Explained with ayahs 1–12
یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…
Read the full tafseer →سورة الْوَاقِعَة 7
سابقین (آگے والوں) سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی اور حق پرستی میں سب پر سبقت لے گئے ہوں، بھلائی کے ہر کام میں سب سے آگے ہوں، خدا اور رسول کی پکار پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے ہوں، جہاد کا معاملہ ہو یا انفاق فی سبیل اللہ کا یا خدمت خلق کا یا دعوت خیر اور تبلیغ حق کا، غرض دنیا میں بھلائی پھیلانے اور برائی مٹانے کے لیے ایثار و قربانی اور محنت و جانفشانی کا جو موقع بھی پیش آئے اس میں وہی آگے بڑھ کر کام کرنے والے ہوں۔ اس بنا پر آخرت میں بھی سب سے آگے وہی رکھے جائیں گے۔ گویا وہاں اللہ تعالیٰ کے دربار کا نقشہ یہ ہوگا کہ دائیں بازو میں صالحین، بائیں بازو میں فاسقین، اور سب سے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ، امام احمد نے حضرت صدیقہ عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ قیامت کے روز ظل اللہ کی طرف سبقت کرنے والے کون لوگ ہوں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ و رسولہ اعلم۔ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق کی طرف دعوت دی جائے تو اس کو قبول کریں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو ادا کردیں اور لوگوں کے معاملات میں وہ فیصلہ کریں جو اپنے حق میں کرتے ہیں۔
مجاہد نے فرمایا کہ سابقین سے مراد انبیاء ہیں، ابن سیرین نے فرمایا کہ جن لوگوں نے دونوں قبلوں یعنی بیت المقدس اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی ہے وہ سابقین ہیں اور حضرت حسن و قتادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(ما اصحب المشئمۃ) میں وہی اسلوب اس کے برعکس یعنی اظہار نفرت و کراہت کے مفہوم میں ہے یعنی جس طرح (اصحب المیمنۃ) کی خوش حالی و بلند اقبالی کا اندازہ نہیں کرسکتا اسی طرح (اصحب المشمۃ) کی بد بختی ان کی ذلت و مصیبت اور ان کی بد انجامی کا حال بھی کچھ نہ پوچھو ! اس کی تصویر بھی الفاظ میں نہیں کھینچی جاسکتی۔ اس کا اندازہ انہی کو ہوگا جن کو اس سے سابقہ پیش آئے گا۔ (واسبقون اسبقون) میں دوسرا (سابقون) خبر کے محل میں ہے اور اس ایجاز میں غایت درجہ بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (سابقون) کی عالی مقام کا کیا پوچھنا ہے۔ وہ تو (سابقون) ہی ہوئے ! جب وہ سابقون ہیں تو ان کے درجہ و مرتبہ کو کون پہنچ سکتا ہے ! وہ لازماً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10۔ 1 ان سے مراد خواص مومنین ہیں، یہ تیسری قسم ہے جو ایمان قبول کرنے میں سبقت کرنے اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو قرب خاص سے نوازے گا، یہ ترکیب ایسے ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، تو تو ہے اور زید زید، اس میں گویا زید کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
4: اس سے مراد انبیاء کرام اور وہ اعلی درجے کے پاکباز حضرات ہیں جنہوں نے تقوی کا سب سے اونچا مقام پایا ہوگا۔
Read the full tafseer →والسبقون السبقون (6 5: 01) ” آگے والے تو پھر آگے ہی والے ہیں۔ “ جس طرح کہا جاتا کہ وہ تو وہ ، فلاں تو فلاں ہیں ، بس ان کا نام لینا ہی ان کے مرتبہ ومقام کا اظہار کردیتا ہے۔
اس کے بعد پھر ان کی جی بھر کر تعریف کی جاتی ہے کہ ان کے لئے عالم بالا میں کیا کیا تیاریاں کی گئی ہیں۔ اگرچہ جنت کی تیاریوں کا تصور بھی نہیں ہوسکتا لیکن اہل زمین کے تجربے کے مطابق کچھ یوں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
8 یعنی جو لوگ کمالات علمیہ و عملیہ اور مراتب تقویٰ میں دوڑ کر اصحاب یمین سے آگے نکل گئے۔ وہ حق تعالیٰ کی رحمتوں اور مراتب قرب و وجاہت میں بھی سب سے آگے ہیں۔ (" وَہُمُ الْاَنْبِیَآءُ وَالرُّسُلُ وَالصِّدِّیْقُوْنَ وَالشُّہَدَاءُ یَکُوْنُونَ بَیْنَ یَدَی رَبِّہِمْ عَزّوجل " کما قال ابن کثیر)
