Al-Waaqia 56:80

Al-Waaqia · from ayah 80

56:80

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ

پروردگار عالم کی طرف سے اُتارا گیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It is] a revelation from the Lord of the worlds.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:80

یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پروردگار عالم کی طرف سے اُتارا گیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ رب العالمین کی طرف سےاترا ہوا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا جارہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اتارا ہوا ہے سارے جہان کے رب کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تمام جہانوں کے ربّ کی طرف سے اتارا گیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تمام جہانوں کے رب کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ پروردگار عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ عالم کے خداوند کا نازل کردہ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ سراسر اتارا ہوا کلام ہے رب العالمین کی طرف سے

— مولانا اسحاق مدنی

اتارا ہوا ہے پروردگار عالم کی طرف سے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کا اتارا جانا ہے ربّ العالمین کی جانب سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

رب العٰلمین کی طرف سے اتارا گیا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

a revelation from the Lord of the Universe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__ a revelation from the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

__ a revelation from the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A revelation from the Lord of all that exists.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A revelation from the Lord of the Worlds.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It is] a revelation from the Lord of the worlds.

— Saheeh International

(This Quran) is a revelation from the Lord of the Universe.

— Muhammad Sarwar

A revelation by the Lord of the worlds.

— Muhammad Habib Shakir

It is a revelation from the Lord of the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 56:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–82

قرآن کا مقام حضرت ضحاک فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائد ہے اور آیت (انہ لقراٰن) الخ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں لا کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے حضرت عائشہ کے اس قول میں ہے (لا واللہ ما مست ید رسول اللہ ﷺ ید امراۃ قط) یعنی اللہ کی قسم حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–81

سورة الْوَاقِعَة 40 اصل الفاظ ہیں اَنْتُمْ مُّدْھِنُون۔ اِدْھَان کے معنی ہیں کسی چیز سے مداہنت برتنا۔ اس کو اہمیت نہ دینا۔ اس کو سنجیدہ توجہ کے قابل نہ سمجھنا۔ انگریزی میں (To takelightly) کے الفاظ اس مفہوم سے قریب تر ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 79–80

لَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ، یہاں دو مسئلے غور طلب اور ائمہ تفسیر میں مختلف فیہ ہیں، اول یہ کہ نحوی ترکیب کے اعتبار سے اس جملے میں دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ جس کتاب کی ایک صفت مکنون آئی یہ جملہ اسی کتاب کی دوسری صفت ہے اور ضمیر لا یمسہ کی اسی کتاب کی طرف راجع ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوتے ہیں کتاب مکنون یعنی لوح محفوظ کو سوائے پاک لوگوں کے اور کوئی نہیں چھو سکتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مطہرون کی مراد صرف فرشتے ہی ہو سکتے ہیں، جن کی رسائی لوح محفوظ تک ہو سکے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں لفظ مس اپنے حقیقی معنی ہاتھ سے چھونے کے مفہوم میں نہیں لیا جاسکتا، بلکہ مس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 77–80

(انہ لقراٰن کریم فی کتب مکنون لا یمسہ الا المطھرون تنزیل من رب العلمین) (77، 80) (قرآن شیطانی چھوت سے بالکل پاک ہے)۔ قسم کے بعد یہ مقسم علیہ ہے اور یہ حقیقت اپنی جگہ پر اچھی طرح واضح کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید میں قسمیں شہادت کے طور پر کھائی گئی ہیں۔ گویا شیاطین پر سنگ باری اور آتش باری کے مذکورہ بالا انتظام کا حوالہ دے کر مخاطبوں کو متنبہ فرمایا کہ اس قرآن کو کاہنوں کے قسم کا کوئی شیطانی القاء نہ گمان کرو بلکہ یہ ایک نہایت با عزت اور برتر کلام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک محفوظ کتاب میں ہے جس تک اس کے پاک فرشتوں کے سوا کسی کی بھی رسائی نہیں یعنی اس کو صرف ملائکہ مقربین ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 79–83

79-1یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوتی۔ مطلب مشرکین کی تردید ہے جو کہتے تھے کہ قرآن شیاطین لے کر اترتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ کیوں کر ممکن ہے یہ قرآن تو شیطانی اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 79–86

