لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ۟ؕلَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَؕ
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
None touch it except the purified.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ۟ؕلَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَؕ
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
None touch it except the purified.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں
اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو خوب پاک ہیں۔
اسے نہ چھوئیں مگر باوضو
اس کو پاک (طہارت والے) لوگوں کے سوا کوئی نہیں چُھوئے گا،
اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا مگر جو بہت پاک کیے ہوئے ہیں۔
جسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا
اس کو صرف پاکیزہ ہی ہاتھ لگاتے ہیں
اس کو کوئی چھو نہیں سکتا سوائے ان کے جن کو ہر طرح سے پاک بنایا گیا ہے
جسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا بجز پاکوں کے۔
اسے چھو نہیں سکتے مگر وہی جو بالکل پاک ہیں۔
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
which none but the pure may touch;
that is not touched except by the purified ones (the angels).
that is not touched except by the purified ones (the angels).
Which none touches but the pure ones.
Which none toucheth save the purified,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
None touch it except the purified.
no one can touch it except the purified ones.
None shall touch it save the purified ones.
Which none can touch except the purified.
Which none shall touch but those who are clean:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 75–82
قرآن کا مقام حضرت ضحاک فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائد ہے اور آیت (انہ لقراٰن) الخ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں لا کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے حضرت عائشہ کے اس قول میں ہے (لا واللہ ما مست ید رسول اللہ ﷺ ید امراۃ قط) یعنی اللہ کی قسم حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔…
Read the full tafseer →سورة الْوَاقِعَة 39 یہ تردید ہے کفار کے ان الزامات کی جو وہ قرآن پر لگایا کرتے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو کاہن قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ کلام آپ پر جن اور شیاطین القا کرتے ہیں۔ اس کا جواب قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دیا گیا ہے۔ مثلاً سورة شعراء میں ارشاد ہوا ہے وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ ، وَمَا یَنْبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ، اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ۔ " اس کو لے کر شیاطین نہیں اترے ہیں، نہ یہ کلام ان کو سجتا ہے اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں۔ وہ تو اس کی سماعت تک سے دور رکھے گئے ہیں " (آیات۔ 210 تا 212)۔ اسی مضمون کو یہاں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
لَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ، یہاں دو مسئلے غور طلب اور ائمہ تفسیر میں مختلف فیہ ہیں، اول یہ کہ نحوی ترکیب کے اعتبار سے اس جملے میں دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ جس کتاب کی ایک صفت مکنون آئی یہ جملہ اسی کتاب کی دوسری صفت ہے اور ضمیر لا یمسہ کی اسی کتاب کی طرف راجع ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوتے ہیں کتاب مکنون یعنی لوح محفوظ کو سوائے پاک لوگوں کے اور کوئی نہیں چھو سکتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مطہرون کی مراد صرف فرشتے ہی ہو سکتے ہیں، جن کی رسائی لوح محفوظ تک ہو سکے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں لفظ مس اپنے حقیقی معنی ہاتھ سے چھونے کے مفہوم میں نہیں لیا جاسکتا، بلکہ مس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
