Ayah 55:1[ 1] خدائے رحمن اور اس کی شان رحمت کا ذکر وبیان :
سو وہ خدائے رحمان ایسی بےپایاں رحمتوں والا ہے کہ یہ پوری کائنات اس کی رحمتوں سے بھری ہوئی ہے اور اس کائنات کے مخدوم حضرت انسان کا وجود سرتاپا اس کی رحمتوں، اور عنایتوں میں ڈوبا ہوا ہے، اور وہ ایسا مہربان ہے۔ جس کی رحمتوں کا کوئی کنارہ نہیں، اور جس نے اپنی اسی رحمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق قرآن حکیم جیسی اس نعمت کبریٰ سے انسانیت کو سرفراز فرمایا اور جس نے انسان کو طرح طرح کی ان دوسری عظیم الشان نعمتوں سے نوازا جن کا ذکر اس سورة کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے، چونکہ اس سورة ٗ کریمہ میں اللہ پاک نے اپنی عظیم الشان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے، اس لئے اس کا آغاز ہی اس نے اپنی صفت رحمت سے فرمایا ہے، اس کی تیرکیب میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ یہ مبتدا ہے اور مابعد اس کی خبر " وھو الظاھر المتبادر " جبکہ دوسرا قول و احتمال اس میں یہ ہے کہ یہ خبر ہو مبتداء محذوف کی، یعنی اللہ الرحمن، [ فتح القدیر، وغیرہ ] دونوں صورتوں میں اس میں ان مشرکین پر زد ہے جن کا کہنا تھا کہ رحمن کیا ہوتا ہے ؟ { قالوا وما الرحمن } [ الفرقان : 60] سو اس سے ان کا جواب ہوگیا کہ خدائے رحمن وہی ہے جس کی رحمت و عنایت کے یہ طرح طرح کے مظاہرہ و آثار تم لوگ چاروں طرف پھیلے اور بکھرے ہوئے دیکھ رہے ہو، اور جن میں تم لوگ خود سرتاپا ڈوبے ہوئے ہو۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ نیز اس میں تمام اصحاب فکر و بصیرت کے دل و دماغ پر ایک دستک ہے کہ تم لوگ ذرا سوچو اور غور و فکر سے کام لو اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ یہ حکمتوں، عنایتوں، اور رحمتوں بھری، کائنات آخر کس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے جس سے تم لوگ ہر وقت اور ہر لحظہ مستفید و فیضیاب ہوتے ہو ؟ اور طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو، آخر وہ کون ہے جس نے تمہارے لئے اس رحمتوں بھری کائنات کو وجود بخشا ؟ اور اس کا کیا حق ہے تم لوگوں پر ؟ سو وہی ہے خدائے رحمان، اور اس کی بےپایاں رحمتوں کا تقاضا ہے کہ بندہ دل و جان سے اس کا بندہ بن جائے اور اس کے آگے جھک جائے اور جھکا ہی رہے۔ اور اسی کی رضا و خوشنودی کے حصول کو اپنا حقیقی مقصد اور اصل نصب العین بنائے کہ اسی میں اس کا بھلا ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی، اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 55:2–3[ 2] تعلیم قرآن کی نعمت کا ذکر وبیان :
سو تعلیم قرآن کی خاص نعمت کے بطور خاص ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے سکھایا قرآن اپنی رحمت بےپایاں سے۔ اے پیغمبر ﷺ کو، اور پھر ان کے ذریعے سے آپ کی امت کو، [ المراغی، القرطبی، الفتح وغیرہ ] نیز اس کا سیکھنا اور یاد کرنا آسان فرما دیا کہ جو بھی چاہے اس سے فیضیاب ہوسکتا ہے بشرطیکہ نیت صحیح اور طریقہ درست ہو، یہاں تک کہ چھوٹے بچے بھی اس کو ازبر حفظ کرلیتے ہیں۔ ورنہ کس کے بس میں تھا کہ وہ اس رب رحمن و رحیم کی رحمت و عنایت کے بغیر حضرت خالق جل مجدہ کے اس جلیل القدر اور عظیم الشان کلام کا ازخود اور اپنے طور پر تکلم بھی کرسکتا ؟ [ کما رواہ الضحاک عن ابن عباس ؓ ] یہاں سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اللہ پاک کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم ہی کی نعمت ہے، جو کہ انسان کو حیوانیت کے گڑھے سے نکال کر اشرف المخلوقات کے شرف سے ہمکنار کرتی اور اسے دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور مشرف فرماتی ہے، کہ یہاں سب سے پہلے اسی نعمت کو ذکر فرمایا گیا ہے، اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضور کے استاذ و معلم درحقیقت حضرت حق۔ جل مجدہ۔ خود ہیں اور۔ { علمہٗ شدید القویٰ } میں جو اس کی نسبت حضرت جبریل امین کی طرف فرمائی گئی ہے، تو وہ اسناد مجازی کے طور پر ہے، یعنی محض ذریعہ اور واسطہ کے اعتبار سے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ خدائے رحمن نے قرآن سکھایا اور اسی نے پیدا فرمایا انسان کو کہ خالق سب کا بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پس جن لوگوں کی اپنی اخراع و ایجاد ہے۔ جو جمہور امت کے خلاف اور تحریف کے قبیل سے ہے کیونکہ ایک تو یہ معنی اس سے پہلے کسی نے بھی نہیں کیے، بلکہ جمہور علماء و مفسرین کا کہنا ہے کہ یہاں انسان سے مراد جنس انسان ہے [ محاسن التاویل، مراغی اور صفوۃ وغیرہ ] لہٰذا ایسے لوگوں کے اختیار کردہ یہ معنی نہ تو جمہور علماء و مفسرین کے قول کے مطابق ہیں اور نہ ہی یہ معنی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں درست ہوسکتے ہیں، اور دوسرے اگر بالفرض یہاں انسانیت کی جان یعنی سید المرسلین، شفیع المذنبین، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی پیدائش ہی مراد ہے تو پھر باقی انسانوں کو کس نے پیدا کیا ؟ خالق تو بہرحال سب کا وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اسی نے سب کو پیدا فرمایا، اور سب کو قرآن پڑھنا سکھایا،
Ayahs 55:4–5[ 3] نعمت نطق و گویائی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے اس کو بات کرنا سکھایا۔ تاکہ اس طرح وہ اظہار مافی الضمیر کرسکے اور افادہ و استفادہ کے قابل ہوسکے، یہاں پر انسان خلقت کے بعد سب سے پہلے تعلیم بیان کی نعمت کو ذکر فرمایا گیا، اور اس سے بھی پہلے تعلیم قرآن کی نعمت کو، جس سے معلوم ہوا کہ سب سے بڑی اور سب سے اہم نعمت علم کی نعمت ہے، اور علوم میں سے بھی علم قرآن کی نعمت، سب سے بڑی، اور سب سے اہم نعمت ہے، بہرکیف اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا، اور اس کو نطق و گویائی کی قوت سے نوازا، اور اس کو سننے سمجھنے کی صلاحیت بخشی، جس سے وہ خیر اور شر کے درمیان فرق وتمیز کرسکتا ہے، اور اس کو آگے پہنچا سکتا ہے، یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ انسان کے اندر نطق کی صلاحیت اس کے اندر دوسری گوناگوں اور عظیم الشان صلاحیتوں کی شاہد اور ان کی آئینہ دار ہے۔ کیونکہ یہ نطق مستلزم ہے اس بات کو کہ انسان عاقل اور مدرک ہے، اور یہ استنباط اور اجتہاد و استخراج کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہی چیز اس کو دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز کرتے ہے۔ اسی لیے اس کو حیوان ناطق کہا جاتا ہے ورنہ اس انسان اور حیوان کے اندر کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ سو نعمت نطق ایک عظیم الشان جامع اور بےمثل نعمت ہے۔ اسی لیے یہاں پر اس کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے۔ کہ یہ اسی وحدہٗ لاشریک کی عطاء و بخشش کا نتیجہ ہے، فلہ الحمد ولہ الشکر، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب، والھادی الی الحق والرشاد، جل جلالہٗ ۔
