55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 55:1–4

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

رحمن

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

اس نے قرآن کی تعلیم دی

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اس نے انسان کو پیدا کیا

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اس کو بیان سکھایا (4)

1:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مکہ میں نازل ہوئی۔ 4:۔ ابن الضریس وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔ 5:۔ احمد وابن مردویہ (رح) نے سند حسن کے ساتھ اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا اور آپ رکن کے قریب نماز پڑھ رہے تھے اور مشریکن سن رہے تھے اور جب آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اس کا کھلم کھلا اعلان کریں یہ کہ اس سے پہلے کی بات ہے (آیت) '' فبای الآء ربکما تکذبن '' ( سو اے جن وانس تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے) 6:۔ الترمذی وابن المنذر وابوالشیخ نے العظمہ میں والحاکم وصححہ وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کرام کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس سورة رحمن اس کے اول سے آخر تک پڑھی صحابہ کرام ؓ رہے آپ نے فرمایا میں تم کو خاموش دیکھ رہا ہوں تحقیق میں نے لیلۃ الجن میں جنات پر اس سورة کو پڑھا تو انہوں نے تم سے اچھا جواب دیا جب بھی میں اس (آیت) '' فبای الآء ربکما تکذبن '' پر پہنچا تو وہ کہے اے ہمارے رب ہم تیری نعمت میں سے کسی چیز کو نہیں جھٹلاتے اور تیرے لئے ہی سب تعریف ہے۔ 7:۔ البزار وابن جریر وابن المنذر والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ والخطیب نے اپنی تاریخ میں صحیح سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة رحمن کو اپنے صحابہ کرام پر پڑھاتو وہ خاموش رہے پھر آپ نے فرمایا کیا ہے میرے لئے کہ میں تم سے زیادہ حسین و خوبصورت جواب جنات کو اپنے رب کے حضور پیش کرتے ہوئے سن رہا ہوں جب میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر پہنچا (آیت) '' فبای الآء ربکما تکذبن '' پر آتا تھا تو وہ کہتے تھے اے ہمارے رب ! ہم آپ کی نعمتوں میں سے کسی چیز کو نہیں جھٹلاتے اور آپ کے لئے ساری تعریفیں ہیں۔ سورئہ رحمن قرآن کی دلہن : 8:۔ البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہر چیز کی ایک دلہن ہوتی ہے اور قرآن مجید کی دلہن سورة الرحمن ہے۔ 9:۔ البیہقی (رح) اور احمد نے فاطمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سورة حدید اور (آیت ) '' اذا وقعت الواقعہ '' اور الرحمن کے پڑھنے والے کو آسمان اور زمین کی بادشاہی میں ساکن الفردوس (یعنی جنت الفردوس کا رہنے والا) پکارا جاتا ہے۔ علامہ بیہقی (رح) نے فرمایا یہ روایت ضعیف ہے۔ 10:۔ احمد (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی سب سے پہلی مفصل سورة سورة الرحمن ہے۔ 11:۔ ابوداؤد والبیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے کہا میں نے مفصل سورة ایک رکعت میں پڑھی ہے انہوں نے فرمایا کی یہ سورة اس شعر کی طرح ہے لیکن نبی کریم ﷺ تو اس قسم کی دوسورتین ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ یعنی '' سورة الرحمن '' اور '' نجم '' کو ایک رکعت میں '' واقترب اور والحاقۃ '' کو ایک رکعت میں '' عم '' اور '' والمرسلات '' کو ایک رکعت میں اور کبھی '' والدخان '' اور اذا الشمس کورت '' کو ایک رکعت میں اور کبھی '' سأل سائل '' اور والنازعات کو ایک رکعت میں اور کبھی '' ویل اللمطففین '' اور عبس '' کو ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ 12:۔ الحاکم نے تاریخ میں اور بیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نو رکعتوں کے ساتھ نماز وتر بنالیتے تھے جب آپ بوڑھے اور بوجھل ہوگئے تو سات رکعت کے ساتھ وتر بنالیتے تھے اور آپ دو رکعت پڑھتے تھے اس حال میں کہ آپ بیٹھے ہوئے ہوتے تھے۔ اور آپ ان دونوں رکعتوں میں سورة الرحمن اور سورة واقعہ پڑھتے تھے۔ 13:۔ ابن حبان (رح) نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے سورة رحمن پڑھائی پھر میں شام کے وقت کو مسجد کی طرف نکلا تو میری طرف ایک جماعت بیٹھ گئی میں نے ایک آدمی سے کہا مجھ پر یہ سورة پڑھو تو جب اس نے اس طرح حروف پڑھتے جو میں نے نہیں پڑھے تھے تو میں نے اس سے پوچھا تجھے کس نے پڑھایا ہے ؟ اس نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا ہم دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئے میں نے عرض کیا ہم دونوں نے اپنی قرأت میں اختلاف کیا ہے (یہ سن کر) اچانک رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ نے اپنے دل میں خاص تکلیف پائی جب اختلاف کا ذکر کیا گیا پھر آپ نے فرمایا تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے پھر آپ ﷺ نے علی ؓ کو حکم فرمایا اور فرمایا بیشک رسول اللہ ﷺ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ ہر آدمی تم میں سے اس طرح پڑھے جیسے ایسے پڑھایا گیا کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے، عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا (اس کے بعد) ہم چلے گئے اور ہم میں سے ہر آدمی اس طرح کے حروف پڑھ رہا تھا کہ اس کے ساتھی کی قرأت اس سے مختلف تھی۔ قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' الرحمن (1) علم القران (2) (الآیہ) 14:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' خلق الانسان (3) علمہ البیان (4) '' (اس نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو بولنا سکھایا) یعنی آدم کو (آیت ) '' علمہ البیان '' یعنی اس کے لئے ہدایت کا راستہ اور گمراہی کا راستہ بیان کردیا۔ 15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الرحمن (1) علم القران '' (رحمن نے قرآن سکھایا) یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے (آیت ) '' خلق الانسان '' (انسان کو پیدا فرمایا) یعنی آدم (علیہ السلام) کو (آیت ) '' علمہ البیان '' (بیان کرنا سکھایا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا اور آخرت کا بیان سکھایا اس کے حلال اور اس کے حرام کو بیان فرمایا تاکہ وہ اس کے سبب انسان پر حجت قائم کرسکے، اور اللہ تعالیٰ کی حجت غالب ہے۔ اس کے بندوں پر (اور فرمایا) (آیت ) '' الشمس والقمر بحسبان '' (سورج اور چاند حساب کے ساتھ چلتے ہیں) یعنی سورج اور چاند مقرر مدت تک حساب کے ساتھ (چلتے ہیں )
Ayah 55:5

