Ayahs 55:1–21۔ اور قرآن چونکہ سرتاسر رحمت اور فلاح دنیوی واخروی دونوں کے لئے بہترین ہدایت نامہ اور جامع ترین دستورالعمل ہے اس لئے اس کا نزول اور انسان کو اس کی تعلیم بھی شان رحمانیت کا سب سے بڑا مظہر ہے اور اسی مناسبت سے سورت کی ابتداء اسی کے ذکر سے ہو رہی ہے۔
Ayahs 55:3–42۔ نطق وبیان کی نعمت تکوینی حیثیت سے بہت بڑی نعمت ہے۔ انسانیت کیلئے بھی مایہ شرف اور حیوانیت و انسانیت کے درمیان یہی فارق ہے۔ منطقیوں اور فلسفیوں نے انسان کی تعریف ہی جو حیوان ناطق سے کی ہے وہ سب اسی جانت مشیر ہے۔ (آیت) ” خلق الانسان “۔ انسان کا مقصد تخلیق چونکہ اسلام میں بہترین وبرترین اخروی نعمتوں سے سرفراز ہونا ہے اس لئے انسان کا خلعت وجود سے مشرف ہونا بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ دو لفظی آیت سے اور بھی متعدد تعلیمات نکلتی ہیں :۔
(1) ایک یہ کہ انسان خود بخود وجود میں نہیں آگیا۔ کسی کا پیدا کیا ہوا ہے۔
(2) پیدا کیا ہوا بھی خدائے رحمن کا ہے۔ اس لئے اس کی خلقت سرتاسر رحمت و حکمت ہی کا ثمرہ ہے۔
(3) انسان اپنے خالق ورب سے متحد نہیں۔ اس کا مخلوق ہے۔
Ayah 55:53۔ یہ نمایاں ترین اور روشن ترین اجرام فلکی دن اور رات، ماہ وسال کے وجود میں لانے والے اور فصل وموسم کے تغیرات پیدا کرنے والے، اپنی رفتار میں طلوع و غروب میں گھٹاؤ، بڑھاؤ میں، ہر چیز میں خود ایک باقاعدہ حساب اور پورے ضابطہ کے پابند ہیں اور دیوی دیوتا بننے کی صلاحیت کا شائبہ ہی نہیں رکھتے۔ پرانی تحقیق یہ تھی کہ آفتاب زمین کے گرد گردش کرتا ہے۔ نئی تحقیق یہ ہے کہ آفتاب کسی اور مدار کے گرد گردش کررہا ہے۔ بہر صورت اس کی نفس گردش اور کسی ضابطہ گردش کی پابندی مسلم ہے اور قرآن کی غرض صرف اسی حقیقت پر توجہ دلانا ہے۔
Ayah 55:64۔ (اور اسی کے قوانین تکوینی کے آگے سربسجود) (آیت) ” یسجدن “۔ سجدہ کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ یہاں اصطلاحی سجدہ شرعی نہیں، محض انقیاد تکوینی مراد ہے۔ اے ینقاد ان للہ تعالیٰ ) (مدارک) (آیت) ” والنجم “۔ نجم۔ وہ پودا جس میں تنا نہ ہو۔ مثلا گھاس، ترکاریاں، بیلدار درخت، شرک کا ایک بڑا مظہر دنیا میں شجر پرستی اور نباتات پرستی بھی رہا ہے۔ ؛ آیت اس کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 55:75۔ اور اتنا اونچا کہ انسانی عمارتیں، اور اونچے سے اونچے مینار وگنبد اور اونچے سے اونچے پہاڑ اور ہوئی جہازوں کی پرواز اس میں بآسانی وبفراغت تمام سما جاتے ہیں۔ آسمان بھی کوئی دیوی دیوتا نہیں جیسا کہ ساری قدیم متمدن مشرک قومیں سمجھتی رہی ہیں۔ ) بلکہ اللہ ہی کی دوسری مخلوقات کی طرح ایک مخلوق اور اس کی صنعت گری کا بہترین آئینہ دار ہے اور بس۔