Ayah 55:6[ 5] نجم و شجر کی سجدہ ریزی کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اسی کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں ستارے بھی اور درخت بھی۔ یعنی تکوینی طور پر کہ جس کو جس غرض کے لئے پیدا فرمایا گیا ہے، اور جس کو جس کام پر متعین و مامور فرمایا گیا ہے، وہ ٹھیک ٹھیک بلا کسی چون و چرا کے اس کو انجام دے رہا ہے۔ سو یہ ان تمام اشیاء اور مخلوقات کا تکوینی اور فطری سجدہ ہے جس کو ان میں سے ہر چیز پوری مستعدی اور پابندی کے ساتھ ادا کر رہی ہے۔ مگر یہ چونکہ اس کا ایک طبعی عمل اور فطری وظیفہ ہے، جس میں اس کا اپنا کوئی ارادہ و اختیار نہیں۔ اس لیے ان میں سے کسی کیلئے بھی اس سجدہ ریزی پر کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا، رہ گیا تشریعی سجدہ تو وہ صرف انسانوں اور جنوں کے ساتھ خاص ہے جن کی تخلیق کا اصل مقصد ہی عبادت و بندگی رب ہے۔ اور اسی پر اجر وثواب کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے ارادہ اختیار سے ہوتا ہے، جب کہ تکوینی سجدہ جبر و قسر سے، سو آسمان کے ستارے ہوں یا زمین کے درخت، سب ہی اپنے خالق ومالک کے آگے سرنگوں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہیں، جیسا کہ پ 17 سورة حج کی آیت نمبر 18 میں ارشاد فرمایا گیا۔ { الم تران اللّٰہ یسجد لہٗ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجر والدواب و کثیر من الناس ط و کثیر حق علیہ العذاب ط ومن یھن اللّٰہ فما لہ من مکرم ط ان اللہ یفعل ما یشآئ کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ ہی کیلئے سجدہ ریز ہوتے ہیں وہ سب بھی جو کہ آسمانوں میں ہیں اور وہ سب بھی جو کہ زمین میں ہیں، اور سورج، چاند اور ستارے بھی۔ پس نجم سے یہاں مراد اس لفظ کے مشہور و معروف معنی ہی ہیں۔ یعنی ستارے۔ پس جن لوگوں نے یہاں پر نجم سے مراد زمین پر پیدا ہونے والے جھوٹے پودے لیے ہیں ان کا قول درست نہیں، ابن کثیر نے نجم سے ستارہ ہی مراد لیا ہے۔ سو آسمانوں کے ستارے اور زمین کے درکت سب ہی اپنی ان سجدہ ریزیوں سے اپنی زبان حال کے ذریعے پکار پکار کر انسان کو یہ دعوت دے رہے ہیں کہ وہ بھی صدق دل سے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوجائے اور اپنی سرکشانہ روش کو ترک کرکے اس کی اطاعت و بندگی کی راہ کو اپنائے کہ یہی اس کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی واحد راہ ہے، اور اپنے رب کے حضور سرافگندگی اور سجدہ ریزی ہی اسلام و اطاعت اور تقویٰ و پرہیزگاری ہے اور یہی یعنی اسلام ہی دین ہے اس پوری کائنات کا۔ { افغیر دین اللّٰہ یبغون ولہٗ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا والیہ یرجعون } [ آل عمران : 83 پ 13] یعنی اسی کے حضور سرافگندہ ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہیں اس لئے بندوں کو بھی دل و جان سے اس کے حضور جھکنا اور جھکنے ہی رہنا چاہیے کہ یہ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
Ayah 55:7[ 6] آسمانی چھت میں سامان غور و فکر :
سو اس سے آسمان کی اس عظیم الشان چھت میں سامان غور و فکر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے اٹھایا آسمان کی اس عظیم الشان چھت کو۔ حسی طور پر بھی کہ آسمان یہ عظیم الشان چھت پوری دنیا پر یکساں طور پر تنا ہوا ہے، اور ہر جگہ ایک ہی شان سے نظر آتا ہے۔ اور پھر اس میں نہ کوئی ٹوٹ ہے نہ پھوٹ نہ پھٹن ہے نہ شگاف۔ نہ کسی اصلاح کی ضرورت، نہ مرمت کا کوئی سوال۔ تو کیا ہے یا ہوسکتا ہے اس شان کا کوئی اور آسمان یا چھت ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو اس کی عظمت میں کیا شک ہوسکتا ہے ؟ فسبحان اللّٰہ الخالق العظیم۔ اور معنوی اعتبار سے بھی یہ ایک عظیم الشان چھت ہے کہ وہ فرشتوں کا مسکن ہے، احکام و شرائع، اوامرو نواہی، اور بارش و ارزاق، وغیرہ سب کچھ ادھر ہی سے آتا ہے، سو تم لوگ ذرہ دیکھو تو سہی کہ کیسی قدرت، حکمت اور رحمت و عنایت ہے تمہارے اس خالق ومالک رب رحمن و رحیم کی، جس نے بغیر ظاہری ستونوں کے تمہارے اوپر اس قدر عظیم الشان اور ناپیدا کنار وسعتوں والی اس چھت کو اس طرح تن دیا ہے۔ سو وہی خالق حکیم، رب قدیر اور مالک مطلق معبود برحق ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اور اس کی ہر شکل و صورت اسی کا اور صرف اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے۔ اس میں دوسری کوئی بھی ہستی کسی بھی درجے میں نہ اس کی شریک ہے نہ ہوسکتی ہے وہ ہر لحاظ و اعتبار سے یکتا و بےمثل اور وحدہٗ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ فایاہ نعبد وبہ نستعین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
[ 7] میزان عدل کی نعمت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے رکھ دیا ہے ترازو۔ یعنی نظام عدل و انصاف، جو کہ معنوی ترازو ہے جس پر سارا نظام قائم ہے۔ جمہور مفسرین کرام نے یہاں پر میزان سے عدل و انصاف ہی مراد لیا ہے کہ اسی پر زمین و آسمان کا یہ سارا نظام قائم ہے کہ آسمان و زمین اور اس پوری کائنات کے اندر پائی جانے والی یہ لاتعداد مخلوق اور بےحد و حساب اشیاء حضرت خالق حکیم کی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ پر مبنی اسی عدل و توازن کی بنا پر قائم ہیں۔ اگر ان تمام چیزوں کے اندر یہ حکمتوں بھرا عدل و توازن قائم نہ ہوتا تو یہ کارگہ ہستی ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتی۔ اسی لیے اس نے شریعت کی وہ میزان اتاری جو سب کے حقوق متعین کرتی ہے اور اسی لیے اس نے حسی ترازو کا بھی حکم دیا۔ کہ اسی سے سب کے حقوق کی پاسداری ہوتی ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا۔ { وزنوا بالقسطاس المستقیم } یعنی تم لوگ تو لوسیدھے ترازو سے، اور اسی بناء پر دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { لقد ارسلنا رسلنا بالبینت وانزلنا معھم الکتب والمیزان لیقوم الناس بالقسط ج وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس ولیعلم اللّٰہ من ینصرہٗ ورسلہٗ بالغیب ط ان اللّٰہ قوی عزیز۔ [ الحدید : 25 پ 27] اور یہاں پر میزان سے مراد حسی ترازو بھی مراد لیا جاسکتا ہے جیسا کہ روایات میں اس کا ذکر موجود ہے، [ المراغی، الجامع وغیرہ ] نیز اسی نے آسمان و زمین کے اندر یہ میزان رکھ دیا جس سے اس کائنات کا توازن قائم ہے، ورنہ یہ سارا نظام درہم برہم ہوجاتا، سو عدل و توازن قدرت کی ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ بہرکیف ایک عدل و انصاف کا وہ عظیم الشان معنوی ترازو ہے جس پر اس کائنات کا وجود قائم اور اس کا نظام برقرار ہے اور جو براہ راست حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ سو میں اور کسی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اور دوسرا دین و شریعت کا وہ عظیم الشان مقدس ترازو ہے جس کے ذریعے ہر کسی کے حقوق کا تعین فرمایا گیا۔ اس ترازو کو قائم کرنا بندوں کے ذمے ہے تاکہ سب کے حقوق محفوظ ہوں، اور کسی کی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ اور معاشرے میں امن وامان کا دور دورہ ہو۔ اس لیے اس کی ذمہ داری بندوں پر ڈالی گئی، اور ان سے فرمایا گیا۔ { الا تخدرو المیزان } " یعنی تم لوگ ترازو کے سلسلے میں کوئی کمی اور کوتاہی نہ کرنا " بلکہ برابر، برابر ناپنا تولنا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل،
Ayah 55:8[ 8] باپ تول میں کمی و بیشی سے ممانعت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور کائنات کی فطرت عدل کے لازمی تقاضے اور نتیجے میں بیان کے طور ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کمی بیشی نہ کرو باپنے تولنے میں۔ اور اس طرح تم لوگ کسی کا حق نہ مارو۔ اور جس عدل و انصاف پر یہ سارا نظام قائم ہے۔ تم بھی اسی کے مطابق باہم معاملہ کرو۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ابن آدم جس طرح تو چاہتا ہے تیرے ساتھ انصاف ہو تو پھر تو بھی دوسروں کے ساتھ انصاف کر۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح کہ آسمان و زمین کا یہ سارا نظام توازن اور میزان عدل و انصاف پر قائم ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی اپنے دائرہء اختیار میں عدل و انصاف اور توازن کو قائم رکھو۔ اور ہمیشہ اس بات کو ملحوظ رکھو کہ حق نہ مارا جائے، اور میزان عدل و انصاف میں کوئی خلل اور خرابی نہ پیدا ہونے پائے، اور معیشت و معاش کا نظام خلل و فساد سے محفوظ رہے۔ سو اپنے دائرہء اختیار میں عدل و انصاف کو وائم رکھنا ایک اہم مطلب اور بنیادی مقصد ہے جو تقاضا ہے اس کائنات کی فطرت کا اور جس کی تعلیم اور دعوت یہ دین حنیف دے رہا ہے۔ سو اگر تم لوگوں نے اپنے دائرہ اختیار میں اس کی خلاف ورزی کی اور طغیان و سرکشی سے کام لیا تو اس کا بھگتان تم کو بھگتنا پڑے گا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کہ عدل و انصاف میں خلل و خرابی باعث خرابی و فساد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف عدل و انصاف کے تقاضوں کی پاسداری ایک عظیم الشان مطلب ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، والھادی الی الحق الرشاد، جل جلاہٗ وعم نوالہٗ ،
Ayah 55:9[ 9] ناپ تول میں عدل و انصاف سے کام لینے کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ وزن کو قائم کرو انصاف کے ساتھ، اور کمی نہ کرو تول میں۔ بلکہ ہر کسی کو اس کا حق پورا پورا ادا کرو۔ سو اوپر والی بات تو ایک کلیے کی حیثیت سے بیان ہوئی تھی۔ اب یہ اسی کلیے پر مبنی ایک دوسری حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کا تعلق ہماری روزمرہ کی زندگی سے ہے۔ سو فرمایا گیا کہ تم ٹھیک ٹھیک تو لو انصاف کے ساتھ اور ناپ تول میں کمی نہیں کرنا۔ سو عدل و انصاف کے تقاضوں پر مبنی اور گایت درجہ توازن پر قائم اس کائنات کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ اپنے دائرہ اختیار میں پوری طرح عدل و انصاف پر قائم رہو۔ نہ کسی کا حق غضب کرو اور نہ کسی طرح کی ڈنڈی مارو کہ باپ تول میں کمی اور ڈنڈی مارنے کی خوخصلت اس میزان کے منافی ہے جس پر حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے اس کارخانہ قدرت کو تخلیق فرمایا اور اس پر قائم رکھا ہے۔ سو ناپ تول میں کمی کا فساد اس بنیاد کو ڈھا دینے کے مترادف ہے جس پر حضرت خالق جل جلالہٗ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا اور قائم رکھا ہے تو پھر ایسے مفسد لوگوں کے وجود کو وہ اپنی دھرتی پر کیسے گوارا کرسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لئے دوسروں کے حقوق میں دست درازی کرنے اور اس بارے میں کمی اور کوتاہی سے کام لینے سے جگہ جگہ اور طرح طرح سے منع فرمایا گیا ہے جیسا کہ ایک اور مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ { والیٰ مدین اخاہم شعیبا ط قال یقوم اعبدوا اللّٰہ مالکم من الہٍ غیرہٗ ط قد جاء کم بینۃٌ من ربکم فاوفو الکیل والمیزان ولا تبخسوا الناس اشیاء ھم ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا ط ذلکم خیر لم ان کنتم مؤمنین } [ الاعراف : 85 پ 8] کہ " تم دوسرے لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے نہ دو "۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، والداعی الی صراطہ المستقیم، فلہ الحمد فی الاولیٰ والاخرۃ وھو الغنی الحمید، سبحانہ وتعالیٰ فایاہ نسأل القبول والسداد۔
Ayah 55:10[ 10] بچھونہء ارضی میں عظیم الشان سامان غور و فکر :
سو آسمان کے عجائب قدرت کی ذکر کے بعد بچھونائے ارضی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے زمین کو بچھا دیا ساری مخلوق کیلئے۔ جو کہ مخلوق کی تمام ضروریات سے معمور و بھرپور ہے، اور جو پیش پا افتادہ تمہیں اپنی زبان حال سے دعوت غور و فکر دے رہی ہے کہ یہ عظیم الشان و بےمثال کارستانی، اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ اور اس خالق ومالک کا تم پر کیا حق ہے، جس نے تم سن کو محض اپنے فضل و کرم سے زمین کے اس عظی الشان بچھونے، اور اس میں موجود طرح طرح کی ان بےحد و حساب اور اس قدر عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے ؟ سو اس کا تقاضا ہے کہ تم اس کیلئے سراپا شکر بن جاؤ، سو آسمان کے لیے رفع کا لفظ استعمال فرما کر واضح فرما دیا گیا کہ ایک عظیم الشان اور بےمثال شامیانے کی طرح پوری مخلوق پر تان دیا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں زمین کے لیے وضع کے لفظ کو استعمال فرما کر اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ زمین کا یہ عظیم الشان بچھونا سب مخلوق کے لیے بچھا دیا گیا ہے۔ سو اس سے اس عظیم الشان اور بےمثال فرش اور عظیم الشان اور بےمثال چھت پر مشتمل ایک عظیم الشان اور بےمثال مکان تمام مخلوق کے لیے مہیا فرما دیا اور اس میں تمام ضروریات زندگی کا بھی انتظام فرما دیا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پھر بھی اس سے غفلت و لاپرواہی کتنا بڑا عظیم اور کس قدر ناانصافی ہے یہ ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 55:11[ 11] پھلوں کی نعمت کا ذکر وبیان :
