Al-Waaqia 56:82

Al-Waaqia · from ayah 82

56:82

وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ ۟وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ

اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And make [the thanks for] your provision that you deny [the Provider]?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:82

اور اِس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اِسے جھٹلاتے ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم نے اسی کو اپنا روزگار بنا لیا ہے کہ (اس کو) جھٹلاتے رہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ جھٹلاتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم نے اپنا رِزق (اور نصیب) اسی بات کو بنا رکھا ہے کہ تم (اسے) جھٹلاتے رہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تم اپنا حصہ یہ ٹھہراتے ہو کہ بیشک تم جھٹلاتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا کہ اسے جھٹلاتے رہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو تمہارے لیے رزق ہے اس کی تکذیب کررہے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم نے اپنی روزی ہی یہ بنا رکھی ہے کہ تم اسے جھٹلاتے جاؤ ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور تکذیب کو اپنی غذا بنا رہے ہو ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم نے اپنا نصیب یہ ٹھہرا لیا ہے کہ تم اس کو جھٹلا رہے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اسے جھٹلاتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and your portion in it is simply that you denounce it as false?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and take your denial as your livelihood?

— Muhammad Taqi Usmani

and take your denial as your livelihood?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And you make your provision your denial!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And make denial thereof your livelihood?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And make [the thanks for] your provision that you deny [the Provider]?

— Saheeh International

Would you reject the sustenance that you receive rather than give thanks?

— Muhammad Sarwar

And to give (it) the lie you make your means of subsistence.

— Muhammad Habib Shakir

And make it your provision that ye should belie it?

— Abdul Majid Daryabadi

And have ye made it your livelihood that ye should declare it false?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:82

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–82

قرآن کا مقام حضرت ضحاک فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائد ہے اور آیت (انہ لقراٰن) الخ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں لا کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے حضرت عائشہ کے اس قول میں ہے (لا واللہ ما مست ید رسول اللہ ﷺ ید امراۃ قط) یعنی اللہ کی قسم حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْوَاقِعَة 41 امام رازی نے تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ کی تفسیر میں ایک احتمال یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں لفظ رزق معاش کے معنی میں ہو۔ چونکہ کفار قریش قرآن کی دعوت کو اپنے معاشی مفاد کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے اور ان کا خیال یہ تھا کہ یہ دعوت اگر کامیاب ہوگئی تو ہمارا رزق مارا جائے گا، اس لیے اس آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم نے اس قرآن کی تکذیب کو اپنے پیٹ کا دھندا بنا رکھا ہے۔ تمہارے نزدیک حق اور باطل کا سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اصل اہمیت تمہاری نگاہ میں روٹی کی ہے اور اس کی خاطر حق کی مخالفت کرنے اور باطل کا سہارا لینے میں تمہیں کوئی تامل نہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–82

اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ ، مدہنون، ادہان سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی تیل کی مالش کرنے کے ہیں اور تیل مالش سے اعضاء نرم ہوجاتے ہیں اس لئے نرم کرنے اور ناجائز مواقع میں نرمی برتنے کے معنی اور نفاق کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا، آیت مذکورہ میں یہ لفظ آیات الٰہیہ کی تصدیق میں نفاق یا تکذیب کے معنی میں استعمال ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(وتجعلون رزقکم انکم تکذبون) (82) (رزق سے مراد قرآن ہے) یہاں رزق سے مراد ہمارے نزدیک وحی الٰہی یا بالفاظ دیگر قرآن ہے جس پر بحث چلی آرہی ہے۔ وحی الٰہی کو قدیم صحیفوں میں بھی جا بجا رزق سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور قرآن میں بھی اس کے حوالے اس کے محل میں ہم دے چکے ہیں۔ حضرت مسیح ؑ نے فرمایا ہے کہ ”انسان صرف روٹی سے نہیں جیتنا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے“ قرآن میں بھی اسکو زندگی سے تعبیر فرمایا گیا ہے (واستجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکم) (الانفال : 80، 24) (اور لبیک کہو اللہ و رسول کی دعوت پر جب کہ رسول تمہیں بلا رہا ہے اس چیز کی طرف جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے) آیت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 79–83

