوا نظام اور حکومت ہوگی اس لیے کہ یہ کائنات ہو یا وہ کائنات اور جہاں بھی انسان پہنچے گا خواہ وہ کسی ایسی جگہ اور ایسی زمین پر چلا جائے جہاں یہ زمین و آسمان نہ ہوں تو وہاں بھی جو نظام ہوگا وہ رب ذوالجلال والا کرام ہی کا ہوگا کیونکہ یہ زمین کیا ہے ؟ ایک سیارہ ہی تو ہے جیسے دوسرے سیارے ہیں اور جس طرح اس سیارے کا بنانے والا اور اس کا نظام چلانے والا اللہ ہے۔ ان سیاروں کا نظام بھی وہی چلا رہا ہے اور اسی کے بندھن میں ہر ایک چیز بندھی ہوئی ہے اور وہی ہے جو ان کا بھی خالق ومالک ہے جو اس سیارے کا ہے۔ زیر نظر آیت نے یہ بات واضح کردی کہ انسان اگر ہمت کرے تو دوسرے سیاروں تک پہنچ سکتا ہے اور یہ بھی کہ دوسرے سیاروں میں زندگی یقیناً موجود ہے اور انسان بھی وہاں جاکر رہ سکتا اور بس سکتا ہے اور اس کے شواہد آہستہ آہستہ اب نظر آرہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ کسی وقت یہ سلسلہ چل نکلے اور انسان اس سیارہ سے ہجرت کرکے کسی دوسرے سیارہ تک پہنچ جائے۔ قرآن کریم کی تعلیم میں ایسے اشارات واستعارات پائے جاتے ہیں جیسا کہ پیچھے بھی کئی ایک مقامات پر ایسے اشارے گزر چکے ہیں۔ اس لیے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ (اقطار) جمع ہے قطر کی جس کے معنی جانب اور طرف کے ہیں۔ (انفذوا) تم نکل بھاگو نفوذ سے جس کے معنی چیر نے ، نکل جانے اور رہائی پانے کے ہیں۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ (لاتنفذون) نہیں تم نہیں نکل سکو گے ، تم نہیں بھاگ سکو گے۔ نفوذ سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔
Ayah 55:34پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
43۔ یہ آسمان ہوں یا زمین یا ان آسمانوں اور زمین کے درمیان جو کچھ ہے اس میں بیشمار نشانیاں موجود ہیں اور ظاہر ہے کہ ان نشانیوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود لوگ ان سے فائدہ حاصل نہیں کرتے اور جس چیز سے جو فائدہ حاصل کرنا چاہئے اگر اس سے وہ فائدہ حاصل نہ کیا جائے تو یہی اس کا جھٹلانا ہوتا ہے اس لیے اس ترجیح کو بار بار لوٹایا جارہا ہے ، تاکہ لوگ متنبہ ہوجائیں۔
Ayah 55:35تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا ، تم اپنی مدد بھی نہ کرسکو گے
53۔ (شواظ) شعلوں کو کہتے ہیں جن میں دھواں نہ ہو۔ اسم ہے اور نحاس بھی اسم ہے اور مفسرین نے اس کا ترجمہ دھواں ہی کیا ہے۔ (مدارک ، جلالین ، خازن ، ابوسعود ، وصاوی) سعید بن جبیر اور کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ لیکن بعض نے پگھلا ہوا تانبا جو دوزخیوں کے سروں پر ڈالا جائے گا اور (نحاس) کو المھل بھی کہا گیا ہے اور قرآن کریم میں (المھل) کا لفظ تین بار آیا ہے۔ سورة الکھف کی آیت 92 ، سورة الد خان کی آیت 54 ، سورة المعارج کی آیت 7 میں۔ اہل لغت نے (المھل) تیل کی تلچھٹ ، پگھلے ہوئے لوہے یا تانبے کے پانی اور زرولہو کے معنی لکھے ہیں اور امام راغب نے لکھا ہے کہ فالنحاس اللھیب بلادخان وذلک تشبیہ فی اللون بالنحاس یعنی (نحاس) سے مراد ہے بغیر دھوئیں کے لپٹ چونکہ لپٹ کا رنگ تانبے کی طرح ہوتا ہے اس لیے اس کو تشبیہا تانبا کہہ دیتے ہیں۔ اب زیر نظر آیت کا مفہوم کیا ہوا ؟ مطلب یہ ہوا ! کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو جھٹلانے کی روش کو جاری رکھا اور اس کی قدرتوں کا اس طرح انکار کرتے رہے تو اس کا انجام دوزخ ہوگا اور دوزخ میں ڈال کر تم پر شعلہ دار آگ بھڑکائی جائے گی اور پگھلا ہوا تانبا یا دھواں چھوڑ دیا جائے اور ایسی حالت میں جو کچھ ہوتا ہے وہ تم سب کو معلوم ہے تم بھاگنے کی کوشش بھی کرو گے تو بھاگ نہیں سکو گے اور نہ ہی تم اپنی مدد آپ کرسکو گے۔ (شواظ) کے لفظ سے بعض لوگوں نے شہابیے مراد لیے ہیں اور شیطان کے لیے ان کو خاص قرار دیا ہے لیکن جو مفہوم ہم نے بیان کیا ہے وہ زیادہ واضح اور صاف ہے۔
