Ayah 55:1اس سورة کریمہ کا افتتاح اللہ کے اسم مبارک (الرحمن) سے ہوا ہے جو اس کی بےپایاں رحمت عمومی احسان، بیشمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے پھرا للہ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور اس کے آثار یعنی دینی دنیاوی اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں جن کو اللہ نے اپنے بندوں تک پہنچایا ہے اپن نعمتوں کی ہرجنس اور نوح کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں یعنی جن وانس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اسکا شکر ادا کریں چناچہ فرماتا ہے (فبای الآء ربکما تکذبن) ۔ پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟
Ayah 55:2پس اللہ نے ذکر فرمایا (عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ) یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ ومعانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کردیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی زبان میں قرآن نازل کیا جوہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔
Ayah 55:3(خَلَقَ الْاِنْسَانَ ) انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضا اور پورے اجزا کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا او اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا۔
Ayah 55:4(عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ) یعنی اسے ما فی الضمر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔
Ayah 55:5(اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْـبَانٍ ) سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا ان کو مسخر کیا جو بندوں پر رحإت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقرر انداز سے چل رہے ہیں نیز اس لیے کہ اللہ ان کے ذریعے سے بندوں کے مصالھ کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ وسال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کرلیں۔
Ayah 55:6(وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ ) آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں اس کو سجدہ کرتے ہیں اس کی اطاعت کرتے ہیں اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کررکھا ہے۔
Ayahs 55:7–8(وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ) یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا اور اللہ نے ترازو وضع کیا۔ یعنی بندوں کے درمیان اقوال وافعال میں عدل جاری کیا اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں معروف میزان ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیا اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اس میں وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقت میں فرق کیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے اس لیے فرمایا (اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ تمہاری عقل اور آرا کی طرف لوٹتا تو ایسا خللل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور آسمان زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہوجاتے ہیں۔
Ayah 55:9وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ ) اور تم وزن انصاف سے کرو۔ یعنی جہاں تک تمہاری قدرت، طاقت اور تمہارے امکان میں ہے وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ( وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ ) یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو۔ اس سے مراد ظلم وجور اور سرکشی ہے۔
Ayahs 55:10–11(وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا) یعنی اللہ نے زمین کو اس کی کثافتوں اور اس کے اسقرار اور اس کے اوصاف واحوال سمیت بنایا۔ (لِلْاَنَامِ ) مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانہ بنائے زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انہیں حاجت اور ضرورت ہو پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (فِيْهَا فَاكِهَةٌ ۽) اس میں لذیذ پھل ہیں۔ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنہیں بندے مزے سے کھاتے ہیں مثلا، انگور، انجیر، انار، اور سیب وغیرہ۔ ( وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ ) اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کرکے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہوجاتی ہیں تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔
Ayah 55:12(وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ ) اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے اس میں گیہوں، جو، مکئی چاول اور چنا وغیرہ شامل ہیں۔ ( وَالرَّيْحَانُ ) اور خوشبودار پھول۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھات ہیں تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہوگا اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوں کو زمین میں سے مہیا کرکے ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔
Ayah 55:13چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کی آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں کو یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) یعنی (اے جن وانس) پھر تم اللہ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ جب رسول اللہ نے یہ ایت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا جب بھی آپ (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے لابشئی من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد۔ اے ہمارے رب ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے چناچہ تو ہی ہر قسم کی حمدوثنا کا مستحق ہے۔ اسی طرح بندہ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو ان اکا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمدوثنا بیان کرے۔
Ayah 55:14یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمت ہے کہ اس نے انہیں اپنی قدرت اور کاری گری کے آثار دکھائے کہ (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ) انسان کے جد امجد حضرت آدم کو گیلی مٹی سے پیدا کیا جس کے نم کو مہارت کے ساتھ محکم کیا گیا یہاں تک کہ وہ خشک ہوگئی اور اس میں آگ پر پکائے گئے ٹھیکرے کی آواز مانند کھنکھنانے کی آواز پیدا ہوگئی۔
Ayahs 55:15–16(وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ ) اور جنات کے باپ ابلیس لعین کو پیدا کیا (مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ) آگ کے صاف شعلے سے یا اس سے مراد وہ شعلہ ہے جس کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو۔ یہ آیت کریمہ انسان کے عنصر کے شرف پر دلالت کرتی ہے جسے گارے اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو وقار، ثقل اور منافع کا محل ہے بخلاف جنات کے عنصر، یعنی آگ کے جو خفت، طیش، شر اور فساد کا محل ہے جب اللہ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادہ تخلیق بیان فرمایا یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) اے جن وانس۔ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ؟
