فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ ۟ۙفَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِۙ
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then I swear by the setting of the stars,
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ ۟ۙفَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِۙ
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then I swear by the setting of the stars,
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی
اب میں ان جگہوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں جہاں ستارے گرتے ہیں۔
تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں
پس میں اُن جگہوں کی قَسم کھاتا ہوں جہاں جہاں قرآن کے مختلف حصے (رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) اترتے ہیں٭، ٭ یہ ترجمہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے بیان کردہ معنی پر کیا گیا ہے، مزید حضرت عکرمہ، حضرت مجاہد، حضرت عبد اللہ بن جبیر، حضرت سدی، حضرت فراء اور حضرت زجاج رضی اللہ عنھم اور دیگر ائمہ تفسیر کا قول بھی یہی ہے؛ اور سیاقِ کلام بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے۔ پیچھے سورۃ النجم میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نجم کہا گیا ہے، یہاں قرآن کی سورتوں کو نجوم کہا گیا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاحظہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، طبری، الدر المنثور، الکشاف، تفسیر ابن ابی حاتم، روح المعانی، ابن کثیر، اللباب، البحر المحیط، جمل، زاد المسیر، فتح القدیر، المظہری، البیضاوی، تفسیر ابی سعود اور مجمع البیان۔
پس نہیں ! میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں !
میں ستاروں کے محل وقوع کی قسم کھاتا ہوں
(پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کے ٹھکانوں کی !
پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں ان جگہوں کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں
سو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے ڈوبنے کی
پس نہیں ! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔
پس نہیں، ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
No! I swear by the positions of the stars –
So, I swear by the setting places of the stars,
So, I swear by the setting places of the stars,
Fala! I swear by the Mawaqi` of the stars.
Nay, I swear by the places of the stars -
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then I swear by the setting of the stars,
I do not need to swear by the setting of the stars
But nay! I swear by the falling of stars;
I swear by the setting of the stars -
Furthermore I call to witness the setting of the Stars,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 75–82
قرآن کا مقام حضرت ضحاک فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائد ہے اور آیت (انہ لقراٰن) الخ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں لا کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے حضرت عائشہ کے اس قول میں ہے (لا واللہ ما مست ید رسول اللہ ﷺ ید امراۃ قط) یعنی اللہ کی قسم حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔…
Read the full tafseer →سورة الْوَاقِعَة 36 یعنی بات وہ نہیں ہے جو تم سمجھے بیٹھے ہو۔ یہاں قرآن کے من جانب اللہ ہونے پر قسم کھانے سے پہلے لفظ لا کا استعمال خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ لوگ اس کتاب پاک کے متعلق کچھ باتیں بنا رہے تھے جن کی تردید کرنے کے لیے یہ قسم کھائی جا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