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند حساب کے ساتھ ہیں

16:۔ الفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الشمس والقمر بحسبان '' یعنی حساب اور منزلوں کے مطابق بھیجا جاتا ہے۔ 17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابومالک ؓ سے (آیت ) '' الشمس والقمر بحسبان '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان دونوں کے لئے حساب اور مدت مقرر ہے جیسے لوگوں کے لئے مدت مقرر ہے جب ان دونوں کی مدت آجائے گی تو دونوں ختم ہوجائیں گے۔ 18:۔ عبد بن حمید (رح) نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الشمس والقمر بحسبان '' سے مراد ہے کہ وہ دونوں حساب کے ساتھ چلتے ہیں۔ 19:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الشمس والقمر بحسبان '' سے مراد ہے کہ سورج اور چاند دونوں حساب کے متعلق چل رہے ہیں۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الشمس والقمر بحسبان '' سے مراد ہے چکی کے دھرلے کی طرح وہ دونوں گھومتے ہیں۔
Ayahs 55:6–7

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بےتنہ کے درخت اور تنہ آور فرمانبردار ہیں

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اس نے آسمان تو بلند کیا اور ترازو رکھ دی

21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ (رح) میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم والشجر یسجدن '' (اور بےتنے کے درخت اور تنے والے درخت دونوں اس کے مطیع ہیں) یعنی نجم وہ ہے جو زمین میں پھیل جاتے اور شجر وہ ہے جو تنے پر کھڑا ہو۔ 22:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 23:۔ ابن جریر (رح) وابو الشیخ نے ابو زرین (رح) سے (آیت ) '' والنجم والشجر یسجدن '' کے بارے میں روایت کیا کہ '' النجم '' سے مراد ہے بیلیں جو زمین پر بچھونے کی طرح بچھ جاتی ہیں اور ان کا تنا نہیں ہوتا اور الشجر '' سے مراد ہے وہ تنے والادرخت جس کاتنا ہوتا ہے (آیت ) '' یسجدن '' یعنی ان کے سائے ان کے سجدے ہیں۔ 24:۔ ابن الانباری نے الوقف والابتدا میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' والنجم والشجر یسجدن '' کے بارے میں بتایا کہ '' والنجم '' سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا ایسی ہیں جو زمین پر پھیلتے اور تنکے پر کھڑی نہ ہو اور جو تنے پر کھڑی ہو وہ درخت ہے وہ صفوان بن اسد تمیمی نے کہا ہے : لقد انجم القاع الکبیر عضاتہ وتم بہ حیاتمیم ووائل : ترجمہ : تحقیق وسیع و عریض نرم میدان اس کی مصیبتیں ختم ہوگئیں اور اس کے ساتھ ہی تمیم ووائل دونوں قبیلے مکمل ہوگئے۔ اور زہیر بن ابی سلمہ نے کہا : مکلل بأصول النجم تنسجہ ریح الجنوب کضاحی مابہ حبک : ترجمہ : وہ آراستہ کیا گیا نباتات کی جڑوں کے ساتھ جنوب کی ہوا اس میں نہریں پیدا کرتی ہیں سورج کی طرح اسی کی سبب سے وہ تیرا پسندیدہ ہے۔ 25:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم والشجر یسجدن '' میں '' والنجم '' سے مراد ہے آسمان کے ستارے اور '' ولشجر '' سے مراد درخت ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی صبح وشام سجدہ کرتا ہے۔ 26:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ووضع المیزان '' (اور اللہ تعالیٰ نے ترازوکو رکھ دیا ہے) سے مراد ہے عدل۔
Ayah 55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ تم تولنے میں سرکشی نہ کرو

