55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

٭… جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی صفت ” رحمن “ کا ذکر فرماتے تو کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ کون رحمٰن ؟ ہم نہیں جانتے کہ رحمٰن کون ہے اور یہ کیا بات ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی تو کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہ کرو اور کبھی رحمٰن کا ذکر کرتے ہیں۔ کیا ہم اسی کو سجدہ کریں گے جس کے متعلق تم بیان کرتے رہو گے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة رحمٰن کو نازل فرمایا اور بتایا کہ اللہ اور رحمٰن دو نہیں بلکہ لفظ اللہ اس کا اسم ذات ہے اور رحمٰن اس کا صفاتی نام ہے جس کے معنی نہایت رحم کرنے والے کے آتے ہیں۔ فرمایا رحمٰن وہ ہے جس نے قرآن کریم کی تعلیم دی۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسی نے اس کو بولنے کی صلاحیت اور طاقت عطا فرمائی ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کو ایک خاص نظام کے تحت حساب اور تو ازن سے قائم کر رکھا ہے۔ ستارے ہوں یا درخت ہر ایک اسی رحمٰن کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں۔ اسی نے آسمان کو بلند کر کے اس میں ایک تو ازن پیدا کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم بھی اس میزان میں خلل نہ ڈالو۔ تم اعم زندگی کے لین دین میں ٹھیک ٹھیک تولو اور ماپ تول میں کسی طرح کی کمی نہ کرو۔ اس رحمٰن نے زمین کو ساری مخلوق کے لئے بنایا ہے۔ آدمی کے لئے غلافوں میں لپٹے ہوئے پھل اور کھجوریں پیدا کیں۔ طرح طرح کے غلے پیدا کیں۔ طرح طرح کے غلے پیدا کئے اور اسی میں جانوروں کی غذا بھوسہ بھی پیدا فرمایا۔ اسی رحمٰن نے دو دریاؤں کو اس طرح بنایا کہ وہ آپس میں ملے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور آڑ بنا دی جس سے وہ آپس میں نہیں ملتے۔ اسی نے سمندر سے اور دریاؤں سے متوی اور مونگے نکالے۔ اسی رحمٰن کے اختیار میں وہ اونچے اونچے جہاز ہیں جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس دنیا میں سوائے ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة رحمن کی تلاوت فرمائی تو صحابہ نے نہایت ادب اور خاموشی سے اس سورة کو سنا۔ آپ نے فرمایا کہ تم سے اچھے تو جنات ہی رے جب میں نے ان کے سامنے اس سورة کی تلاوت کی اور جب یہ آیت آتی ” فبای الائ “ ربکما تکذبان ‘ ذ تو وہ کہتے ” لابشیء من نعمک ربنا تکذب فلک الحمد “ علماء نے فرمایا ہے کہ سنت یہ ہے کہ جب بھی سورة رحمٰن میں یہ آیت آئے تو اس پر اسی طرح اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے جس طرح جنات نے ادا کیا تھا۔ اس سورة میں شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے فضل و کرم اور ہر طرح کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اکتیس مرتبہ ایک ہی آیت فبای الاء ربکما تکذبان کو دہرایا گیا ہے جس میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر جو بیشمار نعمتیں نازل کی ہیں ان کی قدر کر کے ہر آن اس کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ نعمتوں میں اور اضافہ فرما دیتا ہے۔ اللہ رب العالمین کی کریم ذات کے اور کسی چیز کو بقا حاصل نہیں ہے۔ ہر چیز کو ایک دن فنا ہونا ہے۔ زمین و آسمان میں جتنی بھی مخلوقات ہیں اپنی حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لئے اسی کے آگے سوالی ہیں اسی سے مانگ رہے ہیں۔ اس کی ذات بھی ہر آن کسی نئی شان سے جلوہ گر ہے۔ فرمایا کہ اے انسانوں اور جنتا ہم بہت جلد تم سے حساب لینے ہی والے ہیں۔ اے انسانو ! اور جنات کے گروہو ! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ کر دیکھ لو۔ اس کے لئے بڑی طاقت و قوت کی ضرورت ہے (جو تمہارے اندر موجود نیں ہے۔ ) فرمایا کہ ہم نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ اگر تم بھاگنے کی کوشش بھی کرو گے تو تمہارے اوپر اس شعلے اور دھوئیں کو چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب (اللہ کے خوف سے) آسمان پھٹ کر لال چمڑے کی طرح ہوجائے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے متعلق پوچھنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی کیونکہ اس دن وہ اپنی پیشانیوں اور پریشان چہروں سے پہچان لئے جائیں گے۔ اگر وہ ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کریں گے تو اللہ کے فرشتے ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کو تم زندگی بھر جھٹلاتے رہے۔ وہ جہنم والے اس دن کھولتے ہوئے گرم پانی کے چکر کاٹ رہے ہوں گے۔ اس دن وہ خوش نصیب لوگ بھی ہوں گے جو زندگی بھر اللہ کا خوف رکھتے ہوئے اپنے اعمال سر انجام دیتے تھے۔ ان کے لئے دو باغ ہوں گے۔ ہرے بھرے خوبصورت اور ان باغوں میں دو ایسے چشمے ہوں گے جو بہہ رہے ہوں گے۔ ان میں ہر طرح کے پھل اور میوے ہوں گے اور وہ بھی دو قسم کے یعنی طرح طرح کے پھل ہوں گے۔ اہل جنت ایسے فرشوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیاں ان پر جھکی پڑ رہی ہوں گی۔ ان ہی نعمتوں کے درمیان وہ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی شرمیلی حوریں ہوں گی جنہیں کبھی کسی انسان یا جن نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ ان ہی نعمتوں کے درمیان وہ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی شرمیلی حوریں ہوں گی جنہیں کبھی کسی انسان یا جن نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ ایسی حسین و جمیل جیسے ہیرے موتی، ان نیکو کاروں کا بدلہ تو یہی ہو سکتا ہے۔ فرمایا کہ ان دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور بھی ہوں گے گھنے سرسبز و شاداب، ان جنتوں میں ابلتے ہئوے فوارے کی طرح پانی کے دو چشمے ہوں گے۔ کثرت سے پھل، کھجوریں اور انار ہوں گے۔ خوبصورت اور خوب سیرت بیویاں ہوں گی، خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں جنہیں کسی انسان یا جن نے اس سے پہلے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ وہ جنتی سبز قالینوں اور حسین و جمیل فرشوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ بلاشک و شبہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پروردگار کا نام بڑی برکت والا ہے جو بڑی عظمتوں والا اور کرم کرنے والا ہے۔ اس سورة میں شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے فضل و کرم اور ہر طرح کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ایک ہی آیت کو اکتیس مرتبہ دہرا کر پوچھا ہے کہ انسانو ! اور جنات تم پر اللہ کی اتنی زیادہ نعمتیں ہیں کہ تم ان کا شکر ادا کرنا تو بڑی بات ہے تم ان کو شمار بھی نہیں کرسکتے کیا تم اس کی نعمتوں کا انکار کرسکتے ہو۔ ہر انصاف پسند شخص کی زبان سے یہی الفاظ ادا ہوں گے الٰہی ! ہم آپ کی کسی نعمت کا بھی انکار نہیں کرسکتے۔ حضرت جابر سے رویات ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن سورة رحمٰن کی تلاوت فرمائی تو صحابہ کرام جو ادب و احترام کا پیکر تھے وہ اس سورة کو بڑے احترام سے سنتے رہے اور خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم سے تو جنات ہی اچھے رہے۔ جب ان کے سامنے میں نے سورة رحمٰن کی تلاوت کی اور یہ آیت آئی ” فبای الاء ربکما تکذبان “ تو وہ جنتا کہتے جاتے تھے کہ ” لا بشیء من نعمک ربنا تکذب فلک الحمد “ یعنی اے ہمارے رب ہم آپ کی نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں۔ علماء نے فرمایا کہ جب بھی آدمی اس سورة کو پڑھے یا (نماز با جماعت کے علاوہ ) کسی سے سنے تو اس وقت اس دعا کو پڑھنا سنت ہے۔

