55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 55:1–2

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

رحمن نے ۔

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

ف 1 (اپنے محبوب کو) قرآن سکھایا۔

(ف 1) شان نزول : جب سردار دوعالم نے خدا رحمن کا ذکر فرمایا تو کافر بولے کہ ہم رحمن کو نہیں جانتے کہ وہ کیا چیز ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة رحمن نازل فرمائی اور فرمایا کہ رحمن جس کا تم انکار کرتے ہو وہی ہے جس نے قرآن نازل فرمایا، اور ایک قول یہ ہے کہ اہل مکہ نے جب کہا کہ محمد ﷺ کو کوئی بشر سکھاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رحمن نے قرآن مجید اپنے محبوب کو سکھایا۔ (خازن) ۔
Ayah 55:3

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

انسان2 (یعنی انسانیت کی جان محمد) کو پیدا کیا ۔

(ف 2) انسان سے اس آیت میں سید عالم محمد مصطفیٰ ﷺ مراد ہیں اور یہ بیان ہے ماکان ومایکون کا بیان کیونکہ سردار دوعالم اولین وآخرین کی خبریں دیتے تھے (خازن) ۔
Ayahs 55:4–5

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

(ما کان و ما یکون کا ) بیان انہیں سکھایا۔

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج3 اور چاند حساب کے ساتھ چلتے ہیں۔

(ف 3) سورج اور چاند اپنے برجوں اور منزلوں کو حساب سے طے کرتے ہیں جس کے سبب سے دن ورات پیدا ہوکر سال اور مہینہ معلوم ہوتا ہے جس پر لوگوں کے ہزاروں کام منحصر ہیں۔
Ayah 55:6

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور4 سبزے اور درخت (اسی کو) سجدہ کرتے ہیں۔

(ف 4) اور بیل جو زمین پر پھیلتی ہے اور درخت جو سیدھا کھڑا ہوتا ہے یہ سب خدا کو سجدہ کرتے ہیں اور یہ تمام اس کے حکم کے تابعدار ہیں اگرچہ لوگوں کو ان کی فرمانبرداری اور سجدہ کرنا معلوم نہیں لیکن وہ ضرور کرتے ہیں۔
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور5 اسی نے آسمان بلند کیا اور اسی نے (دنیا میں) ترازو قائم کی ۔

(ف 5) اوپر گزرچکا ہے کہ اللہ کے گناہ جیسے مثلا نماز نہ پڑھنا، یہ حق اللہ کہلاتے ہیں اور یہ دل کی خالص توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں اور بندوں کے گناہ جیسے کسی کا مال چرالینا یہ حق العباد کہلاتے ہیں فقط توبہ سے یہ گناہ معاف نہیں ہوتے جب تک صاحب حق سے اس کے حق کی معافی یا کچھ تلافی نہ ہوجائے۔ کم تولنا کم ناپنا بھی حق العباد میں ہے ، اس لیے پورا تولنے کی تاکید فرمائی، زیادہ تفصیل اس کی ویل اللمطففین میں آئے گی مگر حق العباد سے ڈرنے کے لیے صحیح مسلم کی ابوہریرہ کی حدیث کافی ہے کہ حق العباد میں لوگوں کی نیکیاں ہر صاحب حق کو اس کے بدلے میں مل جائیں گی اور یہ لوگ نیکیوں کے ثواب سے محروم ہوکر سیدھے جہنم کو چلے جائیں گے۔
Ayahs 55:8–10

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور وزن نہ گھٹاؤ۔

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور1 اسی نے زمین کو مخلوق کے لیے بچھایا۔