ہر معاملہ میں انصاف سے پیش آنا : 27:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الا تطغوافی المیزان '' (کہ تم بولنے میں کمی بیشی نہ کرو) یعنی اے آدم کے بیٹے انصاف کر جیسے تو پسند کرتا ہے تاکہ تیرے ساتھ انصاف کیا جائے اور ناپ تول کو پورا کر جیسے تو پسند کرتا ہے تیرے لئے ناپ تول کو پورا کیا جائے کیونکہ عدل و انصاف لوگوں کی اصلاح کرتا ہے۔
Ayah 55:9

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو، اور تول کو مت گھٹاؤ

28:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو وزن کرتے ہوئے دیکھا کہ اس نے ترازو کو ایک جانب جھکایا ہوا ہے تو فرمایا ترازو کی ڈنڈی کو سیدھا رکھ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' واقیموا الوزن بالقسط '' ( اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک ٹھاک رکھو) 29:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واقیموا الوزن بالقسط '' مراد ہے کہ تم انصاف کے ساتھ ترازو کی ڈنڈی کو (سیدھا) رکھو۔
Ayah 55:10

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اس نے زمین کو لوگوں کے واسطے رکھ دیا

30:۔ الفریابی (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والارض وضعھا للانعام '' (اور اسی مخلوق کے لئے زمین کو رکھ دیا) میں انعام سے مراد ہے۔ 31:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' والارض وضعھا للانعام '' کے بارے میں روایت کیا کہ '' للانعام سے مراد ہے، مخلوق۔ 32:۔ الطستی اور الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ اس قول (آیت ) '' ووضعھا للانعام '' کے بارے میں بتائیے اور فرمایا '' للانعام '' سے مراد ہے مخلوق اور وہ ایک ہزار امتیں ہیں۔ چھ سوسمندر میں اور چار سو خشکی میں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں، فرمایا ہاں : کیا تو نے لبید کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : فان تسألینامم نحن فاننا عصافیرھن ھذا الانام المشحر : ترجمہ : اگر تو ہم سے سوال کرے کہ ہم کن میں سے ہیں تو بلاشبہ ہم چڑیاں ہیں اس تابع کی ہوئی مخلوق میں سے۔ 33:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وضعھا للانام '' سے مراد ہے ہر وہ چیز جس میں روح ہے۔ 34:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) '' والارض وضعھا للانام '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ہر وہ چیز جو زمین پر رینگ کر چلتی ہے۔ 35:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والارض وضعھا للانام '' سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق یعنی جن وانس کے لئے زمین کو پیدا فرمایا۔
Ayah 55:11

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن پر غلاف ہوتا ہے

36:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنخل ذات الاکمام '' (اور کھجور کے درخت ہیں جن کے پھلوں پر غلاف ہوتا ہے) یعنی کھجور کے شگوفے کا غلاف۔
Ayah 55:12

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور دانے ہیں بھوسہ والے اور غذا ہے

37:۔ ابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والحب ذو العصف '' (اور دانہ ہے بھوسے والا یعنی گندم کا پتہ) 38:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے گندم اور جو کا دانہ اور العصف وہ چھلکا ہے جو دانے کے اوپر ہوتا ہے۔ 39:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والحب ذو العصف '' سے مراد ہے بھوسہ (آیت ) '' والریحان '' سے مراد ہے کھیتی کی سرسبزی۔ 40:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) '' العصف '' سے مراد ہے کھیتی کا پتہ جب وہ خشک ہوجائے اور (آیت) '' والریحان '' سے مراد ہے جو زمین اگاتی ہے خوشبو میں سے سو سونگھی جاتی ہے۔ (یعنی خوشبودار پھول ) 41:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' العصف '' سے مراد ہے وہ ابتدائی حالت کی کھیتی جس میں وہ سبزے کو نکالتی ہے اور (آیت ) '' والریحان '' سے مراد وہ پودا جو اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوجائے اور (ابھی) تک اس کا خوشہ ظاہر نہ ہو، 42:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن میں ریحان سے مراد رزق ہے۔ 43:۔ ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والحب ذو العصف '' کے بارے میں روایت کیا کہ سب سے پہلے کھیتی اگتی ہے۔ اس کو (آیت ) '' العصف '' کہتے ہیں۔ 44:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ والریحان '' سے مراد ہے رزق۔ 45:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ والریحان '' سے مراد ہے رزق اور طعام۔ 46:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ والریحان '' سے مراد ہے وہ پودے جن میں خوشبو پائی جاتی ہے۔ 47:۔ ابن جریر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ والریحان '' سے مراد ہے کہ تمہارا پھول یہ ہے۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

48:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فبای الآء ربکماتکذبن '' (سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) یعنی اللہ تعالیٰ کی کونسی نعمتوں کو تم جھٹلاؤ گے۔ 49:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فبای الآء ربکماتکذبن '' سے مراد ہے جنات اور انس (کہ تم اپنے کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤں گے) (واللہ اعلم )
Ayahs 55:14–16

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اللہ نے پیدا کیا انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح سے تھی