سو زمین کے اس عظیم الشان بچھونے کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس میں طرح طرح کے لذیذ پھل بھی ہیں۔ جن کے رنگ شکلیں مزے اور خواص و فوائد باہم مختلف ہیں، [ جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، وغیرہ ] اور جن سے تمہارے طرح طرح کے اور بےحد و حساب فوائد و منافع بھی وابستہ ہیں، اور جن سے تم لوگ طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو اور دن رات ہر وقت مستفید ہوتے ہو۔ تو پھر سوچو کہ اس واہب مطلق کا تم پر کیا حق ہے جس نے تم کو نعمتوں سے سرفراز ومالا مال فرمایا ؟ سو ان عظیم الشان پھلوں کا وجود اور وہ بھی اس کثرت کے ساتھ زمین کے اس بچھونے کی عظمت شان کا ایک اہم پہلو ہے۔ سو پہلے فرش زمین اور سقف سماوی پر مشتمل اس عظیم الشان گھر کا ذکر فرمایا گیا جو حضرت خالق۔ جل مجدہ۔ نے کمال قدرت و حکمت کے ساتھ اپنی گونا گوں مخلوق کیلئے اس پر حکمت طریقے سے پیدا فرمایا۔ اور پھر اس عظیم الشان گھر میں رہنے بسنے والی عظیم الشان مخلوق اور خاص کر اس کے گل سرسبد حضرت انسان کی غزائی ضرورتوں کی بہم رسانی کا ذکر فرمایا گیا اور نہایت پر حکمت طریقے سے انتظام فرمایا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 12] کھجوروں کی نعمت کا ذکر وبیان :
سو عام پھلوں کے ذکر کے بعد بطور خاص فرمایا گیا اور کھجوریں بھی غلافوں والی۔ سو اس کے فوائد کی کثرت اور اس کی اہمیت کی بناء پر اس کو تخصیص بعد التعمیم کے طور پر الگ بیان فرمایا گیا ہے، [ المراغی، الصفوۃ وغیرہ ] سو جس طرح اس نے تمہارے اوپر آسمان کا یہ عظیم الشان اور بےمثال چھت تانا ہے، اسی طرح اس نے تمہارے لیے زمین کا یہ عظیم الشان اور بےمثال بچھونا بھی بچھا دیا، تاکہ اس طرح اس کی مخلوق کیلئے ایک عظیم الشان اور بےمثال آرام دہ مکان بن جائے، پھر جس طرح اس نے آسمان کی اس بےمثال چھت میں سورج، چاند اور ستاروں کے بےمثال اور عظیم الشان قمقمے اور چراغ لگا دئیے، تاکہ اس بےمثال گھر کیلئے روشنی اور حرارت حاصل ہوتی ہے، اسی طرح اس نے اس گھر میں مختلف قسم کے غلوں، پھلوں اور پھولوں، کے انبار بھی لگا دئیے، تاکہ اس کے مکینوں کو غذا بھی حاصل ہو، اس کے پھلوں سے وہ لطف اندوز اور شاد کام بھی ہوں اور اس کے پھول ان کی باصرہ نوازی اور خوشبو کا ذریعہ بھی بنیں۔ سو زمین سے لے کر آسمان تک اس کی نعمتیں ہی نعمتیں ہیں، اور انسان سر سے لے کر پاؤں تک اس کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ پھر بھی اس سے غفلت و لاپرواہی برتنا، یا اس کی واحدانیت ویکتائی کا انکار کرنا، اور اس کے ساتھ دوسروں کو اس کا شریک جاننا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
Ayah 55:12[ 13] طرح طرح کے غلوں کی نعمت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس بچھونائے ارضی میں اور طرح طرح کے غلے بھی ہیں۔ تاکہ تمہاری خوراک کا انتظام و بندوبست بھی ہو اور تمہارے کام آنے والے جانوروں کا بھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { متاعا لکم ولانعامکم } سو یہاں پر غلوں کے ساتھ پھلوں اور خاص کر پھولوں کے ذکر سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں کیا، بلکہ ان کے ذوق جمال کی تسکین لذت کام و دہن کی تکمیل اور شوق آرائش و تجمیل کا سامان بھی کیا ہے، جو کہ اس کی ربوبیت ہی کی دلیل نہیں بلکہ خاص اہتمام ربوبیت کی دلیل ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور پھر جب کے ساتھ ذوالعصف اور نحل کے ساتھ ذات الاکمام کی صفت اس خاص عنایت اور اہتمام کو بھی واضح کرتی ہے جو اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندوں کی روزی رسانی کیلئے فرمائی ہے۔ سو اس کریم مطلق نے ایسے نہیں کیا کہ بندوں کو جن غلوں اور پھلوں سے نوازا ہے۔ ان کو ان کے سامنے یونہی پھینک مارا ہو کہ لوکھا لو اور اپنے پیٹوں کو بولو۔ نہیں بلکہ اس نے ایک ایک دانے اور ایک ایک پھل کی ایسی پر حکمت اور ایسی بےمثال پیکنگ فرمائی کہ عقل و خرد دنگ رہ جاتی ہے۔ پھر بھی اس سے غفلت اور لاپرواہی، اور بےفکری اور ناشکری ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے ذکر و رشد سے سرفراز و سرشار رکھے، ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے، اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین
Ayahs 55:13–15[ 14] جِنُّوں اور انسانوں سے تنبہی خطاب کا ذکر وبیان :
سو جنوں اور انسانوں دونوں کو خطاب کرکے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم دونوں اے گروہ جن وانس اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ یعنی اپنے رب کی ان عظیم الشان نعمتوں کا تقاضا تو یہ تھا اور یہ ہے کہ تم سب دل و جان سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جھک جاؤ، اور ہمیشہ اس کے جھکے جھکے ہی رہو، اور اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ بن جائی ؓ ، مگر تمہارا رویہ اس کے برعکس ہے۔ سو ان نعمتوں کی تکذیب کرنا، اور کفر و انکار سے کام لینا بہت بڑا اور نہایت افسوسناک امر ہے۔ کیونکہ اس طرح تکذیب و انکار کرنے والے بڑے ہولناک خسارے میں مبتلا ہوتے ہیں، مگر ان کو اس کا شعور و احساس بھی نہیں ہوتا، سو ان میں سے ایک ایک نعمت پکار پکار کر اس واھب مطلق جل جلالہ کے شکر کی دعوت دے رہی ہے، پھر اس کفر و انکار کی بھی کئی صورتیں ہیں مثلاً یہ کہ کوئی کسی نعمت کو نعمت ہی نہ سمجھے، جیسے تعلیم قرآن کی نعمت عظمی کہ کتنے ہی بدنصیبوں کے یہاں یہ کوئی نعمت ہی نہیں، یا نعمت تو سمجھے مگر اسے اللہ پاک کی طرف سے نہ جانے بلکہ اپنی فکر و محنت کا نتیجہ قرار دے، یا اپنے معبود ان باطلہ اور دوسری مخلوق کی طرف منسوب کرے، یہ مجھے ان کی طرف سے ملی ہیں، اور اس طرح وہ ان کو اس وحدہٗ لاشریک کا شریک ٹھہرانے لگے، وغیرہ کہ یہ سب ہی صورتیں کفر اور تکذیب نعمت ہی کے زمرے میں آتی ہیں۔ پس شکر نعمت کا طریقہ یہ ہے کہ ہر نعمت کو انسان اسی وحدہٗ لاشریک کی طرف سے جانے، اور اس پر ایمان و اطاعت کے ذریعے اس کا حق شکر ادا کرے۔ یہ آیت کریمہ اس سورت کریمہ میں اکتیس مرتبہ دوہرائی گئی ہے اور مقصود اس اعادہ و تکرار سے تنبیہ و تذکیر ہے شکر نعمت کے لئے۔ اور صحیح حدیث کے بموجب اس آیت کریمہ کے سننے پر یہ جواب دینا چاہیے لا بشی من نعمک ربنا بکذب فلک الحمد [ مالک ! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی بھی نعمت کو بھی نہیں جھٹلاتے پس تیرے ہی لئے ہر تعریف اور ہر شکر، اور تو اس کا مستحق ہے ] بہرکیف وجود نعمت کا اہم تقاضا شکر نعمت ہے اور شکر نعمت سے نعمت میں برکت و بڑھوتری آتی ہے، جبکہ کفران نعمت باعث عذاب ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { لئن شکرتم لازید نکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید۔ یعنی اگر تم لوگ شر کرو گے تو میں ضرور تمہیں بڑھا کر دوں گا اور اگر تم نے ناشکری سے کام لیا تو پھر یقینا میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے، والعیاذ باللّٰہ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