(انہ لقراٰن کریم فی کتب مکنون لا یمسہ الا المطھرون تنزیل من رب العلمین) (77، 80) (قرآن شیطانی چھوت سے بالکل پاک ہے)۔ قسم کے بعد یہ مقسم علیہ ہے اور یہ حقیقت اپنی جگہ پر اچھی طرح واضح کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید میں قسمیں شہادت کے طور پر کھائی گئی ہیں۔ گویا شیاطین پر سنگ باری اور آتش باری کے مذکورہ بالا انتظام کا حوالہ دے کر مخاطبوں کو متنبہ فرمایا کہ اس قرآن کو کاہنوں کے قسم کا کوئی شیطانی القاء نہ گمان کرو بلکہ یہ ایک نہایت با عزت اور برتر کلام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک محفوظ کتاب میں ہے جس تک اس کے پاک فرشتوں کے سوا کسی کی بھی رسائی نہیں یعنی اس کو صرف ملائکہ مقربین ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
79-1یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوتی۔ مطلب مشرکین کی تردید ہے جو کہتے تھے کہ قرآن شیاطین لے کر اترتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ کیوں کر ممکن ہے یہ قرآن تو شیطانی اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–86
23: راجح تفسیر کے مطابق اس سے مراد فرشتے ہیں، اور کافروں کے اس اشکال کا جواب دیا جارہا ہے کہ ہم یہ کیسے یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کسی کمی زیادتی کے بغیر اپنی اصلی صورت میں ہمارے پاس پہنچ رہا ہے اور کسی شیطان وغیرہ نے اس میں کوئی تصرف نہیں کیا ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اور اسے پاک فرشتوں کے سوا کوئی اور چھو بھی نہیں سکتا، اگرچہ یہاں خوب پاک سے مراد فرشتے ہیں، لیکن اس میں ایک اشارہ اس طرف بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عالم بالا میں پاک فرشتے ہی اسے چھوتے ہیں، اسی طرح دنیا میں بھی انہی لوگوں کو چھونا چاہیے جو پاک حالت میں ہوں، چنانچہ احادیث میں قرآن کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
انہ ................ العلمین (6 5: 08) ” یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ “ فی کتب مکنون (6 5: 87) ” کتاب محفوظ میں۔ “ اور اس کی تفسیر بعد کی آیت کررہی ہے۔ لا یمسہ الا المطھرون (6 5: 97) ” جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ “ مشرکین کا الزام تھا کہ اسے شیاطین نے نازل کیا ہے۔ یہ ان کے الزام کی تردید ہے کیونکہ شیطان اس کتاب کو مس نہیں کرسکتا جو اللہ کے علم میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے۔ اسے پاک فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں۔ اس آیت کی یہ سب سے اچھی تفسیر ہے کیونکہ (لا) نافیہ ہے یعنی یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی فرشتے اس کتاب کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ وہ کتاب یہ ہی قرآن لکھا ہوا ہے فرشتوں کے ہاتھوں میں یا لوح محفوظ میں۔ " اور بعض نے " لا یَمَسُّہُ " کی ضمیر قرآن کی طرف راجع کی ہے یعنی اس قرآن کو نہیں چھوتے مگر پاک لوگ، یعنی جو صاف دل اور پاک اخلاق رکھتے ہیں۔ وہ ہی اس کے علوم و حقائق تک ٹھیک رسائی پاسکتے ہیں۔ یا اس قرآن کو نہ چھوئیں مگر پاک لوگ، یعنی بدون وضو کے ہاتھ لگانا جائز نہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ اس وقت " لایمسہ " کی نفی نہیں کے لیے ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 79{ لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ } ”اسے چھو نہیں سکتے مگر وہی جو بالکل پاک ہیں۔“ یعنی اسے فرشتے ہی چھو سکتے ہیں جو بالکل پاک مخلوق ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی عظمت کے ضمن میں سورة عبس میں فرمایا گیا ہے : { کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ - فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہٗ - فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ - مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍم - بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ - کِرَامٍم بَرَرَۃٍ۔ } ”ہرگز نہیں ‘ یہ تو ایک نصیحت ہے۔ پس جو کوئی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو باعزت ہیں ‘ بلند مرتبہ ہیں ‘ پاکیزہ ہیں۔ ایسے کاتبوں کے ہاتھوں میں ہیں جو معزز اور نیک ہیں۔“ آیت زیر مطالعہ میں الْمُطَہَّرُوْنَسے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
