Ayahs 55:1–5الرحمٰن۔ علم القرآن۔ سعید بن جبیر اور عامر شعبی نے کہا، الرحمٰن تین سورتوں کا آغاز ہے جب سب کو جمع کیا جائے تو وہ مل کر اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام بن جاتا ہے الر، حم اور ن۔ ان تینوں کا مجموعہ الرحمٰن بنتا ہے۔ علم القرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قرآن کی تعلیم دی یاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے تمام انسانوں تک پہنچایا۔ یہ اس وقت آیات نازل ہوئیں جب انہوں نے یہ کہا : الرحمٰن ؟ رحمٰن کیا ہوتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اہل مکہ کے جواب میں نازل ہوئیں جب انہوں نے یہ ہاک تھا : اسے ایک انسان سکھاتا ہے وہ یمامہ کا رحمان ہے۔ وہ اس سے مسلیمہ کذاب مراد لیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔ زجاج نے کہا، علم القرآن کا معنی ہے قرآن کو یاد کرتا اور اس کو پڑھنا آسان بنا دیا جس طرح فرمایا : ولقد یسرنا القرآن للذکر۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے علامت بنا دیا ہے جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں۔ خلق الانسان۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور حضرت حسن بصری نے کہا، الانسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں (1) علمہ البیان۔ یعنی تمام چیزوں کے نام سکھائے۔ ایک قول یہ کیا گیا : انہیں تمام لغات سکھائیں۔ حضرت ابن عباس اور ابن کیسان سے یہ مروی ہے : یہاں انسان سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں (2) بیان سے مراد حرام سے حلال کی اور گمراہی سے ہدایت کی وضاحت ہے (3) ایک قول یہ کیا گیا : جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہوگا و مراد ہے کیونکہ آپ نے اولین، آرین اور یوم دین کے بارے میں واضح کیا۔ ضحاک نے کہا، بیان سے مراد خیر و شر ہے۔ ربیع بن انس نے کہا، جو اسے نفع دیتی ہے اور جو اسے نقصان دیتی ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے تمام لوگ مراد ہیں، یہ اسم جنس ہے۔ اس تاویل کی صورت میں بیان سے مراد کلام اور فہم ہے یہ ایسا وصف ہے جس کے ساتھ انسان باقی تمام حیوانوں پر فضیلت رکھتا ہے (4) ۔ سدی نے کہا تمام قوموں کو ان کی زبان کی تعلیم دس جس کے ساتھ وہ کلام کرتے ہیں۔ یمان نے کہا، مراد قلم کے ساتھ خط و کتابت ہے، اس کی مثل یہ ارشاد ہے : علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ (العلق) الشمس والقمر بحسبان۔ وہ معلوم حساب سے چلتے ہیں۔ تقدیر کلام یہ ہے الشمس و القمر یجریان بحسبان۔ خبر کو مضمر کیا گیا ہے وہ حد سے تجاوز کرتے ہیں اور نہ ایک طرف جھکتے ہیں۔ ابن زید اور ابن کیسان نے کہا، ان دونوں کی مدد سے اوقات، آجال اور عمروں کا حسبا لگایا جاتا ہے۔ اگر دن، رات، سورج اور چاند نہ ہوتے کوئی یہ نہ جانتا کہ وہ کیسے حساب کرے اگر سارے کا سارا زمانہ رات یا دن ہی ہوتا۔
سدی نے کہا، بحسبان سیم راد ہے ان کی اجل کی تقدیر ہے جس طرح لوگوں کی زندگی کے اوقات مقرر ہیں اسی طرح ان کے اوقات مقرر ہیں جب ان کی اجل آجاتی ہے تو یہ دونوں ہلاک ہوجاتے ہیں، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : کل یجری لا جل مسمی (الرعد : 2) ضحاک نے حسبان کا معنی قصد کیا ہے۔ مجاہد نے کہا، حسبان سیم راد ہے چکی کی میخ وہ گردش کرتے ہیں جس طرح چکی میخ کے گرد گھومتی ہے (5) حسبان بعض اوقات حسبتہ احسبہ کا مصدر ہوتا ہے جس طرح غفران، کذبات اور رجحان ہے اور حسابۃ بھی اس کا مصدر آتا ہے یعنی میں نے اسے شمار کیا۔ اخفش نے کہا، یہ حساب کی جمع ع ہے جس طرح شھاب کی جمع شھبان آتی ہے۔ حسبان جب ضمہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی عذاب اور چھوٹے تیر ہوتے ہیں سورة کہف میں گزرا ہے اس کی واحد حسبانہ ہے۔ حسبانہ کا معنی چھوٹا تکیہ بھی ہوتا ہے اس معنی میں تو کہتا ہے : حسبتہ جب تو اسے تکیہ بنائے کہا :
لشویت غیر محسب
یعنی تکیہ کے بغیر نہ اس میں تکریم تھی اور نہ ہی اس میں کفن دیا گیا تھا۔
Ayah 55:6والنجم والشجر یسجدن۔ حضرت ابن عباس اور دور سے علماء نے کہا، نجم اسے کہتے ہیں جس کا تنا نہ ہوا اور درخت اسے کہتے ہیں جس کا تنا ہو (6) نجم یہ نجم الشی ینجم نجوما سے مشتق ہے جب وہ ظاہر و طلوع ہو۔ اس کے سجود سے مرادان کے سایہ کا سجدہ کرنا ہے (1) یہ ضحاک کا قول ہے۔ فراء نے کہا : دونوں کے سجدہ سے مراد یہ ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے تو یہ سورج کے بالمقبال ہوتے ہیں پھر اس کے ساتھ مائل ہوتے ہیں یہاں تک کہ سایہ چھوٹا ہوجاتا ہے (2) زجاج نے کہا : ان دونوں کے سجود سے مراد ان کے سایہ کا ان کے ساتھ گھومنا ہے (3) جس طرح فرمایا : یتفیوا ظللہ (النحل : 48) حضرت حسن بصری اور مجاہد نے کہا، نجم سے مراد آسمان کا ساترہ ہے اور مجاہد کے قول کے مطباق اس کے سایہ کا گردش کرنا ہے، یہ طبری کا پسندیدہ نقظہ نظر ہے، یہ مہدوی نے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے سجود سے مراد اس کا غروب ہوتا ہے اور درخت کے سجدہ سے مراد اس کیپ ھل کے چنن کا ممکن ہونا ہے، یہ ماوردی نے بیان کیا ہے (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سب اللہ تعالیٰ کے سامنے مسخر ہیں تم ستارے کی پوجا نہ کرو سج طرح صابیوں میں سے ایک قوم نے ستاروں کی پرستش کی اور عجمیوں سے کثیر لوگوں نے درخت کی پوجا کی۔ سجود کا معنی خضوع ہے اس سے مقصود حادث ہونے کے آثار ہیں : قشیری نے اسے بیان کیا ہے۔ نحاس نے کہا، لغت میں سجود کی اصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری ہے۔ تمام جامد چیزوں سے سجود اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے۔ حیوانات سے بھی یہ اسی طرح ہے اس سے مراد نماز کا سجدہ بھی ہو سکتا ہے۔ محمد بن زید بن نجم کو نجوم کے معنی میں لیا ہے۔ قباتت تعذ النحم اس نے رات ستارے گنتے ہوئے گزاری۔
Ayah 55:7والسمآء رفعھا ابوسمال نے السماء پڑھایا مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے (5) اسے اس لئے پسند کیا کیونکہ اس کا عطف اس جملہ پر ہے والنجم والشجر یسجدون۔ معطوف کو مبتدا اور خبر سے مرکب کیا ہے جس طرح معطوف علیہ مبتدا اور خبر سے مرکب ہے باقی قراء نے السمآء کو منصبو پڑھا ہے کیونکہ یہاں فعل مضمر ہے جس کی تفسیر مابعد فعل کرتا ہے۔
ووضع المیزان میزان کا معنی عدل ہے، یہ مجاہد، قتادہ اور سدی سے عبادت ہے یعنی زمین میں اس عدل کو رکھا جس کا حکم دیا یہ جملہ بولا جاتا ہے : وضع اللہ الشریعۃ وضع فلان کذا فلاں نے اسے پھینکا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میزان سے مراد قرآن ہے کیونکہ اس میں اس چیز کا بیان ہے جس کے وہ محتاج ہیں، یہ حضرت حسین بن فضل کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری، ضحاک اور قتادہ نے کہا، اس سے مراد ترازو ہے (6) جس کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس کے ساتھ نصف نصف کریں۔ یہ جملہ خبریہ ہے امر کے معنی میں ہے یعنی عدل کا حکم دیا، اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان دلالت کرتا ہے : واقیمو الوزن بالقسط۔ قسط کا معنی عدل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی حکم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آخرت میں میزان رکھنے کا ارادہ کیا تاکہ اعمال کا وزن کیا جائے۔ میزان کی اصل موزان ہے اس بارے میں گفتگو سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