خلاصہ تفسیر (اور دلائل عقلیہ سے بعث یعنی مر کر زندہ ہونے کا امکان ثابت ہونے کے بعد قرآن سے جو اس کا وقوع ثابت ہے اور تم اس قرآن کو نہیں مانتے) سو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے چھپنے کی اور اگر تم غور کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے (اور قسم اس بات کی کھاتا ہوں) کہ یہ (قرآن جو پیغمبر ﷺ پر نازل ہوتا ہے بوجہ منزل من اللہ ہونے کے) ایک مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں (پہلے سے) درج ہے (اور وہ لوح محفوظ ایس ہے) کہ بجز اس کو پاک فرشتوں کے (کہ گناہوں سے بالکلیہ پاک ہیں) کوئی (شیطان وغیرہ) ہاتھ نہیں لگانے پاتا (اس کے مضامین پر مطلع ہونا دور کی بات ہے، پس وہاں سے یہاں خاص طور پر آنا فرشتے ہی…
Read the full tafseer →4۔ آگے آیات 75، 96 کا مضمون آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ قریش کے لیڈروں کو خطاب کر کے متنبہ فرمایا ہے کہ قرآن جس شدنی کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ اس سے فرار اختیار کرنے اور اس کی تکذیب کرنے کی کوشش نہ کرو۔ یہ کاہنوں کی خرافات کی قسم کا کلام نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے محفوظ خزانہ علم سے اترا ہوا باعزت کلام ہے جو نہایت پاکیزہ ذرائع سے اس کے پاکیزہ رسول پر نازل ہوا ہے۔ یہ شاطین کی چھوت اور مداخلت سے بالکل محفوظ و مامون ہے، یہ تمہارے لیے ابدی ہدایت اور دائمی رزق ہے، اس کی ناقدری اور تکذیب کر کے اپنی شامت کو دعوت نہ دو۔ یادرکھو کہ کوئی خدا کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتا اور تمہیں جس حفض و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
75-1یعنی یہ قرآن کی کہانت یا شاعری نہیں ہے بلکہ میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن عزت والا ہے۔
Read the full tafseer →21 یہاں قرآن کریم کی حقانیت اور اس کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کا بیان فرمانا مقصود ہے، مکہ مکرمہ کے کافر لوگ بعض اوقات یہ کہا کرتے تھے کہ حضور نبی کریم ﷺ (معاذاللہ) دراصل کاہن ہیں، اور یہ قرآن کاہنوں کا کلام ہے، کاہنوں کا معاملہ یہ تھا کہ وہ اپنی پیشین گوئیوں میں جنات اور شیطانوں سے مدد لیتے تھے، اور قرآن کریم نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ شیطانوں کو آسمان کے قریب جاکر وہاں کی باتیں سننے سے روک دیا گیا ہے، اور اگر کوئی شیطان سننے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو شہاب ثاقب سے مار بھگایا جاتا ہے (دیکھئے سورة حجر 15: 18 اور سورة صافات 37: 10) شہاب ثاقب کو چونکہ عام بول چال میں تارے ٹوٹنے سے تعبیر کیا…
Read the full tafseer →فلا ............ النجوم (6 5:5 7) ” پس میں قسم نہیں کھاتا تاروں کے مواقع کی۔ “ یہ بات تو بہت واضح ہے اور روشن ہے اور قسم کی محتاج نہیں ہے۔ اس دور میں مخاطین ستاروں کے مواقع اور محل وقوع کے بارے میں زیادہ نہ جانتے تھے۔ صرف اس قدر جو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس پر قسم اٹھائی۔
Read the full tafseer →9 اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ قسم کھاتا ہوں آیتوں کے اترنے کی پیغمبروں کے دلوں میں (موضح) یا آیات قرآن کے اترنے کی آسمان سے زمین پر، آہستہ آہستہ، تھوڑی تھوڑی۔
Read the full tafseer →آیت 75{ فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ } ”پس نہیں ! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔“ بعض مفسرین نے مَوٰقِعِ النُّجُوم کی وضاحت شہاب ثاقب کے حوالے سے کی ہے ‘ حالانکہ شہاب ثاقب بالکل مختلف چیز ہے اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اسے شیاطین کو عالم بالا سے مار بھگانے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ موجودہ دور میں سائنس کی فراہم کردہ معلومات کی مدد سے اس آیت کو نسبتاً بہتر طور پر سمجھاجا سکتا ہے ‘ اگرچہ ابھی بھی اس کا مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہوا۔ یہاں ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ حلال و حرام ‘ جائز و ناجائز ‘ فرائض اور دین کے عملی پہلو سے متعلق قرآنی احکام کی تفہیم و تعمیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