37 مطہرون سے مراد کون ؟ اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب قرآن کریم لوح محفوظ میں ثبت ہے اور وہاں سے پاکیزہ فرشتے ہی اسے لا کر رسول اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہوسکتی جو اسے لا کر کسی کاہن کے دل پر نازل کر دے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مطالب تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہوسکتی ہے جن کے خیالات پاکیزہ ہوں۔ کفر و شرک کے تعصبات سے پاک ہوں۔ عقل صحیح اور قلب سلیم رکھتے ہوں۔ جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں۔ قرآن کے بلند پایہ مضامین و مطالب تک ان کی رسائی ہو ہی نہیں سکتی۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو صرف…
Read the full tafseer →30۔ (جو شائبہ گناہ سے بھی پاک ہیں یعنی فرشتے) ان کے فرشتہ ہونے پر علاوہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ صحابی اور حضرت انس ؓ صحابی کے تابعین کی بہت بڑی جماعت متفق ہے۔ ان المراد بالمطھرین الملائکۃ (علیہ السلام) مروی عن عدۃ طرق عن ابن عباس ؓ وکذا اخرجہ جماعۃ عن انس ؓ قتادۃ وابن جبیر و مجاھد وابی العالیہ وغیرھم (روح) عن ابن عبا سؓ یعنی الملائکۃ وکذا قال انس و مجاھد وعکرمۃ و سعید بن جبیر والضحاک وابو الشعشاء جابر بن زید وابو نھک والسدی وعبد الرحمن بن زید بن اسلم وغیرھم (ابن کثیر) (آیت) ” یمسہ “۔ میں ضمیر لوح محفوظ کی طرف ہے۔ الضمیر عائد الی الکتاب علی الصحیح (کبیر) قرآن مجید یا مصحف مکتوبی کو بھی بلاطہارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
لایمسہ الا المطھرون یہاں دو مسئلے غور طلب ہیں اور ائمہ تفسیر میں مختلف فیہ ہیں اول یہ کہ جس کتاب کی صفت مکنون بیان کی گئی ہے یہ جملہ اسی کتاب کی دوسری صفت ہے اور لایمسہ کی ضمیر اسی کتاب کی طرف راجع ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوں گے کتاب مکنون یعنی لوح محفوظ کو سوائے پاک ہستیوں کے کوئی نہیں چھو سکتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مطھرون سے مراد صرف فرشتے ہی ہوسکتے ہیں جن کی رسائی لوح محفوظ تک ہو سکے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مس سے مراد حقیقی معنی یعنی ہاتھ سے چھونا مراد نہیں لیا جاسکتا ہے، بلکہ لازمی اور مرادی معنی یعنی مطل ہونا مراد ہوسکتے ہیں اس لئے کہ لوح محفوظ کو چھونا کسی…
Read the full tafseer →اس کو بجز پاک ہستیوں (یعنی فرشتوں) کے اور کوئی نہیں چھوتا۔ لَا یَمَسُّہٗ : ہ ٗ ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے کیونکہ لفظ کتاب ہی قریب ہے یعنی لوح محفوظ کو فرشتے ہی چھوتے ہیں جو جسمانی آلائشوں اور کدورتوں سے پاک ہیں ‘ جسمانی آلائشیں ہی اکثر گناہوں کا باعث ہوتی ہیں۔ یہ تفسیر پسندیدہ نہیں ہے کیونکہ جسمانی کدورتوں سے منقطع ہوجانا موجب فضیلت نہیں ہے ‘ نہ یہ کوئی فضیلت ہے ‘ نہ اس کو پاک ہونا کہا جاسکتا ہے۔ ورنہ انسان پر فرشتوں کی فضیلت لازم آئے گی جو اجماع علماء کے خلاف ہے بلکہ جسمانی کدورتیں ہی تو خالص تجلیات ذاتیہ کی حامل ہیں ‘ اسی لیے نبوت کے لیے انسان کو مخصوص کیا گیا ہے۔ صحیح تفسیر یہ ہے کہ لا یمسہٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
(78۔ 80) اور اسی وجہ سے یہ قسم کھائی گئی ہے اور وہ لوح محفوظ ایسی چیز ہے کہ اسے سوائے پاک فرشتوں کے جو کہ گناہوں اور ناپاکیوں سے پورے طور پر پاک ہیں اور کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا یا یہ کہ جن لوگوں کو توفیق خدوندی ہو ان کے علاوہ اور کوئی قرآن کریم پر عمل نہیں کرسکتا یہ رسول اکرم پر رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