Read the full tafseer →آیت 10{ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ۔ } ”اور آگے نکل جانے والے تو ہیں ہی آگے نکل جانے والے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
7 یعنی پیغمبروں پر ایمان لانے میں، ان کے ساتھ حق و باطل کے معرکہ میں، مصائب کے برداشت کرنے میں اور ہر خیر اور بھلائی کے کام میں دوسروں سے سبقت کرنے والے اور آگے نکل جانے والوں کا درجہ عام مومنین صالحین سے بہرحال زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا یہی لوگ اللہ کے مقربین میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے دربار میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے آگے یہی لوگ ہوں گے پھر ان کے بعد دائیں جانب صالحین مومنین اور بائیں جانب کافر و مشرک، سرکش اور خود سر یعنی اہل دوزخ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
5۔ مراد حضرت انبیاء کرام اور پھر انکے بعد اولیاء امت اور متقین کاملین ہیں۔ (آیت) ” والسبقون “۔ یعنی اپنی طاعت وعبدیت کے لحاظ سے درجہ اول والے۔ اے السابقون ای الجنۃ (روح) السابقون الی رحمۃ سبحانہ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
والسابقون السابقون امام احمد نے حضرت صدیقہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ قیامت کے روز ظل اللہ کی طرف سبقت کرنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا، اللہ و رسولہ اعلم
آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق کی طرف دعوت دیجائے تو اس کو قبول کرلیں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو ادا کردیں اور لوگوں کے معاملات میں وہ فیصلہ کریں جو اپنے حق میں کرتے ہیں۔
مجاہد رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سابقین سے مراد انبیاء ہیں، ابن سیرین نے فرمایا کہ جن لوگوں نے دو قبلوں یعنی بیت المقدس اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی ہے وہ سابقین میں ہیں اور حضرت حسن رحمتہ اللہ…
Read the full tafseer →و السابقون
اور جو اعلیٰ درجہ کے ہوں گے وہ تو اعلیٰ درجے کے ہی ہیں
وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ : اسلام ‘ طاعت اور قرب خداوندی کی طرف سبقت کرنے والے۔
گروہ انبیاء ‘ ایمان اور اطاعت خداوندی میں سب کے پیشوا اور سب سے آگے ہیں ‘ ان کی امتیں ان کی تابع ہیں ‘ انبیاء کا کامل اتباع کرنے والے اور بوراثت کمالات نبوت حاصل کرنے والے اور خاص انوار ذاتیہ سے مشرف ہونے والے صحابہ کرام اور ان کے بعض متبعین ہیں ‘ اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جو ہجرت میں سبقت کرنے والے تھے ‘ وہی آخرت میں بھی پیش رو ہوں گے۔
عکرمہ نے کہا : سابقین اوّلین سے مراد ہیں وہ لوگ جو اسلام میں سبقت کرنے والے تھے یعنی صحابہ ؓ ۔
ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(10۔ 12) اور تیسری قسم جو اعلی درجے کے ہیں وہ تو اعلی درجے کے ہی ہیں یعنی جو دنیا میں ایمان جہاد ہجرت تکبیر اولی اور تمام نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں وہ جنت میں بھی پیش پیش ہیں۔
Read the full tafseer →والسبقون السبقون : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ پہلے ”السبقون“ سے مرادعمل میں سبقت والے اور دوسرے ”السبقون“ سے مراد درجے میں سبقت لینے والے ہیں۔ یعنی جو لوگ ایمان لانے میں اور اعمال صالحہ میں دوسروں سے پہل کرنے والے اور آگے بڑھنے والے ہیں وہ جنت کے داخلے میں بھی دوسروں سے بھی پہلے اور اس کے مراتب میں دوسروں سے آگے ہوں گے۔ دوسرا مطلب یہ کہ دونوں ”السبقون“ سے مراد ایک ہی ہے اور مقصود ان کی شان کا بیان ہے ، جیسے کہا جاتا ہے :”انت انت“ کہ تم ، تم ہی ہو ، تمہارا کیا کہنا ، کوئی اور تمہارے جیسا نہیں اور جیسے شاعر نے کہا ہے ؎
انا ابو النجم وشعری شعری
”میں ابو النجم ہوں اور میرا شعر میرا ہی…