Ayahs 55:8–96۔ (اور اسی طرح معاملت کے ہر شعبہ میں پوری احتیاط برتو) (آیت) ” ووضع المیزان “۔ یعنی زمین میں ایسی کار آمد چیز ایجاد کردی۔ ذرا خیال تو کیجئے کہ آج اگر انسان کے پاس بڑی اور چھوٹی، بھاری اور ہلکی چیزوں کے وزن کرنے کا آلہ موجود نہ ہوتا تو تجارت اور تجارتی منڈیاں درآمد برآمد، خرید وفروخت بیوپار اور ساہوکارہ، تھوک فروشی اور خوردہ فروشی بازار اور اس کی دکانیں، غرض یہ کہ سارا کاروبار اور کاروباری تمدن کا کہیں بھی وجود ہوتا ؟ (آیت) ” المیزان “۔ میزان کے معنی عدل کے بھی کئے گئے ہیں۔ قیل المراد من المیزان العدل ووضعہ شرعہ (کبیر) تجارت اور تجارتی معاملات میں تقوی، دیانت و احتیاط کی اہمیت اسی ایک حکم سے ظاہر ہے۔ عالم کے فلاح و بہبود کا مدار بڑی حد تک اسی حکم کی تعمیل پر ہے۔
Ayah 55:107۔ یعنی خلقت کے نفع و خدمت کے لئے۔ زمین تو خود انسان کے کام میں آنے کیلئے ہے نہ یہ کہ انسان اپنی جہالت سے الٹی اس کی پر ستش شروع کردے، اور دھرتی مائی وغیرہ کسی دیوی کی پوجا کرنے لگے۔
Ayahs 55:11–128۔ (اور یہ سب نعمتیں انسان ہی کے کام میں آنے کے لئے ہیں، مراد ہر قسم کے نباتات، میوہ جات، پھل پھلاری، ترکاریاں وغیرہ ہیں) ۔ قرآن مجید نے ان مادی، حسی، غذائی نعمتوں کو نعمتوں ہی کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ باطل اور مسخ شدہ مذہبوں کے زیر اثر ان نعمتوں کی تحقیر کرنا، یا اپنے کو ان سے مارواء اور مافوق سمجھنا کفران نعمت کی ایک فرد ہے۔ (آیت) ” والحب ذو العصف والریحان “۔ جس طرح غلہ انسان کی غذا ہے، بھوسی بھوسہ گھاس وغیرہ جانوروں کی غذائیں ہیں۔ اور اس طرح بالواسطہ وہ بھی انسان ہی کے کام کی ہیں۔ (آیت) ” الریحان “۔ ریحان کے دوسرے معنی خوشبودار پھول کے بھی ہیں۔ گویا یہ ارشاد ہوا کہ زمین سے ایسی چیزیں بھی نکلتی ہیں۔ جو گو براہ راست غذائیں میں نہیں کام آتیں۔ پھر بھی انسان ان سے خوشبو وغیرہ کا کام لیتا ہے۔
Ayah 55:139۔ (اور نعمتوں کے حقوق کی ادائی یہی ہے کہ منعم کے احکام کی تعلیم کی جائے۔ اور دنیا میں اس کے قانون کے نفاذ میں مدددی جائے) یہ خاص آیت اس سورت میں 31 بار آئی ہے اور ہر بار ایک نئے سیاق میں اور نعمت کے ایک نئے مصداق کے ساتھ اس لئے تکرار صرف صوری ہے معنوی نہیں۔ لیکن بالفرض معنوی بھی ہوتی تو ظاہر ہے کہ جب اہل زبان نے اسے فصاحت زبان اور سلاست بیان میں مخل نہ سمجھا بلکہ اس میں ممدومعاون سمجھا اور اس کا شمار خاص ادبی صنعتوں میں کیا تو عربی ادب کے اس ہنر اور حسن کو اردو یا انگریزی یا ہندی یا چینی یا کسی بھی اور زبان وادب کے معیار سے دیکھنا اور جانچنا جہل صریح نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور پھر اس کی نظیر سے تو نہ دنیا کے ادبی ذخیرے خالی ہیں نہ دنیا کے مذہبی نوشتے۔ دنیا کے ادیبانہ خطبات سے قطع نظر خاص کتاب زبور میں جو مناجات 136 پر 26 ہی بار آئی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ نعمتوں کی جمیع اقسام سے نفع اٹھانا تو خود مطلوب ومقصود ہے اور نہ زہد کے منافی ہے نہ تعلق مع اللہ کے مانع۔ جیسا کہ بعض اہل تقشف نے سمجھ رکھا ہے۔