Ayah 55:36پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
63۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں کھول کھول کر تمہارے سامنے بیان کردی ہیں لیکن تم نے اگر ان کو جھٹلانے کی قسم کھالی ہے تو جھٹلاتے رہو آخر میں تکذیب کا سلسلہ کب تک جاری رکھ سکو گے۔
Ayah 55:37پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور تیل کی تلچھٹ کی طرح سرخ ہوجائے گا
73۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری تکذیب کا یہ سلسلہ آخر کب تک چلتا رہے گا اور تم کو یہ مہلت کب تک دی جائے گی اور یہ بےثبات زندگی کی ساری ہو ہوا ختم ہو کر رہ جائے گی اور آسمان پھٹ جائیں گے ، ستارے جھڑنے شروع ہوجائیں گے اور یہ سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ ایک تو یہ صورت اس وقت ہوگی جب قیامت کا منظر دیکھنے والے دیکھیں گے لیکن عین ممکن ہے کہ ہر مرنے والے کو بھی موت کے قوت یہی منظر دکھایا جاتا ہو کیونکہ جب موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس وقت بھی یہی کیفیت مرنے والے پر طاری ہوتی ہے اگرچہ یہ بہت ہی قلیل مدت کے لیے ہو اور آنکھ کے جھکپنے کی طرح ہی جلدی سے یہ منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آئے۔ لاریب قیامت کبریٰ کا ایک اپنا مقام ہے لیکن یہ قیامت صغریٰ بھی اسی فرد کے لیے جس کی جان پر حادثہ گزرتا ہے کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ دل کو دہلا دینے والی بات ہے۔ ذرا سورج کے طلوع اور غروب ہونے کا منظر اپنی آنکھوں کے سامنے لائو کہ اس وقت آسمان کی حالت کیا ہوتی ہے ؟ بس اس جیسی حالت ہی پر (وردۃ کا دھان) کے الفاظ کا اطلاق کیا گیا ہے اور وہ سرخی یقیناً گلاب کے پھول کی مانند ہوتی ہے۔ (دھان) جمع ہے دھن کی اور دھن کے معنی تیل ہی کے ہیں۔ آگے آنے والی سورتوں میں آسمانوں و زمین کے پھٹنے اور نظام کے درہم برہم ہونے کو بطور دلیل اکثر پیش کیا جانے والا ہے۔
Ayah 55:38پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی قدرتوں کا انکار کروں گے
83۔ گزشتہ آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نشانیوں کا ذکر موجود ہے اور یہ ترجیح ہر ایک آیت میں قدرت ونشانی بیان کرنے کے بعد بار بار پیش کی جارہی ہے اور ہم بھی بار بار یہ بات عرض کرتے چلے آرہے ہیں کہ یہ بات تنبیہ کے لیے بار بار پیش کی جارہی ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں اور قدرتوں کا اقرار کرکے تکذیب سے باز آجائو ورنہ تکذیب کا خمیازہ تم کو بری طرح بھگتنا ہوگا۔
Ayah 55:39اس روز کسی انسان اور جن سے اس کے گناہوں کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا
93۔ زیرنظر آیت نے یہ بات مزید واضح کردی ہے کہ ہر انسان کے اعمال من وعن اس کائنات کے شروع سے لے کر آج تک اور آج سے اس کا نظام قائم رہنے تک جو کچھ کسی نے کیا ہے وہ ضائع نہیں ہوا بلکہ ہر مرنے والے کے اعمال اس کی اپنی تصویر کے ساتھ موجود ہیں اور اس کی ہر حرکت کو اس کے اپنے جسم کے ساتھ محفوظ رکھا جارہا ہے اس لیے اس سے اس کی زندگی اور اس کے کسی عمل کے متعلق پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اس کے اعمال کو اس کے اپنے جسم کے ساتھ جس وقت اس نے اس عمل کو کیا ہے جب سب کے سامنے پیش کردیا جائے گا تو اس وقت وہ اس سے منکر نہیں ہوسکتے گا کہ یہ میں نہیں ہوں۔ اس کی وضاحت پیچھے ان آیات کریمات میں بہت تفصیل سے کردی گئی ہے جن آیات کریمات میں ہاتھوں ، پائوں اور جلدوں تک کی گواہی کے متعلق واضح کیا گیا ہے جیسا کہ سورة فصلت کی آیت 02 تا 22 میں بیان کیا گیا ہے اور سورة فصلت غزوۃ الوثقٰی کی اسی جلد کی پہلی سورت ہے وہاں سے وضاحت دیکھ لیں۔
یہ بھی خیال رہے کہ یہ آیت سورة الاسرا کی آیت 43 ، 23 ، سورة الاحزاب کی آیت 51 ، سورة الصافات کی آیت 42 کے خلاف اور متضاد نہیں ہے اگرچہ ان آیات میں کہا گیا ہے کہ ” دیکھو عہد کو پورا کرو کیونکہ عہد کے بارے میں تم سے باز پرس ہوگی۔ “ ” یاد رکھو کہ کان ، آنکھ ، عقل ان سب کے بارے میں باز پرس ہونے والی ہے “ اور اللہ کے کئے گئے عہد کی باز پرس تو ہونا ہی ہے۔ “ ” اور ذرا ان کو ٹھہرائو اس لیے کہ ان سے کچھ سوال کیے جانے والے ہیں “ حالانکہ زیر نظر آیت میں ہے کہ ” پھر اس روزز کسی انسان اور جن سے اس کے گناہوں کے متعلق سوال نہ ہوگا “ ان سے جو کچھ پوچھا جائے گا وہ محض تصدیق کے لیے پوچھا جائے گا کہ آیا اب بھی ان کو یقین آیا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ جن باتوں سے وہ انکار کرتے تھے ان میں سے ایک ایک بات سے ان کو واسطہ پڑے گا اور من وعن وہ ہی کچھ دیکھیں گے جس کا ان کو وعدہ دیا گیا تھا لیکن ان کو دنیا میں یقین نہیں آتا تھا اور باز پرس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ہاں یا نہ پر فیصلہ نہیں ہوگا کہ آیاتم نے ایسا کیا ہے یا نہیں کیا ہے بلکہ فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ ان کو اعمال کرتے ہوئے دکھا دیا جائے گا جس سے وہ انکار کر ہی نہ سکیں گے اس طرح گویا ان سے کچھ پوچھا بھی نہیں گیا اور سب کچھ بتا بھی انہوں نے خود ہی دیا کیونکہ یہ جو حرکت کرتے ہوئے دکھائے جا رہے ہیں ان کے جسم ، ان کے اعضا اور ان کی جلدیں سب گواہی دے رہی ہیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے اعمال پیش کیے جا رہے ہیں اور یہی بات اوپر واضح کی گئی ہے کہ وہ کچھ بولیں گے بھی نہیں اور سب کچھ کہہ بھی دیں گے اور ان سے باز پرس بھی نہیں ہوگی اور ایک ایک حرکت کے بارے میں پوچھا بھی جائے گا۔
Ayah 55:40پھر تم دونوں اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا آخر انکار کرو گے
04۔ یہ وہی توجیح ہے جو پیچھے سے ہوتی چلی آرہی ہے تاکہ لوگ اس کو سن کر اپنی اصلاح کرلیں کیونکہ جب تک وہ اس دارفانی میں زندہ ہیں ان کی اصلاح کا وقت بدستور قائم ہے اور وہ کسی وقت بھی توبہ کرسکتے ہیں اگر توبہ کرنا چاہیں۔
Ayah 55:41گناہگاروں کا حلیہ ہی ان کے گناہوں کی ساری حقیقت کھول کر رکھ دے گا
