اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ ۟ۚاُولٰٓئِكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَۚ
وہی (خدا کے) مقرب ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Those are the ones brought near [to Allah]
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ ۟ۚاُولٰٓئِكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَۚ
وہی (خدا کے) مقرب ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Those are the ones brought near [to Allah]
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
وہی تو مقرب لوگ ہیں
وہی (خدا کے) مقرب ہیں
وه بالکل نزدیکی حاصل کیے ہوئے ہیں
وہی ہیں جو اللہ کے خاص مقرب بندے ہیں۔
وہی مقربِ بارگاہ ہیں،
یہی لوگ (اللہ کے) مقرّب ہوں گے،
یہی لوگ قریب کیے ہوئے ہیں۔
یہی لوگ مقرب ہیں
وہی لوگ مقرب ہوں گے۔
یہ وہ (خوش نصیب) ہیں جن کو نوازا گیا ہوگا قرب (خاص) سے
وہ خاص قرب والے ہیں۔
وہی تو بہت مقرب ہوں گے۔
وہی اللہ کے مقرب ہیں
They shall be near-stationed (to their Lord),
Those are the ones blessed with nearness (to Allah)
Those are the ones blessed with nearness (to Allah)
These will be the nearest (to Allah).
Those are they who will be brought nigh
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Those are the ones brought near [to Allah]
(The foremost ones) will be the nearest ones to God
These are they who are drawn nigh (to Allah),
Those! they shall be the brought nigh,
These will be those Nearest to Allah:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–12
یقینی امر : واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جسے اور آیت میں ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15ۙ) 69۔ الحاقة :15) اس دن ہو پڑے گی، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی، جسے اور آیت میں ہے، آیت (اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47) 42۔ الشوری :47) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت (سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
سورة الْوَاقِعَة 8 مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ اولین اور آخرین یعنی اگلوں اور پچھلوں سے مراد کون ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ آدم ؑ کے وقت سے نبی ﷺ کی بعثت تک جتنی امتیں گزری ہیں وہ اولین ہیں، اور نبی ﷺ کی بعثت کے بعد قیامت تک کے لوگ آخرین ہیں۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ بعثت محمدی سے پہلے ہزارہا برس کے دوران میں جتنے انسان گزرے ہیں ان کے سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی، اور حضور کی بعثت کے بعد سے قیامت تک آنے والے انسانوں میں سے جو لوگ سابقین کا مرتبہ پائیں گے ان کی تعداد کم ہوگی۔ دوسرا گروپ کہتا ہے کہ یہاں اولین و آخرین سے مراد نبی ﷺ کی امت کے اولین و آخرین ہیں جن میں سابقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ، امام احمد نے حضرت صدیقہ عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ قیامت کے روز ظل اللہ کی طرف سبقت کرنے والے کون لوگ ہوں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ و رسولہ اعلم۔ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق کی طرف دعوت دی جائے تو اس کو قبول کریں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو ادا کردیں اور لوگوں کے معاملات میں وہ فیصلہ کریں جو اپنے حق میں کرتے ہیں۔ مجاہد نے فرمایا کہ سابقین سے مراد انبیاء ہیں، ابن سیرین نے فرمایا کہ جن لوگوں نے دونوں قبلوں یعنی بیت المقدس اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی ہے وہ سابقین ہیں اور حضرت حسن و قتادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(سالقون کا صلہ)۔ چونکہ گل سر سبد اور سر خیل قافلہ کی حیثیت انہی (سابقون) کو حاصل ہوگی اس درجہ سے انہی کا مرتبہ اور صلہ سب سے پہلے بیان فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ انہی لوگوں کو مقربین کا درجہ حاصل ہوگا۔ ’ مقربین ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقربین ہیں لیکن ان مقربین کا ٹھکانہ (جنت النعیم) ہی بتایا ہے، دربار الٰہی کے قسم کی کسی چیز کا کوئی تصور نہیں دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقربین الٰہی کے لیے خاص ان کے درجے و مرتبے کے لحاظ سے جنتیں ہوں گی جن میں وہ رکھے جائیں گے آگے ان کی جنت سے متعلق بعض ارشادات آ رہے ہیں۔ (ثلثۃ من الاولین و قلیل من الاخرین)۔ اب یہ واضح فرمایا کہ اس مبارک گروہ میں شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10۔ 1 ان سے مراد خواص مومنین ہیں، یہ تیسری قسم ہے جو ایمان قبول کرنے میں سبقت کرنے اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو قرب خاص سے نوازے گا، یہ ترکیب ایسے ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، تو تو ہے اور زید زید، اس میں گویا زید کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