Ayahs 55:14–1510۔ انسان اور جن کا مخلوق کی دو 2 مختلف نوعین ہونا یہاں جس صراحت سے مذکور ہے اس کے آگے صراحت کا کوئی اور درجہ ہو کیا سکتا ہے۔ حیرت اور اس سے زیاہ افسوس کا مقام ہے کہ ایسی ایسی متعدد قرآنی صراحتوں کے باوجود بعض باطل فرقوں کی کوششیں اب بھی جاری ہیں کہ جس طرح بھی کھینچ تان کر اور لغت اور نصوص قرآنی سے جس طرح بھی کشتی لڑ لڑ کر ممکن ہوجنات کو انسان ہی کی ایک قسم ثابت کردکھائیں ! اسلئے اور محض اس لئے فرنگیوں کو ابھی تک اپنی کسی تحقیق سے جود جنات کا ثبوت نہیں ملا ہے ! اکبرالہ آبادی کیا خوب فرماگئے ہیں :
ع :۔ کیونکر خدا کے عرش کے قائل ہوں یہ عزیز۔ جغرافیہ میں عرش کا نقشہ نہیں ملا !
Ayah 55:1611۔ جن مادی روحانی نعمتوں کا ذکر اس سیاق وسباق میں چل رہا ہے اس سے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جنات بھی ان سے طرح مستفید ہورہے ہیں، جس طرح انسان۔
Ayah 55:1712۔ مشرقین ومغربین۔ کے صیغہ تثنیہ سے مراد چاند اور سورج کے طلوع ہونے والے دو افق اور انہیں دونوں غروب ہونے والے دو افق ہیں۔ اے مشرق الشمس والقمرومغربھما (کبیر)
Ayahs 55:18–2013۔ ماہرین فن کا بیان ہے کہ سطح زمین کے نیچے پانی دو مستقل نظام جاری ہیں۔ ایک سلسلہ آب شور کا ہے جو سمندروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرے دونوں نظام پوری طرح قائم بھی ہیں۔ اور پھر ایک دوسرے سے گڈمڈ اور مدغم نہیں ہونے پاتے۔ ملاحظہ ہوں سورة الفرقان (پ 19) کے حاشیے۔
Ayahs 55:21–2214۔ موتی اور مونگے دونوں کے تجارتی، طبعی، معاشی، معاشری منافع اور ان کے وجود کا نعمت میں سے ہونا بالکل ظاہر ہے۔ قرآن مجید کا ان قیمتی اور بحری موجودات کا محل نعمت میں ذکر کرنا خود اس امر پر ایک دلیل ہے کہ اسلام نہ کوئی خشک وزاہد انہ وراہبانہ اور تمدن بیزار مذہب ہے اور نہ یہ دین صرف صحرائے عرب کے باشندوں کی ضروریات تک کے لیے محدود ہے۔ منھما۔ اس ضمیر تثنیہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ دونوں چیزیں دونوں ہی نظامات آبی میں موجود ہوں۔ دونوں کے صرف مجموعہ میں ان کا موجود ہونا بالکل کافی ہے۔