1۔ اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ۔۔۔۔۔۔۔۔:”کریم“ ہر چیز میں سے اپنی قسم میں سب سے اعلیٰ اور عمدہ چیز کو ”کریم“ کہتے ہیں۔ ”القرآن“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے ، یعنی پڑھا جانے والا۔ یہ نام اس لیے ہے کہ یہ کتاب اتنی پڑھی گئی اور قیامت تک پڑھی جائے گی کہ پڑھنے جانے میں کسی اور کتاب کو اس کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ یعنی یہ کتاب جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں ، تمام پڑھی جانے والی چیزوں میں سب سے اعلیٰ ہے اور ہر قسم کی کمی بیشی سے پوری طرح محفوظ ہے۔ کسی شیطان کی مجال نہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے سے پہلے یا نازل ہونے کے دوران اس پر مطلع ہی ہو سکے ، کیونکہ یہ اس کتاب یعنی لوح ِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
(فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ ) اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ فلا اقسم اکثر مفسرین کے نزدیک لا زائدہ ہے (2) معنی میں قسم اٹھاتا ہوں اس کی دلل وانہ لقسم ہے فراء نے کہا : یہ نفی ہے۔ معنی ہے معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا۔ اقسم میں قسم اٹھاتا ہوں۔ بعض اوقات ایک آدمی کہتا ہے : لا واللہ، کان کذا اس سے وہ قسم کا نفی کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ پہلی کلام کی نفی کا ارادہ کرتا ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تو نے ذکر کیا بلکہ معاملہ اس طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لاء الا کے معنی میں ہے جو تنبیہ کے لیے ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 461 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
16۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی کتب مکنون سے مراد ہے تورات اور انجیل آیت لا یمسہ الا المطہرون یعنی تورات کو انجیل کو اٹھانے والے۔ 17۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت لایمسہ الا المطہرون۔ 18۔ آدم وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے المعرفہ میں کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایمسہ الا المطہرون سے مراد ہے وہ کتاب جو آسمان میں نازل کی گئی اس کو نہیں چھوتے ہیں مگر فرشتے۔ 19۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایمسہ الا المطہرون سے مراد ہے ملائکہ (علیہم السلام) 20۔ عبد بن حمید وابن…
Read the full tafseer →[لَّا يَمَسُّهٗٓ: نہیں چھوتے اس کو ][ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ : مگر پاک کیے ہوئے ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 79 ۔ میں کفار کے اس الزام کی تردید ہے جو وہ قرآن پر لگاتے تھے کہ یہ کلام رسول اللہ ﷺ پر جن اور شیاطین القا کرتے ہیں اس کا جواب قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دیا گیا ہے یہاں یہ ان الفاظ میں ہے کہ ” اسے مطہرین کے سوا کوئی نہیں چھوسکتا ۔ “ یعنی جن اور شیاطین کا اسے لانا یا اس کے نزول کے وقت اس میں دخل انداز ہونا تو درکنار ، جس وقت یہ لوح محفوظ سے نبی کریم ﷺ پر نازل کیا جاتا ہے اس وقت مطہرین یعنی پاک فرشتوں کے سوا کوئی قریب بھی نہیں پھٹک سکتا ۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کوئی ایسا شخص…
Read the full tafseer →﴿لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠ؕ0079﴾ (اسے صرف پاکیزہ بندے چھوتے ہیں) ان پاکیزہ بندوں سے فرشتے مراد ہیں حضرت انس ؓ سے ایسا ہی منقول ہے۔ قرآن مجید کو پڑھنے اور چھونے کے احکام : ﴿لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠﴾ جو فرمایا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اسے صرف پاکیزہ بندے ہی چھوتے ہیں چونکہ یہ صیغہ خبر ہے اس لیے مفسرین کرام نے اس سے فرشتے مراد لیے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ فرشتے گناہوں سے پاک ہیں وہ ہی لوح محفوظ تک پہنچ سکتے ہیں اور اس کے مضامین پر مطلع ہوسکتے ہیں اور بعض حضرات نے ﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠﴾ کو خبر بمعنی الامر لیا ہے اور اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