Ayahs 55:1–25

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

رحمٰن

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

جس نے قرآن سکھایا

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اس نے انسان کو پیدا کیا

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اور اسی نے بولنا اور کلام کرنا سکھایا

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بےتنے کے درخت اور تنے دار درخت سب اسی کو سجدہ کرتے ہیں (اسی کی اطاعت کرتے ہیں)

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے تو ازن (ترازو) رکھ دی

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

تاکہ تم وزن میں بےاعتدالی نہ کرو۔

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف سے سیدھی ترازو تولو اور نہ گھٹائو (کم مت تولو)

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اس نے زمین کو مخلوق کے فائدے کے لئے پھیلا دیا۔

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

جس میں میوے اور کھجو روں کے درخت ہیں جن کے پھولوں پر غلاف ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اس میں بھوسہ اور اناج اور خوشبودار پھول ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اس نے انسان کو ایک خشک مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکرے کی طرح کھن کھن بولتی تھی

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور اسی نے جان (ابو الجنات) کو بےدھوئیں والی آگ سے پیدا کیا۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

پھر تم اے جن و انس اس کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

رب ہے مشرقین کا اور مغربین کا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

پھر تم اے جن و انس اپنے پروردگار کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو دریائوں کو اس طرح بہا دیا کہ وہ دونوں ملے ہوئے ہیں

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

جن کے درمیان ایک پردہ ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

۔ پھر تم اے جن و انس اپنے پروردگار کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے۔

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

ان دو دریائوں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

پھر تم اے جن و انس اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

سمندر میں چلنے والے جہاز جو پہاڑ کی طرح بلند ہیں اسی کے اختیار میں ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