35 مَوَاقِعُ النُّجُوْمِ کا معنی ستاروں کے گرنے کی جگہ بھی ہوسکتا ہے۔ فضائے بسیط میں بیشمار سیارے ایسے ہیں جو ہر وقت ٹوٹتے اور گرتے رہتے ہیں اور اس کا دوسرا معنی ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ بھی اور وقت بھی۔ یعنی افق مغرب جہاں ہمیں ستارے ڈوبتے نظر آتے ہیں یا صبح کی روشنی کے نمودار ہونے کا وقت، جب ستارے غائب ہوجاتے ہیں۔ جو معنی بھی لیے جائیں اس سے مراد ستاروں کی گردش اور اپنے اپنے مدارات میں سفر کرنے کا وہ پیچیدہ اور حیران کن مربوط اور منظم نظام ہے جس میں غور و فکر کرنے سے انسان اس قادر مطلق ہستی کی حکمت اور وسعت علم تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جو اس کائنات پر کنٹرول کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
29۔ (اور بالکل منضبط) (آیت) ” کتب مکنون “۔ سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یعنی یہ قرآن کریم شروع سے لوح محفوظ میں منضبط چلا آرہا ہے۔ الاصح انہ لوح محفوظ (کبیر) المراد بہ اللوح المحفوظ کماروی عن الربیع بن انس وغیرہ (روح) (آیت) ” مکنون “۔ صفت کتب کی ہے صفت کتب کی ہے۔ یعنی وہ لوح غیروں کی مداخلت بلکہ دسترس سے بالکل محفوظ ہے۔” کریم “۔ صفت قران کی ہے۔ یعنی دنیوی واخروی ہر قسم کی صلاوفلاح کی تعلیمات سے لبریز۔ (آیت) ” لااقسم “۔ لایہاں نفی کا نہیں، تاکید کا ہے۔ لامزیدۃ للتاکید (بیضاوی) لامزیدۃ مؤکدۃ (کشاف) (آیت) ” لا ..... عظیم “ قرآن مجید میں قسمیں، شہادت بزبان حال کے معنی میں آئی ہیں اور قسموں کو بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
ترجمہ : سو میں قسم کھاتا ہوں غروب ہونے کے لئے چھپنے والے ستاروں کی اگر تم سمجھو تو یہ یعنی ان کی قسم ایک بڑی قسم ہے یعنی اگر تم اہل علم میں سے ہو تو اس قسم کی عظمت کو جان لو گے یہ یعنی جو تم کو سنایا جا رہا ہے مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب میں ہے اور وہ مصحف ہے اس کو پاک (لوگ) ہی چھوتے ہیں (لایمسہ) نہی بمعنی خبر ہے یعنی وہ جنہوں نے خود کو احداث سے پاک کرلیا رب العالمین کی جانب سے نازل کردہ ہے تو کیا اس کلام یعنی قرآن کو سرسری کلام سمجھتے ہو اہمیت نہیں دیتے ہو تکذیب کرتے ہو کیا تم نے اس کی تکذیب ہی کو غذا (دھندا) بنا لیا ہے ؟ اور تم بارش کے ذریعہ اس کے رزق کے شکر کے بجائے ناشکری کرتے ہو یعنی…
Read the full tafseer →سو میں قسم کھاتا ہوں ‘ ستاروں کے چھپنے کی فَلاَ اُقْسِمُ : میں قسم نہیں کھاتا کیونکہ یہ بات واضح ہے ‘ قسم کھا کر بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے یا لَا اُقْسِمُ : میں لا زائد ہے ‘ کلام کو پرزور بنانے کیلئے اسکا اضافہ کیا گیا ہے۔ جیسے لئلا یعلم میں یعنی میں پختہ قسم کھاتا ہوں۔ بعض علماء نے کہا : لا . اُقسم سے علیحدہ ہے ‘ اس سے کافروں کی نفی مقصود ہے ‘ کافر قرآن کو جادو اور شعر اور کہانت کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسا نہیں ہے ‘ میں قسم کھا کر کہتا ہوں ‘ الخ۔ مَوَاقِعِ النُّجُوْمِ : ستاروں کے گرنے اور چھپنے کے مقامات۔ غروب کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس لیے کیا کہ اس سے ستاروں کا حدوث اور امکان ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
(75۔ 77) سو میں اس چیز کی قسم کھاتا ہوں کہ قرآن حکیم رسول اکرم پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوا ہے ایک دم پورا نازل نہیں ہوا اگر تم تصدیق کرو تو قرآن ایک بڑی چیز ہے یا یہ کہ میں قسم کھاتا ہوں صبح کے وقت ستاروں کے چھپنے کی اور اگر تم غور کرو اور تصدیق کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے یہ ایک مکرم معزز قرآن حکیم ہے جو لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ شان نزول : فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ (الخ) اور امام مسلم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم کے زمانہ میں لوگوں پر بارش ہوئی اس پر رسول اکرم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے بعض شاکر ہیں اور بعض ان میں کافر ہیں شاکر کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
فَـلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ۔۔۔۔۔۔:”فلا اقسم“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ قیامہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ ”مواقع“ موقع“ کی جمع ہے جو ”وقع یقع“ سے ظرف ہے یا مصدر میمی ، گرنے کی جگہیں۔ اس سے مراد ستاروں کے غروب ہونے کے مقامات ہیں ، یا شہاب ِ ثاقب کی صورت میں شیاطین پر برسنے والے ستاروں کے گرنے کے مقامات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
(فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ ) اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ فلا اقسم اکثر مفسرین کے نزدیک لا زائدہ ہے (2) معنی میں قسم اٹھاتا ہوں اس کی دلل وانہ لقسم ہے فراء نے کہا : یہ نفی ہے۔ معنی ہے معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا۔ اقسم میں قسم اٹھاتا ہوں۔ بعض اوقات ایک آدمی کہتا ہے : لا واللہ، کان کذا اس سے وہ قسم کا نفی کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ پہلی کلام کی نفی کا ارادہ کرتا ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تو نے ذکر کیا بلکہ معاملہ اس طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لاء الا کے معنی میں ہے جو تنبیہ کے لیے ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 461 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
1۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت فلا اقسم میں لا کو مد کے ساتھ اور ” اقسم ‘ کی الف کو مرفوع پڑھا آیت بموٰ قع النجوم (ستاروں کے چھپنے کی جگہ) اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بموٰقع النجوم (سو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے چھپنے کی) اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بموٰقع النجوم، سے مراد ہے آسمان کے ستارے۔ 4۔ عبد بن حمیدوابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بمواقع النجوم سے مراد ہے ستاروں کے غروب ہونے کی جگہیں اور…
Read the full tafseer →[فَلَآ : پس نہیں ][ اُقْسِمُ : میں قسم کھاتا ہوں ][ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ : ستاروں کے گر پڑنے (ڈوبنے ) کے وقت کی ] نوٹ۔ 1: قسم کے شروع میں لفظ لا کو لانا ایک عام عربی محاورہ ہے ۔ جیسے لا واللہ (نہیں اللہ کی قسم ) اور جاہلیت کی قسموں میں لا وابیک (نہیں ، تیرے والد کی قسم ) اس کی توجیہہ یہ ہے کہ اس موقع میں صرف لا مخاطب کے گمان کی نفی کے لیے ہوتا ہے، یعنی جیسا تم کہتے اور سمجھتے ہو وہ بات نہیں ، بلکہ حقیقت وہ ہے جو آگے قسم کھا کر بتائی جارہی ہے ، (معارف القرآن )
Read the full tafseer →بلاشبہ قرآن، کریم ہے رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت بیان فرمائی ہے۔ مواقع النجوم کی قسم کھا کر فرمایا کہ بلاشبہ قرآن، کریم ہے یعنی عزت والا ہے عمدہ چیز ہے بندوں کو نفع دینے والا ہے (اور) محفوظ کتاب میں ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے لوح محفوظ مراد ہے جیسا کہ سورة البروج کے ختم پر فرمایا ہے : ﴿بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌۙ0021 فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (رح) 0022﴾ (بلکہ وہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں ہے) وہ لوح محفوظ میں محفوظ ہے اس میں تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ ﴿بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ0075﴾ سے کیا مراد ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…
Read the full tafseer →26:۔ ” فلا اقسم “ یہاں سے عظمت قرآن کا بیان شروع ہوتا ہے نیز اس میں تصدیق بالقران کی ترغیب دی گئی ہے۔ ” فلا اقسم “ میں لا زائدہ ہے محاورات میں قسم پر اکثر لا زائدہ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ لا واللہ وغیرہ۔ امام آلوسی نے فرمایا ہے کہ یہ لا زائدہ ہے برائے تاکید (روح) ۔ اور مواقع النجوم سے ستاروں کے غروب ہونے کی جگہیں مراد ہیں۔ ستاروں کا غروب ان کے فنا اور زوال کی دلیل ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی بالا تر طاقت کے زیر تصرف ہیں جس طرح آسمان کے جگمگاتے ستارے چھپ جاتے اور ان کی روشنی زائل ہوجاتی ہے اسی طرح یہ سارا جہان ایک وقت فنا ہواجائے گا۔ لا مزیدۃ مؤکدۃ (مدارک) بمواقع النجوم ای بمساقط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت والے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے کا ذکر کیا۔ ان میں دو گروہ یعنی سابقین اور اصحاب یمین کامیاب ہو کر خدا کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے ، اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجات حاصل کریں گے اور البتہ اصحاب شمال ناکام ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے مقام جہنم میں پہنچیں گے۔ اللہ نے پہلی دو اقسام کے لوگوں کو ملنے والے انعامات کا تذکرہ کیا ، اور تیسرے گروہ کی سزا کا بیان ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے توحید اور قیامت کے منکرین کا رد کیا ، اور اس ضمن میں بعض دلائل کا ذکر بھی کیا۔ اب آخر میں رسالت کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ منکرین قیامت کا رد بھی۔ اس کے…