79-1یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوتی۔ مطلب مشرکین کی تردید ہے جو کہتے تھے کہ قرآن شیاطین لے کر اترتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ کیوں کر ممکن ہے یہ قرآن تو شیطانی اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 79–86

23: راجح تفسیر کے مطابق اس سے مراد فرشتے ہیں، اور کافروں کے اس اشکال کا جواب دیا جارہا ہے کہ ہم یہ کیسے یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کسی کمی زیادتی کے بغیر اپنی اصلی صورت میں ہمارے پاس پہنچ رہا ہے اور کسی شیطان وغیرہ نے اس میں کوئی تصرف نہیں کیا ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اور اسے پاک فرشتوں کے سوا کوئی اور چھو بھی نہیں سکتا، اگرچہ یہاں خوب پاک سے مراد فرشتے ہیں، لیکن اس میں ایک اشارہ اس طرف بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عالم بالا میں پاک فرشتے ہی اسے چھوتے ہیں، اسی طرح دنیا میں بھی انہی لوگوں کو چھونا چاہیے جو پاک حالت میں ہوں، چنانچہ احادیث میں قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وتجعلون ................ تکذبون (6 5: 28) ” کہ تم تکذیب کو اپنا رزق بنا رہے ہو۔ “ اور اس کو توشہ آخرت بنا رہے ہو اور زندگی بھی تم اس تکذیب پر بسر کرتے ہو یا یہ تمہاری خوراک بن گئی ہے۔ کس قدر گندی خوراک ہے یہ۔ جب تمہاری روح حلقوم تک آجاتی ہے اور تم دنیا اور آخرت کے کنارے اور دورا ہے پر کھڑے ہوئے ہو تو تم کیا کرنے والے ہوتے ہو ، تم کر ہی کیا کرسکتے ہو .... پھر قرآن کا انداز تصویر کشی آتا ہے اور اس موقع کی بہترین تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کئی جھلکیوں کے انداز میں ہے اور مختصر جھلکیوں میں سب کچھ دکھا دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 81–82

12 یعنی کیا یہ ایسی دولت ہے جس سے منتفع ہونے میں تم سستی اور کاہلی کرو۔ اور اپنا حصہ اتنا ہی سمجھو کہ ان کو اور اس کے بتلائے ہوئے حقائق کو جھٹلاتے رہو، جیسے بارش کو دیکھ کر کہہ دیا کرتے ہو کہ فلاں ستارہ فلاں برج میں آگیا تھا اس سے بارش ہوگئی۔ گویا خدا سے کوئی مطلب ہی نہیں۔ اسی طرح اس باران رحمت کی قدر نہ کرنا جو قرآن کی صورت میں نازل ہوئی ہے اور یہ کہہ دینا کہ وہ اللہ کی اتاری ہوئی نہیں، سخت بدبختی اور حرماں نصیبی ہے۔ کیا ایک نعمت کی شکر گزاری یہ ہی ہے کہ اس کو جھٹلایا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 82{ وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”اور تم نے اپنا نصیب یہ ٹھہرا لیا ہے کہ تم اس کو جھٹلا رہے ہو !“ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن کا جھٹلانا ایک تو زبانی ہے اور دوسرا عملی۔ زبانی اور نظریاتی طور پر تو قرآن مجید کو مشرکین عرب جھٹلاتے تھے یا ہر زمانے کے بہت سے غیر مسلم جھٹلاتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ خود محمد ﷺ کی تصنیف ہے۔ جبکہ عملی طور پر اسے ہم مسلمان جھٹلاتے ہیں۔ ہم نظریاتی طور پر تو اسے اللہ کا کلام مانتے ہیں اور زبان سے اس کا اقرار بھی کرتے ہیں مگر اس کے احکام ماننے سے کھلم کھلا اعراض کرتے ہیں۔ ہماری اس کیفیت کی مثال اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

39 اس آیت کے بھی کئی مطالب ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح روزانہ کھانا کھاناتمہارا معمول ہے اسی طرح قرآن کو جھٹلانا بھی تم نے روز مرہ کا معمول بنا رکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی کوئی اور توجیہ تلاش کرکے اللہ کی اس نعمت کو بھی جھٹلا دینا تمہارا معمول بن گیا ہے۔ چناچہ سیدنا علی اس آیت کی تفسیر مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم اپنے رزق کا شکر یوں ادا کرتے ہو کہ اللہ کو جھٹلاتے ہو اور کہتے ہو کہ مینہ ہم پر فلاں نچھتر اور فلاں ستارے کے سبب سے برسا ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور یہ قرآن بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی بارش اور بہت بڑی نعمت ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 82–84