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور پیدا کیا جان کو لپٹیں مارتی ہوئی آگ سے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وخلق الجآن من مارج من نار '' (اور جنات کو خالص آگ سے پیدا کیا) یعنی آگ کے شعلے سے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا۔ 3:۔ الفریابی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج من نار '' سے مراد ہے آگ کا وہ شعلہ جو اس کے درمیان سے نکلتا ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ روابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' سے مراد خالص آگ ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' یعنی آگ کے شعلے۔ 6:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' سے مراد ہے زرد اور سبز شعلہ جو آگ میں بلند ہوتا ہے جب آگ جلائی جاتی ہے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' سے مراد ہے وہ سبزہ جو سیاہ آگ سے جدا ہوتا ہے جو آگ اور دھویں کے درمیان ہوتا ہے۔ 8:۔ عبدالرزاق واحمد وعبد بن حمید (رح) ومسلم (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا گیا اور آدم کو پیدا کیا گیا جس طرح تمہارا وصف بیان کیا گیا۔
Ayahs 55:17–18

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہ دونوں مغربوں اور دونوں مشرقون کا رب ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' رب المشرقین '' (الآیہ) 9:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' رب المشرقین ورب المغربین '' (وہ دونوں مشرق اور دونوں مغرب کا مالک ہے) سے مراد ہے سورج طلوع ہونے کی جگہ موسم سرما اور غروب ہونے کی جگہ موسم سرما میں اور طلوع ہونے کی جگہ موسم گرما میں اور غروب ہونے کی جگہ موسم گرما میں اور موسم گرما کی طلوع اور غروب ہونے کی جگہ موسم سرما کی طلوع اور غروب ہونے کی جگہ کے سوا اور علیحدہ ہے۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' رب المشرقین ورب المغربین '' میں المشرقین سے مراد ہے موسم سرما اور موسم گرما کا مشرق اور المغربین سے مراد موسم سرما اور موسم گرما کا مغرب ہے۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ۔ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت ) '' رب المشرقین '' سے مراد ہے نجم اور شفق کا مشرق ہے (آیت ) ' ورب المغربین '' سے مراد سورج اور شفق کا مغرب ہے۔
Ayahs 55:19–21

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اس نے دونوں سمندروں کو ملادیا

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

ان کے درمیان ہے وہ دونوں بغاوت نہیں کرتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

سو اے جن وانس اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مرج البحرین یلتقین '' (اسی نے دو دریاؤں کو ملایا) یعنی دو دریاجاری فرمائے (آیت ) '' بینھما برزخ '' (ان کے درمیان پردہ ہے) یعنی رکاوٹ (آیت ) '' لابیغین '' یعنی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے (یعنی آپس میں ایک دوسرے سے نہیں ملتے) دوسمندروں کا ساتھ چلنا : 2:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مرج البحرین یلتقین '' (اسی نے دو دریاؤں کو ملایا کہ دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں) سے مراد ہے دونوں دریاؤں کا برابر اور ہموار ہونا (آیت ) '' بینہما برزخ '' (ان کے درمیان حجاب ہے) یعنی رکاوٹ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے (آیت ) '' لایبغین '' یعنی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے اور ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتا یہ میٹھا دریا نمیکن پر اور نہ نمکین دریا میٹھے پر۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مرج البحرین یلتقین '' سے مراد ہے ان کی خوبصورتی (آیت ) '' بینہما برزخ لایبغین '' یعنی ان دونوں کے درمیان آڑ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتا۔ 4:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مرج البحرین '' سے مراد ہے بحر فارس اور بحرروم۔ 5:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مرج البحرین یلتقین '' سے مراد ہے بحرفارس اور بحرروم اور بحر مشرق اور بحر مغرب۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مرج البحرین '' سے مراد ہے آسمان کا سمندر اور زمین کا سمندر (آیت ) '' یلتقین '' یعنی وہ ہر سال (آپ میں) ملتے ہیں۔ 7:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' بینہما برزخ لایبغین '' سے مراد ہے آسمان کا سمندر اور زمین کا سمندر ہے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' بینہما برزخ لایبغین '' یعنی ان کے درمیان اتنی دوری ہے ان میں سے کوئی ایک دوسرے کی جانب تجاوز نہیں کرسکتا۔ 9:۔ وعبد بن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' بینہما برزخ '' سے مراد ہے کہ تم ان دونوں کے درمیان آڑ اور رکاوٹ ہو۔ (آیت ) '' لایبغین '' یعنی تم پر تجاوز نہیں کرسکتے کہ وہ تم کو غرق کردیں۔ 10:۔ عبدبن حمید (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' بینہما برزخ لایبغین '' میں برزخ سے مراد ہے جزیرہ اور خشکی (آیت ) '' لایبغین '' یعنی خشکی پر تجاوز نہیں کرتے اور نہ اس میں سے ایک دوسرے تجاوز کرتا ہے اور نہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو پکڑا ہے کہ وہ تجاوز کرنے والا ہے۔ پس ان میں سے ہر ایک دوسرے سے رکا ہوا ہے اس کی مہربانی اس کی قدرت اور اس کی عظمت و جلال کی وجہ سے۔ 11:۔ عبدالرزاق وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) اور قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لایبغین '' سے مراد ہے کہ وہ لوگوں پر طغیان نہیں لاتے۔ 12:۔ وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے ابن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' بینہما برزخ '' سے مراد ہے دوری۔ 13:۔ وعبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' بینہما برزخ '' سے مراد ہے ایک کنواں یہاں میٹھا ہے اور ایک کنواں اس جگہ نمکین ہے۔
Ayahs 55:22–23