Ayah 55:16[ 16] گروہ جن و انس کو تنبیہ و تذکیر :
سو گروہ جن و انس کو خطاب کرکے بطور تنبیہ و تذکیر ارشاد فرمایا گیا۔ کہ تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ کہ تخلیق ووجود کی یہ عظیم الشان نعمت جو دوسری تمام نعمتوں کیلئے اساس و بنیاد ہے۔ اور باقی تمام نعمتیں اس کی فروغ اور اس کے تابع ہیں، اس سے اسی نے تم کو نوازا ہے اور از خود نوازا ہے، اور یہ اسی وحدہٗ لاشریک کی بخشی ہوئی نعمت ہے اس لئے اس کے شکر کا حق دار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ فلا بشیٍ من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد ولک الشکر اور جب تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی یہ شانیں اور حکمتیں خود اپنے اندر دیکھ چکے ہو اور دیکھ رہے ہو تو پھر تم اس کی قدرت سے اس بات کو کیوں بعید سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے، بلکہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ تم کو دوبارہ اٹھائے، تاکہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے اور تم سے حساب لے کہ تم نے ان کا کیا حق ادا کیا ہے، اور اس کے بعد وہ ان نعمتوں کے بارے میں صحیح راہ اپنانے والوں کو اپنے آخری اور دائمی انعام سے نوازے اور ناشکروں کو ان کی ناشکری کی سزا دے۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بدرجہء تمام و کمال پورے ہوں اور تخلیق کائنات کی حکمت کا نتیجہ ظاہر ہو سکے۔ سو بعث بعد الموت عقل و فطرت دونوں کا تقاضا ہے۔ اسلئے اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست و بود عبث و بیکار قرار پائے گا جو کہ حضرت خالق حکیم کی حکمت کے خلاف ہے۔
Ayahs 55:17–19[ 17] مشرقوں اور مغربوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ :
سو اس سے حق تعالیٰ کی عظمت شان کا ایک اہم اور واضح پہلو پیش فرمایا گیا ہے کہ وہ اس پوری کائنات کا بلا شرکت غیر سے خالق اور مالک ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو مالک ہے دونوں مشرقوں اور مغربوں کا۔ کہ سردی و گرمی کے دو موسموں میں سورج کے طلوع و غروب کے اعتبار سے ان دو مشرقوں اور مغربوں کا مشاہدہ ہر انسان بچشم خود کرتا ہے، نیز کرہء ارضی کے دو نصفوں کے اعتبار سے کہ ایک طرف تو سورج ڈوب رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف طلوع ہو رہا ہوتا ہے، وبالعکس، سو اس اعتبار سے بھی دو مشرقوں اور دو مغربوں کا یہ سلسلہ برابر چلتا رہتا ہے، اور اس طرح شبو روز کا یہ عظیم الشان نشان تصرف وقدرت میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتا ہی نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ہمہ وقت اپنی خدمت میں لگے اس نشان قدرت [ سورج ] کی پوجا کرنے لگتا ہے، الا ماشاء اللہ، اور اس طرح وہ " خسر الدنیا و الاخرۃ " کا مصداق بن جاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہ خود بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے اور آگے کئی عظیم الشان نعمتوں پر حاوی و مشتمل بھی ہے، فلہ الحمد الشکر۔ سو یہ اس وحدہٗ لاشریک کی عظمت شان کا ایک ایسا اہم اور واضح پہلو ہے جو ہمیشہ اور ہر موقو پر انسان کے سامنے رہتا ہے اور اپنی لگاتار اور پیہم آمدورفت سے انسان کو یہ عظیم الشان اور چشم کشا درس عبرت و بصیرت دیتا رہتا ہے کہ اس سب کا خالق ومالک وہی وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ سب کچھ اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ سو نہ کوئی اس کائنات کی تخلیق و ایجاد میں اس کا شریک ہے اور نہ کوئی اس کے حکم و تصرف میں اور نہ کوئی اس کے احاطہء قدرت و اختیار سے باہر ہوسکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تو پھر معبود برحق اس کے سوا اور کون اور کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی وحدہٗ لاشریک ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اس کا اور صرف اسی کا حق ہے، فلا معبود بحق سو ای، ولا نعبد الا ایاہ ، جل وعلا۔
Ayahs 55:20–21[ 18] پانی کے دو عظیم الشان ذخیروں کی نعمت کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ میٹھے اور کھاری پانی کے دونوں ذخیرے قدرت کی رحمت و عنایت اور اس کی حکمت بالغہ کا ایک اور عظیم الشان مظہر اور نشان ہے ؟ جو تم لوگوں کو اپنی زبان حال سے درس عبرت و بصیرت اور دعوت غور و فکر دے رہا ہے۔ تاکہ اس طرح تم لوگ حق اور حقیقت تک رسائی حاصل کرسکو، اور راہ حق و صواب کو اپنا سکو۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قدرت کی رحمت و عنایت کا ایک اور عظیم الشان نشان میٹھے اور کھاری پانی کا یہ پُر حکمت نظام بھی ہے۔ یعنی اس قادر مطلق رب و رحیم نے اپنی قدرت بےپایاں اور حکمت بالغہ سے میٹھے اور کھاری پانی کے دو الگ الگ اور عظیم الشان ذخیرے رکھ دئیے، جن میں سے ہر ایک کے ساتھ مخلوق کے طرح طرح کے اور بیشمار و لاتعداد فوائد و منافع وابستہ ہیں، پھر کھاری پانی کو سمندروں کی شکل میں بند کردیا، اور میٹھے کو دریاؤں، نہروں اور چشموں وغیرہ کی صورت میں بہا دیا، اور ان دونوں کے درمیان زمین کا ایسا پردہ حائل کردیا کہ یہ دونوں ایک دوسرے میں مل نہیں سکتے، [ ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] ورنہ مخلوق کا زندہ رہنا نہ صرف یہ کہ مشکل ہوجاتا بلکہ ممکن نہ رہتا، سو یہ کس قدر عظیم الشان کرم و احسان ہے اس خالق ومالک کا جس سے اس نے اپنے بندوں کو بالخصوص اور باقی طرح طرح کی دوسری مخلوق کو بالعموم نوازا ہے، اور یہ عجیب و غریب اور حکمتوں بھرا محیر العقول نظام اس قادر مطلق کے سوا اور کون قائم کرسکتا ہے ؟ فلہ الحمد ولہ الشکر۔ سو کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس واہب مطلق جل وعلا شانہ سے منہ موڑ کر دوسری خود ساختہ اور من گھڑت چیزوں کی پوجا کرتے ہیں، اور خڈاوند قدوس کی اس عظیم الشان اور محیر العقول کارستانی کو بچشم خود دیکھنے اور اس سے طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہونے کے باوجود خالق ومالک سے منہ موڑے ہوئے ہیں، اور اس کے حق اطاعت و بندگی سے غافل و لاپرواہ ہیں، بلکہ کتنے ہی بدبخت ایسے ہیں جو اس خالق ومالک کے آگے جھکنے اور سجدہ ریز ہونے کی بجائے جل پوجا کے نام سے اسی پانی کی پوجا کرتے ہیں اور ناشکری اور کفر و شرک کے ہولناک جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ و سلامت رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayahs 55:22–23[ 19] موتیوں اور مونگوں کی نعمتوں کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں سے موتی بھی نکلتے ہیں اور مونگے بھی جو تم لوگوں کے لیے عظیم الشان دولت بھی ہے اور زیب وزینت بھی اور جن سے آگے تم لوگ قسماقسم کے فائدہ اٹھاتے اور طرح طرح سے مستفید ہوتے ہو، جدید تحقیقات کے مطابق موتی اور مونگے میٹھے اور کھاری دونوں پانیوں سے نکلتے ہیں، البتہ مونگے زیادہ تر کھاری پانی سے برآمد ہوتے ہیں مگر نفس وجود ان دونوں کا دونوں جگہ پایا جاتا ہے، [ تفسیر المراغی ] فسبحان اللّٰہ من عظمۃ شانہ وہ صدق کلامہ الذی لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ ینزیل من حکیم حمید سو اس ارشاد سے ایک عظیم الشان اور مشترک مجموعی فائدے کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ پانی کے ان دونوں ذخیروں کے درمیان باہم اس قدر تضاد پایا جاتا ہے کہ ایک نہایت میٹھا و شریں [ عذاب فرات ] اور دوسرا انتہائی کھاری اور کڑوا [ ملحٌ اجاجٌ] مگر اس کے باوجود ان دونوں سے موتی اور مونگے حاصل ہوتے ہیں، جو انسان کیلئے ایک عظیم الشان دولت بھی ہے اور زینت بھی، اور اس سے ان کے طرح طرح کے عظیم الشان فوائد اور منافع وابستہ ہیں، فللہ الحمد رب العالمین۔ سو جن لوگوں نے یہ کہا کہ موتی اور مونگے صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں اور اس بناء پر انہوں نے اس ارشاد ربانی پر اعتراض کیا تو انہوں نے بالکل غلط کہا۔ کیونکہ موتی اور مونگے جس طرح کھاری پانی سے نکلتے ہیں اسی طرح میٹھے پانی سے بھی نکلتے ہیں جس طرح انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا کا مضمون PEARL اور اگر بالفرض یہ کھاری پانی ہی سے نکلتے ہوں تو بھی اس سے قرآن کے بیان پر کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ قدرت کا نظام یہ ہے کہ اشیاء تضادات کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہیں۔ چناچہ بچہ ماں باپ کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی پرورش اگرچہ ماں کے پیٹ میں ہوتی ہے لیکن حقیقت بہرحال یہی ہے کہ وہ مرد اور عورت دونوں کے ملاپ سے ہی وجود میں آتا ہے اسی طرح موتی اور مونگے میٹھے اور کھاری پانی کے ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں اگرچہ وہ پرورش کھاری پانی کے اندر ہی پاتے ہیں۔ سو یہ قدرت کی ایک عظیم عنایت اور حکمت ہے جس کا احاطہ و ادراک کسی کے بس میں نہیں، فللہ الحمد ولہ الشکر بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل وعلا۔
Ayahs 55:24–25[ 20] دیوہیکل بحری جہازوں میں سامان غور و فکر :
سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ پانی پر تیرنے والے دیوہیکل جہاز بھی قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے لیے ہیں پہاڑوں جیسے یہ عظیم الشان جہاز جو سمندروں میں رواں دواں ہیں۔ جن سے تمہارے طرح طرح کے فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ پس ان جہازوں کے وہ مواد جن سے ان کی ترکیب وجود میں آتی اور ان کی تیاری مکمل ہوتی ہے، اور تمہاری وہ عقلیں جن کی بناء پر تم نے ان کی ترکیب و صنعت کاری کا عروج تک پہنچایا، کس کی پیدا کردہ اور کس کی بخشی ہوئی ہیں ؟ اور پھر اس پانی کو تمہارے لئے اس طرح کس نے مسخر کردیا کہ ہزاروں ٹن وزن کے لوہے لکڑی وغیرہ کے یہ دیوہیکل جہاز اس کے سینے کو چیرتے ہوئے اس پر رواں دواں ہیں، اور تمہاری حاجات و ضروریات کو لئے مشرق و مغرب کے چکر کاٹتے ہیں، کیا یہ سب کچھ اس خدائے واحد کے سوا اور کسی کی کرم فرمائی و کارستانی ہوسکتی ہے ؟ پس ہر طرح کی حمد وثناء اور شکر وسپاس اور عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ خداوند قدوس ہی کی قدرت، اسی کی حکمت اور اسی کی رحمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے کہ پہاڑوں کی طرح اونچے یہ بھاری بھرکم اور دیوہیکل جہاز سمندروں کے سینوں کو چیرتے ہوئے ان پر رواں دواں ہیں، حالانکہ پانی کی طبیعت یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا کنکر بھی اگر اس پر رکھو تو وہ فوراً ڈوب جاتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں ٹن وزن کے یہ دیوہیکل جہاز اس پر ہر طرف رواں دواں ہیں، یہ اسی وحدہٗ لاشریک کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے " لہُ " کے کلمہء کریمہ سے یہاں پر اسی اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ تضادات کے اندر اس قسم کی موافقت اور سازگاری پیدا کردینا اسی وحدہٗ لاشریک کی قدرت و حکمت کا نتیجہ وثمرہ ہے جس کے نمونے اس کائنات میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر انسان غافل ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل،
Ayahs 55:26–28[ 21] دنیا کی ہر چیز فانی :
سو مذکورہ بالا دلائل کے طبعی اور لازمی نتیجے کے اظہار وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ زمین پر جو بھی کچھ ہے اس سب نے بہرحال آخر کار فنا کے گھاٹ اتر کر رہنا ہے۔ اور اس انسان نے جو کہ اس دنیاء دوں کے ان عارضی فائدوں اور وقتی منافع پر مست ہو رہا ہے، اور انہی کو اس نے سب کچھ سمجھ رکھا ہے، اس نے بہرحال اس دار فانی کو چھوڑ کر آخرت کے اس دار بقا کی طرف کوچ کرنا ہے، جو کہ دائمی اور ابدی ہے تاکہ وہاں پہنچ کر ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی بھرپور جزا و سزا پاس کے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہوسکیں، سو بڑے غلط کار اور بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس فانی مخلوق میں سے قسما قسم کی چیزوں اور طرح طرح کی ہستیوں کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے ہیں، اور اس طرح وہ شرک کا ارتکاب کرکے اپنی تباہی اور تحقیر و تذلیل اور ہلاکت و تباہی کا سامان خود کرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ، اور وہ نہیں سوچتے اور سمجھتے کہ جو خود فانی ہے وہ دوسروں کا حاجت روا و مشکل کشا بھلا کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو روئے زمین پر جو بھی کچھ ہے اس سب نے بہرحال آخر کار فنا کے گھاٹ اتر کر رہنا ہے، صرف آپ کے رب کی ذات اقدس و اعلیٰ ہی باقی رہے گی، جس کیلئے نہ فنا ہے نہ زوال، جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی باقی رہے گی، جو حقیقی عظمت والی اور سزاوار تعظی و اجلال ہے، جس کے حضور ہر کسی نے حاضر ہو کر اپنے کیے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ اس کے سامنے دم مار سکے، یا اس کے اذن کے بغیر کسی کی سفارش کیلئے زبان کھول سکے، بہرکیف اس سے مذکورہ بالا دلائل کا نتیجہ اور لازمی تقاضا بیان فرمادیا گیا۔ سو اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر انسان کی تربیت و پرورش کا جو سامان کیا ہے اپنی صفت تخلیق و ایجاد کی جو مختلف شانیں دکھلائیں۔ اس کے احاطہ قدرت و حکمت کے جن نمونوں کا ذکر وبیان ہوا۔ اضداد کے اندر توافق ویکتائی کے جن عظیم الشان مظاہر کو پیش فرمایا گیا، ان سب باتوں کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک دن یہ سب فنا ہوجائیں گی اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس و اعلیٰ ہی باقی رہے گی جو کہ بڑی ہی عظمتوں والی اور سزاوار تعظیم و تکریم ہے، اور پھر سب کی اس کے حضور پیشی ہوگی تاکہ ہر کوئی اس کے حضور پہنچ کر اپنے زندگی بھر کے لئے کرائے کا حساب دے سکے، اور اس کا صلہ وثمرہ پاس کے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
Ayahs 55:29–30[ 22] سب کا داتا اور سب کا رازق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی سے مانگتے ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ کہ داتا سب کا وہی اور صرف وہی ایک ہے، باقی ہر کوئی منگتا اور اسی کا محتاج ہے، اور پھر یہ مانگنا بھی عام ہے کہ زبان حال سے ہو یا زبان قال سے، اور مانگی جانے والی چیز بھی خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، اسی لیے یہاں پر یسئل فعل کا مفعولذکر نہیں فرمایا گیا جس سے عموم و شمول کا فائدہ حاصل ہوا ہے، اور یہ ہر چیز اور ہر ضرورت کو شامل ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔ { واتکم من کل ما سالتموہ ط وان تعد وانعمت اللّٰہ لا تحصوھا ط ان الانسان لظلوم کفار۔ }[ ابراہیم : 34 پ 13] یعنی اس وحدہٗ لاشریک نے تم لوگوں کو وہ سب کچھ دیا جو تم نے اس سے مانگا، سو داتا اور مرجع سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے جس کو جو بھی کچھ ملتا ہے اسی کے دئیے سے ملتا ہے، سو اس کے اور کو مولا اور مرجع سمجھ کر یا اس کو داتا اور حاجت روا و مشکل کشا جان کر اس سے مانگنا اور اس کے حضور اپنی دعاء والتجاء پیش کرنا محض حماقت اور سفاہت ہے، اسباب کے درجے میں ایسا کرنے کی اگرچہ شرع متین نے اجازت دی ہے، لیکن مافوق الاسباب ایسا کرنا تو نرا شرک ہے، جو کہ ظلم عظیم ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس وحدہ لاشریک کے سوا نہ کوئی کسی کو کچھ دے سکتا ہے اور نہ چھین سکتا ہے۔ سب کچھ اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ فلہ الحمد ولہ الشکر بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
[ 23] ہر آن اس کی ایک نئی شان۔ سبحانہ وتعالیٰ :
یعنی یوم یہاں پر اپنے معروف معنوں میں نہیں، بلکہ مطلق وقت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جو کہ عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے [ صفوۃ، محاسن وغیرہ ] اور اس کو یوم سے اس لئے تعبیر فرمایا گیا ہے کہ تاکہ یہود بےبہبود کے اس زعم باطل کا رد ہو سکے، کہ ہفتے کا دن اللہ تعالیٰ کے آرام کا دن ہے [ روح وغیرہ ] سو ان کا یہ زعم باطل ہے، اور یہ دراصل اللہ پاک کو مخلوق پر قیاس کرنے کی بنیادی غلطی اور گمراہی کا نتیجہ ہے، جس میں یہود بےبہبود اور دوسری گمراہ قومیں ہمیشہ مبتلا رہی ہیں، اور آج بھی ہیں، والعیاذ باللّٰہ سو اللہ تعالیٰ ایسے تمام عوارض سے پاک اور وراء الورا ہے، اور ہر لحظہ اس کی ایک نئی شان ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس کائنات میں ہر لمحہ و لحظہ میں جو بیشمار انقلابات اور تغیرات رونما ہوتے ہیں وہ سب اسی کی قدرت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہیں۔ پس کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ اس خالق کل نے دنیا کو پیدا کرنے کے بعد اس کا انتظام و انصرام فرضی دیویوں، دیوتاؤں اور خود ساختہ ہستیوں اور بناوٹی سرکاروں کے حوالے کردیا ہے، اور وہ خود الگ کسی گوشہ تنہائی میں بیٹھ گیا ہے، سو ایسے ہر تصور سے وہ پاک ہے سبحانہ وتعالیٰ ، بلکہ اس کی ساری کائنات میں ہر لمحہ و لحظہ جو بھی کچھ ہو رہا ہے اسی کے حکم و ارشاد سے ہو رہا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس کائنات کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی۔ فعلیہ نتوکل وبہ نستعین فی کل ان وحین، فلہ الحمد ولہ الشکر بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
Ayahs 55:31–32[ 24] یوم جزاء و سزا کی تذکیر و یاددہانی :
سو جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی ہم تمہارے لیے فارغ ہوا چاہتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابھی ہم مشغول ہیں، فرصت نہیں، بعد میں جب فرصت ہوگی تو تمہارے لئے فارغ ہوجائیں گے، کہ وہ ذات پاک اس طرح کے مشاغل اور ایسے تمام تصورات سے پاک اور وراء الورا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تو ہم تمہیں دنیاوی نعمتوں سے نواز رہے ہیں، تمہیں مہلت اور ڈھیل دے رکھی ہے، لیکن تمہارے حساب کتاب کیلئے ہم بعد میں متوجہ ہوں گے جبکہ تمہاری یہ مہلت اور فرصت حیات ختم ہوجائے گی اور تمہارے حساب کتاب کا وقت آپہنچے گا، اور وہ قیامت کا دن ہے جسے تم لوگ اگر دور سمجھتے ہو تو سمجھتے رہو، مگر ہمارے نزدیک وہ عنقریب ہی آنے والا ہے، انھم یرونہٗ بعیداً ونراہٗ قریبًا نیز فرمایا گیا ازفت الازفۃ سو یہ کلام تہدید اور یخویف پر مبنی ہے [ روح، قرطبی، مراغی، صفوۃ وغیرہ ] اور تہدید و تکویف کا اسلوب ہر زبان میں پایا جاتا ہے، جیسا کہ ہمارے یہاں بھی کہا جاتا ہے کہ میں وقت آنے پر تمہیں دیکھ لوں گا، وغیرہ، سو اس ارشاد ربانی میں غافل لوگوں کیلئے بڑی سخت تنبیہ اور تہدید ہے کہ دنیا کے پجاریو ! یاد رکھو کہ زمانہ کل دو دن کا ہے، ایک آج جو یہ دنیا ہے جس میں موت وحیات اور امر و نہی کا یہ سلسلہ جاری ہے، اور ایک کل کا وہ دن جو کہ آخرت ہے، جس میں حساب و کتاب اور سزا وجزای کا قیام ہوگا، [ کما قال، بہ ابن عینیۃ تفسیر المراغی وغیرہ ] بہرکیف فارغ ہونے کے اس ارشاد سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا کہ ابھی تو اس دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ یہ اپنی مدت پوری کرلے اور جب اس کی یہ مدت پوری ہوجائے گی تو اس وقت اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظم و نسق سے بالکل فارغ ہو کر اپنے بندوں کے حساب کتاب کی طرف متوجہ ہوگا، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ بھی حضرت حق جل مجدہ کی رحمت و عنایت بیکر ان کا ایک عظیم الشان نمونہ اور نمایاں مظہر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس یوم حساب سے اس قدر پیشگی اور اس صراحت و وضاحت کے ساتھ خبر دار فرما دیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، ذی القوۃ المتین، وارحم الراحمین، واکرم الاکرمین