Ayahs 55:23–2415۔ جہازوں کے بھی تمدنی، معاشری، سیاسی، تجارتی منافع بالکل ظاہر ہیں قرآن مجید نے بحری تجارت کو بارہا سراہا ہے۔ کہیں صراحۃ اور کہیں دلالۃ وتضمنا۔ اور یہاں تو جہازوں سے جو اور کام بھی لئے جاسکتے ہیں، جنگی اغراض، تفریحی اغراض، جغرافی اغراض وغیرہا ان سب کی طرف اشارہ آگیا ہے۔ (آیت) ’ کالاعلام “۔ اس تشبیہ سے یہ بھی صفاف ہوگیا کہ قرآن مجید کے پیش نظر محض معمولی ہلکی کشتیاں، ڈونگی وغیرہ کے قسم کی نہیں، بلکہ بڑے بڑے قد آور بادبانی، دخانی، جنگی جہاز وغیرہ جو بعد کو ایجاد ہوئے۔ یہ سب اس کے پیش نظر تھے۔ قرآن مجید ان ایجادات واختراعات کا مخالف نہیں، صرف ان کے سوء استعمال کا مخالف ہے۔ (آیت) ” لہ “۔ یہ لا کر یہ جتادیا کہ ان ایجادات واختراعات کو کہیں غفلت و خدا فراموشی میں پڑ کر اپنی ذات کی جانب نہ منسوب کرنے لگنا۔ بلکہ خدا اور آخرت کو یاد رکھ کر یہ سمجھتے رہنا کہ یہ سارے کمالات محض توفیق الہی سے مرحمت ہوئے ہیں اور آخرت میں ان سب کے صحیح مصرف کی بابت جواب دینا ہے۔ یہ احساس ذمہ داری رکھنے والی قوم کبھی بھی جابر، قاہر، دوسرے کے حق میں غیرعادل ہوسکتی ہے ؟
Ayahs 55:25–2716۔ یہاں یہ صاف بتادیا کہ زمین پر موجودات جتنی اور جس قسم کی بھی ہے، چاہے وہ مادہ ہو، یا روح۔ سب کی سب فانی اور غیر باقی ہے۔ باقی اور قائم ودائم صرف الحی والقیوم کی ذات پاک ہے۔ (آیت) ” علیھا “۔ ضمیرھا کا (آیت) ’ الارض “۔ کی طرف راجع ہونا بالکل ظاہر اور غیر اختلافی ہے۔ (آیت) ” ذوالجلل والاکرام “۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ صفت جلال میں اشارہ ہے افناء عالم کی طرف اور صفت اکرام ابقاء کی طرف مشیر ہے جس کا تعلق نشاۃ ثانیہ سے ہے۔ امام رازی (رح) نے فرمایا کہ الجلال کے تحت میں تمام صفات سلبی ومنفی حق تعالیٰ کے آگئے۔ اور الاکرام کے ماتحت تمام صفات اثباتی وایجابی۔ (آیت) ” وجہ “۔ وجہ سے مراد ذات ہوتی ہے۔ اور اس پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔ الوجہ یطلق علی الذات (کبیر)
Ayahs 55:28–3017۔ یعنی کائنات میں تصرفات جو ہر لحظہ اور ہر آن جاری رہتے ہیں۔ یہ نتیجہ ہیں تمامتر اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقتی توجہ والتفات کا، یہ ممکن نہیں کہ حق تعالیٰ پر غفلت اور بےالتفاتی ایک آن کے لئے بھی طاری ہو۔ یہیں سے رد نکل آیا ان گمراہ قوموں کا جن کے نزدیک خدا دنیا کو ایک بار پیدا کرکے اب معطل اور اس سے بےتعلق ہوبیٹھا ہے، یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ایک بار کے عمل تخلیق کے بعد اب معطل ہے۔ اسلام کے عقیدہ میں اس خالق اکبر و قادر مطلق کی کن فیکونی قوت کا ظہور ہر آن ہر لمحہ کائنات کی ادنی سی ادنی حرکت و تصرف میں ہوتا رہتا ہے۔ آگ اس لئے نہیں جلاتی اور پانی اس لئے نہیں دھوتا کہ آگ اور پانی میں کوئی فطری خاصیت جلانے اور دھونے کی موجود ہے، بلکہ صرف اس لئے کہ جلانے اور دھونے کے ہر ہر جزئی واقعہ سے متعلق مشیت کا حکم ہی یہی ہوتا رہتا ہے۔ اسلام کا خدا اپنی خلاقی اور فعالی کے تجلیات ہر لحظہ اور ہر آن دکھاتا رہتا ہے۔ (آیت) ” کل یوم “۔ یوم سے مراد یہ متعارف دن رات نہیں بلکہ مطلق وقت اور اس کا ہر حصہ مراد ہے۔ (آیت) ” یسئلہ .... الارض “۔ یعنی ساری کی ساری مخلوقات چاہے وہ آسمانی ہو یا زمینی، اپنی اپنی حاجتیں اور مرادیں اسی حق تعالیٰ سے طلب کرتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” من فی السموت والارض “۔ کے اطلاق میں حضرات انبیاء کے علاوہ جنات، فرشتے سب ہی آگئے۔ مخلوق کوئی سی بھی ایسی نہیں جو اپنے اپنے مرتبہ وجود کے لحاظ سے صاحب حاجت نہ ہو، اور حاجت روا سب کا حق تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 55:3118۔ یعنی عنقریب تمہارا حساب و کتاب شروع کرنے والے۔ (آیت) ” سنفرغ “۔ فراغت یا فارغ ہونے کا لفظ جہاں محاورۂ انسانی کے مطابق محض بطور مجاز و مبالغہ کے استعمال ہوا ہے مراد صرف توجہ تام کر ظاہر ہے جو انسان کو عموما دوسرے کاموں سے فراغت کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے ورنہ ذات باری کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اس کی ایک مشغولی دوسری طرف توجہ سے مانع ہوجائے۔ (آیت) ” سنفرغ “۔ میں س عنقریب کے معنی میں ہے۔ یعنی اس دنیا کے کاروبار کو ہم عنقریب ختم کرکے دوسرا دور جزائے اعمال کا شروع کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” ثقلن “۔ سے مراد جنس جن وانس ہیں۔ الثقلان الانس والجن لانھما فضلا بالتمییز الذی فیھما علی سائر الحیوان (تاج) سمیا ثقلین التفضیل اللہ تعالیٰ ایاھما علی سائر الحیوان المخلوق فی الارض بالتمییز والعقل الذی خصابہ (لسان)
Ayahs 55:32–3319۔ (اور وہ زور تمہیں میسر ہے نہیں) مقصود اس سے وقوع حساب کی تاکید ہے یعنی اس کا احتمال ہی نہیں کہ کوئی بچ کر نکل جائے، اور جب آج بھی اس کا امکان نہیں تو قیامت میں تو مخلوق کا عجز اور زیادہ ظاہر ونمایاں ہوگا۔
Ayahs 55:34–3520۔ مجرموں کا اپنے جرائم کی ناگزیر پاداش سے قبل از وقت مطلع وآگاہ وخبردار ہوجانا بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ تو بہ وکفارہ کا موقع ابھی باقی ہے اور اسی لئے قرآن مجید نے اس اطلاع واعلام کا شمار بھی نعمتوں ہی میں کیا ہے۔
Ayahs 55:36–3721۔ (اور یہ سب قیامت کے دن واقع ہوگا) (آیت) ” کالدھان “۔ دھان کے مختلف معنی منقول ہوئے ہیں۔ یہاں اتباع حضرت عباس ؓ کے قول کا کیا گیا ہے، قال الضحاک عن عباس ؓ الادیم الاحمر (ابن کثیر) قال الکلبی اے کالادیم الاحمر (معالم)
Ayahs 55:38–3922۔ (عالم الغیب کی واقفیت کے لیے کہ اسے خود ہی سب کچھ معلوم ہے) جس سوال کی یہاں نفی ہورہی ہے وہ علم واخبار کی غرض سے ہے۔ باقی جو سوال و حساب دوسروں کو معلوم کرائے یا خود مجرم پر حجت قائم کرے یا اسے عار دلائے یا اس پر کسی اور نوع سے مزید عذاب کے لیے ہو۔ ان میں سے کسی کی نفی یہاں مقصود نہیں۔