55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 55:1

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

(خدا جو) نہایت مہربان

الرحمن ” رحمن نے
Ayah 55:2

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی

علم القران قرآن کی تعلیم دی اَلرَّحْمٰنُ : کافروں نے کہا تھا : رحمن کیا چیز ہے ؟ (ہم نہیں جانتے) اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا : رحمن وہی (اللہ) ہے جو آغاز آفرنیش سے انتہاء ابد تک تمام دنیوی اور اخروی نعمتیں عطا کرنے والا ہے۔ رحمن مبالغہ کا صیغہ ہے۔ قرآن مجید تمام دینی نعمتوں کی اصل اور سب سے بڑی نعمت ہے۔ انسان کی فلاح دارین اسی سے وابستہ ہے۔ اسی لیے تمام نعمتوں سے پہلے تعلیم قرآن کا ذکر کیا۔ اس کے بعد تخلیق انسان کو بیان کیا۔ گویا یہ اشارہ ہے اس امر کی جانب کہ انسان کو پیدا کرنے کی اصل غایت تعلیم قرآن ہی ہے اور اسی غرض سے انسان کو قوّت بیانیہ عطا کی اور اظہار مدعی کی تعلیم دی۔ کافر شرک کرتے تھے ‘ اللہ کے سوا دوسروں کی بھی پوجا کرتے تھے اور انہوں نے (بطور طنز) یہ بھی کہا تھا کہ ہم رحمن کو نہیں جانتے ‘ رحمن کیا چیز ہے ؟ کیا بغیرجانے ہوئے جس چیز کی عبادت کا تم حکم دو ‘ ہم اس کو اپنا معبود مان لیں ‘ کافروں کا یہ سارا قول و عمل بتارہا تھا کہ وہ اللہ کی نعمتوں کے منحرف تھے۔ اسی لیے اس صورت میں 31 مرتبہ اللہ کی نعمتوں کی یاد دہانی کی ‘ جس کا مقصد ہے تنبیہ اور توبیخ کرنا ‘ کفران نعمت پر عذاب کی وعید بھی دی تاکہ انکار نعمت سے باز آجائیں اور وعدۂ نعمت اور ثواب کے بعد نعمتوں کا ذکر کیا تاکہ موجودہ نعمتوں کا شکر کریں اور آئندہ نعمتوں کی امید رکھیں۔ بعض علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ کفار کہتے تھے : کوئی شخص محمد ﷺ کو قرآن سکھا دیتا ہے۔ یہ خدا کا کلام نہیں ہے ‘ اس کی تردید میں اللہ نے فرمایا : یہ انسان کا کلام نہیں ہے ‘ کوئی انسان ایسا اعجاز آگیں کلام نہیں بنا سکتا بلکہ یہ کلام اسی رحمن کا ہے۔ اسی کی رحمت کا تقاضا ہے کہ اس نے تمام نعمتیں انسان کو عطا کی ہیں اور ان نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت قرآن ہے۔ پس اسی نے قرآن کی تعلیم دی ہے۔
Ayah 55:3

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اسی نے انسان کو پیدا کیا

خلق الانسان ‘ اس نے انسان کو پیدا کیا
Ayah 55:4

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اسی نے اس کو بولنا سکھایا

علمہ البیان (پھر) اس کو گویائی سکھائی۔ “ خَلَقَ الْاِنْسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ : حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ ؓ کے نزدیک الانسان سے مراد حضرت آدم ہیں۔ اللہ نے حضرت آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے تھے۔ آپ سات لاکھ زبانیں جن میں سے سب سے افضل و اعلیٰ عربی زبان تھی ‘ جانتے تھے۔ ابو العالیہ اور حسن نے کہا : الانسان سے جنس انسان مراد ہے۔ اللہ نے انسان کو بولنا ‘ لکھنا ‘ سمجھنا ‘ سمجھانا (اور فہم و ادراک) عطا کیا کہ وہ دوسرے جانوروں سے ممتاز ہوگیا اور وحی کو برداشت کرنے اور حامل قرآن بننے کے قابل ہوگیا۔ سدی نے کہا : اللہ نے ہر قوم کو اس کی زبان سکھا دی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الانسان سے مراد رسول اللہ ﷺ اور البیان سے مراد قرآن ہو۔ قرآن تمام لوگوں کے لیے راہ نما اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی واضح دلیل ہے۔ اس میں ازل سے ابد تک تمام چیزوں کا بیان ہے اور اس کا بیان گزشتہ پیغمبروں کے بیان کے موافق بھی ہے۔ ابن کیسان نے کہا : اس صورت میں آخری دونوں جملے پہلے جملہ کی تفصیل اور بیان قرار پائیں گے۔ اسی لیے حرف عطف دونوں کے درمیان نہیں لایا گیا اور یہ تمام جملے ” الرحمن “ کے اخبار مترادفہ ہوں گے۔
Ayah 55:5

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں

الشمس والقمر بحسبان ” سورج اور چاند حساب کے ساتھ چلتے ہیں حُسْبَانٍ : یا مصدر ہے جیسے غفران ‘ سبحان ‘ قرآن ‘ نقصان یا حساب کی جمع ہے جیسے شبان (شابٌ کی جمع ہے) مطلب یہ ہے کہ چاند اور سورج کی رفتار کا حساب مقرر ہے ‘ ہر ایک مقررہ حساب کے ساتھ رواں ہے۔ انہیں کی رفتار مقررہ کے موافق عالم زیریں کا انتظام اور فصول و اوقات کا تغیر اور سال و ماہ کا امتیاز اور نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ اور اداء قرض کی مدت کی تعین ہوتی ہے۔
Ayah 55:6

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں

والنجم والشجر یسجدان . اور بےتنے کے درخت اور تنے والے درخت دونوں اللہ کے مطیع ہیں۔ “ اَلنَّجْمُ : سبیل والا پودا جو زمین میں پھیلتا ہے اور اس کا کھڑا ہونے والا تنہ نہیں ہوتا۔ اَلشَّجْرُ : تنہ والا درخت جو موسم سرما میں بھی باقی رہتا ہے۔ یَسْجُدَانِ : یعنی دونوں اللہ کے فرمانبردار اور حکم کے تابع ہیں جیسے مکلف انسان بالارادہ سجدہ کرتا ہے ‘ اسی طرح یہ بھی حکم کے تابع ہیں۔ بعض نے کہا : ان کے سجدہ کرنے سے مراد ہے ان کے سایہ کا سربسجود (سرافگندہ) ہونا۔ اللہ نے فرمایا ہے : یتفیوا ظلالہ عن الیمین والشمَائل سجدا اللہ وھم داخرون۔
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی

والسما رفعھا ووضع المیزان . ” اور اسی نے آسمان کو اونچا کیا اور اسی نے (دُنیا میں) ترازو رکھ دی۔ “ یعنی اللہ نے آسمان کو اونچا بنایا۔ مجاہد کے نزدیک اس جگہ میزان سے مراد عدل ہے (انصاف) یعنی اللہ نے عدل قائم رکھنے کا حکم دیا اور سب کو عدل کا ذمہ دار بنایا۔ اس طرح اس ساری کائنات کا انتظام ٹھیک ہوگیا۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : مقدار معلوم کرنے کا آلہ مراد ہے۔ خواہ وزن کرنے کی ترازو ہو یا ناپنے کا گز یا مقدار پہچاننے کا کوئی اور آلۂ تعیین مقدار کے آلہ سے ہی لین دین میں انصاف کیا جاتا ہے ‘ وزن کا لغوی معنی ہے ‘ اندازہ کرنا۔
Ayah 55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو

الا تغطغوا فی المیزان . تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اَنْ مصدریہ ہے لا تطغوا مضارع منفی ہے۔ یعنی اللہ نے میزان قائم کردی تاکہ تم لوگ حق سے تجاوز نہ کرو۔ میزان کو قائم رکھو۔ کوئی کسی کی حق تلفی نہ کرے یا ان مفسرہ ہے اور لا تطغوا صیغۂ نہی ہے۔ یعنی اللہ نے حکم دیا ہے کہ تم وزن میں حق سے تجاوز نہ کرو۔
Ayah 55:9

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور تول کم مت کرو

واقیموا الوزن بالقسط ولا تخسروا المیزان . ” اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک ٹھیک رکھو اور تول کو نہ گھٹاؤ۔ “ یعنی وزن کو ٹھیک ٹھیک رکھو ‘ وزن میں کمی نہ کرو۔ اللہ نے ٹھیک ٹھیک وزن کرنے کا حکم دیا۔ پہلے طغیان کی یعنی حق سے زیادہ لینے کی ممانعت فرما دی۔ پھر خسران کی یعنی وزن میں کمی کرنے کی نہی فرما دی اور لفظ میزان کو صراحتہً تین بار حکم کی تاکید کے لیے ذکر کیا۔ مسئلہ زید نے کوئی چیز ناپ تول کر خرید لی۔ پھر بکر کے ہاتھ وہ چیز ناپ تول کر فروخت کردی۔ اس صورت میں بکر پر لازم ہے کہ اگر وہ اس چیز کو خالد کے ہاتھ فروخت کرنا یا خود استعمال کرنا چاہتا ہے تو خود ناپ تول کر بیچے یا ناپ تول کر اپنے استعمال میں لائے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ زید نے ناپ تول میں بھولے سے کچھ زیادتی کردی اور اس زیادتی کا مالک بکر تو ہو نہیں سکتا وہ زیادہ مال زید ہی کا ہے اور غیر کے مال میں تصرف حرام ہے ‘ جس سے پرہیز لازم ہے۔ جب تک غلہ کی ناپ دو پیمانوں سے نہ ہوجائے ‘ ایک پیمانہ بیچنے والے کا اور دوسرا ناپ کر خریدنے والے کا اس وقت تک مشتری کے لیے کسی کے ہاتھ اس غلہ کو فروخت کرنا جائز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے یہی فرمایا ہے۔ (رواہ ابن ماجہ و ابن اسحق) ابن اسحاق نے اس روایت کو معلل کہا ہے۔ (رواہ البزار من حدیث ابی ہریرہ) دو ضعیف سلسلوں سے یہ حدیث حضرت انس اور حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی آئی ہے۔ عبدالرزاق نے یحییٰ بن کثیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عثمان اور حضرت حکیم بن حزام باہم چھواروں کی خریدو فروخت کر کے بوریوں میں بھر دیتے تھے پھر اسی ناپ کو (یوں ہی بھرا ہوا) کسی تیسرے شخص کے ہاتھ فروخت کردیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی ممانعت فرما دی تاوقتیکہ تیسرے شخص کے ہاتھ فروخت کرتے وقت بائع ناپ تول کر نہ دے (یوں ہی بوروں میں بھرا ہوا غلہ وغیرہ بیچنا جائز نہیں) ابن ہمام نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے طرق روایت کثیر ہیں۔ ائمہ (رح) نے بھی اس حدیث کو قبول کیا ہے۔ ہمارے اس قول کے موافق امام شافعی ‘ امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) کے اقوال بھی ہیں۔ مسئلہ فروخت کے وقت سے پہلے اگر فروخت کرنے والے نے غلہ وغیرہ ناپ تول کر رکھ لیا تو خواہ خریدار کے سامنے ہی ناپا تولا ہو مگر وہ ناپ تول قابل اعتبار نہیں۔ وہ بائع کا ناپ تول (جو فروخت کرنے کے لیے ضروری ہے) نہیں مانا جائے گا اور وہ ناپ تول بھی کافی نہیں سمجھا جائے گا جو خریدو فروخت کی گفتگو طے ہوجانے کے بعد خریدار کی غیر موجودگی میں بائع کر کے رکھ لے کیونکہ فروخت شدہ چیز کو خریدار کے سپرد کرنا ضروری ہے اور سپردگی کے لیے خریدار کے سامنے ناپنا تولنا لازم ہے۔ اگر مشتری کی موجودگی میں بائع نے ناپ تول کردی تو کیا یہ کیل و وزن کافی ہے یا مشتری کو قبضہ کرنے کے لیے دوبارہ خود ناپ تول کرنی چاہیے۔ حدیث مذکورہ بالا سے بظاہر مؤخر الذکر حکم مستفاد ہو رہا ہے کیونکہ حدیث میں صاع (ناپ تول) بائع اور صاع مشتری دونوں کو ضروری قرار دیا ہے لیکن صحیح ترین فیصلہ یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں خریدار کے سامنے عقد کے وقت بائع کا ناپنا ‘ تولنا کافی ہے کیونکہ اصل مقصد صحیح مقدار کا معلوم ہونا ہے اور مقدار کا صحیح علم صرف بائع کے ناپ تول سے جو خریدار کے سامنے ہو حاصل ہوجاتا ہے اور سپردگی کا معنی بھی (مشتری کے سامنے ناپ تول ہونے کی وجہ سے) موجود ہے۔ (اس لیے صورت مذکورہ میں بائع کا ناپ تول کافی ہے) رہی حدیث تو اس کا محل دونوں اوصاف کا ایک شخص میں اجتماع ہے۔ مثلاً زید نے بکر سے بیع سلم کی ‘ بکر کو روپیہ دے دیا اور غلہ کی وصولی دو ماہ کے بعد قرار پائی۔ اس صورت میں زید رب السّلم (قیمت کا دیوال اور غلہ کا لیوال) ہوا اور بکر مسلم الیہ (قیمت کا لیوال اور غلہ کا دیوال) ہوا۔ جب دو ماہ گزر گئے تو بکر نے زید کو دینے کے لیے کچھ غلہ خریدا اور خود قبضہ نہیں کیا بلکہ زید سے کہہ دیا کہ تم خالد سے جا کر غلہ لے لو یہ ناجائز ہے۔ کیونکہ دونوں اوصاف زید میں جمع ہوگئے۔ ایک ناپ تول اس لیے ہونا چاہیے کہ بکر نے خالد سے غلہ خریدا ہے ‘ دوسرا ناپ تول اس لیے ضروری ہے کہ زید کو مسلم الیہ سے غلہ وصول کرتے وقت ناپ تول کرنا چاہیے ‘ اس صورت میں ایک ناپ تول کافی نہیں ہے۔
Ayah 55:10