انعامات خداوند کریم جل جلالہ۔ (ف 1) آدمیوں کے آرام کے لیے زمین کو بچھایا اسی خدا نے جو رحمن ہے تاکہ انسان اس پر آرام سے چلیں پھریں اور کاروباری جاری رکھیں آگے زمین کی یہ صفت بیان فرمائی کہ وہ زمین ایسی ہے جس میں قسم قسم کے پھل میوے بھی نکلتے ہیں اور غلہ اناج بھی، پھر غلہ میں دوچیزیں ہیں دانہ جو انسان کی غذا ہے اور بھوسہ جو جانوروں کے لیے ہے اور بعض چیزیں زمین سے وہ پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام میں نہیں آتی لیکن ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایاجاتا ہے غرض یہ سب کچھ انعامات جو دنیا میں تم کو نظرآ رہے ہیں اسی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں جو رحمن ہے جس کا کفار انکار کرتے تھے۔
Ayahs 55:11–12

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

کہ اس میں (ہر قسم کے ) میوے ہیں اور غلاف والے کھجوروں کے درخت ہیں۔

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور2 خوشبودار پھول ۔

(ف 2) اگرچہ سورة نحل میں گزرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کیے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنا چاہیے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مکلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن آدمیوں اور جن کے فقط یاد دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کرے بعدجن وانس سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے اس سورة میں جہاں تکذبن ہے خطاب جن و انسان سے ہے۔
Ayahs 55:13–14

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی3 نے آدمی (کی اصل یعنی آدم) کو ٹھیکری کی مانند خشک بجتی مٹی سے بنایا۔

(ف 3) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کا پتلا بنانے کے لیے خشک مٹی لی، جو بجانے سے بجے اور کوئی چیزکھنکھناتی آواز دے پھر اس مٹی کو تر کیا کہ وہ مثل گارے کے ہوگئی پھر اس کو چھوڑ دیا کہ وہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور پھر جب اس سے پتلا تیار کیا تو اس میں روح پھونک دی گئی اور شیطان اور جنوں کے باپ کو دہکتی آگ سے جس میں دھوئیں کا نام نہ تھا صاف چمکتی لطیف آگ سے پیدا کیا اور خدا دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے جاڑے اور گرمی میں جس جس مقام سے سورج طلوع ہوتا ہے وہ دومشرق اور جہاں جہاں غروب ہوتا ہے وہ دومغرب ہوئے۔ اسی کے تغیر وتبدل سے موسم اور فصلیں بدلتی ہیں اور طرح طرح کے انقلابات ہوتے ہیں زمین والوں کے ہزار فوائد مصالح ان تغیرات سے وابستہ ہیں تو ان کا ادل بدل بھی خدا کی بڑی بھاری نعمت اور اس کی قدرت عظیمہ کی نشانی ہوئی۔
Ayahs 55:15–19

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنوں (کے باپ جان) کو بےدھوئیں والے) آگ کے شعلہ سے بنایا۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہ دونوں مشرقوں کا مالک ہے اور دونوں مغربوں کا مالک ہے ۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اور1 اس نے دو دریا (شیریں اور تلخ) بہائے کہ دیکھنے میں ملے ہوئے ۔

اللہ کی قدرت کا ذکر۔ (ف 1) اللہ نے دنیا میں دونوں طرح کے دریا میں جاری کیے شریں اور تلخ، اور یہی حال زمین کے اندر کا ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکلتا ہے اور کہیں کھاری اور قدرت کی روک کے سبب سے ایک دوسرے پر غالب نہیں آتا، سورة فرقان میں اس کی تفصیل زیادہ ہے۔
Ayahs 55:20–22

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

اور (حقیقتا) ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ۔

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

ان2 دنوں دریاؤں میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے ۔

(ف 2) اکثر مفسرین کا قول ہے کہ سمندر میں جہاں میٹھی ندیاں گرتی ہیں وہاں موتی اور مونگا پیدا ہوتا ہے اس لیے دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے کا نکلنا فرمایا۔
Ayahs 55:23–24

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور1 اللہ ہی کے لیے ہیں کشتیاں جو دریاؤں میں چلتی ہیں، پہاڑوں کے مثل بلند ہیں۔