Ayahs 55:17–18یعنی اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا رب ہے جس پر سورج چاند اور روشن ستارے طلوع و غروب ہوتے ہیں اور وہ سب کچھ جس کے اندر چاند اور سورج ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔ اللہ نے یہاں مشرق اور مغرب کو سورج کے گرمیوں اور سردیوں کے مقامات طلوع و غروب کے مختلف ہونے کے اعتبار سے تثنیہ ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 55:19–23یہ ان بحرین سے مراد ہے، میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں ملتے ہیں (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں مگر اللہ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنارکھا ہے ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے اس میں وہیل مچھلیاں موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشیتوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
Ayahs 55:24–25یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سمندروں میں چلنے والی کشتیوں کو مسخر کیا جو اللہ کے حکم سے سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہیں جن کو آدمیوں نے بنایا ہے جو اپنی عظمت کی وجہ سے بڑے بڑے پہاڑوں کے مانند دکھائی دیتی ہیں لوگ ان کشیتوں پر سواری کرتے ہیں اور ان پر اپنا سامان تجارت اور دیگر اشیا لادتے ہیں جن کی وہ ضرورت اور حاجت محسوس کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی حفاظت کرنے والی ہستی ان کشتیوں کی حفاظت کرتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے بنابریں فرمایا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) (اے جن وانس) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Ayah 55:26یعنی زمین کی ہر چیز انسان جنات جانور اور تمام مخلوقات فنا اور ہلاک ہوجائیں گے اور وہ زندہ ہستی باقی رہ جائے گی جو کبھی نہیں مرے گی۔
Ayahs 55:27–28( ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ) جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سرتسلیم خم کیا جاتا ہے الاکرام سے مراد بےپایاں فضل اور جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے اولیا خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیا خواص اس کی تکریم کرتے اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں اس کی تعظیم کرتے ہیں اس سے محبت کرتے ہی اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر فرمایا ( فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) (اے جن وانس) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Ayahs 55:29–32یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بےنیاز ہے وہ بےپایاں جودو کرم کا مالک ہے تمام مخلوق اس کی محتاج ہے وہ اس سے اپنی حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے ب نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ) ہر ورز (ہر وقت) ایک نئی شان میں ہوتا ہے یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے کسی قوم کو عطا کرتا ہے کسی کو محروم کرتا ہے وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کرسکتے مانگنے والوں کا اصرار کے ساتھ مانگنا اور سوال کرنے والوں کالمبا چوڑا سوال اسے زچ نہیں کرسکتا۔ پاک ہے وہ ذات جو فضل و کرم کی مالک اور بےحد و حساب عطا کرنے والی ہے جس کی نوازشیں زمین اور آسمان والوں سب کے لیے عام ہیں اس کالطف و کرم ہر آن اور ہر لحظہ تمام مخلوق پر سایہ فگن ہے نہایت بلند ہے وہ ہستی جس کو گناہ گاروں کا گناہ اور اس سے اور اس کے کرم سے ناواقف فقرا کا استغنا عطا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یہ تمام معاملات جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ہر روز کام میں ہوتا ہے وہ تقادیر اور تدابیر ہیں جن کو اس نے ازل میں مقدر کردیا اللہ تبارک تعالیٰ ان کو ان اوقات میں جن کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے نافذ کرتا رہتا ہے یہ اس کے احکام دینی ہیں جو اوامر ونواہی پر مشتمل ہیں اور یہ اس کے احکام کونی وقدری ہیں جن کو وہ اپنے بندوں پر اس وقت تک جاری کرتا رہے گا جب تک کہ ان کا قیام اس دنیا میں ہے۔ جب یہ مخلوقات تمام ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ سب کو فنا کردے گا اور وہ چاہے گا کہ ان پر کوئی احکام جزائی نافذ کرے انہیں اپنے عدل وفضل اور بےپایاں احسانات کا مشاہدہ کرائے جن کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں اس کی توحید بیان کرتے ہیں وہ مکفلیں کو امتحان وابتلا کے گھر سے ہمیشہ کی زندگی والے گھر میں منتقل کرے گا تب وہ ان احکام کو نافذ کرنے کے لیے فارغ ہوگا جن کی تنقید کا وقت آپہنچا ہے اللہ کا درج ذیل ارشاد اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔
Ayahs 55:33–34جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے روز جمع کرے گا تو انہیں ان کی کمزوری وبے بسی اور اپنی کامل طاقت اپنی مشیت اور قدرت کی تنفیذ سے آگاہ کرے گا اور ان کی بےبسی کو ظاہر کرتے ہوئے فرمائے گا۔ (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) یعنی اے جنوں اور انسانوں کی جماعت۔ اگر تمہیں کوئی راستہ اور کوئی سوراخ ملتا ہے جہاں سے تم اللہ کی بادشاہی اور اس کی سلطنت سے نکل بھاگو۔ (فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ ) تو تم نکل بھاگوا لیکن تم قوت، طاقت اور کامل قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے باہر نہیں نکل سکتے یہ قوت انہیں کہاں سے حاصل ہو حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں نہ زندگی اور موت کانہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں اس مقام پر اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص کلام نہیں کرسکے گا اور مدھم سی آوازوں کے سوا تم کچھ نہیں سن سکو گے اس مقام پر بھی بادشاہ اور غلام سردار اور رعایا، یا غنی اور محتاج سب برابر ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جو اس دن ان کے لیے تیار کی گئی ہوں گی۔
Ayahs 55:35–36یعنی تم پر آگ کے صاف شعلے چھوڑے جائیں گے۔ (وَّنُحَاسٌ) اور دھوان۔ اور یہ ایسے شعلے ہوں گے کہ ان میں دھواں ملا ہوا ہوگا۔ معنی یہ ہے کہ یہ دونوں قبیح چیزیں تم پر چھوڑ دی جائیں گی جو تمہیں گھیر لیں گی پس تم خود مدد کرسکو گے نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور تمہاری مدد کرسکے گا چونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخویف اس کی طرف سے ان کے لیے ایک نعمت اور ایک کوڑا ہے جو انہیں بلند ترین مقاصد اور بہترین مواہب کے حصول کے لیے رواں دواں رکھتا ہے۔ اس لیے اپنے احسان کا ذکر فرماتے ہوئے کہا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) پھر (اے جن وانس) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟
Ayahs 55:37–38(فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ ) یعنی جب قیامت کے روز ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بےنور ہوجائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے (فکانت) تو وہ ہوجائے گا شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے (وَرْدَةً كَالدِّهَانِ ) سرخ چمڑے کی طرح سرخی مائل۔ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہوجائے گا۔
Ayahs 55:39–40یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا ہے اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد ماضی اور مستقبل ہر چیز کا علم رکھتا ہے وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کررکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے جیسا کہ اللہ کا قول ہے (یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ۔ آل عمران 106) اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