فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ ۟ۙفِىۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍۙ
(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)
— Fateh Muhammad Jalandhari
In a Register well-protected;
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ ۟ۙفِىۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍۙ
(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)
— Fateh Muhammad Jalandhari
In a Register well-protected;
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
ایک محفوظ کتاب میں ثبت
(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)
جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے
جو ایک محفوظ کتاب میں (پہلے سے) درج ہے۔
محفوظ نوشتہ میں
(اس سے پہلے یہ) لوحِ محفوظ میں (لکھا ہوا) ہے،
ایک ایسی کتاب میں جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔
جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے
ایک محفوظ کتاب میں ،
(جو ثبت و مندرج ہے) ایک (محفوظ و) پوشیدہ کتاب میں
ایک محفوظ کتاب میں (پہلے سے درج)۔
ایک چھپی ہوئی کتاب میں۔
جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے
inscribed in a well-guarded Book,
(recorded already) in a protected book (i.e. the Preserved Tablet)
(recorded already) in a protected book (i.e. the Preserved Tablet)
In a Book Maknun.
In a Book kept hidden
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
In a Register well-protected;
preserved in a hidden Book which
In a book that is protected
In a Book Hidden.
In Book well-guarded,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 75–82
قرآن کا مقام حضرت ضحاک فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائد ہے اور آیت (انہ لقراٰن) الخ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں لا کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے حضرت عائشہ کے اس قول میں ہے (لا واللہ ما مست ید رسول اللہ ﷺ ید امراۃ قط) یعنی اللہ کی قسم حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔…
Read the full tafseer →سورة الْوَاقِعَة 38 اس سے مراد ہے لوح محفوظ۔ اس کے لیے " کتاب مَکْنون " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں ایسا نوشتہ جو چھپا کر رکھا گیا ہے، یعنی جس تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔ اس محفوظ نوشتے میں قرآن کے ثبت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ پر نازل کیے جانے سے پہلے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس نوشتہ تقدیر میں ثبت ہوچکا ہے جس کے اندر کسی رد و بدل کا امکان نہیں ہے، کیونکہ وہ ہر مخلوق کی دسترس سے بالا تر ہے۔
Read the full tafseer →كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ کے لفظی معنی چھپی ہوئی مستور کتاب، مراد اس سے لوح محفوظ ہے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
(انہ لقراٰن کریم فی کتب مکنون لا یمسہ الا المطھرون تنزیل من رب العلمین) (77، 80) (قرآن شیطانی چھوت سے بالکل پاک ہے)۔ قسم کے بعد یہ مقسم علیہ ہے اور یہ حقیقت اپنی جگہ پر اچھی طرح واضح کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید میں قسمیں شہادت کے طور پر کھائی گئی ہیں۔ گویا شیاطین پر سنگ باری اور آتش باری کے مذکورہ بالا انتظام کا حوالہ دے کر مخاطبوں کو متنبہ فرمایا کہ اس قرآن کو کاہنوں کے قسم کا کوئی شیطانی القاء نہ گمان کرو بلکہ یہ ایک نہایت با عزت اور برتر کلام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک محفوظ کتاب میں ہے جس تک اس کے پاک فرشتوں کے سوا کسی کی بھی رسائی نہیں یعنی اس کو صرف ملائکہ مقربین ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں،…
Read the full tafseer →78-1یعنی لوح محفوظ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