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی

والارض وضعھا للانام . اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین کو (اس کی جگہ) رکھ دیا۔ وَضَعَھَا : یعنی زمین کو پست بنایا اور بچھایا۔ لِلْاَنَامِ : مخلوق کے لیے قاموس بروزن سحاب و سباط ‘ مخلوق یا جن و انس یا وہ تمام چیزیں جو رُوئے زمین پر ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک انام سے مراد ہیں ‘ تمام جاندار۔ میں کہتا ہوں بظاہر اس جگہ جن و انس مراد ہیں کیونکہ خطاب انہی دونوں کو کیا گیا ہے فبای الاء ربکما تکذبان کے مخاطب یہی دونوں نوعیں ہیں۔
Ayah 55:11

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں

فیھا فاکھۃ والنخل ذات الاکمام اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں ‘ جن کے پھلوں پر غلاف ہوتا ہے فِیْھَا فَاکِھَۃٌ : ابن کیسان نے کہا : فاکھہ سے مراد وہ بیشمار نعمتیں ہیں جو لذت کے لیے کھائی جاتی ہیں۔ اَلْاَکْمَامِ : یہ کِمٌّ کی جمع ہے اور کم کا معنی ہے پھل کا غلاف۔
Ayah 55:12

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول

والحب ذوالعصف والریحان اور (اس میں) اناج ہے جس میں بھوسہ اور غذائی چیزیں ہوتی ہیں۔ وَالْحَبُّ : گیہوں ‘ جو اور وہ اناج جو غذا کے لیے کھایا جاتا ہے۔ ذُوالْعَصْفِ : عصف کھیتی کے پتے یا خشک گھاس جیسے بھوسہ۔ وَالرَّیْحَان : ریحان سے مراد ہے رزق یعنی مغز .... اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے۔ عرب کہتے ہیں : خرجت اطلب ریحان اللہ۔ میں اللہ کا رزق تلاش کرنے کے لیے نکلا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قرآن مجید میں جہاں بھی لفظ ریحان آیا ہے اس سے مراد رزق ہے۔ حسن اور ابن زید نے کہا : ریحان سے مراد یہی خوشبو ہے جو سونگھی جاتی ہے۔ ریحان کا لفظ روح سے مشتق ہے۔ ریحان (بروزن فعلان) اصل میں رویحان (بروزن فعیلان) تھا واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کو یاء میں ادغام کردیا پھر یاء کی تخفیف کردی۔ بعض اہل لغت کے نزدیک ریحان کی اصل روحان تھی ‘ واؤ کو تخفیفًا یاء سے بدل دیا گیا۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الاء ربکما تکذبان . ” سواَے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ اِس آیت میں جن و انس کو خطاب ہے کیونکہ پہلے لِلَانَام فرمایا تھا (اور انام سے مراد جن و انس تھے) اس کے علاوہ آگے ایھا الثقلان (اے جن و انس) بھی فرمایا ہے۔ بعض اہل علم نے کہا کہ صیغہ اگرچہ تثنیہ کا استعمال کیا ہے لیکن خطاب صرف انسانوں سے ہے اور عرب اپنی زبان میں ایسا استعمال کرلیتے ہیں۔ اللہ نے بھی آیت القیانی جہنم میں بھی ایسا استعمال کیا ہے۔ فَبِاَیِّ : میں فَ سببی ہے اور استفہام کا مقصد ہے الاء کو مؤکد کرنا اور تکذیب الاء کو رد کرنا کیونکہ الاء کا ذکر نعمتوں کے اقرار اور منعم کے شکر کا : مقتضی ہے اور نعمتوں کی تکذیب کی نفی کر رہا ہے۔ اسی طرح ناشکری پر وعید (اور شکر پر) وعدہ نعمتوں کے اقرار و شکر کا موجب ہے۔ حاکم نے بوساطت محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے سورة رحمن آخر تک تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا : مَیں تم لوگوں کو خاموش دیکھ رہا ہوں ‘ ایسا کیوں ہے ؟ تم سے تو بہتر جن تھے جب اور جتنی بار میں نے ان کے سامنے آیت فبای الاء ربکما تکذبن پڑھی ‘ ہر بار انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہم تیری کسی نعمت کا انکار نہیں کرتے ‘ تیرے ہی لیے (ہر طرح کی) حمد ہے۔
Ayah 55:14

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا

خلق الانسان من صلصال کالفخار اسی نے انسان کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح بجتی تھی ‘ پیدا کیا خَلَقَ الْاِنْسَانَ : یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ صَلْصَالٍ : خشک مٹی ‘ جو کھن کھن بجتی ہو۔ بعض نے کہا : صلصال سڑی ہوئی کیچڑ کو کہتے ہیں۔ اَلْفَخَّارِ : ٹھیکرا۔ آگ میں پکائی ہوئی کیچڑ یا گارا۔ بعض نے کہا : فخر کا معنی ہے ‘ بیرونی اشیاء جیسے مال ‘ مرتبہ وغیرہ میں اترانا ‘ گھڑا بھی بجانے سے کھن کھن بجتا ہے گویا اظہار فخر کرتا ہے۔ تخلیق انسانی کے متعلق مختلف آیات میں مختلف الفاظ آئے ہیں : طین لازب۔ تراب۔ ان آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ سب سے پہلے مادۂ تخلیق مٹی (تراب) ہی تھی۔ پھر (پانی ملا کر) اس کو کیچڑ (یا گارا) بنایا گیا پھر (گوندھ کر) اس کو سڑی ہوئی کیچڑ کی شکل دے دی گئی۔ پھر (خشک کر کے) اس کو کھن کھن بجتی ہوئی ٹھیکری کی صورت دے دی گئی۔
Ayah 55:15

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا

و خلق الجان من مارج من نار اور جنات کو خالص آگ سے پیدا کیا ‘ وَ خَلَقَ الْجَآنَّ : الجان جنس جن۔ بعض نے کہا : جنات کا جو پدر اعلیٰ تھا اس کا نام الجان تھا۔ ضحاک نے کہا : ابلیس مراد ہے۔ مِنْ مَّارِجٍ : مارج بھڑکتی ہوئی ‘ خالص ‘ صاف ‘ بےدود آگ۔ اصل لغت کے لحاظ سے مارج کا معنی ہے مضطرب (لرزاں) یہ مرج سے مشتق ہے۔ مَرَج کا معنی مضطرب ہوا۔ مجاہد نے کہا : مارج کا معنی ہے مخلوط مرج امر القوم ‘ یعنی گڈمڈ اور مخلوط ہوگیا۔ آگ کے سرخ ‘ زرد اور سبز شعلے جب باہم گڈمڈ ہوجاتے ہیں تو اس کو مارج کہا جاتا ہے۔
Ayah 55:16

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الا ربکما تکذبان سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : انسان اور جن تخلیق کے مختلف مدارج اور دوروں سے گزر کر افضل مرکبات اور خلاصۂ کائنات بنے۔ اللہ کی یہ بڑی (فطری) نعمت ہے ‘ جس سے جن و انس کو سرفراز کیا گیا۔ پس کون کونسی نعمت کا یہ دونوں انکار کرسکتے ہیں۔
Ayah 55:17

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)