Ayah 55:8الا تطغوا فی المیزان۔ ان کا محل نصب ہو سکتا ہے اس صورت میں کہ حرف جار حذف ہے گویا فرمایا : لئلا تطغوا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یبین اللہ لکم ان تضلوا (النسائ : 176) یہ بھی جائز ہے کہ ان کا اعراب میں کوئی محل نہ ہو بلکہ یہ ای کے معنی میں ہو اس تقدیر کی بنا پر تطغوا مجزوم ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وانطلق الملا منھم ان امشوا اس : 6) طغیان کا معنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔ جس نے کہا، میزان کا معنی عدل کرنا ہے (1) تو اس نے کہا طغیان کا معنی ظلم ہے۔ جس نے کہا، میزان سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے۔ اس نے کہا، طغیان کا معنی کم کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، جس کے لئے تم وزن کرو اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ ان سے یہ بھی مروی ہے جس نے کہا، اس کا یہی حکم ہے اس نے کہا، اس کے طغیان سے مراد تحریف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس میں اضمار ہے یعنی اس نے میزان اتارا تمہیں حکم دیا کہ تم اس میں سرکشی نہ کرو۔
Ayah 55:9واقیموالوزن بالقسط یعنی عدل کے ساتھ اسے سیدھا رکھو۔ حضرت ابو درداء نے کہا، ترازو کی ڈنڈی انصاف کے ساتھ سیدھا رکھو۔ ابن عینیہ نخ کہا : اقامت کا تعلق ہاتھ سے اور قسط کا تعلق دل سے ہے۔ مجاہد نے کہا، قسط رومی زبان میں عدل کو کہتے ہیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : یہ تیرے اس قول کی طرح ہے اقام الصلوۃ یعنی اسے اپنے وقت میں ادا کیا۔ اقام الناس سواقھم وہ بازار میں اس کے وقت میں آئے۔ یعنی تم وزن میں عدل کے ساتھ جو باہم معاملہ کرتے ہو اسے ترک نہ کرو۔
ولا تخسروالمیزان۔ میزان میں کمی نہ کرو، کیل اور وزن میں کمی نہ کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے ولا تقصوا المکیال والمیزان (ہود : 84) قتادہ نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ابن آدم کے ساتھ عدل کرو جس طرح تو پسند کرتا ہے کہ تیرے ساتھ عدل کیا جائے اور پورا پورا حق دو جس طرح تو پسند کرتا ہے کہ تجھے پورا پورا حق دیا جائے، چونکہ عدل میں یہی لوگوں کا بھلا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے قیامت کے روز اپنی نیکیو کے میزان میں کمی نہ کرو کہ یہ چیز تمہارے لئے حسرت بن جائے۔ آیات کے سروں کی رعیات کرتے ہوئے میزان کا لفظ مکرر ذکر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے تکرار وزن کو پورا کرنے اور عدل کی رعایت کے امر کے لئے ہے۔ عام قرأت تخسروا ہے۔ بلال بن ابی بردہ اور ابان عثمان نے تخسر وا قرأت کی ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اخسرت المیزان و خسرتہ۔ یہ اجبرتہ و جبرتہ کی طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تخسرواتاء اور سین کے فتحہ کے ساتھ ہے حرف جر کے حذف پر محمول ہے۔ معنی ولا تخسروا فی المیزان میزان میں کمی نہ کرو۔
Ayah 55:10والارض وضعھا للانام۔ انام سے مراد لوگ ہیں (2) یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ حضتر حسن بصری نے کہا، جن اور انسان مراد ہیں (3) ضحاک نے کہا : روئے زمین پر جو چیز چلتی ہے۔ یہ عام ہے
Ayah 55:11فیھافاکھۃ مختلف آئے پھلوں سے انسان جو لطف اندوز ہوتا ہے۔ والنخل ذات الاکمام۔ اکمام، کم کی جمع ہے۔ جو ہری نے کہا : کمہ اور کمامہ کا معنی گا بھے گا غلاف اور کلی کا پردہ اس کی جمع کمام، اکمہ، اکمامہ اور اکامیم آتی ہے کم الفصیل جب اس پر شفقت کی گئی اسے ڈھانپا گیا یہاں تک کہ وہ طاقتور ہوگیا، عجاج نے کہا :
بل لو شھدت الناس اذ تکموا بغمۃ لو لم تفرج غموا
تکموا یعنی ان پر غشی طاری ہوگئی اور انہیں ڈھانپ لیا گیا۔ اکمت النخلۃ یعنی اس نے گابھے کے پردے نکالے۔ کمام اور کمامہ کا معنی یہ بھی ہے جس کے ساتھ اونٹ کا منہ باندھا جاتا ہے تاکہ وہ کسی کو نہ کاٹے۔ اس معنی میں تو کہتا ہے بعیر مکموم۔ کمت الشی میں نے اسے شے کو ڈھانپ لیا انکم جو کسی چیز کو چھپا لے اور اسے ڈھانپ لے، اسی معنی میں کہ القمیص ہے اس کی جمع اکمام اور کممہ ہے جس طرح حب کی جمع حببہ ہے کمۃ کا معین گول ٹوپی ہے کیونکہ وہ س کو ڈھانپ لیتی ہے : شاعر نے کہا ،
فقلت لھم کیلو بکمۃ بعضکم دراھمکم انی کذلک اکیل
میں نے انہیں کہا : تم اپنے میں سے کسی کی ٹوپی کے ساتھ اپنے دراہم کا کیل کرلو میں اسی طرح کیل کیا کرتا ہوں۔
حضرت حسن بصری نے کا ہ : ذات الاکمام کا معنی ہے چھال والا کیونکہ کھجوروں کو چھال سے چھپایا جاتا ہے : کمامھا سے مراد اس کی وہ چھال ہے جو اس کی گردن میں ہوتی ہے۔ ابن زید نے کہا، وہ گابھے والا ہے قبل اس کے کہ وہ اوپر سے چھٹ جائے۔ عکرمہ نے کہا : وہ احمال والا ہے۔
Ayah 55:12والحب ذوالعصف والریحان۔ حب سے مراد گندم، جو وغیرہ ہیں۔ عصف کا معین بھوسہ ہے۔ حضرت حسن بصری وغیرہ سے مروی ہے مجاہد نے کہا، درخت اور کھیتی کا پتہ ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، کھیتی کا تنکا اور پتہ جسے ہوائیں اڑاتی رہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا، کھیتی میں سے جو سب سے پہلے اگتا ہے۔ یہ فراء کا قول ہے۔ عرب کہتے ہیں، خرجنا العصف الزرع پکنے سے پہلے جب اسے کاٹ لیں۔ صحاح میں اسی طرح ہے عمفت الزرع جب تو اس کو پکنے سے پہلے کاٹ لے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ عصف سے مراد سبز کھیتی کا پتہ ہے جب اس کا سرا کاٹ دیا جائے اور وہ خشک ہوجائے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : فجعلھم کعصف ماکول۔ (الفیل) جوہری نے کہا : قد اعصف الزرع، مکان معصف ایسا مکان جو زیادہ کھیتی والا ہو۔ ابو قیس بن اسلت انصاری نے کہا :
اذا جمادی منعت قطرھا زان جنابی عطن معصف
جب جمادی نے اپنی باشر کو روک لیا تو کثیر کھیتی والے باڑے نے میرے صحن کو مزین کیا۔
عصف کا معین کمائی بھی ہے، اسی معنی میں راجز کا قول ہے۔
بغیر ما عصف ولا اصطراف غبریم حنت اور کسب معاش کے۔
اسی طرح الاعتصاف ہے عصیفہ سے مراد مجتمع پتے ہیں جن میں بالیہ۔ ہر وی نے کہا : عصف اور عصیفہ سے مراد بالی کا پتہ ہے۔ ثعلبی نے کہا، ابن کسیت نے کہا عرب کھیتی کے پتہ کو عصف اور عصیفہ کہتے ہیں جل جیم کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ صحاح میں ہے جل کھیتی کا تنا جب اسے کاٹ جائے۔ ریحان سے مراد رزق ہے، یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے۔ ضحاک نے کہا : یہ حمیر کی لغت ہے۔ حضرت ابن عباس، ضحاک اور قتادہ نے کہا، مراد وہ ریحان ہے جسے سونگھا جاتا ہے، یہ ابن زید کا قول ہے (1)