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

ان دونوں میں سے لؤلؤ اور مرجان نکلتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

سمندر میں موتی ملنا : 14:۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب المطر میں وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یخرج منھما اللؤلؤ '' (ان دونوں میں سے موتی نکلتے ہیں) یعنی جب آسمان سے بارش ہوتی ہے تو سیپیاں اپنے مونہوں کو کھول لیتی ہیں سمندر میں جس میں بارش کا قطرہ گرجاتا ہے۔ تو وہ موتی بن جاتا ہے۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب آسمان سے بارش برستی ہے تو اس کے لئے سیپیوں کو کھول دیا جاتا ہے۔ پس جو قطرہ اس میں پڑجائے تو وہ موتی بن جاتا ہے۔ 16:۔ الفریابی وھناد بن السری وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' المرجن '' سے مراد بڑے بڑے موتی ہیں۔ 17:۔ وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ مرجان سے مراد ہے بڑے موتی ہیں۔ 18:۔ وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مرجان وہ ہیں جو موتیوں میں سے بڑے ہوتے ہیں۔ 19:۔ وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مرۃ (رح) سے روایت کیا کہ مرجان سے مراد عمدہ اور اعلی قسم کے موتی ہیں۔ 20:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اللؤلؤ '' (یعنی موتی) وہ ہوتا ہے جو اس میں سے بڑا ہوتا ہو اور مرجان چھوٹے موتی کو کہتے ہیں۔ 21:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اللؤلؤ '' بڑے موتی کو کہتے ہیں اور مرجان چھوٹے موتی کو کہتے ہیں۔ 22:۔ ابن ابی الدنیا نے الوقف والا ابتداء میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یخرج منھما اللؤلؤ والمرجان '' (کہ ان دونوں میں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں) اس میں (آیت ) ' ' اللؤلؤ '' سے مراد بڑے موتی اور (آیت ) '' والمرجان '' سے مراد چھوٹے موتی ''۔ 23:۔ وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے حسن ؓ اور ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اللؤلؤ '' سے مراد ہے بڑے بڑے موتی اور مرجان سے مراد چھوٹی موتی۔ 24:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمرجان '' سے مراد ہے سرخ سلمانی منکے۔ 25:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے مراد ہے (آیت ) '' مرج البحرین یلتقین '' (اسی نے دو دریاؤں کو ملادیا کہ دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں) سے مراد ہے حضرت علی اور فاطمہ ؓ (کہ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے نکاح کے ذریعہ ملادیا) (آیت ) '' بینہما برزخ لایبغین '' (اور دونوں کے درمیان ایک حجاب ہے کہ دونوں اپنی حد سے نہیں بڑھ سکتے) اس میں برزخ سے مراد ہے نبی کریم ﷺ کی ذات مبارک (آیت ) '' یخرج منھما اللؤلؤ والمرجان '' (کہ ان دونوں میں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں) سے مراد حسن اور حسین ؓ دونوں صاحبزادگان ہیں۔ 26:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مرج البحرین یلتقین '' سے مراد ہے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ سے (آیت ) '' یخرج منھما اللؤلؤ والمرجان '' سے مراد ہے حسن اور حسین ؓ ۔
Ayahs 55:24–25

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور اسی کے لئے کشتیاں ہیں جو بلند کی ہوئی ہیں سمندروں میں پہاڑوں میں کی طرح

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت '' (اور اس کے ہیں جہاز کھڑے ہوئے) (آیت ) '' المنشئت '' سے مراد وہ جہاز ہیں جن کے بادبان بلند ہوتے ہیں اور وہ جہاز جن کے بادبان بلند نہ ہوں وہ '' منشئت '' نہیں کہلاتے۔ کشتیوں کا چلنا قدرت کی نشانی ہے : 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے سفن (یعنی جہاز اور کشتیاں) اور '' المنشئت '' سے مراد ہیں وہ کشتیاں جو بادبان والی ہوں (آیت) '' کالاعلام '' یعنی پہاڑوں کی طرح۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت '' سے مراد ہے کشتیاں (آیت ) '' کالاعلام '' سے مراد ہیں پہاڑوں کی طرح۔ 4:۔ عبد بن حمید عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت '' سے مراد ہے کشتیاں۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) والمحاملی نے اپنی امالی میں عمیر بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ ہم حضرت علی ؓ کے ساتھ فرات کے کنارے پر تھے ان کے ساتھ ایک کشتی گزری تو انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت فی البحر کالاعلام ''۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابراہیم نخعی اور ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ وہ دونوں حضرات اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت فی البحر کالاعلام '' یعنی الفاعلات۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس آتی (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت '' کو پڑھتے تھے یعنی البادیات جس سے مراد ہے صحرائی۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس (المنشئت) کو دو طریقے پر پڑھتے تھے شین کے کسرہ اور اس کے فتحہ کے ساتھ۔
Ayahs 55:26–28