رب المشرقین و رب المغربین دونوں مشرق اور دونوں مغرب کا مالک ہے دو مشرق یعنی ایک موسم گرما کا مطلع اور دوسرا موسم سرما کا۔ اسی طرح سردی ‘ گرمی کی دو فصلوں کے دو مغرب۔ اختلاف مشارق و مغارب اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ اس سے ہوا میں اعتدال ‘ فصلوں اور موسموں کا اختلاف اور ہر موسم کے مناسب مختلف احوال پیدا ہوتے ہیں۔ تفصیلی فوائد بیان سے باہر ہیں۔
Ayah 55:18

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الا ربکما تکذبان . سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ پس جن و انس اس نعمت کا انکار کیسے کرسکتے ہو اور کون کونسی نعمت کے منکر ہوسکتے ہیں۔
Ayah 55:19

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں

مرج البحرین یلتقین ” اسی نے دو دریاؤں کو ملایا کہ دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ : اللہ نے دو سمندر چھوڑ دیئے۔ لفظ مرج اس جگہ مرجت الدابۃ (مَیں نے جانور کو چراگاہ میں چھوڑ دیا) سے ماخوذ ہے۔ دو سمندر ایک شیریں ‘ دوسرا نمکین۔ یَلْتَقِیٰنِ : باہم ملے ہوئے۔ ایک کی سطح دوسرے کی سطح سے متصل ‘ غیر ممتاز۔
Ayah 55:20

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے

بینھما برزخ لا یبغین اور دونوں کے درمیان ایک حجاب ہے کہ دونوں اپنی حد سے بڑھ نہیں سکتے۔ بَرْزَخٌ : مانع ‘ پردہ ‘ یعنی اللہ کی قدرت۔ لَا یَبْغِیَانِ : دونوں میں سے کوئی اپنی حد سے آگے بڑھ کر دوسرے کی حد میں داخل ہو کر مخلوط نہیں ہوجاتا اور نہ وہ اپنی خاصیت و خصوصیت کو چھوڑتا ہے۔ قتادہ نے کہا : آدمیوں پر چڑھ نہیں آتے کہ ان کو غرق کردیں۔ حسن کے نزدیک دو سمندروں سے مراد ہیں : بحر روم اور بحر ہند۔ قتادہ نے کہا : بحر فارس (پرشین گلف) اور بحر روم مراد ہیں اور برزخ سے مراد ہیں جزائر۔ مجاہد اور ضحاک کے نزدیک آسمانی اور زمین کا سمندر مراد ہے ‘ دونوں ہر سال آپس میں ملتے ہیں۔
Ayah 55:21

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الاء ربکما تکذبان . سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : یعنی ان سمندروں کی تخلیق اور تخلیق کے جو فوائد ہیں اور ان سے اللہ کی قدرت کا جو ظہور ہو رہا ہے ‘ کس کس کا انکار کرسکتے ہو۔
Ayah 55:22

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

یخرج منھما اللولو والمرجان اور ان دونوں سے موتی اور مونگا برآمد ہوتا ہے۔ مِنْھُمَا : یعنی میٹھے سمندروں سے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نمکین سمندروں سے موتی برآمد ہوتے ہیں۔ شیریں سمندر سے برآمد نہیں ہوتے (لیکن آیت مذکورہ میں تو تثنیہ کی ضمیر آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں سمندروں سے موتی برآمد ہوتے ہیں) اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ جس جگہ شیریں اور شور سمندر ملتے ہیں ‘ اس جگہ سے موتی برآمد ہوتے ہیں (تو منھما سے مراد ہوگی من مجتمعھا) بعض اہل تفسیر نے اس طرح جواب دیا ہے کہ دونوں جب باہم مل جاتے ہیں تو گویا دونوں ایک ہوجاتے ہیں۔ پس جو چیز ایک سے برآمد ہوتی ہے وہ گویا دونوں سے برآمد ہوتی ہے۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ عربی زبان میں ایسا ہوتا ہے کہ دو چیزوں کو ساتھ ساتھ ذکر کیا جاتا ہے پھر خاص طور پر صرف ایک کی حالت بیان کی جاتی ہے (اگرچہ ضمیر دونوں کی ذکر کی جاتی ہے) جیسے دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا ہے : یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ (اے گروہ جن و انس ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے ہی پیغمبر نہیں آئے تھے) پیغمبر تو صرف انسانوں میں سے آئے ‘ جنات میں سے نہیں آئے۔ (الم یاتکم اور منکم کی ضمیر جمع کے مخاطب دونوں گروہ ہیں) ۔ مجاہد اور ضحاک کے قول کے مطابق اگر البحرین سے بہر سماء اور بحر ارض مراد ہو تو دونوں کے باہم ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ جب آسمان سے بارش ہوتی ہے تو دریائی سیپیں اپنے منہ کھول دیتی ہیں اور کسی کے منہ میں کوئی قطرہ آ گرتا ہے تو اس کا موتی بن جاتا ہے۔ (کذا قال ابن جریر) اَللُّؤْلُؤُ : بڑے موتی اور اَلْمَرْجَانُ : چھوٹے موتی۔ (کذا فی القاموس) مقاتل اور مجاہد نے اس کے برعکس کہا ہے یعنی لولؤ چھوٹے موتی اور مرجان بڑے موتی۔ بعض اہل لغت نے کہا ہے مرجان سرخ پوتھ (مونگا) کو کہتے ہیں ‘ یہ جواہر کی ایک قسم ہے جو نبات سے بھی مشابہت رکھتی ہے اور پتھر سے بھی۔ عطاء خراسانی نے کہا : مرجان بسد (مونگے کی جڑ) کو کہتے ہیں۔
Ayah 55:23

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الا ربکما تکذبان . ” سو اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:24

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں

ولہ الجوار المنشئت فی البحر کالاعلام فبای الا ربکما تکذبان . ” اور اسی کے (قبضہ اور ملک وقدرت میں) جہاز جو پہاڑوں کی طرح اونچے اور کھڑے نظر آتے ہیں۔ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ اَلْجَوَارِ : الجاریۃ کی جمع ہے۔ بڑی کشتیاں (جہاز) ۔ اَلْمُنْشَءٰتُ : اوپر کو اٹھی ہوئی (اُبھری ہوئی) بعض نے اس کا ترجمہ کیا : مسخر ‘ تابع حکم۔ کَالْاَعْلَامِ : اعلام ‘ عَلم کی جمع ہے۔ بڑے اونچے پہاڑ۔
Ayah 55:25

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

” سو اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:26

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو (مخلوق) زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے

کل من علیھا فان جتنے رُوئے زمین پر ہیں ‘ سب فنا ہوجائیں گے کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا : یعنی زمین پر جو حیوانات یا مرکبات یا جن و انس ہیں یا ہر چیز مراد ہے۔ یہاں تک کہ پہاڑ ‘ دریا ‘ سمندر اور کانیں بھی۔ چونکہ اشرف کائنات (یعنی مادی مخلوق میں سب سے افضل وہ مخلوق ہے جس کو فہم کی قوّت دی گئی ہے (یعنی جن و انس) اس لیے صاحب فہم مخلوق کو بےسمجھ مخلوق پر غالب قرار دے کر لفظ مَنْ (جو شخص) ذکر کیا (اور لفظ ما جو ناسمجھ مخلوق کیلئے مستعمل ہے ‘ ذکر نہیں کیا) ۔ فَانٍ : یعنی قیامت کے دن فنا ہونے والا ہے یا جب اللہ چاہے رُوئے زمین کی موجودات کو فنا کر دے یا اپنے وجود کے لحاظ سے ہر چیز فانی ہے ‘ بےحقیقت ہے ‘ کسی کا وجود اپنا نہیں بلکہ مستعار ہے۔
Ayah 55:27