[ 25] فرمان جن و انس اللہ کی دھرتی پر بوجھ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا اور جنوں اور انسانوں دونوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا اے دو بوجھو۔ مراد ہیں جن و انس کے دونوں گروہ، اور ان کو ثقل اور بوجھ اس لئے فرمایا گیا کہ دھرتی کی قدر و منزلت اصل میں انہی دو گروہوں سے ہے، کہ یہی دو گروہ دراصل اس کے مخدوم ومطاع اور تکالیف اور احکام شرعیہ کے مکلف ہیں، نیز اس میں یہ درس ہے کہ اگر یہ دونوں اپنی اس عظیم الشان ذمہ داری کو نبھائیں گے نہیں تو یہ اللہ کی زمین کے لئے نرے بوجھ ہیں، پھر نہ ان کا کوئی وزن اور فائدہ ہے، اور نہ کوئی قدروقیمت، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس انسان کی اصل قدروقیمت اپنے رب کی معرفت اور اس کے حق بندگی کی ادائیگی ہی سے نبتی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ یہاں پر لغت کا یہ باریک فرق بھی واضح رہے کہ " ثقل " کے معنی تو مطلق بوجھ کے آتے ہیں لیکن " ثقل " اس بوجھ کا کہا جاتا ہے جو سواری پر لدا ہوا ہوتا ہے۔ سو یہاں پر ثقلان کے لفظ کے استعمال سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ دونوں " ثقل " یعنی زمین پر لدے ہوئے بوجھ ہیں۔ لیکن یہاں پر اس سے مراد نافرمان اور منحرف جن اور انسان ہیں۔ کیونکہ اوپر سے ایسے ہی منحرف اور سرکش جنوں اور انسانوں سے خطاب چلا آرہا ہے، اور آگے آیت نمبر 45 تک بھی وہی اس کے مخاطب ہیں۔ سو نافرمان جن و انس اللہ کی دھرتی پر ناروا بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہمیشہ ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ،
Ayah 55:33[ 26] گروہ جن و انس کو تنبیہ و تذکیر :
سو ان دونوں گروہوں کو خطاب کرکے بطور تنبیہ ارشاد فرمایا گیا کہ تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ کہ ہم نے تمہیں تمہارے انجام سے اس طرح پیشگی خبردے دی تاکہ تم اس کے لئے تیاری کرسکو، اور عمر رواں کے ایک ایک لمحہ کو غنیمت سمجھو اور اس سے پورا فائدہ اٹھاؤ، لیکن تم نے اگر اس کے باوجود اس سے اعراض ہی برتا، اور روگردانی ہی سے کام لیا تو پھر سوچو کہ اس وقت تمہارا کیا بنے گا، جب تم اس روز جزاء کو اپنے سامنے دیکھو گے ؟ جبکہ کوئی مفر نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، والحمدللہ رب العالمین، قبل کل شیء وبعد کل شیء وانہ ھو الاہل للحمد فی الاولی والاخرۃ، وھو الذی شرفنی بھذا العمل الجلیل، من الترجمۃ والتفسیر لکتابہ العزیز الکریم، جل وعلا،
[ 27] اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے کوئی باہر نہیں ہوسکتا :
سو اس ارشاد سے گروہ جن و انس کی تعجیز و بےبسی کو بیان کرتے ہوئے واضح فرما دیا گیا کہ کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے باہر نہیں ہوسکتی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اے گروہ جن و انس اگر تم نکل کر بھاگ سکتے ہو آسمانوں اور زمین کی حدود سے تو تم بھاگ دیکھو "۔ یعنی اس کی گرفت و پکڑ اور موت سے بچنے کے لئے مگر یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے، جب کہ اس کی قدرت تمہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے، [ ابن کثیر، خازن، صفوۃ وغیرہ ] سو اس کے باوجود اگر تمہارا گمام یہ ہے کہ تم غیر ذمہ دار اور مطلق العنان ہو، اور تمہاری کوئی پوچھ پکڑ نہیں ہوگی، تو پھر تم اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی زمین اور اس کے تخلیق فرمودہ آسمانوں کی حدود سے باہر نکل کر دکھاؤ، تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ تم اس کی گرفت و پکڑ سے آزاد ہو، یا آزاد ہوسکتے ہو، مگر کیسے اور کیونکر ؟ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
[ 28] خدا کی خدائی سے نکلنا کسی کیلئے ممکن نہیں :
سو گروہ جن و انس سے امر تعجیز کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ خدا کی خدائی سے نکل سکتے ہو تو نکل کر دکھاؤ۔ سو تم لوگ ایسا نہیں کرسکتے مگر کسی زور کے ساتھ، اور ایسا کوئی خاص زور نہ تمہارے اندر ہے نہ ہوسکتا ہے تو پھر اس کی گرفت سے نکل بھاگنے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ سلطان کے معنی زور اور اقتدار کے بھی آتے ہیں، اور سند کے بھی، یہاں دونوں ہی صورتوں میں معنی صحیح ہیں، یعنی نہ تو تمہارے پاس ایسا کوئی زور اور قوت ہے کہ تم زمین و آسمانوں کی حدود اور خداوند قدوس کی خدائی سے باہر نکل سکو، اور نہ ہی تمہارے لیے کوئی ایسی سند اور پاسپورٹ ممکن ہوسکتا ہے کہ تم ایسا کرسکو، سو اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے بھاگ نکلنا اور اس کی خدائی سے باہر ہوجانا تمہارے لیے ممکن نہیں، تو پھر تم لوگ اس کی گرفت و پکڑ سے نچنت و بےفکر کیوں ہو ؟ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 55:34[ 29] گروہ جن و انس سے خطاب تنبیہ و تذکیر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ یعنی اس تنبیہ و تقریر میں بھی تمہاری لئے بڑی نعمت ہے کہ تاکہ اس کے نتیجے میں نیکوکار اپنی نیکی میں اضافہ کرے، اور بدکار اپنی برائی سے رک جائے، نیز اس قادر مطلق نے اپنی اس قدرت مطلقہ کے باوجود کمال علم سے کام لیتے ہوئے نہیں جو مہلت دے رکھی ہے، یہ اس کی ایک نعمت اور بہت بڑی نعمت ہے۔ سو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنی آخرت کے لئے تیاری کرو، قبل اس سے کہ یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور پھر تمہیں پمیشہ کے لئے کف افسوس ملنا پڑے " مگر بےوقت کے اس افسوس کا تمہیں کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ نہ پہنچ سکے سوائے یاس و حسرت میں اضافہ کے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس خطاب تنبیہ و تذکیر سے اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ گروہ جن و انس کو بار بار جھنجھوڑتا اور خبردار کرتا ہے تاکہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہو کر اپنے حال و مآل کے بارے میں سوچیں اور غور کریں اور فرصت عمل کو ضیاع سے بچائیں۔ سو یہ خود اس کی رحمت و عنایت کا ایک بڑا مظہر ہے۔ فلا لشیئٍ من نعمائک ربنا نکذب فلک الحمد ولک الشکر۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،