27:۔ ” وانہ لقسم “ یہ قسم اور جواب قسم کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ برائے بیان عظمت قسم یعنی اگر تمہیں اس کی حقیقت کا علم ہو تو یہ ایک نہایت عظیم الشان قسم اور شاہد ہے۔ ” انہ لقران الخ “ یہ جواب قسم ہے یہ قرآن نہایت اعلی اور احسن کتاب ہے جو دینی اور دنیوی منافع کا بیش بہا خزینہ ہے۔ فی کتاب مکنون، وہ لوح محفوظ میں محفوظ اور ہر قسم کے تغیر و تبدل سے مامون و مصئون ہے۔ ” لا یمسہ الا المطہرون “ جملہ کتاب مکنون کی صفت ہے۔ اور ” المطہرون “ سے مراد فرشتے ہیں جو ہر قسم کے گناہوں اور نجاستوں سے پاک ہیں۔ اور ” مس “ کنایہ ہے لوح محفوظ کے علوم پر اطلاع سے حاصل یہ ہوا کہ لوح محفوظ کے علوم پر فرشتوں کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت والے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے کا ذکر کیا۔ ان میں دو گروہ یعنی سابقین اور اصحاب یمین کامیاب ہو کر خدا کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے ، اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجات حاصل کریں گے اور البتہ اصحاب شمال ناکام ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے مقام جہنم میں پہنچیں گے۔ اللہ نے پہلی دو اقسام کے لوگوں کو ملنے والے انعامات کا تذکرہ کیا ، اور تیسرے گروہ کی سزا کا بیان ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے توحید اور قیامت کے منکرین کا رد کیا ، اور اس ضمن میں بعض دلائل کا ذکر بھی کیا۔ اب آخر میں رسالت کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ منکرین قیامت کا رد بھی۔ اس کے…
Read the full tafseer →لَّا يَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ 79 ۭ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–84
ترکیب : فلا لامزیدۃ للتاکید کمافی قولہ۔ وقیل انھا للنفی لا اقسم اذلاحاجۃ الی القسم فان الامرواضح وقیل معناہ لیس الامرکمازعم الکفار ثم اکدہ بالقسم فقال اقسم بمواقع النجوم وانہ خبرہ عظیم لو تعلمون جملۃ معترضۃ بین القسم والمقسم علیہ انہ لقرآن کریم صفۃ فی کتاب صفۃ ثانیۃ لایمسہ ثالثہ تنزیل رابعۃ لقرآن مع صفا تھا خبران و الجملۃ جواب القسم وتجعلون معطوف علی مدھبون رزقکم مفعول اول لتجعلون انکم تکذبون الجملۃ مفعول ثان بمعنی ہلا اذا ظرفیۃ والعامل ترجعونہا انتم الخ الجملۃ حال ونحن الخ حال من فاعل تنظرون فلولا تکریر و تاکید للولا الاولی ترجعونھا المحضض علیہ لولا ان کنتم شرط جو ابہ محذوف یدل علیہ ترجعونہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
فِیْ کِتٰبٍ مَّـکْنُوْنٍ ۔ لاَّیَمَسُّہٗٓ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 78، 79) (ایک محفوظ کتاب میں۔ اسے پاکیزہ لوگوں کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ ) قرآن کریم کی عظمت کا بیان اس میں قرآن کریم کی عظمت و جلالت کا بیان بھی ہے اور مخالفین کے رویئے پر ملامت بھی۔ عظمت و جلال کا بیان ان معنوں میں ہے کہ یہ قرآن کریم ایک کتاب مکنون میں محفوظ ہے۔ اس سے مراد ہے لوح محفوظ۔ یعنی ایسا نوشتہ جو نگاہوں سے اتنا بلند اور مخلوق کے احساس سے اس قدر ماورا کہ کسی کی رسائی اس تک نہیں ہوسکتی۔ وہ لوح محفوظ جس میں اس کتاب کو محفوظ رکھا گیا ہے اس قدر پاکیزہ ہے کہ پاکیزہ فرشتوں کے سوا کوئی اسے چھو نہیں سکتا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
فہم القرآن ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کے تذکرے کے بعد عظیم خالق کی تسبیح کرنے کا حکم اس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے آسمان سے قرآن مجید جیسی عطیم کتاب نازل کی ہے۔ اہل مکہ اپنے باطل عقیدہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے قرآن کی مخالفت کرتے تھے حالانکہ اس بات کے ان کے سامنے درجنوں دلائل دیئے گئے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جارہا لیکن وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ کسی صورت قرآن مجید کو مِن جانب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھا کر یقین دلایا کہ یہ قرآن کسی غیر کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا اسے تو اس رب نے نازل کیا ہے جو ستارے…
Read the full tafseer →79 : لَّا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ (اس کو سوائے پاک ہستیوں کے اور کوئی نہیں چھوتا) المطہرونؔ وہ تمام گندگیوں سے پاک ہیں۔ گناہوں کی میل کچیل وغیرہ سے یہ اس وقت معنی ہے جبکہ تم اس کو کتاب مکنون کی صفت قرار دو ۔ جو کہ لوح محفوظ ہے نمبر 2۔ اور اگر اس کو قرآن مجید کی صفت قرار دو ۔ تو اس وقت معنی یہ ہوگا اس کو لوگوں میں سے وہ چھو سکتا ہے جو طہارت کی حالت میں ہو اور مس سے مراد اس کے لکھے ہوئے کا چھونا ہے۔
