Al-Waaqia 56:81

Al-Waaqia · from ayah 81

56:81

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ ۟ۙاَفَبِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَۙ

کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then is it to this statement that you are indifferent

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:81

پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا پھر بھی تم اس کلام سے بےپروائی برتتے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو کیا تم اسی کلام کی تحقیر کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا اس کلام سے تم بےتوجہی کرنے والے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر کیا اس کلام سے تم مداہنت کر رہے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کیا تم لوگ اس کلام سے اغماض برتتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا تم لوگ اسی کلام (صدق نظام) سے لاپرواہی برت رہے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا اس کلام کو سرسری سمجھے ہوئے ہو ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

۔ } تو کیا تم لوگ اس کتاب کے بارے میں مداہنت کر رہے ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you, then, take this discourse in light esteem,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it this discourse that you take lightly,

— Muhammad Taqi Usmani

Is it this discourse that you take lightly,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is it such a talk that you are Mudhinun

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then is it to this statement that you are indifferent

— Saheeh International

Would you say that this statement is a lie?

— Muhammad Sarwar

Do you then hold this announcement in contempt?

— Muhammad Habib Shakir

Is it this discourse that ye hold lightly?

— Abdul Majid Daryabadi

Is it such a Message that ye would hold in light esteem?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:81

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–82

قرآن کا مقام حضرت ضحاک فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائد ہے اور آیت (انہ لقراٰن) الخ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں لا کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے حضرت عائشہ کے اس قول میں ہے (لا واللہ ما مست ید رسول اللہ ﷺ ید امراۃ قط) یعنی اللہ کی قسم حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–81

سورة الْوَاقِعَة 40 اصل الفاظ ہیں اَنْتُمْ مُّدْھِنُون۔ اِدْھَان کے معنی ہیں کسی چیز سے مداہنت برتنا۔ اس کو اہمیت نہ دینا۔ اس کو سنجیدہ توجہ کے قابل نہ سمجھنا۔ انگریزی میں (To takelightly) کے الفاظ اس مفہوم سے قریب تر ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–82

اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ ، مدہنون، ادہان سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی تیل کی مالش کرنے کے ہیں اور تیل مالش سے اعضاء نرم ہوجاتے ہیں اس لئے نرم کرنے اور ناجائز مواقع میں نرمی برتنے کے معنی اور نفاق کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا، آیت مذکورہ میں یہ لفظ آیات الٰہیہ کی تصدیق میں نفاق یا تکذیب کے معنی میں استعمال ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(افبھذا الحدیث انتم مدھنون) (81)۔ (قرآن سے بےاعتنائی برتنے والوں کو تنبیہ)۔ ادھان کے معنی اغماض، سہل انگاری اور بےنیازی و بےاعتنائی برتنے کے ہیں۔ قرآن کی عظمت بیان کرنے کے بعد بانداز تعجب سوال کیا ہے کہ کیا یہ قرآن جس کو تمہارے رب نے اس اہتمام خاص کے ساتھ تمہاری ہدایت کے لیے اتارا ہے اس بےاعتنائی کا سزا وار ہے جو تم اس سے برت رہے ہو ! مطلب یہ ہے کہ تم اتنے بدذوق و بےبصیرت تو نہیں ہوچکے ہو کہ گہر اور پشینر میں کوئی تمیز نہ رہ گئی ہو۔ تمیز تو ہے لیکن تم قرآن کو قبول کرنا نہیں چاہتے اس وجہ سے اس کا کاہنوں کی طرح کا کلام قرار دے کر نظر انداز کر رہے ہو تو کرو لیکن یاد رکھو کہ تمہارے نظر انداز کرنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 79–83

79-1یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوتی۔ مطلب مشرکین کی تردید ہے جو کہتے تھے کہ قرآن شیاطین لے کر اترتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ کیوں کر ممکن ہے یہ قرآن تو شیطانی اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 79–86