32۔ (بیکسی اور حسرت کی تصویر بنے ہوئے) (آیت) ” فلو ..... الحلقوم “۔ موت اور قبض روح کے وقت کا منظر ہے۔ (آیت) ” وتجعلون ..... تکذبون “۔ یعنی بھی کس درجہ اور شدت کی ؟ گویا تکذیب حقائق کو اپنی غذا ہی بنائے ہوئے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 79–83

لایمسہ الا المطھرون یہاں دو مسئلے غور طلب ہیں اور ائمہ تفسیر میں مختلف فیہ ہیں اول یہ کہ جس کتاب کی صفت مکنون بیان کی گئی ہے یہ جملہ اسی کتاب کی دوسری صفت ہے اور لایمسہ کی ضمیر اسی کتاب کی طرف راجع ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوں گے کتاب مکنون یعنی لوح محفوظ کو سوائے پاک ہستیوں کے کوئی نہیں چھو سکتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مطھرون سے مراد صرف فرشتے ہی ہوسکتے ہیں جن کی رسائی لوح محفوظ تک ہو سکے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مس سے مراد حقیقی معنی یعنی ہاتھ سے چھونا مراد نہیں لیا جاسکتا ہے، بلکہ لازمی اور مرادی معنی یعنی مطل ہونا مراد ہوسکتے ہیں اس لئے کہ لوح محفوظ کو چھونا کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اور اس کی تکذیب کو اپنا رزق بنا رہے ہوں۔ رِزْقَکُمْ : یعنی قرآن سے تم اپنا حصہ اور نصیب تکذیب کو قرار دیتے ہو۔ حسنؔ نے اس آیت کے سلسلے میں کہا : وہ بندہ تباہ ہوگیا جس کا کتاب اللہ سے نصیب صرف تکذیب ہے (یعنی کلام اللہ کی بس تکذیب کرتا ہے ‘ کوئی ہدایت حاصل نہیں کرتا) ۔ مفسرین نے ایک جگہ رزق کا معنی شکر بیان کیا ہے۔ امام احمد (رح) اور ترمذی (رح) نے حضرت علی کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہی ارشاد بیان کیا ہے۔ ہیثم بن عدی نے کہا : ازدشنوءہ کے محاورے میں لارَزَقَ کا معنی ہوتا ہے : مَا شَکَرَ : اس نے شکر نہیں کیا۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ رَزَقَ سے پہلے لفظ شکر محذوف ہے اور رزق سے مراد ہے بارش۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 81–85

(81۔ 85) تو کیا اے اہل مکہ تم اس قرآن کریم کی جو تمہیں کو رسول اکرم پڑھ کر سناتے ہیں جھٹلاتے ہو یعنی یہ جنت و دوزخ بعث اور حساب کو جو بیان کرتے ہے انہیں اور اس سے بڑھ کر یہ ستاروں کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی سو جس وقت روح حلق تک آپہنچتی ہے اور مکہ والو تم اس وقت دیکھا کرتے ہو کہ جب جان نکلے تو اس وقت ملک الموت مرنے والے شخص کے اس کے گھر والوں سے بھی زیادہ نزیک ہوتے ہیں اور وہ تمہیں نظر نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 81–82

اَفَبِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ۔۔۔۔۔۔ پھر کیا اس ساری تفصیل کے بعد کہ قیامت حق ہے اور اللہ تعالیٰ اکیلا معبود برحق ہے اور قسم کے ساتھ تاکید کے بعد بھی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے ، تم اس سے بےتوجہی کرتے ہو اور اس پر ایمان لانے میں سستی کرتے ہو اور اتنی بڑی نعمت میں سے تم یہی حصہ حاصل کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وتجعلون رزقکم انکم تکذبون۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تم نے اپنے شکر کو جھٹلانا بنا لیا ہے۔ ہشیم بن عدی نے کہا : یہ ازدشئو کی لغت میں سے ہے ما رزق فلانہ مراد ہے اس کا شکر کیا ہے یہ مناسب ہے کہ رزق کے اسم کو شکر کی جگہ رکھا جائے کیونکہ رزق کا شکر اس میں زیادتی کا تقاضا کرتا ہے تو شکر اس معنی کی وجہ سے رزق ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وتجعلون رزقکم سے اصل مقصود ہے وتجعلون شکر رزقکم تم نے اپنے رزق کا شکر ( جو اگر تم سے پایا جاتا تو وہ تمہارے لیے رزق کی صورت میں لوٹتا) 1۔ تفسیر ماوردی جلد 5، صفحہ 464 2۔ ایضاً جلد 5، صفحہ 465 3۔ ایضاً یہ بنا لیا ہے کہ تم رزق کو جھٹلاتے ہو، ینی تم شکر کی جگہ رزق کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 82–85

35۔ ابو عبید فی فضائلہ سعید بن مبصور عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ ما سے روایت کیا کہ وہ یہ آیت پڑھتے تھے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ اور فرماتے تم بارشوں کو جھٹلاتے ہو اور کسی قوم پر بارش نہیں ہوئی مگر ان کے بعض کافر ہوگئے اور وہ یہ کہتے تھے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (یہ آیت) اتاری۔ آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ رزق صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ 36 ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شدید گرمی میں سفر کیا اور لوگ ایسی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَتَجْعَلُوْنَ : اور بناتے ہو (اس میں سے ][ رِزْقَكُمْ : اپنا نصیب ][ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ : یہ تم لوگ جھٹلاتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 81–82

﴿اَفَبِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ0081﴾ لفظ مُدْھِنُوْنَ کا ترجمہ صاحب روح المعانی نے متھاونون کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم قرآن کو معمولی چیز سمجھتے ہو پھر لکھا ہے کہ یہ لفظ ادھان سے ماخوذ ہے چمڑے کو تیل وغیرہ لگا کر جو نرم کرتے ہیں اس کو ادھان کہتے ہیں، بطور مجاز یا بطور استعارہ یہ لفظ لایا گیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم کی طرف جو مضبوط توجہ ہونی چاہئے تمہارے اندر وہ توجہ نہیں ہے اور ہمزہ استفہام لاکر اس پر توبیخ فرمائی۔ ” یوں ہی سرسری بات سمجھتے ہو۔ “ یہ اس کا اصل ترجمہ ہے : (وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ 0082) اس کا ایک ترجمہ اور مطلب تو وہی ہے جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–96

حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 80–82

28:۔ ” تنزیل “ یہ بھی ” قران “ کی صفت ہے یہ قرآن اس شہنشاہ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور ساری کائنات کا مالک ہے۔ ” افبھذا الحدیث انتم مدھننون “ تو کیا تم ایسی خوبیوں والی کتاب اور مالک کائنات کے ایسے عظیم الشان حکمانے سے بےاعتنائی برت رہے ؟ اور بجائے اس کے کہ تم اس نعمت عظمی کی قدر کرتے۔ اس کا شکر بجا لاتے اور اس پر ایمان لا کر اس پر عمل کرتے، تم نے اسے جھٹلا دیا ہے اور اس کا انکار کردیا ہے۔ یہ انتہائی نادانی اور بدبختی ہے۔ رزقکم ای شکرکم قال ابن عباس تجعلون شکرکم التکذیب (قرطبی ج 17 ص 228) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ ” تم تکذیب قرآن کو اپنا نصیب (حصہ) بناتے ہو “۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–82

ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت والے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے کا ذکر کیا۔ ان میں دو گروہ یعنی سابقین اور اصحاب یمین کامیاب ہو کر خدا کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے ، اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجات حاصل کریں گے اور البتہ اصحاب شمال ناکام ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے مقام جہنم میں پہنچیں گے۔ اللہ نے پہلی دو اقسام کے لوگوں کو ملنے والے انعامات کا تذکرہ کیا ، اور تیسرے گروہ کی سزا کا بیان ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے توحید اور قیامت کے منکرین کا رد کیا ، اور اس ضمن میں بعض دلائل کا ذکر بھی کیا۔ اب آخر میں رسالت کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ منکرین قیامت کا رد بھی۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ۝ 82 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–84

ترکیب : فلا لامزیدۃ للتاکید کمافی قولہ۔ وقیل انھا للنفی لا اقسم اذلاحاجۃ الی القسم فان الامرواضح وقیل معناہ لیس الامرکمازعم الکفار ثم اکدہ بالقسم فقال اقسم بمواقع النجوم وانہ خبرہ عظیم لو تعلمون جملۃ معترضۃ بین القسم والمقسم علیہ انہ لقرآن کریم صفۃ فی کتاب صفۃ ثانیۃ لایمسہ ثالثہ تنزیل رابعۃ لقرآن مع صفا تھا خبران و الجملۃ جواب القسم وتجعلون معطوف علی مدھبون رزقکم مفعول اول لتجعلون انکم تکذبون الجملۃ مفعول ثان بمعنی ہلا اذا ظرفیۃ والعامل ترجعونہا انتم الخ الجملۃ حال ونحن الخ حال من فاعل تنظرون فلولا تکریر و تاکید للولا الاولی ترجعونھا المحضض علیہ لولا ان کنتم شرط جو ابہ محذوف یدل علیہ ترجعونہا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 81–82

اَفَبِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْھِنُوْنَ ۔ وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَـکُمْ اَنَّـکُمْ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 81، 82) (کیا تم اس کلام سے بےاعتنائی برتتے ہو۔ اور اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اس کو جھٹلاتے ہو۔ ) قرآن سے بےاعتنائی برتنے والوں کو تنبیہ مُدْھِنُوْنَ ، اِدْھَانٌ سے ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز سے مداہنت برتنا، اہمیت نہ دینا، اعراض کرنا وغیرہ۔ قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے کے بعد تعجب کی صورت میں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ تم نے اچھی طرح یہ بات سن لی کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہایت اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ انسانی زندگی کی رہنمائی کے لیے اس کے سوا دنیا میں ایسی کوئی کتاب نہیں جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–82

فہم القرآن ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کے تذکرے کے بعد عظیم خالق کی تسبیح کرنے کا حکم اس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے آسمان سے قرآن مجید جیسی عطیم کتاب نازل کی ہے۔ اہل مکہ اپنے باطل عقیدہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے قرآن کی مخالفت کرتے تھے حالانکہ اس بات کے ان کے سامنے درجنوں دلائل دیئے گئے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جارہا لیکن وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ کسی صورت قرآن مجید کو مِن جانب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھا کر یقین دلایا کہ یہ قرآن کسی غیر کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا اسے تو اس رب نے نازل کیا ہے جو ستارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

82 : وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ (کہ اس کی تکذیب کو تم نے اپنا رزق بنا لیا ہے) یعنی تم نے اپنے رزق کے شکر کو تکذیب بنا لیا ہے یعنی شکر کی بجائے تم تکذیب اختیار کرنے والے ہو۔ قراءت ِعلی ؓ میں ہے اور بقول صاحب کشاف یہ قراءت ِرسول اللہ ﷺ بھی ہے۔ وتجعلون شکرکم انکم تکذبون ( تم نے اپنے شکریہ کو اس طرح بنالیا کہ تم تکذیب کرتے ہو) تم نے نعمت قرآن پر شکریہ کو اس طرح بنا لیا کہ تم قرآن کی تکذیب کرتے ہو۔ ایک قول یہ ہے یہ ستاروں کے بارے میں نازل ہوئی جن سے عرب میں بارش حاصل کرنے کا رواج تھا۔ اور اسی طرح رزق بھی۔ اب معنی یہ ہے تم نے بنا لیا اس چیز پر شکریہ کو جو اللہ تعالیٰ تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

81 ۔” افبھذا الحدیث “ یعنی قرآن۔ ” انتم “ اے اہل مکہ ” مدھنون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تکذیب کرنے والے ہو۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کافر ہو۔ اس کی نظیر ” ودوا لوتدھن فیدھنون “ اور مدھن اور مداھن بہت بڑا جھوٹا اور منافق اور یہ ادھان سے ہے اور وہ باطن ظاہر کے خلاف چلنا ہے۔ یہ اس کی اصل ہے۔ پھر جھٹلانے والے کو ” مدھنہ “ کہاجاتا ہے۔ اگرچہ وہ صراحۃ تکذیب وکفر کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–82

75۔ 82۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ مینہ برسا اس مینہ کے برسنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے مینہ کا برسنا اپنے دل میں سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نعمت کے شکر گزار ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا ہے انہوں نے اللہ کی نعمت کی کچھ قدر نہ جانی اس پر اللہ تعالیٰ نے فلا اقسم سے ولا تجعلون رزقکم انکم تکذبون تک یک یہ آیتیں نازل فرمائیں بغیر ذکر شان نزول کے یہ حدیث ابو سعید خدری وغیرہ کی روایت سے صحیحین میں بھی ہے۔ عربی زبان کا محاورہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ ) اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔ یعنی تم اللہ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفہ تکذیب ور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہوں فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی اور تم نعمت کو ان ہسیتوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنہوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہ ادا کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمہیں اور زیادہ اپنے فضل و کرم سے سرفراز فرمائے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 77–96

قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔ حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 82–83

[ 70] انکار و تکذیب حق پر منکرین کی تحمیق و تجہیل کا ذکر وبیان : سو منکرین سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے اس کی تکذیب کو اپنی روزی بنا رکھا ہے اور تم لوگ اس کے جھٹلانے پر ہی کمر بستہ ہو تو کیا اپنے رب اور اپنے خالق ومالک کی بخشش و عطا اور اپنے منعم حقیقی کی نعمتوں کے شکر کا تقاضا یہی ہے کہ تم اس کے کلام کی تکذیب کرو ؟ یا روق کے معنی یہاں پر " حظ " اور نصیب کے ہیں۔ یعنی کیا قرآن پاک کے بارے میں تم نے اپنا حصہ اور نصیب یہی بنا رکھا ہے کہ بجائے ماننے اور ایمان لانے کے تم اس کی تکذیب کرو ؟ [ محاسن، خازن، ابن کثیر، وغیرہ ] نیز اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ رزق سے مراد خود وحی الٰہی یعنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

قرآن کی اہمیت، برکت اور سچائی تشریح :۔ ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور اس کی سچائی کے بارے میں قسم کھاتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی اس قسم کھانے کے مضمون کے مطابق بہت سی سورتیں گز رچ کی ہیں۔ یہاں کیونکہ کفار کی خصلت بد کا پہلے ذکر آیا تھا جس کے مطابق وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے سے انکار کرتے تھے تو اس آیت میں فَلَآ ' انہیں کے واسطے سے بولا گیا ہے یعنی ' پس نہیں یہ کتاب نہ تو معمولی ہے نہ محض کہانت ہے بلکہ اس کی سچائی کے لیے ہم ( اللہ ) قسم کھاتے ہیں ستاروں کے مواقع کی۔ اب پہلے فلا کی توضیح تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔ لکھا گیا ہے۔ ' بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–96

آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 جیسے مینہ برسائے لیکن تم یہ کہو کہ فلاں ستارہ فلاں برج میں آگیا تھا اس لئے بارش ہوگئی۔ حدیث میں ہے کہ یہ کفر یا اللہ تعالیٰ کی نا شکری ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:82) وتجعلون : میں واؤ عاطفہ ہے اور اس کا عطف مدھنون پر ہے۔ رزقکم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول تجعلون کا انکم تکذبون الجملہ مفعول ثانی اور تم نے اپنی روزی بنا لی کہ تم جھٹلایا کرو۔ (تفسیر حقانی) رزق بمعنی حصہ، نصیب۔ ترجمہ اس صورت میں ہوگا :۔ قرآن کریم سے تم اپنا حصہ اور نصیب تکذیب کو قرار دیتے ہو (تفسیر مظہری)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–96

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–82

توحید کابیان۔ (ف 1) حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دہریہ لوگوں کے اعتقاد کی طرح جن ستاروں کے اثر سے یہ اللہ کی قدرت کے منکر لوگ مینہ کے برسنے کے قائل تھے انہیں ستاروں کی قسم کھاکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جس طرح جگہ جگہ اس کلام الٰہی میں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی قدرت اور حکم کے نہ ستاروں کے اثر سے کچھ ہوتا ہے نہ چاند کے اثر سے۔ اس کے سوا جن لوگوں کا جو کچھ اعتقاد ہے اس سے کلام الٰہی کا جھٹلانا ان کی قسمت میں ہے ورنہ ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جس کی قدرت میں ستاروں کا طلوع و غروب ہے اس کے حکم سے مینہ برستا ہے ستاروں میں کوئی مستقل تاثیر ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–96