22: بیچ میں یہ جملہ معترضہ ہے جس میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھانے کی اہمیت کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے۔ ایک تو اس قسم سے یہ جتایا جا رہا ہے کہ ستارے گرنے کے یہ مقامات خود بتا رہے ہیں کہ کوئی کاہن یہ کلام بنا کر نہیں لایا، دوسرے جس طرح ان ستاروں کا نظام انتہائی مستحکم نظام ہے جس میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ کلام بھی نہایت محکم اور ناقابل شکست نظام کے تحت آنحضرت ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
انہ ................ العلمین (6 5: 08) ” یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ “ فی کتب مکنون (6 5: 87) ” کتاب محفوظ میں۔ “ اور اس کی تفسیر بعد کی آیت کررہی ہے۔ لا یمسہ الا المطھرون (6 5: 97) ” جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ “ مشرکین کا الزام تھا کہ اسے شیاطین نے نازل کیا ہے۔ یہ ان کے الزام کی تردید ہے کیونکہ شیطان اس کتاب کو مس نہیں کرسکتا جو اللہ کے علم میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے۔ اسے پاک فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں۔ اس آیت کی یہ سب سے اچھی تفسیر ہے کیونکہ (لا) نافیہ ہے یعنی یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی فرشتے اس کتاب کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ وہ کتاب یہ ہی قرآن لکھا ہوا ہے فرشتوں کے ہاتھوں میں یا لوح محفوظ میں۔ " اور بعض نے " لا یَمَسُّہُ " کی ضمیر قرآن کی طرف راجع کی ہے یعنی اس قرآن کو نہیں چھوتے مگر پاک لوگ، یعنی جو صاف دل اور پاک اخلاق رکھتے ہیں۔ وہ ہی اس کے علوم و حقائق تک ٹھیک رسائی پاسکتے ہیں۔ یا اس قرآن کو نہ چھوئیں مگر پاک لوگ، یعنی بدون وضو کے ہاتھ لگانا جائز نہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ اس وقت " لایمسہ " کی نفی نہیں کے لیے ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 78{ فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ } ”ایک چھپی ہوئی کتاب میں۔“ یہ قرآن کریم ایک پوشیدہ کتاب میں محفوظ ہے۔ سورة الزخرف کی آیت 4 میں اس کتابٍ مَّکْنُوْنٍ کو اُمِّ الْـکِتَاب کا نام دیا گیا ہے : { وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْـکِتٰبِ لَدَیْنَا لَـعَلِیٌّ حَکِیْمٌ۔ } ”اور یہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند وبالا ‘ بہت حکمت والی !“ جبکہ سورة البروج میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : { بَلْ ھُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ - فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۔ } ”بلکہ یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے۔ لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
37 مطہرون سے مراد کون ؟ اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب قرآن کریم لوح محفوظ میں ثبت ہے اور وہاں سے پاکیزہ فرشتے ہی اسے لا کر رسول اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہوسکتی جو اسے لا کر کسی کاہن کے دل پر نازل کر دے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مطالب تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہوسکتی ہے جن کے خیالات پاکیزہ ہوں۔ کفر و شرک کے تعصبات سے پاک ہوں۔ عقل صحیح اور قلب سلیم رکھتے ہوں۔ جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں۔ قرآن کے بلند پایہ مضامین و مطالب تک ان کی رسائی ہو ہی نہیں سکتی۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
29۔ (اور بالکل منضبط) (آیت) ” کتب مکنون “۔ سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یعنی یہ قرآن کریم شروع سے لوح محفوظ میں منضبط چلا آرہا ہے۔ الاصح انہ لوح محفوظ (کبیر) المراد بہ اللوح المحفوظ کماروی عن الربیع بن انس وغیرہ (روح) (آیت) ” مکنون “۔ صفت کتب کی ہے صفت کتب کی ہے۔ یعنی وہ لوح غیروں کی مداخلت بلکہ دسترس سے بالکل محفوظ ہے۔” کریم “۔ صفت قران کی ہے۔ یعنی دنیوی واخروی ہر قسم کی صلاوفلاح کی تعلیمات سے لبریز۔ (آیت) ” لااقسم “۔ لایہاں نفی کا نہیں، تاکید کا ہے۔ لامزیدۃ للتاکید (بیضاوی) لامزیدۃ مؤکدۃ (کشاف) (آیت) ” لا ..... عظیم “ قرآن مجید میں قسمیں، شہادت بزبان حال کے معنی میں آئی ہیں اور قسموں کو بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
ترجمہ : سو میں قسم کھاتا ہوں غروب ہونے کے لئے چھپنے والے ستاروں کی اگر تم سمجھو تو یہ یعنی ان کی قسم ایک بڑی قسم ہے یعنی اگر تم اہل علم میں سے ہو تو اس قسم کی عظمت کو جان لو گے یہ یعنی جو تم کو سنایا جا رہا ہے مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب میں ہے اور وہ مصحف ہے اس کو پاک (لوگ) ہی چھوتے ہیں (لایمسہ) نہی بمعنی خبر ہے یعنی وہ جنہوں نے خود کو احداث سے پاک کرلیا رب العالمین کی جانب سے نازل کردہ ہے تو کیا اس کلام یعنی قرآن کو سرسری کلام سمجھتے ہو اہمیت نہیں دیتے ہو تکذیب کرتے ہو کیا تم نے اس کی تکذیب ہی کو غذا (دھندا) بنا لیا ہے ؟ اور تم بارش کے ذریعہ اس کے رزق کے شکر کے بجائے ناشکری کرتے ہو یعنی…
Read the full tafseer →جو ایک محفوظ کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں درج ہے مَکْنُوْنٍ : محفوظ ‘ اس سے مراد ہے لوح محفوظ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
(78۔ 80) اور اسی وجہ سے یہ قسم کھائی گئی ہے اور وہ لوح محفوظ ایسی چیز ہے کہ اسے سوائے پاک فرشتوں کے جو کہ گناہوں اور ناپاکیوں سے پورے طور پر پاک ہیں اور کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا یا یہ کہ جن لوگوں کو توفیق خدوندی ہو ان کے علاوہ اور کوئی قرآن کریم پر عمل نہیں کرسکتا یہ رسول اکرم پر رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
1۔ اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ۔۔۔۔۔۔۔۔:”کریم“ ہر چیز میں سے اپنی قسم میں سب سے اعلیٰ اور عمدہ چیز کو ”کریم“ کہتے ہیں۔ ”القرآن“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے ، یعنی پڑھا جانے والا۔ یہ نام اس لیے ہے کہ یہ کتاب اتنی پڑھی گئی اور قیامت تک پڑھی جائے گی کہ پڑھنے جانے میں کسی اور کتاب کو اس کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ یعنی یہ کتاب جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں ، تمام پڑھی جانے والی چیزوں میں سب سے اعلیٰ ہے اور ہر قسم کی کمی بیشی سے پوری طرح محفوظ ہے۔ کسی شیطان کی مجال نہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے سے پہلے یا نازل ہونے کے دوران اس پر مطلع ہی ہو سکے ، کیونکہ یہ اس کتاب یعنی لوح ِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
(فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ ) اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ فلا اقسم اکثر مفسرین کے نزدیک لا زائدہ ہے (2) معنی میں قسم اٹھاتا ہوں اس کی دلل وانہ لقسم ہے فراء نے کہا : یہ نفی ہے۔ معنی ہے معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا۔ اقسم میں قسم اٹھاتا ہوں۔ بعض اوقات ایک آدمی کہتا ہے : لا واللہ، کان کذا اس سے وہ قسم کا نفی کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ پہلی کلام کی نفی کا ارادہ کرتا ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تو نے ذکر کیا بلکہ معاملہ اس طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لاء الا کے معنی میں ہے جو تنبیہ کے لیے ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 461 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
قرآن کریم کا ایک خاص وصف 14۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا آیت انہ لقراٰن کریم، فی کتب مکنون۔ (کہ یہ ایک معزز قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج ہے، اور مکنون سے مراد ہے کہ جس کو کوئی چیز نہیں چھو سکتی مٹی سے اور نہ غبار سے آیت لا یمسہ الا لمطہرون یعنی وہ ملائکہ (علیہم السلام) ہیں جو پاک ہیں اور اسے صرف وہی چھوتے ہیں۔
Read the full tafseer →[فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ : ایک ڈھانپی ہوئی کتا میں ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
﴿وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌۙ0076﴾ یہ جملہ معترضہ ہے جو قسم اور جواب قسم کے درمیان واقع ہوا ہے، مطلب یہ ہے کہ مواقع النجوم کی قسم عظیم قسم ہے اگر تم صاحب علم ہوتے تو اس کی عظمت کو جان لیتے۔ پھر جواب قسم فرمایا کہ ﴿ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌۙ0077﴾ مواقع نجوم کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ کتاب جو تم پڑھتے ہو قرآن کریم ہے ﴿ فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ0078﴾ جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے اس سے لوح محفوظ مراد ہے جیسا کہ سورة البروج میں فرمایا ہے : ﴿بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌۙ0021 فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (رح) 0022﴾ اس لوح تک شیاطین نہیں پہنچ سکتے اور تغیر اور تبدل سے محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
27:۔ ” وانہ لقسم “ یہ قسم اور جواب قسم کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ برائے بیان عظمت قسم یعنی اگر تمہیں اس کی حقیقت کا علم ہو تو یہ ایک نہایت عظیم الشان قسم اور شاہد ہے۔ ” انہ لقران الخ “ یہ جواب قسم ہے یہ قرآن نہایت اعلی اور احسن کتاب ہے جو دینی اور دنیوی منافع کا بیش بہا خزینہ ہے۔ فی کتاب مکنون، وہ لوح محفوظ میں محفوظ اور ہر قسم کے تغیر و تبدل سے مامون و مصئون ہے۔ ” لا یمسہ الا المطہرون “ جملہ کتاب مکنون کی صفت ہے۔ اور ” المطہرون “ سے مراد فرشتے ہیں جو ہر قسم کے گناہوں اور نجاستوں سے پاک ہیں۔ اور ” مس “ کنایہ ہے لوح محفوظ کے علوم پر اطلاع سے حاصل یہ ہوا کہ لوح محفوظ کے علوم پر فرشتوں کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت والے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے کا ذکر کیا۔ ان میں دو گروہ یعنی سابقین اور اصحاب یمین کامیاب ہو کر خدا کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے ، اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجات حاصل کریں گے اور البتہ اصحاب شمال ناکام ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے مقام جہنم میں پہنچیں گے۔ اللہ نے پہلی دو اقسام کے لوگوں کو ملنے والے انعامات کا تذکرہ کیا ، اور تیسرے گروہ کی سزا کا بیان ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے توحید اور قیامت کے منکرین کا رد کیا ، اور اس ضمن میں بعض دلائل کا ذکر بھی کیا۔ اب آخر میں رسالت کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ منکرین قیامت کا رد بھی۔ اس کے…
Read the full tafseer →فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ 78 ۙ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–84
ترکیب : فلا لامزیدۃ للتاکید کمافی قولہ۔ وقیل انھا للنفی لا اقسم اذلاحاجۃ الی القسم فان الامرواضح وقیل معناہ لیس الامرکمازعم الکفار ثم اکدہ بالقسم فقال اقسم بمواقع النجوم وانہ خبرہ عظیم لو تعلمون جملۃ معترضۃ بین القسم والمقسم علیہ انہ لقرآن کریم صفۃ فی کتاب صفۃ ثانیۃ لایمسہ ثالثہ تنزیل رابعۃ لقرآن مع صفا تھا خبران و الجملۃ جواب القسم وتجعلون معطوف علی مدھبون رزقکم مفعول اول لتجعلون انکم تکذبون الجملۃ مفعول ثان بمعنی ہلا اذا ظرفیۃ والعامل ترجعونہا انتم الخ الجملۃ حال ونحن الخ حال من فاعل تنظرون فلولا تکریر و تاکید للولا الاولی ترجعونھا المحضض علیہ لولا ان کنتم شرط جو ابہ محذوف یدل علیہ ترجعونہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
فِیْ کِتٰبٍ مَّـکْنُوْنٍ ۔ لاَّیَمَسُّہٗٓ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 78، 79) (ایک محفوظ کتاب میں۔ اسے پاکیزہ لوگوں کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ ) قرآن کریم کی عظمت کا بیان اس میں قرآن کریم کی عظمت و جلالت کا بیان بھی ہے اور مخالفین کے رویئے پر ملامت بھی۔ عظمت و جلال کا بیان ان معنوں میں ہے کہ یہ قرآن کریم ایک کتاب مکنون میں محفوظ ہے۔ اس سے مراد ہے لوح محفوظ۔ یعنی ایسا نوشتہ جو نگاہوں سے اتنا بلند اور مخلوق کے احساس سے اس قدر ماورا کہ کسی کی رسائی اس تک نہیں ہوسکتی۔ وہ لوح محفوظ جس میں اس کتاب کو محفوظ رکھا گیا ہے اس قدر پاکیزہ ہے کہ پاکیزہ فرشتوں کے سوا کوئی اسے چھو نہیں سکتا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
فہم القرآن ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کے تذکرے کے بعد عظیم خالق کی تسبیح کرنے کا حکم اس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے آسمان سے قرآن مجید جیسی عطیم کتاب نازل کی ہے۔ اہل مکہ اپنے باطل عقیدہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے قرآن کی مخالفت کرتے تھے حالانکہ اس بات کے ان کے سامنے درجنوں دلائل دیئے گئے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جارہا لیکن وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ کسی صورت قرآن مجید کو مِن جانب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھا کر یقین دلایا کہ یہ قرآن کسی غیر کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا اسے تو اس رب نے نازل کیا ہے جو ستارے…
Read the full tafseer →78 : فِی کِتٰبٍ (جو ایک محفوط کتاب میں درج ہے) کتاب سے لوح محفوظ مراد ہے۔ مَّکْنُوْنٍ (باطل کی آمدوشر سے محفوظ ہے) نمبر 2۔ غیر مقربین سے اس کو محفوط کردیا گیا ہے مقربین کے علاوہ کوئی اس کی اطلاع نہیں پاسکتا۔
Read the full tafseer →77 ۔” انہ “ یعنی یہ کتاب اور یہ موضع قسم ہے۔ ” لقرآن کریم “ غالب معزز ہے اس لئے کہ وہ اللہ کی کلام ہے ۔ بعض اہل معانی فرماتے ہیں کریم وہ جس کی یہ شان ہو کہ خیر کثیر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
75۔ 82۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ مینہ برسا اس مینہ کے برسنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے مینہ کا برسنا اپنے دل میں سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نعمت کے شکر گزار ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا ہے انہوں نے اللہ کی نعمت کی کچھ قدر نہ جانی اس پر اللہ تعالیٰ نے فلا اقسم سے ولا تجعلون رزقکم انکم تکذبون تک یک یہ آیتیں نازل فرمائیں بغیر ذکر شان نزول کے یہ حدیث ابو سعید خدری وغیرہ کی روایت سے صحیحین میں بھی ہے۔ عربی زبان کا محاورہ…
Read the full tafseer →(فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ ) کتاب محفوظ میں ہے۔ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے۔ یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے یعنی یہ قرآن لوح محفوظ لکھا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اور ملا اعلی میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مرادوہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر وتبدل کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–96
قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔ حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…
Read the full tafseer →[ 67] عظمت قرآن کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ بڑا ہی بلند پایہ قرآن ہے جو محفوظ و مندرج ہے ایک محفوظ کتاب میں۔ یعنی لوح محفوظ میں، جو کہ ہر طرح کے شیاطین کی رسائی سے بالا و محفوظ ہے، اسی لئے اس کی طرف کوئی تبدیلی راہ نہیں پاسکتی، سو یہ ایک بڑا ہی محفوظ و مبارک اور عظیم الشان کلام ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک ایسی عظیم الشان کتاب میں محفوظ ہے جس تک اس کے پاک فرشتوں کے سوا کسی کی اور کوئی رسائی نہیں ہوسکتی، اس کو ملائکہ مقربین کے سوا کوئی چھو بھی نہیں سکتا، جنات اور شیاطین وہاں نہیں بھٹک سکتے، اور یہی وہ کتاب عظیم ہے جس میں انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
قرآن کی اہمیت، برکت اور سچائی تشریح :۔ ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور اس کی سچائی کے بارے میں قسم کھاتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی اس قسم کھانے کے مضمون کے مطابق بہت سی سورتیں گز رچ کی ہیں۔ یہاں کیونکہ کفار کی خصلت بد کا پہلے ذکر آیا تھا جس کے مطابق وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے سے انکار کرتے تھے تو اس آیت میں فَلَآ ' انہیں کے واسطے سے بولا گیا ہے یعنی ' پس نہیں یہ کتاب نہ تو معمولی ہے نہ محض کہانت ہے بلکہ اس کی سچائی کے لیے ہم ( اللہ ) قسم کھاتے ہیں ستاروں کے مواقع کی۔ اب پہلے فلا کی توضیح تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔ لکھا گیا ہے۔ ' بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ف 10 یعنی لوح محفوظ ہیں۔
