Ayah 55:1(55:1) الرحمن : رحمت سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت رحمت کرنے والا بڑا بخشش کرنے والا۔ بڑا مہربان (نیز سورة الفاتحہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کی تشریح میں ملاحظہ ہو۔
Ayah 55:2(55:2) علم القران : جملہ فعلیہ۔ اس نے قرآن کی تعلیم دی۔
(1) الرحمن مبتداء ہے۔ اور جملہ علم القران اس کی خبر۔
(2) الرحمن خبر ہے اس کا مبتداء محذوف ہے۔ ای الرحمن ربنا الرحمن ۔
(3) الرحمن مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے ای الرحمن ربنا۔
الرحمن کے بعد جملہ علم القرآن جملہ مستانفہ ہے۔
علم القران میں مفعول اول محذوف ہے تقدیر کلام ہے علم النبی القران یا جبریل۔ یا الانسان۔ اس نے نبی کریم ﷺ کو قرآن کی تعلیم دی ۔ یا جبریل کو یا انسان کو۔
Ayah 55:3(55:3) خلق الانسان : بعض کے نزدیک الانسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اللہ نے حضرت آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دئیے تھے۔ بعض نے الانسان سے جنس انسان مراد لی ہے۔ یعنی اللہ نے حضرت انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا ، لکھنا، سمجھنا، سمجھانا۔ اور فہم و ادراک عطا کیا کہ دوسرے جانوروں سے ممتاز ہوگیا۔ اور وحی کو برداشت کرنے اور حامل قرآن بننے کے قابل ہوگیا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الانسان سے مراد حضرت رسول کریم ﷺ ہوں اور البیان سے مراد قرآن مجید ہو۔ قرآن تمام لوگوں کیلئے راہنما اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی واضح دلیل ہے۔ اس میں ازل سے ابد تک تمام چیزوں کا بیان ہے۔
ابن کیسان نے کہا ہے کہ اس صورت میں آخری دونوں جملے پہلے جملہ کی تفصیل اور بیان قرار پائیں گے ۔۔ اسی لئے حرف عطف دونوں کے درمیان نہیں لایا گیا۔ اور یہ تمام جملے الرحمن کے اخبار مترادفہ ہوں گے۔
Ayah 55:4(55:4) علمہ۔ میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔
البیان مفعول ثانی علم فعل کا بولنا۔ مصدر ہے ۔ کسی چیز کے متعلق کھولنے اور واضح کرنے کا نام ” بیان “ ہے۔ بیان ۔ نطق سے عام ہے اور نطق خاص ہے۔ اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے چناچہ کلام اول معنی ہی کے اعتبار سے بیان کہلاتا ہے ۔ چناچہ کلام اول معنی کے اعتبار سے ہی بیان کہلاتا ہے کیونکہ وہ معنی مقصود کو کھولتا اور ظاہر کردیتا ہے۔ اور مجمل و مبہم کلام کی شرح کو دوسرے معنوں کے اعتبار سے بیان کہتے ہیں ۔ ھذا بیان للناس (3:138) یہ لوگوں کے لئے بیان ہے۔ اول معنی کی مثال ہے اور ثم ان علینا بیانہ (75:19) ہمارے ذمہ اس کا بیان کرنا ہے۔ دوسرے معنی کی مثال ہے اور علمہ البیان (اس کو بیان سکھایا) دونوں معنی کی مثال بن سکتا ہے۔ (لغات القرآن)
Ayah 55:5(55:5) الشمس والقمر بحسبان : ای الشمس والقمر یجریان بحسبان۔ الشمس والقمر مبتدا۔ یجریان خبر (محذوف) بحسبان جار مجرور مل کر متعلق خبر۔
حسبان (باب نصر) مصدر ہے بمعنی حساب لگانا۔ شمار کرنا ۔ جیسے طغیان ، رجحان، غفران، کفران، مطلب یہ کہ سورج اور چاند ایک (سوچے سمجھے) حساب کے مطابق (چل رہے ہیں) ۔
Ayah 55:6(55:6) والنجم والشجر یسجدان اور بیلیں (بےتنے کے پودے) اور درخت (تنے والے پودے) (اسی کے حکم سے) سجدہ ریز ہیں۔ النجم کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ بعض علماء کا قول ہے کہ :۔
(1) النجم سے مراد نباتات کی وہ قسم ہے جس کا تنانہ ہو جیسے بیلیں وغیرہ۔ اور الشجر سے مراد وہ قسم ہے جس کا تنا ہو۔
(2) مقید کا قول ہے کہ :۔ النجم سے مراد آسمان کے ستارے ہیں اور اس پر وہ سورة الحج کی یہ آیت دلیل لائے ہیں۔ الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والشجر والدواب وکثیر من الناس ۔ (22:18) ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔
روح المعانی میں ہے کہ :۔ والمراد بالنجم النبات الذی ینجم ای یظھر ویطلع من الرض ولا ساق لہ ۔۔ اقترانہ بالشجر یدل علیہ۔ النجم سے مراد وہ سبزی یا نبایات ہے جو زمین سے اگتی اور نکلتی ہے اور اس کا تنا نہیں ہوتا۔ شجر کے ساتھ اس کا ذکر کرنا اس کی دلیل اور قرینہ ہے۔ بیضاوی کا یہی قول ہے۔
یسجدان : مضارع تثنیہ مذکر غائب۔ سجود (باب نصر) سے مصدر ۔ وہ دونوں سجدہ کرتے ہیں۔ بیلوں اور درختوں کے سجدہ کرنے سے مراد ان کے سایہ کا سربسجود ہونا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ یتفیئوا ظللہ عن الیمین والشمائل سجدا للہ وہم داخرون ۔ (16:48) جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں َ (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہوکر سجدے میں پڑے رہتے ہیں ۔ یا اس سے مراد ان کا ہر طرح سے خدا کا تابع فرمان ہونا ہے۔ ان کا اگنا ، بڑھنا ، پھل دینا، سوکھ جانا۔ بالارادہ نہیں بلکہ ارادہ بلاچون و چراء قانون الٰہی کے پابند ہیں۔
اگر النجم کے معنی ستارے لئے جائیں تو ان کے سجدہ کرنے سے مراد ان کا طلوع و غروب ہے یا ان کا کائنات میں ایک متعینہ نظام کے تحت گردش کرنا ہے ۔
Ayah 55:7(55:7) والسماء رفعھا : ای خلق السماء ورفعھا۔ آسمان کو پیدا کیا اور اسے بلند کیا (الی الارض) زمین کے اوپر۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے نیچے تھا پھر اسے بلند کردیا۔ بلکہ اسے پیدا ہی ایسا کیا۔ یا رفع السماء آسمان کو بلند کیا یعنی بلندیوں پر قائم کیا۔
ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے اور السماء بوجہ مفعول منصوب ہے۔
وضع واحد مذکر غائب وضع (باب فتح) مصدر اس نے قائم کیا۔ اس نے رکھا۔
