55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 55:38–45

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

پس اس دن گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور کسی جن سے ۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

(اس دن) گنہگار لوگ اپنے چہرے ہی سے (کہ چہرے کالے اور آنکھیں نیلی ہوں گی) پہچانے جانے جائیں گے، پس ان کی پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑے جاویں گے (اور جہنم میں ڈالے جائیں گے)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

(کہا جائے گا) یہ ہے وہی دوزخ کہ جس کو مجرم جھٹلاتے تھے۔

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

وہ مجرم دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان پھیرے کریں گے (پس یہ پانی ان کو پلایا جائے گا)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

ف 1 پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

جنت کے اوصاف اور اہل جنت کی اعلی زندگی۔ (ف 1) جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب وکتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجالانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں قیامت کے دن اللہ ان کی بڑی عزت فرمائے گا کہ ایک جنت ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک ان کے خوف کے بدلے میں اس طرح ان کو دوجنتیں ملیں گی۔ اور وہ دو عالیشان باغ جن کے اوصاف بیان کرتا ہے کہ وہ دونوں باغ ایسے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے پھل ہوں گے اور درختوں کی شاخیں نہایت پر میوہ اور سایہ دار ہوں گی اور ان باغوں کی یہ بھی صفت ہے یعنی وہ ایسے باغ ہوں گے جن میں چشمے جاری ہوں گے اور وہ کسی وقت تھمتے نہیں نہ خشک ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک میوہ سے دوقسمیں ہوں گی یعنی تر اور خشک ۔ یا ایک ترش اور ایک شیریں ، یا ایک مثل دنیا کے میوے کے ہوگا اور وہ لوگ وہاں عیش کریں گے شان و شوکت عزت سے مسندو پر تکیہ لگائے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر نہایت دبیر لطیف وخوش نما وگراں بہارریشمی ہوں گے اور ابرے باریک ریشمی ہوں گے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ جس بچھونے کا استر ریشمی کپڑے بیش قیمت کا ہوگا، اس بچھونے کے بارے کا حال اللہ کو معلوم ہے کہ کیسا ہوگا، آگے فرمایا کہ جنت کی میوہ دار شاخیں ایسی حالت پر ہوں گی کہ کھڑے بیٹھے لیٹے سب طرح ان شاخوں کا میوہ جنتی لوگ کھاسکیں گے ، اور ان باغوں میں یعنی سب جنتوں میں حوریں ہیں شرمیلی نگاہوں والی، باعصمت وعفت ، نیچی آنکھیں رکھنے والی، جس سے سوائے ان ازواج کے اور کسی نے بات بھی نہیں کی ہوگی اور وہ ایسی خوبصورت خوش رنگ ہوں گی کہ گویا کہ یاقوت اور موتی ہیں۔ یعنی صفائی اور سرخی یاقوت کی اور چمک اور سفیدی چھوٹے موتی کی سی ہوگی، آگے فرمایا کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ان کو یہ نعمتیں نہ ملیں کہ نیکی کا بدلہ بجز نیکی اور کیا ہے یعنی جب انہوں نے دنیا میں نیک کام کیے ایمان لائے توحید اختیار کی تو ہم ان کو ضرور جنت دیں گے جب ہم نے دنیا میں ان پر احسان کیا توحید کی توفیق دی تو کیا اس توحید کا بدلہ آخرت میں نہ دیں گے۔
Ayahs 55:46–62

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

اور جو کوئی (دنیا میں) اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے تو اس کے لیے دو جنتیں (عدن اور نعیم) ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

پس اے آدمیو ! اور جنو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

دونوں ناغ بہت سی شاخوں والے (جس میں طرح طرح کے میوے) ہوں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگا رکی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

ان دونوں میں دو چشمے بہتے ہیں (ایک آب شیریں دوسرا پاک شراب کا) ۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

ان میں سب میوے دو دو قسموں کے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

(اہل جنت) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے کہ جن کا استر دبیز ریشم کا ہوگا، اور ان دونوں کے میوے بہت ہی نزدیک جھکے ہوئے ہوں گے ۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہوں گی کہ جن کو ان سے پہلے نہ کسی آدمی نے چھوا اور نہ کسی جن نے ۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

(ان کی صفائی اور رنگت ایسی ہے) گویا وہ یاقوت اور مونگا ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

(دنیا کی) نیکی کا بدلہ (آخرت میں) انعام کے سوا کچھ نہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

اور1 ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں۔

(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش مار رہے ہیں خیروبرکت ورحمت و کرامت سے بھرے ہیں ۔ جس سے ہر ایک جنتی اس سے متمتع ہوگا اور ان دونوں باغوں میں طرح طرح کے میوے قسم قسم کی کھجوریں ، انگور کے درخت ہوں گے اور ان ہی باغوں میں عورتیں نیک اخلاق اور اچھی صورت ہوں گی یعنی ان کی پیدائش کی خوبصورت ہوگی یعنی ان کی پیدائش خوبصورتی حسن واخلاق سے مزین ہوگی اور جنت میں خیموں کے اندر حوریں پوشیدہ بیٹھی ہوں گی حدیث شریف میں وارد ہے کہ جنت میں خیمے کھوکھلے موتی کے ہوں گے کہ جن میں سے ہر ایک کا عرض ساٹھ کوس کا ہوگا، اور اپنے اپنے خیمہ میں گھروالے بیٹھے ہوں گے جو غیرا کو نہ دیکھ سکے گا۔ اس یے ہر ایک مومن کی ضرورت ہے کہ اپنے خدا اور رسول کے احکام کے بجالانے میں کوتاہی نہ کرے، تاکہ اصلی مکان جنت کا وارث بنے۔ ورنہ مستحق جہنم کا ہوگا اور صدہا واویلا کرے گا مگر اس وقت کچھ نیک ثمرہ نہ حاصل ہوگا، آگے فرمایا کہ اور حوروں کی صفت یہ ہے کہ پہلے ان سے کسی انسان وجن نے ان کو چھوانہ ہوگا غرض کہ سب کنواریاں ہوں گی آگے جنتیوں کا عیش و آرام ذکرفرماتا ہے کہ یہ بہشتی ان عمدہ باغوں کے نفیس اور نہایت آرام دہ محلوں میں اپنی بی بیوں حوروں کے پاس سرسبز مسندوں پر جو نہایت قیمتی اور سنہرے فرش ہوں گے تکیہ لگائے ہوئے آرام وچین میں بیٹھے ہوں گے۔