(ف 1) جہازوں اور کشتیوں کو پہاڑوں سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خشکی میں پہاڑ قدرت کانمونہ ہیں اسی طرح دریا میں جہاز اور کشتیاں اسی کے قبضہ قدرت و فرمان میں ہیں جو اونچی اونچی بلند پہاڑوں کی طرح پانی میں چلتے ہیں ہزاروں من بوجھ بھرا ہوتا ہے پھر فرمایا زمین پر جو کچھ ہے وہ ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے اس سب کے پچھے فنالگی ہوئی ہے باقی رہنے والی وہی ایک ذات وحدہ لاشریک ہے اب جس کی قدرت میں انسان کا پیدا کرن اور فنا کرنا، اسی نے یہ جتلایا ہے کہ دنیا کا یہ سب کارخانہ اس نے بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس لیے پیدا کیا کہ دنیا میں جو نیکی وبدی ہورہی ہے ہر نیک وبد کے مرجانے کے بعد پھر انسان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور نیکی وبدی کا جزاوسزا کا فیصلہ ایک دن کیا جائے گا۔ جو لوگ اس کے منکر ہیں انہوں نے دنیا کی حالت پر اچھی طرح غوروفکر نہیں کیا، صاحب غوروہی ہیں جنہوں نے دنیا کو چند روزہ سمجھ کر یہاں کچھ ایسا کرلیا ہے جس سے دوبارہ زیست میں ان کو سرخروئی حاصل ہو۔
Ayahs 55:25–29

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو کوئی روئے زمین پر ہے سب کو فنا ہے ۔

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور (صرف) تمہارے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو کہ عظمت اور بخشش والا ہے ۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

اسی سے2 مانگتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں، خدا ہر روز ایک حالت میں ہے (یعنی وہ ہر وقت اپنی قدرت کے آثار ظاہر فرماتا ہے ۔ )

(ف 2) اسی سے آسمانوں کے رہنے والے اور زمینوں کے بسنے والے سب اپنی اپنی حاجتیں علی حسب المراتب مانگتے ہیں مغفرت توفیق روزی اور حفاظت وغیرہ کے سب ہر بات میں اس کے محتاج ہیں وہ ہر وقت نرالی شان میں جلوہ دکھاتا ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے کسی کو غنی کرتا کسی کو محتاج، کسی کے گناہ بخشتا ہے کسی کی تکلیف رفع کرتا ہے ۔ شان نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہفتہ کے روز کوئی کام نہیں کرتا ان کے قول کا بطلان ظاہر فرمایا گیا منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنی دریافت کیے اس نے ایک روز کی مہلت چاہی اور نہایت متفکر اور مغموم ہوکر اپنے مکان پر آیا، اس کے ایک حبشی غلام نے وزیر کو پریشان دیکھ کر کہا، اے آقا : آپ کو کیا مصیبت پیش آئی بیان کیجئے۔ وزیر نے بیان کیا تو غلام نے کہا ا سکے معنی بادشاہ کو میں سمجھادوں گا، وزیر نے اس کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا تو غلام نے کہا، اے بادشاہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں اور مردے سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ، اور بیمار کو تندرستی دیتا ہے اور تندرستی دیتا ہے اور تندرست کو بیمار کردیتا ہے مالداروں کو محتاج اور محتاجوں کو مالدار۔ بادشاہ نے غلام کا جواب پسند کیا اور وزیرکوحکم دیا کہ اس غلام کو خلعت وزارت پہنائیے ، غلام نے وزیر سے کہا، اے آقا یہ بھی اللہ کی شان ہے۔
Ayahs 55:30–31

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے جن وا نسان ! ہم عنقریب سب سے فارغ ہوکر تمہارے (حساب و کتاب کے) لیے متوجہ ہوں گے۔