23: راجح تفسیر کے مطابق اس سے مراد فرشتے ہیں، اور کافروں کے اس اشکال کا جواب دیا جارہا ہے کہ ہم یہ کیسے یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کسی کمی زیادتی کے بغیر اپنی اصلی صورت میں ہمارے پاس پہنچ رہا ہے اور کسی شیطان وغیرہ نے اس میں کوئی تصرف نہیں کیا ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اور اسے پاک فرشتوں کے سوا کوئی اور چھو بھی نہیں سکتا، اگرچہ یہاں خوب پاک سے مراد فرشتے ہیں، لیکن اس میں ایک اشارہ اس طرف بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عالم بالا میں پاک فرشتے ہی اسے چھوتے ہیں، اسی طرح دنیا میں بھی انہی لوگوں کو چھونا چاہیے جو پاک حالت میں ہوں، چنانچہ احادیث میں قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

افبھذا ................ صدقین (87) (6 5: 18 تا 78) ” پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بےاعتنائی برتتے ہو اور تم نے تکذیب کو اپنا رزق بنا لیا ہے۔ اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اس خیال میں سچے ہو تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہا ہے اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے ؟ اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے۔ “ کیا تم اس کتاب کی باتوں میں شک کرتے ہو اور اس لئے کہ یہ تمہیں یہ کہتی ہے کہ تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ تم قرآن اور اس کے بیان کردہ قصص آخرت کی تکذیب کرتے ہو اور قرآنی عقائد و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 81–82

12 یعنی کیا یہ ایسی دولت ہے جس سے منتفع ہونے میں تم سستی اور کاہلی کرو۔ اور اپنا حصہ اتنا ہی سمجھو کہ ان کو اور اس کے بتلائے ہوئے حقائق کو جھٹلاتے رہو، جیسے بارش کو دیکھ کر کہہ دیا کرتے ہو کہ فلاں ستارہ فلاں برج میں آگیا تھا اس سے بارش ہوگئی۔ گویا خدا سے کوئی مطلب ہی نہیں۔ اسی طرح اس باران رحمت کی قدر نہ کرنا جو قرآن کی صورت میں نازل ہوئی ہے اور یہ کہہ دینا کہ وہ اللہ کی اتاری ہوئی نہیں، سخت بدبختی اور حرماں نصیبی ہے۔ کیا ایک نعمت کی شکر گزاری یہ ہی ہے کہ اس کو جھٹلایا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 81{ اَفَبِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ۔ } ”تو کیا تم لوگ اس کتاب کے بارے میں مداہنت کر رہے ہو ؟“ اس آیت کا مفہوم ہمیں تب سمجھ آئے گا جب ہم میں سے ہر ایک خود کو اس کا مخاطب سمجھے کہ یہ آیت براہ راست اس سے پوچھ رہی ہے کہ اے اللہ کے بندے ! کیا تم اپنے دنیوی معاملات و مفادات کو اللہ کی اس نعمت کے مقابلے میں ترجیح دے رہے ہو ؟ کیا تم اس عظیم کتاب کو سیکھنے سکھانے اور سمجھنے میں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کر رہے ہو ؟ ذرا سوچوتو ! تم نے کیسے کیسے مشکل علوم و فنون میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ ان علوم کو سیکھنے کے لیے تم نے کیسی کیسی محنت کی ہے اور کتنا وقت کھپایا ہے ! اس کے مقابلے میں قرآنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 80–81

38 مُدْھِنُوْنَ ۔ دُھْنٌ بمعنی روغن، تیل، چکنائی اور اَدْھَنَ بمعنی کسی چیز کو تیل لگا کر نرم کرنا مداھنت کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً کسی بات میں لچک پیدا کرلینا۔ ڈھیلا پڑنا۔ منافقت کا رویہ اختیار کرنا۔ کسی چیز کو اپنی سنجیدہ توجہ کے قابل ہی نہ سمجھنا۔ یعنی اے کفار مکہ ! قرآن جیسی بلند پایہ کتاب کے بارے میں تمہارا رویہ یہ ہے کہ تم اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 80–81