23: راجح تفسیر کے مطابق اس سے مراد فرشتے ہیں، اور کافروں کے اس اشکال کا جواب دیا جارہا ہے کہ ہم یہ کیسے یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کسی کمی زیادتی کے بغیر اپنی اصلی صورت میں ہمارے پاس پہنچ رہا ہے اور کسی شیطان وغیرہ نے اس میں کوئی تصرف نہیں کیا ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اور اسے پاک فرشتوں کے سوا کوئی اور چھو بھی نہیں سکتا، اگرچہ یہاں خوب پاک سے مراد فرشتے ہیں، لیکن اس میں ایک اشارہ اس طرف بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عالم بالا میں پاک فرشتے ہی اسے چھوتے ہیں، اسی طرح دنیا میں بھی انہی لوگوں کو چھونا چاہیے جو پاک حالت میں ہوں، چنانچہ احادیث میں قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 77–80

انہ ................ العلمین (6 5: 08) ” یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ “ فی کتب مکنون (6 5: 87) ” کتاب محفوظ میں۔ “ اور اس کی تفسیر بعد کی آیت کررہی ہے۔ لا یمسہ الا المطھرون (6 5: 97) ” جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ “ مشرکین کا الزام تھا کہ اسے شیاطین نے نازل کیا ہے۔ یہ ان کے الزام کی تردید ہے کیونکہ شیطان اس کتاب کو مس نہیں کرسکتا جو اللہ کے علم میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے۔ اسے پاک فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں۔ اس آیت کی یہ سب سے اچھی تفسیر ہے کیونکہ (لا) نافیہ ہے یعنی یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی یہ کوئی جادو ٹوٹکا نہیں نہ کاہنوں کی زٹیل اور بےسروپا باتیں ہیں نہ شاعرانہ تک بندیاں بلکہ بڑی مقدس و معزز کتاب ہے جو رب العالمین نے عالم کی ہدایت و تربیت کے لیے اتاری، جس خدا نے چاند سورج اور تمام ستاروں کا نہایت محکم اور عجیب و غریب نظام قائم کیا، یہ ستارے ایک اٹل قانون کے ماتحت اپنے روزانہ غروب سے اسی کی عظمت و وحدانیت اور قاہرانہ تصرف و اقتدار کا عظیم الشان مظاہرہ کرتے ہیں (کما احتج بہ ابراہیم علٰی قومہ) اور زبان حال سے شہادت دیتے ہیں کہ جس اعلیٰ و برتر ہستی اور سلطۃ غیبیہ کے ہاتھ میں ہماری باگ ہے وہ ہی اکیلا زمین، بادل، پانی، آگ، ہوا، مٹی اور کائنات کے ذرے ذرے کا مالک و خالق ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80{ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اس کا اتارا جانا ہے ربّ العالمین کی جانب سے۔“ اور اس کے بعد اب یہ چبھتا ہوا سوال piercing question پوچھا جا رہا ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 80–81

38 مُدْھِنُوْنَ ۔ دُھْنٌ بمعنی روغن، تیل، چکنائی اور اَدْھَنَ بمعنی کسی چیز کو تیل لگا کر نرم کرنا مداھنت کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً کسی بات میں لچک پیدا کرلینا۔ ڈھیلا پڑنا۔ منافقت کا رویہ اختیار کرنا۔ کسی چیز کو اپنی سنجیدہ توجہ کے قابل ہی نہ سمجھنا۔ یعنی اے کفار مکہ ! قرآن جیسی بلند پایہ کتاب کے بارے میں تمہارا رویہ یہ ہے کہ تم اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 80–81

31۔ یعنی ایسے مہتم بالشان کلام پر بھی ایمان لانا واجب نہیں جانتے ہو ؟ (آیت) ’ تنزیل من رب العلمین “۔ مطلب یہ ہوا کہ شیطان مردود کا گزر تو اس کلام پاک کے ارد گرد بھی نہیں، جہاں سے یہ نقل ہو کر آیا ہے۔ وہ تمامتر فرشتوں کے پہرہ میں پھر دنیا میں اس کا نزول حق تعالیٰ کی نگرانی میں۔ شیطان کو اس کی ہوا بھی کسی منزل میں نہیں لگنے پاتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 79–83