المیزان۔ اسم مصدر۔ تول۔ اسم آلہ۔ ترازو۔ مجازی معنی عدل و انصاف، قانون عدل ، قواعد عدل۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :۔ ای شرع العدل وامر بہ۔ اللہ تعالیٰ نے عدل کا قانون بنایا اور اس پر عمل کرنے کا حکم فرمایا۔ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے : بالعدل قامت السموت والارض زمین و آسمان عدل پر قائم ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور اس میں آباد ہر چیز کو اس طرح آباد کیا جیسے اس کی بقاء اور نشو و نما کے لئے مناسب تھا۔
علماہ مودودی المیزان کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :۔ قریب قریب تمام مفسرین نے یہاں میزان (ترازو) سے عدل مراد لیا ہے اور میزان قائم کرنے کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے۔ یہ بےحدوحساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں، یہ عظیم الشان قوتیں جو اس عالم میں کام کر رہی ہیں اور یہ لاتعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہان میں پائی جاتی ہیں۔ ان سب کے درمیان اگر کمال درجہ کا عدل و ازن قائم نہ کیا گیا ہوتا تو یہ کارگاہ ہستی ایک لمحہ کے لئے بھی نہ چل سکتی تھی۔
خود اس زمین پر کروڑوں برس سے ہوا اور پانی اور خشکی میں جو مخلوقات موجود ہیں ان ہی کو دیکھ لیجئے۔ ان کی زندگی اسی لئے تو برقرار ہے کہ ان کے اسباب حیات میں پورا پورا عدل اور توازن پایا جاتا ہے ورنہ ان اسباب میں ذرا سی بھی بےاعتدالی پیدا ہوجائے تو یہاں زندگی کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 55:8(55:8) الاتطغوا : الا۔ ان اور لا سے مرکب ہے۔ ان یا تو مصدریہ ہے اس صورت میں لاتطغوا مضارع منفی جمع مذکر حاضر ہے : طغیان (باب سمع و نصر) مصدر سے ۔ تم زیادتی نہ کرو۔ تم سرکشی نہ کرو۔ تم حد سے نہ بڑھو۔
ترجمہ آیت ہوگا : اور اللہ نے میزان قائم کردی تاکہ تم حق سے تجاوز نہ کرو۔ یا ان مفسرہ ہے اور لاتطغوا صیغہ نہی جمع مذکر حاضر ہے
ترجمہ :۔ اور اس نے میزان عدل قائم کردی (اور حکم دیا ہے کہ) تم وزن میں حق سے تجاوز نہ کرو۔
Ayah 55:9(55:9) اقیموا الوزن بالقسط : اقیموا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر اقامۃ (افعال) مصدر سے تم قائم کرو۔ تم درست رکھو۔
القسط : عدل، انصاف۔ حصہ جو انصاف کے ساتھ دیا جائے۔ القسط اسم مصدر ہے یعنی وزن کو انصاف کے ساتھ ٹھیک رکھو
لاتخسروا : فعل نہی جسم مذکر حاضر۔ اخسار (افعال) مصدر۔ تم مت گھٹاؤ مطلب یہ کہ چونکہ تم ایک متوازن کائنات میں رہتے ہو جس کا سارا نظام عدل پر قائم ہے اس لئے تمہیں بھی عدل پر قائم ہونا چاہیے۔ جس دائرے میں تمہیں اختیار دیا گیا ہے اس میں اگ تم بےانصافی کرو گے۔ تو یہ فطرت کائنات سے تمہاری بغاوت ہوگی۔ اس کائنات کی فطرت ظلم و بےانصافی اور حق ماری کو قبول نہیں کرتی۔ یہاں ایک بڑا ظلم تو درکنار ترازو میں ڈنڈی مار کر اگر کوئی شخص خریدار کے حصے کی ایک تولہ بھر چیز بھی مار لیتا ہے تو میزان عالم میں خلل برپا کردیتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 55:10(55:10) والارض وضعھا : ای وضع الارض : وضع ماضی واحد مذکر غائب۔ وضع (باب فتح) مصدر۔ بمعنی نیچے رکھنا ۔ اسی سے موضع رکھنے کی جگہ ، جس کی جمع مواضع ہے اسی سے وضع کا لفظ وضع حمل اور بوجھ اتارنے کے لئے آتا ہے لیکن اسی مادہ (و ض ع) سے بمعنی خلق اور ایجاد (یعنی پیدا کرنا) بھی آیا ہے۔ چنانچہوضع البیت کے معنی مکان بنانے کے آئے ہیں۔
مثلاً ان اول بیت وضع للناس (3:95) تحقیق پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا تھا۔ اور اسی سے آیت ہذا میں بمعنی پیدا کرنا یا بچھانا آیا ہے ۔ والارض وضعھا للانام : اور اسی نے مخلوق کے لئے زمین بچھائی۔ (پیدا کی) اسی مادہ سے اور معنی بھی مشتق ہیں۔
الانام۔ بمعنی الحیوان کلہ (ابن عباس) تمام جاندار بمعنی الانس والجن (حسن) انسان اور جن ۔ بہتوں نے اسی کو ترجیح دی ہے کیونکہ بظاہر اس جگہ (آیت ہذا) جن اور انس ہی مراد ہیں کیونکہ خطاب انہی دونوں کو کیا گیا ہے اور آگے چل کر فبای الاء ربکما تکذبن میں یہی دونوں نوعین مخاطب ہیں۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور اس نے جن وانس کے لئے زمین کو (پیدا کیا اور اس کی جگہ پر) رکھ دیا۔
Ayah 55:11(55:11) فیہا : ای فی الارض۔
فاکھۃ :ک ہ مادہ سے بروزن فاعل اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ جس کی جمع فواکہ ہے۔ ہ آخر میں مبالغہ کی ہے۔ فکھ ظریف اور ہنس ہنس کی باتیں کرنے والے کو کہتے ہیں۔
ابن کیسان نے فاکھۃ سے وہ بیشمار نعمتیں مراد لی ہیں جو لذت کے لئے کھائی جاتی ہیں۔
بعض نے کہا ہے کہ یہ لفظ ہر قسم کے میوہ جات پر بولا جاتا ہے۔
اور بعض نے کہا ہے کہ کھجور اور انار کے علاوہ میوہ جات کو فاکہۃ کہا جاتا ہے اور انہوں نے ان دونوں کو اس لئے مستثنیٰ کیا ہے کہ قرآن مجید میں ان دونوں کو فاکھۃ پر عطف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ جیسے فیہا فاکھۃ ونخل ورمان (55:68) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں فاکہۃ کے غیر ہیں
والنخل ذات الاکمام۔ واؤ عاطفہ۔ النخل موصوف (کھجور) ذات الاکمام۔ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت۔
اکمام جمع اس کا واحد کم ہے۔ کم اس غلاف کو کہتے ہیں جو کلی یا پھل پر لپیٹا ہوا ہو۔ یہ قدرتی طور پر پھلوں پر چڑھا ہوا ہوتا ہے تاکہ اس کا نرم گودا ضائع نہ ہوجائے کھجور کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں اسی طرح کیلے کے پھل پر۔ پہلے ہر ایک تہ پر غلاف ہوتا ہے ۔ ازاں بعد ہر ایک پھلی پر ایک موٹا چھلکا ہوتا ہے اسی طرح اور کئی میووں پر غلاف ہوتا ہے۔