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی

و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام اور آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت و احسان والی ہے ‘ باقی رہ جائے گی۔ وَ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ : وجہ رب (ربّ کا چہرہ) متشابہات میں سے ہے (یعنی ایسا مبہم ہے جسکا علم عام طور پر مخلوق کو نہیں ہوسکتا) ۔ ذُوالْجَلاَلِ : عظمت اور تسلط والا ‘ سب سے بےنیاز وَالْاِکْرَامِ : الاکرام ‘ ہمہ گیر فضل۔ وَجْہُ رَبِّکَ کا عطف کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ پر ہے۔ فَانٍ کا لفظ بتارہا ہے کہ فنا مخلوق کے لیے مخصوص ہے (اللہ فانی نہیں ہے) اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اس آیت میں وجہُ سے مراد جہت ہے تاکہ معطوف اور معطوف علیہ میں مناسبت پیدا ہوجائے۔ (اس صورت میں وجہُ کا لفظ متشابہات میں سے نہیں ہوگا) ۔ ایک شبہ اس جگہ عطف بر بناء مقابلہ ہے۔ فناء خلق اور بقاء خالق میں تقابل ہے ‘ مناسبت اور مقارنت باعث عطف نہیں ہے۔ ازالہ اگر ایسا ہوتا تو فنا کو کائنات ارضی کے لیے مخصوص نہیں کیا جاتا۔ جب وجہ کو بمعنی جہت مانا جائے تو کلام کا حاصل مطلب اس طرح ہوگا : ” رُوئے زمین پر جو جن و انس بستے ہیں وہ اپنی ذات و وجود کے اعتبار سے ہیچ ہیں ‘ ان کی بقاء کا کوئی رخ نہیں ‘ ہر جہت سے فنا ان کے دامن گیر ہے۔ ہاں ! رب کی طرف متوجہ ہونے کا اُ نکا رخ غیر فانی ہے۔ نسبتِ رب ان کی باقی رہنے والی ہے ‘ اس کو فنا نہیں۔ “ اللہ نے فرمایا ہے : قل ما یعبابکم ربی لولا دعاء کم : ذوالجلال والاکرام اللہ کی عظیم الشان صفت ہے۔ ترمذی نے حضرت انس کی روایت سے اور احمد و نسائی و حاکم نے حضرت ربیعہ بن عامر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یا ذوالجلال والاکرام کا ہمیشہ ورد رکھو۔ حصن حصین میں آیا ہے کہ ایک شخص یا ذوالجلال والاکرام کہہ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا ادھر سے گزر ہوا ‘ فرمایا : (اب) تیری دعا قبول ہوگی۔ سوال کر (جو کچھ مانگنا ہے ‘ مانگ لے) یا ذوالجلال والاکرام کا ورد انسان کا اعلیٰ وصف و خصوصیت ہے۔
Ayah 55:28

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الاء ربکما تکذبان . سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا ...... : کی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ وہ جن و انس کو اپنی جانب متوجہ ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور یہ بھی ایک نعمت ہے کہ وہ کائنات جو اپنی ذات ‘ وجود اور صفات کے لحاظ سے فانی ہے ‘ اس کو اپنی رحمت اور مہربانی سے بقاء عنایت کرے گا اور فناء کُل کے بعد دوبارہ دوامی زندگی عطا کرنا اور لازوال عیش و راحت عنایت فرمانا بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ سو کس کس نعمت کا تم انکار کرو گے۔
Ayah 55:29

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے

یسئلہ من فی السموت والارض کل یوم ھو فی شان اسی سے (اپنی اپنی حاجتیں) سب آسمان و زمین والے مانگتے ہیں۔ وہ ہر وقت ایک نئی شان میں ہے یَسْءَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ.... یعنی فرشتے ‘ انسان اور جنات سب اپنی اپنی حاجتیں اللہ سے مانگتے ہیں۔ رزق ‘ صحت ‘ عافیت ‘ توفیق عبادت ‘ مغفرت اور نزول تجلیات و برکات کے اسی سے طلبگار ہوتے ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ من فی السمٰوٰت والارض سے ساری مخلوق مراد ہے کیونکہ تمام کائنات اپنی ذات وصفات اور کل ضروریات میں اللہ کی محتاج ہے۔ اس صورت میں سوال سے مراد ہوگی وہ حالت و کیفیت جو احتیاج پر دلالت کر رہی ہے۔ خواہ زبان سے اس کا اظہار کیا جائے یا نہ کیا جائے ‘ دلالت لفظی ہو یا غیر لفظی۔ کُلَّ یَوْمٍ : یعنی ہر روز اس سے مانگتے ہیں۔ یہ یَسْءَل کا مفعول ہے یا فعل محذوف سے اس کا تعلق ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : وہ لوگوں کی مرادیں عطا کرتا ہے اور ہر روز کے حوادث پیدا کرتا ہے۔ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ : یعنی اللہ ہمیشہ ایک (نئی) شان میں نمودار ہوتا ہے۔ کسی کو زندگی دیتا ہے۔ کسی کی زندگی لے لیتا ہے۔ کسی قوم کو عزت دیتا ہے ‘ کسی کو ذلت۔ رزق دیتا ہے کسی کو زیادہ ‘ کسی کو کم ‘ بیمار کو صحت مند اور تندرست کو بیمار کرتا ہے۔ مصیبت زدہ کی مصیبت دور کرتا ہے ‘ سائل کو عطا کرتا ہے۔ مؤمن کے گناہ معاف کرتا ہے اور کافروں کو جہنم میں لے جاتا ہے اور گوناگوں عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور جو لوگ رب کی پیشی سے ڈرتے ہیں ‘ ان کی عزت افزائی کرتا اور جنت میں داخل فرماتا ہے۔ غرض جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ بھی اللہ کی شان ہے کہ گناہ معاف کرتا ہے ‘ مصیبت کو دور کرتا ہے ‘ کسی قوم کو اونچا کرتا ہے اور کسی کو نیچا۔ (رواہ ابن ماجہ و ابن حبان فی الصحیح من حدیث ابی الدرداء) ابن جریر نے اسی طرح حضرت عبداللہ بن منیب کی روایت سے اور بزار نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ من جملہ دوسری مخلوق کے اللہ نے موتی کی ایک لوح پیدا کی جس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے بنائے ‘ اس کا قلم نور ہے ‘ اس کی تحریر بھی نور ہے ‘ اللہ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اس پر نظر کرتا ہے ‘ وہی پیدا کرتا ہے ‘ رزق دیتا ہے ‘ زندگی عطا فرماتا ہے ‘ موت دیتا ہے ‘ عزت عنایت کرتا ہے ‘ ذلت دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے ‘ کرتا ہے۔ یہی مطلب (و مضمون) ہے آیت کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ کا۔ حسین بن الفضل نے کہا : اللہ کی شان ہے کہ (تمام) امور مقدرہ کو ان کے مقررہ اوقات تک لے جاتا ہے۔ سلیمان دارانی نے اس آیت کی تشریح کے ذیل میں کہا : ہر روز اس کی طرف سے جدید خیر بندوں کو ملتی ہے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا : کُل زمانہ دو ون کا نام ہے۔ ایک دن پوری مدت دنیا ہے اور دوسرا دن روز قیامت۔ پس مدت دنیا میں اس کی شان یہ ہے کہ (بعض کاموں کو کرنے) کا حکم دیتا ہے اور بعض کاموں (کے کرنے) کی ممانعت کرتا ہے ‘ زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے (رزق وغیرہ) دیتا ہے اور روکتا ہے اور قیامت کے دن اس کی شان ہوگی (اعمال کا) بدلہ دینا ‘ حساب لینا اور ثواب و عذاب دینا۔ بعض اہل علم نے کہا : اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ ہر روز تین فوجیں ایک عالم سے نکال کر دوسرے عالم میں لے جاتا ہے۔ ایک فوج کو باپوں کی پشت سے نکال کر ماؤں کے رحم میں پہنچاتا ہے اور دوسری فوج کو ماؤں کے پیٹ سے نکال کر دنیا میں لاتا ہے اور تیسری فوج کو دنیا سے نکال کر قبروں میں پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بعد سب کے سب اللہ کی طرف کوچ کریں گے۔ مقاتل نے کہا : یہودی کہتے تھے کہ اللہ ہفتہ کے دن کوئی فیصلہ نہیں کرتا ہے۔ ان کی تردید میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 55:30