حضرت ابن سے یہ بھی مروی ہے : اس سے مراد کھیتی کی سبزی ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا، مراد وہ کھیتی ہے جو تنے پر کھڑی ہو۔ فراء نے کہا، عصف سے مراد کھیتی میں سے جسے کھایا گیا ہو (2) ریحان اسے کہتے ہیں جسے نہ کھایا جائے۔ کلبی نے کہا، عصف اس پتے کو کہتے ہیں جس کو کھایا نہیں جاتا (3) ریحان نے اس دانے کو کہتے ہیں جس کو کھایا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : ایسی سبزی جس کی خوشبو اچھی ہو اسے ریحان کہتے ہیں کیونکہ انسان اس کی اچھی خوشبو سونگھتا ہے۔ یہ فعلان کا وزن ہے روحان رائحہ سے ماخوذ ہے کلمہ میں یاء کا اصل وائو تھا اس کے اور روحانی کے درمیان فرق کرنے کے لئے وائو کو یاء سے بدل دیا۔ روحانی ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کی روح ہو۔ ابن اعربای نے کہا، یہ کہا جاتا ہے شیء روحانی و ریحانی یعنی اس کی روح ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ فعیلان کے وزن پر ہو اس کی اصل ریوحان ہے وائو کو یاء سے بدل دیا اور پھر ادغام کیا جس طرح ھین اور لین پھر طوالت اور الف نون زائدہ کے لاحق ہونے کی وجہ سے تخفیف کو لازم کردیا گیا۔ حوراء وائو اور حاء سے مرکب وہ اس میں اصل جھومنا اور حرکت کرنا ہے۔ صحاح میں ہے : ریحان سے مراد معروف جڑی بوٹی ہے۔ ریحان سے مراد، رزق ہے تو کہتا ہے خرجت ابتغی ریحان میں اللہ تعالیٰ کا رزق تلاش کرنے کے لئے نکلا۔ نمربن تولب نے کہا :
سلام الا لہ و ریحانہ اللہ تعالیٰ کا سلام اور اس کا رزق (4)
حدیث میں ہے : الولدمن ریحان اللہ (5) اولاد اللہ تعالیٰ کا رزق ہے اور لوگوں کا یہ قول سبحان اللہ ویرحانہ دونوں کو مفعول مطلق کے طریقہ پر نصب دی ہے۔ وہ یہ قول کر کے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا چاہتے ہیں اور اس سے رزق کے طالب ہوتے ہیں، جہاں تک اللہ تعالیٰ کے فرمان : والحب ذوالعصف ولاریحان۔ کا تعلق ہے تو عصف سے مراد کھیتی کا تنا اور ریحان سے مراد اس کا پتہ ہے، یہ فراء سے مروی ہے۔ عام قرأت والحب ذوالعصف ولاریحان۔ دونوں پر رفع ہے کیونکہ ان کا عطف الفاکھۃ پر ہے۔ ابن عامر، ابوحیوہ اور مغیرہ نے الارض پر عطف کرتے ہوئے انہیں منصوب پڑھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فعل مضمر ہے تقدیر کلام یہ ہے خلق الحب ذا العصف والریحان اس صورت میں ذات الاکمام پر عطف کرنا اچھا ہے۔ حمزہ اور کسائی نے الریحان کو جردی ہے اس کا عطف العصف پر ہے، قدیر کلام یہ ہوگی الحب ذو العصف و الریحان جس نے ریحان کو رزق بنایا ہے یہ اس پر ممتنع نہیں، گویا یوں کہا : والحب ذوالرزق۔ رزق اس حیثیت میں کہ عصف رزق ہے کیونکہ عصف بہائم کا رز ہے اور ریحان لوگوں کا رزق ہے (6) جس نے یہ کہا کہ یہ ریحانا مشموم ہے اس کے قول میں کوئی شبہ نہیں۔
Ayah 55:13فبای الآء ربکما تکذبن۔ یہ جن وانس کو خطاب ہے کیونکہ انام کا لفظ دونوں پر صادق آتا ہے (7) یہ جمہور کا قول ہے۔ اس پر حضرت جابر کی حدیث دلالت کرتی ہے جس کا ذکر سورت کے آغاز میں وہا ہے، اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے اس میں ہے للجن احسن منکم ردا (1) جنوں نے تم سے بہتر جواب دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جب فرمایا خلق الانسان اور فرمایا : خلق الجآن اس چیز نے اس امر پر دلالت کی کہ جس کا ذکر پہلے ہوا یا بعد میں ہوا اس پر یہ دال ہے نیز یہ بھی فرمایا : سفرء لکم ایہ الثقین یہ خطبا انسانوں اور جنوں کو ہے اس صورت میں فرمایا، یمعشر الجن والانس۔ جرجانی نے جنوں کو انسان کے ساتھ خطاب کیا اگرچہ جنوں کا پہلے ذکر نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حتی توارت بالحجاب۔ (ص) جنوں کا ذکر وہاں ہوچکا تھا جو پہلے نازل ہوا قرآن ایک سورت کی طرح ہے جب یہ ثابت ہے کہ وہ انسانوں کی طرح مکلف ہیں تو ان آیات میں دونوں جنسوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خطاب صرف انسانوں کو ہے جس طرح عربوں کی عادت ہے کہ ایک کو خطاب تثنیہ کے لفظ کے ساتھ کرتے ہیں جس طرح القیافی جھنم (ق : 24) میں گفتگو گزر چکی ہے اسی طرح قفانیک اور خلیلی مزابی میں گزر چکا ہے، جاں تک خلق الانسان۔ اور خلق الجآن کے بعد جو خطاب ہے وہ انسان اور جنوں دونوں کو ہے۔ صحیح جمہور کا قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : والارض وضعھا للانام، آلاء سے مراد نعمتیں ہیں (2) یہ تمام مفسرین کا قول ہے اس کا واحد الی اور الی ہے جس طرح معنی اور عصا ہے الی اور الی اس میں چار لغتیں ہیں جن کا ذکر نحاس نے کیا ہے کہا، اناء اللیل کے واحد میں تین لغتیں ہیں ان میں سے الف مفتوح اور لام ساکن والی لغت ساقط ہے۔ سورة الاعراف اور سورة النجم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
ابن زید نے کہا اس سیم راد قدرت ہے تقدیر کلام یہ ہے فبای قدرۃ ربکما تکذبان یہ کلبی کا قول ہے۔ امام ترمذی محمد بن علی نے اسے ہی اختیار کیا ہے کہا، یہ سورت قرآن کی سورتوں کا جھنڈا ہے جھنڈا لشکر کا امام وہتا ہے اور لشکر اس کی پیروی کرتا ہے : یہ علم (جھنڈا) بنا کیونکہ یہ ملک وقدرت کی صفت ہے فرمایا : الرحمٰن۔ علم القرآن۔ سورت کا آغاز دوسرے اسماء کی بجائے رحمٰن کے اسم سے کیا تاکہ بندوں کو علم ہوجائے کہ اس کے بعد تمام وہ چیزیں جن کے ساتھ صفت بیان کی ہے وہ اس کے افعال، اس کے ملک اور اس کی قدرت میں سے ہے اللہ تعالیٰ کی رحمانیت میں سے رحمت عظمیٰ ان کی طرف نلکی ہے۔ فرمایا : الرحمٰن۔ علم القرآن۔ پھر انسان کا ذکر کیا فرمایا : خلق الانسان۔ پھر ان چیزوں کا ذکر کیا جو انسان پر احسانات کئے پھر سورج و چاند کے احسان اور اشیاء یعنی نجم و شجر کے سجود کا ذکر کیا پھر آسمان کے بلند کرنے اور میزان یعنی عدل قائم کرنے اور زمین کو انام کے لئے بچھانے کا ذکر کیا، پھر جن و انس کو خطاب کیا جب انہوں نے ان چیزوں کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کی وجہ سیق درت و ملک میں سے ظاہر ہوئیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کسی منفعت اور حاجت کے بغیر کیں، تو لوگوں نے اس کے ساتھ بتوں کو شریک کرلیا اور ہر معبود کو اس کے سوا اپنا معبود بنا لیا اور اس رحمت کا انکار کردیا جس کے ساتھ یہ اشیاء ان کی طرف نکلیں۔ سوال کرتے ہوئے انہیں فرمایا : فبای الآء ربکما تکذبن یعنی تم اپنے رب کی کس قدرت کا انکار کرتے ہ ؟ ان کی تکذیب یہ تھی کہ وہ چیزیں جو اس کے ملک اور قدرت سے ظاہر ہوئی تھیں ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ انہوں نے شریک ٹھہرا لیا جو اس کے ساتھ مالک ہے اور اس کے ساتھ قادر ہے یہی ان کی تکیذب ہے۔ پھر یہ ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صلصال سے پیدا کیا۔ پھر یہ ذکر کیا کہ جنوں کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا۔ پھر ان سے پوچھا تو فرمایا : فبای الآء ربکما تکذبن یعنی تم اپنے رب کی کس قدرت کا انکار کرتے ہو کیونکہ ہر مخلوق میں اس کی قدرت کے بعد قدرت شامل ہے۔ ان ایٓات میں تکرار تاکید کے لئے اور وضاحت میں مبالغہ کے لئے ہے اور ان کے خلاف دلیل قائم کرنے کے لئے ہے کہ ایک مخلوق کے بعد دوسری مخلوق کو پیدا کیا۔ قتبی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس صورت میں اپنی نعمتوں کا شمار کیا اپنی مخلوق کو پانی نعمتیں یاد دلائیں۔ پھر اس کے پیچھے ہر اس کجی کا ذکر کیا جس سے وہ متصف تھا اور ہر اس نعمت کا ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے باوجود اس پر کی اور یہ دو نعمتوں کے درمیان اسے فاصلہ کے طور پر رکھا تاکہ انہیں نعمتوں پر متنبہ کرے اور انہیں وہ نعمتیں یاد دلائے جس طرح تو اس آدمی کو کہتا ہے جس پر تو لگاتارا احسان کرتا ہے جب کہ وہ اللہ کی ناشکری کرتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے۔ کیا تو فقیر نہیں تھا تو میں نے تجھے غنی کردیا۔ کیا تو اس کا انکار کرتا ہے ؟ کیا تو گمنام نہ تھا تو میں نے تجھے عزت دار بنا دیا کیا تو اس کا انکار کرسکتا ہے اس قسم کی صورت حال میں تکرار اچھا ہے، جس طرح کہا ،