الکمۃ ایک طرح کی گول ٹوپی جو سربر پہنچی جاتی ہے۔ والنخل ذات الاکمام۔ اور کھجوریں غلافوں والی۔
Ayah 55:12(55:12) والحب : اس کا عطف فاکھۃ پر ہے اور اس (زمین) میں اناج ہے۔ الحب۔ اناج کے دانہ کو حب یا حبہ کہتے ہیں۔ مثلاً گندم ، جو ۔ یا دیگر انان اور غلہ کے دانے۔ یہ موصوف ہے اور ذوالعصف اس کی صفت ہے۔
ذوالعصف مضاف مضاف الیہ۔ العصف بمعنی بھس۔ بھوسا ۔ چھلکا۔ جو دانے کے اوپر لپٹا ہوتا ہے۔ کھیت کے پتے۔
تفسیر کبیر میں اس کے حسب ذیل معانی لکھے ہیں :۔
(1) بھوسہ جو ہمارے مویشی کھاتے ہیں۔
(2) اس پودے کے پتے جس کے ڈنٹھل ہوں اور اس ڈنٹھل کے اطراف و جوانب میں پتے ہوں َ جیسے کہ خوشے کے اوپر کے پتے ہوتے ہیں۔
(3) کھائے ہوئے پھل کا چھلکا۔ (ملاحظہ ہو سورة الفیل)
عصف جمع ہے اس کا واحد عصفۃ وعصافۃ ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ والعصفت عصفا : (77:2) پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہوجاتی ہیں۔ یہاں عصف (باب ضرب) مصدر بمعنی جھکڑ کے ہے۔ جو اس روز سے چلتا ہے کہ چیزوں کو توڑ پھوڑ کر بھوسہ بنا دے۔ والحب ذوالعصف : اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے۔
الریحان : روح ۔ یا ر ی ح مادہ سے ہے ۔ جو اس کو اجوف وادی (روح) خیال کرتے ہیں ان کے نزدیک اس کی اصل ریوحان ہے۔ اس میں ادغام کرکے تخفیف کی گئی ہے۔ بایں دلیل کہ اس کی تصغیر رویحین پر ہے۔
اور جو اسے جوف یائی (ریح) سے لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ شیطان کے وزن پر ہے اور اس میں کوئی تغیر نہیں ہوا۔ بایں دلیل کہ س کی جمع ریاحین پر ہے جیسے شیطان اور شیاطین ہیں۔
ریحان ہر اگنے والی خوشبودار چیز کو کہتے ہیں۔ رزق (روزی) کے معنی بھی ہیں یعنی کھانے کا اناج، ایک اعرابی سے پوچھا گیا کہ کہاں جا رہے ہو۔ تو اس نے جواب دیا کہ اطلب من ریحان اللہ میں اللہ کے رزق کی تلاش میں ہوں۔
Ayah 55:13(55:13) فبای الاء ربکما تکذبان :سببیہ ہے اور ای استفہامیہ ہے۔ اور استفہام کا مقصد ہے۔
(1) الاء کو مؤکدہ کرنا۔
(2) تکذیب الاء کو رد کرنا۔ کیونکہ الاء لا ذکر نعمتوں کے اقرار اور منعم کے شکر کا مقتضی ہے اور نعمتوں کی تکذیب کی نفی کر رہا ہے۔ اسی طرح ناشکری پر وعید (اور شکرپر) وعدہ نعمتوں کے اقرار و شکر کا موجب ہے۔
حاکم نے بوساطت محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ :۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے سورة الرحمن آخر تک تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا کہ : ۔ میں تم لوگوں کو خاموش دیکھ رہا ہوں۔ ایسا کیوں ہے ؟ تم سے بہتر تو جن تھے جب اور جتنی بار میں نے ان کے سامنے فبای الاء ربکما تکذبن پڑھی ہر بار انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ہم تیری کسی نعمت کا انکار نہیں کرسکتے تیرے ہی لئے ہر طرح کی حمر ہے (ولا بشی من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد تفسیر مظہری)
الائ : جمع ہے اس کا واحد الی ہے اس کا معنی ہے النعم نعمتیں (لسان العرب) ۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ الاء کا واحد الی والی ہے جس طرح اناء کا واحد انا وانی ؤتا ہے (مفردات) نیز راغب نے بھی الاء کا ترجمہ نعمتیں کیا ہے۔ آیت واذکروا الاء اللہ (7:74) کا ترجمہ کیا ہے : پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔
المنجد میں الا لی الالی الالی (جمع الائ) بمعنی نعمت، مہربانی، فضل لکھا ہے۔
علامہ مودودی نے الاء پر تفصیلی بحث کی ہے جسے درج ذیل کیا جاتا ہے۔ اصل میں لفظ الاء استعمال ہوا ہے جسے آگے کی آیتوں میں بار بار دہرایا گیا ہے اور ہم نے مختلف مقامات پر اس کا مفہوم مختلف الفاظ سے ادا کیا ہے۔ اس لئے آغاز میں ہی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس لفظ میں کتنی وسعت ہے اور اس میں کیا کیا مفہومات شامل ہیں۔
الاء کے معنی اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالعموم نعمتوں کے بیان کئے ہیں تمام مترجمین نے بھی یہی اس کا ترجمہ کیا ہے اور یہی معنی حضرت ابن عباس ؓ حضرت قتادہ اور حضرت حسن بصری (رح) سے منقول ہیں۔ سب سے بڑی دلیل اس معنی کے صحیح ہونے کی یہ ہے کہ خود نبی کریم ﷺ نے جنوں کے اس قول کو نقل فرمایا ہے کہ وہ اس آیت کو سن کر بار بار لابشی من نعمک ربنا نکذب کہتے تھے۔
لہٰذا زمانہ حال کے محققین کی اس رائے سے ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ الاء نعمتوں کے معنی میں سے سے ہوتا ہی نہیں۔
دوسرے معنی اس لفظ کے قدرت اور عجائب قدرت یا کمالات قدرت ہیں ابن جریر طبری نے ابن زید کا قول نقل کیا ہے کہ : فبای الاء ربکما کے معنی ہیں فبای قدرۃ اللہ۔ ابن جریر نے خود بھی آیات 37، 38 کی تفسیر میں الاء کو قدرت کے معنی میں لیا ہے امام رازی نے بھی آیات 14، 15، 16 کی تفسیر میں لکھا ہے : یہ آیات بیان نعمت کے لئے نہیں بلکہ بیان قدرت کے لئے ہیں۔ اور آیات 22 ۔ 23 کی تفسیر میں وہ فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے عجائب قدرت کے بیان میں ہے نہ کہ نعمتوں کے بیان میں ۔
اس کے تیسرے معنی ہیں : خوبیاں۔ اوصاف حمیدہ اور کمالات و فضائل ۔ اس معنی کو اہل لغت اور اہل تفسیر نے بیان نہیں کیا ہے مگر اشعار عرب میں یہ لفظ کثرت سے اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نابغہ کہتا ہے :۔
ہم الملوک وابناء الملوک لہم ۔ فضل علی الناس فی الا الاء النعم۔ (وہ بادشاہ اور شہزادے ہیں۔ ان کو لوگوں پر اپنی خوبیوں اور نعمتوں میں فضیلت حاصل ہے) ۔
مہلہل اپنے بھائی کلیب کے مرثیہ میں کہتا ہے :۔
الحزم والعزم کان من طبائعہ : ما کل الائہ یا قوم احصیہا
حزم اور عزم اس کے اوصاف میں سے تھے ۔ لوگو ! میں اس کی ساری خوبیاں بیان نہیں کر رہا ہوں۔
فضالہ بن زید العدوانی غریبی کی برائیاں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :۔ غریب اچھا کام بھی کرے تو برا بنتا ہے اور وتحمد الاء البخیل المدرہم مالدار بخیل کے کمالات کی تعریف کی جاتی ہے۔
اجدع ھمدانی اپنے گھوڑے کمیت کی تعریف میں کہتا ہے کہ : ورضیت الاء الکمیت فمن یبع۔ فرسا فلیس جو ادنا بمباع (مجھے کمیت کے عمدہ اوصاف پسند ہیں اگر کوئی شخص کسی گھوڑے کو بیچتا ہے تو بیچے ہمارا گھوڑا بکنے والا نہیں ہے۔
حماسہ کا ایک شاعر جس کا نام ابو تمام نے نہیں لیا ہے وہ اپنے ممدوح ولدی بن ادہم کے اقتدار کا مرثیہ لکھتا ہے :۔
اذا ما امرؤ اثنی بالاء میت : فلا یبعد اللہ الولید بن ادھما
فم کان فراجا اذا الخیر مسہ : ولا کان منانا اذھو انعما
ترجمہ : جب بھی کوئی شخص مرنے والے کی خوبیان بیان کرے، تو خدا نہ کرے کہ ولید بن ادہم اس موقع پر فراموش ہو۔
اس پر اچھے حالات آتے تو پھولتا نہ سماتا تھا۔ اور کسی پر احسان کرتا تھا تو جتلاتا نہ تھا۔ طرقہ ایک شخص کی تعریف میں کہتا ہے :۔
کامل یجعم الاء الفتی : نبہ سید سادات خضم
وہ کامل اور جو ان مردی کے اوصاف کا جامع ہے۔ شریف ہے سرداروں کا سردار دریا دل۔
ان شواہد و نظائر کی روشنی میں ہم نے لفظ الاء کو اس کے وسیع معنی میں لیا ہے اور ہر جگہ موقع محل کے مطابق اس کے جو معنی مناسب تر نظر آئے ہیں وہی ترجمے میں درج کر دئیے ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر ایک ہی جگہ لاء کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں اور ترجمے کی مجبوری سے ہم کو اس کے ایک ہی معنی اختیار کرنے پڑے ہیں کیونکہ اردو زبان میں کوئی لفظ اتنا جامع نہیں ہے کہ وہ ان سارے مفہومات کو بیک وقت ادا کرسکے۔ مثلاً اس آیت 13 میں زمین کی تخلیق اور اس میں مخلوقات کی رزق رسانی کے بہترین انعامات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے رب کی کن کن الاء کو جھٹلاؤ گے۔ اس موقع پر آلاء صرف نعمتوں کے ہی معنی میں نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ شانہ کی قدرت کے کمالات اور اس کی صفات حمیدہ کے معنی میں بھی ہے۔ یہ اس کی قدرت کا کمال ہے کہ اس نے اس کرہ خاکی کو اس عجیب طریقے سے بنایا کہ اس میں بیشمار اقسام کی زندہ مخلوقات رہتی ہیں اور طرح طرح کے پھل اور غلے اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں اور یہ اس کی صفات حمیدہ ہی ہیں کہ اس نے ان مخلوقات کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں ان کی پرورش اور رزق رسانی کا بھی انتظام کیا اور انتظام بھی اس شان کا کہ ان کی خوراک میں نرمی غزائیت ہی نہیں ہے بلکہ لذت کام و دہن اور ذوق نظر کی بھی ان گنت رعایتیں ہیں۔
اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی کاریگری کے صرف ایک کمال کی طرف بطور نمونہ اشارہ کیا گیا ہے کہ کھجور کے درختوں میں پھل کس طرح غلافوں میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے اس کی ایک مثال کو نگاہ میں رکھ کر ذرا دیکھئے کہ کیلے، انار، سنترے، ناریل اور دوسرے پھلوں کی پیلنگ میں آرٹ کے کیسے کیسے کمالات دکھائے گئے ہیں۔ اور یہ طرح طرح کے غلے اور دالیں اور حبوب جو ہم بےفکری کے ساتھ پکا پکا کر کھاتے ہیں َ ان میں سے ہر ایک کو کیسی کیسی نفیس بالوں اور خوشوں کی شکل میں پیک کرکے اور نازک چھلکوں میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
تکذبن : مضارع تثنیہ مذکر حاضر۔ تکذیب (تفعیل) مصدر۔ تم دونوں جھٹلاتے ہو۔ یا ۔ تم دونوں جھٹلاؤ گے۔
یہاں مخاطب جن و انس ہیں اس لئے تثنیہ کا صیغہ لایا گیا ہے بعض کے نزدیک خطاب انسان سے ہے اور واحد کی بجائے تثنیہ کا صیغہ تاکید کے لئے لایا گیا ہے اس کی مثال قرآن مجید میں اور جگہ ملتی ہے۔ مثلاً : القیافی جھنم کل کفار عنید (50:24) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو ۔ یہاں تثنیہ کا صیغہ تائید کے فائدہ کے لئے آیا ہے۔
فائدہ : یہ آیت اس سورت میں 31 بار دہرائی گئی ہے ۔ تفسیر حقانی میں اس کی وضاحت میں تحریر ہے۔
شعرائے عرب بلکہ عجم چند اشعار مختلف المضامین کے بعد ایک بند بطور مسدس یا مخمس کے ایک اشتراک خاص ملحوظ رکھ کر مکرر لایا کرتے ہیں، جس سے اس مضمون کی خوبی دوبالا ہوجاتی ہے اور سامع کی طبیعت جو کسی قدر غافل ہوجاتی ہے اس پر ایک کوڑا سا تنبیہ کرنے کے لئے پڑجاتا ہے۔
اسی طرح اس سورت میں وہ بند فبای الاء ربکما تکذبن ہے جو ہر ایک ضان بخش مضمون کے بعد مکرر آکر مطالب میں جان ڈال دیتا ہے ۔ اس بات کا لفظ انہیں کو زیادہ آتا ہے جو کہ مذاق سخن سے کچھ واقفیت رکھتے ہیں۔ عبارت کا دلکش ہونا بھی اثر کلام میں بڑی تاکید کرتا ہے۔ (تفسیر حقانی)
اس طرح سورة القمر میں جملہ ولقد یسرنا القران للذکر فہل من مدکر۔ چار دفعہ اور سورة المرسلت میں جملہ ویل یومئذ للمکذبین دس مرتبہ دہرایا گیا ہے۔
Ayah 55:14(55:14) صلصال۔ بجتی ہوئی مٹی۔ کھنکھناتی ہوئی مٹی۔ وہ خشک مٹی کہ جب اس پر انگلی ماری جائے تو بجنے اور کھنکھنانے لگے۔ صلصال کہلاتی ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ صلصال اصل میں خشک چیز کے بجنے کا نام ہے اسی سے محاورہ ہے صلی المسمار (کھونٹی بجی)
بعض نے کہا ہے کہ صلصال سڑی ہوئی مٹی ہے۔ یہ عرب کے محاورہ صل اللحم سے ماخوذ ہے۔ (گوشت سڑ گیا)