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الا ربکما تکذبان . ‘ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ فَبِاَیِّ اٰلآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : اللہ جو تمہارے سوال پورے کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً پردۂ عدم سے میدان وجود میں چیزیں لا رہا ہے تم اس کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔
Ayah 55:31

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے دونوں جماعتو! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں

سنفرغ لکم ایۃ الثقلان اے جن و انس ہم عنقریب ہی تمہاے (حساب کتاب کے) لیے خالی ہوجاتے ہیں اللہ کو کسی کام میں ایسی مشغولیت نہیں جو دوسرے کام کی طرف متوجہ ہونے سے مانع ہو ‘ ورنہ اللہ کا بےعلم اور عاجز ہونا لازم آئے گا۔ اس لیے آیت میں فراغت سے مراد مشغولیت مانعہ سے فراغت نہیں ہے بلکہ مجازی معنی مراد ہے اور اس کی توجیہات مختلف طور پر کی گئی ہیں جن کی تفسیر اور تفصیل مفسر (رح) نے حسب ذیل کی ہے): 1) عنقریب ہم تم کو سزا و جزا دینے کے لیے خالی ہوجائیں گے ‘ یعنی قیامت کا دن قریب ہے جس میں اللہ سوائے اعمال کے بدلہ دینے کے اور کوئی (تخلیقی) فعل نہیں کرے گا۔ 2) دھمکی دینی مراد ہے ‘ کسی کو سزا دینے کی دھمکی دینی مقصود ہو تو عرب کہتے ہیں : سافرغ لک میں عنقریب تجھے سزا دینے کیلئے نمٹا جاتا ہوں۔ سب کاموں سے فارغ ہو کر جو شخص کسی چیز کی طرف توجہ کرتا ہے تو وہ پورے طور پر اسکو سر انجام دینے پر قادر ہوتا ہے۔ یہاں فراغت سے مراد دوسرے مشاغل سے فراغت حاصل کرنا نہیں ہے (صرف تہدید مراد ہے) ۔ (کذا قال ابن عباس و ضحاک) 3) عنقریب ہم تم کو ڈھیل اور مہلت دینا چھوڑ دیں گے اور تمہارے معاملہ کا فیصلہ (شروع) کردیں گے۔ 4) پہلے اللہ نے نیکوں سے جزا کا وعدہ کیا اور بدکاروں کو عذاب کی دھمکی دی۔ پھر فرمایا : عنقریب ہم اس وعدہ اور وعید سے فارغ ہوجائیں گے یعنی تم سے حساب فہمی کریں گے اور اعمال کا بدلہ دیں گے اور اس طرح ہمارا وعدہ پورا ہوجائے گا اور ہم تمہارے کام سے فارغ ہوجائیں گے۔ (کذا قال الحسن والمقاتل) الثَّقَلٰنِ : یعنی جن و انس ‘ جن و انس کو ثقل (بار) کہنے کی یہ وجہ ہے کہ جن و انس زندہ ہوں یا مردہ بہرصورت ان کا بار زمین پر ہی رہتا ہے۔ امام جعفر صادق نے فرمایا : یہ دونوں گناہوں کے بار سے لدے ہوئے ہیں۔ بعض نے کہا : انہی دونوں پر احکام تکلیفیہ کا بار ہے۔ ثقلین کے ان تمام معانی کے مناسب ہیں وہ ساری توجیہات جو نفرغ کی بیان کی گئی ہیں۔ یعنی تہدید یا وعدہ و وعید کی تکمیل وغیرہ۔ اہل معانی کہتے ہیں کہ جس چیز کی اہمیت اور بوقت تقابل وزن اور رفعت مرتبہ ہو اس کو ثقل کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی۔ میں تمہارے اندر دو ثقل (اہم چیزیں) چھوڑنے والا ہوں ‘ اللہ کی کتاب اور اپنی اولاد۔ حضور ﷺ نے اہمیت قدر اور عظمت شان کی وجہ سے کتاب اللہ اور اپنی عترت کو ثقلین فرمایا۔ ثقلین کی وجہ تسمیہ اگر اہمیت و وزن کو قرار دیا جائے تو اس صورت میں سنفرغ کا مطلب یہ ہوگا کہ عنقریب براہ راست تمہارے ساتھ ہمارا معاملہ ہوگا ‘ درمیان میں کسی اور کو دخل نہ ہوگا۔ ابوذر ؓ نے عقیلی کی روایت سے بیان کیا۔ راوی کا بیان ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا قیامت کے دن ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو بغیر کسی رکاوٹ کے (یعنی بلا حجاب) دیکھے گا ؟ فرمایا : کیوں نہیں ! میں نے عرض کیا : مخلوق میں کیا اس کی کوئی نشانی (مثال) ہے ؟ فرمایا : کیا چودہویں رات کے چاند کو تم میں سے ہر ایک بلا رکاوٹ نہیں دیکھتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ! فرمایا : یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور اللہ کی جلالت قدر و عظمت شان تو سب سے زیادہ ہے۔ (رواہ ابوداؤد) ایک فارسی شاعر کا کیسا بہترین شعر ہے۔ ؂ جہانے مختصر خواہم کہ دروے ہمیں جائے من و جائے تو باشد ” میں ایسا مختصر جہان چاہتا ہوں جس میں صرف میری اور تیری جگہ ہو۔ “
Ayah 55:32

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الا ربکما تکذبان . سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ (فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : متاخرین کے قول کے مطابق فراغت سے مراد تہدید وغیرہ ہو تو اس آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ نعمتوں کی تکذیب نہ کرو۔ تکذیب نعمت الٰہیہ موجب عذاب ہے۔ اٰلَآء : سے نعمت مراد ہے خواہ اس کا ذکر آیت میں ہو یا نہ آیا ہو۔ بعض لوگوں نے کہا : عذاب سے ڈرانا بھی ایک نعمت ہے کیونکہ تہدید کی وجہ سے آدمی تکذیب سے باز آجاتا ہے۔ یہ قول خواہ مخواہ کا تکلف ہے۔
Ayah 55:33