14 وہ لوگ جو دنیا میں نافرمانیاں کرتے رہے اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے اس کی اصل وجہ کیا تھی ؟ یہی کہ ان کو اس بات کا یقین تھا کہ قیامت ویامت کچھ نہیں ہے اور اگر اس طرح کی کوئی چیز ہوئی بھی تو ہم کو ہمارے فلاں بزرگ اور فلاں پیر اس کی معصیت سے بچا لیں گے اور وہ ہماری سفارش کردیں گے تو سارا معاملہ حل ہوجائے گا۔ ان کو مخاطب کر کے کہا جارہا ہے کہا ی سے مجرم جب اپنی آنکھوں سے اس دن کو دیکھ لیں گے جس دن کا وہ انکار کرتے رہے تھے تو ان کے چہرے کی ہوائیاں اڑ جائیں گی اور پھر جب ان کو پکڑ لیا جائے گا اور وہاں کوئی ان کو چھڑانے کیلئے بھی قریب نہیں آئے گا تو اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی اور وہ اپنے جرم کے باعث دور ہی سے پہچانے جائیں گے اور یہی بات زیرنظر آیت میں بیان کی جارہی ہے کہ جب ان کا حلیہ ہی ان کی اندرونی حالت کو ظاہر کر رہا ہوگا اور وہ چہروں ہی سے پہچانے جا رہے ہوں گے تو ان کو ان کی پیشانیوں اور ان کے قدموں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینکا جائے گا گا کہ یہ مجرموں کے رہنے کی جگہ ہے اور تم اپنے جرائم کی پاداش میں اسی کے مستحق ہو۔
Ayah 55:42پھر تم دونوں پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کی تکذیب کروں گے۔
24 پھر وہی آیت ترجیح جس کو بطور تنبیہہ بار بار پیش کیا جارہا ہے کہ تمہارے سامنے ایسے مراحل پیش آنے والے ہیں اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ تم حققتر حال کو سمجھ کر اپنے آپ کو درست کرنا چاہتے ہوں یا اللہ تعالیٰ کی ان ساری نشانیوں کی تکذیب ہی کرنا چاہتے ہو۔
Ayah 55:43یہی وہ دوزخ ہے جس کو گنہگار جھوٹ بتایا کرتے تھے۔
34 یہ وہی مجرم ہیں جن کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے اور یہی وہ دوزخ ہے جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے گویا عذاب دینے والے فرشتے ایک طرف تو ان کو جکڑ رہے ہوں گے جس کو کہتے ہیں کہ فلاں کی مشکیں اور بازو باندھ دیئے گئے ہیں اس طرح ان کو باندھ کر اوندھے منہ دوزخ میں گرایا جائے گا اور ساتھ ہی یہ بات بھی ان کو کہی جائے گی کہ یہی وہ دوزخ ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔
Ayah 55:44وہ دوزخ اور اس کے کھولتے ہوئے پانی کے درمیان پھریں گے
44 (ان) کی اصل ا ن ی ہے۔ گھولتا پانی پانی۔ اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ اس کی مؤنث انیۃ اور جمع اناء ہے۔ اہل دوزخ کے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ دوزخ میں آئیں جائیں گے اور وہاں کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اہل دوزخ گھبرا کر ادھر ادھر پانی کی تلاش میں بھاگیں گے تو ان کو کھولتا پانی دستیاب ہوگا اور اس کو پینے پر مجبور ہوں گے۔ وہ پانی کیا ہے ؟ ایسا ہی جیسے پگھلا ہوا تانبا ہوتا ہے جو ان کے مونہوں کو بھی جھلس دے گا اور پیٹ میں پہنچ کر بھی کھولتا رہے گا۔
Ayah 55:45پھر تم دونوں پروردگار کی کون کون سے نشانیوں کی تکذیب کرو گے۔
54 یہ وہی ترجیع ہے جو بار بار پیش کی جارہی ہے کہ آج تم اس دنیا کی زندگی کے پیچھے اندھے اور بہرے ہو کر بھاگ رہے ہو اور آنے والے کل کا تم کو خیال تک بھی نہیں لیکن کل جب دوزخ میں تم کو جھونکا جائے گا تو کیا اس وقت بھی تم تکذیب ہی کرو گے ؟ آخر یہ تکذیب کب تک کرو گے اور کن کن نشانات کی کرو گے۔
Ayah 55:46اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغات ہیں