Read the full tafseer →(56:78) فی کتب مکنون : کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اس کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ کتب مکنون سے مراد لوح محفوظ ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد قرآن کا عند اللہ محفوظ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا وانا لہ لحافظون (15:9) اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔ (المفردات راغب) مکنون اسم مفعول ۔ واحد مذکر۔ کن (باب فتح) مصدر سے بمعنی چھپانا۔ جسم کو دھوپ سے۔ لڑکی کو نظر سے ۔ راز کو دل میں۔ قرآن مجید میں ہے بیض مکنون (37:49) محفوظ انڈے۔ لؤلؤ مکنون (52:24) چھپائے ہوئے موتی ۔ الکن ہر وہ چیز جس میں کسی چیز کو محفوظ رکھا جائے۔ کننت الشیء وکنا کسی شی کو کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
توحید کابیان۔ (ف 1) حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دہریہ لوگوں کے اعتقاد کی طرح جن ستاروں کے اثر سے یہ اللہ کی قدرت کے منکر لوگ مینہ کے برسنے کے قائل تھے انہیں ستاروں کی قسم کھاکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جس طرح جگہ جگہ اس کلام الٰہی میں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی قدرت اور حکم کے نہ ستاروں کے اثر سے کچھ ہوتا ہے نہ چاند کے اثر سے۔ اس کے سوا جن لوگوں کا جو کچھ اعتقاد ہے اس سے کلام الٰہی کا جھٹلانا ان کی قسمت میں ہے ورنہ ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جس کی قدرت میں ستاروں کا طلوع و غروب ہے اس کے حکم سے مینہ برستا ہے ستاروں میں کوئی مستقل تاثیر ہوتی…
Read the full tafseer →[18] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
سطحی واقعات اور پر اثر نتیجہ 2: قرآن حکیم میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اس میں ہر نوع کے لوگوں کے لئے دلائل ہیں ۔ اور ہر مذاق کے افراد کے لئے سامان تسکین ہے ۔ یہ عقلاء اور دانشوروں کو بھی مخاطب کرتا ہے ۔ اور عوام کو بھی ۔ اس میں عمیق اور لائق فکروغور باتیں بھی ہیں ۔ اور سطحی واقعات سے استدلال بھی ۔ غرض یہ ہے کہ ان کا کوئی طبقہ ہدایت سے محروم نہ رہے ۔ اور یہ کوئی نہ سمجھے ۔ کہ یہ کتاب ہمارے لئے نہیں ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے ضمن میں ان لوگوں کے لئے جو زیادہ دانائی سے بہرہ ور نہیں ہیں ۔ اور جن کی نظر صرف معمولی واقعات و حقائق تک محدود رہتی ہے ۔ چند فطرت کے مظاہر بیان کئے ہیں ۔ جو اس کی مہربانی…
Read the full tafseer →(78) کتاب مکنون یعنی لوح محفوظ میں درج اور لکھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
ف 1۔ یہ سب امور نعم موجبہ للتوحید بھی ہیں اور دلائل موجبہ للاعتقاد والقدرة علی البعث بھی۔
Read the full tafseer →بلا شبہ وہ لوح محفوظ میں بھی محفوظ ہے 87۔ { المکنون } کا لفظ اس سورت کی آیت 32 میں بھی گزر چکا ہے۔ اسم مفعول واحد مذکر کن اور کنون مصدر۔ چھایا ہوا ‘ صاف ستھرا اور محفوظ جیسے کوئی چیز چھپا کر رکھی گئی ہو۔ { کتاب } ہر لکھی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے اور اسی طرح اللہ کی کتاب ‘ لوح محفوظ قرآن کریم۔ قرآن کریم کے علاوہ کتاب اس جگہ کے معنی لوح محفوظ کے ہیں یعنی آپ ﷺ کے سینہ مبارک پر اس کا نزول ہوا ہے اور لوح محفوظ میں بھی یہ قرآن کریم محفوظ ہے { لوح مخفوظ } وہی ہے جس کو دوسری جگہ { ام الکتاب } بھی کہا گیا ہے۔ حقیقت اس کی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اس کی اصل حقیقت کو…
Read the full tafseer →The phrase كِتَابٍ مَّكْنُونٍ 'a protected book' refers to lawh mahfuz [ i.e. the Preserved Tablet ].
Read the full tafseer →38 This implies the well-guarded Tablet (leuh-mahfuz). For it the word Kitab maknun has been used, which means a writing kept hidden, i.e. a writing that is inaccessible to all. The Qur'an's having been inscribed in this well guarded Book means that before its being sent down to the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) it lay inscribed in the Divine Writ of Destiny in which three is no possibility of any alteration or corruption taking place, for it is inaccessible to every kind of creation. The Meaning of the Qur'an
Read the full tafseer →