Read the full tafseer →والسبقون السبقون۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا :” سابقون وہ ہیں جب انہیں حق دیا گیا تو انہوں نے اسے قبول کیا جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کو خرچ کیا اور انہوں نے لوگوں کے لیے وہی فیصلہ کیا جو انہوں نے اپنے لیے فیصلہ کیا “ (1) یہ مہدوی نے ذکر یا۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : وہ انبیاء ہیں (2) ۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : مراد ہر امت میں سے ایمان کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں : اس کی مثل عکرمہ سے مروی ہے۔ محمد بن سیرین نے کہا : مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی (3) اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ” وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
4 سبقت کرنے والوں کی چار قسمیں
6۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والسبقون السبقون سے مراد ہے کہ یوشع بن نون آگے بڑھے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف۔ اور آل یسین کے مومن آگے بڑھے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اور علی بن ابی طالب ؓ آگے بڑھے رسول اللہ ﷺ کی طرف (اور سبقت لے گئے ) ۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سبقت کرنے والے قیامت کے دن چار قسم کے ہوں گے۔ بس میں عربوں سے سبقت لے جانے والا ہوں اور سلمان ؓ اہل فارس سے سبقت لے جانے والے ہیں اور حضرت بلال ؓ اہل حبشہ سے سبقت لے جانے والے ہیں اور صہیب ؓ اہل روم میں سے سبقت لے جانے والے ہیں۔
8۔…
Read the full tafseer →[وَالسّٰبِقُوْنَ : اور سبقت کرنے والے ] [السّٰبِقُوْنَ : سبقت کرنے والوں پر ]
Read the full tafseer →سابقین اولین کون سے حضرات ہیں ؟
سابقین کے بارے میں فرمایا ﴿ وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ0010 اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۚ0011﴾ (اور آگے بڑھنے والے وہ آگے بڑھنے والے ہیں وہ خاص قرب رکھنے والے ہیں) ۔
جن حضرات کو سابقین کا لقب دیا اس سبقت سے کون سی سبقت مراد ہیں ؟ اس بارے میں متعدد اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے ہجرت کی طرف سبقت کی اور حضرت عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ اس سے اسلام قبول کرنے کی طرف سبقت کرنے والے مراد ہیں حضرت ابن سیرین (رح) نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے قبلتین کی طرف نماز پڑھی۔
حضرت ربیع بن انس ؓ نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔
(ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
6:۔ ” اولئک “ یہ تیسرے جماعت یعنی السابقون کے احوال کا بیان ہے بطریق لف و نشر غیر مرتب۔ فی جنات المقربون کے متعلق ہے۔ نعمتوں کے باغوں میں یعنی جنت میں اللہ تعالیٰ کا اصل قرب تو ان سابقین ہی کو حاصل ہوگا۔ قرب خداوندی کا جو درجہ ان کو ملے گا وہ اور کسی کا نصیب نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَۃِ 0ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَۃِ 9 ۭ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ 10 ۚ
صحب
الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة،
ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40]
( ص ح ب ) الصاحب
۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰـثَۃً ۔ فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 7 تا 10)
(اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے۔ دائیں بازو والے، تو کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ اور بائیں بازو والے، تو کیا حال ہوگا بائیں بازو والوں کا۔ اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ )
لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں
آیت میں خطاب اگرچہ ان لوگوں سے ہے جو اس وقت قرآن کریم کے مخاطب تھے، لیکن حقیقت میں اس کی مخاطب پوری نوع انسانی ہے۔ کیونکہ یہ تین گروہوں کی تقسیم قیامت کے دن ہونے والی ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بعد محشر کے میدان میں لوگوں کی حالت۔
