55. Surah Ar-Rahmaan
الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
٭… جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی صفت ” رحمن “ کا ذکر فرماتے تو کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ کون رحمٰن ؟ ہم نہیں جانتے کہ رحمٰن کون ہے اور یہ کیا بات ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی تو کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہ کرو اور کبھی رحمٰن کا ذکر کرتے ہیں۔ کیا ہم اسی کو سجدہ کریں گے جس کے متعلق تم بیان کرتے رہو گے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة رحمٰن کو نازل فرمایا اور بتایا کہ اللہ اور رحمٰن دو نہیں بلکہ لفظ اللہ اس کا اسم ذات ہے اور رحمٰن اس کا صفاتی نام ہے جس کے معنی نہایت رحم کرنے والے کے آتے ہیں۔ فرمایا رحمٰن وہ ہے جس نے قرآن کریم کی تعلیم دی۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسی نے اس کو بولنے کی صلاحیت اور طاقت عطا فرمائی ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کو ایک خاص نظام کے تحت حساب اور تو ازن سے قائم کر رکھا ہے۔ ستارے ہوں یا درخت ہر ایک اسی رحمٰن کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں۔ اسی نے آسمان کو بلند کر کے اس میں ایک تو ازن پیدا کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم بھی اس میزان میں خلل نہ ڈالو۔ تم اعم زندگی کے لین دین میں ٹھیک ٹھیک تولو اور ماپ تول میں کسی طرح کی کمی نہ کرو۔ اس رحمٰن نے زمین کو ساری مخلوق کے لئے بنایا ہے۔ آدمی کے لئے غلافوں میں لپٹے ہوئے پھل اور کھجوریں پیدا کیں۔ طرح طرح کے غلے پیدا کیں۔ طرح طرح کے غلے پیدا کئے اور اسی میں جانوروں کی غذا بھوسہ بھی پیدا فرمایا۔ اسی رحمٰن نے دو دریاؤں کو اس طرح بنایا کہ وہ آپس میں ملے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور آڑ بنا دی جس سے وہ آپس میں نہیں ملتے۔ اسی نے سمندر سے اور دریاؤں سے متوی اور مونگے نکالے۔ اسی رحمٰن کے اختیار میں وہ اونچے اونچے جہاز ہیں جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس دنیا میں سوائے ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة رحمن کی تلاوت فرمائی تو صحابہ نے نہایت ادب اور خاموشی سے اس سورة کو سنا۔ آپ نے فرمایا کہ تم سے اچھے تو جنات ہی رے جب میں نے ان کے سامنے اس سورة کی تلاوت کی اور جب یہ آیت آتی ” فبای الائ “ ربکما تکذبان ‘ ذ تو وہ کہتے ” لابشیء من نعمک ربنا تکذب فلک الحمد “ علماء نے فرمایا ہے کہ سنت یہ ہے کہ جب بھی سورة رحمٰن میں یہ آیت آئے تو اس پر اسی طرح اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے جس طرح جنات نے ادا کیا تھا۔ اس سورة میں شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے فضل و کرم اور ہر طرح کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اکتیس مرتبہ ایک ہی آیت فبای الاء ربکما تکذبان کو دہرایا گیا ہے جس میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر جو بیشمار نعمتیں نازل کی ہیں ان کی قدر کر کے ہر آن اس کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ نعمتوں میں اور اضافہ فرما دیتا ہے۔ اللہ رب العالمین کی کریم ذات کے اور کسی چیز کو بقا حاصل نہیں ہے۔ ہر چیز کو ایک دن فنا ہونا ہے۔ زمین و آسمان میں جتنی بھی مخلوقات ہیں اپنی حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لئے اسی کے آگے سوالی ہیں اسی سے مانگ رہے ہیں۔ اس کی ذات بھی ہر آن کسی نئی شان سے جلوہ گر ہے۔ فرمایا کہ اے انسانوں اور جنتا ہم بہت جلد تم سے حساب لینے ہی والے ہیں۔ اے انسانو ! اور جنات کے گروہو ! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ کر دیکھ لو۔ اس کے لئے بڑی طاقت و قوت کی ضرورت ہے (جو تمہارے اندر موجود نیں ہے۔ ) فرمایا کہ ہم نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ اگر تم بھاگنے کی کوشش بھی کرو گے تو تمہارے اوپر اس شعلے اور دھوئیں کو چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب (اللہ کے خوف سے) آسمان پھٹ کر لال چمڑے کی طرح ہوجائے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے متعلق پوچھنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی کیونکہ اس دن وہ اپنی پیشانیوں اور پریشان چہروں سے پہچان لئے جائیں گے۔ اگر وہ ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کریں گے تو اللہ کے فرشتے ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کو تم زندگی بھر جھٹلاتے رہے۔ وہ جہنم والے اس دن کھولتے ہوئے گرم پانی کے چکر کاٹ رہے ہوں گے۔ اس دن وہ خوش نصیب لوگ بھی ہوں گے جو زندگی بھر اللہ کا خوف رکھتے ہوئے اپنے اعمال سر انجام دیتے تھے۔ ان کے لئے دو باغ ہوں گے۔ ہرے بھرے خوبصورت اور ان باغوں میں دو ایسے چشمے ہوں گے جو بہہ رہے ہوں گے۔ ان میں ہر طرح کے پھل اور میوے ہوں گے اور وہ بھی دو قسم کے یعنی طرح طرح کے پھل ہوں گے۔ اہل جنت ایسے فرشوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیاں ان پر جھکی پڑ رہی ہوں گی۔ ان ہی نعمتوں کے درمیان وہ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی شرمیلی حوریں ہوں گی جنہیں کبھی کسی انسان یا جن نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ ان ہی نعمتوں کے درمیان وہ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی شرمیلی حوریں ہوں گی جنہیں کبھی کسی انسان یا جن نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ ایسی حسین و جمیل جیسے ہیرے موتی، ان نیکو کاروں کا بدلہ تو یہی ہو سکتا ہے۔ فرمایا کہ ان دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور بھی ہوں گے گھنے سرسبز و شاداب، ان جنتوں میں ابلتے ہئوے فوارے کی طرح پانی کے دو چشمے ہوں گے۔ کثرت سے پھل، کھجوریں اور انار ہوں گے۔ خوبصورت اور خوب سیرت بیویاں ہوں گی، خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں جنہیں کسی انسان یا جن نے اس سے پہلے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ وہ جنتی سبز قالینوں اور حسین و جمیل فرشوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ بلاشک و شبہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پروردگار کا نام بڑی برکت والا ہے جو بڑی عظمتوں والا اور کرم کرنے والا ہے۔ اس سورة میں شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے فضل و کرم اور ہر طرح کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ایک ہی آیت کو اکتیس مرتبہ دہرا کر پوچھا ہے کہ انسانو ! اور جنات تم پر اللہ کی اتنی زیادہ نعمتیں ہیں کہ تم ان کا شکر ادا کرنا تو بڑی بات ہے تم ان کو شمار بھی نہیں کرسکتے کیا تم اس کی نعمتوں کا انکار کرسکتے ہو۔ ہر انصاف پسند شخص کی زبان سے یہی الفاظ ادا ہوں گے الٰہی ! ہم آپ کی کسی نعمت کا بھی انکار نہیں کرسکتے۔ حضرت جابر سے رویات ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن سورة رحمٰن کی تلاوت فرمائی تو صحابہ کرام جو ادب و احترام کا پیکر تھے وہ اس سورة کو بڑے احترام سے سنتے رہے اور خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم سے تو جنات ہی اچھے رہے۔ جب ان کے سامنے میں نے سورة رحمٰن کی تلاوت کی اور یہ آیت آئی ” فبای الاء ربکما تکذبان “ تو وہ جنتا کہتے جاتے تھے کہ ” لا بشیء من نعمک ربنا تکذب فلک الحمد “ یعنی اے ہمارے رب ہم آپ کی نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں۔ علماء نے فرمایا کہ جب بھی آدمی اس سورة کو پڑھے یا (نماز با جماعت کے علاوہ ) کسی سے سنے تو اس وقت اس دعا کو پڑھنا سنت ہے۔
اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader
رحمٰن
عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader
جس نے قرآن سکھایا
خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader
اس نے انسان کو پیدا کیا
عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader
اور اسی نے بولنا اور کلام کرنا سکھایا
اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader
سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں
وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader
اور بےتنے کے درخت اور تنے دار درخت سب اسی کو سجدہ کرتے ہیں (اسی کی اطاعت کرتے ہیں)
وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader
اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے تو ازن (ترازو) رکھ دی
اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader
تاکہ تم وزن میں بےاعتدالی نہ کرو۔
وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader
اور انصاف سے سیدھی ترازو تولو اور نہ گھٹائو (کم مت تولو)
وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader
اور اس نے زمین کو مخلوق کے فائدے کے لئے پھیلا دیا۔
فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader
جس میں میوے اور کھجو روں کے درخت ہیں جن کے پھولوں پر غلاف ہیں
وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader
اس میں بھوسہ اور اناج اور خوشبودار پھول ہیں۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader
اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader
اس نے انسان کو ایک خشک مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکرے کی طرح کھن کھن بولتی تھی
وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader
اور اسی نے جان (ابو الجنات) کو بےدھوئیں والی آگ سے پیدا کیا۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader
پھر تم اے جن و انس اس کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے
رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader
رب ہے مشرقین کا اور مغربین کا
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader
پھر تم اے جن و انس اپنے پروردگار کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے
مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader
اسی نے دو دریائوں کو اس طرح بہا دیا کہ وہ دونوں ملے ہوئے ہیں
بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader
جن کے درمیان ایک پردہ ہے
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader
۔ پھر تم اے جن و انس اپنے پروردگار کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے۔
یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader
ان دو دریائوں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader
پھر تم اے جن و انس اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے
وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader
سمندر میں چلنے والے جہاز جو پہاڑ کی طرح بلند ہیں اسی کے اختیار میں ہیں
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader
پھر اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