64 گزشتہ آیات میں مجرموں کا حال بیان کیا گیا تھا اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جارہی ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے قانون سے ڈرتے رہے اور برائیوں سے بچتے ہوئے نیکیوں میں سبقت لے گئے اور بھلائیوں کی طرف دوڑتے رہے اور اس دشوار گزار راستے میں جو حالات بھی ان کو پیش آئے انہوں نے ان کو بخوشی قبول کیا اور آخرت کی فکر نے ان کو دنیا کی طرف متوجہ ہی نہ ہونے دیا ‘ وہ دنیا میں رہے تو اس طرح رہے کہ گویا وہ مسافر ہیں اور ان کا ٹھکانہ دنیا نہیں بلکہ آخرت ہے۔ فرمایا : جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سے اس صلہ میں ایک نہیں بلکہ دو باغات حاصل کرین گے اس وقت ان کی خوشی کا کیا ہی حال ہوگا اس کا تصور اس وقت نہیں کیا جاسکتا۔ اس آیت کو مفسرین نے بعض لوگوں کے ساتھ خاص کیا ہے۔ کسی نے سیدنا صدیق اکبر ابوبکر صدیق ؓ سے اور کسی نے اس شخص کے ساتھ جس نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈر کر یہ وصیت کی تھی کہ مجھے مرنے کے بعد جلا کر میری راکھ کو ہوا میں اڑا دینا تاکہ میری راکھ کے ذرات فضاء میں بکھر جائیں اور میری پیشی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے نہ ہو کہ میں روسیاہ کہیں پھنس کر نہ رہ جائوں لیکن مرنے کے بعد اس کو حاضر کرلیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت کسی خاص واقعہ کے متعلق نہیں ہے بلکہ عام ہے اور ہر وہ شخص اللہ تعالیٰ کے عطاکردہ ان دو باغوں کا مستحق ہے جو اللہ رب کریم کے ڈر اور خوف سے کانپ کر صراط مستقیم پر قائم رہا اور راستہ کی دشواریوں کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کے دن پورے کر کے خالق حقیقی کے سامنے حاضر ہوگیا خواہ وہ اولین سے ہے یا آخرین میں سے۔
Ayah 55:47پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
74 یہ آیت ترجیع ہے جو ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو زندگی کے عیش و طرب کی محفلوں میں مصروف ہو کر آخرت کو بھول گئے ہیں اور اس عارضی زندگی ہی کو اصل اور حقیقی زندگی سمجھ بیٹھے ہیں۔ ان ہی کو مخاطب کر کے کہا جارہا ہے کہ ہم نے تم کو سمجھانے کی ساری کوششیں کی ہیں لکنم تم نے بھی اللہ تعالیٰ کی ساری نشانیوں کو جھٹلانے کا عہد کرلیا ہے پھر جو کچھ تم جھٹلا رہے ہو اس کا حال تم کو سنایا جارہا ہے لیکن تم ٹس سے مس بھی نہیں ہوتے تو تمہارا یہ جھٹلانا کب تک رہے گا ؟
Ayah 55:48یہ دونوں باغ گھنی شاخوں والے ہوں گے
84 وہی دو باغات جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ڈرتے زندگی بسر کرتے ہیں انھیں جنت عدن کے اندر دو دو باغ عطا کیے جائیں گے۔ ایک وہ جن میں ان کی رہائش گاہ ہوگی جہاں سے وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہ رہے ہوں گے اور دوسراباغ وہ جہاں ان کا مہمان خانہ ہوگا اور آنے جانے والوں کیلئے بیٹھنے کی جگہ ہوگی تاکہ وہ عیش و خوشی ان کو میسر آئے جو دنیوی زندگی میں ان کو محص اس لیے میسر نہ آئی کہ وہ سیدھی راہ چلنا چاہتے تھے اور محنت و مزدوری کر کے جائز اور درست صلہ حاصل کر کے نہایت محنت و مشقت سے تنگ جگہوں میں وقت گزارتے رہے اور انھوں نے دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھا اور اپنی محنت و مشقت کی زندگی میں قوت لایموت ہی حاصل کرسکے۔ فرمایا ان کے لیے جو دو باغوں کا اعلان کیا گیا ہے کہ وہ جنت میں ان کو ملیں گے وہ صرف بات تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ نہایت وسعت کی زندگی پائیں گے اور وہ دونوں باغات جو ان کو دیئے جائیں گے وہ بہت ہی گھنے اور پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ (افنان) یا تو فن کی جمع ہے جس کے معنی نوع کے ہیں اور اسی بناء پر عرف میں اس کا استعمال علم کے معنوں میں ہوتا ہے یعنی ذوانا افنان کے معنی ہوں گے انوع و اقسام کے درختوں اور پھلوں والے اور یہی معنی بعض صحابہ ؓ سے بھی منقول ہیں اور اس معنی کے اعتبار سے کسی شاعر نے کہا ہے :