اس سورت کی پہلی آیت سے لے کر چھٹی آیت تک اسرافیل کے پہلی مرتبہ صورپھونکنے کا منظر بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد جوں ہی دوسرا صورپھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں یوں اکٹھے ہوں جیسے تیر اپنے نشانے پر پہنچ جاتا ہے۔ (المعارج : 43) لوگوں کو حساب و کتاب کے فوراً بعد تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ جس کی ابتدا حساب و کتاب کے وقت ہی کردی جائے گی۔ آغاز میں مجموعی طور پر لوگ دواقسام پر مشتمل ہوں گے نیک اور بد۔ نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے اور برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں…
Read the full tafseer →10 : وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ( اور جو آگے بڑھنے والے ہیں وہ آگے بڑھنے والے ہیں) پہلا السابق مبتدأ اور دوسرا خبر ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ السابقون الی الخیرات السابقون الی الجنات جو بھلائی کی طرف بڑھنے والے ہیں وہ جنتوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ ایک اور قول یہ ہے دوسرا السابقون اول کی تاکید ہو کر مبتدأ ہے اور۔
Read the full tafseer →9 ۔” واصحاب المشئمۃ ما اصحاب المشئمۃ “ یعنی بائیں جانب والے اور عرب بائیں ہاتھ کا نام الشوری رکھتے ہیں اور اسی سے شام اور یمن کا نام رکھا گیا۔ اس لئے کہ یمن کعبہ کی دائیں جانب اور شام اس کی بائیں جانب ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن لیا جائے گا بائیں جانب جہنم کی طرف اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو آدم (علیہ السلام) کی بائیں جانب تھے، ان کی اولاد کے نکالنے کے وقت اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا یہ لوگ جہنم میں ہوں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور حسن (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو خود پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ 10ڌاُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ 11ۚ ) اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں یہی لوگ مقرب ہیں یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر اعلی علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے اس سے بلند کوئی منزل نہیں۔
Read the full tafseer →[ 8] سابقین کی عظمت مرتبہ و مقام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور سبقت لے جانے والے سبقت لے گئے۔ یعنی جو دنیا میں ایمان و اطاعت اور نیکی و خیر کی طرف سبقت لے گئے ہوں گے، وہ وہاں پر جنت النعیم اور درالکرامۃ کی طرف سبقت لے جائیں گے، مسند امام احمد (رح) وغیرہ میں ام المؤمنین میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہء کرام ؓ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ جو قیامت کے روز اللہ کے سائے کی طرف سبقت لے جائیں گے ؟ تو حضرات صحابہء کرام ؓ نے حسب عادت ادب سے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں [ اللہ و رسولہ اعلم ] تو اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا
تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔
اسرار ومعارف۔
جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →ف 2 مراد وہ لوگ ہیں جو نہ صرف خود ایمان لائے اور نیکو کار رہے بلکہ ایمان لانے اور ہر ایک نیک عمل … جیسے نماز ہجرت اور جاد وغیرہ … کی انجام دہی میں دوسروں پر سبقت لے جانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →(56:10) والسبقون السبقون : (اور تیسرا گروہ) آگے والے تو آگے والے ہی ہیں َ واؤ عاطفہ السبقون مبتدائ۔ السبقون (ثانی) اس کی خبر، اور سابقون آگے نکل جانے والے ہیں۔ یا دوسرا السبقون پہلے کی نعمت ہے۔ سابقون : آگے بڑھنے والے۔ آگے پہنچنے والے ، آگے نکل جانے والے، سبقت لیجانے والے۔ صیغہ جمع مذکر سابق کی جمع سبق (باب ضرب ونصر) مصدر۔
علماہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں : اول السابقون میں الف لام جنسی ہے اور دوسرے السابقون میں الف لام عہد کا ہے ۔ یعنی سابقین وہی سابقین ہیں جن کے حال و کمال و مآل سے تم واقف ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ سابقین وہی لوگ ہیں جو جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ السبقون کے متعلق متعدد اقوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56
اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔
تشریح : آیت نمبر 39 تا 56
سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔
(ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
[2] سابقون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے دین کی خدمت کی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لئے حوصلہ کرنا اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ف 1: فرمایا : اعمال کے لحاظ سے آخرت میں انسانوں کے تین درجے ہونگے ایک تو وہ جو صاحب لین وسعادت ہوں گے ۔ ان کی داہنی طرف رکھا جائے گا ۔ دوسرے وہ جن کے حصہ میں نحوست وبدبختی آئے گی ۔ ان کو بائیں طرف جگہ دی جائے گی ۔ تیسرے گروہ والے سابقین میں سے ہوں گے ۔ یعنی ہر خیر و برکت کی بات میں آگے ۔ ہر نیکی کی طرف سبقت کرنے والے ۔ اور ہر اصلاح وتقویٰ کے معاملہ میں پیش رو ۔ یہ لوگ اللہ کے مقرب ہوں گے ، ان کے درجے بلند ہونگے ۔
Read the full tafseer →(10) اور تیسرے آگے چلنے والے تو وہ ہیں ہی آگے بڑھنے۔ یعنی جو نیک کاموں سبقت کرنے والے ہیں وہ وہاں بھی آگے ہی رہنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ف 4۔ مراد اس سے جن کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یعنی کفار، اور اس میں اجمالا ان کی حالت کا برا ہونا بتلادیا۔
Read the full tafseer →اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہوں گے
10 ؎ اس آیت می ناس تیسرے گروہ کا ذکر ہے جو (اصحاب الیمین) سے بھی افضل ہے اور ان کو (السبقون) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور سابقون کے معنی ہیں آگے پہنچنے والے ‘ آگے بڑھنے والے۔ سبق سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت رفع سابق کی جمع ہے اور (السقبون الالون) کا ذکر پیچھے غزوہ الوثقیٰ جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 100 میں گزر چکا ہے اور حافظ ابن عبدالبر نے اپنی مشہور کتاب الاستیعاب فی اسماء والاصحاب میں حسب ذیل اقوال نقل کئے ہیں۔ (1) ابن سیرین کہتے ہیں کہ (السبقون الاولون) سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازیں ادا کی ہیں۔ عمر بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (And the Foremost are the foremost....56:10) Imam Ahmad (رح) ، has recorded a Tradition on the authority of Sayyidah ` A'ishah Siddiqah ؓ that the Messenger of Allah ﷺ asked the noble Companions ؓ : "Do you know who will be the first to be accommodated in the Divine Shade on the Day of Resurrection?" The noble Companions ؓ replied: اللہُ وَ رَسُولُہ اَعلَم "Allah and His Messenger know best." The Messenger of Allah ﷺ said: "They are those who accept the truth when it is presented to them; when they are asked for the rights due from them, they fulfill them; and…
Read the full tafseer →7 Sabiqin (the Foremost) implies the people who excelled others in virtue and love of the truth and in good works and responded to the call of Allah and His Messenger before others. They were also in the forefront in their response to the call for Jihad, for expending their wealth for the sake of the needy and for public services, or for inviting others to virtue and truth, in short, for spreading the good and wiping out evil and making sacrifices and exerting themselves whenever there was need for it. On this very basis, in the Hereafter too, they will be placed in the forefront. Thus,…
Read the full tafseer →