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو کچھ زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی جو جلال اور اکرام والا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کل من علیھا فان '' الآیہ 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جب تو (آیت ) '' کل من علیھا فان '' (جو کچھ زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے) پڑھتے تو خاموش نہ رہے یہاں تک کہ تو یہ (آیت ) '' بھی پڑھے '' ویبقی وجہ ربک ذوالجلل والاکرام '' (اور آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت اور احسان والی ہے باقی رہ جائے گی) 10:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور ابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذوالجلل والاکرام '' سے مراد ہے کبرائی اور عظمت والا۔ 11:۔ ابن المنذر والبیہقی (رح) نے حمید بن ھلال سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرماتا ہے جو اس (آیت ) '' ویبقی وجہ ربک ذوالجلل والاکرام '' پر پہنچتا ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس کے کریم اور کافی ہونے والی ذات کے وسیلہ سے سوال کیا اور بیہقی (رح) کے الفاظ یوں ہے کہ اس نے سوال کیا ہے اس ذات کے وسیلہ سے جو باقی رہنے والا اور حسین و جمیل ہے۔
Ayahs 55:29–30

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

اس سے سوال کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہے ہر دن وہ ایک شان میں ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت والارض '' 12:۔ ابن جریر وا ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت والارض '' (اس سے سب زمین و آسمان والے مانگتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے بندے خاص طور پر اس سے رزق موت اور زندگی کا سوال کرتے ہیں۔ 13:۔ عبد بن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت والارض '' میں '' (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت '' سے مراد ہے کہ آسمان میں رہنے والے فرشتے بھی اس سے رحمت کا سوال کرتے ہیں اور زمین میں رہنے والے مغفرت اور رزق کا سوال کرتے ہیں۔ 14:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ سے رزق کا سوال کرتے ہیں زمین والوں کے لئے اور زمین کے رہنے والے اپنے لئے رزق کا سوال کرتے ہیں۔ 15:۔ الحسن بن سفیان فی مسند والبزار وابن جریر والطبرانی وابوالشیخ فی العظمہ وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) فی شعب الایمان اور ابن عساکر (رح) نے ابوداؤد ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' (وہ ہر دن ایک ہی شان میں ہے) کے بارے میں فرمایا کہ اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ گناہ کو بخشتا ہے مصائب اور تکالیف دور فرما دیتا ہے۔ ایک قوم کو بلند کرتا ہے تو دوسری قوم کو ذلت اور پستی میں گرا دیتا ہے۔ اور بزار نے زیادہ کیا کہ وہ دعا کو قبول کرتا ہے۔ 16:۔ البزار نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' کے بارے میں فرمایا کہ وہ گناہوں کو بخشتا ہے اور مصائب کو دور کردیتا ہے۔ 17:۔ البیہقی (رح) نے ابودارداء ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' سے مراد ہے کہ وہ تکالیف کو دور کرتا ہے اور دعا کو قبول کرتا ہے اور ایک قوم کو بلند کرتا ہے اور دوسری کو ذلیل وپست کرتا ہے۔ 18:۔ عبد الرزاق وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) وابوالشیخ فی العظمہ والحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) فی الحلیہ و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' سے مراد ہے بیشک اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتیوں سے پیدا فرمایا اور ان کے دونوں کنارے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اور اس کی کتاب بھی نور کی ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ کے برابر ہے۔ ہر دن اس میں تین سو ساٹھ مرتبہ دیکھتے ہیں اور ہر بار دیکھنے میں کسی کی تخلیق فرماتے ہیں اور رزق دیتے ہیں، زندہ کرتے ہیں اور مارتے ہیں، عزت دیتے ہیں، ذلت دیتے ہیں کسی کو پابند سلاسل کرتے ہیں اور کسی کو آزاد کرتے ہیں اور جو وہ چاہتے ہیں کرتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان ''۔ 19:۔ سعید بن منصور جو ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) اور البیہقی (رح) نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ دعا کو قبول فرماتا ہے اور سائل کو عطا فرماتا ہے اور قیدیوں کو رہائی دلاتا ہے اور بیمار کو شفا دیتا ہے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' کے بارے روایت کیا کہ آسمان و زمین کے رہنے والوں میں سے کوئی بھی اس سے مستغنی نہیں ہے۔ وہ زندہ کو زندگی عطا فرماتا ہے اور مرنے والوں کو موت دیتا ہے، چھوٹوں کی وہی پرورش کرتا ہے اور قیدی کو آزاد کرتا ہے فقیر کو مالدار بناتا ہے اور نیک لوگوں کی حاجات کو لینے والا ہے (یعنی پورا کرنے والا ہے) اور اس کی ذات اس کے شکر کی انتہاء ہے اور نیک لوگوں کی فریادرسی کرتا ہے۔ 21:۔ عبد بن حمید (رح) وابو الشیخ نے ابوہریرہ ؓ سے (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور رحموں میں تصویر بناتا ہے اور عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ذلت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور قیدی کو رہائی دلاتا ہے۔ 22:۔ عبد بن حمید (رح) نے ربیع (رح) سے (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' کے بارے میں روایت کیا کہ ایک مخلوق کو پیدا کرتا ہے دوسری کو موت دیتا ہے اور ان کو رزق دیتا ہے اور ان کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ 23:۔ عبدبن حمید (رح) نے سوید بن جبلہ فزاری سے روایت کیا کہ جو تابعین میں سے تھے کہ تمہارا رب (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' (ہر دن ایک نئی شان میں ہے) یعنی وہ غلاموں کو آزادی دلاتا ہے اور عتاب کرنے والوں کو خاموش کرا دیتا ہے (یعنی وہ شدید اور سخت عذاب دیتا ہے) اور رغبت رکھنے والوں کو (بےشمار) عطا فرماتا ہے۔ 24:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوالجواء (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' سے مراد ہے کہ کوئی ایک کام اس دوسرے کام سے مشغول نہیں کرتا۔ 25:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) '' کل یوم ھو فی شان '' کے بارے میں روایت کیا کہ دنیا کے دنوں میں سے ہر دن وہ دعا کو قبول کرتا ہے تکلیف اور مصیبت کو دور کرتا ہے اور مجبور انسان کی فریاد کو قبول کرتا ہے اور گناہوں کو بخشتا ہے۔
Ayahs 55:31–32