Read the full tafseer →78 ۔” فی کتاب مکنون “ اللہ کے پاس لوح محفوظ میں محفوظ ہے شیاطین سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
75۔ 82۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ مینہ برسا اس مینہ کے برسنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے مینہ کا برسنا اپنے دل میں سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نعمت کے شکر گزار ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا ہے انہوں نے اللہ کی نعمت کی کچھ قدر نہ جانی اس پر اللہ تعالیٰ نے فلا اقسم سے ولا تجعلون رزقکم انکم تکذبون تک یک یہ آیتیں نازل فرمائیں بغیر ذکر شان نزول کے یہ حدیث ابو سعید خدری وغیرہ کی روایت سے صحیحین میں بھی ہے۔ عربی زبان کا محاورہ…
Read the full tafseer →(لَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ) اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہا اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–96
قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔ حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
[ 68] عظمت قرآن کے ایک اور اہم اور خاص پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو پاکیزہ لوگوں کے سوا کوئی چھو بھی نہیں سکتا یعنی اس قرآن حکیم کو جو کہ مصحف کی سورت میں موجود ہے اس کو وہی لوگ چھو سکتے ہیں جو کہ جنابت اور حدت سے پاک ہوں اور نفی اس صورت میں نہی کے معنی میں ہوگی، پس طہارت کے بغیر قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں اور یہی قول ہے جمہور فقہاء و مفسرین کا جیسے حضرت علی ؓ ، ابن مسعود ؓ ، سعد بن ابی وقاص ؓ ، سعید بن زید ؓ ، عطا (رح)، وہ زہری (رح)، نخعی (رح)، حماد (رح)، اور فقہاء اربعہ کا، اور اسی کی تائید بعض روایات سے بھی وہتی ہے جیسا کہ لا یمس القرآن الا طاھرٌ اور حضرت ابن عمر ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
قرآن کی اہمیت، برکت اور سچائی تشریح :۔ ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور اس کی سچائی کے بارے میں قسم کھاتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی اس قسم کھانے کے مضمون کے مطابق بہت سی سورتیں گز رچ کی ہیں۔ یہاں کیونکہ کفار کی خصلت بد کا پہلے ذکر آیا تھا جس کے مطابق وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے سے انکار کرتے تھے تو اس آیت میں فَلَآ ' انہیں کے واسطے سے بولا گیا ہے یعنی ' پس نہیں یہ کتاب نہ تو معمولی ہے نہ محض کہانت ہے بلکہ اس کی سچائی کے لیے ہم ( اللہ ) قسم کھاتے ہیں ستاروں کے مواقع کی۔ اب پہلے فلا کی توضیح تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔ لکھا گیا ہے۔ ' بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس…
Read the full tafseer →ف 11 اکثر مفسرین کے نزدیک لایمسہ میں ” ہ “ لوح محفوظ کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں یعنی فرشتے بعض نے اس ضمیر کو قرآن کے لئے مانا ہے اور استدلال کیا ہے کہ قرآن کو بےوضو ہونے کی حالت میں چھونا ناجائز نہیں ہے گو بہتر یہ ہے کہ وضو کرلیا جائے۔ موطامالک میں ہے کہ آنحضرت نے عمر دین حزم کو جو خط لکھ کردیا اس میں یہ بھی لکھا کہ لایمس القران الاطاھر کہ قرآن کو سوائے طاہر شخص کے کوئی نہ چھوئے مگر یہ اپنے مفہوم میں صریح نہیں ہے کیونکہ اس کے معنی کفر و شرک سے پاک کے بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ مسلمان تو جنابت کی حالت میں بھی پاک ہی رہتا ہے ’ د سبحان اللہ ان المومن (لایحب (الحدیث)
Read the full tafseer →(56:79) لایمسہ الا المطھرون : لا یمس فعل مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ نہیں چھوتا۔ مس (باب فتح) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع القران ہے۔ المطھرون : اسم فاعل جمع مذکر۔ تطھر (تفعل) مصدر ۔ خوب پاک و صاف رہنے والے۔ اصل میں متطھرون تھا۔ ت کو ط سے بدل کر ادغام کردیا گیا۔ ترجمہ :۔ اس کو بغیر پاک و صاف لوگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔ یہ تیسری صفت ہے قرآن کریم کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