31۔ یعنی ایسے مہتم بالشان کلام پر بھی ایمان لانا واجب نہیں جانتے ہو ؟ (آیت) ’ تنزیل من رب العلمین “۔ مطلب یہ ہوا کہ شیطان مردود کا گزر تو اس کلام پاک کے ارد گرد بھی نہیں، جہاں سے یہ نقل ہو کر آیا ہے۔ وہ تمامتر فرشتوں کے پہرہ میں پھر دنیا میں اس کا نزول حق تعالیٰ کی نگرانی میں۔ شیطان کو اس کی ہوا بھی کسی منزل میں نہیں لگنے پاتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 79–83

لایمسہ الا المطھرون یہاں دو مسئلے غور طلب ہیں اور ائمہ تفسیر میں مختلف فیہ ہیں اول یہ کہ جس کتاب کی صفت مکنون بیان کی گئی ہے یہ جملہ اسی کتاب کی دوسری صفت ہے اور لایمسہ کی ضمیر اسی کتاب کی طرف راجع ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوں گے کتاب مکنون یعنی لوح محفوظ کو سوائے پاک ہستیوں کے کوئی نہیں چھو سکتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مطھرون سے مراد صرف فرشتے ہی ہوسکتے ہیں جن کی رسائی لوح محفوظ تک ہو سکے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مس سے مراد حقیقی معنی یعنی ہاتھ سے چھونا مراد نہیں لیا جاسکتا ہے، بلکہ لازمی اور مرادی معنی یعنی مطل ہونا مراد ہوسکتے ہیں اس لئے کہ لوح محفوظ کو چھونا کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سو کیا تم اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو اَفَبِھٰذَ الْحَدِیْثِ : الحدیث سے مراد ہے قرآن۔ اَنْتُمْ : اہل مکہ کو خطاب ہے۔ مُدْھِنُوْنَ : ادہان کا لغوی معنی ہے ‘ نرم کرنے کے لیے تیل کا استعمال۔ مجازاً اخلاق اور معاملات کو بظاہر نرم کرنا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَدُّوْالَوْتُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ ۔ پھر اس لفظ کا استعمال بمعنی نفاق ہونے لگا اور اس جگہ یہی معنی مراد ہے۔ قاموس میں ہے : دَھَنَ ‘ نفاق کیا۔ مداہنَت اور ادہان (مفاعلت اور افعال) جو بات دل میں ہے اس کے خلاف ظاہر کرنا۔ پھر تکذیب کرنے والے اور جھٹلانے والے کو مُدْہِن کہا جانے لگا خواہ (وہ منافقت نہ کرے اور) کفر و تکذیب کو نہ چھپائے۔ بغوی نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 81–85

(81۔ 85) تو کیا اے اہل مکہ تم اس قرآن کریم کی جو تمہیں کو رسول اکرم پڑھ کر سناتے ہیں جھٹلاتے ہو یعنی یہ جنت و دوزخ بعث اور حساب کو جو بیان کرتے ہے انہیں اور اس سے بڑھ کر یہ ستاروں کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی سو جس وقت روح حلق تک آپہنچتی ہے اور مکہ والو تم اس وقت دیکھا کرتے ہو کہ جب جان نکلے تو اس وقت ملک الموت مرنے والے شخص کے اس کے گھر والوں سے بھی زیادہ نزیک ہوتے ہیں اور وہ تمہیں نظر نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 81–82

اَفَبِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ۔۔۔۔۔۔ پھر کیا اس ساری تفصیل کے بعد کہ قیامت حق ہے اور اللہ تعالیٰ اکیلا معبود برحق ہے اور قسم کے ساتھ تاکید کے بعد بھی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے ، تم اس سے بےتوجہی کرتے ہو اور اس پر ایمان لانے میں سستی کرتے ہو اور اتنی بڑی نعمت میں سے تم یہی حصہ حاصل کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–81

(فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ ) اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ فلا اقسم اکثر مفسرین کے نزدیک لا زائدہ ہے (2) معنی میں قسم اٹھاتا ہوں اس کی دلل وانہ لقسم ہے فراء نے کہا : یہ نفی ہے۔ معنی ہے معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا۔ اقسم میں قسم اٹھاتا ہوں۔ بعض اوقات ایک آدمی کہتا ہے : لا واللہ، کان کذا اس سے وہ قسم کا نفی کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ پہلی کلام کی نفی کا ارادہ کرتا ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تو نے ذکر کیا بلکہ معاملہ اس طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لاء الا کے معنی میں ہے جو تنبیہ کے لیے ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 461 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

32۔ ابن جرور وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” افبہذا الحدیث انتم مدھنون “ (سو کیا تم اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو) یعنی کیا تم جھٹلانے والے ہو (اس قرآن کو ) ۔ 33۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ” افبہذا الحدیث انتم مدہنون “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم ارادہ کرتے ہو کہ تم اس کے بارے میں اکتاہٹ کا ظہور کرو اور تم ان کی طرف مائل ہوجاؤ قولہ تعالیٰ آیت وتجعلون رزقکم انکم تکذبون۔ 34۔ مسلم وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں پر بارش ہوئی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں نے صبح کی اس حال میں کہ ان میں سے بعض شکر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ : تو کیا اس بات (قرآن ) میں ][ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ : تم لوگ دھیلا پڑنے والے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 81–82

﴿اَفَبِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ0081﴾ لفظ مُدْھِنُوْنَ کا ترجمہ صاحب روح المعانی نے متھاونون کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم قرآن کو معمولی چیز سمجھتے ہو پھر لکھا ہے کہ یہ لفظ ادھان سے ماخوذ ہے چمڑے کو تیل وغیرہ لگا کر جو نرم کرتے ہیں اس کو ادھان کہتے ہیں، بطور مجاز یا بطور استعارہ یہ لفظ لایا گیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم کی طرف جو مضبوط توجہ ہونی چاہئے تمہارے اندر وہ توجہ نہیں ہے اور ہمزہ استفہام لاکر اس پر توبیخ فرمائی۔ ” یوں ہی سرسری بات سمجھتے ہو۔ “ یہ اس کا اصل ترجمہ ہے : (وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ 0082) اس کا ایک ترجمہ اور مطلب تو وہی ہے جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–96

حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 80–82

28:۔ ” تنزیل “ یہ بھی ” قران “ کی صفت ہے یہ قرآن اس شہنشاہ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور ساری کائنات کا مالک ہے۔ ” افبھذا الحدیث انتم مدھننون “ تو کیا تم ایسی خوبیوں والی کتاب اور مالک کائنات کے ایسے عظیم الشان حکمانے سے بےاعتنائی برت رہے ؟ اور بجائے اس کے کہ تم اس نعمت عظمی کی قدر کرتے۔ اس کا شکر بجا لاتے اور اس پر ایمان لا کر اس پر عمل کرتے، تم نے اسے جھٹلا دیا ہے اور اس کا انکار کردیا ہے۔ یہ انتہائی نادانی اور بدبختی ہے۔ رزقکم ای شکرکم قال ابن عباس تجعلون شکرکم التکذیب (قرطبی ج 17 ص 228) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ ” تم تکذیب قرآن کو اپنا نصیب (حصہ) بناتے ہو “۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–82

ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت والے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے کا ذکر کیا۔ ان میں دو گروہ یعنی سابقین اور اصحاب یمین کامیاب ہو کر خدا کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے ، اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجات حاصل کریں گے اور البتہ اصحاب شمال ناکام ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے مقام جہنم میں پہنچیں گے۔ اللہ نے پہلی دو اقسام کے لوگوں کو ملنے والے انعامات کا تذکرہ کیا ، اور تیسرے گروہ کی سزا کا بیان ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے توحید اور قیامت کے منکرین کا رد کیا ، اور اس ضمن میں بعض دلائل کا ذکر بھی کیا۔ اب آخر میں رسالت کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ منکرین قیامت کا رد بھی۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ۝ 81 ۙ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–84

ترکیب : فلا لامزیدۃ للتاکید کمافی قولہ۔ وقیل انھا للنفی لا اقسم اذلاحاجۃ الی القسم فان الامرواضح وقیل معناہ لیس الامرکمازعم الکفار ثم اکدہ بالقسم فقال اقسم بمواقع النجوم وانہ خبرہ عظیم لو تعلمون جملۃ معترضۃ بین القسم والمقسم علیہ انہ لقرآن کریم صفۃ فی کتاب صفۃ ثانیۃ لایمسہ ثالثہ تنزیل رابعۃ لقرآن مع صفا تھا خبران و الجملۃ جواب القسم وتجعلون معطوف علی مدھبون رزقکم مفعول اول لتجعلون انکم تکذبون الجملۃ مفعول ثان بمعنی ہلا اذا ظرفیۃ والعامل ترجعونہا انتم الخ الجملۃ حال ونحن الخ حال من فاعل تنظرون فلولا تکریر و تاکید للولا الاولی ترجعونھا المحضض علیہ لولا ان کنتم شرط جو ابہ محذوف یدل علیہ ترجعونہا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 81–82

اَفَبِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْھِنُوْنَ ۔ وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَـکُمْ اَنَّـکُمْ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 81، 82) (کیا تم اس کلام سے بےاعتنائی برتتے ہو۔ اور اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اس کو جھٹلاتے ہو۔ ) قرآن سے بےاعتنائی برتنے والوں کو تنبیہ مُدْھِنُوْنَ ، اِدْھَانٌ سے ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز سے مداہنت برتنا، اہمیت نہ دینا، اعراض کرنا وغیرہ۔ قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے کے بعد تعجب کی صورت میں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ تم نے اچھی طرح یہ بات سن لی کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہایت اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ انسانی زندگی کی رہنمائی کے لیے اس کے سوا دنیا میں ایسی کوئی کتاب نہیں جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–82

فہم القرآن ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کے تذکرے کے بعد عظیم خالق کی تسبیح کرنے کا حکم اس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے آسمان سے قرآن مجید جیسی عطیم کتاب نازل کی ہے۔ اہل مکہ اپنے باطل عقیدہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے قرآن کی مخالفت کرتے تھے حالانکہ اس بات کے ان کے سامنے درجنوں دلائل دیئے گئے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جارہا لیکن وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ کسی صورت قرآن مجید کو مِن جانب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھا کر یقین دلایا کہ یہ قرآن کسی غیر کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا اسے تو اس رب نے نازل کیا ہے جو ستارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

81 : اَفَبِھٰذَا الْحَدِیْثِ (کیا تم اس کلام کو) الحدیث سے قرآن مجید مراد ہے۔ اَنْتُمْ مُّدْ ھِنُوْنَ (سرسری بات سمجھتے ہو) سستی برتنے والے ہو۔ جیسا کہ کوئی کسی بات میں مداہنت کرے، نرم پہلواختیار کرے اور سستی کرتے ہوئے اس میں پختگی ظاہر نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

80 ۔” تنزیل مین رب العالمین “ یعنی قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔ ” منزل “ کا نام تنزیل رکھا گیا ہے لغت کی وسعت پر۔ جیسا کہ مقدور کو قدر کہا جاتا ہے اور مخلوق کو خلق۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–82