ومن کل افنان اللذاذۃ والصبا
لھوت بہ والعیش اخضر ناضر
اور میں ہر طرح کی لذت اور شوق میں محو رہا جب کہ زندگی خوش و خرم تھی۔
اور یا پھر فن کی جمع ہے جس کے معنی پتلی اور نرم و نازک ڈالیوں کے ہیں۔ چناچہ ابن الجوزی کا بیان ہے کہ کبھی محض شاخ کے معنی میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ روح المعانی ج 72 ص 801) یہ و جنسیں جن کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے یہ دونوں (السابقون الاولون) کے لیے ہیں اور لاریب ان میں تمام صحابہ کرام ؓ آجاتے ہیں۔ اگرچہ ان کے مدراج میں بھی فرق رکھا گیا ہے جن کا تعلق آپ ﷺ کے قرن سے ہے۔
Ayah 55:49پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلائو گے۔
94 اس ترجیع میں پھر انہی لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو سیدھی راہ چلنے کی بجائے الٹی راہ ہی کو پسند کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ قیامت کے دن کی تصدیق کریں عقیدتاً اور عملاً دونوں طرح سے اس کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں۔ ان سے پوچھا جارہا ہے کہ تم لوگ آخر اللہ تعالیٰ کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاتے رہو گے ؟
Ayah 55:50اور دونوں باغوں میں دو دو چشمے بہتے ہوں گے۔
05 جب باغات کا ذکر آیا تو باغات کی سیرابی کا ذکر آنا بھی ضروری تھا کہ باغات کی خوبیوں میں یہ بھی خوبی ہے کہ وہ گھنے ہوں ‘ پھلوں سے لدھے ہوئے ہوں اور ان کے پانی دیئے جانے کا سارا انتظام صحیح اور درست چل رہا ہو تاکہ ضررت کے وقت ان کو پانی مہیا ہو سکے اور پھر یہ بھی کہ ایسا پانی ہو جو کہ کڑوا نہ ہو بلکہ بہت ہی میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہو جس سے وہ سیراب ہوتے ہوں تاکہ جوں ہی ان کو پانی کی ضرورت محسوس ہو تو پانی وہاں موجود ہو۔ اس تصور کے تحت یہ بات ارشاد فرمائی جارہی ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کہ باغات تو ہوں گے لیکن ان کی سیرابی کا کوئی انتظام موجود ہی نہ ہو۔ فرمایا نہیں ایسا نہیں ہوگا بلکہ ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے اس لیے وہ دونوں سیراب بھی ہوتے ہوں گے اور سیرابی میں کوئی مشکل اور کوئی دقت بھی پیش نہیں آئے گی جوں ہی ان کی سیرابی کی ضرورت کا احساس ہوگا تو ان چشموں سے سیراب ہوجائیں گے جو دونوں باغوں کے اندر موجود ہوں گے۔
Ayah 55:51پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
15 ترجیع پھر انہی لوگوں کے لیے ہے جو ہر سنی بات کو ان سنی کردیتے ہیں اور سیدھا چلنے کے بجائے الٹا ہی چلنے کے عادی ہیں اور ان سے حسب سابق پوچھا جارہا ہے کہ تم آخر اپنے پروردگار کی کون کون سے نشانیوں کو جھٹلائو گے ؟
Ayah 55:52اور دونوں باغوں میں ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں ہوں گی