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہِ جن وانس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ۔ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں

یمعشر الجن والانس ان استطتعم ان تنفذوا من اقطار السموت والارض فانفذوا الا تنفذون الا بسلطن اے اگر وہ جن و انس تم کو اگر یہ قدرت ہے کہ آسمان و زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جاؤ تو نکلو مگر تم بغیر زور کے نہیں نکل سکتے (اور زور ہے نہیں) اِنِ اسْتَطَعْتُمْ.... یعنی اگر تم اللہ کے فیصلے اور حکم سے بھاگ کر آسمانوں کے اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکتے ہو تو بھاگو اور نکل جاؤ۔ یہ امر تعجیز ہے یعنی تم ایسا کرنے سے عاجز ہو۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ آسمان و زمین کے اطراف کو پار کر کے اگر تم موت سے بھاگ سکتے ہو تو بھاگو اور نکل جاؤ۔ غرض یہ کہ تم جہاں بھی ہو گے ‘ موت تم کو آپہنچے گی۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ یہ خطاب قیامت کے دن ہوگا۔ ابن جریر اور ابن مبارک نے ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کا دن ہوگا تو بحکم خدا آسمان دنیا اپنے باشندوں سمیت پھٹ پڑے گا۔ فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ پھر رب کے حکم سے ملائکہ نیچے اتر کر زمین اور اس کے باشندوں کا احاطہ کرلیں گے پھر تیسرے ‘ پھر چوتھے ‘ پھر پانچویں ‘ پھر چھٹے ‘ پھر ساتویں آسمان کی بھی یہی کیفیت ہوگی (ساتویں آسمان کے) فرشتے اتر کر ترتیب وار صف بستہ ہوجائیں گے (اور سب کو اپنے گھیرے میں لے لیں گے) اس وقت ملک اعلیٰ (اللہ) نزول اجلال فرمائے گا۔ اس کے بائیں جانب جہنم ہوگی ‘ زمین والے جہنم کو دیکھ کر ادھر ادھر بھاگ نکلیں گے لیکن زمین کے جس کنارے پر پہنچیں گے وہاں (ترتیب وار) فرشتوں کی سات صفیں (گھیرا ڈالے ہوئے) موجود پائیں گے مجبوراً جس جگہ سے بھاگے تھے پھر لوٹ کر اسی جگہ آجائیں گے ‘ یہی مطلب ہے آیات ذیل کا۔ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنَادِ یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ. وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجَیْٓ ءَ یَوْمَءِذٍ بِجَھَنَّمَ. یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفَذُوْا . وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَھِیَ یَوْمَءِذٍ وَّاھِیَۃٌ وَّالْمَلَکُ عَلآی اَرْجَآءِھَا . اس حالت میں ایک آواز سنائی دے گی : ” حساب فہمی کے لیے آؤ۔ “ لَا تَنْفُذُوْنَ : یعنی پار نکل جانے پر تم کو قدرت نہ ہوگی۔ اِلاَّ بِسُلْطٰنٍ : مگر قوت اور غلبہ کے ذریعہ سے اور یہ ذریعہ مفقود ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ بغیر اس کے کہ میں قوت وقدرت تم کو عطا کروں تم آسمان و زمین سے پار نہیں نکل سکتے ‘ کسی کو بھی ذاتی قدرت نہیں ہے۔ ہر شخص کو جو قوّت حاصل ہے وہ عطاء خداوندی ہے اور عارضی ہے۔ لاحول ولا قوّ ۃ الاّ باللہ۔ رسول اللہ ﷺ کو جو معراج جسمانی حاصل ہوئی اور آپ ﷺ آسمانوں سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ یہ قوت آپ ﷺ کو بھی بعطاءِ الٰہی حاصل ہوئی تھی۔ صوفی بھی دائرۂِ امکان سے نکل کر محض اللہ کی عطا کردہ قوت سے مدراج قرب تک پہنچتا ہے۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جس طرف تم رخ کرو گے میرے ہی ملک اور تسلط کی طرف کرو گے (یعنی ہر طرف میرا ہی ملک و اقتدار ہوگا) اس صورت میں سبلطان میں بؔ بمعنی الیٰ ہوگا (میرے اقتدار کے ساتھ یعنی میرے اقتدار کی طرف) عرب کہتے ہیں : زیدٌ احسن بی ‘ زید نے میرے ساتھ بھلائی کی یعنی میری طرف۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو چیزیں ہیں ان کو جاننے کی سکت اگر تمہارے اندر ہو تو ان کو جان لو ‘ تم بغیر سلطان کے یعنی ان نشا نیوں کے بغیر جو اللہ نے قائم کی ہیں موجودات سماوی و ارضی کو نہیں جان سکتے۔
Ayah 55:34

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الا ربکما تکذبان . سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : یعنی اللہ کی نعمتوں کی تکذیب نہ کرو۔ تکذیب موجب عذاب ہے اور تم عذاب سے بھاگنے کی قوت نہیں رکھتے بعض اہل علم کا قول ہے کہ تنبیہ ‘ تخویف اور باوجود کامل قدرت رکھنے کے درگزر کرنا اور معاف کردینا یہ سب کچھ اللہ کی نعمت ہے اور عقلی معراج اور تمام ترقیات اور ایسے اسباب ترقیات کہ ان کے ذریعہ سے لوگ آسمانوں سے بھی اوپر پہنچ جائیں ‘ ان کا شمول بھی اٰلاء اللہ میں ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مخلوق کا احاطہ ملائکہ اور آگ کے بھڑکتے شعلوں سے کردیا جائے گا پھر آوا زدی جائے گی : اے گروہ انس و جن ! اگر آسمان و زمین کے کناروں کو پار کر کے نکل سکتے ہو تو نکلو۔ مندرجہ ذیل آیت کا مطلب یہی ہے۔
Ayah 55:35

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے

یرسل علیکما شواط من نار و نحاس فلا تنتصرن تم دونوں پر (قیامت کے دن) آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا۔ پھر تم اس کو ہٹا نہ سکو گے یُرْسَلُ عَلَیْکُمْ شُوَاطٌ : یعنی قبروں سے اٹھائے جانے کے وقت تم پر چھوڑا جائے گا۔ شُوَاظٌ : وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ اکثر مفسرین نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ مجاہد نے کہا : شواظٌ اس سبز شعلہ کو کہتے ہیں جو آگ سے منقطع ہو کر اٹھتا ہے۔ اکثر مفسرین نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ مجاہد نے کہا : شواظ اس سبز شعلہ کو کہتے ہیں جو آگ سے منقطع ہو کر اٹھتا ہے۔ سعید بن جبیر اور کلبی نے نحاسکا ترجمہ کیا ہے ‘ دھواں۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔ اس صورت میں آیت کا یہ معنی ہوگا کہ کبھی تم پر آگ کا شعلہ اور کبھی دھواں چھوڑا جائے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ساتھ ‘ ساتھ اس طرح چھوڑے جائیں کہ ایک کا دوسرے سے اختلاط نہ ہو۔ ابن جریر نے لکھا ہے کہ آگ کا شعلہ اور کچھ نحاس (دھواں) چھوڑا جائیگا۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ شواظ آگ اور دھویں کے (مخلوط) مجموعہ سے ہی پیدا ہوتا ہے (اس وقت شواظ کا ترجمہ ہوگا لپٹ ‘ کیونکہ لَپَٹ میں آگ بھی ہوتی ہے اور دھواں بھی ‘ مترجم) مجاہد اور قتادہ نے کہا : نحاس یعنی پگھلا ہوا پیتل (تانبا) انکے سروں پر بہایا جائیگا (ڈالا جائیگا) ۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے نحاس کا ترجمہ کیا : مُہل (یعنی تیل کی تلچھٹ یا پگھلا ہوا تانبا) ۔ فَلاَ تَنْتَصِرٰنِ : یعنی اس وقت تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا جو میدان حشر میں لے جانے سے تم کو روک سکے۔
Ayah 55:36