75۔ 82۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ مینہ برسا اس مینہ کے برسنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے مینہ کا برسنا اپنے دل میں سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نعمت کے شکر گزار ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا ہے انہوں نے اللہ کی نعمت کی کچھ قدر نہ جانی اس پر اللہ تعالیٰ نے فلا اقسم سے ولا تجعلون رزقکم انکم تکذبون تک یک یہ آیتیں نازل فرمائیں بغیر ذکر شان نزول کے یہ حدیث ابو سعید خدری وغیرہ کی روایت سے صحیحین میں بھی ہے۔ عربی زبان کا محاورہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 80–81

(تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) یہ قرآن جو ان صفات جلیلہ سے موصوف ہے رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دنی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے۔ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں برسرعام اس کا اعلان کریں اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں بنابریں فرمایا (اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ ) پھر تم اس کلام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 77–96

قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔ حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 69] منکرین قرآن کے رویے پر اظہار تعجب و افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے رویے پر تعجب اور افسوس کے اظہار کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ اس کلام کے بارے میں لاپرواہی برتتے ہو ؟ کہ کوئی اس کی توہین و تکذیب کرے اور تمہیں ٹس سے مس نہ ہو، کیا ایسے لازوال و بےمثال اور عظیم الشان کلام کا متقضاء یہی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ، " مدھنون، ادھان " سے ماخوذ ہے جس کے معنی کسی چیز کے بارے میں اغماض، لاپرواہی، بےنیازی، اور سہل انگاری برتنے کے آتے ہیں، سو قرآن حکیم کی عظمت شان کو واضح کرنے کے بعد بانداز تعجب یہ سوال کیا گیا کہ کیا تم لوگ اس کلام حق ترجمان کے بارے میں ایسی لاپرواہی برتت ہو اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

قرآن کی اہمیت، برکت اور سچائی تشریح :۔ ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور اس کی سچائی کے بارے میں قسم کھاتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی اس قسم کھانے کے مضمون کے مطابق بہت سی سورتیں گز رچ کی ہیں۔ یہاں کیونکہ کفار کی خصلت بد کا پہلے ذکر آیا تھا جس کے مطابق وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے سے انکار کرتے تھے تو اس آیت میں فَلَآ ' انہیں کے واسطے سے بولا گیا ہے یعنی ' پس نہیں یہ کتاب نہ تو معمولی ہے نہ محض کہانت ہے بلکہ اس کی سچائی کے لیے ہم ( اللہ ) قسم کھاتے ہیں ستاروں کے مواقع کی۔ اب پہلے فلا کی توضیح تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔ لکھا گیا ہے۔ ' بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–96

آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:81) افبھذا الحدیث :عاطفہ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ ھذا الحدیث سے مراد قرآن کریم ہے۔ پھر کیا اس کلام (یعنی قرآن) کے ساتھ تم بےاعتنائی برتتے ہو۔ اس کے ساتھ لاپرواہی برتتے ہو۔ اس کو نظر انداز کرتے ہو۔ انتم خطاب اہل مکہ سے ہے۔ مدھنون : اسم فاعل جمع مذکر۔ ادھان (افعال) مصدر۔ مادہ دھن سے مشتق ہے۔ الدھن بمعنی تیل ، چکناہٹ۔ جمع ادھان۔ بعض نے کہا ہے کہ دھان کے معنی تلچھٹ کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ فکانت وردۃ کالدھان (55:37) تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا۔ ادھان کے اصل معنی ہیں چکنا کرنا۔ تیل لگانا۔ مجازا اس کا اطلاق فریب کاری چکنی چپڑی مگر اصول اور عقیدہ سے گری ہوئی باتیں کرنے پر ہوتا ہے۔ قرآن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–96

