55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 55:1

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

رحمن ہی نے۔

(1) رحمان ہی نے۔
Ayah 55:2

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

قرآن سکھایا۔

(2) قرآن سکھایا۔
Ayah 55:3

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اسی نے انسان کو پیدا کیا۔

(3) اسی نے انسان کو بنایا اور پیدا کیا۔
Ayah 55:4

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اسی نے انسان کو بولنا اور کلام کرنا سکھایا۔

(4) اسی نے انسان کو بولنا اور کلام کرنا سکھایا جس طرح اوپر کی سورت میں مختلف قوموں کو عذاب کرنے کا ذکر تھا اسی طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اگرچہ قوموں کی ہلاکت اور عذاب کا ذکر بھی ہدایت کا سبب ہونے کی وجہ سے نعمت ہی ہے اس سورت میں بھی انعامات و احسانات کے ساتھ بعض جگہ جہنم کا ذکر فرمایا وہ ذکر بھی بعض اعتبار سے نعمت ہی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن اور اس کی تعلیم ہے اس لئے اس کو مقدم فرمایا اور چونکہ مکہ عام طور سے رحمن کے نام پر الجھتے تھے اور کہا کرتے تھے رحمان کون ہے ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ اس لئے اس سورت کو حضرت حق تعالیٰ کے نام رحمان سے شروع کیا چناچہ فرمایا کہ قرآن کی تعلیم رحمان ہی نے دی ہے اور رحمان ہی نے قرآن سکھایا ہے انسان کو اسی نے پیدا کیا اسی نے بات کرنا سکھایا۔ بعض نے بیان کے تجمے میں بات کرنا اور سمجھنا بھی شامل کیا ہے انسان یا تو عام ہے یا حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں اور بیان سے مراد تمام چیزوں کے وہ نام ہیں جو آدم (علیہ السلام) کو تعلیم کئے گئے تھے اور ہوسکتا ہے کہ انسان سے مراد محمد ﷺ ہوں اور بیان سے مراد وہ واقعات ہیں جو حضور کو اللہ تعالیٰ نے بتائے خواہ وہ آئندہ کے ہوں یا گزشتہ کے آگے اور احسانات کا ذکر فرمایا۔
Ayah 55:5

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند مقررہ حساب سے چلتے ہیں۔

(5) سورج اور چاند مقررہ حساب کے ساتھ چلتے ہیں سورج اور چاند کا ایک حساب ہے۔ یعنی مقررہ حساب سے اپنے برجوں اور اپنی منازل میں چلتے ہیں اور ان کے ساتھ بیشمار منافع مخلوق کے وابستہ ہیں۔
Ayah 55:6

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بےتنے کے درخت اور تنے والے درخت سب سجدے یعنی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔

(6) اور بےتنے کے درخت اور تنے والے درخت سجدہ کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے مطیع اور منقاد ہیں نباتات کی تسخیر کو سجدہ تکوینی سے تعبیر فرمایا ہے بےتنے کے درخت جیسے بیل دار درخت پودے یا گھاس وغیرہ اور تنے دار درخت تو ظاہر ہی ہیں یہ تمام درخت اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مسخر ہیں اور ان نباتات میں جو حضرت تعالیٰ نے فوائد اور منافع رکھے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی۔

(7) اور اسی نے آسمان کو اونچا بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی۔
Ayah 55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

تاکہ تم بولنے میں بےاعتدال نہ کرو۔

(8) تاکہ تم تولنے میں بےاعتدائی اور کمی بیشی نہ کرو۔ آسمان کا بلند کرنا علاوہ دیگر احسانات کے ایک بڑی نعمت ہے کہ اس سے خالق اور صانع عالم کے وجود پر استدلال کیا جاتا ہے نیز اس آسمان پر فرشتے رہتے ہیں اور ترازو رکھنے کا مطلب یہ کہ ہر چیز کی تول کی جاسکے اور صحیح اندازہ لگایا جاسکے خواہ وہ ترازو ہو ، پیمانہ ہو کوئی آلہ ہو بہرحال ترازو سے کاروبار کرنے والوں اور لین دین کرنے والوں کے لئے بڑے منافع ہیں ساتھ ہی ترازو کے سلسلے میں یہ بھی فرمایا تاکہ کمی بیشی نہ کرو۔
Ayah 55:9

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو تولو اور تول کو گھٹائو مت یعنی کم نہ تولو۔

(9) اور انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو تولو اور تول گھٹائو نہیں۔ یعنی سیدھا تولا کرو انصاف کیساتھ اور تول کم مت کیا کرو یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو اور بٹے کم نہ رکھو۔ غرض کوئی حرکت ایسی نہ کرو جس سے مشتری کو نقصان پہنچے ، غرض تول اور ناپ کے طریقوں کا رواج بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت اور احسان بلکہ ہزار ہا مفاسد کا سدباب ہے۔ ولا تخسرو المیزان کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں نقصان نہ کرو۔
Ayah 55:10

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اس نے خلق کے نفع کے لئے زمین کو پھیلا دیا ۔

(10) اور اسی نے خلق کے فائدے اور نفع کے لئے زمین کو پھیلادیا۔
Ayah 55:11

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

کہ اس میں میوے اور کھجوروں کے درخت ہیں جن کے پھلوں پر غلاف ہوتے ہیں۔

(11) کہ اس میں میوے ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں جن کے پھلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔
Ayah 55:12

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اسی میں بھوسہ والا اناج اور خوشبو دار پھول ہیں۔

(12) اور اس میں اناج اور غلہ ہے جس میں چھلکا اور بھوسا ہوتا ہے اور خوشبودار پھول ہیں۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔

(13) سو تم جن وانس اپنے پروردگار کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے اور تکذیب کرو گے۔ اول انسان کی ذات پر جو احسان تھے ان کو فرمایا پھر باہمی معاملات کے سلسلے میں عدل و انصاف کا ذکر فرمایا پھر عالم علوی کیا حسانات بتائے پھر عالم سفلی یعنی زمین کے بعض احسانات ظاہر فرمائے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اے گروہ جن وانس تم اپنے پروردگار کی نعمتوں کو اور اس کے احسانات کو کہاں تک جھٹلائو گے بھوسے والا اناج غلے جن کو روند کر چھلکا اتارتے ہیں پھول خوشبودار جن کی ہزارہا قسمیں اور ان میں ہزار ہا منافع ہیں یہ فبای الآء شاید اکتیس مرتبے اس سورت میں آیا ہے اور چونکہ ہر جگہ نعمت کی حیثیت جداگانہ ہے اور مصداق الگ ہے اس لئے ہر نعمت کے بعد فرمایا ہے کہ تم اے جنات و انسان ہماری کس کس نعمت کو جھٹلائو گے اور کس کس نعمت کا انکار کرو گے۔
Ayah 55:14

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی نے انسان کو ایک ایسی خشک مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکرے کی طرح کھن کھن بولتی تھی۔

(14) اسی نے انسان کو ایسی خشک مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی اور کھن کھن بولتی تھی۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کو خشک مٹی سے بنایا جو شروع میں گارا تھی پھر آخر میں خشک ہوگئی تھی۔
Ayah 55:15

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جان یعنی ابوالجنات کو اس نے بےدھوئیں والی خالص آگ سے پیدا کیا۔

(15) اورجان یعنی ابوالجنات کو اس نے بےدھوئیں کی خالص آگ سے پیدا کیا۔ یعنی سب جنوں کے باپ کو بعض نے کہا ابلیس کو…مارج کہتے ہیں اس صاف شعلے کو جس میں دھواں نہ ہو۔ من نار اسی مارج کا بیان ہے۔
Ayah 55:16

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(16) سوائے جماعت جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے اور جھٹلائو گے۔
Ayah 55:17

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا حقیقی مالک ہے۔

(17) وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا حقیقی مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جاڑے گرمی کی دو مشرقیں اسی طرح دو مغربیں۔ واقعہ یہ ہے کہ سورج ہر روز نئے خط پر طلوع اور غروب ہوتا ہے اس لئے رب المشرقین ورب المغربین بلکہ رب المشارق والمغارب بھی کہا جاسکتا ہے جیسا کہ سورة معارج میں انشاء اللہ آجائے گا۔
Ayah 55:18

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

پھر اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(18) سوائے گروہ جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے اور جھٹلائو گے۔
Ayah 55:19

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو دریائوں کو اس طرح ترح جاری کیا کہ وہ دونوں باہم ملے ہوئے ہیں

(19) اسی نے دو دریائوں کو اسی طرح چلایا کہ وہ دونوں باہم ملے ہوئے ہیں۔
Ayah 55:20

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

ان دونوں کے مابین ایک پردہ ہے جس سے وہ ایک دوسرے کی طرف بڑھ نہیں سکتے۔

(20) ان دونوں کے مابین ایک پردہ ہے جس سے وہ ایک دوسرے کی طرف بڑھ نہیں سکتے اور ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتے۔ یعنی آب شور اور آب شیریں مل کر بہتے ہیں جیسا کہ ہندوستان میں بہت جگہ دیکھا جاتا ہے ہم سورة فرقان کے آخر میں بتاچکے ہیں بنگال اور گجرات میں اور کراچی میں دیکھا جاسکتا ہے۔
Ayah 55:21

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(21) سوتم جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔
Ayah 55:22

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

ان دونوں دیائوں سے موتی اور مونگا برآمد ہوتا ہے۔

(22) ان دونوں دریائوں سے موتی اور مونگا برآمد ہوتا ہے۔
Ayah 55:23

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(23) سوتم ائے جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے گے۔
Ayah 55:24

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور اسی کے اختیار میں ہیں سمندر میں چلنے والے جہاز جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں۔

(24) اور اس کے اختیار میں ہیں سمندر میں چلنے والے جہاز جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں۔ یعنی یہ بڑے بڑے جہاز جو پہاڑوں کی مانند ہیں اور سمندر میں بہتے رہتے ہیں خواہ وہ بادبانی ہوں یا دخانی یہ سب اس کے اختیار میں ہیں۔
Ayah 55:25

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(25) سوائے گروہ جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔
Ayah 55:26

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو کوئی بھی روئے زمین پر ہے سب فنا ہوجانے والا ہے۔

(26) جو کوئی بھی روئے زمین میں ہے سب فنا ہونے والا ہے جو کوئی روئے زمین پر ہے سب نبڑنے والا ہے۔
Ayah 55:27

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور صرف آپ کے رب کی ذات جو عظمت و احسان والی ہے باقی رہ جائے گی۔

(27) اور صرف آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت و احسان والی ہے باقی رہ جائیگی۔ یعنی جس قدر جن وانس موجود ہیں وہ سب فنا ہوجائیں گے صرف حضرت حق تعالیٰ کی ذات صاحب ذوالجلال والاکرام باقی رہ جائے گی۔ چونکہ ثقلین یعنی جن وانس مخاطب ہیں ہیں اس لئے زمین کا ذکر فرمایا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ آسمان والے فنا نہیں ہوں گے۔ سورة قصص میں گزر چکا ہے کل شئی ھالک الا وجھہ
Ayah 55:28

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(28) سوائے جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔
Ayah 55:29

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

سب آسمان و زمین والے اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز ایک نہ ایک شان یعنی کام میں ہے۔

(29) سب آسمان و زمین ووالے اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز ایک نہ ایک شان یعنی کام میں ہے۔ یعنی آسمان و زمین کی تمام مخلوق اسی کی محتاج اور اسی کی دست نگر ہے۔ کل یوم ھوفی شان ککا مطلب یہ ہے کہ عالم میں جملہ تصرفات اس کے ہم حکم سے ہوتے ہیں اور وہ کسی وقت بھی اپنی مخلوقات سے بیخبر اور غافل نہیں ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ صدور افعال اس سے ہوتا ہے، یا صدور افعال اس کی ذات کے لوازم سے ہے۔ بعض نے کہا یہود کے ایک اعتراض کا جواب ہے وہ کہتے تھے ایک روز اللہ تعالیٰ کے آرام کرنے کا ہے اس کا جواب ہے کل یوم ہونی شان۔ خلاصہ : یہ کہ اس کی شونات بےحدوحساب ہیں کسی کو جلانا کسی کو مارنا ، کسی کو فقیر بنانا کسی کو مالدار کرنا کسی کو پست کسی کو بلند کرنا اور یہی اس کے شیئون ہیں وہ کسی وقت بھی معطل اور بےکار نہیں ہے آسمان و زمین کی مخلوقات کے سوال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوقات زبان حال یا زبان قال سے اس کی محتاج ہے اور ہر ایک کا حاجت روا اور مشکل کشاوہی ہے۔
Ayah 55:30

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(30) سوائے جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔ یعنی یہ اس کا محتاج الیہ اور سب کو مشکل کشا ہونا بھی اللہ تعالیٰ کا ایک احسان ہے۔
Ayah 55:31

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اور جن وانس کی دونوں جماعتوں ہم عنقریب تمہارے حساب وکتاب کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔

(31) اے جن وانس کی دونوں جماعتو ! ہم عنقریب تمہارے حساب و کتاب کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں - فراغت کو یہاں مجازاً اور مبالغتہً فرمایا ہے یہ مطلب نہیں کہ ایک کام چھوڑ کر اور اس سے فارغ ہو کر تمہاری جانب متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ قصد اور توجہ تام کے معنی میں ہے اور حضرت حق تعالیٰ کا ہر قصد اور ہر توجہ تام ہی ہے فراغت کے مشہور معنی لینا مستلزم ہے کہ اس سے قبل کا شغل مانع عن التوجہ تھا حالانکہ ذات باری تعالیٰ میں یہ معنی محال ہیں اس لئے یہاں محض مبالغہ اور مجاز کے طور پر فرمایا سنفرغ ثقلان سے مراد جن وانس ہیں۔ اس آیت میں اطلاع دینا ہے عالم آخرت کے حساب وکتاب وغیرہ کی اور حضرت حق تعالیٰ کا احسان ہے۔
Ayah 55:32

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(32) سوائے جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔
Ayah 55:33

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جن وانس اگر تم کو آسمان و زمین کی حدود سے باہر نکل جانے کی قدرت ہے تو اچھا نکلو تم بغیر کسی زور اور قوت کے نہیں نکل سکتے اور وہ ہے نہیں۔

(33) اے گروہ جن وانس اگر تم کو آسمان و زمین کی حدود اور آسمان و زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی قدرت اور استطاعت ہے تو نکل جائو تم بغیر کسی زور اور قوۃ کے نہیں نکل سکتے اور وہ زور ہے نہیں۔ یعنی اگر حدود ارضی اور سماوی سے کہیں نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جائو لیکن بھاگ سکتے نہیں کیونکہ بھاگنا ہوسکتا ہے زور اور سطوت و طاقت سے وہ ہے نہیں۔ لہٰذا حدود ارضی وسماوی سے نکلنا بھی نہیں ہوسکتا جس طرح آج تمہاری حالت کمزور ی اور بےبسی کی ہے اسی طرح عالم آخرت میں بھی تم عاجز اور بےبس ہوگے کہیں بچ کر بھاگ نہ سکوں گے۔
Ayah 55:34

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(34) سوائے جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے - یعنی اس عالم کی خبر دینا بھی حضرت حق تعالیٰ کا احسان ہے روز آخرت کی تفصیل ہے۔
Ayah 55:35

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم دونوں پر خالص آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا پھر تم ان کا مقابلہ نہ کرسکوگے ۔

(35) تم دونوں پر خالص آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم اس کا مقابلہ اور اس کا بدلا نہ لے سکوگے - یعنی جب قبروں سے نکلو گے تو آگ کے شعلے تم کو گھیر کے لیجائیں گے یا جہنم کے دھوئیں اور جہنم کے شعلوں کا ذکر فرمایا جیسا کہ سورة مرسلات میں آئے گا۔ بہرحال عالم آخرت میں مجرموں کے ساتھ جو کچھ ہوگا اس کا مقابلہ تم دونوں جماعتوں کے مجرم مل کر بھی نہیں کر سکوگے۔
Ayah 55:36

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(36) سوائے جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔
Ayah 55:37

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

غرض جب آسمان پھٹ کر ایسا سرخ ہوجائے جیسے تیل کی تلچھٹ ۔

(37) پھر جب آسمان پھٹ جائیگا اور ایسا سرخ ہوجائیگا جیسے تیل کی تلچھٹ ، یا سرخ نری کا چمڑا۔ یعنی اوپر کی آیت مقں قیامت کے دن کی بےبسی کا اظہار تھا کہ اس دن تمام جن وانس عاجز ہوں گے اب فرمایا آسمان پھٹ جائے گا شاید مطلب یہ ہو کہ آسمان کے دروازے کھل جائیں گے اور فرشتے اتریں گے جیسا کہ سورة فرقان میں گزر چکا ہے کہ فرشتے اتریں گے اور بادلوں میں تجلی الٰہی کا نزول ہوگا اور حساب کتاب شروع ہوگا آسمان کا رنگ گلاب کے پھول کی طرح سرخ یا تیز گلابی ہوگا۔ کالدھان کے دو معنی کئے گئے ہیں تیل کی تلچھٹ اور سرخ نری کا چمڑا ہم نے دونوں کی طرف اشارہ کردیا ہے۔
Ayah 55:38

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(38) سو تم دونوں ! جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔
Ayah 55:39

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

پھر اس دن کسی انسان سے اور کسی جن سے اس کے گناہوں سے دریافت نہیں کیا جائے گا۔

(39) پھر اس دن کسی انسان سے اور کسی جن سے اس کے گناہوں کو معلوم کرنے کی غرض سے دریافت نہیں کیا جائے گا۔ یعنی جو سوال گناہوں سے ہوگا اس کی غرض یہ نہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کو مجرم کے گناہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوگی بلکہ مجرم پر جرم ثابت کرنے اور ان گناہوں کا اقرار کرانے کی غرض سے ہوگا۔ جیسا کہ فرمایا فوربک لنئلنھم اجمعین یعنی سوال تو ضرور ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کو بتانے اور معلوم کرانے کی غرض سے نہیں ہوگا بلکہ جرم ثابت کرنے کی غرض سے ہوگا اور زجرتوبیخ کی غرض سے ہوگا۔
Ayah 55:40

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔

(40) سوتم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