کالفخار۔ ک تشبیہ کا ہے اس کا واحد فخارۃ ہے۔ مٹکوں کو کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ٹھوکا لگانے سے اس طرح زور سے بولتے ہیں جیسے کوئی بہت زیادہ فخر کر رہا ہو۔ یہ الفخر (باب نصر) سے مصدر ہے۔ جس کے معنی ان چیزوں پر اترانے کے ہیں جو انسان کے ذاتی جوہر سے خارج ہوں َ مثلاً مال و جاہ وغیرہ۔ فاخر اسم فاعل ہے اور فخوروفخیر مبالغہ کے صیغے ہیں۔
فائدہ : حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بارے میں قرآن مجید میں مختلف الفاظ مذکور ہیں کہیں ارشاد ہے :۔
(1) ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب (3:59) بیشک (حضرت) عیسیٰ (علیہ السلام) کا حال (حضرت) آدم (علیہ لالسام) کا سا ہے۔ اس نے مٹی سے اس کو پیدا کیا۔
(2) کہیں فرمایا ہے : انا خلقنھم من طین لازب (37:11) بیشک ہم نے (جتنی خلقت بنائی ہے) اسکو چپکتے گارے سے بنایا ہے
(3) کہیں فرمایا ولقد خلقنا الانسان من صلصال کالفخار 55:14) اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا
در حقیقت ان الفاظ میں اختلاف نہیں ہے بلکہ مطلب ایک ہی ہے۔ کیونکہ حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے اول مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اس میں پانی ملا تو طین لازب ہوئی یعنی اس میں چپک پیدا ہوئی اس کے بعد حما مسنون کہلائی۔ کہ سیاہ ہوگئی اور سڑ گئی۔ پھر جب خشک ہوئی صلصال کالفخار سے موسوم ہوئی۔ کہ ٹھیکری کی طرح کھن کھن بجنے لگی۔
Ayah 55:15(55:15) الجان۔ جن ۔ سانپ۔ جن کی جمع ہے جس طرح ابوالبشر (سارے انسانوں کے باپ) کا نام آدم ہے اسی طرح ابو الجن (جنوں کے باپ) کا نام جان ہے۔ جن مسلمان بھی ہوتے ہیں اور کافر بھی۔ کھاتے پیتے اور مرتے جیتے رہتے ہیں۔
خلق : ای اللہ خلق، مبتداء ، خبر۔ اللہ نے پیدا کیا۔
مارج۔ آگ کی لپٹ۔ بھڑکتا ہوا شعلہ، جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج چراگاہ اور اس میں جانوروں کو چھوڑ دینا ہے۔ جہاں گھاس بکثرت ہو اور جانور اس میں مگن ہوکر چرتے پھریں اور آیت مرج البحرین یلتقین (55:19) اس نے دو دریا چھوڑ دئیے۔ (رواں کئے) جو آپس میں ملتے ہیں۔
المرج کے معنی اصل میں خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں اور المروج کے معنی اختلاط اور مل جانے کے ہیں۔ اور اسی سے آیت شریفہ ہے۔ فھم فی امر مریج (50:15) وہ ایک غیر واضح (یعنی خلط ملط یا گذمڈ) معاملہ میں ہیں۔ اور یہی گڈمڈ کی سی کیفیت آگ کی لپیٹ میں ہے کہ شعلہ جب اوپر کو اٹھتا ہے تو متعدد آگ کے دھارے آپس میں الجھے ہوئے اوپر کو اٹھتے معلوم ہوتے ہیں۔ اس طرح ان جانوروں میں اختلاط ہوتا ہے جو ایک چراگاہ میں آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں اور آپس میں ملتے جلتے ہیں علیحدہ ہوتے چرتے پھرتے ہیں۔
اسی طرح راغب (رح) نے مارج کے معنی آگ کا شعلہ جس میں دھواں ہو۔ کئے ہیں لیکن اکثر علماء نے اس سے مراد آگ کا وہ شعلہ مراد لیا ہے جس میں دھواں نہ ہو۔
من نار۔ بدل ہے من مارج کا۔ آگ کا بھڑکتا ہوا شعلہ۔
Ayah 55:16(55:16) فبای الاء ربکما تکذبن۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن عجائبات قدرت کو جھٹلاؤ گے۔ اگرچہ یہاں نعمت کا پہلو بھی موجود ہے لیکن موقع کی مناسبت سے الاء کے معنی عجائب قدرت زیادہ موزوں ہے۔
فائدہ : اس سورة میں جہاں جہاں فبای الاء ربکما تکذین آیا ہے تفہیم القرآن میں دئیے گئے معنی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
Ayah 55:17(55:17) رب المشرقین ورب المغربین : یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھو رب المشرقین ورب المغربین۔ وہ دو مشرقوں اور دو مغربوں کا پروردگار ہے۔
حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ :۔ جاڑے میں آفتاب اور جگہ سے اور گرمیوں میں اور جگہ سے طلوع ہوتا ہے اس ظاہر فرق کے لحاظ سے مشرقین یعنی دو مشرق کہتے ہیں۔ اسی طرح دونوں موسموں میں غروب بھی دو جگہ ہوتا ہے اس لئے مغربین یعنی دو مغرب کہے جاتے ہیں۔ ورنہ ہر روز آفتاب کا طلوع و غروب اور جگہ سے ہوتا ہے اسی لئے قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے رب المشرق والمغرب (70:40) مشرقوں اور مغربوں کا رب۔
Ayah 55:18(55:18) فبای الاء ربکما تکذبن پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔ یہاں بھی اگرچہ موقع و محل کے لحاظ سے الاء کا مفہوم ” قدرت “ زیادہ نمایاں محسوس ہوتا ہے ۔ مگر ساتھ ہی نعمت اور صفات حمیدہ کا پہلو بھی اس میں موجود ہے۔
Ayah 55:19(55:19) مرج : ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے چھوڑا۔ اس نے مخلوط کیا۔ اس نے چلایا۔ اس نے رواں کیا۔ (نیز ملاحظہ ہو 55:15) متذکرہ الصدر۔
البحرین : دو سمندر۔ بحر کا تثنیہ۔ بحالت نصب و جر۔ اور سورة الفرقان میں ان دو سمندروں کا ذکر یوں ہے :۔ ھو الذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج وجعل بینھما برزخا وحجرا محجورا (25:53) اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا۔ (مخلوط کیا) ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا۔ اور دوسرے کا کھاری کڑوا۔ (چھاتی جلانے والا) اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی۔
مولٰنا اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر بیان القرآن میں مثالاً ذکر کرتے ہیں اراکان سے چاٹگام تک ملے جلے چلتے ہیں۔ ایک کا پانی سفید ہے اور ایک کا سیاہ۔ سیاہ میں سمندر کی طرح تلاطم آتا ہے مگر سفید ساکن رہتا ہے۔ کشتی سفید پانی میں چلتی ہے اور دونوں کے درمیان ایک دھاری سی چلی گئی ہے۔ سفید کا پانی میٹھا ہے اور سیاہ کا کڑوا۔