کم نعمۃ کا نت لکم کم کم وکم
تمہارے لئے کتنی ہی نعمتیں ہیں۔
اسی طرح کہا ،
لاتقتلی مسلما ان کنت مسلمۃ ایان من دمہ ایاک ایاک
اگر تو مسلمان عورت ہے تو کسی مسلمان کو قتل نہ کر اس کے خون سے بچ۔
ایک اور شاعر نے کہا۔
ولا تملن من زیارتہ زرہ وزرہ وزر وزر وزر
اپنے دوست کی ملاقات سے نہ اکتا تو اس کی ملاقات کر۔
Ayah 55:14خلق الانسان جب اللہ تعالیٰ نے عالم کبیر کی تخلیق یعنی آسمان، زمین اور ان کے درمیان اس کی وحدانیت اور اس کی قدرت پر موجود دلائل کا ذکر کیا تو عالم صغیر کی تخلیق کا ذکر کیا فرمایا : خلق الانسان علماء تاویل کا اتفاق ہے کہ الانسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔
من صلصال کالفخار۔ صلصال سے مراد خشک مٹی ہے جس کی کھنک سنائی دیتی ہے۔ اس کو فخار کے ساتھ تشبیہ دی جسے پکایا گیا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ایسی مٹی ہے جس میں ریت کی آمیزش ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد بدبو دار ٹمی ہے (1) یہ صل اللحکم واصل سے مشتق ہے جب وہ بدبو دار ہو۔ سورة حجر میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ یہاں کہا، من صلصال کالفخار۔ ایک اور جگہ فرمایا : من صلصال من حما مستنون۔ (الحجر) ایک اور جگہ فرمایا : انا خلقنھم من طین لازب۔ (الصافات) فرمایا : کمثل ادم خلقہ من تراب (آل عمران : 59) سب کا معنی ایک ہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین سے مٹی لی اسے گوندھا تو وہ طین بن گئی پھر وہ منتقلہ وئی تو وہ حمامسنون کی طرح ہوگئی پھر متنقل ہوئی تو وہ فخار کی طرح صلصال ہوگئی۔
Ayahs 55:15–16وخلق الجآن من مارج من نار۔ حضرت حسن بصری نے کہا، جان سے مراد ابلیس ہے یہ جنوں کا باپ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الجآن جن کا واحد مارج سے مراد خالص شعلہ ہے۔ حضتر ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ کے جنوں کو خالص جان سے پیدا کیا۔ لیث نے کہا :: مارج سے مراج ایسا شعلہ ہے جو پھیلنے والا ہو جو شدید لپک والا ہو۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے (2) : اس سے مراد وہ شعلہ ہے جو آگ پر بلند ہوتا ہے اور اس کا بعض بعض سے مل جاتا ہے یعنی کوئی سرخ کوئی زرد اور کوئی سبز ہوتا ہے۔ اس کی مثل مبرد کا قول ہے مبرد نے کا، مارج سے مراد ایسی آگ ہے روکی نہ جاسکے۔ ابو عبیدہ اور حسن بصری نے کہا، مارچ سے مراد خلط ملط آگ ہے۔ اس کی اصل مرج ہے جب وہ مضطرب ہوا اور خلط ملط ہو۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو آگوں کو پیدا کیا ان میں سے ایک کو دوسری کیساتھ ملا دیا تو ان میں سے ایک دوسری کو کھائی گئی وہ نار سموم تھی، اس سے بالیس کو پیدا کیا۔ قشیری نے کہا، لغت میں مارچ سے مراد ہے جسے چھوڑ دیاگ یا ہو یا جو خلط ملط ہوگیا ہو۔ یہ اسم فاعل کا صیغہ ہے جو اسم مفعلو کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : مآء دافقف۔ (الطارق) عیشۃ راضیۃ۔ (الحاقہ) معنی ہے مرج والی۔ جوہری نے صحاح میں کہا : ماھرج من نار یعنی ایسی آگ جس میں دھواں نہ ہو اس سے جنوں کو پیدا کیا گیا ہے۔ قبای الآء ربکما تکذبن۔
Ayahs 55:17–18رب المشرقین و رب المغربین۔ تقدیر کلام یوں ہے ھو رب المشرقین سورة صافات میں ہے رب المشارق۔ اس کے بارے میں وہاں گفتگو گزر چکی ہے۔
Ayahs 55:19–21مرج البحرین یلتقین۔ بینھا برزخ لایبغین۔ مرج کا معنی چھوڑ دینا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : مرج السطان النسا جب بادشاہ نے لوگوں کو مہمل چھوڑ دیا۔ مرج کا اصل معنی مہمل چھوڑنا ہے جس طرح جانوروں کو چراگاہ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے : مرج یعنی خلط ملط کردیا۔ اخفش نے کہا، ایک قومی کہتی ہے امرج البحیرن یہ مرج کی طرح ہے فعل اور افعل ایک معنی میں ہے۔ البحرین حضرت ابن عباس نے کہا : آسمان کا سمندر اور زمین کا سمندر (1) ، یہ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے۔ یلتقین وہ ہر سال میں ملتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں کے کنارے ملتے ہیں (2) حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : فارس اور روم کا سمندر (3) ابن جریج نے کہا : مراد نمکین سمندر اور میٹھے دریا (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مشرق و مغرب کے سمندر جن کے کنارے ملتے ہیں (5) ایک قول یہ کیا گیا ہے لو لو اور مرجان کا سمندر (6) بینھا برزخ دونوں کے درمیان آڑے۔ پہلے قول کے مطابق جو زمین و آسمان کے درمیان ہے، یہ ضحاک کا قول ہے۔ دوسرے قول کے مطابق وہ زمین ہے جو دونوں کے درمیان وے وہ حجاز ہے، یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے۔ ان دونوں کے علاوہ جو اقوال ہیں ان میں حاجز سے مراد قدرت الٰہیہ ہے جس طرح سورة فرقان میں گزرا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے نبی کریم ﷺ کا اشراد مروی ہے : اللہ تعالیٰ نے مغربی کنارہ سے کلام فرمایا فرمایا : میں تجھ میں ایسے بندے بنانے والا ہوں جو تسبیح کریں گے، تکبیر کہیں گے، لا الہ الا اللہ کہیں گے اور میری حمد کریں گے تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا ؟ اس نے عرض کی : اے میرے رب ! میں انہیں غرق کر دوں گا۔ فرمایا : میں انہیں اپنے ہاتھ میں اٹھا لوں گا اور تیری قوت کو تیری اطراف میں رھ دوں گا۔ پھر شمرقی کنارہ سے گفتگو کی۔ فرمایا، میں تجھ میں اپنے ایسے بندے پیدا کرنے والا ہوں جو میری تسبیح کریں گے، میری کبریائی بیان کریں گے، لا الہ الا اللہ پڑھیں گے، میری بزرگی بیان کریں گے تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا ؟
عرض کی : میں ان کے ساتھ تیری تسبیح بیان کروں گا جب وہ تیری تسبیح بیان کریں گے، میں تیری کبریائی بیان کروں گا جب وہ تیری کبریائی بیان کریں گے، جب وہ تیری الوہیت بیان کریں گے تو میں تیری الوہیت بیان کروں گا، میں ان کے ساتھ تیری بزرگی بیان کروں گا جب وہ تیری بزرگی بیان کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زیور عطا فرمایا اور دونوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کردی۔ ان میں سے ایک سخت کھاری ہوگیا اور دوسرا اپنی اصل حالت پر میٹھا رہا۔ “ ترمذی حکیم ابو عبداللہ نے اس خبر کا ذکر کیا۔ کہا : صالح بن عبدلالہ نے قاسم عمری سے وہ سہیل سے وہ اپنے باپ سے وہ حضتر ابوہریرہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ لایبغین قتادہ نے کہا، وہ لوگوں پر بغاوت نہیں کرتے کہ انہیں غرق کردیں (7) ان دونوں اور لوگوں کے درمیان اس نے خشکی بنا دی ہے۔ ان سے اور مجاہد سے یہ مروی ہے ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر بغاوت نہیں کرتا کہ اس پر غالب آجائے۔ ابن زید نے کہا کہ لایبغین کا معنی ہے وہ بغاوت نہیں کرتے کہ ایک دوسرے کو ملیں (8) تقدیر کلام یہ ہے مرج البحرین یلتقیان اگر ان کے درمیان رکاوٹ نہ بھی ہوتی تو وہ ملاقات کرنے کے لئے بغاوت نہ کرتے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : دنیا اور آخرت میں جو آڑ ہے یعنی ان کے درمیان ایک موت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہے۔ یہ دنیا کی موت ہے وہ ایک دوسرے پر بغاوت نہیں کریں گے۔ جب اللہ تعالیٰ دنیا کے ختم ہونے کا اذن دے گا تو دونوں سمندر ایک ہوجائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : واذا البحار فجرت۔ (الانفطار) سہل بن عبداللہ نے کہا : وہ سمندروں سے مراد خیر اور شرکا راستہ ہے، برزخ سے مراد توفیق اور عصتم ہے (1)
Ayahs 55:22–23یخرج منھما اللولو والمرجان۔ یعنی متہارے لئے پانی سے لو لو اور مرجان نکالتا ہے جس طرح مٹی سے دانا، بھوسہ اور ریحان نکالتا ہے۔ نافع اور ابو عمرو نے یخرج یاء کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے (2) یعنی مجہول کا صیغہ پڑھا ہے باقی قرئا نے یخرج یعنی یاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ لو لو اس کا فاعل ہوگا۔ منھما کے بارے میں کہا، وہ نمکین سے نکالتا ہے میٹھے سمندر سے نہیں نکالتا، کیونکہ عرب دو جنسوں کو جمع کرتے ہیں پھر ان میں سے ایک کے بارے میں خبر دیتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یا معشر الجن والانس الم یاتکل رسل منکم (الزمر : 41) رسل انسانوں میں سے ہوتے ہیں جنوں میں سے نہیں ہوتے، یہ کلبی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ زجاج نے کہا، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ذکر کیا جب ان دونوں میں سے کوئی چیز نکلتی ہے تو گویا وہ دونوں سے نکلتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : الم تروا کیف خلق اللہ سبع سموت طباقاً ۔ وجعل القمر فیھن نوراً (نوح) چاند آسمان دنیا میں ہے لیکن سات آسمانوں کا ذکر اجمالا کیا گویا ان میں سے کسی ایک میں ہے تو سب میں ہے۔ ابو علی فاسری نے کہا، یہ مضاف کے حذف کے باب سے تعلق رکھتا ہے تقدیر کلام یہ ہے من احدھمہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، علی رجل میں القریتین عظیم۔ (الزخرف) یہ اصل میں من احدی القریتین تھا۔ اخفش سعید نے کہا، ایک قوم کا گمان ہے کہ وہ لو لو میٹھے سمندر سے نکلتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دونوں سمندر ہیں ان دونوں میں سے ایک سے لو لو اور دوسرے سے مر جان نکلتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : یہ دونوں آسمان اور زمین کے سمندر ہیں جب آسمان کا پانی سمندر کی سیپی میں گرتا ہے تو موٹی بنتا ہے پس وہ دونوں سے نکلنے اولا ہوا (3) یہ طبری نے کہا : ثعلی نے کہا، میرے سامنے ذکر کیا گیا ہے ایک گٹھلی سیپی کے پیٹ میں ہوتی ہے بارش کا قطرہ اس گٹھلی کے بعض تک پہنچتا ہے اورب عض تک نہیں پہنچتا، قطرہ گٹھلی کے جس حصہ تک پہنچتا ہے وہ موتی ہوتا ہے اور باقی ماندہ گٹھلی ہی رہتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میٹھا اور نمکین بعض اوقات مل جاتے ہیں تو میٹھا نمکین کو ثمر بار کرنے کا سبب بن جاتا ہے تو موتقی کو ان دونوں کی طرف منسوب کیا جس طرح بچے کو مذکر و مونث کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اگرچہ مونث نے اسے جنا ہوتا ہے، اس وجہ سے یہ قول کیا جاتا ہے کہ متوی نہیں نکلتا مگر ایسی جگہ سے جہاں میٹھا اور نمکین پانی ملتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مر جان سے مراد بڑے موتی ہیں، یہ حضرت علی اور حضرت ابن عباس کا قول ہے اور لو لو چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں : ان دونوں سے اس کے برعکس بھی مروی ہے یعنی کہ لو لو بڑے موتیوں کو اور مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے
ہے۔ اس پر حضرت جابر کی حدیث دلالت کرتی ہے جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ہے : اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے اس میں 1 جنوں نے تم سے بہتر جواب دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جب فرمایا اور فرمایا اس چیز نے اس امر پر دلالت کی کہ جس کا ذکر پہلے ہوا یا بعد میں ہوا اس پر یہ دال ہے نیز یہ بھی فرمایا۔ یہ خطاب انسانوں او جنوں کو ہے اس صورت میں فرمایا : جرجانی نے جنوں کو انسان کے ساتھ خطاب کیا اگرچہ جنوں کا پہلے ذکر نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ص) جنوں کا ذکر وہاں ہوچکا تھا جو پہلے نازل ہوا قرآن ایک سورت کی طرح ہے جب یہ ثابت ہے کہ وہ انسانوں کی طرح مکلف ہیں تو ان آیات میں دونوں جنسوں کو خطاب کیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے خطاب صرف انسانوں ہے جس طرح عربوں کی عادت ہے کہ ایک کو خطاب تنثیہ کے لفظ کے ساتھ کرتے ہیں جس طرح (ق 24) میں گفتگو گزر چکی ہے اسی طرح میں گزر چکا ہے جہاں تک اور جان کے بعد جو خطا بہے وہ انسانوں اور جنوں دونوں ہے صحیح جمہور کا قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے سے مراد نعمتیں ہیں (2) یہ تمام مفسرین کا قول ہے اس کا واحد ہے جس طرح معنی اور عصا ہے اس میں چار لغتیں ہیں جن ذکر نحاس نے کیا ہے کہا اناء اللیل کے واحد میں تین لغتیں ہیں ان میں الف مفتوح اور لام ساکن والی لغت ساقط ہے سورة الاعراف اور سورة النجم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
ابن زید نے کہا اس سے مراد قدرت ہے تقدیر کلام یہ ہے یہ کلبی کا قول ہے امام ترمذی محمد بن علی نے اسے ہی اختیار کیا ہے کہا یہ سورت قرآن کی سورتوں کا جھنڈا ہے جھنڈا لشکر کا امام ہوتا ہے اور لشکر اس کی پیروی کرتا ہے یہ علم (جھنڈا) بنا کیونکہ یہ ملک وقدرت کی صفت ہے فرمایا : سورت کا آغاز دوسرے اسماء کی بجائے رحمن کے اسم سے کیا تاکہ بندوں کو علم ہو جائے کہ اس کے بعد تمام وہ چیزیں جن کے ساتھ صفت بیان کی ہے وہ اس کے افعال اس کے ملک اور اس کی قدرت میں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمانیت میں سے رحمت عظمی ان کی طرف نکلی ہے۔ فرمایا : پھر انسان کا ذکر کیا فرمایا : پھر ان چیزوں کا ذکر کیا جو انسان پر احسانات کئے پھر سورج و چاند کے احسان اور اشیاء یعنی نجم شجر کے سجود کا ذکر کیا پھر آسمان کے بلند کرنے اور میزان یعنی عدل قائم کرنے اور زمین کو انام کے لئے بچھانے کا ذکر کیا پھر جن و انس کو خطاب کیا جب انہوں نے ان چیزوں کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے قدرت و ملک میں سے ظاہر ہوئیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کسی منفعفت اور حاجت کے بغیر کیں تو لوگوں نے اس کے ساتھ بتوں کو شریک کرلیا اور ہر معبود کو اس کے سوا اپنا معبود بنا لیا اور اس رحمت کا انکار کردیا جس کے ساتھ یہ اشیاء ان کی طرف نکلیں سوال کرتے ہوئے انہیں فرمایا : یعنی تم اپنے رب کی کس قدرت کا انکار کرتے ہو ؟ ان کی تکذیب یہ تھی کہ وہ چیزیں جو اس کے ملک اور قدرت سے ظاہر ہوئی تھیں ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ انہوں نے شریک ٹھہرا لیا جو اس کے ساتھ مالک ہے اور اس کے ساتھ قادر ہے یہی ان کی تکذیب ہے پھر یہ ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صلصال سے پیدا کیا پھر یہ ذکر کیا کہ جنوں کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا پھر ان سے پوچھا تو فرمایا : یعنی تم اپنے رب کی کس قدرت کا انکار کرتے ہو کیونکہ ہر مخلوق میں اس کی قدرت کے بعد قدرت شامل ہے ان آیات میں تکرار تاکید کے لئے اور وضاحت میں مبالغہ کے لئے ہے اور ان کے خلاف دلیل قائم کرنے کے لئے ہے کہ ایک مخلوق کے بعد دوسری مخلوق کو پیدا کیا قتبی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس صورت میں اپنی نعمتوں کا شمار کیا اپنی مخلوق کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں پھر اس کے پیھے ہر اس کجی کا ذکر کیا جس سے وہ متصف تھا اور ہر اس نعمت کا ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے باوجود اس پر کی اور یہ دو نعمتوں کے درمیان اسے فاصلہ کے طور پر رکھا تاکہ انہیں نعمتوں پر متنبہ کرے اور انہیں وہ نعمتیں یاد دلائے جس طرح تو اس آدمی کو کہتا ہے جس پر تو لگاتار احسان کرتا ہے جب کہ وہ اللہ کی ناشکری کرتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے کیا تو فقیر نہیں تھا تو میں نے تجھے غنی کردیا کیا تو اس کا انکار کرتا ہے کیا تو گمنام نہ تھا تو میں نے تجھے عزت دار بنا دیا کیا تو اس کا انکار کرسکتا ہے اس قسم کی صورتحال میں تکرار اچھا ہے : جس طرح کہا
تمہارے لئے کتنی ہی نعمتیں ہیں
اسی طرح کہا
اگر تو مسلمان عورت ہے تو کسی مسلمان کو قتل نہ کر اس کے خون سے بچ
ایک اور شاعر نے کہا :
اپنے دوست کی ملاقات سے نہ اکتا تو اس کی ملاقات کر
” پیدا فرمایا انسان کو بجنے والی مٹی سے ٹھکیری کی مانند اور پیدا کیا جان کو آگ کے خالص شعلے سے۔ پس (اے جن و انس) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے، وہی دونوں مشرقوں کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب ہے پس (اے جن و انس) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ “
جب اللہ تعالیٰ نے عالم کبیر کی تخلیق یعنی آسمان زمین اور ان کے درمیان اس کی واحدنیت اور اس کی قدرت پر موجود دلائل کا ذکر کیا تو عالم صغیر کی تخلیق کا ذکر کیا فرمایا : تاویل کا اتفاق ہے کہ الانسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔
صلصال سے مراد خشک مٹی ہے جس کی کھٹک سنائی دیتی ہے۔ اس کو فخار کے ساتھ تشبیہ دی جسے پکایا گیا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ایس یمٹی ہے جس میں ریت کی آمیزش ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد بدبودار مٹی ہے (1) یہ مشتق ہے اور جب وہ بدبودار ہو سورة حجر میں یہ بحث گز چکی ہے۔ یہاں کہا : ایک اور جگہ فرمایا (الحجر) ایک اور جگہ فرمایا ( الصافات) فرمایا (آل عمران) سب کا معنی ایک ہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین سے مٹی لی اسے گوندھا تو وہ طین بن گئی پھر وہ منتقل ہوئی تو وہ حمامسنون کی طرح ہوگئی پھر منتقل ہوئی تو وہ فخار کی طرح صلصال ہوگئی۔
حضرت حسن بصری نے کہا : جان سے مراد ابلیس ہے یہ جنوں کا باپ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے الجان جن کا واحد ہے مارج سے مراد خالص شعلہ ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اللہ تعالیٰ نے جنوں کو خاصل جان سے پیدا کیا لیث نے کہا مارج سے مراد ایسا شعلہ ہے جو پھیلنے والا ہو جو شدید لپک والا ہو حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے اس سے مراد وہ شعلہ ہے جو آگ پر بلند ہوتا ہے اور اس کا بعض بعض سے مل جاتا ہے یعنی کوئی سرخ کوئی زرد اور کوئی سبز ہوتا ہے اس کی مثل مبرو کا قول ہے مبرو نے کہا : مارج سے مراد ایسی آگ ہے جو روکی نہ جاسکی ابو عبیدہ اور حسن بصرہ نے کہا مارج سے مراد، خلط ملط آگ ہے۔ اس کی اصل مرج ہے جب وہ مضطرب ہو اور خلط ملط ہو روایت بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو آگوں کو پیدا کیا ان میں سے ایک کو دوسری کے ساتھ ملا دیا تو ان میں سے ایک دوسری کو کھا گئی وہ نارسموم تھی اس سے ابلیس کو پیدا کیا قشیری نے کہا : لغت میں مارج سے مراد ہے جسے چھوڑ دیا گیا ہو یا جو خلط ملط ہوگیا ہو۔ یہ اسم فاعل کا صیغہ ہے جو اسم معفول کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الطارق) (الحاقہ) معنی ہے مرج والی۔ جوہری نے صحاح میں کہا : مارج من نار یعنی ایسی آگ جس میں دھواں نہ ہوا اس سے جنوں کو پیدا کیا گیا ہے۔
تقدیر کلام یوں ہے سورة صافات میں ہے
اس کے بارے میں وہاں گفتگو گزر چکی ہے۔
” اس نے رواں کیا ہے دونوں دریائوں کو جو آپس میں مل رہے ہیں ان کے درمیان آڑ ہے آپس میں گڈ مڈ نہیں ہوتے۔ پس (اے جن و انس) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ نکلے ہیں ان سے موتی اور مرجان پس (اے جن و انس) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ “
مرج کا معنی چھوڑ دینا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ جب بادشاہ نے لوگوں کو مہمل چھوڑ دیا۔ مرج کا اصل معنی مہمل چھوڑنا ہے جس طرح جانوروں کو چراگاہ میں چھوڑ دیا جاتا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے مرج یعنی خلط ملط کردیا۔ اخفش نے کہا : ایک قوم کہتی ہے یہ مرج کی طرح ہے فعل اور افعل ایک معنی میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آسمان کا سمندر اور زمین کا سمندر (1) یہ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے وہ ہر سال میں ملتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے دونوں کے کنارے ملتے ہیں (2) حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : فارس اور روم کا سمندر (3) ابن جریج نے کہا : مراد نمکین سمندر اور میٹھے دریا (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے مشرق و مغرب کے سمندر جن کے کنارے ملتے ہیں۔ (5) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے لولو اور مرجان کا سمندر (6) دونوں کے درمیان آڑ ہے پہلے قول کے مطابق جو زمین و آسمان کے درمیان ہے یہ ضحاک کا قول ہے دوسرے قول کے مطابق وہ زمین ہے جو دونوں کے دریمان ہے جو وہ حجاز ہے یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے ان دونوں کے علاوہ جو اقوال ہیں ان میں حاجز سے مراد قدرت الہیہ ہے جس طرح سورة فرقان میں گزرا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ کا ارشاد مروی ہے : ” اللہ تعالیٰ نے مغربی کنارہ سے کلام فرمایا : میں تجھ میں ایسے بندے والا ہوں جو تسبیح کریں گے، تکبیر کہیں لا الہ الا اللہ کہیں گے اور میری حمد کریں گے تو میں ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا ؟ اس نے عرض کی : اے میرے رب : میں انہیں غرق کردوں گا۔ فرمایا : میں انہیں اپنے ہاتھ میں اٹھا لوں گا اور تیری قوت کو تیری اطراف میں رکھ دوں گا۔ پھر مشرقی کنارہ سے گفتگو کی۔ فرمایا : میں تجھ میں اپنے ایسے بندے پیدا کرنے والا ہوں جو میری تسبیح کریں گے میری کبریائی بیان کریں گے پڑھیں گے میری بزرگی بیان کریں گے تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔
عرض کی : میں ان کے ساتھ تیری تسبیح بیان کروں گا جب وہ تیری تسبیح بیان کریں گے میں تیری کبریائی بیان کروں گا جب وہ تیری کبیریائی بیان کریں گے جب وہ تیری الوہیت بیان کریں گے تو میں تیری الوہیت بیان کروں گا میں ان کے ساتھ تیری بزرگی بیان کروں گا جب وہ تیری بزرگی بیان کریں گے اللہ تعالیٰ نے اسے زیور عطا فرمایا اور دونوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کردی۔ ان میں سے ایک سخت کھاری ہوگیا اور دوسرا اپنی اصلی حالت پر میٹھا رہا “۔ ترمذی حکیم ابو عبداللہ نے اس خبر کا ذکر کیا : کہا : صالح بن عبداللہ نے قاسم عمری سے وہ سہیل سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ قتادہ نے کہا : وہ لوگوں پر بغاوت نہیں کرتے کہ انہیں غرق کردیں۔ (7) ان دونوں اور لوگوں کے درمیان اس نے خشکی بنا دی ہے ان سے اور مجاہد سے یہ مروی ہے ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر بغاوت نہیں کرتا کہ اس غالب آجائے۔ ابن زید نے کہا کہ کا معنی ہے وہ بغاوت نہیں کرتے کہ ایک دوسرے کو ملیں (8) تقدیر کلام یہ ہے اگر ان کے درمیان رکاوٹ نہ بھی ہوتی تو وہ ملاقات کرنے کے لئے بغاوت نہ کرتے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : دنیا اور آخرت میں جو آڑ ہے یعنی ان کے درمیان ایک موت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہے : یہ دنیا کی موت ہے وہ ایک دوسرے پر بغاوت نہیں کریں گے جب اللہ تعالیٰ دنیا کے ختم ہونے کا اذن دے گا تو دونوں سمندر ایک ہوجائیں گے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : (الانفطار) سہل بن عبداللہ نے کہا : دو سمندروں سے مراد خیر اور شر کا راستہ ہے، برزخ سے مراد توفیق اور عصمت ہے (1) ۔
یعنی تمہارے لئے پانی سے لولو اور مرجان نکلتا ہے جس طرح مٹی سے دانا، بھوسہ، اور ریحان نکلتا ہے۔ نافع اور ابو عمرو نے یخرج یاء کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (2) یعنی مجہول کا صیغہ پڑھا ہے باقی قراء نے یخرج یعنی یاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ لولو اس کا فاعل ہوگا۔ کے بارے میں کہا : وہ نمکین سے نکالتا ہے میٹھے سمندر سے نہیں نکالتا، کیونکہ عرب دو جنسوں کو جمع کرتے ہیں پھر ان میں سے ایک کے بارے میں خبر دیتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الزمر 41) رسل انسانوں میں سے ہوتے ہیں جنوں میں سے نہیں ہوتے یہ کلبی اور دوسرے علماء کا قول ہے : زجاج نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ذکر کیا جب ان دونوں میں سے کوئی چیز نکلتی ہے تو گویا وہ دونوں سے نکلتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے۔ (نوح) چاند آسمان دنیا میں ہے لیکن سات آسمانوں کا ذکر اجمالا کیا گویا ان میں سے کسی ایک میں ہے تو سب میں ہے ابو علی فارسی نے کہا : یہ مضاف کے حذف کے باب سے تعلق رکھتا ہے تقدیر کلام یہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الزخرف) یہ اصل میں تھا۔ اخفش سعید نے کہا : ایک قوم کا گمان ہے کہ وہ لو لو میٹھے سمندر سے نکلتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ دونوں سمندر ہیں ان دونوں میں سے ایک سے لول لو اور دوسرے سے مرجان نکلتا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ دونوں آسمان اور زمین کے سمندر ہیں جب آسمان کا پانی سمندر کی سیپی میں گرتا ہے تو موتی بنتا ہے پس وہ دونوں سے نکلنے والا ہا (3) یہ طبری نے کہا : ثعلبی نے کہا : میرے سامنے ذکر کیا گیا ہے ایک گٹھلی سیپی کے پیٹ میں ہوتی ہے بارش کا قطرہ اس گٹھلی کے بعض تک پہنچتا ہے اور بعض تک نہیں پہنچتا قطرہ گٹھلی کے جس حصہ تک پہنچتا ہے وہ موتی ہوتا ہے اور باقی ماندہ گٹھلی ہی رہتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، میٹھا اور نمکین بعض اوقات مل جاتے ہیں تو میٹھا نمکین کو ثمر بار کرنے کا سبب بن جاتا ہے تو موتی کو ان دونوں کی طرف منسوب کیا جس طرح بچے کو مذکر و مونث کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اگرچہ مونس نے اسے جنا ہوتا ہے اس وجہ سے یہ قول کیا جاتا ہے کہ موتی نہیں نکلتا مگر ایسی جگہ سے جہاں میٹھا اور نمکین پانے ملتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : مرجان سے مراد بڑے موتی ہیں۔ یہ حضرت علی اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے اور لو لو چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں ان دونوں سے اس کے برعکس بھی مروی ہے یعنی کہ لولو بڑے موتیوں کو اور مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔ یہ ضحاک اور قتادہ کا نقطہ نظر ہے، حضرت ابن مسعود اور ابو مالک نے کہا : مرجان سرخ گھونگا ہے۔
Ayahs 55:24–25جوار سے مراد کشتیاں ہیں۔ عام قرأت المنشات ہے یعنی شین پر زبر ہے۔ قتادہ نے کہا : ایسی مخلوق جو چلنے کے لئے ہو (2) یہ انشا سے ماخوذ ہے مجاہد نے کہا : اس سے مراد ایسی کشتیاں ہیں جن کے بادبان اٹھا دیئے گئے ہوں جب ان کے بادبان نہ اٹھائے جائیں تو وہ منشات نہیں اخفش نے کہا : اس سے مراد چلنے والی ہیں (3) ۔
حدیث میں میں ہے : حضرت علی شیر خدا ؓ نے ایسی کشتیوں کو دیکھا جن کے بادبان اٹھا دیئے گئے تھے (4) فرمایا : ان کشتیوں کے رب کی قسم : نہ میں نے حضرت عثمان کو قتل کیا اور نہ میں ان کے قتل میں مد د کی۔
حمزہ، ابوبکر نے عاصم سے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے (5) المنشات یعنی شین کے کسرہ کے ساتھ ہے مراد املنشات السیر ہے فعل کی نسبت جو اس طرف کی گئی ہے وہ بطور مجاز ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے جس کے بادبان اٹھا دیئے گئے ہوں جس نے شین کو فتحہ دیا اس نے کہا : مراد الم۔ پہاڑوں کی مانند، علم سے مراد طویل پہاڑ ہے۔ کہا انہوں نے جب تک ایک طویل پہاڑ طے کیا تو دوسرا پہاڑ ظاہر ہوگیا۔ سمندر میں کشتیاں اس طرح ہیں جس طرح خشکی میں پہاڑ ہوتے ہیں۔ سورة شوریٰ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے یعقوب نے الجواری وقف میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے یاء کو حذف کیا ہے۔
Ayahs 55:26–28کل من علیھا فان۔ علیھا میں ضمیر الارض کے لئے ہے سورت کے آغاز میں اس کا ذکر ہوا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الرحمن) ایک جملہ یہ بولا جاتا ہے : میں ضمیر سے مراد زمین لیتے ہیں اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہ ہوا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی فرشتوں نے کہا : اہل زمین ہلاک ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (القصص 88) ملائکہ کو ہلاکت کا یقین ہوگیا یہ مقاتل کا قول ہے : مخلوق کے فنا ہونے میں نعمت یہ ہے کہ موت میں سب کو سبرابر کردیا اور موت کے ساتھ تمام قدم برابر ہوجاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے نعمت کی صورت یہ ہے کہ موت دار جزا اور ثواب کی طرف منتقل ہونے کا سبب ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ باقی رہے گا وجہ سے مراد اس کا وجود اور اس کی ذات ہے شاعر نے کہا
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر موتوں کا فیصلہ کردیا تو اس کے سوا ہر شے فانی ہے۔
یہ وہ تعبیر ہے جسے ہمارے محقق علماء یعنی ابن فورک، ابو معالی اور دوسروں نے اختیار کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وجہ سے مراد اس کی ذات ہے جس طرح فرمایا : (الرحمن)
ابو معالی نے کہا : وجہ سے مراد ہمارے آئمہ کے نزدیک وجود باری تعالیٰ ہے ہمارے مشائخ نے اسے ہی پسند کیا ہے اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے (البقرہ 115) میں گزر چکی ہے ہم نے اسے کتاب الاسنی میں مفصل ذکر کردیا ہے قشیری نے کہا : ایک قوم کا نقطہ نظر ہے یہ ذات پر زائد صفت ہے جس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔ اللہ تعالیٰ جسے اکرام سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے اس پر توجہ اسی صفت سے حاصل ہوتی ہے صحیح یہ ہے کہ وجہ سے مراد اس کا وجود اور اس کی ذات ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا ظہور اس کے ادلہ کے ساتھ باقی رہے گا جس طرح انسان کا ظہور اس کے چہرے کے ذریعے ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ جہت باقی رہے گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے گا جلال سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی کبریائی ہے اور صفات مدح کا مستحق ہوتا ہے یہ کہا جاتا ہے یعنی چیز عظیم ہوگئی جلللتہ میں نے اس کی عظمت کو بیان کیا ہے اجلال یہ جل کا اسم ہے (وہ اس کا اہل ہے کہ اس کی ان چیزوں سے عظمت بیان کی جائے جو اس کے مناسب نہ ہو جیسے شرک جس طرح تو کہتا ہے اس معنی میں اکرا الابنیاء و الا اولیاء کا لفظ ہے۔ ہم نے ان دونوں اسماء کے بارے میں کتاب الاسنی میں مفصل بحث کی ہے۔
حضرت انس نے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کے … کے ساتھ دعا کو لازم پکڑو (1) ۔ یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے معنی ہے دعا میں اسے لازم پکڑوں ابو عبید نے کہا : الفاظ کا معنی شے کو لازم پکڑنا ہے اور اس پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے الفاظ کا معنی اصرار کرنا ہے سعید بن مقبری سے مروی ہے ایک آدمی نے اصرار کیا وہ کہنے لگا نور سے ندا کی گئی ہے میں نے سن لیا تیری کیا حاجت ہے ؟
Ayahs 55:29–32یسئلہ من فی السماوات۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آسمانوں میں جو ہے وہ رحمت کا سوال کرتا ہے اور زمین میں جو کوئی ہے وہ رزق کا سوال کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابو صالح نے کہا : اہل آسمان مغفرت کا سوال کرتے ہیں وہ رزق کا سوال نہیں کرتے اور اہل زمین دونوں چیزوں کا سوال کرتے ہیں ابن جریج نے کہا : ملائیکہ اہل زمین کے لئے رزق کا سوال کرتے ہیں۔ دونوں سوال اہل زمین کے لئے ہیں وہ سوال آسمان والوں کی جانب سے ہو یا اہل زمین کی جانب سے ہو۔ حدیث میں ہے ” فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس کے چار چہرے ہیں ایک چہرہ انسان کے چہرہ کی طرح ہے وہ اللہ تعالیٰ سے انسانوں کے لئے رزق کا سوال کرتا ہے، ایک چہرہ شیر کے چہرے جیسا ہے وہ درندوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے رزق کا سوال کرتا ہے ایک چہرہ بیل کے چہرے جیسا ہے جو چوپائوں کے لئے رزق کا سوال کرتا ہے اور ایک چہرہ گدھ کے چہرے جیسا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے پرندوں کے لئے رزق کا سوال کرتا ہے۔ “ ابن عطا نے کہا : انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عبادت پر قوت کا سوال کیا : یہ نئی کلام ہے یا سوال کی ظرف کے طور پر منصوب ہے پھر نئی کلام کی
حضرت ابو درداء ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ سے مراد ہے اس کی یہ شان ہے کہ وہ گناہ بخش دیتا ہے تکلیفوں کو دور کرتا ہے ایک قوم کو عزت سے نوازتا ہے اور دوسرے کو پست کرتا ہے “ (1) حضرت ابن عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : کا معنی یہ نقل کیا ہے ” وہ گناہ بخش دیتا ہے اور وہ مصیبت کو دور کردیتا ہے اور دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہے۔ “ (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی شان یہ ہے کہ وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے، وہ عزت دیتا ہے، اور ذلت دیتا ہے وہ رزق دیتا ہے اور رزق روک لیتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے دنیا و آخرت میں اس کی شان کا ارادہ کیا، ابن بحر نے کہا : تمام زمانہ دو دن ہیں ان دونوں میں سے ایک دنیا کے ایام کی مدت ہے اور دوسرا یوم قیامت ہے (3) دنیا کے دنوں میں اس کی شان (اس کا عمل) یہ ہے آزمانا امرونہی کے ساتھ امتحان لینا۔ زندہ کرنا، موت دینا، عطا کرنا اور روک لیا قیامت کے دن اس کا یہ کام ہوگا جزا دینا، حساب کرنا، ثواب دینا اور عذاب دینا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد دنیا کے دنوں میں سے ہر دن اپنے عمل کے بارے میں خبر دینا۔ یہ تو ظاہر ہے۔ لغت میں شان سے مراد عظیم کام ہے اس کی جمع شنون ہے یہاں شان سے مراد جمع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (غافر 67) کلبی نے کہا : اس کا عمل یہ ہے مقادیر کو ان کے اوقات کی طرف لے جاتا ہے۔ عمرو بن میمون نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں فرمایا : اس کا عمل یہ ہے وہ زندہ کو موت دیتا ہے، رحموں میں جو چاہتا ہے اسے قرار دیتا ہے، ذلیل کو عزت دیتا ہے او عزیز کو ذلت دیتا ہے ایک امیر نے وزیر سے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں سوال کیا تو وہ اس کا معنی نہیں پہچانتا تھا وزیر نے کل تک مہلت مانگی پریشان ہو کمر گھر کی طرف چلا گیا اس کے حبشی غلام نے پوچھا : کیا معاملہ ہے : وزیر نے اسے بتایا غلام نے اسے کہا : امیر کے پاس واپس جائیے میں اس کے سامنے اس کی وضاحت کروں گا۔ بادشاہ نے اسے بلا لیا عرض کی : اے امیر : اس کا عمل یہ ہے وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے بیمار کو شفا دیتا ہے اور صحت مند کو مریض کردیتا ہے آسودہ کو آزماتا ہے اور مصیبت زادہ کو عافیت عطا کرتا ہے، ذلیل کو عزت دیتا ہے اور عزتز کو ذلت دیتا ہے، غنی کو فقیر کرتا ہے اور فقیر کو غنی کرتا ہے۔ امیر نے اس سے کہا : تو نے میری تکلیف کو رفع کیا اللہ تعالیٰ تیری تکلیف کو رفع فرمائے پھر امیر نے وزیر کی خلعت اتارنے کا حکم دیا اور غلام کو پہنا دی۔ اس نے عرض کی : اے میرے آقا : یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔
حضرت عبداللہ بن طاہر سے مروی ہے اس نے حسین بن فضل کو بلایا اسے کہا : تین آیات ایسی ہیں جنہوں نے مجھے پریشان کردیا ہے میں نے تجھے بلایا ہے تاکہ تو میرے لئے ان کی وضاحت کر دے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (المائدہ) یہ بات ثابت ہے کہ ندم توبہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الرحمن 29) یہ صحیح ہے کہ قلم اس بارے میں خشک ہوچکا ہے جو قیامت تک ہونا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (النجم) یہ کئی گنا کا کیا مفہوم ہے ؟ حسن بن فضل نے جواب دیا یہ جائز ہے کہ اس امت میں شرمندگی توبہ نہ ہو اور اس امت میں شرمندگی توبہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ایسے خصائص کے ساتھ خاص کیا ہے جن میں دوسری امتیں شریک نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قابیل کا شرمندہ ہونا ہابیل کے قتل پر نہ تھا بلکہ اس کے اٹھانے پر شرمندہ ہوا تھا۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے وہ ایسے امور ہیں جن کو وہ ظاہر فرماتا ہے وہ ایسے امور نہیں جن کا وہ آغاز کرتا ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے۔ اس کا معنی ہے عدل کے اعتبار سے تو اس کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرے اور میری یہ شان ہے کہ میں ایک کے بدلہ میں بطور فضل ہزار دوں عبداللہ اٹھا اور اس کے سر کو چوما اور اس کے لئے خراج میں سے وظیفہ جائز قرار دیا۔