4: اس سے مراد انبیاء کرام اور وہ اعلی درجے کے پاکباز حضرات ہیں جنہوں نے تقوی کا سب سے اونچا مقام پایا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ان پر جو انعامات الٰہیہ ہوں گی ان میں سے بڑی نعمت کے ذکر سے آغاز ہوتا ہے جو سب سے زیادہ نمایاں اور بلند ہے۔ رب تعالیٰ کے قرب کی نعمت۔ اولئک ............ النعیم (6 5: 21) ” وہی تو مقرب لوگ ، نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ “ اور اللہ کا قرب تو وہ اعزاز ہے جس کے مقابلے میں تمام جنتیں ہیچ ہیں۔ یہ تو بہت ہی قیمتی نصیبہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں کون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
8 یعنی جو لوگ کمالات علمیہ و عملیہ اور مراتب تقویٰ میں دوڑ کر اصحاب یمین سے آگے نکل گئے۔ وہ حق تعالیٰ کی رحمتوں اور مراتب قرب و وجاہت میں بھی سب سے آگے ہیں۔ (" وَہُمُ الْاَنْبِیَآءُ وَالرُّسُلُ وَالصِّدِّیْقُوْنَ وَالشُّہَدَاءُ یَکُوْنُونَ بَیْنَ یَدَی رَبِّہِمْ عَزّوجل " کما قال ابن کثیر)
Read the full tafseer →آیت 1 1{ اُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ } ”وہی تو بہت مقرب ہوں گے۔“ یعنی تیسرا گروہ مقربین بارگاہ پر مشتمل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے قرب سے نوازنا چاہتا ہے اور اس کے لیے قرآن میں جابجا ترغیبی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ سورة المائدۃ میں تو امر کے صیغے میں فرمایا گیا : { وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ } آیت 35 کہ تم اس کا قرب تلاش کرو اور اس کے لیے اس کی راہ میں جہاد کرو۔ ظاہر ہے جو کوئی اللہ کی راہ میں جان و مال کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور اپنے مقربین میں شامل فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
7 یعنی پیغمبروں پر ایمان لانے میں، ان کے ساتھ حق و باطل کے معرکہ میں، مصائب کے برداشت کرنے میں اور ہر خیر اور بھلائی کے کام میں دوسروں سے سبقت کرنے والے اور آگے نکل جانے والوں کا درجہ عام مومنین صالحین سے بہرحال زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا یہی لوگ اللہ کے مقربین میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے دربار میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے آگے یہی لوگ ہوں گے پھر ان کے بعد دائیں جانب صالحین مومنین اور بائیں جانب کافر و مشرک، سرکش اور خود سر یعنی اہل دوزخ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
5۔ مراد حضرت انبیاء کرام اور پھر انکے بعد اولیاء امت اور متقین کاملین ہیں۔ (آیت) ” والسبقون “۔ یعنی اپنی طاعت وعبدیت کے لحاظ سے درجہ اول والے۔ اے السابقون ای الجنۃ (روح) السابقون الی رحمۃ سبحانہ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
والسابقون السابقون امام احمد نے حضرت صدیقہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ قیامت کے روز ظل اللہ کی طرف سبقت کرنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا، اللہ و رسولہ اعلم آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق کی طرف دعوت دیجائے تو اس کو قبول کرلیں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو ادا کردیں اور لوگوں کے معاملات میں وہ فیصلہ کریں جو اپنے حق میں کرتے ہیں۔ مجاہد رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سابقین سے مراد انبیاء ہیں، ابن سیرین نے فرمایا کہ جن لوگوں نے دو قبلوں یعنی بیت المقدس اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی ہے وہ سابقین میں ہیں اور حضرت حسن رحمتہ اللہ…