لایمسہ الا المطھرون یہاں دو مسئلے غور طلب ہیں اور ائمہ تفسیر میں مختلف فیہ ہیں اول یہ کہ جس کتاب کی صفت مکنون بیان کی گئی ہے یہ جملہ اسی کتاب کی دوسری صفت ہے اور لایمسہ کی ضمیر اسی کتاب کی طرف راجع ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوں گے کتاب مکنون یعنی لوح محفوظ کو سوائے پاک ہستیوں کے کوئی نہیں چھو سکتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مطھرون سے مراد صرف فرشتے ہی ہوسکتے ہیں جن کی رسائی لوح محفوظ تک ہو سکے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مس سے مراد حقیقی معنی یعنی ہاتھ سے چھونا مراد نہیں لیا جاسکتا ہے، بلکہ لازمی اور مرادی معنی یعنی مطل ہونا مراد ہوسکتے ہیں اس لئے کہ لوح محفوظ کو چھونا کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔ تنزیل بمعنی منزل ہے۔ مصدر بمعنی اسم مفعول۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 78–80

(78۔ 80) اور اسی وجہ سے یہ قسم کھائی گئی ہے اور وہ لوح محفوظ ایسی چیز ہے کہ اسے سوائے پاک فرشتوں کے جو کہ گناہوں اور ناپاکیوں سے پورے طور پر پاک ہیں اور کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا یا یہ کہ جن لوگوں کو توفیق خدوندی ہو ان کے علاوہ اور کوئی قرآن کریم پر عمل نہیں کرسکتا یہ رسول اکرم پر رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 77–80

1۔ اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ۔۔۔۔۔۔۔۔:”کریم“ ہر چیز میں سے اپنی قسم میں سب سے اعلیٰ اور عمدہ چیز کو ”کریم“ کہتے ہیں۔ ”القرآن“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے ، یعنی پڑھا جانے والا۔ یہ نام اس لیے ہے کہ یہ کتاب اتنی پڑھی گئی اور قیامت تک پڑھی جائے گی کہ پڑھنے جانے میں کسی اور کتاب کو اس کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ یعنی یہ کتاب جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں ، تمام پڑھی جانے والی چیزوں میں سب سے اعلیٰ ہے اور ہر قسم کی کمی بیشی سے پوری طرح محفوظ ہے۔ کسی شیطان کی مجال نہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے سے پہلے یا نازل ہونے کے دوران اس پر مطلع ہی ہو سکے ، کیونکہ یہ اس کتاب یعنی لوح ِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–81

(فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ ) اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ فلا اقسم اکثر مفسرین کے نزدیک لا زائدہ ہے (2) معنی میں قسم اٹھاتا ہوں اس کی دلل وانہ لقسم ہے فراء نے کہا : یہ نفی ہے۔ معنی ہے معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا۔ اقسم میں قسم اٹھاتا ہوں۔ بعض اوقات ایک آدمی کہتا ہے : لا واللہ، کان کذا اس سے وہ قسم کا نفی کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ پہلی کلام کی نفی کا ارادہ کرتا ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تو نے ذکر کیا بلکہ معاملہ اس طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لاء الا کے معنی میں ہے جو تنبیہ کے لیے ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 461 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 79–80

16۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی کتب مکنون سے مراد ہے تورات اور انجیل آیت لا یمسہ الا المطہرون یعنی تورات کو انجیل کو اٹھانے والے۔ 17۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت لایمسہ الا المطہرون۔ 18۔ آدم وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے المعرفہ میں کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایمسہ الا المطہرون سے مراد ہے وہ کتاب جو آسمان میں نازل کی گئی اس کو نہیں چھوتے ہیں مگر فرشتے۔ 19۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایمسہ الا المطہرون سے مراد ہے ملائکہ (علیہم السلام) 20۔ عبد بن حمید وابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تَنْزِيْلٌ: یہ اتارا ہوا ہے ][ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے رب (کی طرف سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ 0080﴾ (قرآن کریم رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے) بندوں کا فریضہ ہے کہ قرآن پر ایمان لائیں اس کی عظمت کا حق ادا کریں، اس کو یاد کریں پڑھیں اور پڑھائیں لیکن بہت سے لوگ (جن میں اولین مخاطب اہل مکہ تھے) قرآن کی طرف سے بےرخی اور بےتوجہی اختیار کرتے ہیں اور اسے یوں ہی سرسری بات سمجھتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں کہ اس نے اپنا کلام نازل فرمایا اس کی تکذیب کرتے ہیں یعنی جھٹلاتے ہیں اور کفر اختیار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–96

حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 80–82

28:۔ ” تنزیل “ یہ بھی ” قران “ کی صفت ہے یہ قرآن اس شہنشاہ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور ساری کائنات کا مالک ہے۔ ” افبھذا الحدیث انتم مدھننون “ تو کیا تم ایسی خوبیوں والی کتاب اور مالک کائنات کے ایسے عظیم الشان حکمانے سے بےاعتنائی برت رہے ؟ اور بجائے اس کے کہ تم اس نعمت عظمی کی قدر کرتے۔ اس کا شکر بجا لاتے اور اس پر ایمان لا کر اس پر عمل کرتے، تم نے اسے جھٹلا دیا ہے اور اس کا انکار کردیا ہے۔ یہ انتہائی نادانی اور بدبختی ہے۔ رزقکم ای شکرکم قال ابن عباس تجعلون شکرکم التکذیب (قرطبی ج 17 ص 228) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ ” تم تکذیب قرآن کو اپنا نصیب (حصہ) بناتے ہو “۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–82

ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت والے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے کا ذکر کیا۔ ان میں دو گروہ یعنی سابقین اور اصحاب یمین کامیاب ہو کر خدا کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے ، اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجات حاصل کریں گے اور البتہ اصحاب شمال ناکام ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے مقام جہنم میں پہنچیں گے۔ اللہ نے پہلی دو اقسام کے لوگوں کو ملنے والے انعامات کا تذکرہ کیا ، اور تیسرے گروہ کی سزا کا بیان ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے توحید اور قیامت کے منکرین کا رد کیا ، اور اس ضمن میں بعض دلائل کا ذکر بھی کیا۔ اب آخر میں رسالت کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ منکرین قیامت کا رد بھی۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 80 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–84

ترکیب : فلا لامزیدۃ للتاکید کمافی قولہ۔ وقیل انھا للنفی لا اقسم اذلاحاجۃ الی القسم فان الامرواضح وقیل معناہ لیس الامرکمازعم الکفار ثم اکدہ بالقسم فقال اقسم بمواقع النجوم وانہ خبرہ عظیم لو تعلمون جملۃ معترضۃ بین القسم والمقسم علیہ انہ لقرآن کریم صفۃ فی کتاب صفۃ ثانیۃ لایمسہ ثالثہ تنزیل رابعۃ لقرآن مع صفا تھا خبران و الجملۃ جواب القسم وتجعلون معطوف علی مدھبون رزقکم مفعول اول لتجعلون انکم تکذبون الجملۃ مفعول ثان بمعنی ہلا اذا ظرفیۃ والعامل ترجعونہا انتم الخ الجملۃ حال ونحن الخ حال من فاعل تنظرون فلولا تکریر و تاکید للولا الاولی ترجعونھا المحضض علیہ لولا ان کنتم شرط جو ابہ محذوف یدل علیہ ترجعونہا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 80) (یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ ) یعنی قرآن کریم اتنی عظیم کتاب ہے کہ یہ انسانی دماغ کا نتیجہ قرار نہیں دی جاسکتی۔ مشرکینِ مکہ نے جس طرح آنحضرت ﷺ کو ایک کاہن قرار دے کر قرآن کریم کو القائے شیطانی کا نتیجہ قرار دیا، وہ نہایت گھٹیا حرکت ہے۔ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اور جو شخص بھی اس کی حیثیت پر غور کرے گا اس کے لیے اس بات کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–82

فہم القرآن ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کے تذکرے کے بعد عظیم خالق کی تسبیح کرنے کا حکم اس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے آسمان سے قرآن مجید جیسی عطیم کتاب نازل کی ہے۔ اہل مکہ اپنے باطل عقیدہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے قرآن کی مخالفت کرتے تھے حالانکہ اس بات کے ان کے سامنے درجنوں دلائل دیئے گئے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جارہا لیکن وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ کسی صورت قرآن مجید کو مِن جانب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھا کر یقین دلایا کہ یہ قرآن کسی غیر کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا اسے تو اس رب نے نازل کیا ہے جو ستارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

80 : تَنْزِیْلٌ (اتارا ہوا ہے) یہ قرآن مجید کی چوتھی صفت ہے۔ یعنی اتارا ہوا ہے۔ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (رب العالمین کی طرف سے) نمبر 2۔ مصدر سے قرآن کی صفت بیان کی گئی کیونکہ قرآن مجید تمام کتابوں میں تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا گویا کہ وہ ذات کے اعتبار سے اتارا ہوا ہے۔ اسی لئے اس کو ناموں کے قائم مقام لایا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ تنزیل میں اسی طرح آیا اور تنزیل نے اسی طرح بتلایا۔ نمبر 2۔ ھوؔ مبتدأ محذوف کی خبر ہے أی ھو تنزیل۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