(ف 1) اے آدمیو اور جنو۔ تم ہم کو غافل نہ سمجھو عنقریب ہم ہر بات کا حساب لیتے ہیں اور دنیا میں جو کرتے ہو سب محفوظ رہے گا بروز قیامت سب سوال ہوگا، اب آگے جنات اور انسان کے منکر حشر گروہ سے فرمایا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو ان سے کہا جائے گا کہ لوآج کچھ رستہ نکالو توعرصہ محشر سے کہیں بھاگ جاؤ، آسمانوں کے کنارے اور زمین کی انتہائی طرفوں سے فرشتوں کی ہزاروں صفوں کے احاطہ سے نکل کر چلے جاؤ، اگر اتنی طاقت ہوتودکھاؤ، ہرگز اللہ کی حکومت اور بادشاہت سے نکل کر کہیں بھاگ نہیں سکتے ہاں اگر کوئی دلیل رکھتے ہو یعنی تقوی ، گناہوں سے توبہ، توعرصہ محشر سے نکل کر جنت میں جاؤ گے۔ سوائے کافرو کے تمہارے پاس تقوی ہی نہیں صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ قبروں سے اٹھتے ہی ایک آگ بےدھوئیں والی اس طرح کے لوگوں کو چاروں طرف سے گھیر کر محشر کے میدان تک لے جائے گی آگے اسی آگ کے شعلوں کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ اس سے بچنے کے لیے ان کی مدد کرکے کوئی انکو بچا نہیں سکتا اور نہ یہ خود کہیں بھاگ سکتے ہیں قیامت کے دن کی باتوں سے لوگوں کو دنیا میں خبردار کردینا یہ اللہ کا احسان ہے اس لیے ان باتوں کے ذکر نعمت فرمایا پس جو کچھ کرنا ہے دنیا میں کرلو۔
Ayahs 55:32–37

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے جن و انسان کے گروہ ! اگر تم آسمان اور زمین کی حدود سے باہر نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے ۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر (قیامت کے دن بےدھوئیں کے) آگ کے شعلے اور (بےشعلے کا کالا) دھواں بھی چھوڑا جائے گا۔ پس تم (اس عذاب کا) مقابلہ نہ کرسکو گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جبکہ آسمان پھٹ جائے گا اور گلاب کے پھول کی طرح سرخ چمڑے کے مانند ہوجائے گا۔

(ف 1) پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اسی وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت دنیا کا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صورت کے بعد ہوگا حضرت عبداللہ بن مسعود کی صحیح مسلم اور ترمذی کی حدیث ہے کہ دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان طرح طرح کا رنگ بدلے گا سی کا ذکر ان آیتوں میں ہے کبھی آسمان کا رنگ گلابی ہوجائے گا اور کبھی سرخ۔ صحیح مسلم کی انس بن مالک کی حدیث ہے کہ جو گناہ گار اپنے گناہوں کا انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہرلگاکران کو گونگا کردیاجائیگ اور ان کے ہاتھ پیروں سے ان کے گناہوں کی گواہی ادا کرائی جائے گی اس گواہی کے بعد ان گونگوں سے پھر کچھ نہ پوچھاجائیگا بلکہ ان کے سیاہ چہرے اور کر نجی آنکھوں کی نشانی سے فرشتے ان کو پہچان لیں گے کہ یہ دوزخی ہیں۔ پھر ان کی پیشانی کے بال ان کے پاؤں کے پنجوں میں باندھ دیں گے اور اس طرح ان کی ایک گٹھری بناکران کو دوزخ میں جھونک دیں گے تو ان کو ذلیل کرنے کے لیے فرشتے کہیں گے کہ یہ وہی آگ ہے جس کو دنیا میں تم جھٹلاتے تھے پھر آگ میں جلنے اور پیاس کے وقت نہایت درجہ کا کھولتا ہوا پانی پینے میں ان کی ہمیشہ کی زندگی بسر ہوگی کبھی کبھی عذاب کے طور پر یہ کھولتا ہوا پانی ان کے سر پر ڈال دیاجائے گا اس پانی کے پینے اور سرپرڈالنے سے ان کی انتڑیاں باہرنکل پڑیں گی ان باتوں کو نصیھت کے طور پر ذکر کیا انسان کو ان باتوں سے ڈرادینا یہ اللہ کا ایک احسان ہے اس لیے ان باتوں کے ذکر کو احسان فرمایا۔