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الا ربکما تکذبان . سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : بعض اہل علم نے کہا : موجبات عذاب سے ڈرانا بھی ایک نعمت خداوندی ہے ‘ اس لیے موجبات عذاب سے اجتناب لازم ہے اور فرمانبردار و نافرمان کے معاوضہ میں (ثواب و عذاب کا) امتیاز بھی اللہ کی ایک نعمت ہے (اس لیے نافرمانی سے گریز ضروری ہے) ۔
Ayah 55:37

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا

فاذا انشقت السماء فکانت وردۃ کالدھان . ” غرض جب (قیامت آئے گی اور) آسمان پھٹ جائے گا اور سرخ نری کی طرح سرخ ہوجائے گا فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ : یعنی آسمان پھٹ کر اس میں ملائکہ کے اترنے کے راستے بن جائیں گے۔ فَاِذَا میں فَ بتارہا ہے کہ آگ کے شعلوں کا چھوڑا جانا ‘ آسمان کے شگافتہ ہونے سے پہلے ہوگا لہٰذا آسمان کا یہ شکافتہ ہونا ‘ آسمان کو فنا کرنے کے لیے نہیں ہوگا بلکہ فرشتوں کے نزول کے لیے ہوگا اور ایسا قبروں سے اٹھائے جانے کے بعد ہوگا ‘ جیسا ہم نے حدیث ضحاک میں ذکر کردیا ہے۔ وَرْدَۃً : یعنی سرخ گلاب کی طرح ‘ بعض نے وردۃً کا ترجمہ کیا ہے : سرخ گھوڑا جو کمیت اور اشقر کے درمیان ہوتا ہے۔ (قاموس) بغوی نے لکھا ہے : اسپ ورد ‘ سفید مائل بسرخی یا مائل بزروی ہوتا ہے۔ قتادہ نے کہا : آسمان اب سبز ہے لیکن اس روز اس کا دو دوسرا رنگ ہوگا مائل بسرخی۔ بعض نے کہا : آسمان اس روز گوناگوں رنگ بدلے گا جیسے اسپ و رد موسم بہار میں زرد اور شروع موسم سرما میں سرخ ہوتا ہے اور جب سردی سخت ہوجاتی ہے تو اس کا رنگ خاکستری ہوجاتا ہے۔ آسمان کے گوناگوں رنگ بدلنے کو اسپ ورد کی تبدیلئ لون سے تشبیہ دی۔ بیہقی نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ آسمان رنگا رنگ ہوجائے گا ‘ کبھی اس کا رنگ تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا اور کبھی سرخ جیسے سرخ نری (سرخ چمڑا) ۔ کَالدِّھَان : دہان ‘ دہن کی جمع ہے۔ کالدہان وردۃ کی صفت ہے گویا آسمان نو بنو رنگ بدلنے میں اس ورد گھوڑے کی طرح ہوگا جو اختلاف رنگ و تلون کے لحاظ سے تیل کی طرح ہوتا ہے۔ ضحاک ‘ مجاہد ‘ قتادہ اور ربیع نے یہی تشریح کی ہے۔ عطاء بن ابی رباح نے کالدھان کی تفسیر میں کہا ہے کہ نو بنو رنگینی میں وہ روغن زیتون کی طرح ہوگا جو تھوڑی تھوڑی دیر میں رنگ بدلتا ہے۔ مقاتل نے دھان کا ترجمہ کیا : صاف روغن گُل۔ ابن جرین نے کہا : آسمان روغن زیتون کی طرح ہوجائے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب جہنم کی گرمی اس پر اثر انداز ہوگی۔ کلبی نے دہان کا ترجمہ کیا : سرخ چمڑا۔ دہان کی جمع ادہنۃٌ اور دہنٌ آتی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ کالدہان کانت کی دوسری خبر ہو۔ اس صورت میں معنی اس طرح ہوگا : آسمان کا رنگ سرخ گلاب یا سرخ گھوڑے کی طرح ہوجائے گا اور تیل کی طرح پگھل جائے گا۔ اِذَا کی جزاء محذوف ہے یعنی جب آسمان پھٹ کر سرخ گلاب کی طرح ہوجائے گا تو وہ کیسا ہولناک منظر ہوگا۔
Ayah 55:38

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الاء ربکما تکذبان سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:39

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے

فیومئذ لا یسئل عن ذنبہ انس ولاجان تو اس روز کسی انسان و جن سے اسکے جرم کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا ‘ یعنی یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کام کیا تھا یا نہیں کیا تھا کیونکہ اللہ کو تو اس کا علم پہلے ہی ہوگا اور اعمالناموں والے فرشتے اعمال لکھ ہی چکے ہوں گے اور عذاب کے فرشتے صورت دیکھتے ہی پہچان لیں گے۔ ہاں ! اعمال کی باز پرس ہوگی یعنی یہ پوچھا جائے گا کہ جب تم کو ممانعت کردی گئی تھی تو تم نے ایسا کیوں کیا اور جب کرنے کا حکم دے دیا گیا تھا تو ایسا کیوں نہیں کیا۔ اس وضاحت کے بعد اس آیت میں اور آیت : فَوَرَبِّکَ لَنَسْاَلَنُّھُمْ اَجْمَعِیْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ میں تضاد پیدا نہیں ہوتا۔ مجاہد کی روایت میں حضرت ابن عباس کا یہی تشریحی قول آیا ہے حسن اور قتادہ نے بھی یہی بیان کیا ہے۔ دونوں آیتوں میں اختلاف دور کرنے کے سلسلے میں حضرت ابن عباس کا یہ قول بھی آیا ہے کہ مجرموں کافروں سے سوال رحمت و شفاعت نہیں ہوگا۔ سوال نہ ہونے کا یہی مطلب ہے بلکہ زجر و توبیخ کے طور پر باز پرس ہوگی۔ سوال کیے جانے سے یہی مراد ہے۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قیامت میں مختلف مقامات ہوں گے ‘ کسی مقام پر سوال کیا جائے گا (اس لیے آیت لنسالنھم اجمعین ... صحیح ہے) اور کسی مقام پر سوال نہیں ہوگا (اس لیے آیت : لا یسئل عن ذنبہٖ صحیح ہے) ابو العالیہ نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ مجرم کی باز پرس غیر مجرم سے نہیں ہوگی۔
Ayah 55:40

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فبای الا ربکما تکذبان سو اے جن و انس تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “