Ayahs 55:1–2رحمٰن نے قرآن کی تعلیم دی، انسان کو بیان سکھایا، چاندوسورج، آسمان و زمین اسی کی مخلوق ہیں، اس نے انصاف کا حکم دیا غذائیں پیدا فرمائیں، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
یہاں سے سورة الرحمٰن شروع ہو رہی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیاوی اور اخروی نعمتیں اور مظاہر قدرت اور وعیدیں بیان فرمائی ہیں اس میں اکتیس بار ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ آیا ہے اس آیت کے تکرار سے ایک بہت بڑا لفظی اور معنوی حسن پیدا ہوگیا ہے۔
فضائل قرآن :
مذکورہ بالا آیات میں چند نعمتوں کا تذکرہ فرمایا جو ایمانی، روحانی اور جسمانی غذاؤں پر مشتمل ہے۔
اول تو یہ فرمایا کہ رحمن جل مجدہ نے قرآن سکھایا۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جو مومنین کو عطا فرمائی، پھر اس کے الفاظ بھی سکھائے اور معانی بھی بتائے اس کی فصاحت و بلاغت بھی سمجھائی اس کا سمجھنا اور حفظ کرنا بھی آسان فرمایا، یہ زمین پر رہنے والے عاجز بندے جن کے اندر خون ہی خون بھرا ہوا ہے انہیں یہ شرف عطا فرمایا، کہ اللہ کا کلام ان کے دلوں میں محفوظ ہے اور زبانوں پر جاری رہتا ہے، اس کے الفاظ اور کلمات اور معانی کے بیان کے سلسلے میں سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور الحمدللہ یہ سلسلہ برابر جاری ہے، قرآن اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور اپنے بندوں کو سکھایا پھر اس کے سکھانے کا شرف بھی عطا فرمایا رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حفظ قرآن کی نعمت دی پھر اس نے کسی دوسری نعمت کی وجہ سے کسی کے بارے میں یہ سمجھا کہ اس کو جو نعمت دی گئی ہے وہ اس نعمت سے افضل ہے جو مجھے دی گئی تو اس نے سب سے بڑی نعمت کی ناقدری کی۔ (السراج المنیر شرح الجامع الصغیر صفحہ 270: ج 4)
حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( خیر کم من تعلم القران وعلمہ) کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے (رواہ البخاری صفحہ 752: ج 2) اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( اشراف امتی حملة القران واصحاب اللیل) یعنی میری امت میں سب سے زیادہ شریف وہ ہیں جو قرآن کے حاملین ہیں اور راتوں کو بیدار رہنے والے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 110)
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام بھی ہے یہ مسلمانوں کی کتنی بڑی سعادت ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ان کی زبانوں پر جاری ہے چھوٹے چھوٹے بچے بےتکلف روانی کے ساتھ پڑھتے ہیں متشابہات تک یاد ہیں جنہیں قرآن مجید حفظ یاد ہے، سوتے میں بھی تلاوت کرتے چلے جاتے ہیں تقرنہ نائما ویقظان
(رواہ مسلم کمافی المشکوٰۃ صفحہ 460)
جس دل میں قرآن نہیں ہے وہ بہت بڑا محروم ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( ان الذی لیس فی جو فہ شیء من القران کالبیت الخرب) (بلاشبہ جس دل میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ )
(رواہ الترمذی والد ارمی وقال الترمذی حدیث صحیح کمافی مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 186: ج 1)
Ayahs 55:3–4بیان کرنے کی نعمت
﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ003 عَلَّمَهُ الْبَيَانَ 004﴾ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا اسے بڑی بڑی نعمتیں عطا فرمائیں انہی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ ا سے علم دیا، بولنے کی صفت سے نوازا، بات کرنے کا طریقہ بتایا، بیان کرنے کی صفت عطا فرمائی، اظہار مافی الضمیر پر قدرت دی، فصاحت اور بلاغت سکھائی اسالیب کلام کا القاء فرمایا قرآن کریم کے الفاظ اور معانی اور احکام و مسائل بیان کرنے اور دوسروں کو اس کے مفاہیم بتانے اور قرآن مجید کے علاوہ بھی ایک دوسرے سے بولنے اور بات کرنے اور لکھنے اور سمجھانے پر قدرت عطا فرمائی۔ پھر ایک ہی زبان نہیں اسے بہت سی زبانیں سکھائیں اور طرق ادا بتائے، ایک زبان کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنے کی قوت بخشی فسبحانہ ما اعظم شانہ
Ayah 55:5چاند و سورج ایک حساب سے چلتے ہیں :
﴿ اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪005﴾ (چاند اور سورج کے لیے جو رفتاروں کے مدار مقرر فرما دیئے ہیں انہیں کے مطابق چلتے ہیں) اپنی رفتار میں آزاد نہیں ہیں، جیسے چاہیں چلیں جدھر کو چاہیں چلیں اور جب چاہیں چلیں اور جب چاہیں رک جائیں۔ یہ ان کے اختیار سے باہر ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا : ﴿وَ الشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا 1ؕ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِؕ0038 وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ 0039 لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ 1ؕ وَ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ 0040﴾ (اور آفتاب اپنے ٹھکانہ کی طرف چلتا رہتا ہے یہ اندازہ باندھا ہوا ہے اس کا جو زبردست علم والا ہے اور چاند کے لیے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور دونوں ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں) ۔
Ayah 55:6نجم اور شجرہ سجدہ کرتے ہیں :
﴿ وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ 006﴾ (اور بےتنا والا یعنی بیلدار درخت اور تنا والا درخت (جو کھڑا رہتا ہے) یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم کے فرمانبردار ہیں جس طرح سجدہ کرنے والا اپنے خالق کے لیے خوشی سے سجدہ کرتا ہے اس طرح یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار ہیں، انقیاد اور فرمانبرداری کو سجدہ کرنے سے تعبیر فرمایا۔ كدو، تربوز، خربوزہ کی بیل کو النجم فرمایا اور دوسرے چھوٹے بڑے درخت جو اپنی ساق یعنی پنڈلی پر کھڑے ہوتے ہیں (جن میں موٹے درخت بھی ہوتے ہیں اور پتلے بھی) ان سب کو شجر سے تعبیر فرمایا صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن جبیر ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔
Ayah 55:7آسمان کی رفعت اور بلندی :
﴿وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا ﴾ (اور اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بلند فرمایا) شمس وقمر کے بعد آسمان کی بلندی کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ آسمان کی جو بلندی ہے یہ اسے اس کے خالق جل مجدہ نے عطا فرمائی ہے، جب آسمان کی بلندی اس کے خالق تعالیٰ شانہ کی دی ہوئی ہے تو دوسرے مخلوق کے بارے میں سمجھ لینا چاہیے کہ جس کسی کو جو کسی قسم کی رفعت ملی ہے یا مل سکتی ہے وہ خالق تعالیٰ شانہ ہی کیطرف سے ہے اور ہوسکتی ہے۔
Ayahs 55:8–13انصاف کے ساتھ وزن کرنے کا حکم :
﴿ وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَۙ007﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو کو رکھ دیا ﴿ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ 008﴾ (تاکہ تولنے میں سرکشی یعنی نافرمانی نہ کرو) عدل پر قائم رہو ایسا نہ کرو کہ دوسروں سے اپنے حق میں زیادہ تلواؤ اور دوسروں کے لیے تولو تو ڈنڈی ماردو اور گھٹا کر تولو جیسا کہ سورة التطفیف کے شروع میں تولنے والوں کی زیادتی کا طریقہ بیان فرمایا ہے، سورة الانعام اور سورة بنی اسرائیل میں بھی حکم ہے (کہ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ قائم کرو)
﴿وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ0010﴾ (اور زمین کو رکھ دیا لوگوں کے نفع کے لیے) زمین کو اللہ تعالیٰ نے بچھونا بنا دیا اسے نرم بنا دیا تاکہ اسے کھودسکیں، حوض و تالاب بنا سکیں، اس پر عمارتیں کھڑی کرسکیں، مردے دفن کرسکیں، درخت لگا سکیں، کھیتی بوسکیں، ریلیں چلائیں، گھوڑے دوڑائیں، بیچاری بےزبان ہے کچھ بھی انکار نہیں کرتی، اس لیے سورة الملک میں اسے ذلولاً بتایا ہے، اس کے علاوہ بھی زمین سے بنی آدم کے بہت سے فوائد اور منافع وابستہ ہیں، اس کو لفظ للانام میں ظاہر فرمایا، اس کے بعد بعض فوائد کا خصوصی تذکرہ فرمایا ﴿ فِيْهَا فَاكِهَةٌ1۪ۙ﴾ (الآیتیں) اس میں میوے ہیں اور کھجوریں ہیں۔
اکمام، كم کی جمع ہے پھلوں پر جو غلاف ہوتا ہے اسے کم کہا جاتا ہے اس سے ایک تو پھل کی حفاظت رہتی ہے دوسرے خود یہ غلاف بھی کام آتے ہیں، ﴿وَ الْحَبُّ ذو الْعَصْفِ ﴾ اور زمین میں دانے ہیں (گیہوں، جو وغیرہ) جو انسانوں کی غذا بنتے ہیں اور ان دانوں پر بھی غلاف چڑھے ہوئے ہیں جن کو علیحدہ کیا جاتا ہے، ان دانوں کو انسان کھاتے ہیں اور ان کے اوپر جو غلاف یعنی بھوسہ ہوتا ہے اسے حیوان کھاتے ہیں ﴿وَ الرَّيْحَانُۚ0012﴾ اس کا ایک ترجمہ تو خوشبودار نبات کیا گیا ہے اور بعض حضرات نے اس کا ترجمہ پھول کیا ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے رزق مراد ہے بطور قاعدہ کلیہ انہوں نے ارشاد فرما دیا کہ کل ریحان فی القرآن فھو رزق یہ اقوال لکھنے کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ رزق کو ریحان اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے راحت ملتی ہے، زمین سے نکلنے والی جن نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ان میں وہ چیزیں بھی ہیں جن میں غذا ہے اور لذت ہے اور وہ چیزیں بھی ہیں جن میں محض غذائیت ہے اور وہ چیزیں بھی ہیں جو بہائم یعنی چوپایوں کے کام آتی ہیں ان نعمتوں کے تذکرہ کے بعد فرمایا ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ سو اے جنو اور اے انسانو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اوپر جو نعمتیں مذکور ہوئی ہیں ان سے دونوں فریق نفع حاصل کرتے ہیں۔
Ayahs 55:14–16اللہ تعالیٰ نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے اور جنات کو خالص آگ سے پیدا فرمایا
یہ تین آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا یعنی ابوالبشر سید نا آدم (علیہ السلام) جو سب سے پہلے انسان اور سب انسانوں کے باپ ہیں ان کا پتلا مٹی سے بنایا یہ پہلے صرف مٹی تھی اس میں پانی ملا دیا گیا توطین یعنی کیچڑ بن گئی پھر اس سے پتلا بنایا گیا اور وہ سوکھ گیا تو صلصال ہوگیا جیسا فخار ہوتا ہے فخار اس چیز کو کہتے ہیں جو کیچڑ والی مٹی سے بنائی گئی ہو، جب وہ سوکھ جائے تو اس میں انگلی مارنے سے آواز نکلتی ہے اس آواز دینے والی مٹی کو ﴿صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ0014 ﴾ فرمایا، حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق پر مختلف ادوار گزرے تھے اس کی تفصیل کے لیے سورة الحجر کے تیسرے رکوع کی تفسیر دیکھ لی جائے۔ (انوار البیان صفحہ 183: ج 5)
جنات کا جو سب سے پہلا باپ تھا اس کے بارے میں فرمایا کہ جان کو خالص آگ سے پیدا فرمایا بعض علماء کا کہنا ہے کہ جیسے حضرت آدم ابوالبشر (علیہ السلام) ہیں ایسے ہی جان ابوالجن یعنی جنات کا باپ ہے اور بعض علماء کا کہنا ہے کہ ابلیس شیطان تمام جناب کا باپ ہے واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسان مٹی سے اور جنات آگ سے پیدا کیے گئے اور ہر فریق اپنے اپنے اصل مادہ کی طرف منسوب ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو جس طرح پیدا فرمانا چاہا پیدا فرما دیا، وجود بخشا یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کے ساتھ اور بہت سی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کا تقاضا ہے کہ انسان اور جنات اپنے خالق جل مجدہ کے شکر گزار ہوں اور نعمتوں کی قدر دانی کریں اسی لیے اخیر میں فرمادیا ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا (سو تم دونوں فریق انسان اور جن اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) ۔
Ayahs 55:17–18اللہ تعالیٰ مشرقین اور مغربین کا رب ہے، میٹھے اور نمکین دریا اسی نے جاری فرمائے ان سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں، اسی کے حکم سے کشتیاں چلتی ہیں
ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر بیان فرمائے ہیں اور اس کی نعمتیں ذکر کی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ وہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب ہے، اسی نے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کو پیدا فرمایا اور چاند اور سورج کو مقرر فرمایا جو اپنی مقررہ رفتار پر چلتے ہیں مشرقین سے طلوع ہوتے ہیں اور مغربین میں چھپ جاتے ہیں ان کے طلوع اور غروب سے رات اور دن کا ظہور ہوتا ہے اور دن میں دن کے کام اور رات میں رات کے کام انجام پذیر ہوتے ہیں، رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں انسانوں اور جنات کے بڑے منافع ہیں، اس لیے اخیر میں فرمایا کہ اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
دو مشرق اور دو مغرب سے کیا مراد ہے اس بارے میں صاحب روح المعانی نے علمائے تفسیر کے چند اقوال لکھے ہیں حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عکرمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ مشرقین سے گرمی اور سردی کے دونوں مشرق اور مغربین سے سردی اور گرمی کے دونوں مغرب مراد ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ کا ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ مشرقین سے مشرق الفجر اور مشرق الشفق مراد ہیں اور مغربین سے مغرب الشمس اور مغرب الشفق مراد ہیں۔
اس کے بعد سمندروں کا تذکرہ فرمایا کہ دونوں سمندروں کو اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا جو آپس میں ملتے ہیں یعنی نظروں کے سامنے ملے ہوئے ہیں اور حقیقت میں ان کے درمیان میں ایک قدرتی حجاب ہے جس کیوجہ سے یہ دونوں اپنی جگہ چھوڑ کر دوسرے کی جگہ نہیں لیتے ان دونوں سمندروں میں ایک میٹھا ہے اور ایک نمکین ہے، دونوں سمندروں سے لوگ فوائد حاصل کرتے ہیں ان فوائد کا شکر لازم ہے جنات اور انسان دونوں فریق شکر ادا کریں۔
پھر فرمایا کہ ان دونوں سمندروں سے لوء لوء اور مرجان نکلتے ہیں ان دونوں کے منافع بھی ظاہر ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھانے والوں پر شکر لازم ہے۔ لو لو اور مرجان میں کیا فرق ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لو لو سے چھوٹے موتی اور مرجان سے بڑے موتی مراد ہیں اور حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ مرجان سے سرخ رنگ کے مونگے مراد ہیں اور لو لو چھوٹے اور بڑے دونوں قسم کے موتیوں کو شامل ہے۔ (ذكر صاحب الروح)
وہ سمندر جو آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتے ان میں ایک میٹھا سمندر اور دوسرا نمکین ہے اس بارے میں سورة الفرقان کے تیسرے رکوع میں لکھا جا چکا ہے وہاں دیکھ لیں۔
بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ لولو اور مرجان تو شور یعنی نمکین پانی والے سمندر سے نکلتے ہیں پھر ﴿ مِنْهُمَا ﴾ تثنیہ کی ضمیر کیوں لائی گئی ؟ اس کے متعدد جواب دیئے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک جواب یہ ہے کہ ﴿ مِنْهُمَا ﴾ کا مطلب من مجمو عہما ہے اور دونوں کے مجموعہ میں بحرملیح بھی ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ موتی نکالنے والے عموماً دریائے شور ہی سے نکالتے ہیں (میٹھے سمندر سے نکالنے کی طرف توجہ نہیں کرتے شاید اس وجہ سے کہ اس میں زیادہ مال نہیں ملتا) بہرحال اللہ تعالیٰ کا کلام صحیح ہے بندوں کا علم ہی کتنا ہے جس پر بھروسہ کرکے خالق جل مجدہ پر اعتراض کریں۔
Ayahs 55:19–25اس کے بعد کشتیوں کا تذکرہ فرمایا کہ اونچی اونچی کشتیاں پہاڑوں کی طرح سمندروں میں بلند ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے قائم ہیں۔ وہی اپنی قدرت کاملہ سے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ سمندر کا تلاطم اور تیز ہواؤں کے حملوں سے محفوظ فرماتا ہے، یہ کشتیاں بڑے بڑے وزن کے سامان تجارت کو اور تاجروں کو اور انسانوں کی خوراکوں اور دوسری ضروریات کو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے جاتی ہیں جسے سورة البقرہ میں یوں فرمایا ہے ﴿ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ﴾ (اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو انسانوں کو نفع دیتی ہیں، عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے کشتیاں بنانے کا طریقہ بھی الہام فرمایا پھر ان کو سمندر میں جاری کرنے اور ان میں مال لاد کرلے جانے کا طریقہ بتایا یہ سب فوائد اور منافع کی صورتیں ہیں، یہ کشتیاں لاکھوں انسانوں کی ضروریات زندگی کو ادھر سے ادھر پہنچاتی ہیں لہٰذا فائدہ اٹھانے والوں پر لازم ہے کہ خالق جل مجدہ کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کی ناشکری نہ کریں۔
Ayahs 55:26–28زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہونے والا ہے :
﴿ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۚۖ0026﴾ زمین پر جو بھی کچھ ہے انسان اور جنات اور حیوانات اور ہر نفع یا ضرر کی چیز سمندر اور خشکی، بحار اور اشجار اور پہاڑ اور ان کے علاوہ جو کچھ بھی ہے سب فنا ہونے والا ہے اور اے نبی ﷺ آپ کے رب کی ذات باقی رہنے والی ہے اس کی ذات ذوالجلال بھی ہے اور ذوالا کرام بھی۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں : الجلال عظمة اللہ وکبریاہٴ یعنی جلال سے اللہ کی عظمت اور بڑائی مراد ہے اور الاکرام کے بارے میں لکھا ہے کہ : ای ھواھل لان یکرم عمالا یلیق بہ من الشرک یعنی اللہ تعالیٰ اسکا مستحق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے اور اس کی ذات گرامی کے لائق جو چیزیں نہیں ہیں مثلاً شرک اس سے اس کی تنزیہ کی جائے۔ یہ ترجمہ اور تفسیر اس صورت میں ہے کہ اکرام مصدر مبنی للمجھول لیا جائے اور بعض حضرات نے اس کو مبنی للفاعل لیا ہے اور معنی یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس صفت سے متصف ہے کہ وہ انعام فرماتے ہیں یعنی اپنی مخلوق پر رحم اور کرم فرماتے ہیں یہ معنی سورة الفجر کی آیت ﴿ فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ 1ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِؕ0015﴾ سے مفہوم ہو رہا ہے۔