Read the full tafseer →فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–84
ترکیب : فلا لامزیدۃ للتاکید کمافی قولہ۔ وقیل انھا للنفی لا اقسم اذلاحاجۃ الی القسم فان الامرواضح وقیل معناہ لیس الامرکمازعم الکفار ثم اکدہ بالقسم فقال اقسم بمواقع النجوم وانہ خبرہ عظیم لو تعلمون جملۃ معترضۃ بین القسم والمقسم علیہ انہ لقرآن کریم صفۃ فی کتاب صفۃ ثانیۃ لایمسہ ثالثہ تنزیل رابعۃ لقرآن مع صفا تھا خبران و الجملۃ جواب القسم وتجعلون معطوف علی مدھبون رزقکم مفعول اول لتجعلون انکم تکذبون الجملۃ مفعول ثان بمعنی ہلا اذا ظرفیۃ والعامل ترجعونہا انتم الخ الجملۃ حال ونحن الخ حال من فاعل تنظرون فلولا تکریر و تاکید للولا الاولی ترجعونھا المحضض علیہ لولا ان کنتم شرط جو ابہ محذوف یدل علیہ ترجعونہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
فَـلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰ قِعِ النُّجُوْمِ ۔ وَاِنَّـہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ۔ اِنَّـہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ (الواقعۃ : 75 تا 77) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مواقع کی۔ بیشک یہ ایک بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو۔ بیشک یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ) لَآ کا محمل اور قسم کا مفہوم لَآ فعل اُقْسِمْ کا حصہ نہیں۔ اس کی حیثیت اس سے بالکل الگ ہے۔ مخاطب کے زعم باطل کی تردید کے لیے اس طرح نفی کا لانا عربی زبان اور قرآن میں معروف ہے۔ مثلاً سورة النساء میں ارشاد فرمایا گیا ہے فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُوْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَبَیْنَھُمْ ” پس نہیں ! تیرے رب کی قسم وہ مومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
فہم القرآن ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کے تذکرے کے بعد عظیم خالق کی تسبیح کرنے کا حکم اس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے آسمان سے قرآن مجید جیسی عطیم کتاب نازل کی ہے۔ اہل مکہ اپنے باطل عقیدہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے قرآن کی مخالفت کرتے تھے حالانکہ اس بات کے ان کے سامنے درجنوں دلائل دیئے گئے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جارہا لیکن وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ کسی صورت قرآن مجید کو مِن جانب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھا کر یقین دلایا کہ یہ قرآن کسی غیر کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا اسے تو اس رب نے نازل کیا ہے جو ستارے…
Read the full tafseer →75 : فَـلَآ اُقْسِمُ (پس میں قسم کھاتا ہوں) یہ فاء قسم ہے اور لا تاکید کیلئے زائدہ ہے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ لئلا یعلم اھل الکتاب ] الحدید : 29[ ایک قراءت : میں فَـلَا اقسم پڑھا گیا اس کا معنی فَلأنا اقسم ہے۔ یہ لام ابتدائیہ جس کو جملہ اسمیہ پر داخل کیا گیا۔ وہ جملہ انا اقسم ہے۔ پھر مبتدأ کو حذف کردیا گیا۔ ایک تنبیہ : یہ لام قسم نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ نون تاکید اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ بِمَوٰ قِعِ النُّجُوْمِ (ستاروں کے چھپنے کی) ان کے غروب اور گرنے کے مقامات۔ قراءت : حمزہ، علی نے بموقع پڑھا ہے۔ وجوہ قسم : شاید کہ رات کے آخری حصہ میں جب ستارے مغرب کی طرف اترتے ہوں۔ کچھ…
Read the full tafseer →74 ۔” فسبح باسم ربک العظیم “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