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے دونوں جماعتو ! ہم عنقریب تمہارے لئے فارغ ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تواے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

اللہ تعالیٰ کا حساب کی طرف متوجہ ہونا : 1:۔ عبدبن حمید (رح) وعبد الرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ''' سنفرغ لکم ایھا الثقلن '' (اے جن وانس ہم عنقریب تمہارے (حساب کتاب) کے لئے خالی ہوجاتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی مخلوق سے (حساب کتاب کے لئے) توجہ اور قصد قریب ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وبن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ''' سنفرغ لکم ایھا الثقلن '' سے مراد وعید ہے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ''' سنفرغ لکم ایھا الثقلن '' کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وعید ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں کے لئے حالانکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی مشغولیت نہیں ہے اور فرمایا (آیت ) '' لاتنفذون الا بسلطن '' یعنی تم میری سلطنت سے باہر نہیں نکل سکتے۔ 4:۔ البزار والبیہقی (رح) نے طلحہ بن منصور (رح) اور یحی بن مثاب رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ ان دونوں نے اس کو (آیت ) '' سنفرغ لکم '' پڑھا۔ 5:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لاتنفذون الا بسلطن '' (مگر تم بغیر زور کے نہیں نکل سکتے) یعنی تم نہیں نکل سکتے بغیر قوت اور غلبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ 6:۔ ابن الدنیا نے ہواتف الجان میں واثلہ بن اسقع (رح) سے روایت کیا کہ حجاج بن علاطہ (رح) سے اسلام لانے کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے جب ان پر رات چھاگئی تو وہ ڈرنے لگا اور ٹھہر گیا اس کے ساتھی اس کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوئے اور وہ کہنے لگا میں اس وادی کے تمام جنات سے پناہ مانگتا ہوں اپنی ذات اور اپنے ساتھیوں کے لئے، یہاں تک کہ میں لوٹ جاؤں صحیح سلامت اور میری جماعت بھی پھر اس نے ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا (آیت ) '' یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموت والارض فانفذوا، لاتنفذون الا بسلطن '' پس وہ مکہ میں پہنچا اس نے اس کے بارے میں قریش سے گفتگو کی تو انہیں نے اس کو بتایا کہ یہ اس کلام میں سے ہے جو محمد ﷺ بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ ان پر نازل ہوا۔ 7:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' سے مراد ہے آگ کا شعلہ (آیت) '' ونحاس '' سے مراد ہے آگ کا دھواں۔ 8:۔ ابن الانباری فی کتاب الوقف والابتداء والطستی والطبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اس قول (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' کے بارے میں پوچھا تو اس نے فرمایا '' شواظ '' سے مراد ہے آگ کا شعلہ جس کا دھواں ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امیہ بن ابی الصلت الشعبی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : یظل یشب کیرا بعد کیر وینفخ دائما لھب الشواظ : ترجمہ : وہ مسلسل بھٹی میں آگ روشن کرتا رہتا ہے اور ہمیشہ آگ کے شعلوں کو پھونکیں مارتا رہتا ہے۔ پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول '' ونحاس '' کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا وہ دھواں ہے کہ جس میں شعلہ نہ ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : یضیی کضوء سراج السلیط لم یجعل اللہ عنہ نحاسا : ترجمہ : وہ روشنی کرتا ہے زیتوں کے تیل کے چراغ کی روشنی کی طرح اللہ تعالیٰ نے اس میں دھویں کو نہیں رکھا
Ayahs 55:33–34

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے جماعت جنات کی اور انسانوں کی اگر تم سے ہوسکے کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل سکو تو نکل جاؤ تو بغیر قوت کے نہیں نکل سکتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تواے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

9:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' سے مراد ہے کہ شعلہ آگ میں سے۔ 10:۔ ھناد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سرخ شعلہ جو آگ سے جدا ہوجاتا ہے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس سے مراد ہے سرخ آگ میں سے ایک ٹکڑا (آیت ) '' ونحاس '' سے مراد ہے کہ تانبا پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں میں ڈالا جائے گا۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' '' ونحاس '' کی یہ دو وادیاں ہیں پس شواظ آگ کی وادی ہے اور نحاس تانبے کی وادی ہے اور نتن سے مراد آگ ہے۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایک آگ ہے جو نکلے گی مغرب کی جانب سے اور لوگوں کو اکٹھا کردے گی یہاں تک کہ یہ آگ بندوں اور خنازیر کو بھی ہانک کرلے جائے گی جہاں وہ رات گزاریں گے وہ بھی رات گزارے گی اور جہاں وہ قیلولہ کریں گے یہ بھی ٹھہر جائے گی۔ 13:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ونحاس '' سے مراد وہ تانبا ہے جس کے ذریعہ ان کو عذاب دیا جائے گا۔ 14:۔ عبدالرزاق (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلاتنتصرن '' سے جن اور انس مراد ہیں۔
Ayahs 55:35–38

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم دونون پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا، سو تم اسے ہٹا نہ سکوگے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تواے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب آسمان پھٹ جائے گا سو ایسا ہوجائے گا جیسے سرخ چمڑا ہو

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

تواے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

15:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ '' (جب آسمان پھٹ جائے گا اور سرخ ہوجائے گا یعنی سرخ (آیت ) '' کالدھان '' سے مراد ہے سرخ چمڑا۔ آسمان سرخ ہوجائے گا : 16:۔ الفریابی و سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکانت وردۃ کالدھان '' سے مراد ہے کہ گھوڑے کے رنگ کی طرح سرخ ہوجائے گا۔ 17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ '' سے مراد ہے جب آسمان پھٹ جائے گا تو سرخ جانور کی طرح سرخ ہوجائے گا۔ 18:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکانت وردۃ کالدھان '' میں '' وردۃ '' سے مراد گلاب کے پھول کی سرخی '' کالدھان '' سے مراد صاف شفاف تیل کیا تو نے نہیں سنا ایک عربی کہتا ہے الجل الورد کا معنی ہے گلاب کا پھول۔ 19:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں عطار (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکانت وردۃ کالدھان '' سے مراد ہے آسمان کا رنگ زادی میں گلاب کے تیل کے رنگ کی طرح ہوجائے گا۔ 20:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکانت وردۃ کالدھان '' (جب آسمان پھٹ جائے گا اور سرخ چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا کہ آسمان آج سبز ہے جیسے کہ تم دیکھتے ہو اور اس کے لئے قیامت کے دن دوسرا رنگ ہوگا۔ 21:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکانت وردۃ کالدھان '' سے مراد ہے تیل کی طرح۔ 22:۔ ابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکانت وردۃ کالدھان '' یعنی آسمان صاف ہوجائے گا تیل کے صاف ہونے کی طرح۔ 23:۔ محمد بن نصر نے لقمان بن عامر حنفی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ایک نوجوان کے پاس سے گزرے جو یہ (آیت ) '' فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان '' پڑھ رہا تھا تو آپ ٹھہر گئے وہ کانپنے لگا اور آنسوؤں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور روتا رہا کہنے لگا اس دن کون مدد کرے گا جس دن آسمان پھٹ جائے گا (یہ سن کر) نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے نوجوان اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تیرے رونے سے فرشتے بھی رو پڑے ہیں۔
Ayahs 55:39–40

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

سو اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

تواے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

24:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیومئذلا یسئل عن ذنبہ انس ولا جآن '' (تو اس روز کسی انسان وجن سے اس کے جرم کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا) یعنی ان سے یہ سوال نہیں کرے گا کہ کیا تم نے یہ عمل کئے ہیں کیونکہ وہ خود اس کے بارے میں ان سے زیادہ جاننے والا ہے ان سے کہے گا کہ تم نے یہ یہ عمل کیوں کیا تھا۔ 25:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' فیومئذلا یسئل عن ذنبہ انس ولا جآن '' کے بارے میں روایت کیا کہ میں ان سے ان کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھوں گا اور نہ ہی ان میں سے بعض سے بعض کے بارے میں پوچھوں گا اور یہ اسی قول کی طرح ہے جیسے فرمایا (آیت ) '' ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون (78) '' (القصص آیت 78) (اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا) اور اسی قول کی طرح ہے (آیت ) '' ولا تسئل عن اصحب الجحیم (119) '' (البقرہ آیت 119) اور آپ سے ان دوزخ والوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا) بعض لوگوں سے سوال نہ ہوگا : 26:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی کا قیامت کے دن حساب اس لئے نہیں کیا جائے گا کہ اس کو بخش دیا جائے اور مسلمان اپنے اعمال کو قبر میں دیکھ لے گا اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' فیومئذلا یسئل عن ذنبہ انس ولا جآن '' 27:۔ آدم وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) (رح) اور بیہقی (رح) نے الشعب میں مجاہد (رح) سے (آیت ) '' فیومئذلا یسئل عن ذنبہ انس ولا جآن '' کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتے کسی مجرم سے سوال نہیں کریں گے کیونکہ وہ ان کو ان کے چہروں سے پہچان لیں گے۔