Read the full tafseer →اولئک المقربون وہ تو (اللہ کے) مقرب ہوں گے۔ اُوْلٰٓءِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ : وہی اللہ کے مقرب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(10۔ 12) اور تیسری قسم جو اعلی درجے کے ہیں وہ تو اعلی درجے کے ہی ہیں یعنی جو دنیا میں ایمان جہاد ہجرت تکبیر اولی اور تمام نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں وہ جنت میں بھی پیش پیش ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اُولٰٓـئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ : یعنی ایمان لانے میں اور ہر خبر کے کام میں دوسروں سے سبقت لے جانے والوں کا د رجہ بھی عام اہل ایمان سے زیادہ ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ کا خاص قرب بھی انہی کو حاصل ہوگا اور انہیں ملنے والی جنت اصحاب الیمین کو ملنے والی جنت سے درجے اور نعمتوں میں افضل ہوگی، جیسا کہ اس سے پہلے سورة ٔ میں گزرا ہے اور یہاں بھی ”علی سرر موضونۃ“ سے اس کی تفصیل آرہی ہے۔”جنت النعیم“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (43)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اولیک المقربون۔ زجاج نے کہا : السبقون مبتداء ہے دوسرا سابقون اس کی خبر ہے معنی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں اولیک المقربون۔ ان کی صفت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب سابقین مقربین میں سے کوئی جنت میں اپنی منزل سے نکلے گا تو اس کی اتنی روشنی ہوگی جسے اس سے کم مرتبہ کے لوگ پہچان لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
4 سبقت کرنے والوں کی چار قسمیں 6۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والسبقون السبقون سے مراد ہے کہ یوشع بن نون آگے بڑھے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف۔ اور آل یسین کے مومن آگے بڑھے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اور علی بن ابی طالب ؓ آگے بڑھے رسول اللہ ﷺ کی طرف (اور سبقت لے گئے ) ۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سبقت کرنے والے قیامت کے دن چار قسم کے ہوں گے۔ بس میں عربوں سے سبقت لے جانے والا ہوں اور سلمان ؓ اہل فارس سے سبقت لے جانے والے ہیں اور حضرت بلال ؓ اہل حبشہ سے سبقت لے جانے والے ہیں اور صہیب ؓ اہل روم میں سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ 8۔…
Read the full tafseer →[اُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ : وہ لوگ قربت دیئے ہوئے ہوں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
سابقین اولین کے لیے سب سے بڑا انعام : حضرات سابقین کے بارے میں ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۚ0011﴾ فرمایا، قرب الٰہی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ساتھ ہی ﴿فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ 0012﴾ بھی فرمایا کہ یہ حضرات نعمت والے باغیچوں میں ہوں گے، پھر ان حضرات کی اجمالی تعداد بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ0013 وَ قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَؕ0014﴾ یعنی یہ جو سابقین مقربین بندے ہوں گے ان کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے سے لوگ بعدوالوں میں سے ہوں گے، معلوم ہوا کہ پہلی امتوں میں سے بشمول حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سابقین اولین زیادہ ہوں گے جنہیں ﴿ ثُلَّةٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
6:۔ ” اولئک “ یہ تیسرے جماعت یعنی السابقون کے احوال کا بیان ہے بطریق لف و نشر غیر مرتب۔ فی جنات المقربون کے متعلق ہے۔ نعمتوں کے باغوں میں یعنی جنت میں اللہ تعالیٰ کا اصل قرب تو ان سابقین ہی کو حاصل ہوگا۔ قرب خداوندی کا جو درجہ ان کو ملے گا وہ اور کسی کا نصیب نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ 11 ۚ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ، وَلا تَقْرَبُوا مالَ الْيَتِيمِ [ الأنعام/ 152] ، وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] ، فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] . وقوله : وَلا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ، كناية عن الجماع کقوله : فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ [ التوبة/ 28] ، وقوله : فَقَرَّبَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
ترکیب : اذا والعامل فیھا اذکر اومادل علیہ لیس لوقعتہا کاذبہ ای اذاوقعت لم تکذب۔ اوھی ظرف لخافضۃ رافعۃ اذالثانیۃ تکریر للاولیٰ اوبدل منھا کاذبہ مصدر کالعافیۃ والعاقبۃ ھی اسم لیس۔ خافضۃ رافعۃ قرأ الجمہور بالرفع علی انھما خبر مبتداء محذوف و قریٔ بالنصب علی الحال من الضمیر فی کاذبۃ فی وقعت۔ فاصحاب المیمنہ مبتداء ما اصحاب المیمنۃ الجملۃ خبرولما کان الثانی عین الاول لم یحتج الی ضمیر الی المبتداء والسابقون مبتداء السابقون خبرہ قیل الثانی لغت للاول اوتکریر وتوکید اولئک الخ الجملۃ خبر۔ فی جنات النعیم خبرثان اوحال من الضمیر فی المقربون اوظرف قرأ الجمہور جنات بالجمع و قریٔ بالافراد واضافۃ الجنات الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
اُوْلٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ ثُلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 11 تا 14) (وہی لوگ مقرب ہوں گے۔ نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ اگلوں میں سے بہت ہوں گے۔ اور پچھلوں میں تھوڑے ہوں گے۔ ) سابقون کا اعزاز جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی تائید و نصرت کے لیے سب سے آگے بڑھ کر قربانیاں دیں اور خدمت انجام دی وہی لوگ سب سے آگے بڑھنے والے ہوں گے۔ اور وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوں گے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جنھیں گل سرسبد اور سرخیلِ قافلہ کی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس لیے سب سے پہلے ان کا ذکر فرمایا گیا۔ انھیں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
فہم القرآن ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بعد محشر کے میدان میں لوگوں کی حالت۔ اس سورت کی پہلی آیت سے لے کر چھٹی آیت تک اسرافیل کے پہلی مرتبہ صورپھونکنے کا منظر بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد جوں ہی دوسرا صورپھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں یوں اکٹھے ہوں جیسے تیر اپنے نشانے پر پہنچ جاتا ہے۔ (المعارج : 43) لوگوں کو حساب و کتاب کے فوراً بعد تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ جس کی ابتدا حساب و کتاب کے وقت ہی کردی جائے گی۔ آغاز میں مجموعی طور پر لوگ دواقسام پر مشتمل ہوں گے نیک اور بد۔ نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے اور برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں…
Read the full tafseer →11 : خبر اولئک المقربون ہے۔ اُولٰٓپکَ الْمُقَرَّبُوْنَ (اور جو اعلی درجہ کے ہونگے وہ تو اعلیٰ درجہ کے ہی ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے مقرب ہونگے) دونوں میں اوّل ترکیب راجح ہے۔
Read the full tafseer →10 ۔” والسابقون السابقون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہجرت کی طرف سبقت کرنے والے وہی آخرت میں سبقت کرنے والے ہیں اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں اسلام کی طرف سبقت کرنے والے۔ ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار “ ہے۔ ربیع بن انس ؓ فرماتے ہیں دنیا میں رسول اللہ ﷺ کی بات کو قبول کرنے میں سبقت کرنے والے یہی لوگ ہیں۔ آخرت میں جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) کی بات کو ایمان لانے کے ساتھ قبول کرنے والے اور علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں پانچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ 10ڌاُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ 11ۚ ) اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں یہی لوگ مقرب ہیں یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر اعلی علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے اس سے بلند کوئی منزل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[ 9] سابقین کی جزا اور ان کے صلے و بدلے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے، ان کے سبق الی الخیرات کے اس وصف کی بنا پر جس کو انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی کے اندر اپنائے رکھا ہوگا، سو اس سے معلوم ہوا کہ سبق الی الخیر [ نیکی کی طرف پہل کرنا ] سب سے اہم اور بنیادی وصف ہے جو مومن صادق کے اندر ہونا چاہئے اور جو ذریعہ و وسیلہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا، اللہ نصیب فرمائے، آمین، بہرکیف گل سرسبد اور سرخیل قافلہ کی حیثیت چونکہ انہی سابقون کی حاصل ہوگی اسلئے سب سے پہلے انہی کا مرتبہ و مقام اور صلہ و بدلہ بیان فرمایا گیا، سو ارشاد فرمایا گیا کہ مقربین کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–38
آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ف 3 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور قدیم مفسرین سے یہ دونوں مقنول ہیں۔ شاہ صاحب نے بھی اپنے فوائد میں بلا ترجیح دونوں نقل کئے ہیں ایک یہ کہ پہلے تمام انبیائو کے پیروں میں سے اعلیٰ درجہ کے لوگ ملا کر لغت محمدیہ کے اعلیٰ درجہ کے لوگ سے تعداد ہیں زیادہ ہوں گ۔ دوسرا یہ کہ خود امت محمدیہ میں اعلیٰ درجہ کے لوگ پہلے بہت ہوں گے اور بعد میں کم۔ اس دوسرے مطلب کی تائید ابوبکرہ کی روایت سے ہوتی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ھما جمیعاً من ھذہ الامتہ کہ ان دونوں سے مراد اسی امت کے لوگ ہیں مگر یہ روایت اسناد کمزور ہے اس لئے علماء تفسیر نے اس پر اعتماد نہیں کیا۔ پہلے مطلب کو ابن جریز طبری نے دوسرے مطب کو حافظ بن…