مولانا دریا آبادی اپنی تفسیر ماجدی میں لکھتے ہیں :۔ ماہرین فن کا بیان ہے کہ سطح زمین کے نیچے پانی کے دو مستقل نظام جاری ہیں ۔ ایک سلسلہ آب شور کا ہے جو کہ سمندروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرا سلسلہ آب شیریں کا ہے جو عموماً دریاؤں ۔ کنووں۔ جھیلوں سے نکلتا ہے۔ عام مشاہدہ سے بھی پایا جاتا ہے کہ زمین کے نیچے کھاری اور میٹھے پانی کے دھارے میلوں تک ساتھ ساتھ موجود ہیں اور بعض جگہ ایک فٹ کے فاصلہ پر ایک کنویں کا پانی میٹھا اور دوسرے کا کھارا نکل آتا ہے اسی طرح ایک سطح پر پانی کھارا ہے تو چند فٹ نیچے جاکر میٹھا پانی آجاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔
یلتقین : مضارع تثنیہ مذکر غائب التقاء (افتعال) مصدر۔ وہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔ وہ دونوں ملتے ہیں۔
Ayahs 55:20–21(55:20) بینھما۔ ای بین البحرین۔ دونوں دریاؤں کے درمیان
برزخ : روک۔ اوٹ۔ دو چیزوں کے درمیان کی حد۔ موت سے حشر تک کے عالم کو عالم برزخ کہتے ہیں۔
لایبعین : مضارع منفی تثنیہ مذکر غائب بغی (باب ضرب) مصدر وہ دونوں اپنے حدود سے آگے نہیں بڑھتے۔ یعنی اپنی درمیانی حد فاصل سے تجاوز کرکے آپس میں مل نہیں جاتے بلکہ قریب قریب اور متصل بہنے کے باوجود اپنی علیحدہ حیثیت قائم رکھتے ہیں۔
Ayah 55:22(55:22) اللؤلؤ۔ ل ء ل ء حروف مادہ۔ موتی۔ لالی جمع۔ تلالؤ (تفعلل) رباعی مجرد۔ مصدر۔ تلا لأ الشیء کے معنی کسی چیز کے موتی کی طرح چمکنے کے ہیں۔
مرجان۔ چھوٹے موتی، مونگا۔ م ر ج حروف مادہ۔
Ayah 55:23(55:23) فبای الاء ربکما تکذبن : پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔ یہاں بھی اگرچہ الاء میں قدرت کا پہلو نمایاں ہے لیکن نعمت اور اوصاف حمیدہ کا پہلو بھی مخفی نہیں ہے (مودودی)
Ayah 55:24(55:24) ولہ واؤ عاطفہ لام تملیک کا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع الرحمن ہے جس کا ذکر پہلے چلا آرہا ہے۔
الجوار المنشئت۔ موصوف و صفت۔ جوار جمع جاریۃ کی جس کے معنی کشتی کے ہیں۔ جو جری (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے بمعنی چلنے والی چونکہ کشتی سطح آب پر چلتی ہے اسی لئے جاریۃ کہلاتی ہے جاریۃ کی جمع جاریت بھی ہے۔
المنشئت : اسم مفعول جمع مؤنث۔ المنشأۃ واحد۔ انشاء (افعال) مصدر سطح سمندر سے اونچی کی ہوئی کشتیاں، یا وہ کشتیاں جن کے بادباں اونچے ہوتے ہیں۔
نشا ونشاۃ (باب فتح، کرم) سے بمعنی پیدا ہونا ہے۔ انشاء (افعال) پیدا کرنا پرورش کرنا۔ اوپر ابھارنا ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے وینسی السحاب الثقال (13: 12) اور بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے یا پیدا کرتا ہے۔
کالاعلام : ک تشبیہ کا۔ اعلام پہاڑ علم کی جمع۔ علم اصل میں اس علامت کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ کسی شے کا علم ہوسکے۔ جیسے نشان راہ کے پتھر۔ فوج کا علم۔ اسی اعتبار سے پہاڑوں کا نام بھی اعلام ہوگیا۔
ترجمہ : اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔
Ayah 55:25(55:25) فبای الاء ربکما تکذبن : پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے۔ یہاں الاء میں نعمت و احسان کا پہلو نمایاں ہے۔ اس کی قدرت اور صفات حسنہ کا پہلو بھی موجود ہے۔
Ayah 55:26(55:26) کل من : کل مضاف من موصولہ مضاف الیہ۔ ہر ایک ، ہو کرئی۔
علیہا : میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع والارض وضعھا للانام میں الارض ہے۔ (آیت نمبر 10)
فان۔ اسم فاعل، واحد مذکر۔ فنی (باب سمع) فنی (باب فتح) وفناء مصدر فنا ہوجانا۔ معدوم ہوجانا۔ فان اصل میں فانی تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا۔ اسے گرادیا اب ی اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوئے۔ ی اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی۔ فان ہوگیا ۔ فنا ہوجانے والا۔ معدوم ہوجانے والا۔ فان خبر ہے کل من کی۔
Ayah 55:27(55:27) یبقی : مضارع واحد مذکر غائب بقاء (باب سمع) مصدر۔ باقی رہیگا۔ فناء نہ ہونا۔
وجہ ربک : وجہ مضاف، ربک مضاف مضاف الیہ مل کر وجہ کا مضاف الیہ اس کے اصل معنی چہرہ کے ہیں جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاغسکوا وجوہکم وایدیکم (5:6) اپنے منہ اور ہاتھ دھولیا کرو۔ اور چونکہ استقبال کے وقت سب سے پہلے انسان کا چہرہ سامنے نظر آتا ہے۔ اس لئے کسی چیز کا وہ حصہ جو سب سے پہلے نظر آئے اسے وجہ کہہ لیتے ہیں وجہ النھار۔ ان کا اول حصہ۔ وجہ بمعنی ذات ہے جیسا کہ آیت ہذا میں : اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکت) جو صاحب جلال و عظمت ہے۔ باقی رہ جائے گی یا جیسے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔
کل شیء ہالک الا وجھہ (27:88) اس کی ذات پاک کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔
ذوالجلال مضاف مضاف الیہ مل کر صفت ہے وجہ کی۔ (اللہ کی ذات جو صاحب جلال ہے) ۔ جلال بندگی، عظمت، بلند مرتبہ ہونا۔ جل یجل (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ جلالۃ کے معنی عظمت قدر، یعنی بلند مرتبہ ہونے اور جلال کے معنی عظمت قدر کی انتہاء کے ہیں۔ اسی لئے یہ اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے چناچہ یہ ذوالجلال والاکرام صرف اسی کو کہا جاتا ہے دوسروں کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
والاکرام اس کا عطف الجلال پر ہے۔ اللہ کی ذات صاحب جلال و صاحب اکرام ہے۔ اکرام باعظمت ہونا دوسرے کو عزت دینا۔ اور اس پر کرم کرنا۔ بروزن افعال مصدر ہے۔ اکرام کے دو معنی آتے ہیں :۔