پھر اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے انسان کو ایسی ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار کرنا ممکن نہیں ہے طرح طرح کی بیشمار نعمتیں اس کے وجود کے اندر اور اس کے اردگرد بکھری ہوئی ہیں لیکن انسن کو ان نعمتوں کی اس وقت تک قدر نہیں ہوتی جب تک وہ اس کے ہاتھ سے نکل نہیں جاتیں۔ زوال نعمت کے بعد نعمتوں کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورة رحمٰن میں بار بار ایک ہی آیت کو ھدرایا ہے اور اس کائنات کی دو صاحب اقتدار اور دار مخلوقات جنات اور انسانوں سے خطاب کرتے ہئے فرمایا ” فبای ربکما تکذبان “ (اے جن و انس ) تم دونوں اللہ کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے ؟ ایک ہی آیت کو 68 آیات میں اکتیس مرتبہ دھرانا اس بات کی علامت ہے کہ جب تک اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا جایئے اس وقت تک انسان اور جنات کی تخلیق کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” اگر تم اللہ کی نعمتوں پر شکر کرو گے تو (ہمارا یہ وعدہ ہے کہ ) ہم ان نعمتوں کو بڑھاتے ہی چلے جائیں گے۔ “ اور اس کے ساتھ ہی فرما دیا کہ ” اگر تم نے ناشکری (کا طریقہ اختیار) کیا تو (ناشکری پر) میرا عذاب بھی شدید تر ہے۔ “ اس سورت کی ابتدا ” رحمٰن “ سے کی گئی ہے جس کے معنی ہیں ” بہت رحم کرنے والا “ یہ ال لہ کا صفاتی نام ہے۔ لیکن کفار مکہ کے لئے رحمٰن کا لفظ بالکل نیا تھا بلکہ وہ یہ سمجھے کہ اللہ اور رحمٰن وہ الگ الگ معبود ہیں اسی لئے وہ کہنے لگے کہ ہم رحمٰن کو نہیں جانتے اور یہ کیا بات ہوئی کبھی تم کہتے ہو کہ اللہ کی عبادت کرو اور کبھی کہتے ہو رحمٰن کی قدر پہنچانو اور اس کو سجدہ کرو۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ بس جسم کو تم کہہ دو وہی معبود ہے اور اسی کی عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی احمقانہ اور جاہلانہ بات کا جواب دینے کے بجائے پوری سورة رحمٰن نازل کر کے بتا دیا کہ اللہ اور رحمٰن دو معبود نہیں بلکہ ایک ہی معبود ہے۔ اللہ ہی رحمٰن ہے جس نے قرآن جیسی با عظمت کتاب کی تعلیم دی۔ انسان کو وجود بخشا، اپنے دلی جذبات کے اظہار کے لئے اس کو بولنے اور کلام کرنے کی صلاحیتوں سے نوازا اور پوری کائنات کو اس طرح کی خدمت پر لگا دیا ، چاند سورج اور ستاروں کے راستے مقرر کردیئے جو ایک خاص حساب گھوم رہے ہیں اور فضا میں تیر رہے ہیں ۔ اس نے بیلوں ، پودوں ، بڑے بڑے سائے دار گھنٹے درختوں کو اس کے رزق کا ذریعہ بنا دیا۔ اسی نے نظام کائنات کو عدل و انصاف اور ایک خاص تو ازن اور ایک خاص تو ازن سے خوبصورتی عطا فرمائی اور لوگوں کے ہاتھوں میں ترازوئے عدل دے کر حکم دیا کہ وہ اس کائنات میں اپن عمل کردار اور تجارتی بد دیائیوں سے اس تو ازن اور اعتدال کو ضائع نہ کریں اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتنے ہوئے معاملات زندگی کو حسین تر بنائیں۔ اس نے زمین کو اس پر بسنے اور آباد رہنے والی مخلوق کے فائدوں کے لئے بنایا ہے۔ خوشبو اور چیزیں طرح طرح کے لذیذ پھل سبزیاں، ترکاریاں اور غلہ پیدا کیا۔ اسی غلہ میں جانوروں کی غذا بھوسے کو پیدا کر کے انسان ہاتھوں کو جانوروں تک رزق پہنچانے کا ذریعہ بنا دیا۔ اسی نے انسان کو کھٹکھٹاتی مٹی سے اور جنات کو آگ سے پیدا کیا اور آگے بھی ایسی کہ جس میں دھواں نہ تھا۔ انسان اور جنات کو کائنات میں با اختیار بھی بنایا اور ذمہ دار مخلوق بھی اور ان کو پیدا کر کے ان کو ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ ان کی رہنمائی کے تمام اسباب بھی پیدا کئے تاکہ جب بھی وہ سیدھی ڈگر سے ہٹ کر غلط راستوں پر چل پڑیں تو ان کو صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین کی جائے۔ اسی رحمٰن نے سورج کے نکلنے، ڈوبنے اور مختلف منزلوں سے گذرنے کے قاعدے طریقے اور قانون بنائے تاکہ دنوں، تاریخوں اور ماہ وسال کے حساب کو متعین کیا جاسکے اور مختلف موسم آتے جاتے رہیں تاکہ موسم کی یکسانیت سے انسان اکتا نہ جائے۔ زمین سے چاند اور سورج کا فاصلہ اس حساب سے رکھا گیا کہ اس میں فرق نہ آنے پائے کیونکہ اگر یہ فاصلہ ذرا بھی گھٹ جائے یا بڑھ جائے تو اس زمین پر انسان کو زندگی گذارنا مشکل ہوجائے فرمایا کہ وہ ہر مشرق اور مغرب کا پروردگار ہے اسی نے سمندر اور دریا پیدا کئے جن میں سے بعض تو ایسے دریا اور سمندر ہیں کہ دو دریا اور سمندر مل رہے ہیں مگر ہر پانی کا رنگ اور مزہ بالکل مختلف ہے آدمی دور سے دیکھ کر اس فرق کو صاف محسوس کرسکتا ہے۔ اسی رحمٰن نے ایک ہی زمین میں کھارے اور میٹھے پانی کے چشمے جاری کردیئے۔ اسی میں میٹھا اور کھارا پانی نکل رہا ہے، اسی سے تیل اور گیس نکل رہا ہے لیکن سب الگ الگ وہ ایک دوسرے میں ملتے نہیں ہیں۔ یہ بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ سمندر اور دریاؤں کے پانیوں سے قیمتی موتی اور مونگے نکلتے ہیں جن سے زیور بھی بنتے ہیں اور تجارت کے کام بھی آتے ہیں۔ سمندر کی چھاتی پر پہاڑوں کی طرح کھڑے ہوئے اور لچتے ہوئے جہاز جن کی سمندر میں ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہیں ہوتی ان کے لئے اللہ موافق ہوا چلا کر ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس نے انسان کے رزق کا اور آنے جانے کا راستہ ہموار کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب اس اللہ رحمٰن و رحیم کا کرم ہے جس نے انسانوں اور جنات کو ان نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ فرمایا کہ اے جن و انس تم اللہ کی کس کس نعمت کا انکار کرسکتے ہو ؟ یہ ہر نعمت اسی کی عطا کی ہوئی ہے۔ ان آیات سے متعلق چند باتیں (1) ان آیات میں پہلے تعلیم قرآن کا اور پھر انسان کی پیدئاش کا ذکر کیا گیا ہے۔ کلام کی اس ترتیب سے یہ سمجھا گیا ہے کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت قرآن کریم اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہے۔ اگر ایک شخص اللہ کے پاک کلام کی پوری طرح اتباع کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے مقصد تخلیق کی تکمیل کرتا ہے بلکہ دنیا اور آخرت کی ہر بھلائیا ور خیر کا اپنے آپ کو مستحق بنا لیتا ہے۔ 2) اس نے بولنا اور کلام کرنا سکھایا۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور، سمجھ، دانائی و فراست کی دولت سے انسان کو نوازا ہے۔ انسان سوچتا ہے ، سمجھتا ہے، تجربے کر کے نئی سے نئی بات پیدا کرتا ہے اور اپنے دل کی ہر بات اور اپنے دماغ اور تجربات کی ہر سوچ اور عمل کو الفاظ کے سانچوں میں ڈھال کر بیان کردیتا ہے۔ دلی جذبات کا زبان سے اظہار اتنی بڑی نعمت ہے جو اس کائنات میں کسی اور مخلوق کو حاصل نہیں ہے۔ اس جگہ اس کی تعلیم دی گئی ہے کہ انس ان کی ہر سوچ اور فکر ضروری نہیں ہے کہ اس کو منزل تک پہنچا دے اگر اس کی سوچ اور فکر کو قرآن کریم کی روشنی اور ہدایت نصیب ہوجائے اور سنت رسول ﷺ سے جلا ملا جائے تو پھر اس سے انساین ذہن و فکر میں وہ انقلاب برپا ہو اجتا ہے جو اس کو دنیا اور آخرت میں کامیاب و بامراد کردیتا ہے۔ صحابہ کرام کو نبی کریم ﷺ کی صحبت اور تعلیم و تربیت کی برکت سے جب اپنے جذبات کے اظہار کے لئے قرآن کریم کی زبان مل گئی تو انہوں نے زبان وبیان سے ساری دنیا میں بےمثال انقلاب برپا کر کے ساری دنیا کے اندھیروں کو دور کردیا تھا۔ 3) تجارتی بد دیانتی بھی کفر و شرک کی طرح ایک بدترین عادت ہے۔ حضرت شعیب کی قوم کو تجارت میں بد دیانتی کی وجہ سے تباہ و برباد کیا گیا۔ ان کے لئے پیمانے اور ہوتے تھے اور دینے کے کچھ اور فرمایا کہ اللہ نے کائنات میں جس تو ازن کو قائم کیا ہے اور ہر چیز سے عدل و انصاف کیا ہے تم بھی ان اصولوں کا خیال رکھو۔ جن لوگوں کے حقوق تمہارے ہاتھوں میں سونپے گئے ہیں اگر تم نے ان میں بےاعتدالی، بےانصافی اور ظلم و زیادتی کو رواج دیا تو نہ صرف قانون فطرت سے بغاوت ہوگی بلکہ عذاب اور سزا کا سبب بھی ہو سکتی ہے۔