[20] کہ یہی آخرت کی بڑی تیاری ہے اور اس نیک مشغلے میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودگیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 79–86

لایمسہ الا المظھرون ۔ سے غرض یہ ہے ۔ کہ جس طرح لوح محفوظ میں فرشتے اس کی حفاظت اور نگرانی پر مقرر ہیں ۔ اسی طرح اس دنیا میں اسی جماعت کے سینے اس کے علوم ومعارف کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ۔ جو پاکباز ہوتے ہیں ۔ تاریک اور فسق وفجور سے معمور دلوں میں اس کی کرنیں نہیں پہنچتیں فرمایا : تمہاری یہ کتنی بدبختی اور محرومی ہے ۔ کہ تم اس پاک کلام کو تسلیم کرنے میں تامل کرتے ہو ۔ اور تم نے یہ ٹھان لی ہے ۔ کہ بہر حال اس کی مخالفت کروگے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(82) اور کیا تم نے اپنا یہ وظیفہ مقرر کرلیا ہے کہ ہر نعمت کی تکذیب کرتے ہو۔ یعنی تم نے تکذیب اپنی غذا بنا لیا ہے کہ جس طرح کھانا ضروری ہے اسی طرح کلام کی تکذیب کرنا ضروری ہے یہ ایک محاورہ اردو میں بولا کرتے ……ہیں فلاں شخص نے تو میری مخالفت کو روٹی رزق بنا لیا ہے یہاں مطلب یہ ہے کہ قرآن اور قیامت اور پیغمبر کی تکذیب کو غذا اور رزق بنارکھا ہے۔ مطلب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآن کو سرسری سمجھتے ہو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہر نعمت کی تکذیب کو اپنا شیوہ اور روٹی رزق بنا لیا ہے بجائے اس کے کہ نعمت کا شکر بجا لائو تکذیب کرتے ہو اور اسی وجہ سے توحید اور وقوع قیامت کا انکار کرتے ہو اور جھٹلاتے ہو ، آگے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا اس کی تکذیب کو تم نے اپنا حصہ بنا لیا ہے ؟ 28۔ رزق کیا ہے رزق کبھی تو عطا جاری کو کہتے ہیں خوا دنیوی ‘ خواہ اخروی ‘ کبھی حصہ کو کہتے ہیں اور کبھی جو پیٹ میں پہنچ کر غزا بن جاتی ہے اس کو اب غور کرو اس جگہ کیا مراد ہے ؟ ہمارے خیال میں اس جگہ حصہ ہی مراد ہو سکتا ہے کیونکہ اس جگہ بطور سوال پوچھا جا رہا ہے کہ قرآن کریم جو سراسر رحمت خداوندی ہے اور اللہ کا انعام و احسان ہے کیا ؟ اس میں تمہارا حصہ یہی ہے کہ تم اس کو جھٹلاتے ہو مطلب یہ ہے کہ یہ روٹی اور کھانا تو تمہارے لیے پکایا گیا اور تیار کیا گیا تھا لیکن تم اس کے کھانے اور استعمال کرنا کرنے سے انکاری ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے حصہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 81–82

أَفَبِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ (Is it this discourse that you take lightly,...56:81) The word mudhinun is the plural of mudhin, being the active participle from اِذھَان idhan, which literally means 'to apply or rub oil on the body'. When oil is applied or rubbed on the body, the muscles are relaxed, and parts of the body become soft and supple. By extension, the word is employed in the sense of showing flexibility and softness on inappropriate occasions. Hence, it is used in the sense of hypocrisy.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

41 In his commentary of taj `aluna rizqa-kum, Imam Razi has expressed the view that probably the word rizq here means livelihood. Since the disbelieving Qaraish regarded the message of the Qur'an as harmful to their economic interests and feared that if it succeeded it would deprive them of their means of livelihood, the verse may also mean this: "You have made the denial of this Qur'an a question of your economic interests, and for you the question of the right and wrong is of no consequence; the only thing of real importance in your sight is the bread for the sake of which you would least…

Read the full tafseer →