توحید کابیان۔ (ف 1) حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دہریہ لوگوں کے اعتقاد کی طرح جن ستاروں کے اثر سے یہ اللہ کی قدرت کے منکر لوگ مینہ کے برسنے کے قائل تھے انہیں ستاروں کی قسم کھاکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جس طرح جگہ جگہ اس کلام الٰہی میں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی قدرت اور حکم کے نہ ستاروں کے اثر سے کچھ ہوتا ہے نہ چاند کے اثر سے۔ اس کے سوا جن لوگوں کا جو کچھ اعتقاد ہے اس سے کلام الٰہی کا جھٹلانا ان کی قسمت میں ہے ورنہ ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جس کی قدرت میں ستاروں کا طلوع و غروب ہے اس کے حکم سے مینہ برستا ہے ستاروں میں کوئی مستقل تاثیر ہوتی…
Read the full tafseer →[19] یعنی فرشتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–86
لایمسہ الا المظھرون ۔ سے غرض یہ ہے ۔ کہ جس طرح لوح محفوظ میں فرشتے اس کی حفاظت اور نگرانی پر مقرر ہیں ۔ اسی طرح اس دنیا میں اسی جماعت کے سینے اس کے علوم ومعارف کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ۔ جو پاکباز ہوتے ہیں ۔ تاریک اور فسق وفجور سے معمور دلوں میں اس کی کرنیں نہیں پہنچتیں فرمایا : تمہاری یہ کتنی بدبختی اور محرومی ہے ۔ کہ تم اس پاک کلام کو تسلیم کرنے میں تامل کرتے ہو ۔ اور تم نے یہ ٹھان لی ہے ۔ کہ بہر حال اس کی مخالفت کروگے ۔
Read the full tafseer →(79) اس لوح محفوظ کو سووائے مقدس اور پاکیزہ فرشتوں کے کوئی چھو نہیں سکتا اور ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
ف 1۔ یہ سب امور نعم موجبہ للتوحید بھی ہیں اور دلائل موجبہ للاعتقاد والقدرة علی البعث بھی۔
Read the full tafseer →اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاک ہیں 97۔ { المطھرون } اسم مفعول جمع مذکر مرفوع تطہیر مصدر وہ جن کو پاک کردیا گیا ہے ۔ پاک کیے ہوئے لوگ ۔ لا یمسہ ای لا یطلبہ اس کو نہیں چھوتے یعنی اس کی طلب نہیں رکھتے مگر وہ لوگ جن کو پاک کردیا گیا ہے یعنی جن کے دل پاک ہیں اور کفر و شرک کے قریب بھی نہیں بھٹکتے وہی اس کو طلب کرتے اور چاہتے ہیں۔ اس کو پسند کرتے ہیں۔ اس سے سند حاصل کرتے ہیں۔ اس کو طلب کرتے ہیں۔ قرآن کریم کو باوضو پڑھنا چاہئے۔ آیا بےوضو اس کو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے یا پڑھا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ یہ سوال اس جگہ اٹھائے گئے ہیں اور پھر ان کے مختلف جواب بھی دیئے گئے ہیں اور اس پر بحس و کلام بھی کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (that is not touched except by the purified ones ...56:79). Two issues require clarification here. The commentators have different views about them, because the structure of verse 78 and 79 has two possibilities grammatically: The first possibility is that the phrase 'that is not touched except by the purified ones' is the qualification of the Preserved Tablet referred to in the previous verse. In this case, 'the purified ones' can refer only to angels, and the phrase 'not touched' cannot be taken in its literal sense of physical touch; it would rather…
Read the full tafseer →39 This is a refutation of the accusation that the disbelievers used to loud against the Qur'an. They regarded the Holy Prophet as a sorcerer and asserted that he was being inspired with the Word by the jinn and satans. An answer to it has been given at several places in the Qur'an, e.g. in Surah Ash-Shu'ara', where it has been said: "This (lucid Book) has not beer brought down by satans, nor dces this work behove them, nor arc they able to do it. They have indeed been kept out of its hearing." (vv. 210-212). The same theme has been expressed here, Saying: 'None but the purified can touch…
Read the full tafseer →