لا یمسہ الا المطھرون کی تفسیر 79 ۔” لا یمسہ “ یعنی اس چھپی ہوئی کتاب کو۔ ” الا المطھرون “ اور وہ فرشتے ہیں جو پاکی کے ساتھ موصوف میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا گیا ہے اور یہ سعید بن جبیر (رح) اور ابوالعالیہ (رح) کا قول ہے اور قتادہ وابن زید فرماتے ہیں یہ فرشتے ہیں۔ حسان نے کلبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ لکھنے والے معزز فرشتے ہیں اور محمد بن فضل نے ان سے روایت کی ہے کہ اس کو صرف موحدین پڑھتے ہیں۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ابن عباس ؓ اس سے منع کرتے تھے کہ یہودو نصاریٰ کو قرآن کی قرات پر قدرت دی جائے۔ فرائؒ فرماتے ہیں اس کا ذائقہ اور نفع وہی شخص محسوس کرے گا جو اس پر ایمان لایا اور ایک قوم نے کہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–82

75۔ 82۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ مینہ برسا اس مینہ کے برسنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے مینہ کا برسنا اپنے دل میں سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نعمت کے شکر گزار ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا ہے انہوں نے اللہ کی نعمت کی کچھ قدر نہ جانی اس پر اللہ تعالیٰ نے فلا اقسم سے ولا تجعلون رزقکم انکم تکذبون تک یک یہ آیتیں نازل فرمائیں بغیر ذکر شان نزول کے یہ حدیث ابو سعید خدری وغیرہ کی روایت سے صحیحین میں بھی ہے۔ عربی زبان کا محاورہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 80–81

(تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) یہ قرآن جو ان صفات جلیلہ سے موصوف ہے رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دنی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے۔ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں برسرعام اس کا اعلان کریں اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں بنابریں فرمایا (اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ ) پھر تم اس کلام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 77–96

قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔ حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 79–80

[ 68] عظمت قرآن کے ایک اور اہم اور خاص پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو پاکیزہ لوگوں کے سوا کوئی چھو بھی نہیں سکتا یعنی اس قرآن حکیم کو جو کہ مصحف کی سورت میں موجود ہے اس کو وہی لوگ چھو سکتے ہیں جو کہ جنابت اور حدت سے پاک ہوں اور نفی اس صورت میں نہی کے معنی میں ہوگی، پس طہارت کے بغیر قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں اور یہی قول ہے جمہور فقہاء و مفسرین کا جیسے حضرت علی ؓ ، ابن مسعود ؓ ، سعد بن ابی وقاص ؓ ، سعید بن زید ؓ ، عطا (رح)، وہ زہری (رح)، نخعی (رح)، حماد (رح)، اور فقہاء اربعہ کا، اور اسی کی تائید بعض روایات سے بھی وہتی ہے جیسا کہ لا یمس القرآن الا طاھرٌ اور حضرت ابن عمر ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

قرآن کی اہمیت، برکت اور سچائی تشریح :۔ ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور اس کی سچائی کے بارے میں قسم کھاتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی اس قسم کھانے کے مضمون کے مطابق بہت سی سورتیں گز رچ کی ہیں۔ یہاں کیونکہ کفار کی خصلت بد کا پہلے ذکر آیا تھا جس کے مطابق وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے سے انکار کرتے تھے تو اس آیت میں فَلَآ ' انہیں کے واسطے سے بولا گیا ہے یعنی ' پس نہیں یہ کتاب نہ تو معمولی ہے نہ محض کہانت ہے بلکہ اس کی سچائی کے لیے ہم ( اللہ ) قسم کھاتے ہیں ستاروں کے مواقع کی۔ اب پہلے فلا کی توضیح تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔ لکھا گیا ہے۔ ' بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–96

آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:80) تنزیل : بروزن تفعیل مصدر ہے : اتارنا۔ تنزیل اور انزال میں یہ فرق ہے کہ تنزل میں ترتیب وار اور یکے بعد دیگرے تفریق کے ساتھ اتارنا ملحوظ ہوتا ہے ۔ اور انزال عام ہے ایک دم کسی شے کے اتارنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور یکے بعد دیگرے ترتیب سے اتارنے کے لئے بھی۔ تنزیل من رب العلمین : رب العالمین کی طرف سے ترتیب وار نازل ہوا ہے۔ یہ قرآن مجید کی چوتھی صفت ہے۔ جملہ انہ لقران کریم معہ اگلی تین صفات کے جواب قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–96