Read the full tafseer →(56:11) اولئک المقربون ـ اولئک ای السابقون۔ مبتداء المقربون اسم مفعول جمع مذکر۔ تقریب (تفعیل) مصدر ۔ قریب کئے ہوئے۔ زیادہ عزت والے۔ مبتدا کی خبر۔ وہی تو مقرب لوگ ہیں۔ فائدہ : ان مذکورہ بالا تینوں اصناف میں سب سے بلند درجہ السبقون کا ہے۔ لیکن سب سے اخیر ان کا ذکر اس لئے آیا ہے کہ انہیں کے فضائل و درجات سب سے اول بیان کرنا مقصود تھا اس صورت میں اتصال ہوگیا۔ پہلے صرف اختصارا ہر سہ اصناف کا ذکر ہوا۔ اب تفصیلاً ان کے فضائل مذکورہ ہونگے السبقون آیت 11 سے 26 تک اصحب الیمین آیت 27 اے 41 تک ، اور اصحب الشمال آیت 41 سے آیت 56 تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
میدان حشر میں کفار کی ذلت اور اہل ایمان کی عظمت۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرمایا کہ ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی آیت کے ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کے انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی اور اس آگ سے ان لوگوں کو میدا محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش ائیں گی اس وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
[3] اگلوں سے مراد آدم (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک ساری امتوں کے لوگ ہیں۔ اس آخری امت کا زمانہ کیونکہ قرب قیامت کا زمانہ ہے اس لئے ظاہر ہے کہ اگلی امتوں کے مجموعے نے اس امت سے زیادہ زمانہ پایا ہے اور اسی لئے ان میں مقربین کی تعداد اسی نسبت سے زیادہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ف 1: فرمایا : اعمال کے لحاظ سے آخرت میں انسانوں کے تین درجے ہونگے ایک تو وہ جو صاحب لین وسعادت ہوں گے ۔ ان کی داہنی طرف رکھا جائے گا ۔ دوسرے وہ جن کے حصہ میں نحوست وبدبختی آئے گی ۔ ان کو بائیں طرف جگہ دی جائے گی ۔ تیسرے گروہ والے سابقین میں سے ہوں گے ۔ یعنی ہر خیر و برکت کی بات میں آگے ۔ ہر نیکی کی طرف سبقت کرنے والے ۔ اور ہر اصلاح وتقویٰ کے معاملہ میں پیش رو ۔ یہ لوگ اللہ کے مقرب ہوں گے ، ان کے درجے بلند ہونگے ۔
Read the full tafseer →(11) وہی تو مقرب اور نزدیک رہنے والے ہیں۔ یعنی بارگاہ خداوندی میں انہیں قرب اور نزدیکی میسر آنے والی ہے ا س جماعت میں انبیاء صالحین اور شہداء اور کامل تقوے والے اب آگے ان تینوں قسم کے لوگوں کو علیحدہ علیحدہ تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 5۔ اس میں تمام اعلی درجہ کے بندے شامل ہیں، انبیاء اور اولیاء و صدیقین و کامل متقی، اور اس میں اجمالا ان کی حالت کا عالی ہونا بتلادیا۔
Read the full tafseer →یہی وہ لوگ ہوں گے جو بارگاہ ایزدی میں مقرب ہوں گے 11 ؎ یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے دعویٰ نبوت کیا تو ان لوگوں نے آپ ﷺ کے دعویٰ کو قبول کرنے میں زیادہ دیر نہ کی اور اس طرح جب وہ پیدا ہوئے اور ہوش سنبھالا تو وہ عین عالم شباب ہی میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرنے لگے اور دین کی طرف رغبت شروع کردی اور اس معاملہ میں فقط آبائو اجداد کے دین پر انحصار نہ کیا بلکہ عقل و فکر سے کام لے کر مقرب بارگاہ ایزدی ہوئے اور جہاں بھی تھے اور جیسے بھی تھے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہوگئے اور (اولئک یسار عون فی الخیرات و ھم لھا سابقون) (المومنون : 61) ” یہ وہ لوگ ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (And the Foremost are the foremost....56:10) Imam Ahmad (رح) ، has recorded a Tradition on the authority of Sayyidah ` A'ishah Siddiqah ؓ that the Messenger of Allah ﷺ asked the noble Companions ؓ : "Do you know who will be the first to be accommodated in the Divine Shade on the Day of Resurrection?" The noble Companions ؓ replied: اللہُ وَ رَسُولُہ اَعلَم "Allah and His Messenger know best." The Messenger of Allah ﷺ said: "They are those who accept the truth when it is presented to them; when they are asked for the rights due from them, they fulfill them; and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
8 The commentators have differed as to who are implied by athe former And the latter people '`One group of them has expressed the view that the "former people" were the communities that passed away since the time of the Prophet Adam (peace be upon him) till the time of the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings), and the °people of the latter day" those who will have lived in the world since the advent of the Holy Prophet till the Day of Resurrection. Accordingly the verse would mean: "The number of the Sabqin (the Foremost in Faith and good deeds) among the people who…
Read the full tafseer →