سورۃ الفجر کی آیت میں اکرمہ بھی فرمایا اور نعمہ بھی فرمایا جو باب تفعیل سے ہے اور سورة الاسرا میں فرمایا ﴿ وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ﴾ اس میں باب افعال سے لفظ انعام وارد ہوا ہے۔ فیض القدیر صفحہ 160: 2 شرح الجامع الصغیر میں لکھا ہے کہ اکرام انعام سے اخص ہے کیونکہ انعام کبھی گنہگاروں پر بھی ہوتا ہے اور اکرام صرف ان لوگوں کا ہوتا ہے جن سے کبھی نافرمانی نہ ہو۔ احقر کی سمجھ میں یوں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض اعتبارات سے ہر انسان مکرم ہے انسان کا وجود ہی اس کے لیے بہت بڑی چیز ہے پھر انسان کو بہت سے اکرامات سے نوازا ہے جسے : ﴿ وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو جو بھی نعمت ملے وہ انعام تو ہے ہی اکرام بھی ہے یہ بات الگ ہے کہ انسان کفر و فسق وفجور اختیار کرکے اس نعمت کو اپنے لیے اہانت کا ذریعہ بنالے یہ دنیا کا معاملہ ہے اور آخرت میں جو بھی نعمتیں ملیں گی وہ اہل ایمان ہی کو ملیں گی وہاں اہل ایمان ہی معزز و مکرم ہوں گے کافر کو تو موت کے وقت سے ذلت گھیر لیتی ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ذلیل ہی رہے گا موت کے بعد اس کے لیے نہ انعام ہے نہ اکرام وہاں کا انعام و اکرام اہل ایمان ہی کے لیے مخصوص ہے۔
Ayahs 55:29–34ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات عالیہ اور انسان اور جنات کی عاجزی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اس دنیا میں جو کچھ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ عمل کرنے میں آزاد ہو، اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی۔ جزا و سزا کا دن آنے والا ہے، تمہارے حساب و کتاب کے لیے ہم عنقریب فارغ ہوں گے یعنی تمہارا محاسبہ کریں گے مخلوق کے سمجھانے کے لیے مجازاً ایسا فرمایا ورنہ حق تعالیٰ شانہٗ کو کوئی بھی فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوسکتا كُلَّ يَوْمٍ کا ترجمہ کل وقت اس لیے کیا گیا کہ مخلوق میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تصرفات جاری رہتے ہیں۔
حساب و کتاب کی خبر دے کر پہلے سے آگاہ فرمانا یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے اسی لیے فرمایا کہ اے جن و انس اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
اس کے بعد انسانوں اور جنوں کی عاجزی بیان فرمائی کہ تم دونوں جماعتوں کو اگر یہ قدرت حاصل ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے نکل سکو تو نکل جاؤ اور یاد رکھو کہ یہ نکل جانا بغیر طاقت و قوت اور زور کے نہیں ہوسکتا اور تم میں یہ طاقت نہیں ہے جس طرح وقوع قیامت سے پہلے عاجز ہو اسی طرح قیامت قائم ہونے کے وقت بھی عاجز ہو گے یہ نہ سمجھنا کہ قیامت قائم ہوئی تو ہم گرفت سے بچ جائیں گے اور خالق اور مالک جل مجدہ کے ملک کی حدود سے باہر چلے جائیں گے، اس بات کو جانتے ہوئے کیسے کفر اختیار کرتے ہو اور گناہوں پر کیوں تلے ہوئے ہو، تمہیں پہلے بتادیا گیا ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور حساب ہوگا، یہ پیشگی بتادینا بھی انعام عظیم ہے، اس نعمت کا شکر ادا کرو، سو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