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–82

توحید کابیان۔ (ف 1) حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دہریہ لوگوں کے اعتقاد کی طرح جن ستاروں کے اثر سے یہ اللہ کی قدرت کے منکر لوگ مینہ کے برسنے کے قائل تھے انہیں ستاروں کی قسم کھاکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جس طرح جگہ جگہ اس کلام الٰہی میں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی قدرت اور حکم کے نہ ستاروں کے اثر سے کچھ ہوتا ہے نہ چاند کے اثر سے۔ اس کے سوا جن لوگوں کا جو کچھ اعتقاد ہے اس سے کلام الٰہی کا جھٹلانا ان کی قسمت میں ہے ورنہ ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جس کی قدرت میں ستاروں کا طلوع و غروب ہے اس کے حکم سے مینہ برستا ہے ستاروں میں کوئی مستقل تاثیر ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–96

[20] کہ یہی آخرت کی بڑی تیاری ہے اور اس نیک مشغلے میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودگیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 79–86

لایمسہ الا المظھرون ۔ سے غرض یہ ہے ۔ کہ جس طرح لوح محفوظ میں فرشتے اس کی حفاظت اور نگرانی پر مقرر ہیں ۔ اسی طرح اس دنیا میں اسی جماعت کے سینے اس کے علوم ومعارف کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ۔ جو پاکباز ہوتے ہیں ۔ تاریک اور فسق وفجور سے معمور دلوں میں اس کی کرنیں نہیں پہنچتیں فرمایا : تمہاری یہ کتنی بدبختی اور محرومی ہے ۔ کہ تم اس پاک کلام کو تسلیم کرنے میں تامل کرتے ہو ۔ اور تم نے یہ ٹھان لی ہے ۔ کہ بہر حال اس کی مخالفت کروگے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(81) تو کیا تم اس کلام کے بارے میں مداہنت اور کاہلی برتتے ہو۔ مداہنت کے معنی ہیں کسی کام میں نرمی برتنا اور سستی اور کاہلی سے بےپروائی برتنا اردو میں یہ لفظ بولا جاتا ہے کہ حق اور سچی بات نہیں کہتے مداہنت برتتے ہو کسی امر میں ڈھیلی بات کہنی لا یتصلب بہ تھاونا بہ مطلب یہ کہ قرآن کے بارے میں مداہنت کرتے ہو اور اس کو قبول کرنے میں تھاون اور سستی ظاہر کرتے ہو اور اس کو ایک سرسری اور معمولی بات سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا اس کلام کے بارے میں تم مداہنت سے کام لے رہے ہو ؟ 18۔ { مدہِنون } اسم فاعل جمع مذکر مرفوع ادھان مصدر باب افعال ، بےوقعت ‘ سرسری سمجھنے والے ‘ چکنی چپڑی باتیں بنانے والے ‘ مکھن لگانے والے۔ ادھان کے معنی ہیں کسی چیز کو بےوقعت ‘ ناقابل توجہ سمجھنا ، نری کرنا ‘ چکنی چپڑی باتیں بنانا۔ ایک شاعر نے کہا ہے کہ… پختہ دانش اور قوت بہتر ہے کسی چیز کو بےوقعت سمجھ ناقابل توجہ قرار دینے سے اور ضعف اور بزدلی سے اصل میں دھن تیل کو اور دھن تیل لگانے کو کہتے ہیں۔ تیل کی مالش کا استعمال اپنے حقیق معنی کے علاوہ دو مجازی معنی میں بھی ہوتا ہے (1) کسی چیز کا خفیف ‘ ہلکا اور تھوڑا سا استعمال جیسے دھن المطر الارض…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 81–82

أَفَبِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ (Is it this discourse that you take lightly,...56:81) The word mudhinun is the plural of mudhin, being the active participle from اِذھَان idhan, which literally means 'to apply or rub oil on the body'. When oil is applied or rubbed on the body, the muscles are relaxed, and parts of the body become soft and supple. By extension, the word is employed in the sense of showing flexibility and softness on inappropriate occasions. Hence, it is used in the sense of hypocrisy.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–81

40 Literally, idhan (from which mudhinun of the Text is derived) means to treat something with contempt, to deny its due importance, to regard it as unworthy of serious attention, to hold it in light esteem.

Read the full tafseer →