(1) یہ کہ دوسرے پر کرم کیا جائے ۔ یعنی اس کو ایسا نفع پہنچایا جائے جس میں کسی طرح کا کھوٹ نہ ہو۔
(2) یہ کہ جو چیز عطا کی جائے وہ عمدہ چیز ہو۔
آیت ذوالجلال والاکرام میں لفظ اکرام میں دونوں معنی پائے جاتے ہیں کرم کا لفظ قرآن مجید میں جہاں بھی آیا ہے وہاں احسان و انعام الٰہی مراد ہے۔
Ayah 55:28(55:28) فبای الاء ربکما تکذبن۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔
Ayah 55:29(55:29) یسئلہ من فی السموت والارض جو کوئی آسمانوں میں ہے یا زمین میں اسی کا سوالی ہے۔ یعنی فرشتے ، جنات، اور انسان سب اپنی اپنی حاجتیں اللہ سے ہی مانگتے ہیں۔ رزق، صحت، عافیت، توفیق ، عبادت ، مغفرت اور نزول تجلیات و برکات کے اسی سے طلب گار ہوتے ہیں۔
اگر من فی السموت والارض سے سب مخلوق مراد لی جائے تو اس صورت میں سوال سے مراد وہ حالت و کیفیت ہوگی جو احتیاج پر دلالت کرتی ہے خواہ زبان سے اس کا اظہار کیا جائے یا نہ کیا جائے۔
کل یوم ھو فی شانجملہ مستانفہ ہے کل یوم مضاف مضاف الیہ بمعنی کل وقت من الاوقات ولحظۃ من الاحظات ہر وقت، ہر لحاظ۔ کل یوم منصوب بوجہ ظرفیت کے ہے۔ تقدیر کلام ہے ھو ثابت فی شان کل یوم وہ ہر وقت کسی نہ کسی دھندے میں لگا رہتا ہے۔ شان۔ دھندا، فکر، حال۔ کسی اہم معاملہ یا حال کو خواہ برا ہو یا بھلا۔ شان کہتے ہیں۔ اس کی جمع شؤون، ش و ن حروف مادہ
Ayah 55:30(55:30) فبای الاء ربکما تکذبن۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی اوصاف حمیدہ کو جھٹلاؤگے۔
Ayah 55:31(55:31) سنفرغ لکم : س مستقبل قریب کے لئے ہے نفرغ مضارع جمع متکلم فراغ (باب نصر) مصدر۔ ہم قصد کریں گے۔ ہم فارغ ہوں گے۔ ہم متوجہ ہوں گے۔ (حساب کی طرف)
الفراغشغل کی ضد ہے۔ اور فروغا (باب نصر) مصدر بمعنی خالی ہونا ہے۔ فارغ خالی، قرآن مجید میں ہے ۔ فاصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا (28:10) اور (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بےصبر ہوگیا۔ یعنی خوف کی وجہ سے گویا عقل سے خالی ہوچکا تھا۔ اور بعض نے فارغا کا معنی اس کی یاد کے سوا باقی چیزوں سے خالی ہونا بھی کئے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : فاذا فرغت فانصب (94:7) جب تم (اور کاموں سے) فارغ ہوا کرو تو عبادت میں محنت کیا کرو۔
آیت ہذا کا مطلب ہے کہ :۔ (اے جن و انس) ہم عنقریب (اوقات مقررہ کے مطابق فارغ ہوکر اپنے وقت مقررہ پر تمہاری بازپرس کے لئے) متوجہ ہوا چاہتے ہیں۔
الثقلان : مادہ ثقل سے مشتق ہے ثقل کے معنی بوجھ کے ہیں۔ اور ثقل اس بوجھ کو کہتے ہیں جو سواری پر لدا ہوا ہو۔ سو ثقلان کا لفظی ترجمہ ہوگا : دو لدے ہوئے بوجھ ۔ دو بھاری چیزیں ۔ دو بوجھل خلقیتں (مراد جن و انسان) جن اور انسان کو ثقلان اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ زمین پر بھاری بوجھ ہیں۔ (2) یا اس لئے کہ گراں قدر وگراں منزلت ہیں (3) یا اس لئے کہ یہی خود تکلیف ترعیہ سے گراں بار ہیں
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اے جن و انس ہم عنقریب ہی تمہارے (حساب و کتاب کے) فارغ (خالی ) ہوجاتے ہیں۔ (تفسیر مظہری) ۔ عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔ (مودودی)
Ayah 55:32(55:32) فبای الاء ربکما تکذبن : (پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔
Ayah 55:33(55:33) یمعشر الجن والانس : یا حرف نداء ہے معشر الجن والانس منادی۔ معشر الجن مضاف مضاف الیہ ۔ الانس کا عطف الجن پر ہے۔ ای و معشر الانس، مشعر اسم مفرد ہے۔ بڑا گروہ ۔ اس کی جمع معاشر ہے۔ اے گروہ جن و انس
ان استطعتم : ان شرطیہ ہے استطعتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر (ماضٰ بمعنی حال ہے) تم کرسکتے ہو، تم سے ہوسکتا ہے۔ تم میں استطاعت ہے۔
ان تنفذوا : ان مصدریہ ہے ینفذوا مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) جمع مذکر حاضر۔ نفوذ (باب نصر) مصدر۔ تم نکل بھاگو۔ تم باہر چلے جاؤ۔
من اقطار السموت والارض۔ مضاف مضاف الیہ۔ اقطار جمع قطر کی بمعنی جانب یا طرف۔
انفذوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ نفوذ (باب نصر) مصدر۔ (تو) نکل بھاگو۔
لاتنفذون : لا نافیہ، تنفذون : مضارع جمع مذکر حاضر، تم نہیں بھاگ سکو گے، تم نہیں نکل سکو گے۔
الا بسلطان : الا حرف استثنائ۔ سلطان : زور، قوت، حجت، برہان، سند۔
ترجمہ آیت کا یوں ہے :۔ اے گروہ جن و انس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ۔ تو نکل جاؤ۔ سلطان کے سوا تم نکل سکتے ہی نہیں۔
ارض و سماء کے اطراف و اکناف سے نکل بھاگنے کی کئی صورتیں ہیں :۔ مثلا :۔
(1) قیامت کے روز فرشتے آسمانوں سے اتریں گے اور تمام خلائق کو گھرے میں لے لیں گے۔ جب جن و انس ان کو دیکھیں گے تو وہ گھیرے سے باہر بھاگنے کی کوشش کریں گے لیکن جدھر بھی جائیں گے اپنے آپ کو بےبس اور گھرا ہوا پائیں گے۔
(2) قیام قیامت کے وقت لوگ بازاروں میں ہوں گے کہ فرشتوں کو آتا دیکھ کر بھاگنے لگیں گے لیکن فرشتے ان کو گھیرے میں لے کر ان کا فرار ناممکن بنادیں گے۔
(3) بعض کے نزدیک یہ موت سے فرار کے وقت کا منظر ہے لوگ موت سے بھاگیں گے لیکن فرشتے ان کو گھیر لیں گے۔
(4) یا یہ کہ لوگ زمین اور آسمانوں میں نہ جاننے کے لئے کہ ان میں کیا ہے ادھر ادھر نکلنے کی کوشش کریں گے لیکن وہ سیا نہیں کرسکیں گے
جن و انس کی بیچارگی اور ناکامی کی وجہ طاقت و قوت اور سند من اللہ کا نہ ہونا ہے۔ ایسا وہ طاقت ہی سے کرسکتے ہیں جو ان کے پاس ہے ہی نہیں کیونکہ اس کا منبع ذات الٰہی ہے اور جب تک اس کی طرف سے توفیق نہ ہو جن و انس کی کامیابی ناممکن ہے۔