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–82

توحید کابیان۔ (ف 1) حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دہریہ لوگوں کے اعتقاد کی طرح جن ستاروں کے اثر سے یہ اللہ کی قدرت کے منکر لوگ مینہ کے برسنے کے قائل تھے انہیں ستاروں کی قسم کھاکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جس طرح جگہ جگہ اس کلام الٰہی میں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی قدرت اور حکم کے نہ ستاروں کے اثر سے کچھ ہوتا ہے نہ چاند کے اثر سے۔ اس کے سوا جن لوگوں کا جو کچھ اعتقاد ہے اس سے کلام الٰہی کا جھٹلانا ان کی قسمت میں ہے ورنہ ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جس کی قدرت میں ستاروں کا طلوع و غروب ہے اس کے حکم سے مینہ برستا ہے ستاروں میں کوئی مستقل تاثیر ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–96

[20] کہ یہی آخرت کی بڑی تیاری ہے اور اس نیک مشغلے میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودگیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 79–86

لایمسہ الا المظھرون ۔ سے غرض یہ ہے ۔ کہ جس طرح لوح محفوظ میں فرشتے اس کی حفاظت اور نگرانی پر مقرر ہیں ۔ اسی طرح اس دنیا میں اسی جماعت کے سینے اس کے علوم ومعارف کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ۔ جو پاکباز ہوتے ہیں ۔ تاریک اور فسق وفجور سے معمور دلوں میں اس کی کرنیں نہیں پہنچتیں فرمایا : تمہاری یہ کتنی بدبختی اور محرومی ہے ۔ کہ تم اس پاک کلام کو تسلیم کرنے میں تامل کرتے ہو ۔ اور تم نے یہ ٹھان لی ہے ۔ کہ بہر حال اس کی مخالفت کروگے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(80) یہ قرآن تمام عالموں کے پروردگار کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور بھیجا گیا ہے - قرآن کو کریم فرمایا اس لئے کہ اس میں دونوں عالم کی زندگی اور مکرم ہونے کا سامان موجود ہے یعنی اس کی تعلیم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندہ مکرم ہوجاتا ہے اور اس میں خیر کثیر ہے اس لئے اس کو قرآن کریم فرمایا۔ کتاب مکنون چھپی کتاب سے مراد لو ح محفوظ ہے جس کو سوائے فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ہے۔ پاکیزہ فرمایا فرشتوں کو وہ روحانی مخلوق ہر قسم کی مادی آلائشوں سے پاک اور منزہ ہے ، پروردگار عالموں کی جانب سے نازل ہوا ہے چونکہ یہ کتاب جملہ اقوام عالم کے لئے نازل ہوئی ہے اسی لئے فرمایا کہ جملہ اقوام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–80

ف 1۔ یہ سب امور نعم موجبہ للتوحید بھی ہیں اور دلائل موجبہ للاعتقاد والقدرة علی البعث بھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ پروردگارِ عالم کی طرف سے نازل کیا گیا ہے 08۔ مصدر بمعنی اسم مفول { تنزیل } بمعنی منزل ہے۔ وہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کی وضاحت آپ کو عروۃ الوثقی جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 012 میں ملے گی۔ گزشتہ کتابوں کو جو مضامین اس میں آگئے ہی وہ بالکل صحیح اور درست ہیں ‘ جو اکام اس مین دیئے گئے ہیں ان کا بجا لانالازم و ضروری ہے اور جن باتوں سے اس نے روکا ہے ان سے رکنا ضروری ہے۔ جو باتیں دوسری آسمانی کتابوں میں ایسی ہیں جن کو قرآن کریم نے بیان نہیں کیا ان میں کس قدر تحریف ہوچکی ہے اس کوئی ضمانت نہیں ہے اور نہ ہی وہ قابل حجت ہیں۔ یہ اس طرح کی وحی نہیں ہے جس طرح کی وحی شیاطین اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 79–80

لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُ‌ونَ (that is not touched except by the purified ones ...56:79). Two issues require clarification here. The commentators have different views about them, because the structure of verse 78 and 79 has two possibilities grammatically: The first possibility is that the phrase 'that is not touched except by the purified ones' is the qualification of the Preserved Tablet referred to in the previous verse. In this case, 'the purified ones' can refer only to angels, and the phrase 'not touched' cannot be taken in its literal sense of physical touch; it would rather…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–81

40 Literally, idhan (from which mudhinun of the Text is derived) means to treat something with contempt, to deny its due importance, to regard it as unworthy of serious attention, to hold it in light esteem.

Read the full tafseer →