25 باغات کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہوتی ہے کہ اس میں پھلوں کی اقسام میں فرق ہوتا ہے کہ ایک کے مقابلہ میں دوسرا زیادہ طبیعت کو اپنی طرف مائل کرے اور دو دو قسم سے مراد یہ نہیں کہ ایک درخت مثلاً انار کے پودے پر آم بھی ہوں اور انار بھی بلکہ دو اقسام سے مراد گھٹیا اور بڑھیا پھلوں سے ہے یا چھوٹے اور بڑے پھلوں سے یعنی جنس کے لحاظ سے الگ الگ نہیں ہوں گے بلکہ قسم کے لحاظ سے قسم قسم کے ہوں گے اور یہ باغات کی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے کہ اس میں جہاں اچھے پھل ہوں وہاں بہت اچھے بھی ہوں یعنی بڑھیا سے بھی بڑھیا تاکہ پھل کھانے والے ان میں سے چھانٹ چھانٹ کر اپنے لیے انتخاب کریں خواہ کتنی ہی چیز اچھی اور بہتر کیوں نہ ہو اس میں چھانٹنا اور خوب سے خوب تر کی تلاش کرنا اور جو نظروں میں زیادہ جچے اس کو انتخاب کرنا پھلوں کے مزا سے ایک مزید مزا حاصل کرنا ہے جس سے جنتی بھی لطف اندوز ہوں گے اور پھلوں میں سے اپنے لیے انتخاب کر کے محظوط ہوں گے۔
Ayah 55:53پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
35 اس ترجیع کا مقصد محض تنبیہہ کرنا ہے تاکہ لوگ اپنی روش سے باز آسکیں اس لیے ان کو بار بار مخاطب کر کے کہا جارہا ہے کہ تم آخر اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے۔
Ayah 55:54تکیہ لگائے ہوئے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر ریشم کے ہوں گے
45 (بطائن) بطانۃ کی جمع ہے اور بطانۃ ایک کپڑے کے نیچے جو کپڑا لگایا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں بطائنھا ان کے اندرس یا استر۔ جمع ہے ھاضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ڈرتے زندگی گزارنے والے تھے جنت میں جب ان کو سامان عیش و نشاط دیا جائے گا تو اس میں نہایت خوبصورت پلنگ بھی ہوں گے جن پر گدے اور بچھونے اور اوڑھنے کے سارے سیٹ میسر ہوں گے اور جو تکیے ان کے لیے تیار کیے گئے ہیں ان کا ذکر خاص کر کے کیا جارہا ہے کہ ان کے استر بھی استبرق کے ہوں گے جب کہ استبرق خالص ریشم کے موٹے کپڑے کو کہتے ہیں جو بہت ہی قیمتی گنا جاتا ہے اور چونکہ لوگ اچھے ‘ خوبصورت اور بہتر وقت میں بھی یہ گنجائش لیتے ہیں کہ اگر تکیوں کے اوپر کا حصہ بہت اچھے کپڑے سے تیار کیا ہو تو بھی نیچے کا کپڑا اس سے نرم قسم کا لگاتے ہیں لیکن جنت میں یہ گنجائش نہیں لی جائے گی بلکہ وہاں جو بستربچھے ہوں گے ان کے استر بھی استبرق کے یعنی ریشم کے ہوں گے جو بہت قیمتی ہوتا ہے اور پھر جن بستروں کے استر استبرق کے ہوں گے ان کے تکیوں پر جو اوپر کپڑا استعمال کیا جائے گا وہ تو ظاہر ہے کہ اس سے بھی سوا ہوگا جس کا شاید تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کتنا خوبصورت ہوگا۔ فرمایا وہ ان بستروں پر تشریف فرما ہوں گے اور ان دونوں باغوں کے پھل نیچے کو جھک آئیں گے اور ان کے قریب کردیئے جائیں گے پھلوں کا ملنا اور حاصل ہونا کیا نعمت ہے کہ اس سے بھی بڑی نعمت یہ ہوگی کہ وہ پھل قسم قسم کے ہوں گے تاکہ اہل جنت انتخاب کرنے کے لطف سے بھی محروم نہ ہوں اور پھر یہ بھی کہ وہ پھل ٹہنیوں کے اوپر ہی ہوں گے اور ٹہنیاں جھک کر اپنے پھلوں کو پیش کریں گی اور اہل جنت اپنے بستروں پر بیٹھے بیٹھے ان پھلوں میں سے بہتر تروتازہ پھلوں کا انتخاب کریں گے اور جو چاہیں گے اس کو توڑنے کی زحمت بھی نہیں کرنی پڑے گی بلکہ ان کا ہاتھ انتخاب کرتے وقت جس پر پڑے گی وہ خودبخود ٹوٹ کر اہل جنت کے ہاتھ میں آجائے گا۔