بعض نے کہا ہے کہ سلطن سے مراد سند، اجازت، حجت وبرہان ہے۔
چناچہ تاج العروس میں ہے کہ : سلطن کے معنی حجت وبرہان کے ہیں اسی معنی میں ارشاد الٰہی ہے :۔ لاتنفذون الا بسلطن : (نہیں نکل سکتے بدون سند کے)
البتہ اس کی قوت اور اس کی سند اگر کسی کو حاصل ہوجائے تو وہ ان حدبندیوں سے باہر نکل سکتا ہے کما ان النبی ﷺ نفذ ببدنہ لیلۃ المعراج من السموت لسبع الی سدرۃ المنتھی۔ یعنی جس طرح نبی پاک ﷺ شب معراج میں اپنے جسم اطہر کے ساتھ ساتوں آسمانوں سے پار سدرۃ المنتہیٰ تشریف لے گئے۔
علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ تنبیہ، تخویف اور باوجود کامل ودرت رکھنے کے درگزر کرنا اور معاف کردینا یہ سب کچھ اللہ کی نعمت ہے اور عقلی معراج اور تمام ترقیات اور ایسے اسباب ترقیات کہ ان کے ذریعے سے لوگ آسمانوں سے بھی اوپر پہنچ جائیں۔ ان کا شمول بھی الاء اللہ میں سے ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 55:34(55:34) فبای الاء ربکما تکذبان۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Ayah 55:35(55:35) یرسل : مضارع مجہول واحد مذکر غائب ارسال (افعال) مصدر چھوڑا جائے گا۔ بھیجا جائے گا۔
شواظ : شعلہ، بےدھوئیں کی آنچ، اسم ہے، یرسل کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔
من نار : جار مجرور۔ شواظ کی صفت ہے۔ شواظ من نار آگ کا شعلہ۔
وبحاس : واؤ عاطفہ نحاس معطوف۔ اس کا عطف شواظ پر ہے۔ اس کے معنی میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) دھواں ۔ (امدارک، خازان، جلالین ، معالم)
(2) پگھلا ہوا تانبہ۔ المھل، بمعنی تلچھٹ پگھلا ہوا تانبہ۔ (مجاہد۔ قتادہ)
(3) بغیر دھوئیں کے لپٹ ، چونکہ لپٹ کا رنگ تانبڑا ہوتا ہے رنگ میں مشابہت کی وجہ سے لپٹ کو نحاس کہا جاتا ہے۔ (راغب)
(4) وہ لال چنگاریاں جو لوہا لال کرکے پیٹنے کے وقت نکلتی ہیں۔ آگ (قاموس)
عموماً اہل تفسیر نے اس کا ترجمہ دھواں کیا ہے۔
لاتنتصران : مضارع منفی تثنیہ مذکر حاضر۔ انتصار (افتعال) مصدر تم (دونوں) کوئی مدد نہ لے سکو گے۔ (یعنی تم اس کو دفع نہ کرسکو گے۔ انتصار بمعنی مدد طلب کرنا۔ مدد لینا۔ ظالم سے انتصار کے معنی اس کو سزا دینا اور اس سے انتقام لینا ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیہم من سبیل (42:41) اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔
Ayah 55:36(55:36) فبای الاء ربکما تکذبان۔ اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟
علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ موحبات عذاب سے ڈرانا بھی ایک نعمت خداوندی ہے اس لئے موجبات عذاب سے اجتناب لازمی ہے اور فرمانبرار اور نافرمان کے معاوضہ میں (ثواب و عذاب کا) امتیاز بھی اللہ کی نعمت ہی ہے اس لئے نافرمانی سے گریز ضروری ہے۔
Ayah 55:37(55:37) فاذاعطف کا ہے۔ اذا حرف شرط ہے انشقت، ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مؤنث غائب انشقاق (انفعال) مصدر۔ اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 54:1) یہ جملہ شرطیہ ہے۔
فکانت وردۃ :جواب شرط کے لئے کانت (ماضی بمعنی مستقبل) واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے۔ کون (باب نصر) مصدر۔ وردۃ منصوب بوجہ خبر کان کے۔ بمعنی سرخ (جیسا چمڑہ۔ سفید مائل بسرخی۔ سرخ (گلاب کی طرح) وردۃ بطور اسم جنس بمعنی گلاب کا پھول یعنی شرخ) فکانت وردۃ جملہ جواب شرط ہے۔
کالدھان : کاف تشبیہ کا ہے ۔ دھان جمع دھن کی یا ادھنۃ کی بمعنی تیل کی تلچھٹ۔ بعض کے نزدیک یہ دھن کی جمع ہے جیسے رمح ورماح ہے اور اس کے معنی تیل کے ہیں۔ کالدھان صفت ہے وردۃ کی۔ وقوع قیامت کے وقت آسمان کی کیفیت بیان کی جارہی ہے۔ یا کالدھان خبر دوم ہے کانت کی۔
اس صورت میں معنی ہوں گے :۔ آسمان کا رنگ سرخ گلان کی طرح ہوجائے گا اور تیل کی طرح پگھل جائے گا۔ اذا کی جزا محذوف ہے۔ یعنی جب آسمان پھٹ کر سرخ گلاب کی طرح ہوجائے گا تو وہ کیسا ہولناک منظر ہوگا۔
Ayah 55:38(55:38) فبای الاء ربکما تکذبن۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Ayah 55:39(55:39) فیومئذ : ای یوم اذ تنشق السماء جسما ذکر : یعنی جس دن حسب ذکر بالا آسمان پھٹ جائے گا۔
لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان۔ (اس روز) کسی انسان و جن سے اس کے جرم کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔
علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر مظہری میں اس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں :۔ یعنی یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کام کیا تھا یا نہیں کیا تھا ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو پہلے ہی اس کا علم ہوگا۔ اور اعمال ناموں والے فرشتے اعمال لکھ ہی چکے ہوں گے اور عذاب والے فرشتے دیکھتے ہی پہچان لیں گے۔ ہاں اعمال کی باز پرس ہوگی یعنی یہ پوچھا جائے گا کہ جب تم کو ممانعت کردی گئی تھی تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اور جب کرنے کا حکم دیدیا گیا تھا تو ایسا کیوں نہیں کیا۔ اس وضاحت کے بعد اس آیت میں اور آیت فوربک لنسئلنہم اجمعین عما کانوا یعملون (15:92-93) میں تضاد پیدا نہیں ہوتا۔
ترجمہ : تیرے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور باز پرس کریں گے ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے۔
Ayah 55:40(55:40) پھر تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