75۔ 82۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ مینہ برسا اس مینہ کے برسنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے مینہ کا برسنا اپنے دل میں سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نعمت کے شکر گزار ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا ہے انہوں نے اللہ کی نعمت کی کچھ قدر نہ جانی اس پر اللہ تعالیٰ نے فلا اقسم سے ولا تجعلون رزقکم انکم تکذبون تک یک یہ آیتیں نازل فرمائیں بغیر ذکر شان نزول کے یہ حدیث ابو سعید خدری وغیرہ کی روایت سے صحیحین میں بھی ہے۔ عربی زبان کا محاورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
اللہ تبارک وتعالی نے ستاروں کی اور ان کی منازل یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادثات کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں اور جو اس کی عظمت اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ) اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں اور ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے قرآن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
[ 64] قرآن حکیم کی صداقت و حقانیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا پس نہیں معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ ان منکروں نے سمجھ رکھا ہے۔ یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا کہ اس قرآن حکیم کے بارے میں تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، کہ کبھی تم اس کا شعر کہتے ہو، کبھی کہانت قرار دیتے ہو، اور کبھی اسے پہلے لوگوں کی کہانیاں اور افسانے بتاتے ہو، کبھی کہتے ہو کہ اسے محمد [ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ] از خود گھڑ کر لاتے ہیں، اور کبھی کہتے ہو کہ کوئی اور نا کو سکھا جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ، سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ اس پُر حکمت کائنات کے خالق ومالک کا اترا ہوا کلام ہے۔ سو یہ مطلب ہے " لا اقسم " میں موجود اس لاء نافیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
قرآن کی اہمیت، برکت اور سچائی تشریح :۔ ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور اس کی سچائی کے بارے میں قسم کھاتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی اس قسم کھانے کے مضمون کے مطابق بہت سی سورتیں گز رچ کی ہیں۔ یہاں کیونکہ کفار کی خصلت بد کا پہلے ذکر آیا تھا جس کے مطابق وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے سے انکار کرتے تھے تو اس آیت میں فَلَآ ' انہیں کے واسطے سے بولا گیا ہے یعنی ' پس نہیں یہ کتاب نہ تو معمولی ہے نہ محض کہانت ہے بلکہ اس کی سچائی کے لیے ہم ( اللہ ) قسم کھاتے ہیں ستاروں کے مواقع کی۔ اب پہلے فلا کی توضیح تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔ لکھا گیا ہے۔ ' بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس…
Read the full tafseer →ف 9 دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ” میں ستاروں کے ٹوٹنے کی قسم کھاتا ہوں۔ “ اور تیسرے معنی یہ بھی کہ ” میں قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اترنے کی قسم کھاتا ہوں۔ “ اس میں اقسم سے پہلے ” لا “ زائدہ ہے اور ترجمہ اسی کے مطابق ہے۔
Read the full tafseer →(56:75) فلا اقسم :تعقیب کا ہے۔ سو، پس، لا اقسم اس میں متعدد اقوال ہیں :۔ (1) لا مزیدہ تاکید کے لئے ہے۔ کلام کو پرزور بنانے کے لئے اس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی میں پختہ قسم کھاتا ہوں۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ لئلا یعلم اہل الکتاب الا یقدرون علی شئی من فضل اللہ (57:29) تاکہ اچھی جان لیں اہل کتاب کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ (2) بعض عالموں کا کہنا ہے کہ : لا اقسم سے علیحدہ ہے۔ اس سے کافروں کی نفی مراد ہے۔ کافر قرآن کو جادو۔ شعر، کہانت کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں ۔۔ (3) بعض کے نزدیک لا نفی کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
توحید کابیان۔ (ف 1) حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دہریہ لوگوں کے اعتقاد کی طرح جن ستاروں کے اثر سے یہ اللہ کی قدرت کے منکر لوگ مینہ کے برسنے کے قائل تھے انہیں ستاروں کی قسم کھاکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جس طرح جگہ جگہ اس کلام الٰہی میں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی قدرت اور حکم کے نہ ستاروں کے اثر سے کچھ ہوتا ہے نہ چاند کے اثر سے۔ اس کے سوا جن لوگوں کا جو کچھ اعتقاد ہے اس سے کلام الٰہی کا جھٹلانا ان کی قسمت میں ہے ورنہ ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جس کی قدرت میں ستاروں کا طلوع و غروب ہے اس کے حکم سے مینہ برستا ہے ستاروں میں کوئی مستقل تاثیر ہوتی…
Read the full tafseer →[14] یعنی وہ بات نہیں جو تم سمجھے بیٹھے ہو۔ یہاں قرآن کے منجانب اللہ ہونے پر قسم کھانے سے پہلے یہ فقرہ ظاہر کر رہا ہے کہ منکرین قرآن کے متعلق کچھ باتیں بنا رہے تھے جن کی تردید کے لئے یہ قسم کھائی جا رہی ہے۔ [15] تاروں کے مواقع سے مراد ان کے مقامات، ان کی منزلیں اور ان کے مدار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
سطحی واقعات اور پر اثر نتیجہ 2: قرآن حکیم میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اس میں ہر نوع کے لوگوں کے لئے دلائل ہیں ۔ اور ہر مذاق کے افراد کے لئے سامان تسکین ہے ۔ یہ عقلاء اور دانشوروں کو بھی مخاطب کرتا ہے ۔ اور عوام کو بھی ۔ اس میں عمیق اور لائق فکروغور باتیں بھی ہیں ۔ اور سطحی واقعات سے استدلال بھی ۔ غرض یہ ہے کہ ان کا کوئی طبقہ ہدایت سے محروم نہ رہے ۔ اور یہ کوئی نہ سمجھے ۔ کہ یہ کتاب ہمارے لئے نہیں ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے ضمن میں ان لوگوں کے لئے جو زیادہ دانائی سے بہرہ ور نہیں ہیں ۔ اور جن کی نظر صرف معمولی واقعات و حقائق تک محدود رہتی ہے ۔ چند فطرت کے مظاہر بیان کئے ہیں ۔ جو اس کی مہربانی…
Read the full tafseer →(75) پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے غروب ہونے اور چھپنے کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
ف 1۔ یہ سب امور نعم موجبہ للتوحید بھی ہیں اور دلائل موجبہ للاعتقاد والقدرة علی البعث بھی۔
Read the full tafseer →نہیں ! پس میں قسم کھاتا ہوں ڈوبنے والے ستاروں کے رب کی 57۔ { فلا اقسم } میں لا کیسا ہے ؟ اس کے متعلق بہت تفصیل سے کلام کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ ” لا “ نفی کے لیے نہیں ہے بلکہ اثبات کے لیے ہے یا اس ” لا “ کے متعلق اہل لغت نے اور نحوپوں نے جس طرح کلام کیا ہے اس کا ماحصل یہ کہ ” لا “ جس کو لاء نفی جنس لا تبریہ اور لا مشابہبِاَن کہا جاتا ہے اس کا اسم فتح پر یا علامت نصب پر مبنی ہوتا ہے بشرطیکہ اسم فعال نہ ہو جیسے لاتثریب علیکم۔ قالو الاضیر۔ یا اہل یثرب لا مقام لکم۔ لا مسلمات۔ لا رجلی۔ لا مسلمی۔ میرا نی اور زجاج کے قول پر ” لا “ تبریہ کا اسم کیسا ہی ہو معرب ہوتا ہے اگرچہ تنوین نہیں پڑھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
Sequencing of Arguments Preceding verses put forward rational arguments, in support of life after death, by inviting attention to Allah's infinite power. The current verses are meant to prove this fact by giving an authoritative reference, that is, the Qur'an. Allah swears to the Greatness of the Qur’ an فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (So, I swear by the setting places of the stars...56:75) The words لَا أُقْسِمُ 'I swear' are prefixed in the text by the particle لَا la [ no ] which is not translated in the text, because it is idiomatically prefixed to 'oath', as for example لَا…
Read the full tafseer →36 That is, "The truth is not what you seem to think it is." Here, the use of the word /a (nay) before swearing an oath by the Qur'an's being Allah's Revelation by itself shows that the oath has been sworn to refute certain objections that the disbelievers wen raising with regard to the Qur'an.
Read the full tafseer →